Skip to content

رنگِ گِل

عالمی افسانہ میلہ 2015

افسانہ نمبر 124

وسیم عقیل شاہجلگاؤ ں مہاراشٹر ٗ انڈیا
رنگِ گِل

جیسے ہی میرے حواس پر کسی شئے نے آج سنیچر ہونے کی دستک دی ،میں خود کو کو ستی ہوئی کچن میں داخل ہو گئی۔جہاں بلا غرض قمقمو ں کی بھر پور روشنی کے طفیل شیلف میں سجا ہر ایک برتن چمچما رہا تھا ۔یوں لگ رہا تھا جیسے یہ سب میری حماقت پر کھلکھلا رہے ہوں۔ میں نے دیوار پر ٹنگی گھڑی کو ایک لمبی نظر سے نانپا اور بڑی پھرتی سے کام میں جُٹ گئی۔کانٹنے چھلنے کے مرحلے سے گزر کر آٹا گوندھا ،چکن چڑھایااور جلدی جلدی اس میں حسب ضرورت اشیاء کو مناسب مقدار سے ڈالنا شروع کیا۔یکایک عجلت میں کسی شئے کے ضرورت سے زائد حل ہو جانے کا خدشہ ہوا ۔ ۔ ۔۔۔! لمحہ بھر اپنے ذمہ دار ذہن سے گفتگو کرنے کے بعد میں نے یک لخت چمچے کی مدد سے شوربہ کے چند قطرے ہتھیلی پر اتارے اورایک چسکی لی۔’’ سی سی۔۔ ہاں ۔۔ سی ۔۔ہاں۔!‘‘ انہیں درد آگین آوازوں سے منہ کھُل اٹھا ۔ میں نے سر پیٹ لیا ۔یا خدا! کیا قیامت آن پڑی۔ اضافی مرچ نے تو قورمے کو خاصہ تیکھا بنا دیا ۔۔۔!

تیز۔ ۔ ۔۔! شاکرکے مزاج کی طرح، بھولی بھالی معصوم صورت پر تیکھے تیور کی چھپی ہوئی تلوار ،جو مجھ کمزور کے مقابل ہی بے نیام ہوتی ہے۔کبھی کوئی چیز وقت پر میسر نہ آئے تو بس تہلکہ مچ جاتا ہے ۔میرے ہر فعل میں جناب کی عیب جوئی آپ ہی کا فطری فن ہے۔خواہ کام کتنا ہی حسن و خوبی سے انجا م پایا ہو۔ اور تو اور آفس کا سارا ٹینشن بھی شکا یتو ں کی شکل میں مجھ پر ہی برستا رہتا ہے۔

’’ثنا ۔۔۔تمہیں یہ نہیں آتا،وہ نہیں آتا۔‘‘

’’اس کا ڈھنگ نہیں اس کا سلیقہ نہیں۔۔۔‘‘

یا پھر۔ ۔۔۔

’’ایسا کھا نا تو قیدیوں کو بھی نہیں دیا جاتا ،اتنا نمک!اس قدر بد ذائقہ! ۔‘‘ کھانے کے معاملے میں تو شاکر حد درجہ بد اخلاقی پر اتر آتے۔کبھی کھانے سے منہ پھیر لیے تو کبھی ٹھکرا کر چل دیے۔یوں تو میں اُنھیں زندگی کے ہر گوشے میں پورے خلوص کیساتھ تسکین پہچانے کے لیے کمر بستہ ہوں ۔اور اپنے وجود کا سبب بھی یہی سمجھتی ہوں۔ لیکن وہ کونسی کوتا ہیاں ا ور مجبوریاں ہیں جن کے سبب میں بَلاکش بنی ہوئی ہوں؟۱۴ سالہ بیاہتا تجربہ بھی اس سوال کو حل کرنے سے قاصر ہے۔یہ میری کم فہمی ہے ،یا مظلومی ؟ یہ بھی ایک اورچبھتا ہوا سوال ہے ۔۔۔۔

