Skip to content

زگ زیگ zig zag

عالمی افسانہ میلہ 2019

افسانہ نمبر 127

زگ زیگ zig zag

قرب عباس ، لاہور ، پاکستان

 

یونیورسٹی میں پہلے دن، پہلی نظر میں ہی پہچان گیا تھا کہ یہ لڑکی کسی چھوٹے شہر قصبے کی ہے۔

کسی کی جانب نہ دیکھتی تھی، نظر اٹھاتی تو بالکل خود اعتمادی سے خالی ۔۔۔ شاید وہ ڈھیلے کپڑوں میں بھی اپنے جسم کے اعضاء کو واضح ہوتا محسوس کر رہی تھی جو بار بار قمیص کا دامن درست کرتی تھی اور کبھی ڈوپٹے کو سر اور کاندھے سے کھینچتی تھی۔ کچھ ہی روز میں میرے ذہن نے اس کی اس ٹوٹی پھوٹی تصویر میں ایک گائے کا مکمل عکس بنا لیا تھا، میں اس کو گائے تصور کرتا تھا جو بیچاری کھیتوں سے نکل کر پہلی مرتبہ کسی ہائی وے کی تیز رفتار چیختی چنگاڑتی ٹریفک میں آکر کھڑی ہوگئی ہو اور گھبرا کر اِدھر اُدھر دیکھتی ہو۔ مجھے اس میں کوئی دلچسپی نہ تھی، یہ مجھے اس وقت لگتا تھا مگر اب سوچتا ہوں کہ اگر مجھے اس میں دلچسپی نہ تھی تو ایسا کیا تھا جو اس کے یونیورسٹی داخل ہونے کے بعد مجھے متوجہ کرتا تھا؟

میری اس سے پہلی مرتبہ بات AMT-Booth پر ہوئی تھی۔

میں پیسے نکلوانے کے لیے باہر انتظار کر رہا تھا، جب متوقع وقت سے زیادہ دیر ہوئی تو میں نے اے ٹی ایم بوتھ کا دروازہ کھٹکا کر کہا؛

“ہیلو!”

میں نہیں جانتا تھا کہ اندر وہ ہے۔ کوئی جواب نہ ملا تو میں رُک کر پھر سے انتظار کرنے لگا۔ شیشے کے دروازے سے میں دیکھ سکتا تھا کہ اندر ہلچل سی ہے، پہلے تو مجھے شک ہوا کہ شاید کوئی مشین کھول کر پیسے نکال رہا ہے، چونکہ پیروں میں زنانہ چپل تھے اس لیے سوچا کہ ہمارے ہاں خواتین کو عام وقت سے کچھ زیادہ وقت درکار ہوتا ہے خاص طور پر جب انہیں ٹیکنالوجی کا سامنا ہو، اس میں ان کا قطعی قصور نہیں ہے۔

انتظار سے تنگ آچکا تھا، قریب اے ٹی ایم کی سہولت ہوتی تو چلا بھی جاتا۔

اندر سے وہ گائے گھبرائی شکل لے کر باہر نکلی اور اسی حواس باختہ حالت میں مجھ سے مخاطب ہوئی؛

“وہ۔۔۔ وہ۔۔۔ “

میں چونک گیا، اندر کیا تھا؟

“کیا ہوا؟”

“وہ۔۔۔ میرا کارڈ مشین نے کھینچ لیا!”

اتنا کہتے ہی وہ رونے لگی۔

مجھے اس کی بات سن کر ہنسی آئی، مشکل تھا کہ اس کو اس طرح دیکھ کر اپنی ہنسی روک پاتا مگر میں نے لہجے کو مناسب کرتے ہوئے کہا؛

“تو کوئی بات نہیں، کارڈ محفوظ ہی رہے گا، آپ صبح آکر بنک سے لے جائیے گا۔ “

وہ یہ سن کر کچھ اور پریشان ہوئی؛

“صبح؟”

“جی، کیوں کہ ابھی تو بنک بند ہوچکے ہیں وہ لوگ کل آئیں گے تو آپ اپنا کارڈ واپس لے لیجیے گا۔ فلحال Helpline پر کال کر کے انہیں Inform کر دیں۔”

