Skip to content

زہریلی دھوپ

عالمی افسانہ میلہ 2020

افسانہ نمبر24

زہریلی دھوپ

ڈاکٹر نعیمہ جعفری پاشا ، نیو دہلی، انڈیا

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

میں نے اپنے کمرے کو تمام بیرونی اثرات سے محفوظ کرلیا ہے۔ میرا کمرہ ایک ایسا میدانِ جنگ ہے جہاں ہر طرف انتشار برپا ہے۔ قلموں کے سرقلم ہوگئے ہیں، دوات کا لہو بہہ گیا ہے جس نے فرش کو، کاغذوں کو اور میرے پلنگ کی چادر کو داغ داغ کردیا ہے، کاغذوں کے رشتے منقطع ہوگئے ہیں اور پنوں سے چھدے ہوئے ان کے جسم زخمی سپاہیوں کی طرح ہر طرف بکھرے پڑے ہیں۔ لیکن باہر کی دنیا تو میری دنیا سے بھی زیادہ خوفناک ہے۔ سورج اپنی سرخ سرخ آنکھوں سے دنیا کو گھورتا نظر آتا ہے، چاندنی رات کے ستارے چاند کی آنکھ سے ٹپکے ہوئے آنسو معلوم ہوتے ہیں اور اماوس کی راتوں میں لگتا ہے کہ چاند کا وجود ریزہ ریزہ ہوکر بکھر گیا ہو۔ یہ سب کل بھی بہت تباہ تھا لیکن یقینا تباہی اتنی شدید نہ تھی جتنی تمہارے جانے کے بعد ہوگئی ہے۔

کل ہی کی تو بات ہے ، اس دنیا میں کل پھر ایک ہنگامہ ہوگیا، جیسے کہ اکثر ہوجاتا ہے۔ ایک جھگڑا، ایک فساد، ایک چھوٹی سی بات جسے مفاد پرستوں نے ہوا دے کر پہاڑ بنادیا۔ سیاست کی تنگ ذہن گلیوں میں اقتدار کی بھوک سے سلگتے ہوئے بیمار ذہنوں نے نفرتوں کے ناگ برسا کر صدیوں سے چلی آرہی امن اور بھائی چارے کی فضا کو متعفن اور زہر آلود کردیا۔ سیاست کے کھلاڑیوں نے فسادات کی آگ پر اپنے مفادات کی روٹیاں سینکیں۔ پہلے آگ پر تیل ڈالا اورپھر جلے پرنمک چھڑکا۔ اس سے پہلے کہ سیدھے سادے عوام کچھ سمجھ پاتے، کرائے کے غنڈوں نے جہنم کے دروازے کھول دیئے۔ ایک دبی سی چنگاری ہوا پاکر شعلہ بن گئی۔ امن کے رکھوالوں نے امن کی چتا میں انسانیت کو جلا کر خاک کردیا تھا۔ کیا کچھ نہیں ہوا تھا۔ پتھر برسے تھے، لاٹھیاں چلی تھیں اور بندوقوں نے شعلے اگلے تھے۔ آگ کے شعلوں نے گھروں اور دکانوں کو ہی نہیں زندگیوں کو بھی تباہ وتاراج کردیا تھا۔ سنا ہے لہو سڑکوں پر بہہ رہا تھا، وہ لہو جس کی قیمت مذہب نے اور سماج نے بہت مہنگی مقرر کی ہے، بہت سستا ہوگیا تھا، سڑکوں پر بہہ رہا تھا، قدموں تلے روندا جارہا تھا۔ یہ بھی سنا ہے کہ ایک فرقہ مخصوص کو ٹارگیٹ کیا گیا تھا۔ پڑوسی نے پڑوسی کو مارا، دوست نے دوست کا گھر لوٹا۔ نہ جانے کتنوں کی جان گئی۔ مرنے والوں میں میں نہیں تھی، میرا کوئی بھی نہیں تھا، لیکن سب میرے اپنے تھے، میری ماں کے بیٹے تھے، میرے دیش کے واسی تھے۔ نسل آدم کا خون بہا تھا، انسانیت کا خون بہا تھا۔

