Skip to content

رفتار

رفتار ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔مریم ثمر

ضروری سامان اور سبزی لینے کے بعد میری متلاشی نگاہیں بغیر سواری کے رکشہ کی تلاش میں تھیں ۔ ۔ سامنے سڑک پر بہت سے رکشے آجارہے تھے ۔ کچھ سواریوں کے انتظار میں رک جاتے کچھ مایوس ہوکر چل پڑتے ۔ چند ایک اپنی ہی دھن میں مست چلتے چلے جاتے ایسے رکشے والوں پر مجھے ہمیشہ ہنسی آیا کرتی ۔ بھلے آدمی تم رزق کی تلاش میں نکلے ہو اپنے آس پاس بھی دیکھ لیا کرو ۔ تھوڑے انتظار کے بعد ایک رکشہ عین میرے قریب آکرر کا اور پوچھا ”کہاں جانا ہے ۔؟” میں نے گھر کا پتہ بتایا ۔
”اچھا سنو وہ سامنے سے سامان بھی رکھوانا ہے ” میں نے رکشے پر بیٹھتے ہوئے کہا ۔
اس نے جواب دینا مناسب نہیں سمجھا سر ہلایا اور رکشے کو مطلوبہ دوکان کے سامنے روک دیا ۔
سامان رکھنے کے بعد بولا ۔” دیکھ لیں پورا ہے” ۔
میں نے سامان کا جائزہ لیا ۔ نظروں ہی نظروں میں تعداد کو پورا کیا اوراثبات میں سر ہلادیا ۔رکشے والے نے کندھے پر پڑے رومال کو اتارا اس سے گرمی میں آئے پسینے کو صاف کیا رومال کو دوبارہ کندھے پر رکھا اور رکشہ چلا دیا ۔
میں نے ساتھ رکھے سامان پر مضبوطی سے ہاتھ جما دیا تاکہ وہ ٹوٹی پھوٹی سڑک پر بری طرح اچھلتے کودتے کہیں گر ہی نا جائے جیسے ہی کچھ بہتر سڑک آئی رکشے نے رفتار پکڑ لی اور صحیح معنوں میں ہوا سے باتیں کر نے لگا ۔چونکہ ٹریفک بھی کچھ خاص نہیں تھی ۔ اس لئے اس کی رفتار میں اضافہ ہوتا چلا گیا ۔وہ ہارن پر ہارن دیتا اور آگے ہی آگے بڑھتا چلا جارہا تھا ۔ میں نے اسے کچھ کہنا اور روکنا مناسب نا سمجھا، بس ایک ہاتھ سے سامان اور دوسرے ہاتھ سے ساتھ بنے ڈنڈے پر اپنی گرفت مضبوط کر دی ۔ ۔ چونکہ مجھے خود بھی تھرل اور تیز رفتاری بہت پسندہے ۔اس لئے میں نے اسے رفتا ر آہستہ کرنے کو نا کہا، ایک عجیب سامزہ اور ایکسائیٹمنٹ ہوتی ہے ۔ یوں لگتا ہے جیسے ساری دنیا کو شکست دے کر آپ آگے ہی آگے نکلتے جارہے ہیں ۔ یہ اور بات ہے کہ کبھی آپ کچھ زیادہ ہی آگے نکل جاتے ہیں ۔ جہاں سے واپسی کا کوئی راستہ نہیں ہوتا ۔
پچیس منٹ کا فاصلہ پلک جھپکتے میں ہی طے ہوگیا ۔
