Skip to content

رات روئی بار بار

عالمی افسانہ میلہ 2018
افسانہ نمبر 156
“رات روئی بار بار”
سید آصف عباس میرزا
مرشدآباد،مغربی بنگال،ہندوستان

3 مارچ 2011 کی ہلکی خنک رات کو بنگال،بہار و اڑیسہ کی سابق راجدھانی،دریائے بھاگیرتھی کے ساحل پر آباد شہر مرشدآباد کے عظیم گنج ریلوے اسٹیشن پر رات کے کچھ ڈیڑھ بجے فرقان گرم چائے کی چسکیاں لے رہا تھاکہ یکایک اسکے فون پر بجی گھنٹی کی جھنکار نے اسے جھنجوڑ کر رکھ دیا۔ آدھی رات گئے جب سارا عالم خواب غفلت میں پڑا تھا، فون کا حرکت کرنا اسے تعجب خیز معلوم ہوا،اسکے حواس باختہ تب ہوئے جب اس نے فون کو ریسیو کرنے کے لئے جیب سے باہر نکالا،،،،یہ نادرہ کا کال تھا۔
فرقان کی نگاہیں فون کے اسکرین پر ظاہر ہونے والے نام کو حیرت و استعجاب سے تکتی رہیں،
“ہیلو۔۔۔۔فرقان۔۔۔۔فرقان۔۔۔۔مجھے پتہ تھا تم فون ضرور اٹھائو گے،تمہیں تعجب تو ہورہا ہوگا نا؟دو برس بعد ،یوں اس انتہائی شناسا وقت میں،میں نے تمہیں کیوں فون کیا؟تم نے اس دن کے بعد سے ایک بار بھی میری خبر نہ لی،نہ مجھ سے ملنے کی کوشش کی۔اب اس دنیا میں میرا دم گھٹ رہا ہے فرقان۔۔۔۔میں۔۔میں۔۔ایک بار ۔صرف ایک بار تم سے ملنا چاہتی ہوں۔۔فرقان۔۔تم سن رہے ہو نا؟”
نادرہ کی سسکیوں بھری آواز میں اک عجیب سا کر ب تھا جسے فرقان نے بخوبی محسوس کیا۔
” پر میں تم سے نہیں ملنا چاہتا۔قطعا نہی ملنا چاہتا،دوبارہ مجھے کال مت کرنا۔”
”خدا کے واسطے فرقان،دیکھو فون مت رکھنا،تمہیں امام علی علیہ السلام کا واسطہ ،شہزادی کونین علیہ السلام کا واسطہ،خدا کے لئے میری مجبوریوں کو سمجھو ،یوں مجھ سے بے اعتنائی نہ برتو،اگر تم مجھ سے نہ ملے تو۔۔”
“کیا بات ہے فون پر بتائو؟”
نادرہ کی بات کاٹتے ہوئے فرقان گویا ہوا۔
“نہیں میں اس وقت فون پر نہیں بتا سکتی”
“دیکھو ضد نہ کرو،تھوڑی دیر میں میری ٹرین آنے والی ہے۔”
“مجھے پتہ ہے فرقان تم بردوان جانے کے لئے اسی وقت ٹرین پر سوار ہوتے ہو،صرف ایک بار”.