“کل تو ہفتہ ہے۔”

یہ کہتے ہی اس کے آنسو مزید تیزی سے گرنے لگے۔

“تو اس میں اتنا گھبرانے کی کیا بات ہے؟ سموار کو آکر لے لیجیے گا۔”

وہ اپنی آواز کو متوازن کرنے کی کوشش کرتے ہوئے بولی؛

“مگر۔۔۔ مگر میں نے تو ہا سٹل کے پیسے دینے ہیں وارڈن نے کہا تھا کہ اگر آج نہ دیے تو پھر جرمانہ ہوگا اور پھر اگر انہوں نے مجھے نکال دیا تو؟ یہاں تو کوئی رہتا بھی نہیں ہے جس کے پاس جاؤں گی۔”

وہ گائے نہیں تھی، اس لمحے مجھے محسوس ہوا کہ وہ گائے نہیں ہے بلکہ ایک بہت ہی کمزور سی چڑیا ہے جو اس وقت ایک ڈبے میں بند ہے اور بُری طرح سے پھڑپھڑا رہی ہے، اس کی سمجھ میں نہیں آرہا کہ اب کیا کرے؟

“دیکھیے ایسے کوئی بھی ہاسٹل سے نہیں نکالتا۔”

“آپ کو اس کا پتہ نہیں ہے۔”

اس کی پریشانی کو دیکھتے ہوئے میں نے اس سے کہا تھا کہ میرے پاس مہینے بھر کا خرچ ہے سو فلحال میں پیسے نکلوا کر اس کو ادھار دے دیتا ہوں ، پھر سموار کو مجھے لازمی واپس کردے اور پھر اس کے بعد اس نے مجھے پیسے واپس دیے، شکریہ کہا۔

سلسلہ چل پڑا تھا وہ کبھی گائے تو کبھی چڑیا جو بھی ہو لیکن میرے سامنے آکر بالکل ایک نارمل انسان بن جاتی تھی، اپنے گھر کی ساری باتیں بتا چکی تھی، اس کا باپ چھوٹی سی پرائیویٹ فرم میں کام کرتا ہے، وہ اسی کے خواب کو پورا کرنے کے لیے پڑھ رہی تھی ۔ کوئی بھائی نہیں ، دو اس سے چھوٹی بہنیں تھیں ۔ اکثر کہا کرتی تھی کہ جس وقت اس یونیورسٹی سے باہر نکلے گی تو جاب مل جائے گی اور پھر وہ اپنے باپ کو کہے گی کہ نوکری چھوڑ دے، اپنی ماں کو باقاعدگی سے ڈاکٹر کے پاس چیک کروایا کرے گی، بہنوں کو ان کے پسند کے کپڑے لے کر دے گی، پڑھائے گی، ان کو اپنے سے بھی بڑی آفیسر بنائے گی۔ اس کے پاس ایک گاڑی ہوگی اور خوبصورت سا مکان لے گی، رنگ رنگ کے کپڑے خریدا کرے گی، پھر!

جب میں کہتا “پھر؟” تو وہ کچھ شرما جاتی اور سر جھکا کر، مسکراتے ہوئے کہتی؛

“کوئی تم جیسا لڑکا ڈھونڈھ کر شادی کرلوں گی۔”

میں ہنس دیتااورکہتا کہ؛

“مجھ جیسا لڑکا؟ شادی کرے گا؟ اور وہ بھی تم جیسی گنوار سے؟”

وہ نوٹس فائل میرے سر پر مارتی اور ہنس دیتی۔

پاکیزہ محبت پر یقین رکھنے والی، عمیرہ احمد کے ناول پڑھنے والی، ایک شریف گھرانے کی لڑکی اس سے زیادہ بھلا اور کیا سوچ سکتی ہے؟

یہ خیال میرے ذہن میں اس وقت آیا تھا جب بہت سارا وقت اس کے ساتھ گزارنے کے بعد بور ہوچکا تھا اور پھر میں نے سوچا تھا کہ یہ دوست ہی ٹھیک ہے، گرل فرینڈ کچھ اور طرح کی ہونی چاہیے، کیسی ہونی چاہیے؟

