Skip to content

روشنی چُرانے والا

عالمی افسانہ میلہ 2018
افسانہ نمبر 25
عنوان ۔۔۔ روشنی چُرانے والا
مصنف ۔۔۔ گلزارملک
وہ سب کے لیے عجیب، غریب، ُ پر اسرار، شگوفے کی مانند تھا۔ ایک کھلونا جو بے مول سب کا جی لبھاتا ہو، اس کی ذات کے گرد فطری اسرار کاگمبھیر ہالہ تھا، بھولے پن میں سب دیہاتی اُسے عام انسانوں سے پرے کی کوئی ایسی شے گردانتے، جو صدیوں کا راستہ ناپتی انسانی تہذیب میں جون بدل، دھرتی پر آنکلی ہو۔ انوکھی اور نرالی، بچے ا سے منہ چڑاتے، گالی گلوچ کرتے اور کبھی کبھار کنکر بھی مارتے پر اس کے کانوں پر جوں تک نہ رینگتی۔ بہت ہوتا تو ہنس دیتا، پر اس کی ہنسی میں بھی مردہ روحوں کی سی اداسی پائی جاتی تھی، جسے محسوس کر کے وجود میں عجیب سی ٹھنڈک کی لہریں سرسرانے لگتیں۔
اس کے اندر گہرائی میں کوئی ایسا آلہ فٹ تھا، جو پل میں دوسروں کو اپنی گرفت میں جکڑ لیتا اور دیہاتیوں کو اس کے سحر سے نکلنے کے لیے کافی تگ و دو کی ضرورت پڑتی۔ وہ ہمیشہ اس سے خوفزدہ رہتے۔ مائیں بچوں کو ڈراتیں، ہائے اللہ۔۔۔ بچو دیکھو گونگا آ گیا۔۔۔ بھاگ کر کتابیں پکڑو اور سکول کی راہ لوورنہ۔۔۔ خیر نہیں، کسی کے گھر پڑنے والا خون اور پانی کے چھینٹوں ، ماہواری میں بے قاعدگی کے باعث کسی کنواری کے حال کھیلنے، بارش سے کھلنے والی قبروں کے تاریک سینوں، کبھی کبھار کی چوری ہونے والی، مرغیوں، گاؤں سے بھاگ جانے والی مٹیاروں کی جنسی ہوس اور سیاہ کاروں کے پیچھے گونگے کی اکلوتی ذات کہیں نہ کہیں کار فرما تھی۔ لوگ ایسا سمجھتے نہیں بلکہ یقین رکھتے تھے۔ پشت ہا پشت سے نسلی خوف اور جہالت میں جکڑے یہ لوگ اس کی بابت عجیب افسانے منسوب کر کے ڈراتے یوں وہ کچھ کیے بنا ساحر، لٹیرا، بچوں کا خون پینے والا ایسا چھلاوہ جس کے پیر چاندنی راتوں میں پلٹ جاتے ہوں اور نہ جانے کیا کیا بن بیٹھا۔
اب ایک اکلوتے گونگے کے لیے ان ساری افواہوں پر پورا اُترنا کسی طرح بھی ممکن نہ تھا۔ میں ماں سے پوچھتی ’’ اماں بیچارے بچے گونگے اور بے زبان کیوں پیدا ہوتے ہیں۔ ایسے کہ ان کی آوازوں کے برتن بیچ چوراہے پھوٹ پڑیں اور وہ ماسوائے غوں غاں کے کچھ نہ بول سکیں۔‘‘ جواب میں اماں نے ہمیشہ اس بابت ایک ہی کہانی سنائی جو اتنی بار سنی جاچکی تھی کہ مجھے از بر ہو چکی تھی، کہتیں۔
’’
عرش بریں پر جب وجود کے تاریک برتنوں میں رُوحوں کو اُنڈیلا جا رہا تھا تو کچھ آزاد منش روحیں اس قید پر چپکے سے نوحہ کناں ہوئیں۔ لیکن کچھ تو ایسی تھیں کہ لگیں چیخنے چلانے، احتجاج کرنے، اٹھا لیا عرش بریں سر پر، لمبی زبانیں اتنی تھیں کہ گردنوں کو چھوتی ، رال ٹپکاتی، چپڑ چپڑ لہراتی تھیں، واپسی کا وعدہ ہوا، انت بھلے کا بھلا۔ لیکن انہیں کون سمجھائے، روشن الوہی عرش چھوڑ،تاریک برتن میں کسی قیدی کی مانند یوں پڑے رہنا کہ اپنے بس میں خاموش تماشائی بن کے رہنے کے کوئی چارہ کارنہ ہو کافی مشکل کار خیر تھا۔ آخر حکم ہوا روح پر بوجھ بڑھا دو، پر شورندارد۔ بڑھتے بڑھتے یہ بوجھ اتنا بھاری بھرکم ہو گیا کہ روحیں وجود کی لامتناہی گہرائیوں میں جا کھوئیں اور دن بدن تاریک پڑتی جاتی ہیں اب بھلا جتنا چاہیں شور مچائیں پر مجال ہے کہ آواز وجود کے برتن سے باہر پھوٹے۔‘‘
یہاں پر وہ بریک لیتیں اور کچھ سوچتے ہوئے ٹھہر کر کہتیں ’’خالق سے نافرمانی، اِحکامات سے انحراف، سزا تو ملنا ہی تھی اور انہیں ملی، دیکھ لو۔۔۔ اب پڑی ہیں اندھیروں میں کسی بے زبان مویشی کی مانند، چاہے جتنا ڈکرالیں پر کوئی سننے والا نہیں، چرخی چڑھی غلاظت کے ڈھیر پر اب سوتی ہیں اور کوئی پرسان حال نہیں اس لیے تو کہتی ہوں خالق کی حمد و ثناء رچاؤ، احکامات کی پابندی کرو اور ہمیشہ بڑوں کا کہا مانو، ورنہ تمھاری روح پر بھی بوجھ بڑھتا جائے گا خدا نہ کرے کہ ایک روز یہ بوجھ اتنا بڑھ جائے کہ تمھاری روح تاریک پڑ جائے۔‘‘
میں یہاں تک سن کر پریشان ہو جاتی پھر جی ہی جی میں عہد کرتی کہ میں اپنی روح کو وجود کے اندھیروں میں نہ اُترنے دوں گی اور ہمیشہ راست قدم رہوں گی۔ اگرچہ کہانی بار بار دہرانے پر مجھے یقین ہو چکا تھا کہ رُوحیں بھی گناہ گار ہو سکتی ہیں لیکن اس کے سلسلے میں ، میں یہ سب ماننے کے لیے تیار نہ تھی وہ رجوکا اکلوتا بھائی تھا، جس کے اندر رجو کے لیے محبت کے انمول سوتے بہتے تھے لباب بے لوث الوہی پیار سے بھرا روشن، جگمگاتا، برتن بھلا اندر سے اتنا تاریک اورپر تعفن کیسے ہو سکتا تھا جتنا کہ لوگ گردانتے ہیں۔
دُوری حقیقت سے بعید ہے، رجو میری سہیلی تھی اور وہ اس کا بھائی، میں اس کے اتناقریب رہ رہی تھی کہ سچ کی پرتیں کھولنا ذرہ مشکل نہ تھا میرے خیال میں وہ ایسا نہیں تھا، جلاد تو بالکل نہیں جو بچوں کو چی بوٹی کر کے کھا جاتا ہو، وہ میرے ساتھ پلا بڑا تھا بالکل ہماری طرح اناج کھاتا، نہ جانے کتنی خواہشیں بے زبان اندر ہی اندر سٹر رہی تھیں، لیکن یہاں تک اظہار تھا اس نے کبھی بچے کی چی بوٹی کھانے کی بابت خواہش نہ کی۔ جیسے جیسے میں بڑھتی جار ہی تھی بچپن کی کہانی لاشعور کے مدفن میں تہہ در تہہ بچھی یادوں میں سماتی جارہی تھی۔ بچے اس سے کترا کر نکل جاتے، کچھ شرارتی چھیڑتے، تنگ کرتے، بعض تو کنکر مارنے تک چلے جاتے، اور وہ اس دوران میں خاموشی سے غوں غاں کی سی لایعنی آواز نکال کر رجو اور میری جانب بیچارگی سے دیکھنے لگتا جیسے وہ ناداں بچوں میں گھر گیاہو، ایسے میں اس کی آنکھوں میں دو ننھے ننھے قطرے چمکنے لگتے اور میں یوں محسوس کرتی جیسے اس کی روح کا بھاری بھر کم بوجھ خود میری اپنی رُوح پر آپڑا ہو، بعض اوقات میرے من میں آتا کہ خالق نے بھی عجب تماشا رچایا کہ اس کی روح تو پاتال میں اُتار دی پر ننھے سے معصوم وجود کو یہ سب جھیلنے کے لیے دھرتی پر بھیج دیا۔
