Skip to content

سانپ والی باجی

عالمی افسانہ میلہ ۲۰۱۸ء
سانپ والی باجی
افسانہ : 23
تحریر: تبسم ضیا۔اسلام آباد

’’شفیق تمہیں خدا کا کچھ خوف ہے؟‘‘ مجھے دیکھ کر وہ تھوڑا ہل گئی تھیں اور ساتھ ہی آنکھیں بھینچتے ہوئے ان کے منہ سے یہ جملہ نکلا۔ میں بری طرح گھبرا گیا اور میرا دل تیز تیز دھڑکنے لگا تھا۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ میں نے دوسری جماعت کا امتحان پاس کیا تو ایک بار پھر نئی کتابوں کی خوشبو سونگھنے کو ملی ،جس نے دل کو لبھایا۔سب کچھ پچھلے سال کی ہی طرح تھا۔وہی بوسوں کے ساتھ مبارک بادیں اور دل لگا کر پڑھنے کی تلقین،وہی ہم جماعت،وہی اساتذہ۔نیا تھا تو میرا بستہ،نئی کتابیں اور نورانی قائدہ۔۔۔ ’’بھئی شفیق کو اس سال قرآن پاک بھی شروع کرواؤ۔۔۔ماشااللہ اب تیسری میں ہے۔دوسری میں یہ ایسے بھی ایک سال زائد لگا چکا ہے‘‘ ابا جان،امی سے کہہ رہے تھے۔ ’’اجی میرا پیچھا تو گھر کے کام نہیں چھوڑتے اور آپ ایک اور ذمہ داری ڈال دیں مجھ پر۔‘‘ کچھ توقف کے بعد ابا جان پھر بولے: ’’چلو تم پریشان نہ ہو میں امام مسجد سے بات کرتا ہوں، شفیق بھی باقی بچوں کے ساتھ مسجد ہی میں سبق لے لیا کرے گا۔دوسرے لڑکوں کے ساتھ شوق شوق میں رواں ہو جائے گا اور نماز کا پابند بھی۔‘‘ ’’نہ جی، ابھی چھوٹا ہے،امام صاحب کی سختی نہیں سہہ پائے گا۔میں بات کرتی ہوں کسی سے محلے میں‘‘ ماں کی ممتا بول اٹھی اور ابا جان چپ ہو رہے۔ میں کارٹون دیکھ رہا تھا ، امی ابو کی اس گفتگو کے دوران کچھ اور بھی انہماک سے دیکھنے لگا۔ ’’اففففف۔۔۔۔ایک اور مصیبت۔۔۔‘‘ میں نے اپنے اندر ہی خود کلامی کی۔ سکول کے دن میری قیمتی یاداشتوں کا حصہ ہیں۔ تیسری جماعت میں پہلا دن تھا ۔باقی تو سب ٹھیک تھا بس صبح سویرے اٹھنے کی مصیبت۔۔۔مگر کیا ہو سکتا تھا۔سکول تو شام کے وقت لگنے سے رہا،سو نیند کی قربانی تو دینی تھی۔نئی کتابوں، ان کی خوشبو اور کچھ نئے ہم جماعتوں کے ساتھ تعارف میں دن اچھا گزرا۔ سُستی بھی جاتی رہی ۔سکول سے واپس آکر گھر کے کپڑے پہنے اور ہاتھ منہ دھو کر ٹی وی کے سامنے بیٹھ گیا۔امی نے کھانا سامنے رکھااور میرے سر پر ہاتھ پھیر کر کہنے لگیں : ’’میرا پیارا بیٹا آج سے قرآن شریف پڑھنے جائے گا اور پھر اللہ سے بہت سا ثواب حاصل کرے گا‘‘۔ وہ دراصل مجھے راضی کر رہی تھیں کہ انھوں نے اس کام کے لئے اپنے کسی تعلق والی کے ذریعے محلے میں ایک باجی کا بندوبست کرلیا تھا۔انکار کا آپشن تو میرے پاس ویسے ہی موجود نہ تھا کہ مسلمان ہونے کے ناطے یہ کام تو کرنا ہی تھا۔’’