Skip to content

سلاخیں

عالمی افسانہ میلہ 2018
افسانہ نمبر 6
سلاخیں
افسانہ نگار ایمن تنزیل ۔رام پور انڈیا ۔
وہ اپنے کمرے میں بیٹھا کسی الیکٹرک چیز کو درست کر رہا تھا. بجلی کڑکنے کی زوردار آواز نے اس کے ذہن کو منتشر کر دیا. تیز ہوا کے جھونکوں سے کھڑکی کا دروازہ خود ہی کھلنے اور بند ہونے لگا. موسم نے کروٹ لی چند لمحات قبل کی گرم ہوا میں نمی اور خنکی پیدا ہو چکی تھی. پرانا، بوسیدہ کمرہ، ٹین شیڈ اور اولوں کے ساتھ بارش! پورا کمرہ کچھ ہی دیر میں شور سے گونجنے لگا. مختلف خیالات و جذبات اس کے ذہن میں تصادم پیدا کر رہے تھے. کبھی اپنے ہاتھوں کو کانوں پر رکھتا تو کبھی تکیے کو اٹھا کر اپنا پورا چہرہ ڈھانپ لیتا. اس کیفیت نے اس کو شدید بے چین کر رکھا تھا. موسم خوشگوار ہونے کے باوجود وہ پسینے سے تر ہو گیا اور اس کو اپنا وجود بوجھل ہوتے ہوۓ محسوس ہونے لگا. عجیب سنسناہٹ اس کو اپنے جسم میں محسوس ہوئ.
وہ اپنے بیڈ سے اٹھا اس کو اپنا ایک ایک قدم ایسا محسوس ہوا گویا میلوں کا سفر پیدل طے کرکے آیا ہے. ہمت کرکے زمین پر پڑے پردے کو اٹھایا جو دیوار میں لگی ایک آزاد کیل پر ٹکا ہوا تھا اور تیز ہوا سے نیچے گر پڑا. سگریٹ کی ڈبی جیب سے نکالی کچھ دیر سگریٹ کو اپنی انگلیوں کے درمیان رکھے ہوۓ وہ سوچتا رہا اور پھر لائٹر سے سلگا کر کش لگانے لگا. کھانسی کا ایک پھندہ پہلے ہی کش میں اس کے حلق میں پھنس گیا لیکن سگریٹ پینے کا سلسلہ اسی طرح برقرار رہا. دھواں بند کمرے کی فضا میں تحلیل ہو چکا تھا. اچانک اس کے چہرے پر کچھ طمانیت کے آثار آۓ لیکن مختصر وقت کی مہمان طمانیت اس کو مغموم کر گئ. وہ ذہنی اور دماغی کشمکش کے درمیان لڑنے لگا. اس کے ارد گرد مختلف کردار گھومنے لگے جو اس کو حقیقی نظر آرہے تھے…….کوئ چیخ رہا تھا، کوئ بلک بلک کر رو رہا تھا، مختلف سماعتوں کا ارتعاش تھا…….ہاں ارتعاش!
اس کی آدھی سگریٹ تو کب کی راکھ ہوکر ریزہ ریزہ زمین پر بکھر چکی تھی. بچی ہوئ سگریٹ بھی کپکپاتے ہاتھوں سے چھوٹ کر گر پڑی. اس کی آنکھوں کے گرد سیاہ پپوٹے پانی سے بھر گۓ.
اب یہ آنسو کس لیے ہیں……..؟
ک…..کس لیے……مطلب؟
جب انسان ٹوٹ جاتا ہے تب آنسو ہی ہوتے ہیں اور کوئ نہیں ہوتا.”
اوہ…….! تم ٹوٹ چکے ہو.” ایک طنزیہ آواز پھر اس کے کانوں سے ٹکرائ.
ہاں! لیکن تم کون ہو اور یہاں کیا کر رہے ہو؟” مسلسل سوالوں سے اس پر گھبراہٹ طاری ہونے لگی تو اس نے پوچھا.