میں رکشے سے اتری گیٹ کا تالا کھولا اس دوران وہ بھی رکشے سے سامان اتار چکا تھا ۔جونہی اس کو پیسے دیئے ساتھ ہی بولا” دعا کریں” ۔ میں نے چونک کر اس کی طرف دیکھا ۔ میرے لئے اس کا یوں کہنا کچھ عجیب سا لگا ۔ ۔ میں نے اس کے چہرے کی طرف پہلی بار غور سے دیکھا ۔ سانوالا رنگ دھوپ میں سیاہ ہورہا تھا ۔ آنکھوں میں عجیب طرح کی وحشت تھی ۔اس کا چہرہ مسکینی کی سی صورت بنا میرے سامنے تھا ۔جوکپڑے اس نے پہن رکھے تھے دھوپ اور پسینے کی وجہ سے اپنا اصل رنگ چھپاتے جارہے تھے ۔
”کیوں کیا ہوا خیریت ہے ۔؟ ”میں نے تشویش سے پوچھا
” وہ گھر والے بیمار ہیں”۔ اس نے ٹھنڈی آہ بھرتے ہوئے کہا
”کیا مطلب کون گھر والے ۔ کون بیمار ہے ؟ ”۔ میں نے کچھ نا سمجھتے ہوئے دوبارہ پوچھا
”وہ جی میری بیوی بیمار ہے اس کے بچہ ہونے والا ہے۔ بڑا آپریشن ہوگا بہت خرچہ ہے ۔ بس جی آپ دعا کریں ۔” اتنا کہتے کہتے مجھے لگا کہ شاید وہ ابھی رو دے گا ۔
میں اس لمحہ عجیب سی کشمکش میں مبتلا ہوگئی ۔
پرس سے کچھ پیسے نکال کر اس کے ہاتھ پر رکھے تسلی دیتے ہوئے کہا ۔” اچھا اللہ فضل کرے گا ۔ ”
”ہسپتال والوں کو بتایا” میں نے مزید جاننے کی کوشش کی ۔
”ہاں جی انہوں نے آدھا خرچہ کم کیا ہے ”۔ یہ کہتے ہوئے اس کے چہرے پر مکمل اطمنان نہیں تھا ۔
میں خاموش ہوگئی ۔
” اس کی مدد کرنی چاہیے ۔” اچانک دل سے آواز آئی ۔
”نہیں ان کو عادت ہے مانگنے کی ”دماغ نے تنبہیہ کی
” سب ایسے نہیں ہوتے ۔” دل نے جھنجھوڑا
”تمہیں کیا پتہ ضرورت مند بھی ہے یا نہیں ۔ ”دماغ نے غصے سے ٹوکا ۔
”اگر پانچسو ہزار دے دوں گی تو کوئی فرق نہیں پڑے گا ”۔ دل نے سمجھایا
دل و دماغ کی لڑائی میں اچانک رکشہ سٹارٹ ہونے کی ٓواز آئی ۔
میں نے خیالات کو جھٹکا اور سامان سمیٹنے میں مصروف ہوگئی ۔
آج ایک دفعہ پھر رکشے کی تلاش میں تھی ۔
میں نے محسوس کیا رکشہ کی رفتار بہت کم ہے ۔ جیسے اسے مزید سواریاں لینے کوئی جلدی نہ ہو ۔ گھر کے پاس رکشہ رکا ۔ تالا کھول کے گیٹ کے اندر داخل ہوئی ۔ رکشے والے نے سامان اتارنے کے بعد پیسے لئے نظریں جھکاتے ہوئے تھکی تھکی آواز میں بولا ۔” وہ جی ابھی پچھلے ہفتے میری بیوی اور بچے کا انتقال ہوگیا ہے۔ دعا کریں .”