بہر کیف ہفتہ والے دن آفس کے معمولاََ ہا ف ڈے ہونے کی صورت میں جناب بہت جلد ہی تشریف لے آتے ۔جس کی وجہ سے دیگر خانگی سرگرمیاں اتھل پتھل تو ہوتی ہی ہیں ، ساتھ ساتھ کھانا بنانا اور کھانے کا وقت بھی قبل از وقت واقع ہوجاتا ہے ۔اِس دن مجھے وقت کا خاص خیال رکھنا ہوتا ہے۔ یوں کہہ لو کہ سنیچر میرے لیے امتحان کا دن ہے۔ لیکن آج۔۔۔۔! اس سانحہ کے سبب درپیش آنے والے حالات نے میرے نا تواں وجود میں قربانی کے جانور کی سی کیفیت طاری کردی تھی۔لیکن پھر ہمیشہ کی طرح میں نے خود سے صلح کر لی اور ستیہ گرہی کی طرح سزا بھگتنے کیلیے تیار ہوگئی۔ویسے بھی یہ آئے دن کی ’ سر مغزی ‘ہے ۔ مجھے سنبھلنے میں زیادہ دیر نہیں لگی۔میں محو فکر تھی تو اپنی بیٹی میں جو بڑا سابیگ لٹکائے ،خالی پیٹ ،بجھے بجھے قدموں سے گھر آئے گی۔اور ہر چیز کو پرے رکھکرپہلے کچن کا رُخ کرے گی۔

فاطمہ کا خیال مجھے کئی سوالوں کے ساتھ جھنجھوڑ نے لگاکہ آج وہ جس بلند وبالا، معیاری اور تکنیکی تعلیم کہلانے والے علم سے خود کو سینچ رہی ہے ،کیا اُسکا نصاب اخلاقیات کے محور پر ہے؟اگر ہے تو فاطمہ ان کسوٹیوں پر کس درجہ کی شاگردہ ہے ؟مگر سوال یہ بھی ہے کہ’’ کیا حقیقتاََصبرو تحمل،متانت و سنجیدگی، عا جزی اورصلہ رحمی وغیرہ کے اخلاقی باب کتابوں کے اوراق سے ہی میدان عمل میں آتے ہیں ؟‘‘

شور بہ کو چمچہ سے مخصوص اندازمیں ہِلاتے ہِلاتے میں اِنہی سوالوں کے ماخذات پانے، اپنے اسی چمچہ کو ساتھ لیے ماضی کے اُس گھر میں داخل ہو گئی جہاں میں صرف ۱۳ سال کی تھی ۔رسوئی کے ہنر سے ناواقف ،لیکن پیاری دادی کے حکم پرچولھا پھونک رہی تھی۔اُس گھر کی چھت پُٹھوں ،ٹنٹیلوں‘ سے اور دیواریں ’مٹی ‘سے بنی ہوئی تھیں۔ محدود ضرورت سامان ہی اس کی زینت تھا۔ ا و ر دھوپ کی تپن و بارش کا قہر برداشت کرنے کے عوض ملے چند سِکّوں سے خریدی ہوئی جائداد بھی یہی تھی۔ دو کمروں پر مشتمل اُس سکون خانے کی پچھلی کھڑکی سے لہلہاتے کھیتوں کا نظارہ دل کو موہ لیتا ، گھر کے آزو بازو بڑی سی خلاء چھوڑے اِسی طرز کے اور بھی مکانات کا دراز سلسلہ چلا جاتا تھا،وہاں میری ہم جولیا ں رہا کرتی تھیں۔ سوکھی ندی میں جگہ جگہ پگڈنڈیاں نکل آئی تھیں ۔ گاؤں کی سڑکیں کچی نہیں تھیں البتہ خودداری و ایمانداری کے ثمروں سے لدے انسانوں کے قوی بوجھ کو جھیل جھیل کر اوبڑ کھا بڑ ہو گئی تھیں۔ سڑکیں اپنی دونوں طرف نباتاتی زندگیاں لیے بس اسٹاپ سے ہو تی ہوئی چھوٹی شاہراہ سے مل جاتی تھیں۔یہ ہمارے گاؤں کا کنارہ کہلا تا تھا۔لیکن رونق بھی سب سے زیادہ یہیں تھی۔شام ہوتے ہی یہاں بازار سج جاتے،عورتیں کھیتوں سے لوٹ کردکانیں لگاتیں،بس ا سٹاپ کی دیواروں سے چائے،ناشتے کی ہوٹلوں اور پان تمباکو کی دکانوں پر زندگیاں منڈلانے لگتیں،ا سٹاپ کے عین مقابل چبوترے نمامیدان میں گرام سبھا کی مجلس لگتی۔جہاں سرپنچ محترمہ شاردہ تائی اپنی موثر تقاریر اور حِکمتِ عملی کے زیرِ اثر مسلسل۲۰ سالوں سے عوام کے دلوں پر راج کرتی آرہی تھیں۔ دکانوں کی قطار ایک خستہ حال عمارت کی بوسیدہ دیوار پر ختم ہوجاتی تھی۔یہ خستہ حال عمارت سرکاری اِسکول کی تھی جو ریاستی سرکار کی بد حالی بیان کر تی تھی، مگرپختہ تعلیم سے آراستہ یا تعلیمی صحت مند اسکول تھا۔ یہ کمال صنف نازک کی دسترس میں تھا۔’’ ہیڈ مسٹریس سلمہ میڈم اورمدرسہ کی دیگر استانیوں نے اسکو ل کو تعلیمی معنویت بخشی تھیں‘‘۔ دو مرد ا سا تذہ بھی تھے۔ گاؤں میں یہ اکلوتا اسکول تھا جہاں میں ہفتم اور عائشہ پنجم جماعت کی طالبہ تھی۔

