Skip to content

سوانح ِحیات

عالمی افسانہ میلہ 2018
افسانہ نمبر 26
سوانح ِحیات
امن قندیل ناز ۔ لاہور پاکستان

موڑ مڑتے ہی رستہ غائب ہو گیا۔حیات خوف اور حیرت سے چاروں طرف دیکھ رہی تھی۔جہاں سارا منظر اَن گنت انجان چہروں سےبھر گیا۔
اجنبی اور بےحس چہرے۔ ۔ ۔ آنکھیں ہی آنکھیں ۔حقارت اور تمسخر سے لبریز آنکھیں۔۔ ۔ ۔ آوازیں ہی آوازیں۔زمیں سے فلک تک کھردرے اور کاٹ دار لہجوں سے بہکی ھوئی آوازیں۔بے ہنگم اور پتھریلے قہقہوں کی گونج۔ ۔۔
تبھی یکا یک حیات نے رستے کا ساتھ چھوڑا اور پاس سے نکلتی پگنڈنڈی سے ہو کر اندیکھی خلا میں کودنا چاہا۔مگر بہت سے ہاتھوں نے اسے گرفت میں لیا اور واپس گھسیٹ کر اسی راہ پہ نیم جان ڈال دیا اور چاروں طرف شور بلند ھونے لگا۔
بڑی عجیب ہے سرشت بھی۔ ۔ ۔ یہ صرف تب تک قابل نفرت ہے جب تک انسان خود زندہ تماشہ ھو ۔جہاں کردار بدلہ وہ بھاگ کر اسی بھیڑ کا حصہ ھو گیا۔
ھر شخص اپنی ذات میں تماشہ بھی ہے تماشائی بھی۔
دلوں کو مردہ کرنے والے الفاظ سے لبریز ۔۔ ۔ ۔ محبت اور ہمدردی کے متقاضی احساسات کے ساتھ سب محو تماشہ ہیں۔
حیات نے اپنی باقی ماندہ قوت یکجا کی اور بقا میں صرف کرنے کو بےسمت قدم بڑھائے۔
آدم خور رویوں کا ہجوم جو اس جیسے کتنے ہی انسانوں کو ان کی اچھائیوں سمیت نگل چکا۔اب اس کے تعاقب میں تھا۔
وہ بھاگ رہی تھی۔گرتی پڑتی سنبھلتی اور بھاگنے لگتی۔تہی دل تہی دست تہی دامن دوڑ رہی تھی۔
یک لخت ٹھوکر کھا کر گرنے ہی والی تھی کہ دو مہربان نگاہوں نے اسے سہار لیا۔تھام لیا گرنے سے بچا لیا۔تب اس آنکھوں میں تشکر کی نمی نے احساس کو پگھلایا۔اور حیات نے اک لمس یاداشت کی مٹھی میں بھینچ لیا۔
اور آگے کتنے ہی سفر میں ان مہربان نگاہوں نے اس کا دستِ تخیل تھامے رکھا۔ وہ ان نگاہوں کی کھوج میں جانا چاھتی تھی۔مگر رستے سے انجان۔دو طرفہ ہجوم ہی اس کے لیے راہ متعین کر رہا تھا۔
حیات نے ان چہروں کی سفاکی سے بچنا چاہا بھاگ جانا چاہا چھپنا چاہا۔مگر نہیں بھاگ سکی۔
وہ اس اندھیرے کی گرفت میں تھی جو آسمان سے برس رہا تھا۔بے بسی اور تنہائی کی طوالت سے گھبرائی حیات ۔ ۔ ۔مہربان نگاہوں کے سائے میں سستانا چاھتی اور پچھلے سفر کی ساری کلفتیں بھلا دینا چاھتی ۔
تخیل کے زیرِ اثر ہی سہی وہ اس بارِ حقائق سے نظر پھیر لینا چاھتی تھی۔لیکن یہ کہرامِ مسلسل حقائق کے چابک لہرا لہرا کر اسے دوڑانے پر اکساتا۔ ۔ ۔ ۔
اندھیرا بڑھ رہا تھا اس کے حواسوں میں اس کے وجود میں اور باہر بھی۔۔۔ اور آس پاس کے سارے منظر ہولناک بنا رہا تھا۔
وہ گم ھوتے حواسوں کے ساتھ شعور میں پھیلتے اندھیروں میں دو ستارہ آنکھیں کھوج رہی تھی جو گردشِ دوراں کی دھند میں کہیں ڈوب چکی تھیں۔
نیم جاں حیات کا وجود سیاہ رویوں کی اشتہا کو بڑھا رہا تھا۔ بے حسی اس کی رگ رگ ادھیڑ کر نگل رہی تھی۔
ڈوبتی نبض کے ساتھ اس نے آسمان کی غفلت پہ اک آخری اور پر شکوہ نگاہ کی اور اپنی آنکھیں موند لیں۔

Published inافسانچہامن قندیل نازعالمی افسانہ فورم