Skip to content

راز

عالمی افسانہ میلہ 2015

افسانہ نمبر 105

راز

معراج رسول رانا، نیویارک، امریکہ

“سامعین، کھیل اپنے سنسنی خیز موڑ پر داخل ہوچکا ہے۔ شاہ مراد کلب کو جیتنے کیلئے بیس گیندوں پر پینتیس رنز درکار ہیں اور اُن کی چار وکٹیں ابھی باقی ہیں۔ ابھی تک یہ کہنا مشکل ہے کہ کھیل کس ٹیم کی طرف مڑے گا لیکن بظاہر محسوس ہو رہا ہے کہ شاہ مراد کلب یہ میچ جیت جائے گا۔”

کمنٹری باکس میں مبصر کے طور پر بیٹھے پرویز کا پرجوش تبصرہ جاری تھا کیونکہ وہ شاہ مراد کلب کی نمائندگی کر رہا تھا۔ شاہ مراد کلب اور جنجوعہ کلب کے درمیان فائنل کرکٹ میچ اپنے جوبن پر تھا۔ یہ اِس علاقے کا سالانہ کرکٹ مقابلہ تھا جو کہ ہر سال کی طرح اس سال بھی علاقے کے ریڈیو اسٹیشن کے ذریعے نشر کیا جا رہا تھا۔ پرویز کے ساتھ، جنجوعہ کلب کی طرف سے مبصر کی حیثیت سے شوکت موجود تھا۔

“حیدر کی گیند۔۔۔۔، اور بہت ہی دل فریب اسٹروک کھیلا شاہ مراد کے بلے باز مُنیر نے۔۔۔۔۔ اور گیند پلک جھپکتے ہی باؤنڈری لائن پار کر گئی چار رنز کے لئے” پرویز کی آواز سے ایک جوش بھری خوشی جھلک رہی تھی۔

“بہت ہی اچھا شاٹ۔۔۔، جتنی تعریف کی جائے کم ہے۔۔۔، منیر کی ٹائمنگ ویسے بھی بہت اچھی ہوتی ہے اور یہ ڈرائیو تو انہوں نے بہت ہی اچھی کھیلی” شوکت نے نسبتا دھیمے لہجے میں اسی شاٹ پر اپنا تبصرہ کیا۔ اتنے میں چائے والا کمنٹری باکس کے نزدیک آیا۔ اُس نے دیکھا کہ پہلے جو چائے کے دو کپ وہ میز پر رکھ کر گیا تھا وہ اسی طرح پڑے تھے، بلکہ دونوں کی چائے کے اوپر تانبے جیسے رنگ کی ملائی بھی جم چکی تھی۔ دونوں نے ایک بھی گھونٹ نہیں بھرا تھا۔

“صاحب چائے گرم کردوں؟ یا تازہ لے آؤں؟” چائے والے نے پوچھا تو پرویز نے شوکت کی طرف دیکھا۔ شوکت نے سر کے ہلکے سے اشارے سے نفی میں جواب دیا تو پرویز نے بغیر کچھ کہے ہاتھ کے اشارے سے چائے والے کو جانے کے لئے کہا۔ شوکت نے چائے کی کوئی چسکی کیوں نہیں بھری تھی یہ تو شوکت ہی جانے، شاید وہ اپنی ٹیم کو ہارتا ہوا دیکھ رہا تھا، اِس لئے۔ لیکن پرویز کو اپنی چائے نہ پینے کی وجہ معلوم تھی۔ شوکت کا مائیک ٹیبل پر رکھا تھا اور وہ ٹیبل پر تھوڑا جھک کر تبصرہ کر رہا تھا، لیکن پرویز نے مائیک اپنے دونوں ہاتھوں میں تھام رکھا تھا اور اپنی نشست پر سیدھا اِس طرح بیٹھا تھا کہ اُس کی دائیں ٹانگ بائیں ٹانگ کے اوپر تھی۔

” اگلی گیند حیدر کی۔۔۔۔۔۔۔، اور ایک مرتبہ پھر بہت ہی بہترین انداز سے مِڈ آن کی جانب اچھال کر کھیلا منیر نے۔۔۔۔۔۔، اور کسی فیلڈر کے لئے کوئی موقع نہیں گیند کو روکنے کا۔ ایک اور باؤنڈری منیر کی جانب سے۔” پرویز کے جوش میں مسلسل اضافہ ہورہا تھا۔

