Skip to content

سلیپنگ پلز

عالمی افسانہ میلہ 2015

افسانہ نمبر 113
سیلپنگ پلز
ماہ جبین صدیقی

سارے دکھ،سارے غم ہی بے نام و نسب کیوں ہوتے ہیں کہ ہم چاہے تا عمر کھوج لگاتے رہیں معلوم کرتے رہیں لیکن تمام اسباب آپس میں گڈمڈ ہوکر رہ جاتے ہیں کوئی ایک سبب یا کوئی ایک وجہ کبھی دکھ کی پہچان نہیں بن پاتی کہ ہم اس کو کسی ایک وجہ سے منسوب کرلے اور مطمئن ہوجائے کہ بے نسبی اب اس کا مقدر نہ رہی لیکن سارے غم ایک جیسے ہوتے ہیں فرق اگر ہے تو صرف نوعیت کا حالات کایا شدتوں کا لیکن میں یہ سب کچھ کیوں رہی ہوں شاید اسلئے کہ شدت کچھ زیادہ ہوگئی ہے۔ یہ شدت ہی ہے جو دکھ کی پہچان کراتی ہے ورنہ! سبب تو پس منظر میں ہوتا ہے ۔ یہ شدت ہی ہے جو دکھ خمیر سے گندھے تو کسی کا قلم رو پڑتا ہے اور ساری تلخی لہجے کی ساری کٹرواہٹ سارا المیہ درد بن کر کاغذ پر بکھر جاتا ہے اور یہ شدت ہی ہے جو گر آخری منزلوں تک سفر کرجائے جہاں دکھ وجود میں نہ رہے گم ہوجائے کئی کھوجائے تو انسان مارفیا یا سیلپنگ پلز جیسے فریبوں سے خود کو بہلاتا ہے ہوش سے بیگانہ خرد لٹائے وہ دکھ کی شدت سے انجان رہ کر سمجھتا ہے کہ سارے دکھ ختم ہوگئے سارے غم مٹ گئے۔ پر المیہ ہوش آنے کے بعد کا ہے جب یہ پتہ چلے کہ سارے اسباب اسی طرح موجود ہیں اور وجود میں بکھرے ہمیں ٹیسیں دے رہے ہیں غم کی زہرآلود کڑواہٹ لہجے میں اسی طرح موجود ہے اور یوں چھاتی کی وہ اگنی جسے خرد سے بجھانا تھا ہم اسے جنوں سے بجھانے کی کوشش میں نہ دانستگی میں بھڑکائے جاتے ہے جو نہ تو خود ٹھنڈی ہوتی ہے نہ بجھتی ہے قائم رہتی ہے۔ جانے دکھوں میں اسقدر استقامت کیوں ہوتی ہے کہ ساری عمر یہ بے نام اندر ہی اندر سفر کرتے رہتے ہیں کسی نہ کسی صورت ہر پل موجود رہتے ہیں ظرف آزماتے رہتے ہیں حوصلے کی پائیداری دیکھنے کیلئے مستقل جاں کے ساتھ بندھے رہتے ہیں کہ ہم چاہے بھی تو انہیں جٹر سے اُکھاڑکے نہیں پھینک سکتے کہ بعض دفعہ کچھ چیزیں ہماری مجبوری بن جاتی ہے کہ جو گروجود میں نہ ہو تو خالی۔۔۔۔ سونے پن کا احساس اداس کرجاتا ہے اور یوں جب ہم کسی سبب سے اداس نہ ہو کسی غم کی شدت ہمیں نہ رلائے تو یہ احساس دکھ دے جاتا ہے کہ کوئی کسک کوئی خالی پن کوئی بے کلی کیوں نہیں!؟ کوئی حادثہ،ہجرت کا دکھ بچھڑے جانے کا غم ہمیں لاشعوری کے طور پر کیوں خوشی دیتا ہے ایک وقت آنے پر ہم انہی غموں کے حوالے سے اپنی ذات کی پہچان پر فخر کیوں کرتے ہیں غموں کو اس طرح Centered Self کرکے عیارانہ چالوں سے خود کو جاںِ محفل بنانے کی کیوں کوشش کرتے ہیں۔ سیگریٹ کے دھوئیں کا سرمئی بگولہ میری سمت بڑھتا ہے میں پیچھے ہٹتی ہوں جیسے شام کا عفریت مجھ پر چھارہا ہو کمرا دھوئیں سے باردود ہوتا ہے اور میری آنکھوں میں ڈھیروں پانی چھلک اپنی آنکھ کے پانی سے میں شعلہ شعلہ ہوگئی میرا دھوا ں ادھواں ذہن اس جگ مگاتی محفل سے تمہارے اندھیرے کمرے تک چلا گیا جہاں ہر وقت ایسا ہی سرمئی بارود فضا میں سنسناتا رہتا۔ اُف! یہ اداس اداس کتنی کیوٹ لگ رہی ہیں میں جو سننا چاہتی تھی۔وہ آواز آئی اور میں جانو بے خبر بیٹھی رہی۔ اب محفل میں توجہ کے رنگ میری ذات کے منشور سے ٹکرارہے تھے مجھے اندازہ نہ ہوا کہ میرا ایگو سینس مطمئن ہے کچھ سجی سنوری کمپلیکس زدہ اور اٹینشن کی ماری لڑکیاں میرے پاس آ بیٹھیں میں نے نظر اُٹھاکر دیکھا آپ کی آنکھیں اتنی اداس کیوں ہیں؟ کہیں آپ شاعرہ تو نہیں ہے میں بناوٹی تلخی سے ہنس پڑی اور کرتی بھی کیا۔ میں شہر میں بے مقصد گاڑی دوڑاتی رہی سوئی اسپیڈمیٹر کی آخری حدوں پر لرزرہی تھی لیکن میں اندھا دھند ایکسی لیٹر پاؤں جمائے رکھے رہی تھوڑی دیر بعد میرے ہاتھ تمہارے بوسیدہ کمرے کا دروازہ کھول رہے تھے۔ لوگ کہتے ہیں میں سکون حاصل کرنے یہاں آتی ہوں غموں سے پناہ پوشی مجھے تمہارے دروازے تک لے آتی ہے میں تمہارے بوسیدہ گھر ہر ہفتے دروازہ کھولتی ہوں تھوڑی دیر تک چلی جاتی ہوں یہ سب کچھ لوگوں کیلئے محض میرے سکون کا ذریعہ ہے لوگوں کی رائے میں میں تمہارے پروں میں منہ چھپانے آتی ہوں میں تم سےWarm Satisfactionچاہتی ہوں لیکن کیسی گرمی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟ برف کی ٹھنڈک بھی تو ایک انتہاپر حدت بن جاتی ہے ہاتھ جلنے لگتے ہیں میں لوگوں سے اتفاق نہیں کرتی میں شاید گھر سے سیلپنگ پلز کے نشے میں آتی ہوں اور یہاں سے مطمئن جاتی ہوں لوگ اور سمجھ بھی کیا سکتے ہیں۔ سلائی میشنیں تقسیم کرتے ہوئے ایک غریب عورت اور مفلوج ضیعفہ نے فرط خوشی سے میرا ہاتھ چومنا چاہا میں نے ہاتھ کھینچ لیا لوگ حیران تھے اور ہال میں Buzzingہونے لگی لوگ میرے متعلق باتیں کررہے تھے کوئی مجھے مغرور کہہ رہا تھا۔ ضرور کوئی تلخ یا وابستہ ہوگی اس حرکت سے کونے سے کسی نے رائے دی لیکن بھئی کوئی اچھا امپریشن نہیں پٹرتا۔ ہوسکتا ہے انہیں کچھ یاد آگیا ہو یہ بھی ہوسکتا ہے کسی نے خواہ مخواہ ہمدردی لینے کی کوشش کی اور میں پھر اپنی ساحر آنکھوں کے پانی سے لوگوں کے دل بھگوتی رہی قطرہ قطرہ اپنے لئے دراڑ بناتی رہی، ان حیلوں سے ان حرکات سے اس غیر معمولیت سے اور شاید اسطرح Intelectualپوز کرنے سے ۔ لیکن کب تک ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟ ہر دور میں معصومیت اور سادگی کی ایک رگ کٹ جاتی ہے اور لوگ پہلے سے زیادہ باشعور ہوتے جاتے ہیں تب کیا ہوگا؟ میں اس بات سے بھی ڈرتی ہوں لیکن کچھ وقفے کے بعد جس طرح خوف ڈر وسوسے اندیشے دھوئیں کے سرمئی بگولہ کی طرح میری طرف بڑھے تھے چھٹتے گئے میں پھر خود کو بہلاوے دے گئی۔ نہیں کچھ نہیں ہوتا۔دکھ یوں ہی نموں پاتے رہے یہ جڑیں یوں ہی پھلتی رہے ان میں بور پڑتا رہیگا میں نے زیرگی کا عمل کبھی دیکھا نہیں لیکن اس عمل سے کپاس بکھرتے ضرور دیکھے ہے بیچ تو جانے کب پڑجاتے بس ہمارے سامنے تو لہلاتے کھیت ہوتے ہیں میں اس خیال سے بھی چھٹکارا حاصل کرنا چاہتی ہوں کتاب اُٹھالیتی ہوں ’’ادیب دو قسم کے ہوتے ہیں،ایک وہ جو ادیب ہوتے ہیں دوسرے وہ جو نظر آنا چاہتے ہیں میں کانپ گئی میرا خود میری کمزوریاں۔۔۔۔۔۔۔۔۔صلیبں تیار ہیں گواہوں کے کٹہرے میں اصل مجرم عینی شاہد ہے عینی گواہ ہے جرم کے حق میں اوردوسرے کے خلاف وہ خشک تھوک بمشکل حلق سے انگلیاں گردن پر پھیر کر اتارتا ہے شیروانی کے بالائی بٹن کبھی کھولتا کبھی بند کررہا ہے میں نے گلاس اُٹھالیا اور مستسقی کی طرح پانی پیتی رہی ہر گھونٹ پہلے سے زیادہ پیاس بڑھاتا تھا میرے ذہن میں شور تھا آوازیں سنسنارہی تھی، دکھی لوگ دو طرح کے ہوتے ہیں ایک وہ جو دکھی ہوتے ہیں اور دوسرے وہ جو نظر آنا چاہتے ہیں نہیں۔۔۔۔۔۔۔۔میرا اپنا آپ میرے حق میں عینی شاہد بن گیا گواہوں کے کٹہرے میں جیسے پارسا مجرم۔ میں سرجھٹک کر اُٹھنا چاہتی ہوں فون کی گھنٹی نے مجھے چونکا دیا میں نے بے دلی سے ریسور اُٹھایا آپ کے بغیر پروگرام جمتے نہیں آواز آئی نہیں ایسا تو نہیں،میں نے انکساری پوز کرنا چاہی شاید ہم سب یہی کرتے ہیں ہم منکسر ہوتے نہیں انکسار دیکھانا چاہتے ہیں ایک نیا پروگرام شام کو میرا منتظر تھا ایک نیا بہلاوا،نیا ڈھونگ،جدید سوانگ میک اپ رنگوں خوشبوؤں کے پیراہن میں ایک نیا بہروپ ہم ہر شام بدلتے ہیں جیسے ڈھیروں سانپ با یک وقت کینچلی بدلیں،جیسے سارے بدن میں سانپ رنگ لہرے مارے رنگوں کی شعائیں ٹکرائیں میں ہنستے ہنستے رک گئی جانے کہاں سے خوشیاں ختم ہوتی تھی اور کس نقطہ سے دکھ شروع ہوتا تھا کچھ اندازہ نہ ہوا نہ مجھے۔۔۔