عائشہ اور میں دونوں بہنیں دادی کے ذمہ تھیں۔جسے دادی نے اپنی بچی کھچی زند گی کا مقصد سمجھا تھا۔ہمارے پیٹ اور زندگیاں پالنے کے لیے وہ شیرنی جیسی صِفات رکھتی تھیں۔اُن کے ایثار نے ہمارے دل میں اُ نھیں والدین کی جگہ عطا کر دی تھی۔ابّو معاشی بدحالی کا شکار،امّی کو لیے خانہ بدوشوں کی زندگی گزارنے پر مجبور تھے۔وہ قریب کے کسی شہر میں محنت مزدوری کرتے تھے۔مہینہ دو مہینہ کے درمیان اِس سرائے میں آتے او ر ضروریات زندگی مہیا کر کے واپس اپنی منزل کو کو کوچ کر جاتے۔ ہر چند کے عورتوں کی تعلیم و ترقی کے وافر مواقع شہر میں موجود تھے۔لیکن شہر کی زندگی کو جانے ابّو کن زاویوں میں رکھتے تھے ؟شہرمیں ہماری پرورش اور بزرگ دادی کا سایہ بھی ان کے تصوّر میں نہیں تھا۔۔ ۔۔خیر پتہ نہیں کن وجوہات کی بنا پر میری جوانی نے شہر کے رنگ و بہار دیکھا اور کب شاکِر کی امّی مجھے دلہن بناکر اپنے مہذب گھرانے میں لے آئی۔۔۔ پتہ ہی نہ چلا۔۔۔۔ کیا کیا سپنے پرو لیے تھے میں نے خو شیوں کی اِس کچی ڈور میں۔۔۔۔

ہم دونوں دختروں سے جدائی میں امّی کے جذبہء مادر کا باندھ اُس وقت ٹوٹ پڑتا جب وہ’ شہر واس‘ گزار کر گھر آتیں تووالہانہ اندازمیں ہمیں چومنے چِمٹا نے لگتیں۔’’امّی کی پوری زندگی کسمساہٹ،جدوجہد ،پریشانیوں اور قربانیوں کا مَسکن تھی۔لیکن ایک حرفِ شکوہ بھی اپنے خاوند سے نہ تھا۔سوکھی روٹی بمشکل دانتوں سے توڑتی مگر آسانی سے چلنے والی زبان کو بطور احتجاج کبھی حرکت نہ دیتیں۔امّی زندگی بھر ابّو کی مجبوری اور بے بسی کو صبر و شکر کا لبادہ پہناتی رہیں۔فاقوں میں بھی امّی ہی تھیں جن کے دِ لاسوں سے ابّو شِکم سیر ہوجایا کرتے تھے۔‘‘

