Skip to content

سر زمین

افسانہ میلہ 2018
افسانہ نمبر : 30
سر زمین : شاھد جمیل احمد گوجرانوالہ

وہ دفتر سے اُٹھا اورچلچلاتی دھوپ میں تھوڑی دُور چلا۔بالوں میں دُبکی بیٹھی ساری جُوئیں جاگ گئیں اور چُھپتی چُھپاتی، بالوں کے درمیان رستے بناتی سر کی جِلد تک پہنچ کر پنجے گاڑنے لگیں۔اُس کے سر میں کُھجلی ہوئی اور اُس نے آدھے سر کو ایک ہاتھ کی انگلیوں اور آدھے سر کو دوسرے ہاتھ کی انگلیوں میں لے کر اتنے زور سے کُھجایا کہ سر کی زمین میں زلزلہ آگیا۔جو جُوئیں پہلے ہی سر کی جِلد سے چمٹ کر سو رہی تھیں اُنہیں تو جیسے سنبھلنے کا موقع ہی نہ ملا ، کئی بیچاریاں تو مدہوشی کے عالم میں پنجوں کے بل بالوں کے گرد گھوم گئیں اور اپنے پنجے فضا میں ہلا کر سُستی دور کرنے لگیں ۔
شہزادی جُوں جو زیادہ خون چُوسنے کی وجہ سے پتھر ہوئی بیٹھی تھی ، دائیں بائیں پنجے چلاتی، گھسٹتی ہوئی سنگھار ہال میں داخل ہوئی تو تمام خادم جُوئیں اپنی اپنی جگہ چوکس ہو گئیں اور آداب بجا لائیں ۔ شہزادی جُوں کسلمندی سے ریت کے چھوٹے ذرے کے شیشے کے سامنے پچھلے پنجوں پر کھڑی ہو کر اپنی فِٹنس کا جائزہ لینے لگی۔اُس نے اگلے پنجے اُٹھا کر انگڑائی لینا چاہی تو بے دھیانی میں سر کی جِلد پر پھوڑے کے نشان والی سنگِ مر مر جیسی چِکنی جِلد سے پھسل گئی۔تمام خادم جُوئیں آنا فانا گرتی پڑتی شہزادی جُوں کی طرف لپکیں اور اُسے اپنے پنجوں پر اٹھا کر سہلانے لگیں۔ سیکرٹری جُوں نے الجھی ہوئی سانسوں کے ساتھ آرتھو جُوں کوآواز دی تو وہ یوں سر پٹ بھاگتی اندر داخل ہوئی جیسے شہزادی کے گرنے کا انتظار کر رہی تھی۔مکمل چیک اپ اور بریل کریم کی مالش سے شہزادی جُوں منٹوں میں ٹھیک ہو گئی اور سنگھار میز پر آبیٹھی،جب وہ بیٹھتی تو اُس کی خوبصورت گول چکی بن جاتی ، بیوٹیشن جُوں نے کمال مہارت سے شہزادی جُوں کا سنگھار کیا۔
اِسی اثنا ء میں سیکرٹری جُوں ہاتھ میں کاغذ کاایک ٹکڑا لے کر آگئی۔ شہزادی جُوں نے سیکرٹری جُوں کی طرف کن اکھیوں سے دیکھا اور بولی آج جو تقریر کرنی ہے وہ پڑھ کر سناوٗ۔ سیکرٹری جُوں نے سہمے سہمے انداز میں غیر محسوس طریقے سے گلے کو آدھا صاف کیا اور لکھی ہوئی تقریر پڑھ کر سنانے لگی ! ’’ کمخواب پہنوں گی ، اطلس پہ سووٗں گی،مخمل پہ چلوں گی ، محلوں میں رہوں گی، پھر بھی یہی کہوں گی، مُجھ کو تُم سے ہے پیار،غریب جُووٗں مجھ کو تم سے ہے پیار ، ہے ہے مجھ کو تم سے ہے پیار ،ہو ہو مجھ کو تم سے ہے پیار، آہا آہا مجھ کو تم سے ہے پیار۔‘‘ سیکرٹری جُوں نے تقریرکا آخری مصرع پڑھا تو شہزادی جُوں کے ہونٹوں پر مسکراہٹ کھیلنے لگی ، پھر ایک دم اُس نے اپنے ہونٹوں کو دیکھا اور عادتا اُن پر لگے خون کو ہونٹوں کی تراش کے موافق کیا اور سُچے دھاگے کے بیگ کو بازو میں ڈالتے ہوئے اٹھ کھڑی ہوئی۔اُس نے سیکرٹری جُوں کو جلسے میں جانے کے انتظامات کا جائزہ لینے کاحکم دیا اور خود اٹھلاتی ہوئی خواب گاہ میں داخل ہو گئی۔