آزادی کے خواب
انجم قدوائی
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

سنا تم نے …… ؟ اس نے میرے سامنے چائے کا کپ رکھتے ہوئے پوچھا ’’صبح سے اسکول کا ہر بچہ ننھا سا جھنڈا لئے ننھی منی آواز میں آزادی کی گیت گاتا جا رہا ہے……‘‘
ارمین کے لہجے میں اک معصوم سی مسرت اور اشتیاق ہلکورے لے رہا تھا اس نے ہاتھ بڑھا کر ریموٹ اٹھا یا اور T.Vآن کر دیا …… ہم دونوں ناشتے کی ٹیبل پر تھے ……چائے کا بھاپ اُڑاتا کپ میرے سامنے تھا مگر دل میں اک بے کلی سی تھی۔
اب T.Vپر آزادی کے پروگرام شروع ہو چکے تھے۔ اک مشہور سنگر کی آواز گونج رہی تھی۔
’’اب کوئی گلشن نہ اجڑے اب وطن آزاد ہے ‘‘
اور میں…… اپنے خیالات میں گم ہوگیا، میرا دل نہ جانے کیوں دکھا دکھا سا ہے۔ فضا میں آج بھی جب اس گیت کے بول گونجتے ہیں تو ذہن و دل اک نئی کیفیت سے روشناس ہوتے ہیں اک جوش اک جنون، اک دلولہ اور آزادی کا احساس……
لیکن …… دل اداس کیوں ہے…… ؟مجھے اس کے پس منظر میں کچھ اور کیو ں دکھائی دے رہا ہے……؟
گولیوں کی آوازیں بچوں کی چیخ پکار ، بم کے دھما کے اور لوگوں کے بکھرتے وجود ……بے بسی لاچاری …… دکھ …… کرب ……کیا واقعی اب کوئی گلشن نہیں اجڑے گا……؟
کیا آزادی کے متوالوں نے اپنی جانیں دے کر یہ آزادی اس لئے مانگی تھی کہ آزادی اک خواب بن جائے ……اک سنہرا خواب اور اس خواب کی تعبیر اس صورت میں سامنے آئی کہ ایک گھر کے آنگن میں ایک کمزور سی دیوار اٹھا دی گئی…… اور اک ماں…… یہ کہاں برداشت کر پاتی ہے کہ اس کے بچوں میں دوریا ں ہوں……چولھے الگ ہو جائیں ……کون ماں برداشت کرتی ہے یہ دکھ……؟
کیا آزادی کی جنگ میں حصّہ لینے والوں……اپنی جانیں نچھاو ر کرنے والوں کو یہ معلوم تھا کہ دھرتی کویہ کرب سہنا پڑے گا اور وہ اس طرح خون سے لال ہوتی رہے گی۔؟
آزادی کے 69انہتر برس بعد بھی لہو سے تر ہے یہ زمین ……کاش آزادی کے نام سینوں پرگولیاں کھانے والے …… آئیں اور دیکھیں ملک کے مختلف علاقے۔ وہ دیکھیں دہلی کی تباہی، گجرات پر نظر ڈالیں ،بمبئی کا منظر دیکھیں …… یہ سب کیا ہو رہا ہے؟ کشمیر میں روز چند جوان مار دیے جاتے ہیں یہ کہہ کر کہ وہ دہشت گرد تھے ۔ سچائی پر کھنے کا کسی کا پاس وقت نہیں ۔
دہلی کے بازار وں میں کس طرح موت کا بازار گرم ہوا۔ گجرات کے لوگ آج بھی بے سہارا ہیں …… دہلی میں کیسی تباہی آئی کتنے گھر خالی ہوگئے……
ہندوستان آزاد کروانے والے آئیں اور تاج ہوٹل کے اندر حیوانیت کا ننگا ناچ دیکھیں۔
اک بے قصور رپوٹر جو کسی ایک کمرے میں بند تھی آخری وقت تک S.M.Sکرتی رہی……وہ تاج ہوٹل کے ایک کمرے میں بند تھی اور چاروں طرف ہولناک آوازیں بم دھماکے باردو کی بو…… اس لڑکی کا آخر ی میسج یہ تھا کہ ’’بس اب کوئی باتھ روم میں کو د کر آیا ہے ‘‘ اور پھر لائن ڈیڈ ہوگئی ۔ کیا ہوا ہوگا اس کے بعد۔؟
کون سوچ سکتا ہے ۔ کچھ لوگ مرنے والو ں کی گنتی مذہب اور فرقے کی بنیاد پر کرتے ہیں۔ انسانیت کی بنیا د پر نہیں ۔ مرنے والے کوئی بھی ہو ں ،ہیں تو انسان ہی ۔

