Skip to content

رذیل

عالمی افسانہ میلہ 2015
افسانہ نمبر 26
رذیل
عادل فراز لکھنو
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اُس کا دماغی توازن پہلے ہی بگڑ چکا تھا لیکن جنسی زیادتی کے بعد وہ پوری طرح پاگل ہو چکی تھی۔ ورنہ اس کا لباس، چال ڈھال، رہن سہن اور بناﺅ سنگار دیکھ کر کوئی نہیں کہہ سکتا تھا کہ وہ پاگل بھی ہے۔ اب عالم کہ جگہ جگہ سے لباس دریدہ اور گریبان چاک ہو چکا تھا۔ اور اس کے بوسیدہ لباس کے ادھڑے ہوئے روزنوں سے جھانکتا ہوا اُس کا گداز جسم ، حمل کے بوجھ سے ابھر ا ہوا شکم ،خاک آلود چہرہ الجھی ہوئی زلفیں اور ہاتھ پیروں کے بڑھے ہوئے ناخن اس کی وحشت میں مزید اضافہ کر رہے تھے۔خدا جانے اسکی اس حالت کا کون ذمہ دار تھا۔ کاش زنا کرنے والوں کا منہ اگر قدرتی طور پر کالا پڑ جاتا تو مجرم کی تلاش میں اتنی زحمت نہ ہوتی۔ تونس ندی کے دو آبے سے متصل بالائی سطح پر آباد یہ قدیم گاوٗں ٹھاکروں، سیدوں، کی ایک مشترکہ آبادی پر مشتمل ہے۔ ندی کے پشت بان کے اس پار ٹھاکروں کی غیر آباد زمین پر انسانی آپدا کی شکار ہریجنوں کی ایک بستی تھی جو ان کے کھیتوں میں کام کاج کرکے اپنا گذارا کرتے تھے۔ بھینسوں کو نہلانا، گوبر صاف کرنا، ناند میں گھاس ڈالنا، بیٹھک میں جھاڑو لگانا جیسے دوسرے کام انہی کے سپرد تھے لیکن سیدوں کے گھروں میں انکا داخلہ ممنوع تھا ہاں ٹھاکروں کے کچھ گھروں میں منہ لگے ہریجنوں کا آنا جانا ضرور تھا۔
وہ کون تھی؟ کہاں سے آئی تھی؟ اسکی ذات کیا تھی؟ مذہب کیا تھا؟ اسے دیکھنے کے بعد ہر شخص کے ذہن میں یہ سوال ضرور اٹھتا تھا۔ وہ کبھی مسجد کی سیڑھیوں پر نیم غنودگی کے عالم میں پڑی رہتی اور کبھی مندر کے صحن میں بیٹھی ہوئی پجاری کی دی ہوئی پوریاں کھاتی دکھائی دیتی۔ جب اسے بھوک محسوس ہوتی وہ مندر کے صحن میں آ کر بیٹھ جاتی، پجاری اس کی میلی کھردری ہتھیلی پر ایک دو پوریاں یا حلوہ رکھ دیتا اور وہ کھا پی کر وہیں ڈھیر ہو جاتی۔ گاﺅں میں سبھی کو اس سے ہمدردی تھی۔ گاﺅں کی عورتیں اس کا ہر طرح سے خیال رکھتیں، اس کے کپڑے میلے ہوتے تو کوئی اپنی پرانی ساڑی دے جاتی، کپڑے پھٹنے لگتے تو کسی نے کرتی شلوار پہنا دی وہ پہن لی۔ پہناوے سے کبھی وہ ہندو لگتی اور کبھی مسلمان، آج کل مذہب کی پہچان پہناوے سے ہی تو ہوتی ہے نا۔ بدن بدبو کرنے لگتا تو گاﺅں کی کوئی عورت ندی میں زبردستی گھسیٹ کر اسے نہلا دھلا دیتی۔ نہا لینے کے بعد اسکا رنگ روپ ایسا نکھر آتا کہ جوان لڑکیاں اُسے حسد سے دیکھتیں، لڑکے بزرگوں کی آنکھ بچا کر اس کا حسن نہار لیتے، اور کچھ منچلے بزرگ بھی اس کام میں نوجوانوں پر سبقت کرنے میں پیچھے نہ رہتے۔ یہاں تک کہ پجاری بھی پرساد کی پوریاں اسکی ہتھیلی پر رکھتے ہوئے آشیرواد کے بہانے اسکے گال چھونے سے گریز نہ کرتا، نہ گاﺅں کا کوئی سید اسے اپنی دہلیز سے دھکّارتا اور نہ کوئی ٹھاکر۔ لیکن جب اسے پاگل پن کا دورہ پڑتا وہ وحشیوں کی طرح چیخنے لگتی، سر کے بال نوچتی، لہنگا دھوتی اتار کر پھینک دیتی ،وہ اپنے برہنہ پستانوں کو دونوں ہتھیلیوں سے خوب مسلتی اور ادھر سے گزرنے والے ہر شخص کو بڑی سخاوت کے ساتھ ژولیدہ گوئی اور مغلظات سے نوازنے میں کوئی دقیقہ فروگزاشت نہ کرتی۔ جب اُسے اس کیفیت سے افاقہ ہوتا تو وہ اپنے بکھرے بدن کو اپنے دریدہ لباس میں پھر سے سمیٹنے کی کوشش کرتی۔ پورے گاوٗں کے لوگ اسے ہمدردی کی نگاہ سے ضرور دیکھتے۔ یہی وجہ تھی کہ جب کسی کے گھر شادی بیاہ کی کوئی تقریب ہوتی تو اس کے لئے بھی کچھ نہ کچھ بھیج دیا جاتا، یوں بھیجنے کی نوبت کم ہی آتی تھی وہ خود گھر جھانکتی گھومتی رہتی۔ ہر گھر کی چوکھٹ پر اسے دن میں ایک بار ضرور حاضری دینی تھی۔ خدا جانے پیٹ میں کونسی مشین نصب تھی جتنا ملتا سب ایک بار میں چٹ کرجاتی۔ آج تڑکے اذان کے وقت اس پر پاگل پن کا دورہ پڑا تھا۔ غصہ کے عالم میں اس نے خدا کی زمین کو گھونسوں سے خوب پیٹا، مسجد کی پشت کے کھنڈر میں بیٹھ کر خوب روئی، چیخی چلائی، اس نے اپنے پستانوں کے ساتھ وہی وحشاینہ تصرف شروع کردیا۔ خدا جانے اسکی چھاتیوں میں کس جہنم کی آگ تھی۔ ایسا لگتا تھا کوئی دہکتا ہوا جوالا مکھی ہے جو ہزاروں آبادیوں کو اپنی گرفت میں لینے پر اتاولا ہوا ہے۔ مسجد میں موجود نمازی مولوی مظاہر علی کی امامت میں نماز صبح ادا کر رہے تھے۔ مگر نماز تو اس پاگل کی چیخوں کی نذر ہو گئی تھی۔ مولوی صاحب کا جی بھی نماز میں نہیں لگا، کہتے ہیں نماز میں خضوع و خشوع لازمی ہے مگر یہ بندوں کے بس کا کام نہیں پیغمبروں کے صفات ہیں۔ اس دن مولوی مظاہرعلی نے نماز کے اختتام پر اس کے لئے دعا بھی کرائی؛
” پروردگار اس غریب لڑکی پر رحم کر ،اس کے جنون میں افاقہ فرما۔“
مولوی صاحب کی دعا پر تمام نمازیوں نے تہہ دل سے آمین کہی لیکن کچھ لوگ چہ مگوئیاں کرتے ہوئے مسجد سے نکلے۔