“منیر جارحانہ کھیل پیش کر رہے ہیں، حالانکہ مڈ آن کی طرف دائرے کے اندر دو فیلڈر موجود تھے لیکن کسی کے لئے کوئی موقع نہیں تھا۔ منیر کی بلے بازی دیکھتے ہوئے ایسا لگ رہا ہے جیسے اگلی دس گیندوں پر یہ کھیل ختم ہو جا ئے گا۔” شوکت نے حسبِ معمول منیر کے بعد اُسی شاٹ پر تبصرہ کیا۔

“اِس طرح اب تین اوورز کا کھیل باقی ہے۔ شاہ مراد کلب کو اٹھارہ گیندوں پر ستائیس رنز درکار ہیں اور چار وکٹیں ابھی باقی ہیں۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ جنجوعہ کلب کے کپتان اگلے اوور کے لئے کس گیند باز کو آزماتے ہیں۔” پرویز نے یہ کہتے ہوئے ایک نظر اپنے بیٹھنے کے انداز پر ڈالی اور کچھ سوچنے لگا۔ یونہی سوچتے ہوئے اور اپنے آپ میں ہی مسکراتے ہوئے وہ بچپن میں کھو گیا۔

“سنیئے، جا کر دکان سے کچھ سامان لا دیجئے، آج شام کو میری دوست نصرت اور اُس کے شوہر آ رہے ہیں دعوت پر اور مجھے سارا کھانا تیار کرنا ہے۔” پرویز کی امی نے باورچی خانے سے صدا دی۔

“ابھی مجھے تنگ مت کرو۔ پندرہ منٹ کا میچ رہ گیا ہے۔ میں ابھی نہیں اٹھ سکتا۔” پرویز کے ابو کی نظریں ٹی وی اسکرین پر چپکی ہوئی تھیں۔

“اچھا کم از کم اُٹھ کر موٹر تو چلا دیں۔ پانی کا ایک قطرہ نہیں، نلکے سے صرف ہوا نکل رہی ہے۔” یہ سن کر ابو نے پرویز کو موٹر چلانے کا کہا۔

“ایسا بھی کیا مُوا میچ ہوا کہ اُٹھ کر موٹر تک نہیں چلا سکتے آپ؟”

امی باورچی خانے کے دروازے پر آ کھڑی ہوئیں۔ ابو نے ایک لمحے کیلئے ٹی وی اسکرین سے نظریں ہٹا کر کہا۔

“تم سمجھتی نہیں ہو۔ اگر ابھی میں اپنی جگہ سے اُٹھ کھڑا ہوا تو ٹیم میچ ہار جائے گی۔”

“ہائیں؟ کیا مطلب؟ آپ کے بیٹھے رہنے کا ٹیم سے کیا لینا دینا؟” امی کے ہاتھ میں لکڑی کا چمچ تھا، حیرانی سے وہی چمچ زیرِ لب رکھ کر پوچھنے لگی۔

“سمجھا کرو ناں، میں یوں ٹانگ پر ٹانگ رکھ کر بیٹھا ہوا ہوں تبھی تو ہماری ٹیم جیت رہی ہے۔ اگر میں اٹھ گیا تو جیتا جِتایا میچ ہار جائے گی۔”

امی یہ سن کر باورچی خانے کے اندر چلی گئیں۔

“توبہ ہے، ایسی بھی کیا توہم پرستی ہوئی؟ یہ کیا جہالت ہے؟” ابو نے اپنی نظریں واپس ٹی وی کی طرف پھیر لیں،

“ہاں میں جاہل ہی سہی۔ تم عورتوں کو جتنی عقل ہو اتنی ہی بات کیا کرو۔ یہ توہم پرستی نہیں، یہ تو راز ہے جیتنے کا، راز”۔۔۔”آئی شاباش، وہ مارا، کیا بولڈ کیا ہے ہمارے شیر نے”، ابو نے جوش سے تالیاں بجاتے ہوئے کھلاڑی کو داد دی۔ امی اپنے دھیان کام کرنے لگیں۔

“کہاں کھوگئے؟ اگلا اوور شروع ہو گیا بھئی۔” شوکت نے پرویز کو ہلکا سا ہلایا تو وہ اپنے بچپن کے منظر سے باہر آ گیا۔