کچھ دیر پہلے اس کی جس آواز پر دہشت طاری تھی اب وہ اسی آواز کو پر اعتماد بنانے کی کوشش کر رہا تھا حالانکہ اس کا جسم پوری طرح پسینے میں بھیگ چکا تھا. کمرے میں سناٹا ہو گیا. دونوں طرف خاموشی تھی. اس نے پریشان ہو کر اپنی آنکھوں کو زور سے بند کرلیا. جب نظریں اٹھا کر دیکھا تو اس کے سامنے کوئ نہیں تھا. اس نے سکون سے ایک سانس لی اور بیڈ کے نزدیک کرسی پر ہی بیٹھ گیا.
پہلے تم ہی اپنے بارے میں بتادو.” اس نے پھر وہی آواز سنی گھبرا کر آس پاس دیکھا تو وہ اس کی کرسی کے پیچھے کھڑا تھا. پسینے کی بوندیں اس کے ماتھے پر نمایاں ہوگئیں اور کچھ دیر میں پورے چہرے پر تیرنے لگیں.
کبھی کہانی سنی ہے تم نے……..؟
اس کے دل کی دھڑکنیں تیز ہو گئیں اور اس کا وجود اس کا ساتھ چھوڑنے لگا لیکن وہ خود کو وحشت زدہ ظاہر نہیں کر رہا تھا.
ہاں سنی ہیں……بہت سی کہانیاں سنی ہیں اور پڑھی بھی ہیں.”
اتنا کہہ کر وہ چیخنے لگا: “اب تم یہاں سے جاؤ اور مجھے تنہا چھوڑ دو.” اس کی کنپٹی کی رگیں پھولنے لگیں، آنکھوں میں سرخی چھائ اور پانی سے بھر گئیں.
ایک ریلوے پلیٹ فارم پر لاشیں ہی لاشیں تھیں اور کچھ لاشوں کے نیچے ادھوری سانسیں.”
لاشیں……..! کہاں؟” وہ گھبرا کر اس سے پوچھنے لگا.
آگے سنو!” پھر وہی اجنبی آواز تھی.
کوئ بچہ تھا، کوئ عورت یا پھر…….شناخت نہیں ہو رہی تھی. جسم خون کی سرخ چادر سے ڈھکے ہوۓ تھے.”
اف……..!” اس نے یہ سن کر ایک درد بھری آواز میں کہا.
ہاں دوست! بہت مشکل سے ان لوگوں کو نکالا جن کے اندر کچھ ٹوٹی ہوئ سانسیں ٹکرا رہی تھیں. شاید زندگی ان کو مہلت دے رہی تھی ورنہ ہر طرف خون ہی خون تھا. ایمبولینس کا ہوٹر دلوں کو دہلا رہا تھا. پولیس اس ہجوم کو روکنے کی ناکام کوشش کر رہی تھی.”
یہ واقعہ ہوا کہاں تھا……؟ اور کس شہر میں…….؟
آگےسنو!”
جواب نہ ملنے پر اس کے دل میں خاموشی اور اضطراب کے بیچ بڑی جنگ چل رہی تھی.
پولیس اس ہجوم کو روکنے کی ناکام کوشش کر رہی تھی. لوگ پلیٹ فارم پر ہر جگہ دوڑ رہے تھے اور متلاشی نگاہوں سے اپنے رفقاء کے لیے بے چین تھے. کچھ لوگوں کی آواز روتے روتے تھک چکی تھی. ان کا کرب وہاں موجود ہر شخص کو لرزا رہا تھا اور…….اور ایک عورت اپنی سرخ پتھیلیوں سے زمین پر کچھ تلاش کر رہی تھی اور بے بس ہو کر اپنے ہاتھوں کو پھر زمین پر پٹخ دیتی. شور ہونے کے باوجود بھی خاموشی تھی……ماتم سناٹے میں بدل چکا تھا جس نے بہت سے حوصلوں کو دفنا دیا تھا، چہکتی امنگوں کے لب ہمیشہ کے لیے بند کر دۓ تھے اور خوابوں کے پھول تو کھلنے سے پہلے ہی مسل دۓ گۓ تھے.
اس کے کانوں میں شور گونجنے لگا، چیخیں اس کے دماغ کی ایک ایک نس سے ٹکرا رہی تھیں روتے بلکتے منظر اس کی آنکھوں میں سما گۓ.