“ٹھیک ہے بتائو کب اور کہاں ملنا ہے؟”
نہ چاہتے ہوئے بھی بے اختیاری طور پر فرقان کی زبان سے یہ جملہ نکل گیا ۔اسکے انداز بیاں میں تھوڑی نرمی پیدا ہو چلی تھی۔
“آج ہی صبح پانچ بجے خوش باغ میں, میں تمہارا انتظار کروں گی۔”
نادرہ نے فون منقطع کردیا۔
“ہیلو،ہیلو،ہیلو”۔۔۔۔۔
سامنے ریلوے ٹریک کو گھورتے گھورتے اچانک فرقان زار و قطار رونے لگا،اسٹیشن پر موجود ہاکرس،فقراء،سیڑھیوں کے نیچے آرام کرتے اسٹیشن کے کتے سب اسے دیکھتے رہے اور وہ روتا رہا،تھوڑی دیر میں اس نے اپنے جزباتوں پر قابو پایا اور ایک کونے کی سیٹ پر جا بیٹھا۔وہ اپنی طے شدہ منزل پر جانے کا ارادہ ترک کرچکا تھا۔اسکی ٹرین آئی اور چلی گئی،وہ سیٹ پر بیٹھا رہا،اسنے اپنی گھڑی پر نظر کی جو رات کے ڈھائی بجے کا وقت بتلا رہی تھی،وہ چاہ رہا تھا کہ گھڑی کی سوئیاں تیزی سے بھاگیں لیکن اسکی اگلی مطلوبہ ٹرین کا وقت صبح چاربجےکا تھا جو تقریباً بیس منٹ میں اسے خوش باغ تک پہنچا دےگی۔وہ ایک بار پھر ان متوازی خطوط کو حسرت سے تکنے لگا جو اسےماضی کے سفر میں لے جانے کو بیتاب نظر آرہی تھیں۔
چار سال قبل اسی عظیم گنج ریلوے اسٹیشن پر اسکی نادرہ سے پہلی ملاقات ہوئی تھی،اس وقت وہ بی۔اے سیکنڈ ایئر کا طالب علم ہوا کرتا تھا اور نادرہ بی۔اے سال اول کی طالبہ تھی۔دونوں اپنے والدین کے ساتھ دہلی کے لئے رخت سفر باندھ رہے تھے،فرقان کو بڑی حیرت ہوئی تھی یہ جان کر کہ نادرہ کے والد بشیر حسنین،اسکے والد ضیاء میرزا کے پرانے دوست ہیں اور اتفاقاً برسوں بعد وہ آج یہاں اسطرح بغل گیر ہورہے ہیں۔بشیر حسنین صاحب کی پوسٹنگ حال ہی میں مرشدآباد کے ضلع مجسٹریٹ کے دفتر میں ہوئی تھی،تین مہینے قبل ہی نادرہ کا داخلہ برہمپور کرشناتھ کالج میں کروایا گیا تھا۔
”یہ لڑکی تین مہینے سے میرے کالج میں پڑھتی ہے اور ابتک میری نظر میں نہیں آئی!” فرقان آہستگی سے خود سے گویا ہوا۔
نادرہ پہلی ہی نظر میں اسے بھا گئی،اس پر نگاہ الفت پڑتے ہی وہ اسکی پر پیچ و خم دار زلفوں کا اسیر ہوگیا۔اک عجیب سی انجانی خواہش اسکے دل میں ٹھانٹھیں مارنے لگیں،اتنے سارے امنڈتے جزباتوں کی لہروں نے اسے پہلی بار یہ احساس دلایا کہ اب وہ جوان ہوچکا ہے ۔دہلی پہنچتے پہنچتے دونوں اچھے دوست بن چکے تھے۔ان دونوں کی فیملی نے ایک ہی ہوٹل میں کمرہ لیااور ساتھ ہی سیر کو بھی نکلے ۔آگرہ کے سینے میں محبت کی صدیوں پرانی انمول نشانی،اک شہنشاہ کی محبت کی حسین یادگار کے سائے تلے فرقان اور نادرہ کی محبت پروان چڑھ رہی تھی اور روز بروز پختہ ہورہی تھی ۔وہ دونوں دیوانگی کی حدوں سے تجاوز کرنے لگے،زمین پر تو پائوں تھے ہی نہیں ان دونوں کے!آٹھ دنوں کا سفر اتنی جلدی ختم ہو جائے گا اس کا احساس ان دونوں میں سے کسی کو نہیں تھا۔مرشدآباد واپس آکر دونوں نے کالج کے عقب میں واقع سریندر ناتھ پھاٹک پر ملنے کا وعدہ کیا۔دوسرے دن فرقان قبل از وقت ہی کالج کیمپس میں پہنچ گیا اور پھاٹک پر ٹیک لگائے بڑی شدت سے لیلی وقت کا انتظار کرنے لگا،حتی کہ اسے اپنے کلاسس کا بھی خیال نہ رہا،جوں جوں وقت گزرتا اسکی بے قراری بڑھتی جاتی،دن ڈھلا اور گزرگیا پر وہ نہیں آئی۔مایوس ہوکر وہ گھر واپس لوٹا۔اتنا اداس وہ پہلے کبھی نہیں ہوا تھا:
“بے وفا،دھوکے باز،چال باز،نہیں۔۔۔۔۔نہیں۔۔۔” رات بھر وہ کروٹیں بدلتا رہا،نادرہ کی شوخ ادائوں اور سحر انگیز نگاہوں نے ساری رات اسکا تعاقب کیا۔
دوسرے دن وہ بوجھل قدموں سے خلاف معمول کالج کے عقب میں واقع پھاٹک سے داخل ہو ہی رہا تھا کہ اسکی نگاہ نادرہ پر پڑی جو بالکل اسی جگہ پر ویسے ہی ٹیک لگائے کھڑی تھی جہاں کل وہ دن بھر اسکا انتظار کرتا رہا تھا۔
“نادرہ کل میں نے دن بھر تمہارا انتظار کیا، تم کیوں نہیں آئی ؟” فرقان کی آنکھوں میں موتیوں کے چھوٹے چھوٹے قطرے نمودار ہوا چاہتے تھے۔
“میں آئی تھی فرقان!”