“اب جنجوعہ کلب کی جانب سے اگلا اوور کرانے آئے ہیں دراز قد تیز گیند باز صالح۔ صالح ایک جادوگر گیند باز، جنہوں نے جنجوعہ کلب کو کئی میچ صرف اپنی گیند بازی ہی کی بدولت جتوائے ہیں۔ اپنا دوسرا اسپیل کروانے آ رہے ہیں۔ ویسے شوکت، داد دینی ہو گی جنجوعہ کلب کے کپتان کو، جنہوں نے صالح کے دو اوورز بچا کر رکھے تاکہ انہیں میچ کے آخر میں استعمال کیا جا سکے۔” پرویز نے یہ سب فٹافٹ کہہ ڈالا، کیونکہ صالح پہلی گیند کرانے جارہا تھا۔

“جی ہاں پرویز، جنجوعہ کلب کے کپتان کو اپنی حکمتِ عملی کی وجہ سے پچھلے سیزن کا بہترین کپتان قرار دیا گیا تھا اور کلب کے پچھلے سال کا مقابلہ جیتنے میں بھی اِن کا بہت بڑا کردار ہے۔” شوکت نے بھی تیزی سے کہا کیونکہ صالح گیند پھینک چکے تھے۔

“اور بولڈ کر دیا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ صالح کی انتہائی تیز گیند، جو بلے اور پیڈ کے درمیان وقفے سے نکلتی ہوئی وکٹوں کو جا ٹکرائی۔۔۔۔ بلے باز کے پاس کوئی موقع نہ تھا گیند کو کھیلنے کا۔۔۔۔۔ اِس طرح شاہ مراد کلب کا ساتواں کھلاڑی آؤٹ ہوچکا ہے۔” پرویز کے جوش میں سے یکدم مسکراہٹ غائب ہوچکی تھی۔ جس کے بعد شوکت نے تبصرہ کیا۔

“بہت اچھی گیند، بلکہ یہ وہ گیند ہے جس کیلئے صالح جانے جاتے ہیں۔ بہت اہم وقت پر صالح نے جنجوعہ کلب کے لئے وکٹ دلوائی ہے۔ گیند الٹی گھومتی ہوئی وکٹوں کو لگی۔ بلے باز نے بھی بلے اور پیڈ کے درمیان وقفہ دے رکھا تھا۔”

“اس طرح اب میچ مذید سنسنی خیز ہوچکا ہے، اور اب شاہ مراد کلب کو جیتنے کیلئے سترہ گیندوں پر ستائیس رنز درکار ہیں۔ اگلے بلے باز میدان میں آ چکے ہیں، سامنا کریں گے صالح کا، جن کے ارادے بہت خطرناک دکھائی دے رہے ہیں۔” پرویز نے ایک لمحے کے توقف کے بعد بات جاری رکھی۔

“صالح گیند کرانے آ رہے ہیں۔۔۔۔۔ اور۔۔۔۔۔۔ صالح کی اس گیند کو ہوا میں اچھال دیا بلے باز نے۔۔۔۔۔۔، فیلڈر گیند کے نیچے۔۔۔۔۔۔، جنہوں نے کوئی غلطی نہیں کی اور ایک آسان کیچ پکڑ لیا۔۔۔۔۔۔ بہت ہی غیر ذمہ دارانہ شاٹ بلے باز کی طرف سے اور اِس طرح شاہ مراد کلب کو ایک اور وکٹ کا نقصان۔” پرویز نے بیزاری سے سر ایک طرف گھما لیا۔

“ایسی شاٹ کی نئے بلے باز سے ہرگز امید نہیں تھی، وہ بھی صالح جیسے گیند باز کے سامنے، جو کہ پچھلی ہی گیند پر ایک جمے ہوئے کھلاڑی کی وکٹیں اکھاڑ چکے ہیں۔ تو اب میچ کا رُخ صالح نے ڈرامائی انداز میں موڑ کر جنجوعہ کلب کی طرف کر دیا ہے۔” شوکت نے تبصرہ کیا جس نے شاید دھیمی سی مسکراہٹ پرویز کے ہونٹوں سے چوری کر لی تھی۔

