Skip to content

ساتویں کوکھ

عالمی افسانہ میلہ 2015
افسانہ نمبر 71
ساتویں کوکھ
ناہید طاہر، ریاض، سعودی عرب
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
سرمئی شام اپنا خوبصورت آنچل پھیلائے مسکرا رہی تھی۔خوبصورت اور خوشنما پھولوں سے سجے لان میں بیٹھی مریم، رضیہ بٹ کا کوئی دلچسپ ناول کے مطالعہ میں غرق تھی۔ ساتھ ہی ساتھ نمکین کاجو بھی کھائے جا رہی تھی۔ پھولوں کی بھینی سی خوشگوارخوشبو اُس کے وجود کو سرور بخش رہی تھی۔ موسم کے سُہانے آنچل تلے ناول پڑھنے کا کچھ اپنا ہی مزہ ہوتا ہے اور یہ لذت وہی انسان جانتا ہے جسے مطالعہ کا جنوں ہوتا ہے۔ مریم کو بھی اچھی کتابیں پڑھنے کا بے انتہا شوق تھا۔ پچھلے تین دنوں سے وہ اس ناول کو ختم کرنے کی کوشش کررہی تھی لیکن گھریلو مصروفیات کسی سیاہ ناگن کی طرح پچھا نہیں چھوڑ رہی تھی۔ اکثر وہ صرف دو دن میں ناول کو پڑھ لیتی اُس کے ہاتھ جب تک دوسری کتاب نہ آتی تب تک وہ اُسی کتاب کے سحر میں کھوئی رہتی۔ کھبی مصنف کو دل کی گہرائیوں سے دعا دینے لگتی کہ ’زورِ قلم اور ذیادہ‘ تو کھبی کرداروں میں اُلجھ جاتی۔کھبی مسکردیتی تو کھبی چشم نم ہوجاتے۔
امی کہاں ہیں آپ؟ ” اُس کی دس سالہ بیٹی ماریہ اُسے ڈھونڈتی ہوئی آوازیں دے رہی تھی۔
ماریہ ادھر لان میں آجائو بیٹی۔” وہ کاجو کا ٹکڑا منہ میں رکھتی ہوئی صدا بلند کی۔
امی آپ کو کہاں کہاں تلاش کیا میں نے!” وہ ہانپتی ہوئی بولی۔
ٹیوشن سے جلدی آ گئی ۔۔۔ کیوں خیریت تو ہے نا؟”مریم کتاب بند کرتی ہوئی تشویش کن انداز میں پوچھا۔
امی شہر میں کرفیو نافذ کردیا گیا شہر کے کئی مسلم محلوں میں فسادات کی خبریں سننے میں آ رہی ہیں۔اللہ خیر کرے۔
مریم سختی سے آنکھیں بھینچ لیں۔ اس پر عجیب سی وحشت اور گھبراہٹ طاری ہو گئی۔ “سارہ کو بھی اس بات کی اطلاع دے دی نا؟
ہاں امی میں نے اُنہیں بھی فون کر دیا تھا۔ وہ گھر کے لئے نکل چکی ہے۔
سارہ اُس کی بڑی بیٹی تھی اور نویں جماعت کی طالبہ تھی۔ مریم نے ہذیانی انداز میں کھڑی ہوتی ہوئی ماریہ کا ہاتھ تھاما اور ڈرائینگ روم کی جانب دوڑی ساتھ ہی ساتھ گھر کی ساری کھڑکیاں بھی بند کئے جا رہی تھی۔
امی دھیرے سے۔۔۔۔ آپ اتنی گھبرائی ہوئی کیوں ہیں؟”، ہمارا محلہ کافی محفوظ ہے۔
سارہ کو فون لگاؤ۔” وہ پریشانی سے بولی۔
امی وہ ٹھیک ہے ابھی کچھ دیر پہلے باجی سے بات کی تھی۔
بحث نہ کرو، اُسے فون لگاؤ۔” اب کے مریم پوری قوت سے چیخی تب ہی موبائل کی رنگ ہونے لگی۔
باجی کا فون ہے۔” یہ سن کر مریم فون پر جھپٹ پڑی۔
سارہ تم ٹھیک تو ہونا ؟
ہاں امی میں اور دس منٹ میں گھر پہنچ جاؤں گی۔ آپ فکرنہ کریں ہماری اسکول بس نکل چکی ہے۔” اتنا کہہ کر اُس نے فون بند کردیا۔