“کیا!۔۔۔آئی تھی۔۔۔تو پھر مجھ سے ملاقات کیوں نہیں کیا؟تمہیں معلوم ہے میں کل دن بھر یہیں کھڑا تمہارا انتظار کرتا رہا”
“مجھے پتہ ہے فرقان….میں دن بھر تمہارے چہرے ہی کو دیکھتی رہی تھی،مگر تمہارے سامنے اسلئے نہیں آئی کیونکہ میں دیکھنا چاہتی تھی کہ تمہیں میرے وعدے پر کتنا اعتبار ہے؟”
“نادرہ۔۔۔۔پھر کبھی اسطرح میرا امتحان نہ لینا۔”
وہ اچانک نادرہ سے بغل گیر ہوگیا،نادرہ نے بھی تمام حدود کو خیر باد کہہ کر اسے خود سے قریب ہونے کی اجازت دے دی۔دونوں کی آنکھیں نم تھیں۔آس پاس موجود طلباء و طالبات ان دونوں کو حیرت بھری نگاہوں سے تکنے لگے مگر ان دونوں کو معنوں دنیا کی کوئی پرواہ ہی نہ تھی،ایک دوسرے کی بانہوں میں دونوں نے دنیا کی تمام خوشیاں پالی تھیں،دوستوں کہ چہ مگوئیوں کی آوازیں جب تھوڑی بلند ہونے لگیں تو انہیں ماحول کی نزاکت کا احساس ہوا،وہ دونوں جلدی سے الگ ہوئے اور خاموشی سے اپنی اپنی کلاسس کی طرف چلے گئے۔
کالج کےایام انکی زندگی کے خوبصورت ترین اور یادگار دن بنتے گئے،دیکھتے ہی دیکھتے فرقان نے گریجویشن کا امتحان امتیازی نمبروں سے پاس کیا اور اعلی تعلیم کی حصولیابی کے لئے علی گڑھ جانے کی تیاری کرنے لگا۔نادرہ سے جدا ہونا اسکے لئے بے حد مشکل امر تھا پر قسمت کے آگے کس کا زور چلتا ہے۔علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے شعبہ انگریزی میں داخلہ کے لئے اسکا سلیکشن ہو چکا تھا۔اس روز نادرہ اسے عظیم گنج اسٹیشن تک چھوڑنے ساتھ آئی تھی،نم آنکھوں سے دونوں نے ایک دوسرے کو خدا حافظ کہا۔نادرہ اسوقت تک اسٹیشن پر کھڑی ٹرین کو تکتی رہی جب تک وہ پوری طرح اسکی نگاہوں سے اوجھل نہ ہوگئی۔دونوں فون پر مسلسل رابطے میں رہتے،گھنٹوں فون پر باتیں کرنا انکا روزانہ کا معمول تھا۔رفتہ رفتہ اس فونی سلسلے کی شدت میں کمی واقع ہونے لگی۔سرد مہری نادرہ کی جانب سے تھی۔اکثروہ کئی کئی بار گھنٹی بجنے کے بعد فون ریسیو کرتی، اکثر اسکا فون اب آف آتا پھر کچھ دنوں بعداسکا فون مستقل سوئچ آف آنے لگا۔دو مہینے ہوئے، ہزاروں مرتبہ فون کیا مگر نادرہ سے رابطہ نہ ہوسکا!