مجھ سے اس کا رشتہ ہی کیا تھا چند گلیاں چھوڑ کر اس کا گھر تھا، اک وہ اور اس کی بہن رجو اپنی محنت کش ماں کے ساتھ رہتے تھے۔ میری رجو کے ساتھ گہری چھنتی ، دونوں دن بھر کھیتوں میں تتلیوں کے پیچھے بھاگتیں، اُڑتی مائی بڈھی کو پکڑنے کی کوشش میں بھاگ بھاگ کر ہلکان ہو جاتیں، اس دوران وہ دور کھڑا ہماری ناکامی پر عجیب سے انداز میں ہنستا وہی ہنسی جو سارے وجود میں لہریں سی اُٹھاتی تھیں، جب ہم تھک کر چور ہو جاتیں اور کہیں گر کر اپنی سانسیں بحال کر رہی ہوتیں تو وہ فلمی ہیرو ’’سکس ملین ڈالر مین‘‘ کی مانند اُڑتے ہوئے ایک دو دوڑ میں ہی کسی نہ کسی شے کو دبوچ کر لے آتا۔
لیکن تھا پورا چاتر، بند مٹھی یک دم کھولنے کی بجائے پہلے پہل ہمارے چہروں پر موجود اشتیاق کو پڑھتا، ہمیں خوب ستاتا اور پھر مٹھی میرے سامنے کھولنے کی بجائے اپنی بہن کے سامنے یوں کھولتا کہ اس کا ایک گھٹنا زمیں پر بچھا ہوتا جبکہ دوسرا یوں کھڑا ہوتا جیسے کوئی پریمی، اپنی محبوبہ کو اپنا دل پیش کر رہا ہو۔ ایسا کرتے ہوئے اس کی آنکھوں میں عجیب سی چمک موجزن ہوتی۔ لبوں سے خوشی کے جذبات سے مبہم سی آوازیں اُٹھتیں اور مجھے یوں لگتا جیسے وہ کہہ رہا ہو۔۔۔ رجو، رجو۔۔۔ میری بہنار جو۔
یوں ہر بار میری ہتھیلی ویران ہی رہتی بس یہی ایک حرکت ایسی تھی جو کبھی مجھے اچھی نہ لگتی اور جس پر میں اسے پاگل، گونگا، بچوں کا کلیجہ کھانے والا چھلاوہ اور نجانے کیا کیا کہہ ڈالتی ، خوب کوستی۔ رجو سے ناراض ہو جاتی، رجو تو ایک پل میرے بغیر نہ رہتی یوں فوراً وہ شے چپکے سے اس کی ہتھیلی سے میری ہتھیلی پر منتقل ہو جاتی۔اس پر گونگا ناک منہ چڑھاتا، عجیب سی آواز نکالی کہ رجو سے ناراضگی کا اظہار کرتا اور اکثر تو غصے میں وہ شئے مجھ سے چھیننے کی کوشش بھی کر گزرتا۔ ان دنوں ایک بار بھی ایسا نہ ہوا کہ جب گونگے نے دوڑ لگائی ہو اور کوئی چیز اس کے ہاتھ لگی ہو اور پھر اس نے اسے بچگانہ ہنسی کے ساتھ اپنی بہن کے سپرد نہ کیا ہو۔
میں اکثر دُکھ سے سوچتی، اللہ میاں نے مجھے سب دیا مگر ایک بھائی نہ دیا، ایسا بھائی جو گونگے کی مانند اپنی بہن پر نثار ہو جانے والا ہو بھلے اس کی روح اندھیروں میں ہی بھٹک رہی ہو، پر اپنی بہن کے لیے ہر دم سراپا ایثار۔ خدا کی خدا جانے، پر اس نے مجھے وہ دیا جو میرے گمان میں بھی نہ تھا۔ دور پار کے ایک چچا، نجانے کس گاؤں سے ہمارے ہاں اُٹھ آئے، اندھے کو کیا چاہیے دو آنکھیں، کھیتوں کی دیکھ بھال کے لیے چچا، گھر میں ماں کا ہاتھ بٹانے کے لیے چچی اور مجھے ناصر کی صورت گونگے کا توڑ مل گیا۔ خدا کریم بڑا کارساز ہے۔ اس کی وہی جانے، دینے پہ آئے تو کپے لڈھائے ، اب کھیتوں میں تتلیوں، مائی بڈھیوں کے پیچھے ہم چاروں سرپٹ بھاگتے، کبھی کبھار ناصر کیکر پر چڑھ کر اللہ میاں کا ڈھگا پکڑ تا اور میرے حوالے کر دیتا، ہم پہروں ہتھیلی پر ننھا سا وجود جمائے اس کے نوکدار سینگ اور نقطہ دار آنکھیں اک ٹک دیکھتے رہتے، یا پھر دو بیلوں کو ایک دوسرے کے قریب لاکر ان کی لڑائی ایسے دیکھتے جیسے وہ تیسری دُنیا کی ناتواں پسماندہ اقوام ہوں اور ہم ٹھہرے سامراجی نظام کے کرتا دھرتا ٹھیکیدار۔ جنہوں نے زمین سنوارنے کا بھار اپنے ناتواں کندھوں پر اُٹھا رکھا ہو یوں تتلیاں، جگنو، مائی بڈھیاں اور اللہ میاں کے بیل ہمارے فطری کھلونے تھے، جن کے درمیان پڑا ہمارا بچپن پل رہا تھا۔ اس کے علاوہ گندم کے سیاہ خوشے توڑ کر چہروں پر مونچھیں بنانا، اپنی پرائی گاجریں، شلجم، کچے امرود اور دوسرے موسمی پھل چرا کر کھانا، چوری چھپے خربوزوں اور تربوزوں کے باڑے پر ہاتھ صاف کرنا، آموں کے باغوں سے ٹپکے آم ہتھیانا، ہمارے دل پسند مشغلے تھے۔ ان سب میں فطرت نے عجیب سی مٹھاس چھپا رکھی تھی۔۔۔بے فکری اور آزادی کے لافانی احساس کی مٹھاس۔ گلی میں سوئے ہوئے کسی بوڑھے کی چارپائی کو چپکے سے قریبی قبرستان ایسے دبے قدموں پہنچانا کہ وہ جاگ نہ سکے اور پھر صبح صادق اس پر گزرنے والی حیرت، خوف اور پریشانی سے چھپ کر لطف اندوز ہونا، راتوں کو دیہاتیوں کے کواڑوں کو یوں کھٹکھٹانا کہ بھوت پریت کا شائبہ ہو، غرض اس دوران بہت قریب سے میں نے گونگے کو دیکھا اور محسوس کیا کہ اس کی روح تو بہت روشن اور جاندار تھی، تتلی کی مانند ہلکی پھلکی اور خوبصورت، ایک چھوٹی سی خوشی کے لیے پہروں کھیت کھلیانوں میں بھاگنے والی۔
اس بابت ایک بار میں نے اپنی ماں سے پوچھ ہی لیا، لمحے بھر کے لیے تو وہ اس سوال پر سٹپٹا اُٹھیں اور حیرت سے میرا چہرہ تکتی رہیں، پھر نجانے کیوں غصے نے انہیں دبوچ لیا، تبھی گویا ہوئیں تو یوں لگا جیسے پھٹ پڑیں گی ’’ابھی ہلکی پھلکی ہوگی پر کون جانے کب بھاری ہو کر تاریکی میں ڈوب جائے‘‘ اور میں دُعا کرتی رب سوہنے ایسا کبھی نہ ہو، لیکن ہونی کو کون ٹال سکتا ہے، اب وہ خوف جو دوسرے بچے اس سے محسوس کرتے تھے میرے لیے کوئی اہمیت نہ رکھتا تھا، وہ صرف رجو کا بھائی تھا جیسے کہ ناصر میرا۔ کہتے ہیں کہ بکائین اور لڑکی کے بڑھنے میں دیر ہی کتنی لگتی ہے اسی لیے تتلیوں کے پیچھے بھاگنا زیادہ دیر چل نہ سکا، پھر وہ سانحہ ہوا جس نے گونگے کی زندگی کا دھارا ہی بدل لیا۔ اک روز رجو شدید بخار میں مبتلا رہ کر اس دنیا سے چل بسی میرے بچپن کی سہیلی، اک سول کی مانند اس کا دکھ وجود میں اُتر گیا، زندگی کی بے ثباتی، لا یعینت، کھوکھلے پن اور خالق کے تخلیقی کھٹور پن پرجی میلا ہو ااُٹھا، لیکن گونگے کی حالت دیدنی تھی، ایسی ابتر حالت کہ خداامان۔ میں نے پہروں اسے گھر کے آنگن سے دور کھیتوں میں جہاں ہم اکٹھے کھیلتے تھے۔ سر جھکائے بیٹھے پایا، یا پھر وہ گھنٹوں تتلیوں کے پیچھے مارا مارا پھرتا اور شام ڈھلے ساری کی ساری تتلیاں عجیب کر بناک سی چیخ کے ساتھ رجو کی قبر پر ڈھیر کر دیتا یہ چیخ اتنی بلند ہوتی کہ اس کی گونج گاؤں کے گلی کوچوں میں بھی سنائی دیتی۔ اور مجھے لگتا جیسے وہ کہہ رہا ہو، رجو۔۔۔ رجو میری پیاری بہنا رجو۔
لیکن تتلیوں کے پیچھے بھاگنا زیادہ نہ چلا۔ اب وہ گم سم کھیتوں کی پگڈنڈیوں میں اُلجھا گھومتا رہتا، اس کی شخصیت دن بدن توڑ پھوڑ کا شکار ہوتی جارہی تھی، یوں اُسے دیکھ کر مجھے احساس ہوا دور کھیتوں میں یا قبرستان میں تاریک سائے کی مانند اس متحرک وجود کے ساتھ کچھ ہونے والا تھا۔۔۔ ایسی کوئی خاص بات جو عام ڈگر سے ہٹ کر ہو ایسا سوچتے ہوئے میری روح کا بوجھ زیادہ سے زیادہ بھاری ہونے لگتا اور میرے اندر چپکے سے اماں کے کہے الفاظ سر اُٹھانے لگتے۔’’ابھی ہلکی پھلکی ہو گئی پر کون جانے کب بھاری ہو کر تاریکی میں ڈوب جائے‘‘ مجھے لگا جیسے اس کی روح پر رجو کے مردہ وجود کی چاہت کا بوجھ لاد دیا گیا ہو۔ جس بنا پر اس کی روح اب دِن بدن بھاری پڑتی جاتی تھی اور اگلے کسی بھی پل وہ تاریک ہونے والی تھی۔ لیکھوں کوکون ٹال سکتا ہے اس لیے جب اس کے پاگل ہو جانے کی ہوائی اُڑی تو کسی کو اچنبھانہ ہوا۔ اماں کی بات سچ ہوئی اب وہ پھٹے پرانے کپڑوں اور ناگفتہ بہ حالت میں گلیوں میں چکراتا پھرتا، کڑیل جوان تھا چہرے کا بے تحاشہ بڑھا ہوا جاڑ جھنکار، سرخ خونچاں جگراتے والی آنکھیں، گندے پیلے دانت اور لعاب گراتے ہونٹ دیکھ کر ہر کوئی دہشت کھاتا پہلے کی مانند اب وہ بچوں کے چھیڑنے تنگ کرنے یا کنکر مارنے پر رونے کی بجائے سیخ پا ہو اُٹھتا اور خود بھی پتھر اُٹھا لیتا ایک دو واقعات میں اس نے بچوں کو زخمی بھی کردیا یوں تھوڑے ہی عرصے میں وہ دیہاتیوں کی افسانوی حکایات جو اس کی بابت مشہور تھیں۔ ان سب پر پورا اُترنے لگا، مرغیوں کو جنگلی بلے کی مانند دبوچتا اور زندہ ہی دانتوں سے اُدھیڑ ڈالتا، پنگھٹ پر جاتی کنواریوں کو اپنی سرخ سرخ آنکھوں سے یوں گھورتا جیسے وہ بھی کڑکڑاتی مرغیاں ہی ہوں۔