ایسی کہ جو بولڈ ہو، گندے جوک بھیجے اور میری ہر ذو معنی بات کو جھٹ سے سمجھ لے، جینز پہنتی ہو، سلکی بال ہوں اور کھاتے پیتے گھر کی ہو۔

نوشین میں یہ خصوصیات موجود تھیں۔

بہت جتن کرنے کے بعد آخر اس کے ساتھ دوستی ہوگئی اور پھر ہم دونوں اکٹھے گھومنے لگے، کنول مجھے کام کے بہانے میسج کرتی تو دوست ہونے کے ناطے اس کے بھی کام کر دیا کرتا تھا۔ شاید تب میں نے اتنی سنجیدگی سے غور نہ کیا تھا کہ وہ مجھے اور نوشین کو ایک ساتھ دیکھ کر بُجھ سی گئی تھی۔اداس رہنے لگی تھی۔

ایک دن اس نے مجھے میسج کیا کہ یونیورسٹی کے گیٹ پر آکر ایک مرتبہ اُس کی بات سُن لوں، جب وہاں گیا تو کچھ دیر کی خاموشی کے بعد اس نے ٹوٹے پھوٹے الفاظ میں کہا؛

“وہ۔۔۔ تم سے یہ کہنا تھا۔۔۔ اس کا کوئی بُرا مطلب نہ لینا اور یہ بھی نہ سمجھنا کہ میں کوئی غلط لڑکی ہوں۔ بس اس لیے بتا رہی ہوں کہ تمہیں پتا ہو۔۔۔ اصل میں ۔۔۔ تم اچھے لگتے ہو۔”

“اچھا؟ تھینک یو! یہ بتانے کے لیے یہاں بلایا ہے؟ اور میں اس کا کیا غلط مطلب لوں گا؟”

اس نے کچھ کہنا چاہا، شاید بہت کچھ کہنا چاہا مگر پھر ہونٹوں کو بھینچ کر دو الفاظ بول کر چلی گئی؛

“کچھ۔۔۔ نئیں!”

وہ جس خاموشی کیساتھ اور سب سے الگ الگ یونیورسٹی میں داخل ہوئی تھی، فائنل ہونے کے بعد اسی خاموشی سے چلی بھی گئی۔

ڈگری لینے کے بعد تین چار سال کی لگاتار کوشش سے آخر ایک ٹیلی کمیونیکیشن کمپنی میں پھنس ہی گیا، تین سال کا تجربہ اپنے سی وی پر لے کر جب میں اسسٹنٹ مینیجر کی سیٹ کے لیے انٹریو دینے کے لیے گیا تو دروازہ کھولتے ہی سامنے بیٹھے تین لوگوں میں سے ایک وہ بھی تھی۔۔۔

میں کچھ بھی کہنا بھول چکا تھا مگر جیسے ہی اس نے مجھے دیکھا تو اٹھ کر کھڑی ہوگئی؛

Hello Fahad, what a pleasant surprise…!”

وہ نوکری مجھے مل گئی اور میں اس گائے کبھی چڑیا کا اسسٹنٹ تھا، وہ بہت پروفیشنل انداز میں مجھے ڈیل کرتی تھی اور کچھ زیادہ ہی’ بوسی’ انداز میں حکم چلاتی تھی، شروع میں ‘میں نے اس کی بات کو مذاق میں اڑانے کی کوشش کی مگر میری طبعیت اس نے بالکل صاف کردی تھی جب پہلا وارنگ لیٹر دیا تھا۔ اب وہ میرے لیے محض میری بوس تھی اور میں اس کی ہر ایک بات پر جی جی کہنے والا اسسٹنٹ۔

ایک سال کے بعد نجانے اس کو کیا سوجھی کے اس نے مجھے میسج کیا؛

“لنچ میں کیا لائے ہو؟”

“بھنڈی روٹی!”

“فوڈ سٹریٹ چلو گے؟”

“جو حکم!”