اس گھٹی فضا میں کسی کو بھی اگلی صبح کی امید نہیں تھی، کسی کو حوصلہ نہیں تھا کہ اگلی صبح سورج کی نئ کرنوں کے ساتھ ان کی زندگی کا بھی نیا سویرا ہوگا. اس وقت کوئ بھی ایسی کیفیت میں نہیں تھا کہ اپنے بکھرے خوابوں کو سمیٹ سکے. کچھ معصوموں کی زندگی کا سفر شروع ہونے سے پہلے ہی ختم ہو چکا تھا. مختلف آوازیں شور میں گرداب کی تصویر اختیار کر چکی تھیں.”
وہ ان باتوں کو سن کر خاموش دونوں ہاتھوں کے درمیان سر کو پکڑا بیٹھا رہا. پھر وہی آواز کمرے میں گونجی.
کسی نے نہیں سوچا ہوگا کہ ان کے ارمانوں، امنگوں، امیدوں، مقصدوں، خوابوں اور نہ جانے کتنے جذبات کی کشتیاں اس طرح ڈوب جائیں گی. سوچنا تو دور تصور بھی نہیں کیا ہوگا.”
کمرے میں پھر سناٹا ہو گیا وہ خاموش رہا، کہانی پھر آگے بڑھی.
حالانکہ ہر سفر سے پہلے خیالات کی لرزش میں ارتعاش ضرور پیدا ہوتا ہے لیکن سارے مناظر اور خیالات بہہ چکے تھے اچانک خاموشی کو چیرتے ہوۓ ایک آواز سماعتوں سے ٹکرائ……ایسی چیخ جو ہر دل پر تیر کی مانند اثر انگیز ہوئ. ایک بچہ ایک لاش کا سر اپنی گود میں رکھا ہوا بار بار اس کو جھنجھوڑ رہا تھا. وہ خود سے اس لاش کو دور جانے نہیں دے رہا تھا. پولیس نے اس کے آس پاس گھیرا بنا لیا لیکن سب بے بس تھے. وہ بھی نم آنکھوں سے کبھی اس لاش کو اٹھانے کی کوشش کرتے تو کبھی لاچاری سے اس بچے کی طرف دیکھتے.”
اس کی آنکھوں کی نمی اب بھی برقرار تھی. نزدیک رکھے گلاس سے پانی پیا اور کہنے لگا: “کیا پولیس والوں کے پاس بھی دل ہوتا ہے؟
کیوں نہیں! آخر وہ بھی انسان ہیں اور ہر انسان اپنے دل میں ایک نرم گوشہ رکھتا ہے. پولیس والوں کو بھی درد اور غم ستاتے ہیں اور اس معصوم کا غم تو سب پر حاوی ہو گیا تھا جب وہ بلک بلک کر “ابا……ابا” کہہ رھا تھا. ہر آنکھ اشک بار تھی، ہر دل سے چیخ نکل رہی تھی. ایمبولینس کی آمد و رفت اسی شور کے ساتھ جاری رہی. کچھ ٹوٹی پھوٹی سانسیں تھم چکی تھیں.”
آسمان نیلا ہو گیا تھا. بارش کے آثار نمودار ہوۓ اور کچھ ہی دیر میں زوردار بجلی نے فلک پر شور برپا کر دیا. کالی گھٹا سے فضا بھی خوش گوار ہو گئ تھی……..ڈھب ڈھب بوندیں پھر ٹین شیڈ پر پڑیں. کمرے میں سناٹا چھا گیا. دونوں طرف خاموشی تھی تبھی ایک آواز گونجی: “ہو گئ کہانی ختم!”
خوف سے اس کی آنکھیں گرم ہو چکی تھیں، بارش کی نمی نے انکشاف پیدا کر دیا تھا. اس کے چہرے کی رنگت سفید ہو چکی تھی. جیل کی سلاخیں اس کی نظروں کے سامنے آگئیں وہ بدحواس ہوکر پسینے سے شرابور سرخ آنکھوں سے ادھر اُدھر دیکھنے لگا لیکن ہر سو اندھیرا تھا اور صرف اندھیرا.
تم کون ہو یہ تو بتادو…….؟” ہمت کرکے اس نے معلوم کیا.
میں کون ہوں……؟ بھلا تمہیں کیسے نہیں معلوم! اس وقت پر میری آواز……..”
ایک زوردار بجلی اس پر گری. ندامت کے پھندے نے اس کو ایسا جکڑا کہ پھر وہ آزاد نہ ہوا.

Published inایمن تنزیلعالمی افسانہ فورم