پھر ہم کون ہیں انسانوں میں فرق کرنے والے ۔
کہاں ہیں دارپرچڑھنے والے آئیں اور ہندوستان کا یہ منظر دیکھیں کیسا کرب ہے کہ جگر کٹا جاتا ہے…… کتنے دلوں کے اندرآگ جل رہی ہے اور اس کی تپش سے سارا علاقہ سلگ رہا ہے۔
حملہ سرحد پر نہیں ہوتا ہے گھروں پر ہوتا ہے اسٹیشنوں پر ہوتا ہے بازاروں میں ہوٹلوں میں ہوتا ہے کیا اس دن کے لئے پورے پورے خاندان کے لوگوں نے اپنے آپ کو دار کے حوالے کیا تھا۔
سر حدوں پرسر کٹا نے والے دیکھیں ………… گھروں کے اندر چین سے رہنے والوں نے خود اذنِ حیوانیت دیا ۔آؤ ہمارے عوام کے سینے حاضر ہیں۔ چاہے وہ گجرات کا منظر ہو ، دہلی کا یا پھر بمبئی کا ………… بچوں کی آہیں ان نام نہاد نگراں لیڈران کے شراب کے جام میں ڈوب رہی ہیں جوان اور بیواؤں کی سسکیاں ان کے ناچ رنگ میں دھند لائی ہیں ماؤں کی چیخیں ان گھر کے بھیدیوں کے کانوں تک ہی نہیں پہونچ رہی ہیں کہ کانوں پر ہیڈفون چڑھے ہیں جس میں تیز موسیقی ہے لطف وانبساط ہے لوگوں کا اعتماد ریزہ ریزہ ہو رہا ہے…………
کہا ں تھیں وہ نگراں نگاہیں۔ وہ سیکورٹی جو معصوم عوام کو پریشان کرنے کے لئے ہے، نام کے لئے ہے۔
پوری دنیا کی بات کریں ۔تب بھی دلوں کو قرار کہاں ہے جب نگاہ اٹھتی ہے کشمیر،سربیا،لبنا ن، شام ،عراق ہر طرف کے حالات و واقعات سامنے ہیں پوری دنیا میں ظلم و بربریت سفاکی، آبرو ریزی ،قتل و غارت گری کے گدھ کیو ں منڈلارہے ہیں؟ امن وسکون کہاں ہے ؟ انصاف اور طمانیت اوررحم کے پودے کیوں خشک ہو گئے ہیں اور پھر جب یہ سب کچھ ہر خطے سے معدوم ہو گیا۔ امن ہتھیاروں تلے دب کر سسک سسک کر سو گیا ، انصاف کے معنی
جانب داری کے لئے جانے لگے مسرت ، طمانیت ،ر خصت ہو چکی تو اس حالت میں کون آزاد ہے؟ کہاں آزاد ہے؟
بارش نے زور پکڑ لیا تھا ۔۔۔۔تیز ہواؤں میں بوچھار برامدے تک آکر پیر بھگورہی تھی ۔۔۔کوئی جیسے تسلّی کے حرف دل پر رکھ رہا تھا ۔۔۔جیسے یہ بوندیں نئی زندگی کی ،نئی منزلوں کی ،نئے اردوں اور نئے پُر عظم حوصلوں کو دعوت دے رہی تھی ۔۔۔جیسے کہ رہی ہو ابھی بھی کچھ نہیں بگڑا ہے ۔۔۔دوستی اور صلح وآتشی لیکر سب سے گلے ملکر ایک نیا جہاں بسا نے کی جستجو کرنا ہے ۔۔۔۔سبکو ملکر اک نیا جہان بنا نا ہے ۔۔۔آگئے بڑھو اور سب ملکر ایک نئے جہان کی تشکیل میں لگ جاؤ،ابھی کچھ نہیں بگڑا ہے ۔۔دل میں کونپل سی پھوٹ رہی تھی ۔۔۔۔۔امید کی کونپل ،دوستی کی کونپل ۔
’’کاش ……کاش……ریموٹ میرے ہاتھ میں ہوتا‘‘
بے ساختہ یہ جملہ میرے منہ سے نکل گیا…………
’’ پھر تم کیا کرتے ۔۔‘‘ارمین ابھی تک چینل سرچ کر رہی تھی ۔
’’میں اک ایسا چینل فکس کر دیتا جو کبھی نہ بدل سکتا۔‘‘
’’ کون سا چینل ؟‘‘ اس کی آنکھوں میں حیرت تھی۔
’’محبت، امن ،بھائی چارے اور مسرت کا ۔اک ایسی مسرت کا جو محبت کی خوشبو سے پھوٹتی ہے ، اک ایسی مسرت جو دوست کو گلے لگا کر ملتی ہے ۔ ایک ایسی مسرت جو کسی ضعیف کا ہاتھ پکڑکر سڑک پار کروانے میں ملتی ہے۔‘‘
ارمین نے حیرت سے مجھے دیکھا …… اس نے پھر چینل چینج کیا یہاں اک اور نغمہ آ رہا تھا۔
کر چلے ہم فدا جان و تن ساتھیو
اب تمہارے حوالے وطن ساتھیو

Published inعالمی افسانہ فورممریم ثمر