“اگلے بلے باز کریز پر داخل ہو چکے ہیں لیکن بلے بازوں نے کراس کیا تھا تو اب سامنا کریں گے مُنیر۔ میں دیکھ رہا ہوں کہ مُنیر کے اردگرد فیلڈرز کی فوج اکٹھی کر دی گئی ہے۔ بہت جارحانہ حکمتِ عملی جنجوعہ کلب کے کپتان کی کیونکہ اگر اِس گیند پر صالح وکٹ حاصل کرتے ہیں تو وہ ہیٹ ٹرک مکمل کریں گے۔ کیا ہی شاندار گیند باز ہیں صالح۔ اپنے چھ فٹ چار انچ کے قد کے ساتھ کسی بھی بلے باز کے لئے کسی امتحان سے کم نہیں۔ تماشائیوں کا جوش و خروش دیدنی ہے، جو کہ صالح صالح کے نعرے لگا رہے ہیں۔” پرویز نے یہ کہتے ہوئے ایک نظر اپنی گود پر دھری کیونکہ اُسے ابھی بھی اپنے بیٹھنے کے انداز سے امید تھی کہ اُس کی ٹیم میچ جیت جائے گی۔ اُس نے بات جاری رکھی۔

“صالح۔۔۔۔۔۔ ، گیند کرانے کیلئے بڑھے۔۔۔۔۔۔ ، گیند پیڈ پر لگی۔۔۔۔۔ ، ایل بی ڈبلیو کی زور دار اپیل اور امپائیر نے اپنی انگلی کھڑی کردی۔۔۔۔۔۔ ۔ اِس طرح صالح نے اپنی ہیٹ ٹرک مکمل کی۔۔۔۔۔۔۔ ، مُنیر، جو کہ بہت اچھا کھیل رہے تھے، آؤٹ ہو کر پویلین میں واپس۔۔۔۔۔ اور تمام فیلڈرز بھاگ کر صالح کی طرف لپک پڑے ہیں۔” پرویز نےمائیک مایوسی کے ساتھ میز پر رکھ دیا، کچھ سیکنڈ کے لئے اپنے بیٹھنے کے انداز کو حقارت کی نظر سے دیکھتا رہا، پھر اپنی ٹانگوں کو سیدھا کر لیا اور آگے بڑھ کر ٹھنڈی چائے کے گھونٹ بھرنے لگا۔ اِس دوران شوکت نے اپنا بھرپور تبصرہ جاری رکھا اور کیوں نہ ہوتا، اُس کی ٹیم اب جیت رہی تھی۔ پرویز کے چہرے سے مایوسی نمایاں تھی۔ اُس کے دماغ میں پھر اپنی امی کا وہی جملہ گونجنے لگا،

“ایسی بھی کیا توہم پرستی ہوئی؟ یہ کیا جہالت ہے؟” یہ سوچتے سوچتے اُس نے چائے کا کپ خالی کر دیا۔ اگلی تین چار گیندوں تک اُس نے برائے نام سا تبصرہ کیا اور پھر شاہ مراد کلب کا آخری کھلاڑی بھی آؤٹ ہو گیا۔ جنجوعہ کلب ایک مرتبہ پھر ٹورنامنٹ جیت چکی تھی۔ منیر نے مایوسی کے عالم میں ہاتھ کا ڈھیلا سا مُکا بنا کر آہستگی سے میز پر مارا اور شوکت کی طرف متوجہ ہوا جس نے اپنی ٹیم کے میچ جیتنے کے بعد تفصیلی تبصرہ کرکے ابھی مائیک میز پر رکھا تھا۔

“مبارک ہو، آپ کا کلب ایک مرتبہ پھر ٹورنامنٹ جیت گیا۔” منیر نے مصافحہ کیا۔

“بہت شکریہ، ویسے آپ کی ٹیم نے بھی سخت مقابلہ کیا، واقعی مزہ آیا فائنل میچ کا۔” شوکت نے پرمسرت انداز سے جواب دیا۔

“ویسے۔۔۔ آپ چائے نہیں پیتے؟” منیر نے اُس کے چائے سے بھرے کپ کی طرف دیکھا۔

“وہ۔۔۔۔ پیتا ہوں، لیکن آج دل نہیں کِیا پینے کو۔” دونوں ہنس دئیے اور اپنی نشستوں سے اُٹھ کھڑے ہوئے۔ شوکت اٹھتے ہوئے دل ہی دل میں کہنے لگا۔

” پوچھتا ہے چائے نہیں پی۔ ارے اگر میں چائے کا کپ اپنی جگہ سے اٹھا لیتا تو میری ٹیم میچ ہار نہ جاتی۔ میں نے چائے کا کپ نہیں اٹھایا تبھی تو میری ٹیم میچ جیتی ہے۔ یہی تو راز ہے میری ٹیم کے میچ جیتنے کا۔”

Published inعالمی افسانہ فورممعراج رسول رانا