ایک دو بار شادی کی تقریب پر اس نے کنواریوں کے کانوں سے جھمکے ہی نوچ ڈالے، بارش سے کھلنے والی قبروں میں مردوں کی مانند تو کئی راہ گیروں نے اسے دیکھا جون جولائی کی دو پہروں میں اس کے پیر اُلٹے ہونے میں کوئی شک نہ رہا، ہر وقت منہ ہی منہ میں نجانے کیا پڑھتا یا بڑ بڑاتا رہتا، ایک دو بار راتوں کو گلی میں سوئے دیہاتی کی چارپائی اُلٹا کر اس پر بھی چڑھ بیٹھا اور لگا قہقہے لگانے۔ گاؤں بھر کے لیے اس کا وجود پریشانی کا باعث بن گیا، لوگ اسے گلی میں آتا دیکھ کر بچوں کو چھپانے لگے۔ بعض تو گلی میں داخل ہی نہ ہونے دیتے۔ شادی بیاہ کے دنوں میں خاص خیال رکھا جاتا اور اسے دور سے ہی دھتکار دیا جاتا ، دو ایک بار گلی میں گزرتے ہوئے گونگے سے میرا ٹا کرا ہوا اور اس نے راستہ روکنے کی ناکام کوشش کی، انداز میں عجب جنگلی پن تھا، سنسان گلی میں لمحے بھر کے لیے اک انوکھی بے نام سی چمک اس کی آنکھوں میں لہرائی، جس پر اگلے ہی لمحے دھند کی اک گہری تہہ نے ڈیرے جمالیے۔ مجھے لگا جیسے وہ پل بھر میں مجھ پر جھپٹے گا اور میرے وجود کا کچا گوشت نوچنے لگے گا، اس کے لعاب گراتے لب کانپتے ہوئے نجانے مجھ سے کس چیز کے طالب تھے، آنکھیں یوں کہ ابھی ٹپکا خون کہ ابھی، بچپن کا گونگا تو نجانے کن اندھیری گلیوں میں گم ہوا، جو سامنے تھا وہ تو سچ مچ کا چھلاوہ ہی تھا۔ پل بھر میں کنواریوں کو سالم نگل جانے والا تبھی اس روز میں نے جلدی سے اس کے پاؤں کی جانب کانپتے ہوئے دیکھا تھا کہ کہیں پلٹ نہ چکے ہوں بچپن کی کہانیوں نے پل بھر میں مجھے گھیر لیا اور میں سر پر پاؤں رکھ کر بھاگی۔ جوانی تو میرے وجود سے لپٹی پڑی تھی۔ بچپن کی چھوٹی چھوٹی خوشیاں، خواہشیں تو جیسے تتلیاں، مائی بڈھیاں اور جگنو اپنے ساتھ ہی لے اُڑے۔ اب پیا گھر سدھارنے کا وقت تھا۔ وہ وقت جب نئے آنگن کے خواب گوری کے انگ انگ سے لامتناہی توانائی کی صورت پھوٹنے لگتے ہیں، بنانے والا بھی عجیب ہے بچپن اور جوانی کے لاجواب لمحوں کے بعد بنایا تو کیا، بڑھاپا۔ ’’واہ بھئی واہ۔‘‘
گونگے کی ماں بڑھاپے میں یوں اس کے پیچھے مارے مارے پھرتی جیسے آسیب کا پیچھا کر رہی ہو، اس کی آنکھیں رو رو کر روشنی کھو بیٹھیں، میں تو گونگے سے اتنی ڈر چکی تھی کہ راتوں کو سوتے ہوئے چونک چونک پڑتی، مجھے لگتا جیسے کوئی پل بھر پہلے میری چارپائی کے سرہانے کھڑا ہو، سرشام تاریک سائے اور انجانی آہٹوں کا احساس مجھے گھیر لیتا یہ احساس اتنا تو انا تھا کہ ایک روز متحرک پر چھائیاں سی میری آنکھوں نے خود دیکھیں وہ کون تھا گونگا یا پھر کوئی اور سرراہ گونگے کی آنکھوں میں چھائی وحشت سے اس بات کا اندازہ لگانا محال تھا، آخر ایک رات میں نے اسے پہچان ہی لیا۔ تبھی ہر رشتے سے بالخصوص مرد حضرات سے میرا اعتماد اُٹھ گیا اور پھر دوبارہ وہی پرانا دُکھ جاگ اُٹھا، میں پریشان کونوں میں چھپ چھپ روتی۔ مجھے روتا دیکھ ماں کا کلیجہ منہ کو آیا، وہ سمجھ نہ پائیں کہ میرے اندر ان دنوں کیا چل رہا تھا۔