نہ ‘‘کرتا تو مسجد جانا پڑتا۔ دوپہر کے چار بجے امی اور میں سیپارہ پڑھانے والی باجی کے گھر پہنچے۔رسمی حال احوال ہوا ۔پھر امی نے میرا اور باجی کا تعارف ایک دوسرے سے کروایا۔وہ حافظ قرآن اور خواندہ تھی۔انھوں نے چائے بسکٹ سے ہماری تواضع کی اور مجھے اپنے قریب بٹھا لیا۔ پہلا دن تھا۔امی وہیں ساتھ رکیں اور باجی نے مجھے تھوڑا سا سبق دیا ۔گھر میں ہواپھینکنے والے کولر کے شور کے باوجودعجب ساسکوت تھا۔جس کاپردہ ایک وحشت زدہ آواز نے توڑا۔ باجی اٹھ کر دوسرے کمرے میں گئیں۔اس آواز کو میں سمجھ تو نہ پایا لیکن یقیناًاس میں باجی کے لیے بلاوا تھا۔جب وہ دوبارہ نمودار ہوئیں تو ان کا رنگ اڑا ہوا تھا۔شاید وہ اپنی امی کی جھاڑ سن کر آ رہی تھیں۔مجھے باجی پسند آئیں،رخصت لیتے وقت میں نے ان سے کہا۔ ’’باجی آپ بہت اچھی ہیں،میں روز پڑھنے آؤں گا۔‘‘ امی کامیاب ہوئیں اور ہم مسکراتے ہوئے باہر نکل آئے۔ سیپارے کے صفحے پلٹتے گئے۔ہوا کا کولر پورے زور و شور سے چلتا رہا۔وحشت زدہ آواز دوسرے کمرے سے آتی رہی۔دن ماہ میں بدل گئے۔امی نے چار صد روپے فیس دے کر مجھے بھیجا جو میں نے جاتے ہی باجی کودے دیے۔اس دن خاموشی ضرورت سے زیادہ تھی ۔ہوا کے کولر کا شور تھا نہ کسی وحشت زدہ آواز نے اس سکوت کو توڑا تھا۔سہ پہر گھر پر ان کی امی کے سوا کوئی نہ ہوتا تھا۔آج وہ بھی شاید کسی رشتہ دار کے گھر گئی ہوئی تھیں۔باجی سیپارہ پڑھانے لگیں تو مجھے پیشاب آگیا۔میں اجازت لے کر لیٹرین گیا۔فارغ ہو کراٹھا تو ایک ہاتھ سے اپنی الاسٹک والی شلوار اوپر کی اور دوسرے سے دروازہ کھولا ۔سامنے باجی کھڑی تھیں۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ’’شفیق تمہیں خدا کا کچھ خوف ہے؟‘‘ مجھے دیکھ کر وہ تھوڑا ہل گئی تھی اور ساتھ ہی آنکھیں بھینچتے ہوئے ان کے منہ سے یہ جملہ نکلا۔ میں بری طرح گھبرا گیا اور میرا دل تیز تیز دھڑکنے لگا تھا۔ ’’باجی معاف کر دیں،آئندہ گھر سے کر کے آؤں گا،وقت ضائع نہیں کروں گا۔‘‘ میں سمجھا تھا کہ شاید وہ مجھے بھگوڑا جان کر میرے پیچھے آئی ہیں اور سوچتی ہیں کہ میں سیپارے سے دل چُرا رہا ہوں۔ حالاں کہ مجھے حقیقتاٌ حاجت ہوئی تھی۔ ’’شفیق تمہیں سخت گناہ ہوگا۔اگر تم ناپاک حالت میں اللہ کی کتاب کو ہاتھ لگاؤ گے۔چلو بیٹھو میں تمہیں دھلوا دوں۔‘‘ میں خود کو گناہ گار سمجھتے ہوئے شلوار اتارنا بھول گیا اورفوراٌبیٹھ گیا۔ ’’شفیق ۔۔۔!!بدھوکہیں کے۔۔۔!شلوار تو نیچے کرو۔‘‘ باجی نے ہلکی سی سرزنش کی ۔ میں نے جھٹ شلوار اتاری اور پھر بیٹھ گیا۔