“باہر آؤ، گاڑی میں ہوں۔”

ہم ایک ریسٹوراں میں تھے اور میں اپنی بوس کے سامنے بیٹھا خاموشی سے کھانے کا انتظار کر رہا تھا۔

“شادی کب ہوئی تمہاری؟”

“جی، تین سال پہلے۔”

اس نے قہقہہ لگایا، مجھے ایسا محسوس ہوا کہ جیسے میں نے اسے کوئی لطیفہ سنایا ہو؛

“پاگل، وہ آفس ہے۔۔۔ اس وقت تم اور میں پرانے کلاس فیلوز ہیں۔ کیا جی جی لگے ہوئے ہو؟”

اس کی شخصیت مجھ پر اتنی حاوی ہوچکی تھی کہ اب میں شاید اس طرح سے بات نہ کرپاتا مگر میں نے خود کو ریلیکس دکھانے کی ایکٹنگ کی؛

“ہاں جانتا ہوں! تین سال ہوئے ہیں شادی کو ! تم۔۔۔ میرا مطلب آپ، بتائیں؟”

“تم ہی ٹھیک ہے۔۔۔ ‘آپ’ آفس کے لیے بہتر ہے! خیر میری شادی۔۔۔ لمبی داستان ہے، سنو گے؟”

“ہاں ضرور۔”

اس نے ایک آہ بھری اس کے بعد چھت پر لٹکتے فانوس کو آنکھیں سُکیڑ کر دیکھنے لگی جیسے کچھ یاد کرنے کی کوشش کررہی ہو، یا اس کوشش میں ہو کہ بات کہاں سے شروع کرنی ہے؛

“یونیورسٹی کے فوراً بعد ہی میری شادی ہوگئی تھی۔۔۔ ایکچوئلی! فائنل ائیر میں ہی گھر میں ہنگامہ چل رہا تھا۔ میرے ایک کزن نے اپنی بیوی کو طلاق دے دی تھی، وہ مجھ سے دس سال بڑا تھا مگر اچھے گھر سے تھا۔ خاندان نے پریشر ڈالا تو میرے ماں باپ بھی مان گئے، کیونکہ انہیں اس وقت یہی لگا تھا کہ بہت کمانے والا شوہر ہی سب کچھ ہوتا ہے۔۔۔میں بھی ایک شریف لڑکی تھی، ماں باپ کی پسند کو اپنی پسند کہنے والی، ان کی خواہش کو اپنی خواہش سمجھنے والی۔۔۔”

میں نے بات ٹوکی؛

“عمیرہ احمد کو پڑھنے والی”

وہ میری طرف دیکھ کر مسکرادی؛

“ہاں عمیرہ احمد کو پڑھنے والی! خیر شادی کے بعد میرے خاوند کو مجھ پر شک تھا کہ میرے ماں باپ کا اتنی آسانی سے مان جانا ممکن نہیں تھا، کوئی کھوٹ تو مجھ میں ضرور ہے جو ایسے آسانی سے جھولی میں ڈال دی گئی ہوں۔ بہت عرصہ برداشت کیا اس کے بعد پھر ذرا سی زبان چلانے پر اس نے مجھے گھر بھیج دیا۔

پھر نجانے کتنی بار میں گھر آئی اور پھر صلح صفائی کے بعد واپس چلی جاتی تھی لیکن مجھے اسی دوران یہ احساس ہوا کہ میری زندگی کم از کم ایسے گزارنے کے لیے تو نہیں تھی۔۔۔ آخر میں نے جانے سے انکار کر دیا اور پھر پکی پکی گھر واپس آگئی۔”

کھانا ٹیبل پر لگنا شروع ہوچکا تھا۔ وہ خاموشی سے بیٹھی دیکھتی رہی، ویٹر کے جاتے ہی میں بولا؛

“اچھا تو پھر؟”

“پھر کیا میں نے جاب کر لی۔ کہانی ختم!”