اس مسئلے کا سیدھا سادہ حل انھوں نے سوچ لیا۔ اور لگے بننے منصوبے۔ یوں سارا گھر میری شادی کے لیے مصروفِ عمل ہو گیا، نئے درکنارہ کرنا، دلہن کے لیے نجانے کتنے واہموں ، اندیشوں اور سپنوں کی جوت جگاتا ہے۔ جیسے جیسے وقت قریب آرہا تھا دل کی دھڑکنیں بدن کا ساتھ نہ دے پار ہی تھیں، آخر کار مہمانوں نے ڈیرے جمالیے، میری ہم جھولیاں اورہم عمر رشتے دار لڑکیاں مجھے چھیڑتیں، حیلے بہانوں سے تنگ کرنے کا کوئی موقع ضائع نہ کرتیں۔ میں شرماتی، لجاتی کبھی کبھار پریشان ہو اُٹھتی، چھپ چھپ رونا تو تھم گیا لیکن پرانی خلش جو وجود کے ساتھ ساتھ پلی بڑھی تھی، اب پھر بدن سے لپٹی کراہنے لگی، جو چیز اس کے پاس ہو اس کا سکھ جینے کی بجائے جو نہ ہوا اس کا دکھ سہنے کو ہر پل تیار رہتا ہے۔ اک بھائی کی کمی آج پھر شدت سے محسوس ہوئی بھائی جو میری ڈولی کو کندھا دیتا جو میری چھوٹی چھوٹی خواہشوں کے لیے جیتا پر ایسا ہونا ممکن نہ تھا، آخر وہ دن آہی گیا جب مجھے میاکا گھر چھوڑنا تھا جس کے درودیوار میں میری مٹی کو گوندھا گیا۔ ہر طرف مہمانوں کی چہل پہل تھی مجھے تیاری کے لیے ایک کمرے میں لایا گیا، میں کمرے میں سمٹی، سکڑی، دکھ سے گردن جھکائے چارپائی پر بیٹھی تھی، اردگرد ہمجولیاں تانک جھانک میں مشغول تھیں اچانک دلان سے شوروغل اور مارپیٹ کی آوازیں اُٹھیں، ہم سب خاموش ہو کر حیرت سے بند کواڑ کو گھورنے لگیں ، شوروغل لمحہ بہ لمحہ بڑھتا جارہا تھا اس سے پہلے کہ کوئی کچھ کہتا، اچانک دروازہ زور دار آواز سے کھلا سب نے گھبراہٹ سے اس جانب دیکھا کوئی دروازے میں ڈٹا کھڑا تھا۔
گرچہ لوگ شدید تگ و دو میں تھے کہ اسے آگے بڑھنے سے روکیں لیکن اس میں کسی جنگلی بھینسے کی سی طاقت عود کر آئی تھی۔ جب بات کھینچا تانی سے نہ بنی تو تبھی سب نے اسے گھونسوں، تھپڑوں اور لاتوں پر رکھ لیا ، وہ ان میں گھرا عجیب سی آواز سے چلاتے ہوئے کسی انقلابی کی مانند اپنی مٹھی لہرا رہا تھا۔ وہ گونگا تھا رجو کا بھائی، جس کی ایک آنکھ پر گھونسا لگنے سے ورم آگیا تھا جبکہ لبوں کے کنارے باریک سی خون کی لکیر سے رنگین ہو رہے تھے۔ اسے دیکھ کر میرا دل سہم گیا، نئی نویلی دلہنوں کا تو ویری تھا، کانوں سے جھمکے نوچنے والا خونی، اس وقت اس کا آنا کسی کو نہ بھایا، لیکن وہ وہاں سے ہٹنے کا نام نہ لے رہا تھا۔
مار کھا کھاکر اب آہستہ آہستہ اس کے گھٹنے کانپنے لگے تھے، اس پر چھائی وحشت سے سبھی پریشان تھے اس کے آثار تو مجھ پر اسی روز منکشف ہو گئے تھے جب اس نے مجھے دن دیہاڑے کسی جنونی کی مانند سنسان گلی میں روکنے کی کوشش کی تھی، سفلی جذبات کا شکار موہا آج جب کہ میں پیا گھر سدھار رہی تھی اس لمحے اس کا یوں مجنونانہ انداز سے گھر میں گھسنا، کن پھوسیوں کے کئی در کھول رہا تھا شریکے والوں کو تو کہنے کے لیے افسانہ چاہیے، اب کردار کشی کا در بھی کھل چکا تھا، کئی بوڑھیاں تو دور کی کوڑی لائی تھیں اور آنکھوں ہی آنکھوں میں نجانے کیا کچھ کہہ رہی تھیں۔