“بے وفا،دھوکے باز،چال باز،نہیں۔۔۔۔۔نہیں۔۔۔پھر کوئی امتحان؟”
وہ گرمیوں کی تعطیلات کا شدت سے انتظار کرنے لگا۔مئی کے مہینے میں وہ مرشدآباد پہنچا تو اپنے مکان جانے سے قبل نادرہ کے گھر آدھمکا۔پتہ چلا کہ نادرہ اسپتال میں زیر علاج ہے۔وہ اسپتال دوڑا،انکوائری میں پتہ کرنے کے بعد وہ کمرہ نمبر چودہ کی طرف قدم بڑھانے لگا۔آج مہینوں بعد وہ نادرہ سے ملنے جا رہا تھا۔دل میں سینکڑوں سوال اورچہرے پر گھبراہٹ کے آثار لئے وہ نادرہ کے کمرے میں داخل ہوا۔نادرہ کی خوبصورتی میں تھوڑی کمی ضرور واقع ہوئی تھی لیکن وہی بشاشت اور سحر انگیزی جو صرف نادرہ کی خاصیت تھی آج بھی اسکے چہرے پر موجود تھی ۔وہ نادرہ کو تکنے میں اتنا محو ہوگیا کہ اسے یہ احساس ہی نہیں ہوا کہ نادرہ کے کمرے میں ایک خوبرو جوان رفیق پہلے سے موجود ہے۔
“کیسے ہو فرقان؟ ان سے ملو یہ رفیق ہے،میرا کزن! اور یہ فرقان ہے رفیق ،میرے کالج کا دوست۔” کمرے میں رفیق کی موجودگی کا احساس ہوتے ہی وہ یکسر چونک گیا۔نادرہ نے بڑے ہی فارمل طریقے سے ان دونوں کی ملاقات کروائی۔فرقان کو سمجھ نہیں آرہا تھا کہ وہ کیا کہے۔تھوڑی دیر رسمی گفتگو کرنے کے بعد فرقان اور رفیق دونوں ہسپتال سے ساتھ گھر کی جانب روانہ ہوئے۔رفیق ایک ڈاکٹر تھا اور انتہائی ملنسار۔بہت جلد وہ فرقان سے گھل مل گیا۔
فرقان روزانہ نادرہ سے ملنے اسپتال جاتا لیکن اسے تنہائی میں کبھی اس سے گفتگو کرنے کا موقع نہیں ملا۔
“میری کڈنی میں کچھ پرابلم ہے ،ڈاکٹر نے کہا ہے گھبرانے کی کوئی بات نہیں،بس اسپتال میں کچھ دن اور رکنا ہے پھر میں گھر جا سکتی ہوں۔”
نادرہ نے مسکراتے ہوئے فرقان کو بتایا؛ وہ آج ہی علی گڑھ لوٹ رہا تھا۔آج بھی اسے نادرہ سے تنہائی میں ملنے کا موقع ہاتھ نہ آیا۔وہ بری طرح تزبزب کا شکار ہوچلا تھا۔ فرقان کے لئے یہ ایک عجیب و غریب سیچوئیشن تھا۔وہ اپنے سوالات کے جوابات لئے بغیر ہی علی گڑھ روانہ ہوگیا۔۔
“آخر نادرہ مجھ سے اتنی فارملیٹی سے کیوں پیش آئی؟کیا ہمارا رشتہ؟”
یونیورسٹی کیمپس میں تنہا بیٹھا فرقان نادرہ سے اپنے رشتے کی حقیقت کو سمجھنے کی کوشش میں مصروف تھا۔۔اس رات ٹھیک ایک بجے اس نے نادرہ کو کال کیا اور حیرت انگیز طور پر اس نے پہلی ہی رنگ میں فون ریسیو کرلیا۔
“کیسے ہو فرقان؟”
“تم کیسی ہو؟ مجھا لگا!!”
“میں بالکل ٹھیک ہوں فرقان،ابھی پرسوں ہی اسپتال سے چھٹی ملی ہے۔تم بتائو کیا حال ہے؟”
اتنی رات گئے ،اتنے وقتوں کے بعد،نادرہ فرقان سے ایسے گویا ہوئی معنوں یہ دونوں آج بھی کالج میں زیر تعلیم ہوں۔فرقان نے نادرہ کی آواز میں وہی پرانی توانائی محسوس کی۔۔کچھ دن وہ دونوں اسی پرانی روایت پر چلتے رہے۔فرقان اس حقیقت کو بخوبی محسوس کر رہا تھا کہ کوئی انجانی سی طاقت یا کوئی اجنبی شئے ضرور ہے جو نادرہ کو فرقان سے بے تکلف ہونے سے روک رہی ہے۔مگر وہ آج بھی نادرہ کی ان کہی محبت کو محسوس کر رہا تھا۔ابتک وہ یہی سمجھ رہا تھا کہ نادرہ اسکی ہے۔بس وقت نے تھوڑی کروٹ بدلی ہے۔اگلی بار جب وہ مرشدآباد جائے گا تو سب ٹھیک کردےگا۔
“میرے والد نے رفیق سے میری شادی طے کردی ہے فرقان،اس رشتے کے لئے روز اول ہی سے مجھ پر دبائو ڈالا جا رہا تھا۔اور اب مجھے لگتا ہے میں خود بھی اسے پسند کرنے لگی ہوں۔مجھے پتہ ہے فرقان جب سے تم علی گڑھ گئے تھے میں نے ہمیشہ تمہیں تزبزب میں ڈالے رکھا۔تم شاید یہی سمجھتے رہے ہوگے کہ میرے لئے ساری کائنات صرف تم ہو۔۔یقین جانو مجھے بھی ایسا ہی لگتا تھا ،لیکن رفیق کی میری زندگی میں آنے سے پہلے تک۔میں خود اس پس و پیش میں تھی کہ تم میری منزل ہو یا رفیق؟مجھے اب احساس ہو چلا ہے کہ تم میرا ماضی تھے جو آج بیکار ہے نیز مجھ سے دور ہے اور رفیق میرا حال ہے جو ڈاکٹر بھی ہے اور میرے قریب بھی۔آج میں تم سے صاف لفظوں میں کہتی ہوں فرقان کہ تم بھی مجھے اپنا ماضی سمجھ کر بھول جائو اور اپنے کیریئر کی سمت توجہ دو!خدا حافظ!”
