Skip to content

روح، جو جسم چھوڑنےپر تیار نہ تھی

عالمی افسانہ میلہ 2019

‎افسانہ نمبر : 35

‎روح، جو جسم چھوڑنےپر تیار نہ تھی

‎عثمان عالم ۔ اسلام آباد۔ پاکستان

‎صحن میں چارپائی بچھی تھی ۔چار غم زدہ باوضوعورتیں ، ہاتھوں میں یٰسین پکڑے چاروں کونوں میں اِس طرح بیٹھی تھیں کہ اُن کامنہ سرکی جانب تھا۔ تلاوت اتنی بلند تھی کہ نیم مردہ ،نیم جاں کے کانوں تک باآسانی آواز پہنچ سکتی تھی۔

‎میں یہ منظر چھت کی اُس دیوار سے دیکھ رہا تھا جس کا رخ صحن کی جانب پڑتاتھا ۔

‎ہوا نے اپنارخ تبدیل کیا ،عام حالات میں مغرب سے مشرق کی طرف چلتی تھی اب اس کے الٹ تھی ۔جب بھی ہوا اپنا رخ تبدیل کرتی یا پھر کبھی کبھی شمال سے جنوب کی طرف چلتی تو اُس کی رفتا اِس طرح نارمل نہ رہتی جس طرح عام حالات میں یعنی مغرب سے مشرق کی طرف چل رہی ہوتی ۔

‎ابنارمل رخ ہونے کا مطلب تھا ۔موسم میں تغیر ۔

‎اِس رخ پر چلنے والی ہوا ۔اکثر تیز ہوتی ۔کبھی کبھی اپنے ساتھ برسنے والے بادل بھی لے آتی ۔ابھی بھی کچھ ایسا ہی معاملہ تھا ۔

‎پودوں پر زندگی تھی ۔پتے ،ٹہنیاں سر سبز اور پھول خوش نما اور مسحور کن حد تک اپنے سحر میں لینے کی طاقت رکھتے تھے ۔

‎میں نیچے جھانکنے کے کوفت زدہ منظر سے ہٹ کر پودوں کے قریب جا پہنچا۔

‎وہ پودوں کے قریب لکڑی کا بنڈا ڈالے ،کُند چھری سے گوڈی میں مصروف تھی ۔مجھے محسوس ہوا کہ ابھی تو یہ کوفت زدہ منظر کی مرکزی کردار تھی یعنی جن بوڑھے کانوں میں خواتین یٰسین کا دم پھونک رہی تھیں وہ گوڈی میں مصروف تھی ۔

‎ایک دوسرے گملے میں سوکھے گوبر کی کھاد کو کنویں والی نرم مٹی سے ملا کر اُس میںپیازی گلاب کی قلمیں بنا کر لگا رہی تھیں ۔میں نے باغبانی کا پہلا درس انہی کھردرے ہاتھوں اور کُند چھری سے سیکھا تھا ۔

‎مجھے موتیے اور چنبیلی کی قلم کاری میں ہمیشہ دشورای رہی ،نجانے کیوں ۔۔۔شاید اِن کا اور اِس نوع کے دوسرے پودوں کی داب کاری کا طریقہ قدرے مختلف تھا ۔

‎وہ بڑے اطمینان سے موتیے کی ٹہنیوں کا جائزہ لے کر ایک ٹہنی منتخب کرتی اور اُس کے درمیان سے چھال کو اِس طرح سے تراشنے لگتی کہ اندروالی طرف کی رس دار حصے کو نقصان کم پہنچے ۔وہ کوئی چار انچ لمبائی میں ٹہنی کو ایک طرف سے صاف کرتی اور پھر اِس حصےکو اپنائیت سے ،خدا کا کلام پڑھتے ہوئے دوسرے گملے میں داب دیتی ۔

‎اب انتظار رہتا کہ کب دوسرے گملے میں گاڑھےجانے والی ٹہنی کی نوک پر نئی کونپلے کھلیں ،جیسے ہی کونپلیں آنا شروع ہوتی وہ قینچی کی مدد سے اِس ٹہنی کو پہلی ٹہنی سے جدا کر دیتی اور اِس طرح ایک نئے پودے کا جنم ہوتا۔