” خدا جانے مولوی صاحب کو کیسے علم ہوا کہ یہ لڑکی ہے یا عورت ہے۔ جسم کے مختلف ابھرے ہوئے حصوں سے تو وہ پوری عورت نظر آتی ہے۔ اور چھاتیاں کیسے مسلتی ہے وہ جیسے ساری دنیا کی آگ اسی کی چھاتیوں میں سما گئی ہو “۔
کچھ مہینوں کے بعد گاﺅں والوں کو علم ہوا کہ واقعی وہ لڑکی نہیں پوری عورت بن چکی ہے، کسی نے اس کے ساتھ زنا کیا تھا۔ خبر نہیں تھی کہ اس جرم کا سزاوار کون تھا، ہاں یہ یقینی تھا کہ اس جرم کا ارتکاب اسی بستی کے کسی شخص نے کیا تھا لیکن اس بات کا علم کسی کو نہیں تھا کہ وہ سیدوں میں سے تھا یا ٹھاکروں میں سے۔ یوں تو زمانے میں سید اپنی رحمدلی کے ساتھ فیاضی کے لئے بھی مشہور ہیں ،مگر ایسے گھناﺅنے جرم کا بھلا کوئی اقبال کیسے کرتا؟ اس کا پیٹ دن بہ دن غبارے کی طرح پھولتا جارہا تھا۔ گاﺅں کے غیرت مند ٹھاکر اور سید اسکی حالت دیکھ کر تشویش میں ضرور تھے۔ حمل کے انکشاف کے بعد اس دن پہلی بار ٹھاکر ہردیال سنگھ نے مسجد کے پشت پر واقع اپنے موروثی کھنڈر میں اسے گھسنے نہیں دیا جہاں وہ استراحت کرتی تھی۔ اس کے خلاف ایک عجیب فتنہ نے اپنا سر اٹھانا شروع کیا اور دھیرے دھیرے مسلکی فتنہ کی آگ نے اس وحشت زدہ کو اپنی زد میں لے لیا ،ٹھاکر سیدوں کو مورد الزام ٹہرا رہے تھے اور سید اس جرم کا ٹھیکرا ٹھاکروں کے سر پھوڑنا چاہتے تھے۔ لہذا مسجد کے پیش امام مولوی مظاہر علی نے اس کے اوپر زنا کی حد جاری کرنے کا فتویٰ صادر فرما دیا۔ یہ مسئلہ پورے گاوٗں میں موضوع بحث بن گیا۔ اور طرح طرح کے سوالات اٹھنے لگے لیکن مسئلہ یہ پیش آیا کہ زانیہ کے ساتھ زانی کو بھی سزا ہونی چاہئے۔ مولوی مظاہر علی سے کسی نے کہا؛
“آپ تو عالم دین ہیں بہتر جانتے ہیں کیا شریعت کے لحاظ سے پاگل کو سزا دی جاسکتی ہے؟ وہ تو مرفوع القلم ہے؟ زانی کو تلاش کرکے سزا دینا لازمی ہے تاکہ آگے سے کوئی ایسے جرم کا مرتکب نہ ہو۔“
مولوی صاحب ان کی دلیل قاطع پر خاموش رہ گئے۔ مگر یہ ذمہ داری کون نبھاتا، اگر سید قبول کرتے تو نتیجہ یہ ہوتا کہ زانی سیدوں میں ہے اور اگر ٹھاکر ذمہ داری لیتے تو سید سمجھتے کہ زانی ٹھاکروں میں ہے اور وہ حقیقت سے چشم پوشی کر رہے ہیں۔ لہذا مسئلہ اگلی پنچایت پر ٹل گیا۔ اس قضیہ کے بعد لوگوں کی ہمدردیاں مشکوک ہونے لگیں جس کی وجہ سے لوگ اس سے دامن کش ہوگئے۔ مجبوراً وہ پاس پڑوس کی آبادیوں کی طرف رخ کرنے لگی مگر بڑی بے چین ہڈی کی عورت تھی، حمل کا بوجھ لیے سار اسارا دن گھومتی پھرتی، دن بھر مانگنے کھانے کے بعد شام کے وقت واپس اسی گاﺅں میں آ جاتی جیسے سانجھ ہوتے ہی پرندے اپنے گھونسلوں کی طرف لوٹ جاتے ہیں۔ ولادت کے دن نزدیک آتے جا رہے تھے ۔حمل کا بوجھ اتنا بڑھ گیا تھا کہ اسکا چلنا پھرنا مشکل ہو گیا تھا دن بھر وہ مسجد کے پچھواڑے ٹھاکر ہردیال سنگھ کے موروثی کھنڈر میں چپکے سے داخل ہوجاتی۔ ٹھاکر ہردیال سنگھ نے کئی بار چوٹی پکڑ کر اسے یہاں سے باہر بھی نکالنے کی کوشش کی مگر وہ ناکام رہے اس لئے کہ اسے کہیں دوسری جگہ چین نہیں پڑتا تھا۔
وہ جمعرات کا دن تھا، ذکیہ نے مولوی صاحب کی فرمایش پر مٹن بریانی پکائی تھی۔ یوں بھی ذکیہ کے کھانوں کی خوشبو کا پورا محلہ دیوانہ تھا اکثر کھانے کے وقت کوئی نا کوئی مولوی صاحب کے گھر پر کسی نا کسی بہانے سے پہنچ جاتا تھا تاکہ من و سلویٰ کا مزہ لے سکے۔ کھانے کی خوشبو اس پاگل کے مشام میں پہنچی تو وہ بھی ہلتی ڈلتی گندگی میں لتھڑی مولوی صاحب کے دروازہ پر آ کر بیٹھ گئی اور زور زور سے دروازہ پیٹنے لگی۔ ذکیہ کچن میں تھی۔ دروازہ پیٹنے کے انداز سے وہ سمجھ گئی کہ ہو نا ہو وہی پاگل کچھ دانا پانی مانگنے آ گئی ہے۔ ذکیہ نے پلیٹ میں کچھ کچا پکا کھانا نکالا کہ تبھی دروازہ کی طرف سے مولوی صاحب کی بھار ی بھر کم آواز ابھری؛
” حرامزادی تجھے میرا ہی دروازہ ملتا ہے پیٹنے کو، اس حرام زادے کو زندہ رکھنے کے لئے اس کے باپ کے دروازہ پر جا کر بیٹھ جا، تو نے میری ناک میں دم کردیا ہے۔“
ذکیہ کچن میں اپنی مجبوری پر کڑھ کر رہ گئی۔ وہ سوچ رہی تھی کیا عورت کے مقدر میں صرف گھٹ گھٹ کر رونا لکھاہے۔ کیا اسکی کائنات کچن تک ہی محدود ہے۔ کیا اس کی ذاتی پسند و ناپسند کی کوئی اہمیت نہیں۔ شوہر کے مزاج کے مطابق ڈھل کر اپنے مزاج اور طبیعت کو بدل لینا ہی بیوی کا دھرم ہے، اگر یہی دھرم ہے تو اَدھرمی ہونا ہی بہتر ہے ۔کچھ دیر کے بعد مولوی صاحب کھانا تناول فرماکر حقہ پینے کی غرض سے کسی کی بیٹھک پر چلے گئے ۔ ذکیہ نے جلدی جلدی ایک پلیٹ میں کچھ بریانی نکالی اور اس پاگل کو تلاش کرنے نکل پڑی۔ مسجد کے پچھواڑے پہنچ کر ذکیہ نے دیکھا کہ وہ بھوک سے نڈھال مسجد کی محراب سے ٹیک لگائے ہوئے بیٹھی اونگھ رہی ہے۔ اس نے ذکیہ کو دیکھا تو جیسے اسکی آنکھوں میں چمک آ گئی۔ ذکیہ اس کے قریب بیٹھ گئی اور کھانے کی پلیٹ اسے تھمادی۔ وہ کھانے پر یوں ٹوٹ پڑی مانو مہنیوں کی بھوکی ہو۔ ذکیہ کی آنکھوں میں ساون بھادوں امڈنے لگے۔ اچانک اسکے ہاتھوں سے پلیٹ چھوٹ کر زمین پر جاگری۔ ذکیہ خوف سے کانپ اٹھی۔ وہ زمین پر درد سے دہری ہوتی جا رہی تھی۔ ذکیہ کو احساس ہوا کہ شاید اس کے یہاں بچہ کی ولادت کا وقت قریب ہے۔ وہ اسکی تنہائی پر آبدیدہ ہوگئی۔ درد زہ میں اضافہ ہوتا جارہا تھا، اس کی چیخیں ساتوں آسمانوں کے پردے چاک کرکے سیدھے خدا تک پہونچ رہی تھیں۔ مگر گاﺅں میں اسکی فلک شگاف چیخوں پر کسی نے توجہ نہیں دی۔ ذکیہ نے اس کا سر اپنی آغوش میں لے لیا اور خدا سے دعا کرنے لگی۔ اس نے مسجد کے فلک بوس مینار کی طرف دیکھا اور سوچا کہ عجیب اللہ کے بندوں کا فلسفہ ہے اس کے گھر کے پیچھے دو انسانی جانیں ضائع ہو رہی ہیں اور لوگ نمازوں کی ادائیگی میں مشغول ہیں ۔اسی وقت ٹھاکر ہردیال سنگھ ادھر آ نکلے۔ ذکیہ کو اس پاگل کی دیکھ ریکھ میں مصروف دیکھ ان کی بھنویں تن گئیں، زبان سے تو انہوں نے کچھ نہ کہا مگر ان کی سرخ آنکھیں بہت کچھ کہہ رہی تھیں۔ ذکیہ نے خوفزدہ حالت میں اپنا برقعہ درست کیا اور درد زہ سے بلکتی پاگل کو وہیں چھوڑ کر وہاں سے نکل گئی۔ مولوی صاحب کو معلوم ہوا تو انہوں نے ذکیہ کی تنبیہ الغافلین سے اچھی طرح خبر لی۔
ذکیہ زدکوبی کی حالت میں سوچتی رہی کیا اللہ نے عورت کو اسی لئے خلق کیا ہے کہ وہ ہر حال میں مرد کے نیچے رہے۔ اس کی فطرت میں اتنی نزاکت کیوں رکھی گئی کہ وہ ایک مردکا مقابلہ کرنے میں خود کو کمزور محسوس کرے۔ مغرب کی نماز ختم ہو چکی تھی جب مسجد کے پچھواڑے سے کسی نوزائیدہ بچے کے رونے کی آواز ابھری۔ نمازیوں میں چہ مگوئیاں شروع ہو چکی تھیں۔ مولوی مظاہر علی کا جی وظائف سے اچاٹ ہو چکا تھا۔ جلدی جلدی عشاء کی نماز پڑھائی گئی اور تمام نمازی مسجد سے باہر نکل آئے، خدا جانے کسی نے نماز مکمل ارکان و افعال کے ساتھ انجام دی یا نہیں۔ بچہ کی ولادت ہو چکی تھی اور وہ پگلی زمین پر بیہوش پڑی تھی۔ اس کی ادھ کھلی رانوں کے درمیا ن پڑا ہوا ایک نوزائیدہ بچہ پڑا ہوا چیخ رہا تھا جیسے اس پر بھی اپنی ماں کی طرح پاگل پن کا دورہ پڑا ہو۔ جیسے ابھی یہ بچہ بھی ان تماش بینوں کو اپنی پاگل ماں کی طرح گندی پھوہڑ گالیاں بکے گا، ماں کی طرح اپنی چھاتیاں دونوں ہتھیلیوں سے مسلتا رہے گا۔ مگر وہ تو ابھی چند لمحے کی ننھی سی جان تھی وہ بھی مادر زاد ننگی۔ کچھ دیر کے بعد بچے کی چیخیں نکلنا بند ہو گئیں ۔سارے نماز ی جا چکے تھے۔ اسے ہوش آیا تو وہ بچے کو اٹھا کر اپنی چھاتیوں میں چھپانے لگی ، اس کا جسم بالکل ٹھنڈا پڑ چکا تھا۔ مامتا پورے شباب پر تھی اس نے بچہ کے برف زدہ ہونٹوں میں اپنی گرم چھاتیوں کو لگا دیا مگر ان میں ذرا بھی حرارت پیدا نہ ہو سکی، صبح تک وہ وہیں کھیت میں پڑی رہی۔ نفاس پر مکھیاں بھنبھنانے لگی تھیں۔ آس پاس کی فضا مکدر ہو چکی تھی۔ مگر وہ بے حس اسی گندگی کے ڈھیر پر ٹانگیں پسارے سوتی رہی۔ درد بھی کم پڑ چکا تھا۔ بھوک محسوس ہوئی تو وہ اپنے مردہ بچے کو سینے سے چمٹائے ہوئے گاﺅں کی خاک چھاننے نکل پڑی۔ بچے کا مردہ جسم سڑنے لگا تھا۔ کھانے کی امید میں وہ مولوی مظاہری علی کی دہلیز پربیٹھ گئی، آج نہ اس نے دروازہ پیٹا اور نہ کسی کو زور زور سے چیخ کر آواز دی۔ بس وہ مردوں کی طرح دروازہ کے پاس پڑی رہی ۔نماز ظہر کے لئے مولوی صاحب گھر سے نکلے تو دہلیز کے قریب نیم برہنہ حالت میں پڑی ہوئی پگلی کو دیکھ کر ان کے دیدے حیرت اور غصہ سے پھیل گئے، ناک کو معطر رومال سے ڈھانک کرانہوں نے ذکیہ کو آواز دی ۔ وہ بیچار ی مولوی صاحب کی غصیلی آواز سن کر گھبرائی ہوئی باہر آئی تو دہلیز پر بیٹھی ہوئی پاگل عورت کو دیکھ کر اسکے حواس باختہ ہو گئے۔
” حرامزادی اسے تو نے ہی سر چڑھایا ہے، اسے گھسیٹ کر سڑک پر پھینک آ، ذرا بھی مروت کی تو میں مروت نہیں برتوں گا، سمجھ گئی نا حرام خور۔“
” جی “ اس نے خوف زدہ لہجہ میں جواب دیا۔ مولوی مظاہری علی اسے گھورتے ہوئے مسجد کی طرف بڑھ گئے اور ذکیہ اسکے قریب بیٹھ گئی۔
” تو کیا کر رہی ہے یہاں ،خداکے واسطے کہیں اور چلی جا۔ “
اس نے پہلی بار نظریں اٹھا کر ذکیہ کے چہرے کی طرف دیکھا او ر ہاتھ سے منہ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے اپنی بھوک کی خبر دی۔ ذکیہ تیزی سے اندر گئی اور ایک روٹی لا کر اسکی ہتھیلی پر رکھ دی۔ روٹی دیکھ کر مانو اسکی رگوں میں منجمد ہوتا ہوا لہو ایک بار پھر دوڑ نے لگا۔ اس نے ایک ہاتھ سے بچے کو سنبھالا اور دوسرے ہاتھ سے روٹی کھاتی ہوئی آگے بڑھ گئی۔ ذکیہ نے ایک نگاہ سڑک کے اس پار اللہ کے گھر پر ڈالی اور ڈبڈبائی ہوئی آنکھوں کے ساتھ گھر کے اندر چلی گئی۔ گاﺅں والوں نے محسوس کر لیا تھا کہ بچہ مرچکا ہے اور اگر اسے جلدی ٹھکانے نہ لگایا گیا تو گاﺅں میں وبا پھیل جائے گی۔ کچھ لوگوں نے اس کی گود سے بچہ چھیننے کی کوشش بھی کی مگر وہ پہلوانوں کی طرح انکے مقابلے پر ڈٹ گئی، شاید وہ سمجھ چکی تھی کہ یہ لوگ اسکے بچے کو چھیننا چاہتے ہیں اس لئے موقع پا کر وہ اسی کھنڈر میں روپوش ہوجاتی۔ وہ مردہ بچے کو اس طرح سینے سے چمٹائے تھی جیسے بندریا اپنے بچے کی موت کے بعد بھی اس وقت تک سینے سے چمٹائے گھومتی ہے جب تک اسکے جسم سے سڑاندنہ آنے لگے۔ شاید مردہ جسم سے سڑاند کا آنا انکے لئے موت کی یقین دہانی ہو۔ دن بھر وہ مسجد کے پچھواڑے نفاس کی گندگی پر بیٹھی ہوئی اپنے بچے کو دودھ پلانے کی کوشش کرتی رہی، اس کے ساتھ باتیں کرکے ہنستی رہی۔ گاﺅں میں سبھی کو اس بچے کی موت کا علم ہوچکا تھا ۔ٹھاکر ہردیال سنگھ غصہ سے آگ بگولہ تھے۔ وہ اسے اپنے خرابہ سے بے دخل کرنا چاہتے تھے جس پر وہ ان کی مرضی کے بغیر قابض تھی۔ رائے مشورے کے بعد پنچایت نے کچھ لڑکوں کو معین کیا تاکہ وہ اس پاگل سے بچے کو چھین کر ٹھکانے لگانے کی کوشش کریں۔ ابھی یہ فیصلہ ہو ہی رہا تھا کہ وہ سامنے سے لڑکھڑاتی ہوئی آتی نظر آئی۔ پنچایت نے لڑکوں کو اشارہ کیا اور انہوں نے لاتو ں گھونسوں سے پیٹ پیٹ کر اسے ادھ مرا کردیا۔
بچہ اس کی گرفت سے آزاد ہو چکا تھا۔ بچہ کے مردہ جسم سے اٹھتی ہوئی بدبو نکسوروں کو زخمی کئے دے رہی تھی۔ بچہ کو ایک بوری میں باندھ کر اس پاگل کی پہونچ سے دور رکھوا دیا گیا۔اب مسئلہ یہ پیدا ہوا کہ بچے کو کس مذہب کی رسومات کے مطابق دفن کیا جائے ۔دونوں قومیں اپنی مذہبی رسومات کے لحاظ سے بچے کو دفن کرنے کے خلاف تھیں۔ آخر کسی کو اس حقیقت کا علم بھی نہیں تھا کہ یہ نطفہ کس مذہب کا ہے، بچہ کا باپ کوئی ہندو ذات کا ہے یا مسلمان برادری کا ہے۔ وہ پاگل سڑک کے کنارے زخمی حالت میں پڑی پنچایت کے منصفانہ افراد کے چہروں کو بڑی حسرت سے دیکھ رہی تھی۔ کئی بار اس نے بچے کو ادھر اُدھر نگاہوں سے تلاش کرنے کی کوشش کی مگر نگاہیں جستجو میں ناکام رہیں ۔ زمین سے اٹھنے کی تاب نہیں تھی۔ وہ خاک و خون میں لتھڑی ہوئی وہیں پڑی سسکتی رہی۔ پنچایت کو اس کے زخموں کا مداوا کرنے میں کوئی دلچسپی نہیں تھی۔ فیصلے پر مامور سبھی لوگ بس یہ چاہتے تھے کہ گاﺅں وباء سے محفوظ رہے۔ بچے کی تدفین کے مسئلے پر دونوں مذہب کے لوگوں میں تکرار بڑھتی جا رہی تھی۔ طرفین ایک دوسرے کو مورد الزام ٹہرا رہے تھے۔ اسی وقت مولوی مظاہرعلی سرپنچ ٹھاکر امرندر سنگھ کا اشارہ پا کر کھڑے ہوئے اور سب کو خاموش رہنے کا اشارہ کیا۔ دونوں طرف کے لوگ خاموشی کے ساتھ سوالیہ نگاہوں سے مولوی مظاہر علی کو دیکھ رہے تھے۔ مولوی مظاہر علی نے منجھے ہوئے سیاست مداروں کی طرح گفتگو کا آغاز کیا؛