اُس دن راشن کی اُس واحد سرکاری دکان پر میں اپنی دادی کا ہاتھ تھامے قطار میں کھڑی اپنی باری کا انتظار کر رہی تھی۔ شاید ضعیف عورت کے کمزور کاندھوں نے مجھے یہاں لا کھڑاکیا تھا۔دن کے گیا رہ بج چکے تھے سورج کی شعاعوں میں حرارتِ تپش تیز سے تیزتر ہوتی جا رہی تھی۔ قطار میں کھڑی دوسری عورتیں اس ظالم آگ سے بچنے کی حتی الامکان کوشش کر رہی تھیں ۔ میں ننگے پاؤں تھی ۔ میرا وجود چڑھتی دھوپ میں ڈھول کی مانِند دونوں سمتوں سے چٹکے ،پھٹکے کھا رہا تھا۔قطار چیونٹی کی رفتار کے موافق آگے کو بڑھتی جا رہی تھی۔اسی اثنا میں دادی نے مجھے گھر جاکر کھانا بنانے اور عائشہ کو ساتھ لے کر اسکول جانے کو کہا۔ یہ جانتے ہوئے کہ مجھ میں ا بھی کچن کی ذمہ داریوں کو انجام دینے کی خاص صلاحیت نہیں ہے۔

دادی خود درد سہہ کراوروں کورا حت پہچانے کے جذبہ سے سرشار تھیں،اور وہ زندگی بھر سے اٹھاتی آئی خودداری کے بوجھ کو بھلا کیسے میرے معصوم شانوں پر رکھتیں؟’’یا یہ ہو سکتاہے کہ دادی میرے پیروں کے تلوؤں پر سُلگتی زمین کی تپِش کو اپنے کلیجہ میں محسوس کر رہی تھیں۔‘‘ میں چوکڑیاں بھرتی ہوئی گھر کی چوکھٹ تک آ پہنچی۔جلدی جلدی چولھا جلا کر کھانا بنانے کی ہلکی پھلکی مشق کا امتحان دینے بیٹھ گئی۔’ ’ سِرکہ‘‘ بنانے میں آ سانی تھی اور کچھ کچھ میری واقفیت بھی، لیکن تکمیلی سرگرمیاں انجام دیتے ہوئے میری ناقص عقل نے ضرورت سے زیادہ مرچ پاؤڈر ڈال دیا۔ حالانکہ ہانڈی سے اٹھتی تیکھی بھانپ سے میری کھانسی رکنے کا نام نہ لیتی تھی۔لیکن تجرباتی لا شعور ی نے اس کے تیکھے پن کو میری نو مولود فہم سے بالا تر رکھا۔وقت کا ادراک رکھنے میں مجھے یہ بھی فرصت نہ تھی کہ اسے ایک بار چَکھ لوں۔۔۔۔یا یہ بھی میری کم عقلی تھی ،یاد نہیں ۔

ہمارے یہاں اسکولوں میں طلبہ کو ’ مڈ ڈے میل‘ کے طور پر خام اناج تقسیم کیا جاتا تھا۔تب بد مزہ اور نہ ہی ضائع شدہ اناج سے بنے کھانے کا معاملہ سر اٹھاتا ۔بلکہ یہ خام اناج غریب بچوں کے ساتھ ساتھ گھر کے دوسرے افراد کے پیٹ پر بھی پتھر باندھنے جیسا تھا۔ خیر میں نے دادی کے لیے ہانڈی میں کچھ رکھ چھوڑااورہم دونوں کے ٹفن کوسیر کر کے عائشہ کا ہاتھ پکڑ ے ا سکول کو روانہ ہوگئی۔

درمیانی وقفہ میں حسب معمول ہم تمام سہیلیاں اسکول کی ہر دِل عزیز ’مِس نغمہ‘کے پاس اپنا اپنا ٹِفن ٹیسٹ کروانے پہنچیں۔لیکن اتفاق سے مِس آج صاحب ٹِفن تھیں۔دراصل محترمہ کا روزانہ ٹِفن نہ لانے کا معمول تھا۔وہ ہر روز ہم پینتیس ،چالیس طالبات کے لنچ باکس سے ایک دو لقمے بنام ذائقہ لیا کرتی تھیں۔مطلب کل مِلاکر ’بھوک فِنش‘۔مگر آج ہم بھی بضد ہوگئے،اور اپنااپنا ٹِفن بیک وقت مِس کے منہ کے سامنے لے آئے۔ اور۔۔بالآخر ۔۔۔۔۔