‎مجھے اُس وقت ہمیشہ عجیب لگتا کہ مٹی میں دفن ٹہنی کیسے نئے پودے کے ظہور کا سبب بنی ۔

‎وہ میرے دماغ میں چلتی سوچوں کو پڑھ کر کہتی ۔

‎پتر اصل چیز تعلق ہے اگر دفن ہونے والے کا تعلق اپنی بنیاد سے مضبوط ہے تو پھر سے زندگی لوٹ آتی ہے چاہے وہ کسی بھی شکل میں ہو۔

‎مجھے اچھے سے یاد ہے جب کبھی بارش ہوتی یا آندھی آتی تو اُس کے چہرے کی جھریوں میں تشویش ایسی ہی رینگتی نظر آتی جیسے کوئی بچہ پہلی بار کسی اونچی جھولا سلائیڈ سے زمینی کشش کے سہارے نیچے کو مسرت اور ڈر کی ملی جلی کیفیت میں گرتا چلا آئے ۔خاص کر اُس جھری میں جو اُس کی موتیا زدہ آنکھ سے ہوتی ہوئی پھیکے ہونٹ کے کنارے کے ساتھ ساتھ،گردن کی جانب بہہ جاتی تھی۔

‎اگلی صبح میں اُس کا ہاتھ تھامے گاوں کی بس میں بیٹھا ہوتا ۔

‎اِس قدرتی آفت کے بعد اُس کے بوسیدہ گھر میں ضرور کچھ نہ کچھ ٹوٹ پھوٹ ہوئی ہوتی ۔

‎یہ گھر چند کمروں ایک رسوئی اور آنگن پر موجود تھا آنگن کے ایک طرف دھریک کا جاندار درخت اپنی بقا کی جنگ لڑ رہا تھا ۔

‎البتہ صدر دروازے کے بائیں جانب ایک چھوٹی کیاری میں تلسی کا پودا تھا جب بھی اس چھوٹے سے پودے پر قدرے جامنی پھول آتے تو میرے کانوں میں بھجن کی گھنٹیاں بجنے لگتی ۔

‎تلسی کے اس نازک سے پودے کا خیال چاچی حمیدہ رکھتی جو گھر کی بغل میں رہائش پذیر تھی۔ہم جتنے بھی دن گاوں ٹھہرتے چاچی کے ہاں قیام کرتے ۔

‎گھر کا فرش اکھڑا ہوا تھا ۔دیواریں ٹوٹ پھوٹ کا شکار تھیں ۔کسی زمانے میں چھت کچا تھا جن پر گارے سے لپائی کی جاتی ہو گی مگر کچھ وقت پہلے چھت پر گارڈر ڈال کر چکور پکی مٹی کی پلیٹں رکھی گئی ۔

‎ایک کمرے کی کارنس اور اُس کی پر چھتی قدرے سلامت تھی رہائشی سامان کچھ نہ تھا بس تعلق ہی وہ واحد قدر تھی جس کے سبب وہ ہر برسات اور قدرتی آفت پر ڈورےچلی آتی ۔

‎اس گھر کی جنوبی دیوار میں ایک کھڑکی نما دروازہ کھلتا جسے کھول کر دوسرے گھر جایا جاسکتا تھا ۔یہ سیدوں کا گھرانہ تھا ۔جو بٹوارے کے عمل کے بعد یہاں آبادہوئے تھے ۔

‎اُس سے پہلے ِنموکا گھرانہ یہاں رہتا وہ برہمن تھے ۔ان دونوں گھرانوں کا آپسی تعلق گہرا اور پائیدار تھا ۔

‎وہ اور نِمو سکھیاں تھیں ۔

‎چودہ برس کی تھی جب بیاہ کر اس گھر آئی تھی اور ایک لمبا عرصہ وہ اس گھر میں شوہر اور بچوں کے ساتھ رہی ۔یہی گھر اُس کی پہچان اور تعلق بنا ۔