باجی نے لوٹا پانی سے بھرا اور مجھے جلدی جلدی دھونے  لگیں۔اس کام میں ان کی دو یا شاید تین انگلیاں استعمال ہوئی تھی ۔لوٹا خالی ہوا تو انھوں نے پھر سے نل کے نیچے رکھا اور نل کھول دیا۔ اس مرتبہ وہ گملے میں لگے کسی مرجھائے ہوئے نوآموزپودے کو پانی دے رہی تھیں،پانی ملتے ہی جس کا تنا سیدھا ہو گیا تھا۔میں چاہتا تھا کہ ایسا نہ ہو مگراحساس میرے بس میں نہ تھا ۔لوٹا تیسری مرتبہ بھرا جا رہا تھا۔پانی آہستہ آہستہ گراتے اورسہلاتے ہوئے انگلیوں میں پکڑ کر مدھولتے ہوئے وہ پورادھونے لگی تھیں۔امی نے مجھے کبھی اتنی دیر تک نہیں دھلوایا تھا۔میں نے سوچا طہارت کے خیال سے باجی ایسا کرتی ہوں گی۔ میرا دل معمول سے بہت تیز دھڑک رہا تھا۔خوف سے کان گرم ہورہے تھے کہ باجی ماریں گی یا کہیں امی کو شکایت نہ لگا دیں۔ اس دوران میری آنکھوں نے ایک مرتبہ بھی ان کی طرف نہ دیکھا۔ اس عمل سے فارغ ہو چکنے کے بعد وہ مجھے لیٹرین سے باہر صحن میں لگے نل کے سامنے لے آئیں۔خود لکڑی کی چوکی پر بیٹھی اورمجھے اپنی گود میں بٹھا کر باقی جسم کا وضو کروایا۔یہ سب عجیب تھا،بہت عجیب۔ گھر پہنچنے کے بعد بھی مجھے عجیب طرح کے خوف اور احساس جرم نے جکڑ رکھا تھا۔میں چارپائی پر بیٹھا اپنی کلر پنسلیں شارپ کر رہا تھا جب میں نے امی کی آواز سنی۔ ’’کل سیپارے کا سبق مجھے سنانا۔‘‘ میں ڈر گیا کہ باجی نے ضرور میری شکایت کی ہو گی۔ ’’تمہاری باجی ایک ہفتے کے لئے لاہور گئی ہے ، اپنے خالہ زاد کے بیاہ میں۔لیکن تم ان دنوں میں سبق مجھے سنا دیا کرنا۔‘‘ میری سانسیں بحال ہوئیں۔ ’’خدا کرے اس بے چاری کی بھی اب شادی ہو جائے،اس کی ماں کو تو لگتا ہے اس بات کی فکر ہی نہیں۔۔۔، اپنی باجی کے لیے دعا کیا کرو‘‘ امی نے ٹھنڈی آہ بھرتے ہوئے کہا۔ ہفتہ اور اتوار۔۔۔دو دن کی چھٹی کے بعد صبح سویرے اٹھنا اور بھی محال ہو جاتا ہے ۔نئے ہفتے کا آغاز ہو چکا تھا۔ معمول کے مطابق سکول سے واپس آکر گھر کے کپڑے پہنے اور ہاتھ منہ دھو کر ٹی وی کے سامنے براجمان ،کارٹون دیکھنے لگا۔امی نے کھانا سامنے رکھااور مجھے یاد کروایا : ’’ آج تمہاری پارہ پڑھانے والی باجی واپس آگئی ہیں،سیپارہ پڑھنے جانا۔۔۔حرام ہے کہ تم نے اس پورے ہفتے میں ایک دن بھی پارے کو ہاتھ تک لگایا ہو‘‘ میں نے ’’جی امی‘‘کہہ کر نوالہ منہ میں ڈالا اور کارٹون دیکھتا رہا۔ چار بجے کا وقت تھا۔ وہ سخت گرمیوں کی دوپہر تھی۔زیادہ تر لوگ قیلولہ کرتے تھے۔میں نے سیپارہ اٹھایااورچل پڑا۔ایک گلی چھوڑ کر پہلا گھر سیپارے والی باجی کا تھا۔میں گزشتہ ہفتے کی باتیں بھول چکا تھا۔