یہ واقعہ کل دوپہر کو ہوا تھا۔ میں کل تمام دن بہت اداس اور ملول رہی۔ دن بھر ٹی وی کی دوطرفہ خبریں اور وہاٹس ایپ کے ویڈیوز دیکھ دیکھ کر سسکتی رہی۔ سنا ہے حالات قابو میں ہیں لیکن فضا میں تنائو بنا ہوا ہے۔ میں کل پورے دن تمہارا انتظار کرتی رہی۔ دل ڈھونڈھ رہاتھا ایک ایسے شانے کو جس پر سر رکھ کر روسکوں ،تم کل دن بھر نہیں آئے، رات بھی گذر گئی، مجھے فکر بھی تھی تمہاری لیکن یہ یقین بھی تھا کہ تم مظلوموں اور مجروحوں کو راحت پہنچانے کے کام میں مصروف ہوگے۔ سنا ہے آج کل تم بھی کسی سیاسی پارٹی کے لیے کام کررہے ہو، لیکن میں نے کبھی تفصیل نہیں پوچھی کیونکہ مجھے سیاست سے نفرت ہوگئی ہے۔ تمام دن اور تمام رات کے انتظار کے بعد آج صبح تم صرف چند لمحوں کے لیے آئے ، ہاں تم آئے۔ لیکن کاش تم نہ آتے۔ تم نہ آتے تو میں اتنی نہ ٹوٹتی جتنی اب ٹوٹ گئی ہوں۔ باہر کی دنیا سے اتنی متنفر نہ ہوتی جتنی اب ہوگئی ہوں، ہاں تم آئے…۔ لیکن تمہارے ماتھے پر کوئی سلوت نہیں تھی، تمہارے چہرے پر غم کی کوئی لکیر نہیں تھی۔ ایسا کوئی تاثر نہیں تھا جس کو دیکھ کر میں پھٹ پڑتی، تمہارے کاندھے پر سر رکھ کر رولیتی اور اپنے دل کا بوجھ کچھ کم کرلیتی۔ بلکہ تمہارے چہرے پر وہی مسکراہٹ تھی جو تمہاری خصوصیت تھی، کھلی کھلی، شانت مسکراہٹ۔ میں حیران تھی کہ آج کے ان دل دوز واقعات نے، اس تنائو بھرے ماحول نے تمہارے چہرے پر کوئی نشان کیوں نہیں چھوڑا، تم اپنی مسکراہٹ کو کیونکر بحال رکھ سکے؟؟ لیکن میں خاموش رہی اور تم نے آتے ہی حسب معمول چائے کی فرمائش کی اور چائے پیتے ہوئے حسب معمول ہی سامنے کے اسٹول پر پیر رکھ تم نے پوچھا۔ ’’خبریں سنیں تم نے آج کی؟‘‘

’’ہاں ‘‘! میں نے بھاری اور دکھے دل کے ساتھ ابتدا کی۔ ’’سنا ہے بہت خون خرابہ ہوگیا۔‘‘

’’بہت‘‘!تم نے حیرت سے ’’بہت‘‘ کو کھینچ کر کہا۔ ’’نہیں یاربہت کہاں ہوا، صرف پانچ مرے اور پندرہ بیس زخمی ہوئے۔‘‘

’’صرف‘‘ ! میں نے حیرت سے پلکیں اٹھائیں۔

’’ہاں صرف۔‘‘ میری حیرت اور دکھ سے بے خبر تم اپنی ہی رو میں کہتے رہے۔

’’صرف‘‘؟ میں نے پھر حیرت سے دہرایا، کیونکہ حیرانی اور دکھ کے مارے میرے منہ سے الفاظ ادا ہی نہیں ہوسکے۔

’’ہاں یا ر صرف پانچ‘‘، تم نہ جانے کس جوش میں تھے میرے لہجے کا غم تم تک پہنچ ہی نہیں پایا۔ تم نے اسٹول سے پائوں سمیٹتے ہوئے اسی پرجوش لہجے میں کہا۔ ’’یہی تو میں بھی کہہ رہا تھا کہ کچھ ہوا ہی نہیں۔ ہمارا اندازہ تو کہیں زیادہ کاتھا۔ ہزاروں کی شرطیں لگی ہوئی تھیں۔ ہارنے والوں کا بڑا نقصان ہوگیا۔ دراصل ہماری جو بڑی تیاری تھی وہ کل رات پہنچ ہی نہیں پائی تھی۔ اصل کھیل تو آج رات ہوگا۔‘‘