” دوستو! اس گاﺅں کا اتہاس رہا ہے کہ کبھی فرقہ وارانہ تشد د نہیں ہوا، بٹوارے کے وقت ہر جگہ قتل و غارت گری ہوئی مگر ہمارا گاﺅں امن و شانتی کے ساتھ اپنے کاروبار میں مصروف رہا، گاﺅں میں سب ایک دوسرے کے مذہبی جذبات کا احترام کرتے ہیں، ہندو عید اور محرم میں ہمارے شانہ بہ شانہ رہتے ہیں اور مسلمان دیوالی اور دوسرے تیوہاروں میں ہندﺅں کے ساتھ شامل ہوتے ہیں۔ گاﺅں کے دوسرے معاملات بھی آج تک کورٹ کچہری میں کم ہی گئے ہیں ہم سب مل بیٹھ کر پنچایت میں حل کر لیتے ہیں۔ تو دوستو یہ کوئی اتنا بڑا مسئلہ نہیں ہے کہ حل نہ ہو سکے اور اس مسئلہ کو بہانہ بنا کر ہم اپنی دیرینہ محبتوں کی روایت کو بھول بیٹھیں۔“
بھیڑ نے باآواز بلند ان کی باتوں کی تائید کی۔ جوانوں کا غصہ ٹھنڈا پڑتا دکھائی دے رہا تھا ۔بزرگ پلنگوں پر بیٹھ کر اطمینان سے حقہ گڑگڑانے لگے تھے۔ ماحول میں کسی قدر سکون محسوس کیا تو مولوی مظاہر علی نے اطمینان کی سانس لی اور پھر گویا ہوئے؛
”میری اور سر پنچ جی کی رائے یہ ہے کہ اس بچہ کو ہندوٗں اور مسلمانوں کی مذہبی رسومات کے مطابق دفن نہ کیاجائے کیونکہ اس طرح کسی ایک برادری کو مجرم ٹہرانے کی وجہ ثابت ہوتی ہے اور اطراف کے دیہاتوں میں دونوں مذہب کے لوگوں کی توہین سمجھی جائے گی لہذا اس زنازادے کو گنگا کی موجوں کے حوالے کردیاجائے۔ “
سب خاموش تھے ۔سوال صرف یہ تھا کہ کیا گنگا کی پوترتا اور تقدس کو ایک زنازادے کی لاش کے ذریعہ ناپاک کردیاجائے، اسکا جواز بھی سرپنچ امرندر سنگھ نے تلاش کیا؛
” بھائیو! ہم سب گنگا میّا کے سپوت ہیں چاہے کوئی اچھا ہو یا برا ،مرنے کے بعد سب کی راکھ گنگا میں بہا دی جاتی ہے اس لئے اس بچہ کا کوئی قصور نہیں کیونکہ بچہ تو معصوم ہوتا ہے اس لئے اسکی لاش گنگا میں بہادی جائے۔“
مولوی مظاہر علی نے پنچایت کو برخاست کیا اور سب اپنے اپنے گھروں کی طرف پلٹ گئے۔ بچہ ہریجنوں کے حوالے کردیا گیا تاکہ گنگا میّا کا سپوت اسی کو سونپ دیا جائے۔
آج بھی وہ پگلی گاﺅں میں موجود ہے۔ مسجد کے پچھواڑے ٹھاکر ہردیال سنگھ کا موروثی خرابہ اس کا گھر ہے۔ ہر سال وہ مسجد کی پشت پر حرام کا بچہ جنتی ہے اور پنچایت کے فیصلے کے مطابق ہر سال اس حرام کے بچے کو گنگا میّا کے حوالے کر دیا جاتا ہے زندہ یا مردہ آخر وہ اس کا سپوت ہے نا

Published inعادل فرازعالمی افسانہ فورم