Skip to content

سمجھوتہ

عالمی افسانہ میلہ 2018
افسانہ نمبر 142
سمجھوتہ
اعجاز مصوِّرؔ گلبرگہ ۔ انڈیا
صابر اور میں ایک ہی کمپنی میں کام کرتے تھے بلکہ ایک ہی ڈپارٹمنٹ میں۔ ہم دونوں کا زیادہ سے زیادہ وقت ایک ساتھ گزرتا تھا۔
وہ ایک خوش شکل، خوش لباس، شائستہ مزاج اور خاموش طبیعت کا سیدھا سادھا اِنسان تھا۔ کبھی کبھی یہ طے کرنا مشکل ہو جاتاتھا کہ اس کی شکل زیادہ اچھّی ہے یا اس کے اخلاق۔کوئی اسکو ایک بار دیکھ لے تو اس سے دوستی کرنا چاہے۔میری طبیعت اور اس کی طبیعت میں کافی تضّاد تھا وہ ایک خاموش طبیعت اور میں ایک باتونی۔ہنسنا ہنسانا میری طبیعت کا خاصہ تھا۔ میں کسی کو بھی خاموش نہیں رہنے دیتااِدھر اُدھر کی کچھ سُنا کر ہنسنے پر مجبور کرتا۔ صابر ہمیشہ سنجیدہ رہتا۔ اس کی جھیل سی گہری آنکھوں میں لگتا تھا کہ کئی راز پوشیدہ ہیں۔مجھے اس کی خاموشی کھٹکتی تھی۔ مجھے ایک بات کھائے جاتی تھی کہ اتنے عرصے میں میں نے اسکوکبھی گھر فون کرتے دیکھا نہ ہی اس کے گھر سے کوئی فون آیا۔
یہاں دیکھو گھر سے دن میں دس فون آجاتے ہیں۔۔۔
“آپ آفس پہونچ گئے؟ ”
”گھر سے نکلتے وقت آپ کہہ رہے تھے کہ آ پ کے سر میں بہت درد ہو رہا ہے۔ میں نے جب کہا کہ آج آفس سے چھُٹّی لے لیں تو آ پ نے کہا کہ راستے میں کسی میڈیکل اسٹور سے دوائی لے لونگا۔ آپ نے دوائی لے لی تھی؟“
” آپ آتے وقت ترکاری لیتے آنا اور ہاں! ترکاری میں آپ پالک اور ٹماٹر نہ لیں ماں جی کو پتھری کی شکایت ہے تو وہ ان کے لئے ٹھیک نہیں ہے۔ اور ماں جی کے لئے پان لانا نہ بھولنا وہ کہہ رہی تھیں کہ اکژ شاکر پان لانا ہی بھول جایا کرتاہے!“
روز کتنی ساری باتیں ہماری ہوتی ہیں اور کیسے یہ شخص گھر والوں سے باتیں کئے بنا رہ سکتا ہے؟ ضرورت کی بھی تو کئی باتیں ہوتی ہیں!
کچھ تو ہے جو پردہ داری ہے! کہیں ایسا تو نہیں کہ اس کی گھر والوں سے نہیں بنتی۔ کچھ لوگ باہر والوں سے بہت اچھّے رہتے ہیں لیکن گھر والوں سے ان کے رشتے صحیح نہیں رہتے۔میں اس بات کا پتہ لگا کر ہی رہونگا ۔
ایک دفعہ میں اپنی بیوی شکیلہ سے فون پر بات کر رہا تھابہت ہی دھیمی آواز سے تاکہ کوئی دوسرا سن نہ سکے۔ باتیں ہی ایسی رومانٹک تھیں۔ ہمارے درمیاں بہت دیر تک باتیں ہوتی رہیں پھر میں نے فون رکھ دیا۔اور صابر کی طرف بڑھا وہ آفیس کی الماری سے کچھ فائیل نکال کر دیکھ رہا تھا میں نے اس کے ہاتھ سے فائیل لے لی ، اس کو ٹیبل پر بٹھایا اور اس کے قریب جاکر اس کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر پوچھ ہی لیا۔۔