‎اس کے شوہر کا انتقال اسی گھر میں ہوا ۔اُس کی جواں جہان بیٹی بھی انھیں درو دیوار کے درمیاں دم توڑ گئی ۔سنا تھا کہ اُس پر جادو ہوا تھا۔اُس کا چا چا بھی جوانی میں جادو کی لپٹ میں آگیا تھا ۔قریب قبرستان تھا ۔جہاںاِن کی کچی پکی قبریں تھیں۔

‎میں جب اس مکان میں آتا تو دھریک کے پاس بنے ریت کے تھلے پر بیٹھ جاتا اور میری نظروں میں یہ ویران گھر ہر بھرا ہونے لگتا ۔گھر کے افراد چلتے پھرتے نظر آنے لگتے ۔چہل پہل سحری کے وقت سے شروع ہو جاتی۔دھریک کے قریب تلسی کے پودے والی جگہ ایک گائے بندھی نظر آتی جس کے قریب ہی ایک مرغی اپنے پروں کے نیچے چوزے دبائے بیٹھی ہوتی ۔وہ کمرے کے باہر مدھانی سے لسی بناتی ۔

‎اُس کی بیٹیاں کسَی میں رفع حاجت سے فارغ ہو کر گھر لوٹ رہی ہوتی پھرکوئی قرآن کھول کر بیٹھ جاتی اور کوئی سلائی کڑھائی ۔

‎جب تلسی کے پتوں کی خوشبو نتھنوں تک پہنچ پاتی تو نِمو اور وہ جو شادی ہو کر نئی نئی اس گھر میں آئی تھی کوکلہ چھپاتی دوسری لڑکیوں کے ساتھ کھیلتی دکھائی دیتی ۔

‎نِموکا نام لینے پر اداس ہو جاتی اور اُس کے آنسو تلسی کے پودے کو گویا سیراب کرنے لگتے ۔

‎میں نے ایک رات ڈرتے ڈرتے چاچی حمیداں سے نِمو کے متعلق پوچھا ۔

‎اُن کے کہنے کے مطابق:

‎بٹوارے کے منحوس عمل کے دوران نِمو کی لاش بوہڑ والے تلاب سے ملی تھی ۔ لاش کئی دن پانی میں رہنے سے بھدی ہو چکی تھی کہ جس کی پہچان بھی قدرےمشکل تھی ۔

‎نِموکے ساتھ زیادتی کے بعد تلا ب میں پھینک دیاگیا ،یہ وہی شخص تھا جس نے نِمو کو اپنی زبان سے بہن کہاتھا یہ کوئی اور نہیں بلکہ بوسیدہ گھر کی مالکن کا میاں تھا ۔

‎۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

‎میں چھت پر کھڑا ہو اور صحن کا منظر وہی ہے چارپائی کے چاروں طرف خواتین یسن کی تلاوت میں مگن ہے ۔سب کا منہ ،نیم مردہ ،نیم جاں کی جانب ہے ۔

‎روح تھی کہ جسم کو آزاد نہیں کر پارہی تھی ۔بے چینی اور کرب میں مبتلا جسم اور گھر کے افراد عجیب کش مکش میںہیں ۔لوگ زندگی چاہتے ہیں مگر یہاں موت کے لیے کلام پڑھا جا رہا ہے کہ کسی طرح موت کا عمل آسان ہو جائے ۔آسمان پر اڑتے پتنگوں کی پھر پھراہٹ میرے کانوں سےٹکراتی ہے ۔

‎آسمان کی جانب نگاہ کرتا ہوں ۔دو پتنگ آپس میں پیچ لڑا رہے ہیں ۔پیچ اتنے دور تک جاتا ہے کہ نظروں سے اوجھل ہو ناشروع ہو جاتا ہے ۔میں اس کوشش میں ہوں کہ اُن کی ڈور پر نظر رکھ سکوں ۔مگر یہ کیا ؟

‎کوئی بھی پتنگ کٹنے کو راضی نہیں دھاگہ ہے کہ مضبوطی سے دوسرے دھاگے سے رگڑ کھائے جا رہا ہے ۔

‎پھر ایک وقت آیا کہ اڑانے والوں نے دھاگوں کو اپنی جانب تیزی سے کھینچنا شروع کردیا پتنگیں اُن کی جانب تیزی سے لوٹنے لگیں ۔فیصلہ ابھی تک نہیں ہو پایا تھا ۔پھر ایک مقام ایسا بھی آیا جہاں دونوں پتنگوں میں با قاعدہ کھینچا تانی شروع ہو گئی ۔