نادرہ نے نہایت ہی پریکٹیکل اور ہوشیار لڑکی کی طرح اپنی بات کہہ کر ریسیور رکھ دیا۔
فون پر نادرہ کے لفظوں کی دھار بجلی بنکر فرقان کے گوش سے ٹکرا رہی تھی۔اسکے لب تھرا رہے تھے معنوں کچھ کہنا چاہتے ہوں لیکن زبان خاموش رہی۔
“بے وفا،دھوکے باز،چال باز،نہیں۔۔۔۔نہیں۔۔۔۔کیوں نہیں؟ یہی تو بے وفائی ہے!بالکل! عین اسے ہی بے وفائی کہتے ہیں۔ایک عرصہ تک مجھ سے عشق کیا،شاید سچا عشق ، پر جب مجھ سے دل اوبھ گیا،میری غیر موجودگی اسے خالی پن کا احساس کروانے لگی تو اس نے ایک نیا عاشق ڈھونڈ لیا۔ٹھیک اسی طرح جیسے زلیخا نے اپنے شوہر کے ہوتے ہوئے بھی اپنے دل و دماغ پر عشق یوسف کو سوار کرلیا تھا۔زلیخا نے اپنے شوہر سے بے وفائی کی،میری زلیخا نے بھی مجھ سے بے وفائی کی!”
فرقان سر کو نیچے جھکائے نادرہ کی شخصیت،فطرت،کشش اور اسکی کہی ہوئی ہر ایک بات پر سنجیدگی سے غور کرنے لگا۔اچانک وہ نادرہ کی زبان سے ادا کئے گئے اس جملہ پر آکر رک گیا,
“اپنے کیریئر کی سمت توجہ دو!”
“صحیح تو ہے،یہی وہ وقت ہے کہ میں وادی عشق کی پرخار راہوں سے باہر نکلوں اور زندگی کی جنگ کے لئے خود کو آمادہ کروں۔میں کیوں اپنے وقت کو نادرہ کی یادوں میں برباد کرتا رہا؟ آخر اسکی فکر نے مجھے کیا دیا؟ میرے کیرئر کا کیا ہوگا؟”
وہ خود سے بڑی ہی سنجیدگی سے یہ سوال کرنے لگا۔اس نے اسی وقت اپنے نظریات و خیالات کو تبدیل کرنے کا مصمم ارادہ و تہیہ کرلیا۔بالکل اسی پل سے ذہن کے شعوری حصہ میں نادرہ کے خیالات سارتر،دریدا،لاکاں،فرائڈ اور کارل مارکس کے نظریات سے تبدیل ہوگئے۔اب اسکے ذہن و دماغ میں ساختیات،پس ساختیات،نفسیات و فےمینزم کی مفروضات گھومتی رہتیں۔فرقان نے شعوری طور پر نادرہ کو ضرور بھلا دیا تھا لیکن اسے اس حقیقت کی بالکل بھی خبر نہیں تھی کہ اسکے تحت الشعور کی دنیا میں صرف اور صرف نادرہ کا قبضہ ہے۔ گرچہ نادرہ کو بھلانا اسکے لئے قطعا آسان نہ تھا پر جلد ہی اس نے جزبات پر قابو پانا سیکھ لیا۔وہ پوری دلجمعی کے ساتھ انگریزی ادب کے مطالعہ میں منہمک ہوگیا۔وہ ایک پریکٹیکل اور ہوشمند انسان ثابت ہوا۔ایم اے کے امتحان میں کامیاب ہوتے ہی وہ مقابلہ جاتی امتحانات میں بیٹھا اور پہلی ہی کوشش میں کامیاب ہوا۔بردوان کے سرکاری اسکول میں اسے معلمی کی ملازمت مل گئی۔۔مرشدآباد کے عظیم گنج اسٹیشن سے صرف ایک ٹرین رات کے ڈیڑھ بجے بردوان کی جانب گزرتی تھی۔فرقان اسی راہ کا مسافر تھا۔
“یہ میرا ذاتی تجربہ تو نہیں پر میں یقین سے کہہ سکتا ہوں کہ نادرہ کے ساتھ کیا مسائل درپیش ہیں اور کیوں وہ مجھ سے ملنا چاہتی ہے!اس میں کوئی شک نہیں کہ رفیق اور اسکے درمیان تلخیاں پیدا ہو چلی ہیں،اکثر ایسا ہوتا ہے،ایک وقت کے بعد دل پیار اور شوہر سے سوا کچھ چاہتا ہے،نادرہ بھی اسی مینٹل سکنس کی شکار ہے اور اب وہ میرے وجود میں اپنی ذہنی و جسمانی سکون تلاش کر رہی ہے۔میں نے کیوں اس سے ملنے کے لئے ہامی بھری؟”