یار اتنے عرصے سے ہم ایک ساتھ کام کر رہے ہیں تم کو میں نے کبھی نہ گھر فون کرتے دیکھا نہ ہی تمہارے گھر سے تم کو کسی کا فون آیا۔ کیا بات ہے؟ دیکھتے ہی دیکھتے اس کی آنکھوں میں سمندر اُمڈ آیا۔ ایک لاوا جیسے پھٹ پڑا۔ وہ رونے لگا اور ایسے رونے لگا کہ میں گھبرا گیا کبھی اس کی پیشانی چومتاتو کبھی گلے لگا لیتا کبھی سر پر ہاتھ پھیرتاتو کبھی پیٹھ پر۔ وہ رکنے کا نام ہی نہیں لے رہا تھا۔ میں نے اس کو چمٹا لیا اور ساتھ ہی ساتھ اس سے معا فی مانگے جا رہا تھا۔ مجھے معاف کردینا یار مجھے شاید نہیں پوچھنا چاہئے تھا۔اب بس بھی کرو ! کیا مجھے بھی رلا دو گے؟
میں نے اس کو پانی پلایا اور بڑی دیر تک اس کو سمجھاتا رہا مناتا رہا پھر وہ کچھ خاموش ہوا لیکن سسکیاں اس کے منھ سے برابر نکل رہی تھیں۔
جب وہ سنبھلا تو گویا ہوا۔۔
میری ماں ایک اسکول ٹیچر تھیں اور میرے والد ایک صحافی تھے۔ میں جب چھوٹاتھا وہ انگلینڈ چلے گئے وہ ایسے چلے گئے کہ واپسی کا کبھی رخ نہیں کیا۔ کچھ عرصہ بعد ہمیں یہ خبر ملی کہ انہوں نے وہاں دوسری شادی کر لی۔ یہ خبر سنتے ہی میری ماں پاگل ہوگئی۔ ہمارے ساتھ میری خالہ بھی رہتی تھیں جو بیوہ تھیں ان کی ایک جوان لڑکی تھی جو نہ بول سکتی تھی نہ سن سکتی تھی۔ جب سے میری ماں پاگل ہوئیں میری خالہ بس یہی سوچ کر گھلتی رہی کہ اب میری جوان بیٹی کا کیا ہوگا؟ یہی سوچ و فکر نے ان کی جان لے لی ا ور وہ چل بسیں۔ان کی لڑکی جمیلہ جو میری خالہ زاد بہن تھی اس نے کئی بار خود کشی کرنے کی کوشش کی۔ کسی نہ کسی طرح اس کو بچا لیا گیا۔ وہ نہ صرف گھر کا سارا کام کرتی تھی بلکہ میری ماں کی صاف صفائی، نہلانا دھلانا، ان کو کھانا کھلاناہر چیز کا خیال رکھتی تھی۔صرف گونگی اور بہری تھی لیکن گھر کا کوئی کام ایسا نہیں تھا کہ وہ نہ کرتی۔
زندگی ایک سمجھوتاہی تو ہے میں نے ایک سمجھوتہ کر لیامیری خالہ زاد بہن سے شادی کرلی اور اس کو ایک عدم تحفظ کے احساس سے نجات دلادی۔
تم بار بار مجھ سے پوچھتے ہو کہ تم مسکراتے کیوں نہیں؟ تم ہنستے کیوں نہیں؟ اب تم ہی بتاﺅ کہ میں کس بات پر مسکراوں؟ کس بات پر ہنسوں؟
کس کو فون لگاوں ، کس سے بات کروں؟
یہ سن کر جیسے میں سکتے میں آگیا! مجھے بہت بڑا شاک لگا اور میں ہمیشہ گم سم رہنے لگا!
اب صابر مجھ سے پوچھتا ہے کہ تم مسکراتے کیوں نہیں؟ تم ہنستے کیوں نہیں؟ تم کچھ بولتے کیوں نہیں؟!!!

Published inاعجاز مصورافسانچہعالمی افسانہ فورم