‎فیصلہ دھاگے کی مضبوطی اور نہ ہی پتنگ کی پائیداری پر تھا ۔فیصلہ صرف اور صرف ارادے کی قوت پر تھا ۔

‎اور مجھے لگا جیسے چارپائی پر پڑی نیم جاں میں ،زندگی اور موت کے مقابلے کا فیصلہ قوت ارادی پر کیا جائے گا ۔

‎مگر موت تو اُس کے اندر اُس کی پیدائش کے ساتھ ہی پیدا ہو گئی تھی اور پھر اُس کی اپنی سگی چاروں کونوں میں بیٹھی موت کی مناجات پڑھ رہی تھیں ۔اس صورت حال میں کیا وہ اور جینا چاہتی ہے ؟

‎مجھے یاد ہے کہ جب میں حیرت کی عمر میں تھا ۔نئی چیزوں اور نئی جگہوں کو دیکھنے اور جاننے کا تجسس تھا ۔اُس وقت وہ میرا ہاتھ تھامے نگر نگر لے جاتی ۔کبھی بزرگوں اور اولیا کے مزاروں پر ،کبھی میکے گائوں ،کبھی دوائی دارو لینے اور کبھی میلوں ٹھیلوں پر ،مجھے یاد ہے جب اُس کے ہاں گردے میں پتھری ہو ئی اور اتنی بڑی ہو گئی کہ گردہ تقریباََ پتھر بن گیا تو ڈاکٹروں نے گردہ نکالنا چاہا تو وہ میرا ہاتھامے شاہ دولہ ولی کے مزار پر جا پہنچی ۔مزار پر سلام کیا اور مزارکے باہر سے چند روپوں میں خریدہ گیاچاندی کا گردہ چڑھا دیا اور اگلے سلام کی منت صحت یابی کی صورت میں مانگ کر آ گئی ۔

‎اُس کے پاس یقین کی طاقت تھی یا ارادے کی پختگی کہ گردہ چالو ہو گیا درد دکھ جاتا رہا ۔مگر منت کا سلام با قی رہا۔

‎سورج طلوع اور غروب ہو تا رہا مگر اُس کی زندگی کا سورج مغربی کنارے جا کر ٹھہر گیا ۔

‎میں سیڑھیاں نیچے اتر کر صحن میں آگیا ۔

‎چاروں خواتین موت کا ورد جا ری رکھے ہوئی تھیں ۔سرہانے کے بائیں طرف والی خاتون میری ماں ہے جب کہ باقی کی اس کی بہنیں ۔

‎اور نیم جاں اِن کی ماں ۔

‎اکھڑی سانسیں تھیں ۔گذشتہ تین دن سے کھانا تو دور کی بات پانی تک کا گھونٹ حلق سے نہ اترا تھا ۔آنکھیں کبھی ساکت ہو جاتی تو کبھی پتلیوں میں ہلکی سی جنبش پیدا ہوتی۔

‎مجھے ایک لمحے کو ایسا محسوس ہوا کہ وہ اپنے جسم سے نکل کر ہوا میں تیر رہی ہے اور اپنے مردے اور یٰسین کی تلاوت کرتی بیٹیوں کو دیکھ رہی ہے اور اگلے ہی لمحے وہ واپس اکھڑی سانسوں کی صورت موجود ہوتی ۔

‎میں نے اپنے دماغ کے روشن خانوں میں اُسے آہستہ آہستہ اور وقفے وقفے سے پکارنا شروع کیا کہ آج سےنِمو کی تلسی ،بوسیدہ گھر کی حفاظت اور منت کا سلام میرے ذمے واجب ہے ۔

‎بل آخراکھڑی سانسیں تھمنا شروع ہوئیں۔

‎تلاوت کی مشق بند ہو ئی۔ہلکی ہلکی بین کی آواز یں بلند ہونا شروع ہوئیں ۔

Published inعالمی افسانہ فورممحمد عثمان عالم