Skip to content

روبوٹ

عالمی افسانہ میلہ 2015

افسانہ نمبر 35

روبوٹ ( Robot )

معین الاسلا م صوفی بستوی، خلیل آباد، انڈیا

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

یاسمین ایک سیدھی سادی بھولی بھالی لڑکی تھی۔ اس کی عادتیں اور لڑکیوں سے الگ تھیں۔ نہ بہت زیادہ کھلکھلا کر ہنستی اور نہ بہت زیادہ باتوں میں ہی اپنا وقت ضا ئع کرتی۔ وہ اپنے والدین کی بہت چہیتی اور خدمت گزار تھی۔ پڑھنے لکھنے میں وہ کم دلچسپی رکھتی تھی۔ اسی لئے جیسے تیسے جب اس نے گریجوئیشن Graduation کر لیا تو والدین نے اسکا رشتہ ایک بیحد رئیس گھرانے کے اکلوتے لڑکے سے کر دیا۔ یہ لوگ پیسے کے ساتھ ساتھ دل کے بھی بیحد رئیس تھے۔ انہیں خوش مزاج ایک سیدھی سادی خانہ داری کے امور میں ماہر لڑکی چاہئیے تھی جو انہیں بآسانی مل گئی۔

لڑکا اپنے والد کے خاندانی کاروبار میں اپنا پورا وقت دیتا تھا۔ وہ بہت ہی ہونہار اور ذہین تھا۔ تجارت کے داؤ پیچ اسے خوب آتے تھے۔ اس کی پورے علاقے میں بڑی عزت تھی۔ شادی سے وہ بہت خوش تھا اور خوش بھی کیوں نہ ہوتا یاسمین بیحد خوبصورت تھی۔ صوم و صلوات کی پابند، شوہر اور اپنے ساس سسر کے فرائض سے پوری طرح واقف۔ اس نے کبھی کسی کو شکایت کا موقع نہیں دیا۔ سسرال اس کے لئے جنّت نشاں تھا۔ اسے اپنی خواہشات کے تکمیل کی پوری آزادی تھی۔ وہ اپنی مرضی کے کھانے پکاتی، اپنی مرضی کے کپڑے پہنتی، اپنی مرضی سے گھومنے ٹہلنے اور مائکے جانے کے لئے ہر طرح سے آزاد تھی۔ ان سب باتوں کے لئے اس کے ساس اور سسر کبھی نہیں ٹوکتے، شوہر کی طرف سے بھی اسے ان باتوں کی پوری چھوٹ تھی، گھر میں کا م کرنے والوں کی کمی نہیں تھی، سبھی خوش اور بے فکری کی زندگی گزار رہے تھے، دیکھتے ہی دیکھتے گھر میں جلد ہی ایک نئے مہمان کی بھی آمد ہو گئی۔ اس طرح دونوں خاندان کی خوشیاں دو بالا ہو گئیں۔

وقت یوں ہی گزرتا گیا۔ زمانے میں تبدیلیاں آتی گئیں لیکن یاسمین کی زندگی میں کسی طرح کی کوئی تبدیلی نہیں دیکھی گئی۔ ہاں اس کے شوہر ہاشم میں وقت کے ساتھ تبدیلیاں آتی گئیں لیکن یہ تبدیلیاں اس کی ذاتی تھیں۔ اس میں کسی اور کا کوئی دخل نہیں تھا۔ گاڑیوں کے ساتھ وہ کمپوٹر کا بھی شوقین ہو گیا۔ کاروبار سے فرصت پانے کے بعد وہ کمپوٹر کے سامنے بیٹھا گھنٹوں طرح طرح کے گیم کھیلتا۔ کچھ دنوں میں اس نے انٹرنیٹ کنکشن بھی لے لیا تھا۔ اس طرح وہ پوری دنیا سے چوبیس گھنٹے کے لئے جڑ گیا۔ جب اس کا دل چاہتا دنیا کے ہر کونے سے شائع ہونے والے اخبارات رسائل اور ٹی وی پروگرام سے لطف اندوز ہوتا۔ دھیرے دھیرے وہ یاسمین کو کم توجہ دینے لگا، یاسمین نے بھی اس پر کوئی خاص توجہ نہیں دی۔ اس نے وقت کی تبدیلیوں کے ساتھ خود کو بھی اسی میں ڈھال لیا۔ اس نے اسے ہاشم کی وقتی مشغولیت سمجھی۔