اماں ٹھیک ہی کہتی تھیں ایسے سب جوان اڑیل، جانوروں سے بدتر ہوتے ہیں، تاریک روحوں والے سانڈ جتنا مرضی سدھار لو پررہیں گے جانور کے جانور ہی، دماغ جہاں اٹک جائے وہیں کے ہو رہتے ہیں۔ جس کے پیچھے پڑجائیں، جان کو آجائیں اس پل مار پیٹ کا تو جیسے اس پر کوئی اثر ہی نہ تھا۔ جیسے جیسے وہ میرے قریب ہوتا جا رہا تھا کسی انجانے خوف سے میرے عصاب کچلے جارہے تھے، میں نے اس کا کیا بگاڑا تھا کہ وہ اس جنگلی پن پر اُتر آیا۔لوگ اس کی بند مٹھی والے انقلابیوں کی مانند لہراتے ہاتھ پکڑے کھڑے تھے، اس کے خون آلودہ چہرے اور لمحہ بہ لمحہ بگڑتی حالت دیکھ کر بچپن کی بھولی بسری یادوں کے دریچوں سے کئی رنگ اچانک میری آنکھوں میں لہرائے اور میر احلق دکھ کی شدت سے جلنے لگا۔
انہیں احساسات کے زیر اثر جب میں نے اس کی نم آلود آنکھوں میں جھانکا تو وہاں ایک تاریک دھند کی بجائے بچپن کی وہی بے بسی اور بے چارگی کا دکھ ٹھاٹھیں مارتا نظر آیا، مجھے لگا جیسے مدتوں بعد آج پھر وہ ناداں بچوں میں گھر گیا ہو، اور اس کی تاریک روح اور وجود بے زبانی کا دُکھ سہہ رہے ہوں میں اس کی بھیگی آنکھوں کے دکھ سے کانپ اُٹھی، ساتھ ہی لگا جیسے رجو کی بے قرار رُوح میری جانب دیکھ رہی ہو، ایک بہن کی بے قرار رُوح جو بھائی کے دکھ پر لرزاں تھی، صحیح بات یہ ہے کہ اس لمحے میں یہ سب سوچتے ہوئے جذبات کے اس موڑ پر کھڑی تھی یہاں ہر جانب سناٹا ہی سناٹا تھا میرے جذبات احساسات کی آخری حدوں کو چھورہے تھے ، وہ جس قسم کی محبت کا مجھ سے طالب تھا میں اسے نہیں دے سکتی تھی۔
اچانک ایک خوفناک جھٹکے اور غوں غاں کی سی چیخ نما آواز نکال کر جس میں گہرا کرب پوشیدہ تھا، اس نے اپنے وجود سے لپٹے افراد کو دور دھکیلتے ہوئے اپنے بازوؤں کو آزاد کروایا، جب اس کا بند مٹھی والا ہاتھ آزاد ہوا تو اک عجیب سی چمک اس کی آنکھوں میں لہرائی وہ آگے بڑھا اور کسی پریمی کی مانند گھٹنا ٹیک، میرے سامنے بیٹھتے ہوئے ناقابل فہم جملے جوش و خروش کے ساتھ ادا کر نے لگا، پھر اس نے بند مٹھی والا ہاتھ آگے بڑھایا اور اپنی مٹھی میرے سامنے کھول دی ایسا کرنے کے بعد خوشی سے وہ مجھے دیکھنے لگا، میں نے دیکھا اس پل اس کی ہتھیلی پر کسی فرشتے کی مانند غیر مرئی روشنی لیے اک ننھا سا جگنو بیٹھا ٹمٹما رہا تھا جس کی مدھم روشنی سے اس کی ہتھیلی منور تھی اور ایک ایسی ہی روشنی میری بھیگی آنکھوں کے موتیوں میں لرزنے لگی تھی۔

Published inعالمی افسانہ فورمگلزارملک