اس نے ایک دم سے مذاق میں بات اُڑا دی اور میں نے بھی پھر اس کو آگے کچھ کہنے کے لیے مجبور نہیں کیا۔

اس روز ہم لنچ کر کے واپس آئے تو وہ دوبارہ سے بوس تھی اور میں اس کا اسسٹنٹ، ساتھ والے لڑکے نے جب ہمیں واپس آتے دیکھا تو میرے بازو کو اپنی کہنی مارتے ہوئے کہنے لگا؛

“کہاں سے آ رہے ہو؟”

“کچھ نہیں لنچ کے لیے گئے تھے۔”

“بچ کر رہنا! کہیں تمہیں بھی نہ کھا جائے میڈم۔”

“کیوں؟ کیا ہوا؟”

اس کے بعد کہانیاں کھلنے لگیں، مجھے آفس کے لوگوں سے بہت کچھ پتا چلا۔

اس نے اپنے مینیجر کے ساتھ افئیر چلایا تھا، پھر بعد میں اس کی ایسی صفائی کی کہ خود اس کی کرسی سنبھال لی۔ بہت زیادہ شاطر عورت ہے۔ کھڑے کھڑے بندے کو خرید سکتی ہے۔ ایسے لیتی ہے کہ بندہ اٹھنے جوگا نہیں رہتا۔ کوئی جال پھینکنا تو اس سے سیکھے۔۔۔

میں حیران تھا کیونکہ میں سمجھتا تھا کہ جو لڑکی چار سال یونیورسٹی میں گزار کر گئی تھی اور کبھی بدل نہ پائی تھی اس میں سات آٹھ سال کے اندر اتنی بڑی تبدیلی کیسے آسکتی ہے؟ ہوسکتا ہے کہ طلاق کے بعد اس نے دنیا کو سمجھنا شروع کر دیا تھا۔

میرے بیٹے کی یہ پہلی سالگرہ تھی سو میں نے اور نوشین نے سوچا کہ اچھی پارٹی رکھی جائے، چاپلوسی کے طور پر اور چھٹی لینے کے لیے اپنی منیجر سے بھی کہہ دیا کہ آپ بھی ضرور آئیے گا، جس طرح اس نے لاپروائی سے جواب دیا تھا مجھے لگتا تھا کہ وہ نہیں آئی گی مگر وہ آ گئی۔نوشین سے بہت اچھی طرح ملی اور پارٹی کے دوران بھی بہت اپنائیت کا اظہار کیا، سب مہمان جا چکے تھے اور وہ نوشین کے ساتھ گپ شپ میں مصروف تھی۔ مجھے قہقہہ سنائی دیا؛

“نوشی ڈارلنگ۔۔۔ یار یہ مردوں کی فطرت بہت خراب ہے۔ پہلے چاہتے ہیں کہ ہمیں کوئی ماڈرن لڑکی ملے اور پھر اس کے لیے بہت سارے پاپڑ بھی بیلتے ہیں لیکن جب مل جاتی ہے تو اس کو گھسی پھٹی مائی ماسی بنا کر رکھ دیتے ہیں۔ اور پھر کیا کہتے ہیں بھلا۔۔۔؟

‘اب تم بالکل ویسی نہیں رہی’

ارے بدھو تم نے اسے ویسی رہنے نہیں دیا۔”

مجھے اس کی بات میں ایک جبھن سی محسوس ہوئی، فوراً ان کے سر پر پہنچ گیا؛

“جی جی کریں مردوں کی برائیاں اور کوئی کام ہے بھی عورتوں کو؟”

“تمہیں پتا ہے نوشی؟ یہ تم پر کتنا مرتا تھا؟ بائی گاڈ۔۔۔ میں نے اس کو تمہارے لیے روتے بھی دیکھا ہے۔”

نوشی نے بھی چہرے پر شکایت سجا کر کہا؛

“اب ویسا نہیں ہے۔۔۔ اب تو میں روتی ہوں دن میں چار بار، سب مرد ایک جیسے ہی ہوتے ہیں۔۔۔”

کنول کی ہنسی پھیکی پڑی؛

“ہاں! لیکن تمہیں پتا ہے ان کے اندر ایک بہت بڑا ہنر چھپا ہوتا ہے۔۔۔ یہی کہ عورت کو بدل دیتے ہیں۔۔۔ گنوار کو بولڈ بنا سکتے ہیں اور بولڈ کو گنوار!”