باجی کے ساتھ صوفے پر بیٹھا اور چوم کر سیپارے کو کھولا۔ہوا والے کولر کے شورکے باوجود گھر میں عجب سا سناٹاتھا ۔شاید ان کی امی سو رہی تھی۔ ’’تم وضو ٹھیک سے کر کے آئے ہو؟‘‘ باجی کے سوال پر میں چونک گیااوراثبات میں سر ہلانے لگا۔ایک ہفتہ پہلے کی فلم میرے دماغ سے گزر گئی ۔ قرآن کی تلاوت شروع ہوئی،میں ان کے پیچھے پیچھے پڑھتا جا رہا تھا۔ باجی کوجانے کیا ہوا؟اچانک صوفے پر لیٹ گئیں اور ان کے منہ سے آواز یوں نکلی جیسے کہ نیند میں ہوں۔ ’’اُومھ ۔۔۔۔!!!!شفیق مجھے بہت درد ہو رہا ہے۔‘‘ میں سیپارہ میز پر رکھ کر ان کے پاس کھڑا ہوگیا۔ ’’شفیق تم میرے اچھے والے بھائی ہو ناں؟‘‘ باجی نے کہا اور میرا ہاتھ اپنے کُرتے کی ابھری ہوئی جگہ پر رکھتے ہوئے اپنی بات جاری رکھی: ’’شفیق یہاں کچھ چبھا ہوا ہے۔۔۔ نکالو اسے جلدی ۔۔۔‘‘ صوفے کے پاس کھڑا میں انگشتِ شہادت ونَر کو بے تکا ہی استعمال میں لا کر کچھ نکالنے کی کوشش کرتا رہا، مگر وہ کہنے لگیں: ’’ایسے نہیں نکلے گا شفیق ،اپنے دانتوں سے نکالواسے ،مجھے بہت دُکھ رہاہے۔‘‘ ’’میں کیا کروں؟کہاں جاؤں؟میری چھاتی پر سانپ لوٹتے ہیں۔‘‘ ْْْْْْْْْْصوفے پر جھکا میں بے حد نرمی کے ساتھ اپنے باریک باریک دانتوں کو کام میں لاتے ہوئے باجی کو اس تکلیف سے نکالنے میں مشغول تھا،جب میرے کانوں نے اس قسم کی سرگوشی سنی ۔ انھوں نے جانے کب مجھے اٹھا کر اپنے اوپر کر لیا تھا۔ میں بہت ڈر گیا تھا کہ کوئی سانپ میرے منہ میں نہ چلا جائے۔اسی لمحے باجی نے اُس روزوالا عمل دہرانا شروع کر دیا۔مرجھایاپھول کھل اٹھا۔ ان کی آنکھیں بند تھیں اور وہ کہتی جا رہی تھیں: ’’میں نے سانپ پکڑ لیا۔۔۔دیکھو شفیق! میں نے سانپ پکڑ لیا۔۔۔‘‘ پہلے تو مجھے محسوس ہوا کہ میں لیٹرین میں بیٹھا ہوں۔ایک مسحور کن لذت میرے خون میں بہہ کرانگڑائی سی بن گئی لیکن میں ابھی تک باجی کو اس چبھن والی تکلیف سے نجات دلانے میں مصروف تھا۔چند لمحے میں باجی نے مجھے اپنے سے دور کھسکادیا۔ میں شرماتے ہوئے قمیص کے نیچے اپنی رانوں میں کچھ چھپانے کی کوشش کر تا رہا۔کمرے میں ایک چبھتی سی بُو پھیل گئی تھی۔ان کا چہرہ پہلے سے مختلف تھا شایدوہ اطمینان کی سی کیفیت تھی۔جس کے بعد انھوں نے مجھے بوسہ دے کرمیری ذہانت کی تعریف کی اور مجھے گھر جانے کو کہا۔ گھر پہنچ کر میں سیدھا لیٹرین میں گھس گیا۔تیز پیشاب آرہا تھا۔دھار نکلی تو جلن نے مجھے کچھ لمحے کے لیے تڑپا دیا۔فارغ ہونے کے بعد پانی سے دھوتے ہوئے میرا ہاتھ سانپ والی باجی کا ہاتھ بن گیا ۔

Published inتبسم ضیاءعالمی افسانہ فورم