مریم کی بے چینی پتہ نہیں کیوں بڑھتی جارہی تھی۔ چہرے پرتفکر و پریشانی کے آثار نمایاں تھے۔ کچھ دیر بعد اُس نے سارہ کو دوبارہ فون لگایا۔
امی ہم گھر کے قریب ہیں لیکن چوراہے کے پاس ہماری بس کو روک لیا گیا ہے۔ باہر کئی نقاب پوش کھڑے ہیں جن کے ہاتھوں میں مشعالیں جل رہی ہیں۔” وہ بے اختیار روتی ہوئی کہہ رہی تھی۔”امی میرے لئے دعا کیجئے۔”۔۔۔ اُس کی سسکی گونجی۔
تجھے کچھ نہیں ہو گا۔” بیٹی کو تسلی تو دے رہی تھی لیکن خود کی آواز ہھی کسی گہرے سوکھے کنویں سے نکلتی محسوس ہوئی۔
امی”۔۔۔۔ اُس کی دلخراش چیخ سنائی دی۔
سارہ ۔۔۔ میری بچی۔۔۔” مریم کے دل و د ماغ کی رگیں پھٹ پڑنے لگیں۔
سالی منہ بند رکھ ۔۔۔۔ اس کا فون چھین لو۔۔۔ “۔ کسی دہشتگرد کی خوفناک آواز سنائی دی۔
کمینے۔۔۔ کتے۔۔۔ ذلیل انسان۔۔۔ میری بیٹی کو چھوڑدے۔۔۔ چھوڑدے میری بچی کو۔۔۔۔ چھوڑ دے۔۔۔۔” مریم دیوانگی سے چلائے جا رہی تھی۔ فون تو کھبی کا کٹ چکا تھا۔ مریم پر بے ہوشی چھا گئی۔
امی۔۔۔ ” ماریہ نے ماں کو جنجھوڑا، پھر دوڑتی ہوئی فریج سے پانی کی بوتل لائی اور مریم کے چہرے پر چھنٹیں مارتی ہوئی آوازیں دینے لگی۔ مریم کو ہوش آیا تو وہ چند سکنڈ خالی نگاہیں لئے ماریہ کو تکتی رہی۔ پھر اُس کے دماغ کی رگیں جیسے سُلگ اُٹھیں چہرہ تن گیا
سارہ ۔۔۔” وہ ایک چیخ مارتی ہوئی دروازے کی جانب دوڑ پڑی۔
اچانک باہر زور زور سے دروازے پر دستک ہوئی۔
شاید سارہ آ گئی۔۔۔” وہ دبے لب بدبدائی۔ مریم کے بے جان بدن میں توانائی سی دوڑگئی۔ ایک جھٹکے سے دروازہ کھول دیا۔ لیکن سامنے گیتا گھر کی نوکرانی کھڑی تھی۔ پل میں مریم کی ساری قوت دم توڑ گئی۔ گیتا سراسیمہ خوف تلے کانپ رہی تھی۔
تم۔۔۔” مریم اُس کے سراپے پر نظریں دوڑائی کیونکہ اس نے ڈیلیوری قریب ہونے کی وجہ سے چھٹی لے رکھی تھی۔
میم صاب ۔۔۔ پیسوں کی ضرورت آن پڑی تو آپ کے پاس آ رہی تھی اچانک پتہ نہیں کیا ہوا کہ چاروں طرف آگ ہی آگ پھیل گئی۔
وہ بری طرح لرز رہی تھی آنکھیں پھٹنے کی حد تک پھیلی ہوئیں تھیں۔ مریم کی کنپٹیاں سُلگنے لگیں باہر جھانکا، باہر گہرا سناٹہ چھایا ہوا تھا۔ گیتا تم ماریہ کے ساتھ رکو ۔۔۔ میں ابھی آتی ہوں۔ مریم جنونی انداز میں کہتی ہوئی ننگے پاؤں باہر چلی آئی اور بے تحاشہ دوڑنے لگی، تیزی سے سڑک طے کرتے ہوئے بائیں جانب چوراہے پر پہنچی تو دیکھا وہاں آگ ہی آگ پھیلی ہوئی تھی۔ ہرطرف جلتی لاشیں۔۔۔۔ کئی گاڑیوں کو بھی آتش کی نظر کیا گیا تھا۔