وہ گھما پھرا کر بار بار یہ ظاہر کیوں کرنا چاہ رہی تھی کہ تم نے جس لڑکی کا انتخاب کیا تھا وہ تو ویسی رہی نہیں، اب؟ اب بتاؤ تمہارے انتخاب کا کیا ہوا؟

مجھے اس کی طنز بھری باتیں نہیں سننا تھیں لیکن کیا کرتا کہ کچھ کہہ بھی نہیں سکتا تھا۔

نوشین نے سوال کیا؛

“چھوڑو یار، بتاؤ پھر میاں کو کیوں نہیں ساتھ لائی تم؟”

“میاں؟ کون سے میاں؟ میں نے پانچ سال پہلے ہی ڈائیورس لے لی تھی۔”

نوشین کی آنکھیں میری طرف گئیں، پھر اس کو دیکھتے ہوئے بولی؛

“سوری۔ مجھے نہیں پتا تھا۔”

“کیوں؟ فہد نے بتایا نہیں؟ کچھ روز پہلے میں اور یہ لنچ کرنے کے لیے گئے تھے تو میں نے اسے بتایا تو تھا۔”

کنول نے بہت تعجب سے ہم دونوں کو دیکھتے ہوئے بتایا۔ میرا بھانڈا پھوٹ چکا تھا۔

نوشین نے گہری نظر سے مجھے دیکھا۔

گھر جب بھرا ہوا لنچ باکس واپس لایا تھا تو نہ کھانے کی یہ وجہ بتائی تھی کہ دل نہیں چاہا۔

“اب بعد میں یہ سب بھی درست کرنا پڑے گا “میں نے جواز سوچنا شروع کردیے تھے۔

کنول نے پھر دوبارہ بات کی؛

“وBy the way، میں آج کل ایک Live-in Relationship میں ہوں۔

! You know… he’s an amazing guy

نوشین نے آنکھیں بڑی کر کے کنول کو دیکھا؛

Live-in Relationship? In Pakistan?”

“کیوں؟ پاکستان میں لوگ محبت نہیں کرتے کیا؟ تم لوگوں کی بھی تو Love Marriage ہے۔”

“وہ تو ٹھیک ہے، مگر یہاں پر بغیر نکاح کے رہنا تھوڑا۔۔۔ عجیب نہیں؟”

“عجیب تو سب کچھ ہے۔ میرے لیے تو یہ بھی عجیب ہے کہ جب دو لوگ ایک دوسرے کو ایک نظر دیکھ کر پیار کے ترانے گانے لگتے ہیں اور شادی کی کوششوں میں لگ جاتے ہیں۔۔۔ پھر کیا ہوتا ہے؟ ایک دوسرے کو ہیرو ہیروئین بن کر ملنے والوں کی اصلیت دو تین ماہ میں ہی کھل جاتی ہے۔۔۔ کتنی دیر ایکٹنگ کریں گے؟ اکتا کر وہی بننے پر مجبور ہو جاتے ہیں جو دراصل ہوتے ہیں، تو پھر دنیا بھر میں ڈھول پیٹتے ہیں کہ محبت کی شادی میں محبت بس دو چار مہینے کی ہی بات ہے اس کے بعد سب ختم۔۔۔۔

اور یہ دنیا۔۔۔ I am Fucked up now۔۔۔ زندگی ہماری ہے، سانسیں ہماری ہیں، ان سانسوں کے درمیان پنپنے والی ایک ایک خواہش ہماری ہے۔۔۔ مگر مرضی کسی دوسرے کی ہو؟ ایسا نہیں ہوسکتا۔