وقت، دن، مہینہ یوں ہی گزر تا رہا۔ جب کافی دن ہو گئے تب یاسمین کو یہ سب باتیں عجیب لگنے لگیں لہذٰا وہ ہاشم کے ساتھ بیٹھ کر اسکی دلچسپیوں میں حصّہ لینے لگی۔ کھانا کھانے اور سونے کے درمیان جب اسے وقت ملتا وہ ہاشم سے باتیں کرتی۔ اپنے نرم نازک ہاتھوں سے اس کے سر پر ہاتھ پھیرتی اور اس کی تمام ضرورتوں کا پورا پورا دھیان رکھتی۔ مثلا؛ صبح غسل خا نے میں گرم اور ٹھنڈے پانی کی بالٹیوں کو رکھوانا، داڑھی کے سامان کو میز پر سجانا، وقت پر ناشتہ لگانا، اس کی پسند کے کپڑے وغیرہ الماری سے نکا ل کر رکھنا، جوتوں میں پالش کرنا۔ یاسمین کو یہ سب کام کرکے خوشی ملتی تھی۔ اس لئے اسے ہاشم کی باقی مشغولیت سے کوئی شکایت نہیں تھی۔ وہ بیحد صابر لڑکی تھی اسے ہر حا ل میں خوش رہنے کا سلیقہ خوب آتا تھا۔

ایک دن ہاشم گھر میں روبوٹ لے آیا۔ روبوٹ اس کے لئے نیا تجربہ تھا۔ وہ روبوٹ سے طرح طرح کا کام لینے لگا۔ جب اسے کسی چیز کی ضرورت ہوتی وہ روبوٹ کو حکم دیتا پانی گرم کر لاؤ، روبوٹ پانی گرم کر کے لے آتا، وہ حکم دیتا داڑھی کا سامان لے کر آؤ، روبوٹ داڑھی کا سا مان لے آتا، روبوٹ سے کہتا الماری سے کپڑے لے آؤ، وہ کپڑے لے آتا، میرے جوتوں پر پالش کر دو، جوتوں پر پالش ہو جاتی، ناشتہ میز پر لگاؤ، ناشتہ میز پر لگ جاتا۔ غرضکہ وہ ہر کا م روبوٹ سے لینے لگا جسے یاسمین بڑی دلچسپی سے کرتی تھی۔ یہاں تک کہ جب وہ گھر واپس آتا اور سونے کا وقت ہوتا تو روبوٹ سے کہتا سر دباؤ اور روبوٹ اس کا سر دبانے لگتا۔ گویا اس کی پوری زندگی روبوٹ کے ارد گرد گھومنے لگی۔ وہ روبوٹ کا اس قدر عادی ہو گیا کہ اسے یہ خیال ہی نہیں رہا کہ اس کی ایک بیوی ہے۔ ایک بچہ ہے اور اس کے والدین ہیں۔ نہ تو اسے دوست احباب کی کمی محسوس ہوئی اور نہ ہی گھر کے کسی فرد سے اسے دلچسپی رہی۔ وہ اس عجیب و غریب دنیا میں اس قدر محو گیا کہ اس کے بغیر اس کا ایک پل بھی گز رنا مشکل ہوگیا۔

یاسمین اس نئے سوتن کی آمد سے فکر مند رہنے لگی۔ اس نے تو اس کی دنیا پر پوری طرح قبضہ کر لیا تھا۔ اب اس کے پاس ہاشم کے لئے کوئی کام ہی نہیں تھا۔ ہر لمحہ اسے تنہائی کا کرب ستانے لگا، وہ بجھی بجھی سی رہنے لگی۔ سنجیدہ مزاج یہ لڑکی شکایت کرے بھی تو کس سے کرے۔ ہاشم کے پاس وقت ہی کہاں تھا کہ وہ اس سے اپنے دکھوں کو بانٹ سکے، اس سے شکایت کر سکے، اسے ذمہ داریوں کا احساس دلا سکے۔ ہاشم کو ایک لمحہ بھی یاسمین کا خیال نہیں آتا۔ ہاشم کی بے ر خی نے یاسمین کو توڑ کر رکھ دیا۔ اس کا سسرال میں رہنا نہ رہنا سب برابر تھا۔ بوڑھے ساس سسر ان ساری باتوں سے بے خبر مہینوں درگاہوں اور خانقاہوں کی زیارت کے لئے نکل جاتے۔ گھر کی خبر انہیں مو بائل سے مل جاتی۔ ان کی زیادہ تر باتیں یاسمین سے ہوتیں۔ یاسمین کے دل میں کئی بار آیا کہ وہ یہاں کے حالات سے ساس سسر کو واقف کرا دے پھر وہ اپنی عادت سے مجبور ہو کر خا موش ہو جاتی اور انہیں ہر طرح سے مطمئن کر دیتی۔ جب حالات میں کسی طرح کی کوئی تبدیلی نہیں آئی تو ایک دن یاسمین نے مائکے جا کر رہنا بہتر سمجھا۔ وہاں جانے میں بھی اس کی مصلحت تھی۔ اس نے سوچا کچھ دن ہاشم کی زندگی سے دور رہے گئی تو ممکن ہے اس کے دل میں اس کا کوئی خیال آے اور وہ اسے لینے کے لئے آ جائے لیکن جب کئی مہینے گزر گئے اور ہاشم نے اس کی کوئی کھوج خبر نہیں لی تو خود کی زندگی سے بیزار رہنے لگی۔ اس کا کسی کا م میں دل نہ لگتا۔ وہ قریب قریب با لکل خاموش ہو گئی، اس کی صحت پر بھی اس کا اثر پڑنے لگا۔ اس کے دماغ میں کئی دفعہ یہ بات آئی کہ وہ اپنی زندگی کو ختم کرکے ہاشم سے ہمیشہ ہمیشہ کے لئے دور چلی جائے، مگر پھر وہ اس غلط قدم پر کانپ جاتی کیونکہ وہ مسلمان تھی اور مسلمان کے لئے خودکشی حرام ہے۔ اب اس کے پاس وقت اور حالات سے سمجھوتہ کرنے کے علاوہ کوئی چارہ نہیں تھا۔ وہ کچھ دن سسرال میں رہتی اور کچھ دن مائکے میں۔ وہ کہیں بھی رہے اس سے ہا شم کی صحت پر کوئی اثر پڑنے والا نہیں تھا۔ اس کے لئے تو کاروبار، ٹی وی، کمپوٹر، روبوٹ اور اسی طرح کے تمام الیکڑانک ساز و سامان ضروریات زندگی بن چکے تھے۔ یاسمین نے بھی اسے اس کے حال پر چھوڑ دینا ہی مناسب سمجھا۔ دن رات الیکڑانک ساز و سامان سے گھرے رہنے کی وجہ سے ہاشم کو اپنے کھانے پینے کا بھی ہوش نہیں رہا۔ جس کی وجہ سے دھیرے دھیرے اس کے اثرات اس کی صحت پر پڑنے لگے۔ وہ اندر ہی اندر کمزور ہوتا گیا مگر اس کا اسے ذرا سا بھی احساس نہیں تھا۔ اسے اپنی دنیا ہی حسین و جمیل لگتی تھی۔ وہ اس کی چکا چوند میں کھو کر با لکل مست ہو جاتا یہاں تک کہ اسے شراب کے نشے کی طرح حقیقی زندگی کی کوئی خبر ہی نہیں رہتی تھی۔