چائے کی پیالی میرے ہاتھ میں کپکپارہی تھی۔ مارے دکھ کے میرے کانوں نے ، میری آنکھوں نے، میرے ہاتھوں نے میرا ساتھ چھوڑ دیا تھا۔ پانچ گھر بے چراغ ہوگئے، پانچ دلہنوں کا سہاگ اجڑگیا، پانچ مائوں کی گود سونی ہوگئی، نہ جانے کتنے یتیم ہوگئے اور تم کہہ رہے ہو صرف پانچ!۔

’’کیسی تیاری؟‘‘ میں نے بمشکل پوچھا۔

’’دراصل صوبے کے باہر سے کچھ لوگ اور کچھ اسلحہ آنے والا تھا وہ لیٹ ہوگئے۔ لیکن آج کی رات ہماری ہے۔‘‘

’’تم جانتے ہو تو پولیس کو اطلاع کیوں نہیں کردیتے ‘‘ میں نے حیرت سے پوچھا۔

’’پولیس تو اپنی ہے‘‘ تم نے ہلکا سا قہقہہ لگایا پھر میرے چہرے پر نظر پڑی تو کچھ سٹپٹا سے گئے، اور بات بنا کر بولے۔ ’’جب حالات قابو سے باہر ہوجائیں تو پولیس بے بس ہوجاتی ہے۔‘‘

’’لیکن ابھی حالات قابو میں ہیں۔ جو ہونے والا ہے اسے روکا جاسکتا ہے ہے‘‘ میں نے آخری امید کی ڈور تھامتے ہوئے پوچھا۔

’’کچھ دیش دروہیوں کو سبق سکھانا بھی تو ضروری ہوتا ہے۔‘‘ تم نے لاپروائی سے کہا۔

’’لیکن نقصان تو دونوں طرف کا ہوتا ہے۔ ‘‘ میرے لہجے میں کڑواہٹ پھر گئی۔

’’بہت کم فیصد۔ مقصد حاصل کرنے کے لیے قربانی تو دینی ہی پڑتی ہے۔‘‘

میری نظریں تمہارے چہرے پرہیں، لیکن میں دیکھ رہی ہوں آج سے بیس سال پہلے کا منظر۔ ہم آج بھی پڑوسی ہیں، ہم تب بھی پڑوسی تھے۔ تمہارا دھرم کچھ اور تھا میرا مذہب کچھ اور۔ لیکن ہم اس تفریق سے بے خبر تھے۔ نہ تمہارے گھر والوں نے کبھی مجھے ملیچھ سمجھا اور نہ میرے گھروالوں نے تمہیں نجس جانا، ہمارا زیادہ تروقت ساتھ گزرتا۔ ہم ایک اسکول میں پڑھتے، ایک بس میں اسکول جاتے، خاندانی تقریبات اور تہواروں پر ہم سب شانہ بشانہ ہوتے۔ میں تمہاری رسوئی میں اور تم میرے باورچی خانے میں بے روک ٹوک جاتے، کھاتے پیتے،کھیلتے اور ایک طرح سے سوچتے ہمارا بچپن گذرا۔ مجھے آج بھی بیس سال پہلے کی ایک صبح کا منظر یاد ہے جب کڑکڑاتی سردی کی ایک کہرے بھری صبح ہم دونوں اپنے اپنے گھروں سے چھپ کر نکل آئے تھے اور پائیں باغ میں شبنم کے موتی اکٹھا کرنے کی کوشش کررہے تھے۔ یہ ہمارا پسندیدہ کھیل تھا۔ ہم شبنم کے موتی کو بڑی احتیاط سے اپنی انگلیوں پر سمیٹنے کی کوشش کرتے، لیکن وہ ٹوٹ جاتا اور ہماری انگلیاں پانی سے بھیگ کر سفید پڑجاتیں۔ یکایک تمہاری نظر سبزے پر پڑی جہاں ایک مردہ چڑیا پڑی تھی، جو شاید رات کو شدید سردی کی تاب نہ لاکر دم توڑ گئی تھی۔ کچھ آگے ایک اور مردہ چڑیا ملی پھر تو ہم نے پورے باغیچے کا چکر لگایااور پوری پانچ مردہ چڑیاں ہمیں ملیں۔ تم نے بڑے دکھ کے ساتھ ان پانچوں مردہ چڑیوں کو اکٹھا کیا، ایک گڑھا کھودا اور ان تمام چڑیوں کو دفن کردیا۔ پھر مٹی سے ایک چھوٹی سی قبر بنادی۔ بہت دیر تک تم آنکھوں میں آنسو لئے وہاں بیٹھے رہے اور میں بور ہوتی رہی، کیونکہ سورج نکل آیاتھا اور شبنم کے موتی غائب ہوتے جارہے تھے۔ پھر تو ہم روز چڑیوں کی اس قبر پر کچھ پھول توڑ کر رکھ دیاکرتے تھے۔ میں بھول جاتی لیکن تم اپنا معمول کبھی نہیں بھولتے۔ تم گھنٹوں چڑیوں کے لیے ایک ایسا عظیم گھر بنانے کے منصوبے بنایا کرتے جہاں ساری چڑیاں محفوظ رہیں گی، جہاں نہ سردی سے کوئی چڑیاں مرے گی اور نہ کوئی شکاری انھیں شکار کرسکے گا۔ تمہاری یہی نرم دلی تھی، جس نے رفتہ رفتہ مجھے موہ لیا تھااور عمر کے ساتھ یہ موہ عجیب سی بے نام چاہت میں بدل گیا تھا۔ لیکن آج… آج تم نے اس چاہت کا بھی خون کردیا۔ کیا پانچ مرنے والے انسان تمہاری نظر میں ان پانچ مردہ چڑیوں سے بھی زیادہ حقیر تھے ’’جن کا تم نے ہفتوں ماتم منایا تھا یہ کیسا زہر ہے نفرت کا جو تمہاری نسوں میں دوڑنے لگا ہے؟؟؟ کس نے یہ زہر تمہارے اندر بھردیا ہے کہ تمہارا دل پتھر ہوگیا اور تم مزید خون بہانے کے منصوبے بنارہے ہو!!!

