Skip to content

رجو

عالمی افسانہ میلہ 2015

افسانہ نمبر 23

رجّو

فرحین جمال، واٹرلو، بلجیئم

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

آج وہ شدید غصّے میں تھی . کسی بپھری ہوئی ناگن کی طرح پھنکار رہی تھی ،آنکھوں شعلہ بار تھیں اور زبان زہر میں بجھی ہوئی، ہاتھ میں سونٹا پکڑے ، دھڑا دھڑ بلو پر برسا رہی تھی ،اور بلو چہرے پر بلا کی معصومیت لئے ، ایک بوسیدہ سا کرتا جس کی آستین چھوٹی ہونی کی وجہ سے کہنیوں تک آتی تھیں اور ٹخنوں سے اونچی شلوار پہنے سہما سہما سا اپنی جگہ پر ہی کھڑا تھا، جیسے رجو کے ہاتھ کی مار بھی کوئی بڑی نعمت ہو۔ اس کے منہ میں جو آتا وہ اس کو کہے جاتی اور ساتھ ہی ساتھ ،دبلے پتلے لڑکے پر اپنے وار کئیے جاتی۔

” لے ایک اور لے ‘ ‘ آج ذرا تجھے پتہ تو چلے نا کہ مار کس کو کہتے ہیں ..؟؟ رجو نے کس کر بلو کی کمر پر ڈنڈا جڑ دیا .” آ جاتا ہے روزا نہ ہی نقصان کر کے “.. نا تیرے باپ کا پیسہ ہے کیا ؟؟ ..دیکھ کر کام نہیں کرتا ..مفت خورا .”

اس نے ہونٹ سیکڑ کر نفرت سے کہا۔

قصہ کچھ یوں تھا کہ بلو نے آج دودھ کا ڈول اٹھاتے ھوے الٹ دیا تھا، اس میں اس بیچارے کا بھی کوئی قصور نہیں تھا، وہ تھا ہی اتنا وزنی کہ ایک دس سال کے بچے کے بس کی بات نہیں تھی، پر رجو کو اس سے کیا، اس کو تو بلو کے روپ میں اپنی، تلخیوں، محرومیوں اور ناکامیوں کی بھڑاس نکالنے کا موقع مل جاتا تھا ،اور آئے دن ،اس کی ٹھکائی ہوتی رہتی۔ وہ معصوم بھی ایسا نامراد کہ جتنا رجو اسے پرے دھکیلتی وہ اتنا ہی اس کے قرب کا خواں رہتا۔ بچپن سے ہی گھس کر بیٹھنے کی عادت ہو گئی تھی بلو کو! جیسے وہ ہی اس کا مرکز و محور ہو۔ وہ ڈھائی برس کا تھا جب خیراں ماسی کے ساتھ یہاں آیا تھا۔

رجوکا اصلی نام رضیہ تھا۔ وہ بھی دوسری لڑکیوں کی طرح، شوخ و چنچل ہوا کرتی تھی، بات بے بات، ہونٹوں سے قہقہے ابل پڑتے تھے؛ گاؤں کے گلی کوچوں میں اِٹھلاتی پھرتی تھی ،اور بھئی کیوں نا اِتراتی کہ خیر دین کی اکلوتی اولاد تھی۔ خیر دین کوئی بہت بڑا زمیندار تو نہیں تھا ،بس چند ایکڑ زمین تھی ،ایک پکا مکان تھا، اچھی گزر بسر ہو جاتی تھی۔ جب بھی شہر جاتا تو رجو کے لئے نئی نئی چوڑیاں اور کپڑے لاتا۔ اسکی بیوی اکثر ،خیر دین کو کہتی۔

“کہ دیکھ لڑکی ہے ‘ اِسے دوسرے گھر بھی جانا ہے۔ اتنے ناز نہ اٹھایا کر تو۔ ” پر وہ کہتا۔

” او نیک بخت پتا نہیں دوسرا گھر کیسا ہو ؟؟ بس تو رجو اور میرے درمیاں نا بولا کر۔ ” اور بلقیس چپ ہو جاتی۔