جلسے میں ابھی کافی وقت تھا۔ یہ موجودہ مہم کا پہلا جلسہ تھا اور سر کی زمین کے انتہائی جنوبی شہر میں ہو رہا تھا۔ بعد ازاں پروگرام کے مطابق یہ سلسلہ مشرقی و مغربی شہروں کو ملاتے ہوئے شمال کے آخری شہر تک جانا تھا۔
تمام جُوئیں رینگتی ہوئی سر کے پچھلے حصے میں چھوٹے سے گڑھے میں اکٹھی ہو رہی تھیں جہاں جلسے کی تیاریاں پورے عروج پر تھیں۔ پنڈال کو چاروں جانب لال ہری کالی جھنڈیوں سے سجایا گیا تھا۔ پنڈال کے وسط میں جانباز جُوئیں مٹی کے چھوٹے چھوٹے ذروں کے ڈھول پیٹ رہی تھیں اور بھنگڑا ڈال رہی تھیں۔ سر کی سلطنت میں بظاہر لاوٗڈ سپیکرکے استعمال کی ممانعت تھی لیکن منتظمین تمام قاعدے ، قوانین بالائے طاق رکھتے ہوئے مائیک کے سامنے بھانت بھانت کی بولیاں بول رہے تھے۔
شام کے سائے ڈھلنے لگے تو لاوٗڈ سپیکر سے شہزادی جُوں کی آمد کا اعلان کیا گیا۔ با وردی جوئیں افراتفری کے عالم میں اِدھر اُدھر بھاگنے لگیں۔شہزادی جُوں باقی جُووٗں کے جلَو میں سٹیج تک پہنچ گئی۔ دو تین جوشیلی جُووٗں نے شہزادی جُوں کی تعریف میں لمبے چوڑے قصیدے پڑھے اور پھر شہزادی جُوں کو تقریر کی دعوت دی گئی۔شہزادی جُوں نے لہک لہک کر لکھی ہوئی تقریر پڑھی! ’’ کمخواب پہنوں گی ، اطلس پہ سووٗں گی،مخمل پہ چلوں گی ، محلوں میں رہوں گی، پھر بھی یہی کہوں گی، مُجھ کو تُم سے ہے پیار،غریب جُووٗں مجھ کو تم سے ہے پیار ، ہے ہے مجھ کو تم سے ہے پیار ،ہو ہو مجھ کو تم سے ہے پیار، آہا آہا مجھ کو تم سے ہے پیار۔‘‘
بیچاری غریب جُووٗں کو عقل کہاں تھی ! عقل ہوتی تو نسل در نسل غریب جُوئیں کیوں کہلاتیں۔ اپنے حق میں تقریر سن کر بیچاریاں جذباتی ہو گئیں اور اپنے تئیں شہزادی جُوں پر واری صدقے جانے لگیں ۔
ٹھیک تین دن بعد شہزادہ جُوں نے اِسی میدان میں اپنی طاقت کے مظاہرے کا پروگرام دیا۔ وہی جُوئیں جو پہلے شہزادی جُوں کے ایک نظارے کی پیاسی تھیں اب شہزادہ جُوں کی ایک جھلک دیکھنے کے لئے بے تاب نظر آنے لگیں۔ اُسی طرح پنڈال سجا اور اُسی طرح میدان کو ہری پیلی نیلی جھنڈیوں سے سجایا گیا۔ اُسی طرح شہزادہ جُوں سٹیج پر آئی اور الفاظ کے ہیر پھیر کے ساتھ اُسی طرح کی تقریر کی۔ ’’ اپنا پیٹ بھروں گی ، کسی سے نہ ڈروں گی ، سب کو چلتا کروں گی ،پھر بھی یہی کہوں گی ،مجھ کو تم سے ہے پیار، غریب جُووٗں مجھ کو تم سے ہے پیار، شاوا شاوا مجھ کو تم سے ہے پیار ، بلے بلے مجھ کو تم سے ہے پیار ، اشکے اشکے مجھ کو تم سے ہے پیار۔‘‘ شہزادہ جُوں جلسے کی رونق بڑھانے کے لئے بُرچھے میاں کو بھی اپنے ساتھ جلسے میں لائی تھی ، بُرچھے میاں کہ جن کی نشانی یہ تھی کہ ایک موٹا گھنا بال ان کی ٹھوڑی سے لٹک کر ناف تک جُھولتاتھا ،جب ذرا چلتے پھرتے تو یہ اندازہ لگانا مشکل ہوتا کہ ناف ٹھوڑی کے بال کو چھونے کی کوشش کر رہی ہے یا بال ناف کی کُھتی کو ، بُرچھے میاں کے پاس اپنے بزرگوں کی طرح غریب جُووٗں کو لبھانے کے لئے اُن کی پُھونکا پُھونکی کا ایک ہی پرانا ہتھیار تھا جواس نے چُھو چُھو کیا اور اپنے ہاتھوں پیروں کی بوس و کنار کراتے یہ جا وہ جا۔