’’ واو ،گُڈ ‘‘

’’ہا ں یہ بھی سُپر ہے!‘‘

’’بس بابا۔‘‘

’’ اچھا! تم بنائی؟‘‘

میں نے بھی اپنا باکس مِس کے منہ پر داغہ۔

’’گُڈثنا ‘‘ کہتے ہوئے آپ نے جیسے ہی چمچہ منہ میں ڈالا چہرہ سپاٹ ہو گیا،نظریں چھت ٹٹولنے لگیں اور چلتا منہ رک گیا۔ ہم تمام اس طِلسماتی تغیّر کے معنی سمجھ نہ پائے ۔اور نہ ہی یہ سمجھ سکے کہ مِس نغمہ نے اپنا ٹفن میرے ٹِفن سے کیوں تبدیل کر دیا۔

سلیقے سے سجے ٹِفن میں کھانا نہایت نفاست سے بنایا گیا تھا۔ اور ذائقہ دار اتنا کہ جی چاہتا تھا کہ کسی کو بھی نہ دوں ۔ لیکن مِس کا لذیذ کھانا میں نے بطور تبرک سب سہیلیوں سے شیئر کیا۔کھانے سے فراغت کے بعد کچھ بچّے دالان میں اور باقی اسکول کے وسیع میدان میں تتر بتتر ہوگئے ۔ تقریباََسبھی جماعتیںَ طلبہ کے شور و غل سے خالی ہو چکی تھیں۔ میں نے مِس کا ٹِفن نہایت احتیاط سے دھویااور مدرسہ کے اس کمرہ میں داخل ہوئی جہاں طلبہ کا داخلہ ممنوع تھا۔ مِس کمرے کی پر سکون فضا ء میں خاموش بیٹھی پتا نہیں کن خیالوں میں گم تھیں۔میں نے قریب جاکر خالی ٹِفن مِس کے سُپرد کیا۔لیکن اُس وقت آپ کے چہرے پر لیپے ہلکے پاؤڈر کے پا ر سُرخ پڑ چکی رنگت ،لال سوجی ناک ا ور خون بھری آنکھوں کے دل سوز منظر نے مجھے بغیر حرکت دیے اُسی جگہ ٹھہرنے پر مجبور کر دیا‘میرا شک بھرا مَن کچھ جاننے کی چاہ میں تھا کہ مِس نغمہ اپنے شگُفتہ لہجہ میں گویا ہوئیں۔

’’کھانا تم نے بنایا تھا؟‘‘

یہ سنتے ہی میرے بدن میں جھر جھری سی لہراگئی۔ بغیر کچھ کہے میں اپنے وجود کے پورے بل سے صرف ہاں میں سَر ہلا پائی۔ مِس نے مسکراتے ہوئے دستِ شفقت میرے سر پہ پھیرا۔ انجانی شرمندگی اور اس درد کے ساتھ میں اپنا ٹِفن باکس لیے وہاں سے نکلی کہ’’ اپنی نا معلوم مگر اہم شئے کو کھو چکی ہوں۔۔۔۔!‘‘

میری سوالیہ نظروں کا مرکز میرا ٹِفن تھا جس میں مِس نغمہ کا جھوٹا ابھی بھی ریل رہا تھا۔ جسے خود میں نے بنا یا تھا لیکن اس کا مزہ اب تک میری زبان نے چکھا نہ تھا۔ میں نے شک کے گڑھے کو بھسم کرنیکی غرض سے ایک لقمہ اپنے منہ میں کیا ڈالا میرے پیروں تلے جیسے زمین سرک گئی !اس قدر تیکھا کہ زبان پر رکھتے ہی منہ کے صوبے میںآگ کا دریا بہہ گیا اور زبان پانی پانی کرنے لگی۔میں حیرت و سوال کی ملی جلی نظروں سے اُ س کمرے کی طرف دیکھنے لگی جہاں میری مشفقہ اُستانی مِس نغمہ بیٹھی تھیں۔ فی ا لواقعہ عائشہ کے حال نے بھی مجھے مضطرب کر دیا۔ جانے اس پر کیا بیتی ہوگی!میں ہوا پر سوار ہوئے کمرۂ جماعت پنجم کی طرف دوڑی۔کمرہ خالی تھا،لیکن آخری دَری پر ایک معصوم نسوانی سایہ دھیرے دھیرے پور ے انہماک کے ساتھ ایک پہاڑ کو عبور کرنے کی زد پر تھا۔ وہ لقمہ منہ میں رکھتی اور پانی کے گھونٹ سے اسے حلق کے نیچے اتارتی جاتی ۔ایسا کرنے میں وہ بد حال نظر آرہی تھی ۔ اُسکی بہتی ناک بار بار سڑکنے رگڑنے سے لال پڑ چکی تھی، چہرہ پسینہ میں شرابور تھا اور آنکھیں بھی برسے برسے سُرخ پڑ چکی تھیں ۔