بیٹی سے محبت کے معاملے میں خیر دین جنونی حد تک خود پسند اور خود غر ض تھا۔ رجو پندرہ سال کی تھی ابھی شعور کی پہلی سیڑھی پر قدم رکھا ہی تھا کہ اس کی ماں اچانک بیمار پڑ گی اور مہینے کے اندر ہی فوت ہو گئی۔ ماں کی جدائی، اس کے لئے بہت ہی بڑا سانحہ تھی۔ ایک دم ہی اس کے سر کی چھاؤں چھن گئی تھی اور گھر کی ذمہ داری کا بوجھ اس پر آن پڑا۔ ابھی تو خود ہی بچی تھی، اچانک افتاد پڑی تو گھبرا ہی گئی۔ بیوی کی وفات کے بعد خیر دین کا گھر میں آنا جانا بھی کم ہو گیا اور اب ہفتہ ہفتہ، گھر کا رخ نہ کرتا ، زیادہ تر ڈیرے پر ہی رہتا، ان تمام حالات نے اس میں تلخی اداسی اورگھٹن کوٹ کوٹ کر بھر دی تھی، اور وہ اپنی محرومیوں کا بدلہ دوسروں سے لینے لگی۔

خیر دین سال بھر تو بیٹی کی محبّت میں گاؤں میں ہی رہا پھر شہر جا کر دوسری شادی کر لی اور وہیں کا ہو رہا، اور رجو کو ماسی خیراں کے ساتھ اس کے گاؤں بھیج دیا، اس کا دل وہاں بالکل بھی نہیں لگا تھا اور چھ ماہ بڑی مشکل سے سزا کے طور پر کاٹ کر واپس اپنے گھر آ گئی۔ اس کی سمجھ میں نہیں آتا تھا کہ وہ کس سے زیادہ نفرت کرتی ہے؟ .بلو سے، خود سے یا اپنے بے حس خود غرض باپ سے۔ بس اس کی نفرت اور بدلے کی آگ کا ایندھن بلو ہی بنتا تھا۔ سو آج بھی وہ ہی تھا اور رجو کا جنون۔ مار کھائے چلا جا رہا تھا اور اپنی بڑی بڑی معصوم آنکھوں سے رجو کے چہرے کا طواف کرتا جا رہا تھا۔ اس بیچارے کا بھی کوئی اور نہیں تھا ،بس یہ ہی تھی جو اس کا سب کچھ تھی، عجیب سا رشتہ تھا دونوں میں ۔۔۔ محبت ۔۔۔ نفرت کا ۔۔۔ وہ، بلو کو دیکھ کر پل پل کڑھتی تھی، نفرت سے بل کھاتی تھی، اور کبھی کبھی تو بلا وجہ ہی اس کو اپنے عتاب کا نشانہ بناتی، جیسے اذیت پسندی اس کی شخصیت میں در آئی ہو ۔۔۔ جب مار مار کر تھک جاتی تو ڈنڈا ایک طرف پھینک کر رونے بیٹھ جاتی .اور بلو اس کو روتا دیکھ کر خود بھی رو دیتا۔