فرقان کو علم نفسیات کے اس تجزیے پر بھرپور اعتماد تھا۔ خود سے زیادہ اسے سگمنڈ فرائڈ کی نفسیاتی تھیوری پر اعتقاد تھا،اسے اپنے لئے گئے اس فیصلہ پر احساس ندامت ہونے لگا۔ایک بار پھر وہ دل کے ہاتھوں مجبور ہو چکا تھا۔
” یاتری جن کرپیا دھیان دیں! گاڑی نمبر ایک ہزار چار سو تیرہ کانچن کنیا اکسپریس جو علی پور دوار سے بردوان ہوتے ہوئے کلکتہ تک جائے گی پلاٹفارم نمبر ایک پر آرہی ہے۔دھنیا واد”…
پلاٹفارم اسپیکر کی صدا رات کے سناٹے میں اسٹیشن کی سرحدوں کو عبور کرتے ہوئے کافی دور تک جارہی تھی۔فرقان ایفائے عہد کے واسطے ٹرین پر سوار ہوا۔آج پھر وہ تقریباً دو سالوں کے بعد نادرہ سے ملنے جارہا تھا۔ذہن کے شعوری حصہ سے نادرہ کو نکال باہر کر چکے فرقان کو آج ہی اس حقیقت کا احساس ہوا کہ وہ اسکے ذہن سے کبھی دور گئی ہی نہیں بلکہ اسکے تحت الشعور میں صرف وہ ہی وہ ہے۔ادب کا یہ سنجیدہ طالب علم پھر اسی کشمکش میں مبتلا ہو چکا تھا۔اگلے بیس منٹ میں وہ خوش باغ میں تھا،حالت اضطراب میں وہ چہل قدمی کرنے لگا،آسمان کی سیاہی کچھ مدھم سی پڑرہی تھی،پو پھٹنے کے آثار نمودار ہونے لگے تھے،اندھیرے اجیالے میں تبدیل ہونے کو بے قرار تھے۔
“تم آج بھی وقت سے پہلے ہی آگئے فرقان”
باغ کے وسط میں موجود نواب سراج الدولہ کی مزار کے عقب سے آئی اس عجیب سی آواز سے وہ سہم سا گیا۔یہ آواز بالکل اجنبی تھی۔اس نے بغور دیکھا پر کوئی نظر نہ آیا،وہ پیچھے مڑا۔۔۔۔۔اسکے سامنے نادرہ کھڑی تھی ۔
وہ انتہائی لاغر و کمزور نظر آرہی تھی،عصا کے سہارے خود کو سنبھالتی نادرہ کی خوبصورتی و دلکشی مکمل طور پر زائل ہوچکی تھی،نہ آنکھوں میں وہ چمک تھی اور نہ چہرے پہ وہ دمک مگر اسکی اداسی میں بھی اسکے لب وہی مسکراہٹ بکھیر رہے تھے جو کبھی فرقان کے راتوں کی نیند چُرا لے جایا کرتے۔فرقان کا دل نادرہ کی اس حالت زار کو دیکھ کر اندر سے پسیج رہا تھا،اسکے دل میں ہمدردی کے جزبات سر اٹھا ہی رہے تھے کہ اسے نادرہ کی بے وفائی یاد آئی۔۔۔اسکے تیور بدلے،آنکھوں میں انگارے اتر آئے معنوں نادرہ کو اسکی بے وفائی کی سزا دینے کا منتظر ہو۔وہ سخت لہجے میں گویا ہوا۔۔
“پچھلے پندرہ منٹ سے میں یہاں ہوں،اگر تم پہلے سے یہاں موجود تھی تو میرا وقت برباد کرنے کا کیا مطلب؟ جب میں آیا اسی وقت میرے سامنے کیوں نہیں آئی؟”
“تمہارے سامنے اسلئے نہیں آئی کیونکہ میں دیکھنا چاہتی تھی کہ تمہیں میرے وعدے پر کتنا اعتبار ہے،کہ تم مجھ سے آج بھی کتنی محبت!”