یہ وہ موقع تھا جب میں پہلی بار رسوائیت سے متعارف ہوئی تھی،جسم کربناک ولولوں سے متحرک ہو اٹھا اور ضمیر سوکھی لکڑی کی طرح چَر چَر جل گیا تھا۔ اوّل غصہ تو مجھے عائشہ کی سہیلیوں پر آیا کہ جو ہر روز اُس کو ساتھ لیے ایک حلقہ کی شکل میں ہم نوالہ ہوا کرتیں اوربتیاتی ہوئیں اپنا اپنا لنچ باکس پورے دائرے میں گر گر گھمایا کرتیں تھیں ۔پھر آج وہ سب میری بہن کو اکیلا کیسے چھوڑ گئیں؟ لیکن اِس اِمکانی خیال نے میری کَسی ہوئی مٹھیوں کو ڈھیلا کر دیاکہ شاید عائشہ اپنا ٹِفن پہلے ہی کھول چکی ہوگی۔

چھُٹّی کی صدا کانوں میں پڑتے ہی ایک شور کے ساتھ اسکول خالی ہوگیا۔میں بھی عائشہ کو لیے بھاری بھاری قدموں سے گھر کی جانب چل پڑی ۔سایے لمبے ہو چلے تھے۔ٹھنڈی ہوتی زمین پر میرا ہر قدم جیسے جسم کے اَنگ اَنگ سے ٹپکتی شرمندگی کا نشان بنائے چلتا تھا۔ باطن میں مچے تلا طُم نے میری زبان کو مقفل کر دیا تھا ۔اور وہ ہے کہ میری اس کیفیت سے متضاد، پر مسرّت کھیلتی کودتی چلی جا رہی تھی۔اُس کی آنکھیں بھی شکایتی بصیرت سے عاری تھیں۔’’بلکہ آج اُس کا رویہ میرے ساتھ کافی حد تک دوستانہ تھا۔حالانکہُ اس نے ہمیشہ کی طرح مجھ سے جھگڑنا چاہیے تھا۔یا وہ میری غلطی پر خفا ہوجاتی اور اپنے مخصوص لہجے میں ڈانٹتی بھی۔’’لیکن جانے آج اُسے کیا ہوگیا تھا،اُس کے دل میں صَبراو رُ شکرِ خدا وندی کے جذبات ٹھاٹیں مارنے لگے تھے!‘‘ جنھیں دیکھ میرا دل بھر آیا۔اور یہی کیفیت رات میں سونے سے قبل تک رہی جب دادی نے میری ناکام کوشش کو خوب سراہا اور ماتھے پر حوصلہ افزائی کی سَندثبت کی تھی ۔ وہ الفاظ مجھے آج بھی یاد ہے جنہیں سنتے ہی میں دادی کے تھر تھراتے وجود میں اس طرح چمٹی تھی جیسے خوف زدہ بچے اپنی ماں کی چھاتی میں خود کو سمونے کی کوشش کر تے ہیں ۔ دل نے چاہا کہ دادی کے دل کے کسی عمیق گوشہ میں اپنے معصوم وجود کو چھپا لوں ۔