میں پہلے بہت ڈرتی تھی کہ اگر مجھے طلاق ہوگئی تو میرا کیا بنے گا؟ اسی ڈر سے میں نے بہت کمپرومائز کیا، ہر بات پر کمپرومائز کیا، ماں باپ کی عزت کے لیے ، ان کی شرافت کے لیے، سوسائٹی میں اپنا وقار قائم رکھنے کے لیے مگر اس کا کچھ حاصل نہیں۔۔۔ میں جان گئی تھی کہ اب میرے پاس دو ہی Choices ہیں، ایک کہ میں اپنی لگام دوسروں کے ہاتھوں میں دے دوں اور وہ جہاں چاہیں مجھے ہانک دیں، دوسری یہ کہ اپنی زندگی اپنے حساب سے ڈرائیو کروں۔۔۔ مشکل تھا، شروع میں بہت مشکل تھا کہ اپنی زندگی کو آپ چلایا جائے۔۔۔ مگر یو نو وٹ۔۔۔؟

جب عورت عورت پن سے باہر نکل کر سماج کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بات کرتی ہے تو پھر سب کی نظریں خود ہی جھک جاتی ہیں۔”

میں نے بات کو ختم کرنا چاہا؛

“ہوں! ٹھیک کہہ رہی ہو، ہماری سوسائٹی نے بہت قسم کے فضول بوجھ اٹھا رکھے ہیں ایک دوسرے پر نظر رکھنے کے۔۔۔ کوئی جیسے بھی رہنا چاہتا ہے رہنے دیا جائے۔۔۔ شادی وہ کہ نہ ہو، طلاق یافتہ ہو کہ نہ ہو!”

وہ پھر سے بولنے لگی؛

“میں تو سمجھتی ہوں کہ طلاق کوئی لعنت نہیں ہے بلکہ یہ تو ایک ایسا ٹول ہے جس سے آپ دوسروں کو پرکھ سکتے ہیں۔۔۔ ایک ایسا انسان جو میرے آگے پیچھے منڈلاتا تھا جب میری طلاق کا پتا چلا تو بھاگ گیا۔۔۔ جس کو بھی مجھے قبول کرنا ہے میرے اچھے اور برے ماضی کے ساتھ قبول کرے گا، اگر اس کے پاس میرے لیے Respect نہیں ہے تو مجھے اس کی ضرورت نہیں۔۔۔۔ بالکل بھی ضرورت نہیں!”

نوشین بھی بولی؛

“ہاں، ہم لوگوں کی بات کرتے ہیں، اپنے ہی رشتوں کو اکثر سمجھ نہیں پاتے۔”

Exactly

کنول نے بھنوئیں اٹھا کر نوشین کی تائید کی اور بولنا جاری رکھا؛

“ہم لوگوں نے ابھی تک اپنے پارٹنرز کے ساتھ نیچرل انداز میں رہنا ہی نہیں سیکھا، چھوٹے چھوٹے بے وجہ جھوٹ، دھوکے، دکھاوے۔۔۔ ایک دوسرے سے لجاہٹ، جھجھک، بیگانگی۔۔۔ ابھی تو جسموں کو سمجھنے میں بہت پیچھے ہیں تو ایک دوسرے کے ذہن کیا سمجھیں گے؟ روحوں میں کیا اتریں گے؟ “

میں نے اور نوشین نے ایک دوسرے کو دیکھ کر نظریں جھکا لیں۔

کنول بولتی چلی جا رہی تھی؛

“ریلیشن شپ میں سب سے پہلی بات ہے انڈرسٹینڈنگ، پھر ایک دوسرے کی رسپیکٹ۔ اس کے بعد کچھ بات آگے بڑھتی ہے۔”

ہم تینوں کچھ دیر خاموش رہے اور پھر وہ اٹھ کھڑی ہوئی؛

“اچھا یار، اب چلتی ہوں۔ بہت زبردست پارٹی تھی، بہت انجوائے کیا۔۔۔ اور ہاں تم لوگوں کو کبھی کبھی وزٹ کیا کروں گی۔”

سلام دعا کے بعد وہ اپنی گاڑی پر سوار ہو کر اُڑ گئی اور ہم دونوں اس روز والے لنچ پر میرے جھوٹ کے لیے دو تین گھنٹے جھگڑتے رہے۔

اس کے بعد کچھ مزید سال گزرے، کنول ہمارے گھر کبھی کبھار آجاتی اور اپنی زندگی ٹکڑوں ٹکڑوں میں سناتی رہی، طلاق، دو ریلیشن شپ، تیسرا پھر دو سال سے ریلیشن شپ چل رہا تھا۔۔۔ میں نے نوشین سے کہا تھا؛