یہ جملے ادا کرتے ہوئے وہ اپنے آنسوئوں کو روک نہ پائی ۔
“بکواس مت کرو۔۔۔میرے دل میں تمہارے لئے کوئی جگہ نہیں، محبت اور تم جیسی لڑکی سے۔”
“تم نے بالکل صحیح کہا فرقان! مجھ جیسی بے وفا سے تم محبت کر ہی نہیں سکتے مگر تم نے کبھی اس نادرہ سے بے پناہ محبت کی تھی جسکی پرچھائی آج بھی تمہاری آنکھوں میں مجھے نظر آرہی ہے”
“کام کی بات کرو۔”
فرقان کے لہجے میں سختی تو تھی پر اسکی آواز میں جھراہٹ بھی موجود تھی۔
“تمہیں میری حالت دیکھ کر اندازہ نہیں ہورہا کہ میری زندگی اور موت کے درمیان کتنا فاصلہ رہ گیا ہے فرقان ؟”
نادرہ کی آواز میں کچھ ایسی مایوسی اور اداسی پوشیدہ تھی کہ فرقان چاہتے ہوئے بھی اپنا لہجہ سخت نہ کر پایا،وہ نرمی سے مخاطب ہوا!
“نادرہ پہیلیاں کیوں بجھا رہی ہو!صاف صاف کہو کیا کہنا چاہتی ہو؟میں ایک بات پھر واضح کردوں کہ میرے دل میں تمہارے لئے اب کوئی جزبات نہیں۔مجھے بے حد ضروری کام ہے لہازا میرا وقت برباد مت کرو اور مجھے بتائو کہ مجھے یہاں کیوں بلایا ہے؟”
” ادا سے آڑ میں خنجر کی منہ چھپائے ہوئے
مری قضا کو وہ لائے دلہن بنائے ہوئے
مجھے ایسا محسوس ہورہا ہے کہ آج آسمان بے حد غمذدہ ہے،وہ مسلسل اشک بہا رہا ہے،وہ بار بار روئے جا رہا ہے،ان اشکوں کے سیلاب کو تاریکی اپنے دامن میں چھپائے ہوئے ہے جنہیں میں بخوبی محسوس کر رہی ہوں….”
فرقان خاموش کھڑا رہا،اسکی نظریں نیچے جھکی تھیں،اسکے رخسار پر آنسو رواں تھے،وہ سمجھ چکا تھا کہ معاملہ دراصل وہ نہیں ہے جو وہ تصور کئے بیٹھا تھا۔ماجرا کچھ اور ہے۔پو پھٹ چکی تھی،ایک نئی صبح کا آغاز ہوا چاہتا تھا۔فرقان اور نادرہ کی محبت کا سفینہ ایک بار پھر آسمانی اشکوں کے دریا میں رواں ہونے کو بیتاب تھا،جزباتوں نے ماحول تیار کیا اور وہ دونوں سفینہ محبت میں سوار دریائے عشق میں غوطہ زن ہونے لگے۔دوسرے ہی پل نادرہ کے لڑکھڑاتے ہوئے قدموں کو فرقان کے بازوؤں کا سہارا مل گیا،
گلے لگ کے بات وہ راز کی
وہ سلگتے ہونٹوں کی تھر تھری
لئے التجا تھی بڑھی حیا
تمہیں یاد ہو کہ نہ یاد ہو
دریائے بھاگیرتھی کے مغربی کنارے پر آباد خوش باغ شہر مرشدآباد کا وہی دلکش اور خوبصورت باغ ہے جہاں بنگال،بہار و اڑیسہ کے فرماں روا نواب ناظم علی وردی خان اور انکے نواسے نواب سراج الدولہ کی خوابگاہ ہے۔اسی حسین وادی میں فرقان اور نادرہ نے اپنی زندگی کے کئی خوبصورت لمحات گزارے تھے۔
“آج سے یہی مقبرہ میرے لئے تاج محل ہے۔”