زمینوں کی دیکھ بھال کے لئے کرم دین چچا اور دو ملازم تھے۔ گھر کو ماسی خیراں کے حوالے کر کے اس کا باپ ہر طرف سے بے نیاز ہو گیا۔ آج دس سال ہونے کو آے تھے۔ مہینہ دو مہینے بعد شہر سے آ جاتا ورنہ اپنے بیوی بچوں میں مگن رہتا۔ رجو بیچاری ماں کے ساتھ ساتھ باپ کی شفقت سے بھی محروم ہو گئی۔ تنہائیوں نے اس کے ذہن اور جسم کو کائی زدہ کر دیا تھا۔ پچھلے مہینے جب خیردین شہر سے آیا تو اس کے لئے بہت سے کپڑے اور چوڑیاں لایا تھا۔ رجو کے رویے میں اپنے باپ کے لئے بہت سرد مہری تھی، وہ اس کی لائی ہوئی چیزوں کو نفرت سے اٹھا کر پھینک دیتی۔ باپ کی محبت کچھ ایسی تھی کہ اسے بیٹی کی آنکھوں میں اس کی آرزوٗں ، تمناؤں ،خواھشات کی بجھتی قندیل نظر نہیں آتی تھی۔ اس بار اسے چچا کرم دین کی وجہ سے آنا پڑا کہ وہ اب زمینوں کی دیکھ بھال نہیں کر سکتا تھا، بوڑھا ہو گیا تھا۔ کام نہیں ہوتا تھا اس سے۔ خیر دین ،شہر سے اپنے ساتھ فرید کو لے آیا تھا وہ ایک صحت مند اونچا، چوڑی چھاتی ،گندمی رنگت اور گہری آنکھوں والا جوان تھا عمر پچیس، تیس کے درمیان رہی ہو گی۔ فرید کافی عرصے سے شہر میں خیر دین کے کام کی دیکھ بھال کر رہا تھا۔ تھوڑا پڑھا لکھا بھی تھا۔ رجو کو فرید کا آنا برا تو نہیں لگا تھا لیکن وہ باپ کے اس فیصلے سے اتنا زیادہ خوش بھی نہیں تھی۔ چچا کرم دین تو اپنا گاؤں کا دیکھا بھالا بندہ تھا اور اب اس شہر والے کا جانے کیسا مزاج ہو؟۔ باپ تو کچھ دن رہ کر چلا گیا اور فرید نے زمینوں کا سارا انتظام سنبھال لیا۔ آہستہ آہستہ اس کی دوستی بلو سے ہو گئی اور وہ دونوں اکثر ساتھ ساتھ رہتے تھے اور رجو کے سینے پر سانپ لوٹ جاتا، پتہ نہیں اس کو بلو سے ایسی کیا چڑ تھی کہ وہ جتنا فرید کے قریب ہوتا وہ اتنا ہی اس سے نفرت کرتی اور کسی نہ کسی بات پر اس کی پٹائی کر دیتی۔ وہ خود بھی اپنے اس رقابت کے جذبے کو سمجھ نہیں پا رہی تھی۔ شاید اس کے دل کے نہاں خانوں میں فرید کے لئے محبت پل رہی تھی، سوے ہو ے جذبے سر اٹھا رہے تھے اور اس میں کسی کی شراکت برداشت نہیں ہوتی تھی۔ ادھر بلو نے جب رجو کی آنکھوں میں فرید کے لئے پیار دیکھا تو وہ فرید سے اور قریب ہو گیا کہ جو رجو کو پیارا وہ اس کو بھی دل و جان سے زیادہ عزیز تھا ۔ وہ تو جیتا ہی اسی کے لئے تھا۔

وقت ان دونوں کو بہت قریب لے آیا۔ رجو کو جیسے نئی زندگی مل گئی۔ فرید گھر سے باہر احاطے میں رہتا تھا، رات کو وہ اور بلو ریڈیو پر گانے سنتے، تاش کھیلتے یا فرید اس کو شہر کی باتیں بتاتا، وہاں کی اونچی اونچی عمارتیں ، بڑے بڑے پارک، لمبی لمبی پختہ سڑکیں اور سینما گھر۔ اس کے لیئے یہ ایک نئی دنیا تھی، وہ شہر کے قصے بہت اشتیاق سے سنتا اور اس سے کہتا کہ اگلی بار وہ شہر جائے تو اسے بھی ساتھ لے کر جائے۔ فرید نے اس سے وعدہ کر رکھا تھا۔ دو مہینے بعد جب وہ شہر جانے لگا تو بلو کو اپنے ساتھ شہر لے گیا۔ خود سیر کرائی۔ پتلون اور قمیض بھی لے کر دی اور سینما میں فلم بھی دکھائی۔ رجو سے فرید کا بلو کے لئے التفات برداشت نہیں ہوتا تھا اور وہ اکثر اسی بات پر اس سے الجھ پڑتی ،فرید اس کو سمجھاتا کہ” یتیم بچہ ہے، تھوڑی سی توجہ اس کو خوش کر دیتی ہے تو کیوں وہ اس کو اپنے دل پر لیتی ہے؟”، پر رجو کی عجیب منطق تھی کہ جو اسکا تو بس صرف اس کا ہی ہو کر رہے، یہ صفت بھی اس کو شاید باپ سے ہی ملی تھی۔ وہ تو فرید کو اپنی ملکیت سمجھتی ، وقت سبک رفتاری سے آگے کی طرف دوڑ رہا تھا۔

فرید اور رجو کے تعلق پر گاؤں میں بھی دبی دبی زبان میں باتیں ہونے لگی تھیں، ماسی خیراں کی سمجھ میں نہیں آتا کہ اِن افواہوں کو کیسے دبائے، سب سے زیادہ تکلیف تو چوہدری کے بیٹے منظور کو تھی جس کی نظر رجو پر کافی عرصے سے تھی لیکن وہ اچھے قماش کا آدمی نہیں تھا اور پہلے سے شادی شدہ، لیکن خود کو علاقے کا بلا شراکت غیر مالک سمجھتا اور گاؤں کی ہر لڑکی اس کی ملکیت کے دائرے میں آتی تھی۔