جب الیکڑانک ساز و سامان نے اسے پوری طرح جکڑ لیا اور اسکا ہر قدم ان کے بغیر اٹھنا مشکل ہو گیا تو اس کے دماغ کی نسیں سکڑنے لگیں۔ ہاتھ پیر میں لرزہ شروع ہو گیا۔ دھیرے دھیرے اس کے ہاتھ اور پیروں نے کام کرنا بند کر دیا۔ یہ سب دیکھ کر اس کے ہوش اڑ گئے۔ اس کی سمجھ میں نہیں آیا کہ اس کی یہ حالت کیوں اور کیسے ہو گئی۔ اس نے روبوٹ سے اپنی کیفیت کے بارے میں جاننا چاہا مگر ایسا نہیں کر سکا کیونکہ اسے حکم دینے کے لئے اسے ایک خاص بٹن دبانا تھا جو وہ نہیں کر سکا۔ وہ اپنے ارد گرد رکھے تمام الکٹرانک ساز و سامان کو اٹھانا چاہا تھا لیکن اس کے ہاتھ میں کسی بھی طرح کی کوئی جنبش نہیں ہوئی۔ اسے ایک انجانے خوف نے چونکا دیا۔

اسے اپنی زندگی کا خاتمہ قریب نظر آنے لگا۔ اس نے اپنی پوری طاقت یکجا کر کے موبائل پر نمبر دبادیا، جو یاسمین کے موبائل کا تھا۔ گھنٹی بجی۔ یاسمین نے فون اٹھایا۔ ہاشم نے یاسمین کہا اور خاموش ہو گیا۔ یاسمین نے ہاشم کی آواز پہچان لی تھی وہ بھاگتی ہوئی ہاشم کے پاس پہنچ گئی۔ اس کی حالت دیکھ کر وہ چونک گئی۔ فورا اسے ہسپتال لے جایا گیا جہاں ڈاکٹروں نے فوری علاج کے بعد میڈیکل کالج بھیج دیا۔ وہاں اچّھے سے اچّھے ڈاکٹروں کا مشورہ لیا گیا۔س ب کے بہترین مشوروں سے جب علاج شروع ہوا تو ہاشم کی حالت سدھرنے لگی۔

دھیرے دھیرے وہ با لکل ٹھیک ہو گیا لیکن اب اسے اپنی غلطی کا بری طرح احساس ہو چکا تھا۔ اس نے الیکڑانک ساز و سامان کے استمال سے منہ موڑ لیا۔ پھر بھی روبوٹ اسکے دماغ پر چھایا رہا۔ اس نے اسے اپنے ذہن سے ہمیشہ ہمیشہ کے لئے نکالنا چاہا اور اس نے یاسمین کو ہی روبوٹ کا نام دے دیا۔ اب وہ ہر ضرورت کے لئے روبوٹ کو حکم دیتا ہے اور اس کا ہر حکم یاسمین مسکراہٹ کے ساتھ پورا کر دیتی ہے

Published inعالمی افسانہ فورممعین الاسلام صوفی بستوی