ماضی کے مقابلے میں تیسری قوت کے ذریعے دونوں فریقین کو ماس میڈیا پر زیادہ سے زیادہ کوریج دی گئی۔ غیر جانبدار جُوئیں یہ سب دیکھ کر اپنی اپنی جگہوں پر بیٹھی خون جلاتی رہیں۔ غیر جانبدار جُووٗں کو غریب جُووٗں پر رہ رہ کر غصہ آ رہا تھا جو اس دو دھاری تلوار جیسی مہم میں بڑھ چڑھ کر شریک تھیں۔
جیسے جیسے فیصلے کا دن قریب آتا جا رہا تھا ویسے ویسے مہم زور پکڑتی جا رہی تھی۔ اب تو اس مہم میں کئی دوسرے چھوٹے گروپ بھی شامل ہو گئے تھے اور اپنے اپنے راگ الاپ رہے تھے۔ ڈرپوک جُوں اچھی طرح جانتی تھی کہ تین قسم کے بظاہر متضاد رویوں کی اصل حقیقت کیا تھی۔ وہ جانتی تھی کہ پہلے رویے جس کا اظہار شہزادی جُوں نے اپنی تقریروں میں کیا اُس کی اصلیت کیا تھی۔ وہ سمجھتی تھی کہ انقلاب فقط نعروں ، جلسوں یا تقریروں سے نہیں بلکہ عمل اور قربانیوں سے آتے ہیں، عمل کی صورتِ حال تو یہ تھی کہ شہزادی جُوں اُن کے ہونٹوں سے اُن کا اپنا کمایا لہُو تک چاٹ جاتی۔وہ جانتی تھی کہ محلوں میں رہ کر غریب جُووٗں کے دن بدلنے کا خیال کچھ معنی نہیں رکھتا۔ نظام بدلنے کی بات کے پیچھے شہزادی جُوں کے اپنے مفادات کارفرما تھے۔ ڈرپوک جُوں یہ بھی سمجھتی تھی کہ کھوکھلے الفاظ کچھ نہ کرنے اور کچھ نہ سوچنے کا کفارہ نہیں ہو سکتے۔ مگر ڈرپوک جُوں کیا کرتی ، وہ تو تھی ہی ڈرپوک۔ کبھی کبھی اس کے جی میں آتا کہ اپنی تمام تر احتیاطوں کو بالائے طاق رکھ کر سر کی ساری دنیا میں چور کا شور مچا دے لیکن جب اپنے انعام و کرام کا سوچتی تو معا اپنے جی کو مار لیتی، یوں بھی بیچاری جُوں کا جی ہوتا ہی کتنا ہے۔
ڈرپوک جُوں تو یہ بھی جانتی تھی کہ دوسرے قسم کا رویہ جس کا اظہار شہزادہ جُوں نے اپنے گیتوں میں کیا تھا کس قدر گھناوٗنا اور ظلم پر مبنی تھا۔ وہ سمجھتی تھی کہ دوسری جووٗں کے حصے کی خوراک چھین کر ان کی فلاح کی بات کرنے والے دروغ گو تھے۔ وہ یہ بھی اچھی طرح جانتی تھی کہ لُوٹ کھسُوٹ مچا کر اُن کے حقوق کی بات کرنے والے کذاب تھے۔
تیسری قسم کا رویہ جو غیر جانبدار جووٗں کی وجہ سے وجود میں آیا وہ پہلے دو رویوں سے بھی زیادہ خطرناک تھا۔ وہ اچھی طرح جانتی تھی کہ اگر پرجا کسی نظام کا حصہ ہی نہیں بنتی اور اس میں دلچسپی ہی نہیں لیتی تو نظام بدلنے اور انقلاب لانے کا خواب کبھی شرمندہٗ تعبیر نہیں ہو سکتا۔مگر غیر جانبدار جُووٗں کو تو جیسے اپنی سر زمین کا ذرا بھی احساس نہیں تھا ، بڑی ہی بے حس اور بڑی ہی بے غیرت جُوئیں تھیں یہ غیر جانبدار جُوئیں بھی۔
اب جبکہ تمام جُوئیں رات بھر جاگ کر صبح کا انتظار کر رہی تھیں تو غیر جانبدار جُووٗں کی طرح ڈرپوک جُوں بھی غفلت کی نیند سوئی پڑی تھی۔صبح ہوئی تو تمام جُووٗں نے دیکھا کہ اِس صبح کا چہرہ بھی ماضی کی صبحوں سے مختلف نہیں تھا ، مایوسی کی ایک لہر تھی جو سر کی زمین کے ایک کونے سے لیکر دوسرے کونے تک برقی رَو کی طرح دوڑ گئی ۔

Published inشاہد جمیل احمدعالمی افسانہ فورم