ہر سال گاؤں میں فصل کی کٹائی کے بعد میلہ لگتا تھا اور اس سال بھی تیاریاں زوروں پر تھیں، بلو اس میلے میں جانے کو بہت بےتاب تھا، اس سے پہلے تو کبھی جانا نہیں ہوا کہ اس کا کوئی دوست ہی نہیں تھا جو اس کو میلے ٹھیلوں میں لے کر جاتا لیکن اس بار فرید نے وعدہ کیا تھا کہ وہ اسے لے کر جائے گا ، اس کی خوشی دیدنی تھی۔ خیر سے وہ دن بھی آ گیا جس دن ان دونوں نے جانا تھا ،بلو اسی پتلو ن اور قمیض میں تیار ہوا جو فرید نے اسے لے کر دی تھی، خوشی اس کے چہرے سے پھوٹی پڑ رہی تھی اور بات بے بات قہقہہ بھی نکل جاتا، رجو اندر بیٹھی غصے سے پیچ و تاب کھاتی رہی، اب وہ تو جا نہیں سکتی تھی فرید کے ساتھ، لہٰذا دل جلانے کے سوا کوئی چارہ نہ تھا۔ شام ہوتے ہی دونوں گھر سے نکل گئے، فرید جاتے جاتے کہہ گیا تھا کہ ان کو دیر ہو جائے گی اس لئے وہ انتظار نہ کرے۔ رجو کے تن بدن میں تو جیسے آگ ہی لگ گئی تھی پر منہ سے کچھ نہ بولی۔

رات کا کوئی پچھلا پہر ہو گا جب باہر کے دروازے پر زور دار انداز میں کسی نے دستک دی، جب کئی بار دروازہ دھڑ دھڑانے پر بھی کسی نے نہیں کھولا تو، رجو کی آنکھ کھل گئی اور وہ دروازہ کھولنے کیلئے بستر سے اٹھی، قریب جا کر پوچھا ،کون ہے؟، باہر سے فرید کی کانپتی لرزتی ہوئی آواز آئی۔ “رجو جلدی دروازہ کھول۔” اس نے جلدی سے کنڈی گرا دی اور فرید اپنے دونوں بازوں میں خون میں لت پت بلو کو اٹھا کر اندر داخل ہوا۔ رجو کی آنکھیں حیرت سے پھیل گئیں اور وہ جیسے سکتے میں آ گئی، اس کی نظریں اس خون میں ڈوبے وجود سے ہٹ نہیں رہی تھیں، فرید نے بلو کو چار پائی پر ڈالا۔

” اسے … اسے کیا ہوا ہے؟” رجو نے ہکلاتے ہوے پوچھا۔ وہ منظور اور اس کے ساتھیوں نے راستہ روک لیا تھا واپسی پر اور تیرے بارے میں بہت بکواس شروع کر دی، بلو سے رہا نہ گیا اور ان پر نہتا ہی ٹوٹ پڑا، میں نے بھی بہت سوں کی پٹائی کی لیکن وہ زیادہ تھے اور ہم صرف دو، منظور نے ٹوکے سے اس پر وار کر دیا، پر پھر بھی یہ ان سے لڑتا رہا ، فرید جانے کیا کیا کہتا رہا، اس کی آواز جیسے کہیں دور سے آتی محسوس ہو رہی تھی، آہ و فغاں کا ایک طوفان تھا جو اس کے اندر مچ گیا تھا اس کا دل شدت غم سے پھٹا جا رہا تھا، وہ ایک دل دہلا دینی والی چیخ مار کر چار پائی کی پائنتی پر گر گئی اور چلا کر بولی؛

” ہائے نی میرا پُت۔” فرید نے چونک کر حیرت سے رجو کی طرف دیکھا۔

” تیرا بیٹا؟ پر تیری تو ابھی شادی نہیں ہوئی ؟؟”

اسے کہاں ہوش تھا کہ کوئی جواب دیتی، نبض ہر لمحہ ڈوبتی جا رہی تھی ایک اور دلدوز چیخ رجو کے حلق سے بلند ہوئی اور وہ سینے پر دو ہتھڑ ما کر بولی؛

‘ ہائے ۔۔۔ ہائے نی میرا ویر ۔۔۔۔! ” اور چارپائی کے پاس ہی ڈھیر ہو گئی۔

Published inعالمی افسانہ فورمفرحین جمال