تم کب تک بیٹھے اور کب چلے گئے، مجھے کچھ پتہ نہیں۔ میں تب چونکی جب میرے فون نے تمہارے پیغام کا اشارہ دیا۔ اسکرین پر تمہارا میسیج میرا منہ چڑارہا تھا۔

’’پولیس تو انفارم کرنے کی غلطی کی تو نتیجے کی خود ذمہ دار ہوگی، تمہیں اور تمہارے گھر والوں کو کوئی نقصان نہیں پہنچے گا، یہ میرا وعدہ ہے۔‘‘ اور اب میں نے اپنے کمرے کو اندر سے مقفل کرکے اسے بیرونی اثرات سے محفوظ کرلیا ہے۔ آج کا یہ فساد صرف شہر کے ایک حصے میں ہی نہیں ہوا تھا بلکہ میرے دل میں بھی ہوا تھا۔ صرف مرنے والوں کے گھر ہی نہیں اجڑے تھے، بلکہ میرا دل بھی اجڑ گیا تھا۔ کب شام ہوئی کب رات آئی اور کب صبح ہوگئی، مجھے کچھ خبرنہیں۔ شہر میں کیا ہوا؟ میں نے جاننے کی کوشش نہیں کی۔ میں کب سوئی مجھے پتہ نہیں، لیکن صبح جب میری آنکھ کھلی تو میں نے دیکھا کہ میرے کمرے کی کھڑکی کے ٹوٹے ہوئے رنگین شیشے کی خلا سے ہوکر دھوپ کا ایک سرخ دھبہ میرے سینے پرپڑرہا تھا۔ میں اچھل کر ہٹی تو وہ دھبّہ میرے بیڈ پر جم گیا۔ یہ دھوپ توپہلے بھی یونہی آتی تھی، لیکن اس طرح ڈنک توپہلے کبھی نہیں مارا تھا! کیا یہ خون ، یہ زہر سورج کی روشنی میں بھی شامل ہوگیا ہے؟ کیا یہ زندگی دینے والی روشنی دلوں کوبھی زہریلا بنارہی ہے؟ اگر ایسا ہے تو مجھے نہیں چاہئے، یہ روشنی، نہیں چاہئے یہ زہریلی دھوپ!!

میں نے گھبرا کر اپنی فائل پھاڑ ڈالی اور اسے ٹوٹے ہوئے شیشے کی خلاء میں پیوست کردیا۔ یہ زہریلی دھوپ میرے کمرے اور میرے دل کی فضا سے ہم آہنگ نہیں ہے۔

Published inخواتین افسانہ نگارعالمی افسانہ فورمنعیمہ جعفری پاشا