“دیکھ لینا اس کو پوری زندگی کوئی بھی ایسا نہیں ملے گا جس سے یہ شادی کر سکے۔۔۔ پوری عمر ایسے ہی خوار ہوتی رہے گی۔”

نوشین نے بات تو سچ کہی تھی مگر مجھے کچھ گہری جا کر لگی؛

“اچھا ہے کہ پوری عمر تلاش میں رہے، کبھی تو ملے گا۔۔۔ کوئی تو ملے گا! جو اس کو جو ہے جیسی ہے سمجھ کر قبول کرے، وہ بھی اس کو تمام اچھائیوں برائیوں کے ساتھ ایسے ہی قبول کرے۔۔۔ کوئی جھوٹ نہ ہو، کوئی دھوکہ نہ ہو۔۔۔ میرا خیال ہے کہ اگر زندگی میں ایک سال بھی جینے کے لیے ایسا مل جائے تو غم نہیں رہتا، کوئی رگریٹ نہیں رہتا۔۔۔۔ اور یہی اصل زندگی ہے۔”

“اس نے کہاں سے سیکھا یہ سب؟ کہاں سے پڑھا؟”

نوشین نے ٹیبل لیمپ بجھاتے ہوئے کہا؛

“اس نے خود کو پڑھا، زمانوں سے سیکھا۔”

میں نے بھی خاموشی سے کروٹ بدلی ، نوشین کی کمر کی طرف اپنی کمر کرکے کچھ دیر کنول کو سوچتا رہا جو کبھی ایک گائے تھی اور میرے قریب لیٹی میری بیوی اُس وقت کی ایک بولڈ لڑکی۔۔۔ دنوں میں کتنا تضاد تھا، اس وقت بھی۔۔ ۔ اور آج بھی!

———-

میرے اور نوشین کے آدھے سے زیادہ بال سفید ہوچکے ہیں۔

ہماری آنکھوں کے گرد جھریاں ہیں۔ ہم نے عمر بھر کی محنت کے بعد ایک ایسا فلیٹ لیا ہے جس میں اب سیڑھیاں نہ چڑھنی پڑیں۔ اپنی بیٹی کی تعلیم اور شادی کے لیے اچھی سیونگ کر لی ہے، ایک دو لڑکوں کو بھی پسند کررکھا ہے مگر بیٹی اپنے بوائے فرینڈ کے ساتھ چوری چھپے باتیں کرتی ہے، پڑھائی پر کم دھیان دیتی ہے ، ہمیں نہیں پتہ کہ وہ لڑکا کون ہے۔۔۔ مجھے اور نوشین کو اسی بات کی پریشانی ہے۔ بالکل وہی پریشانی جو کبھی ہمارے ماں باپ کو ہوا کرتی تھی لیکن اس پریشانی نے انھیں کیا دیا؟

ہمیں کیا دیا؟

اور ہم اپنی بیٹی کو کیا دے کر جا رہے ہیں؟

ہمیں زندگی کی شکل میں وراثتی دائرے ملتے ہیں جو ہم اگلی نسلوں کے نام منتقل کر جاتے ہیں، میں ابھی یہ سوچ ہی رہا ہوں کہ کنول چہکتی ہوئی آئی ہے میرے ٹیبل پر اپنی شادی کا کارڈ رکھ کر گئی ہے۔ جس نے میری سوچ کو ایک ہی لمحے میں پلٹ کر رکھ دیا ہے اور میرے باطن کے نہاں خانوں میں دبے کسی انسان نے پکار کر کہا ہے؛

” نہیں۔۔۔ زندگی کسی دائرے کا نام نہیں، سیاہ سفید کے درمیان بنتا zigzag ہے جس میں ہم اپنی سانسوں کو اپنی مرضی کی فضا دینے کی ایک مسلسل کوشش میں رہتے ہیں۔ وہ سانسیں جو کسی سے ادھار نہیں لیں۔ اپنی ہیں۔”

Published inعالمی افسانہ فورمقرب عباس