نہ لوگو ں کو جیسے جھیل سے سیف المکوک کاپانی رنگ بدلے جیسے۔۔۔۔۔۔۔جیسے۔۔۔۔۔۔۔لیکن پتہ نہیں میرے ذہن میں اپنے متعلق گرگٹ رنگوں کا حوالہ کیوں نہ آیا رات پھر میں سیلپنگ پلز کے کھلونے سے بہلتے سوگئی سب کی راتیں یوں ہی ہوتی ہے ایک جیسی! کوئی تصور کے پلز لیتا ہے کوئی کسی لمس کے ہلکورے اور کوئی نیم تلخ گولیوں کے سہارے۔۔۔۔۔ بہلاوے سب کے نشہ آور ہیں نیندیں سب کی غیر فطری ہیں میں تمہارے کثیف محلے سے گزرتی غلاظتوں کے انبار سے بچتی اور پان کی کھوکھے والے کی ریکارڈنگ(جس کا بٹن وہ مجھے دیکھ کر ہی آخری حدوں پر کردیتا) کو نظرانداز کرتی تمہارے سیلن زدہ نیم تاریک کمرے کے بوسیدہ دروازے تک پہنچ گئی تمہارا تالا بھی زنگ آلود ہوگیا تھا بس تم سے ایگریمنٹ کرنے کے باوجود تم سے گھر بدلنے کا جبر نہ کرسکتی تھی لیکن تم تو اپنا مکان بھی بدلنے کو تیار نہ تھے میں اندر آگئی۔۔۔۔۔۔۔سارے کمرے میں کاغذات پھیلے ہوئے تھے تم کہاں چلے گئے تھے میں نے دیکھا اور کاغذات سمیٹنا شروع کردئیے تم کوئی افسانہ لکھ رہے تھے، شاید کوئی تنقیدی مقالہ۔۔۔۔۔ مجھے اس سے کوئی غرض نہ تھی کہ تم کیا لکھتے ہو تم آگئے،تمہارے ہاتھ میں سیگریٹ کا پیکٹ تھا سیگریٹ ختم ہوگئے تھے میں نے پوچھا تم نے جواب دینا مناسب نہ سمجھا تم عادتاً مجھے اگنور کرتے رہے میں نے ایک بڑا پیکٹ میز پر رکھ دیا اس میں15دن استعمال کے سیگریٹ،اتنے ہی دن خرچ کیلئے رقم دی۔۔۔۔۔تماری رائلٹی کی رقم بھی اس میں تھی میں نے تمہیں بتایا میں اپنے تعلقات سے تمہاری کتابیں چھپواتی تھی تم اس بھیک کا وقفہ بڑھادینا میں تمہاری صورت اس قدر مستقل مزاجی سے نہیں دیکھ سکتا تمہارا لہجہ پھر زہریلا ہوا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دنیا میں تم ہی تو وہ واحد شخص تھے جسے مجھ سے نفرت تھی۔شدت کے ساتھ اور میں، میرا اندر وہ ونڈو اسکرین تھا جس پر محبتوں نے بال ڈال دئیے تھے،ساری عمر کی لمحہ لمحہ نا محسوس محبتوں نے یہ شیشہ تڑخا دیا تھا میں چیک تمہاری طرف بڑھایا تم نے میری طرف دیکھے بغیر حقارت سے زمین پر تھوک دیا جیسے پھر سے بانس کے جنگل لمس پاکر کھٹرکھٹرا گئے نفرتوں کے سریش سے چٹخا ہوا ونڈو اسکرین جیسے بال بال جڑگیا ہو۔ سیگریٹ کا دھواں میرے اندر عفریت بن کر اترا جیسے ڈھیروں چمکیلی ریت میری آنکھوں میں پڑگئی۔ ۔۔۔۔ ریشہ ریشہ سرخی سفید پانیوں پر تیر گئی۔۔۔۔۔اور اب میرے15دن پھر آرام سے گزر جائینگے۔

Published inعالمی افسانہ فورمماہ جبین آصف