نادرہ نے یہ جملہ اسوقت کہا تھا جب وہ پہلی بار فرقان کے ساتھ اس باغ میں سیر کو آئی تھی،پرقسمت ایک دن اسطرح انہیں انکے خوابوں کے تاج محل میں ملائے گی یہ انہوں نے خواب و خیال میں بھی نہ سوچا تھا۔
“ایک وہ دن تھا اور ایک آج کا دن ہے۔۔۔۔۔فرقان۔۔۔۔۔۔۔۔میں نے صرف اور صرف تم ہی سے محبت کی ہے ۔۔۔۔۔صرف میرے فرقان سے۔۔۔۔”
سسکتے ہوئے نادرہ ہمکلام ہوئی۔فرقان کی آغوش میں اسے اتنی نیند آرہی تھی معنوں وہ ابدی نیند کے لئے اسی آرامگاہ کی منتظر ہو۔ فرقان بڑی شفقت سے اپنی انگلیوں کو نادرہ کی زلفوں میں پھرائے جا رہا تھا۔نادرہ کے سسکنے کی آواز دھیرے دھیرے مدھم ہوئے جا رہی تھی،اسے آرام کرتا دیکھ فرقان بھی خاموش رہا،اس نے محسوس کیا کہ اسی اثناء میں نادرہ اسکے ہاتھوں میں کاغذ کا ایک ٹکڑا تھما چکی ہے ۔۔
“میرے فرقان! تم اور صرف تم ہی میری محبت ہو اور ہمیشہ رہو گے۔میرا انکار میری بے وفائی نہیں بلکہ میری مجبوری تھی،میں جس مرض میں مبتلا تھی اسکی صرف ایک ہی منزل تھی،ملک الموت کی ہمراہی۔میری حالت جب بگڑنے لگی تو تم سے دور جانے کے سوا کوئی اور راستہ مجھے نظر نہ آیا،جب میں نے اسپتال میں تمہیں دیکھا تو عجیب سی قوت میں نے اپنی روح میں محسوس کی۔جب تک تم مجھ سے ملنے آتے رہے مجھے بیماری سے جنگ کرنے کی قوت ملتی رہی۔ایک مرتبہ مجھے لگا کہ میں ٹھیک ہوجائونگی پھر تمہیں سب کچھ بتا دو ں گی،پر میں غلط تھی،تمہارے جانے کے بعد میری حالت اچانک مزید بگڑنے لگی۔کچھ دن یہ سونچ کر تم سے بات کرتی رہی کہ تمہاری آواز ہی سے کچھ سہارا مل جائے،پر پیغام اجل آچکا تھا۔میں نے مناسب سمجھا کہ تم سے ہمیشہ کے لئے دور ہوجائوں۔میرے دل نے یہ گوارہ نہ کیا کہ میری وجہ سے تم پر غموں کا پہاڑ ٹوٹ پڑے اور تمہاری زندگی غموں کے سائے میں ڈوب جائے، مجھے معاف کرنا کہ میں نے تم سے جھوٹ کہا لیکن میرا ساتھ تمہیں دکھوں کے سمندر میں ڈبو دیتی جو میں جیتے جی کبھی برداشت نہ کر پاتی۔میرا فیصلہ صحیح ثابت ہوا فرقان! ہماری محبت ناکام ہوئی تو کیا تمہاری زندگی تو کامیاب ہے۔۔۔اپنے کیرئر کی طرح اپنے ہمسفر کو بھی سونچ سمجھ کر منتخب کر لینا۔تم سے ملنا ضروری تھا،تھوڑی خود غرض ہو رہی ہوں،میں نے اپنے کوچ کی منزل خود ہی طے کی ہے۔چاہے تم اسے کچھ بھی سمجھو ۔۔۔۔۔شاید میں تمہاری آغوش میں دم توڑ رہی ہونگی۔۔۔۔وجہ مت پوچھنا۔۔۔۔۔کچھ نہ پوچھنا۔۔۔۔۔۔۔تمہاری نادرہ۔”
فرقان کی نگاہ نادرہ کی پتھرائی آنکھوں پر گڑ گئی۔خوش باغ میں موجود مسجد سے موئزن نے فجر ہونے کا اعلان کیا پر فرقان کی زندگی میں مغربین کا وقت دستک دے چکا تھا۔

Published inسید آصف عباس میرزاعالمی افسانہ فورم