آپ یہاں کیوں آئی ہو۔۔۔ انسانیت درند گی اختیار کر چکی ہے، یہاں سے فوراً چلی جائیے۔” کوئی بزرگ ہستی قریب آ کر کہنے لگی۔ ’ بابا میری بچی۔۔۔ میری بچی اسکول بس میں آرہی تھی ظالموں نے میری بچی کے ساتھ نا جانے کیا حشر کیا‘ ۔ یہ سن کر اس بزرگ کی آنکھیں نم ہو گئیں۔۔۔ کپکپاتے وجود کے ساتھ ایک جانب اشارہ کیا۔ وہ نظارہ دیکھ کر مریم کی روح کانپ اٹھی۔ اسکول بس آگ کے دیوہیکل شعلوں میں گھِری انسانیت کی موت پر ننگا ناچ ناچتی ہوئی نظر آرہی تھی اور مکمل خاک ہو چکی تھی۔
بیٹی وہ درندے اب گھروں کی جانب رخ کئے ہوئے ہیں۔” یہ سنتے ہی وہ بوکھلائی ہوئی اپنے گھر کی جانب بھاگی۔ ایسا لگ رہا تھا مانو زمین پر ایک اور مرتبہ بی بی ہاجرہ کا وجود نمودار ہوگیا۔ وہ ’صفا و مروہ‘ کے چکر۔۔۔ تڑپ۔۔۔۔ بے کسی۔۔۔ مکان کے قریب پہنچی تو اچانک دو نقاب پوش ایک گاڑی سے گود پڑے اور اس کی جانب دوڑتے ہوئے آنے لگے۔ مریم تیزی سے دروازے کے قریب پہنچ کر دروازہ پیٹنے لگی۔ سارہ نے دروازہ کھولا اس سے پہلے کہ وہ اندر پہنچ کر دروازہ لاک کردیتی وہ درندے اندر داخل ہو گئے۔
ماریہ بھاگ۔۔۔” سارہ پوری قوت سے چیخی۔” آج ہم سے کوئی بچ نہیں سکتا۔۔۔ کیونکہ ہمارے پاس مسلمانوں کی تباہی کا پرمٹ ہے، سرکار ہمارے ساتھ ہے” ایک نقاب پوش خوفناک قہقہہ لگاتا ہوا بولا اورسارہ کو دبوچ لیا۔ مریم تڑپ گئی۔
کمینے میں تیرا خون کر دوں گی۔
خون تو ہم کرنے آئے ہیں چڑیل۔” دوسرے نقا ب پوش نے سارہ کے رخسار پر بھرپور تھپڑ مارا اور اسکے بالوں کو جکڑ کر گھسٹنے لگا لیکن دوسرے ہی پل لہرا کر زمین پر ڈھیر ہوگیا۔ مریم نے دیکھا گیتا نے لوہے کے گلدان سے اس کے سر پر ضرب لگائی تھی۔ چاروں طرف ملگجا اندھیرا ہونے کے باوجود مریم اس سفاک دہشت گرد کو زمین پر تڑپتا دیکھ رہی تھی اور زندگی میں پہلی بار کسی کی تڑپ پر قہقہہ لگانے کو جی چاہ رہاتھا۔
سالی تو نے میرے بھائی کو مارا۔” اس کا ساتھی نے غصے سے دندناتے ہوئے اپنے کمر بند سے تیز دھار چاقو نکالا۔ اس سے پہلے کہ کوئی کچھ کرتا وہ چاقو گیتا کے نو ماہ حاملہ پیٹ کو چاک کرچکا تھا۔ اس پر درندگی چھائی ہوئی تھی منہ سے جھاگ نکل رہا تھا، اس کی وحشت بھری آواز گونجی۔۔۔۔۔
ساتویں کوکھ ۔۔۔۔۔ جو آج میرے ہاتھوں اُجڑی۔۔۔۔۔ ہا، ۔ہا، ہا۔” اس کے وحشت زدہ قہقہے خاموش سناٹوں کی چادر چاک کر رہے تھے۔ اچانک ان وحشی قہقہوں پر تیز سنسناتی بجلی آ گری۔ دم توڑتی گیتا بمشکل کہہ رہی تھی؛ ’ سا۔۔ت ۔۔و۔۔یں ۔۔ کو۔۔ کھ ۔۔۔ تیر۔۔ی ۔۔اپنی ۔۔ ہے۔ یہ سن کر وہ د ہشت گرد خون میں لت پت لاش کو پاگلوں کی مانند سمیٹنے کی کوشش کرنے لگا۔

مریم دیوانوں کی طرح ہنسنے لگی۔ دل پر چھائے زخموں پر عجیب سی ٹھنڈ ک محسوس ہورہی تھی۔

Published inعالمی افسانہ فورمناہید طاہر