ایک کُنکُنے آنسو نے میرے رُخسار پر دستک دی۔میں اپنے وجود میں اچانک مچے اِس سرد انقلاب کے سہارے ہوش میں آچکی تھی۔ نگاہیں اب بھی پَکتے چِکن کے سالن پر گڑی ہوئی تھیں اورچمچہ بھی اپنی پہلی والی حالت میں گول گول گھومے جا رہا تھا۔لیکن خیال غروب ہو چکے سورج کے بعد روشن ہونے وا لے ستاروں میں کھویا ہوا تھا۔ میں ہانڈی کو کافی دیر تک متلاشی نظروں سے دیکھتی رہی،پھر بغیر کمی بیشی کیے ، ایک فیصلہ کُن انداز میں اُسے پتلی رکابی سے ڈھانک دیا ۔

گھر کی فضا میں چھایا ہواہولناک سناٹا یہاں ڈھائے گئے مظالم کی داستان سنا رہا تھا۔ میں سب کچھ سہہ گئی ۔۔! اس خیال سے کہ یہ میرے خون کا خاصہ ہے۔ شاکر کے نا شکر ے مزاج اورغیر فطری اصولوں نے وہ ریکھائیں پا رکی تھیں جس کی توقع کم از کم اُن کے جیسے اعلیٰ تعلیم یافتہ مردوں سے تو نہیں کی جا سکتی تھی۔ بھلے ہی بہتے ہوئے اشکوں کی روانی میں جَبرکے ٹھہرے ہوئے منا ظر نہا یت شفاف دِکھائی دے رہے تھے،اور چہرے پر کچھ تازہ نشان اس ا لمیہ پہ احتجاج گزارتھے ، لیکن نہ میں رنجیدہ تھی اور نہ ہی اپنی بکھری ہوئی ہستی کو سمیٹنا چاہتی تھی۔ فقط بے چین تھی اورپھڑپھڑاتی ہوئی چڑیاکی طرح اپنی بیٹی فاطمہ کی منتظر تھی۔ تبھی دور سے آتی ہوئی اُس کے جوتوں کی آوازنے میری سانسوں کو تیز کر دیا ۔ د ھڑکنوں کی رفتار روانی سے دوڑتی ہوئی ٹرین کی مانندہوگئی۔

فاطِمہ ہاتھ منہ دھوئے دسترخوان پر سوار ہو چکی تھی۔شدید بھوک سے اس کا چہرہ مُرجھا گیا تھااورپیٹ اندر کو جھول بنائے ہوئے تھا۔بھوک کی اِسی شدّت نے اُسے اسکول یونیفارم تبدیل کرنے کا بھی صبر نہ دیا ۔۔۔۔ !میں نے کسی داسی کی طرح اسے کھانا پروسنا شروع کیا ۔’’اُس نے دو پٹّہ سلیقے سے اوڑھا ، بسمہ اللہ پڑھ کر لقمہ اپنے منہ میں ڈالااور یکسر ساکت ہوگئی ، سر کو جُنبش دیے بغیر اپنے طِفلانہ انداز میںآنکھوں کو دائیں بائیں گھمانے لگی۔ پھراس نے منہ کھولے اپنی تکلیف کو مخصوص سُروں کی آواز دینا شروع کیا۔‘‘ چہرے پر آتے جاتے عجیب رنگ اُس کے اندرکے پوشیدہ کرب کو ظاہر کرنے لگے تھے ۔چند لمحے اسی طرح گزارنے کے بعداُس نے پانی کے چند گھونٹ حَلق میں اُنڈیلے اور نظریں برتن پر مرکوزکیے اطمینان کے ساتھ کھانے میں منہمک ہوگئی۔’’ پھر بڑی دیر تک سُرسُراتی ہوئی کھاتی رہی ۔‘‘

اورمیں ۔۔۔۔کِچن کے دروازے میں کھڑی تھی ۔جہاں سے فتح کی وہ ساعتیں ڈبڈباتی آنکھوں سے صاف دکھائی دے رہی تھیں، جس نے مجھے اپنے ذہنی اِنتشار سے نجات دلائی ۔یوں محسوس ہو رہا تھا جیسے گھر کی فضاء اُس مٹّی کی بھینی خوشبو سے معطّر ہوگئی ہے جس مٹّی سے میرے پُرکھوں کی نَسلوں کو گوندھا گیا تھا۔

Published inعالمی افسانہ فورموسیم عقیل شاہ