Skip to content

دیوار

عالمی افسانہ میلہ 2018
افسانہ نمبر 128
دیوار
فخرالدین عارفی ۔ پٹنہ ، انڈیا

شہلاسے میری ملاقات کوئی بہت پرانی نہیں، لیکن بالکل نئی بھی نہیں ہے۔ وہ میرے اسکول سے نزدیک ہی ایک دوسرے سرکاری اسکول میں اسسٹنٹ ٹیچر کی حیثیت سے کام کرتی ہے……
شہلا سے میرا تعارف گذشتہ سال ایک EVALUATION CENTRE میں کاپیوں کی جانچ کے دوران ہوا تھا، لیکن یہ تعارف بہت دنوں تک صرف تعارف ہی رہا، دوستی اور اپنائیت میں نہ بدل سکا…… لیکن ادھر چند مہینوں میں مجھے اس سے ملنے، باتیں کرنے، سننے اور بولنے کا موقع ملا ہے اور اس قلیل عرصے میں شہلا کو میں نے اتنے قریب سے دیکھا، پرکھا، سمجھ اور جانا ہے کہ اب اس کی زندگی، میرے سامنے ایک ایسی کتاب کی مانند ہے جس کا نہ صرف یہ کہ ہر صفحہ، سطر، جملہ، بلکہ لفظ لفظ اور حرف حرف میرا پڑھا اور سمجھاہوا ہے……دوسری جانب میری اپنی زندگی کا بھی کوئی واقعہ، قصہ، حادثہ اور ماجرا شاید ایسا نہیں ہے جو شہلا سے پوشیدہ ہے___
شہلا سے ملاقات سے قبل میں پیار و محبت کا بالکل قائل نہ تھا اور لفظ پیار میرے نزدیک ایک خوب صورت کھیل، ایک حسین دھوکا اور جسم کی پیاس بجھانے کے لئے ہوس کے ایک ایسے چھلکتے ہوئے خوب صورت جام سے زیادہ اہمیت نہیں رکھتا تھا، جس کو ہونٹوں سے لگانے کے بعد پیاسے کی پیاس اور بھی تیز ہوجاتی ہے…… لیکن شہلا سے ملاقات کے بعد فوراً ہی مجھے یہ محسوس ہوا تھا کہ میرے نظریے کی بنیادیں بہت ہی کمزور اور کھوکھلی ہیں……
شہلا کی باتوں میں جادو کا اثر ہے، اس کے خیالات میں فرشتوں کا تقدس اور پاکیزگی ہے، جذبات میں معصومیت اور دل میں انسانیت کا سچا درد ہے اور وہ سب کچھ ہے جو کسی بھی انسان کو اپنا گرویدہ بنانے کے لئے کافی ہوتا ہے۔……
اچھی گفتگو بغیر کسی کوشش یا ارادے کے دو انسانوں کو ہمیشہ ایک دوسرے کے قریب کردیتی ہے، قریب اور اموشنل بھی… اور شہلا کی دوسری بہت ساری ادائوں کے ساتھ اس کی ایک یہ ادا بھی مجھے بہت پسند ہے، وہ ہمیشہ بہت پیاری پیاری باتیں کیا کرتی ہے، اس کی باتیں جذباتی اور خوب صورت ہوا کرتی ہیں جو دل کے آبگینے کو پگھلا کررکھ دیتی ہیں، اس کی زبان سے نکلے ہوئے ایک ایک لفظ سے پیار و محبت اور جوش وولوکے کا ایک چشمہ سا ابلتا ہے۔ لیکن جوش کے ساتھ ہوش اور جذبات کے ساتھ دانش مندی کے دامن کو وہ کبھی اپنے ہاتھ سے چھوٹنے نہیں دیتی ہے…… مجھے اچھی طرح یاد ہے، ایک روز اس نے مجھ سے کہا تھا:
’’انسان کی زندگی میں جو شئے مرکزی حیثیت اختیار کرلے اسے پالینا سب سے بڑی خوشی اور اسے کھودینا سب سے بڑا غم ہوتا ہے۔……‘‘اور یہ کہہ کر وہ بالکل خاموش، اُداس اور مغموم ہوگئی تھی، جیسے خود بھی اپنی باتوں کی تہہ میں اترنے کی کوشش کررہی ہو۔ اسے اُداس و افسردہ دیکھ کر میں بالکل تڑپ اٹھا تھا۔ لیکن میری زبان پر شاید کسی نے سخت پہرے لگادیئے تھے اور بہت کچھ کہنا چاہتے ہوئے بھی میں شہلا سے کچھ نہ کہہ سکا تھا۔ پھر بڑی کوششوں کے بعد ہمت کرکے جب میں نے لب کشائی کی جرأت کی تھی تو میری زبان سے صرف اتنا نکل سکا تھا:
’’شہلا……‘‘ اور اس ایک لفظ سے زیادہ میرے منہ سے کچھ نہ نکل سکا تھا۔ دل میں جذبات و احساسات کا ایک طوفان سا اٹھ رہا تھا، چاہتا ضرورتھا کہ شہلا سے دل کی ساری باتیں کہہ دوں، اسے یہ بتادوں کہ میری زندگی کا بھی ایک مرکز ہے اور وہ مرکز شہلا خود تم ہو، تم اور صرف تم……
لیکن آہ، میں کتنا مجبور تھا، ایک بالکل بے بس انسان، جس کی زبان پر حالات کی تلخیوں نے پہرے بٹھادیئے تھے اور لب پر مہر سکوت ثبت کردی گئی تھی……
شہلاایک شادی شدہ عورت ہے، اپنے سہاگ کی امانت اور اس ننھے وجود کا مستقبل جس کی نقل و حرکت ان دنوں وہ اپنے پیٹ میں شدت سے محسوس کررہی ہے۔
شہلا کا شوہر ایک ڈاکٹر ہے، ایک ایسا ڈاکٹر جس کے یہاں دن رات مریضوں اور ملنے جلنے والوں کا ایک ہجوم رہتا ہے ، دولت کی افراط ہے اور یہ دولت ڈاکٹر سجّاد کی زندگی میں کوئی نئی نہیں، بلکہ خاندانی ہے۔ ڈاکٹر سجّاد کے والد بھی اپنے وقت کے ایک مشہور فیزیشین (PHYSICIAN) کی حیثیت سے ملک بھر میں مشہور تھے اور انہوں نے بے انتہا دولت کمائی، جس کا آج تنہا وارث ان کا اکلوتا بیٹا ڈاکٹر سجّاد ہی ہے……
کہا جاتا ہے کہ جس کے پاس دولت ہوتی ہے، اس کو دولت کی ہوس بھی کچھ زیادہ ہی ہوتی ہے اور ڈاکٹر سجّاد اس کی ایک زندہ مثال تھا۔ ڈاکٹر سجّاد کا شاید یہ خیال تھا کہ انسان کی ساری خوشیوں کے سوتے دولت اور امارت کے چشمے سے ہی پھوٹتے ہیں، دولت سے انسان دنیا کا ہرسکھ، شانتی اور خوشی خریدسکتا ہے، لیکن کاش ڈاکٹر سجّاد کو کوئی یہ سمجھا سکتا کہ اس کا ایسا سوچنا کتنی بڑی نادانی اور بھول ہے، ایک ایسی بھول جس کے نتیجے، ہمیشہ بہت تلخ اور سنگین برآمد ہوتے ہیں۔
شہلا نے شادی سے قبل ہی ڈاکٹر سجاد کے کافی چرچے سن رکھے تھے، اس لئے کہ ایک کامیاب سرجن کی حیثیت سے اس کی شخصیت شہر اور بیرون شہر میں کسی تعارف کی محتاج نہ تھی، چنانچہ جب ایک روز گھر میں شہلا کو یہ خوش خبری سننے کو ملی تھی کہ ڈاکٹر سجاد بہت جلد اس کی زندگی میں اس کا محافظ بن کر داخل ہونے والا ہے تو وہ خوشیوں کے جذبات سے سرشار اور مخمور ہو اٹھی تھی، اس کا دل گلاب کی کسی کلی کی طرح کھل اٹھا تھا اور اس کی بھینی بھینی خوشبو اسے کتنی بھلی محسوس ہئی تھی۔ پھر نہ جانے کیا سوچ کر وہ آپ ہی آپ مسکرانے لگی تھی، اس کے ہونٹوں کی پنکھڑیاں تھرتھرا اٹھی تھیں جیسے باد صبا کے ہلکے ہلکے جھونکے سے کنواری کلیوں کا وجود لرز اٹھتا ہے……
’’پگلی! تو سمجھتی ہے کہ کسی کو ٹوٹ کر صرف لٹریچر پڑھنے والا ہی چاہ سکتا ہے…… بایو کیمسٹری، فیزکس اور بائیلوجی پڑھنے والے ڈاکٹر کے پاس بھی تو ایک دل ہوتا ہے جس میں دھڑکنیں ہوتی ہیں……‘‘
وہ زیر لب بڑبڑائی تھی، اسے پہلی مرتبہ اپنے دل میں ایک عجیب سی کیفیت کا احساس ہوا تھا اور تب وہ کسی کے لبوں کو چومنے کی آرزو میں کانپتے ہوئے ہونٹوں اور کسی کے قدموں کی چاپ سن کر زرد پڑجانے والے چہرے کی ملی جلی کیفیتوں کے درمیان پنڈولم کی مانند اپنے جھولتے ہوئے وجود کو بڑی مشکلوں سے سنبھال پائی تھی۔ پھر بھی اسے پہلی مرتبہ ایسا محسوس ہوا تھا جیسے اس کے وجود کی اتھاہ گہرائیوں سے کوئی چیز پھڑپھڑاتی ہوئی باہر نکل گئی ہو اور تب وہ نہ چاہتے ہوئے بھی اپنی پلکوں پر کچھ خواب سا سجا بیٹھی تھی___
لیکن ڈاکٹر سجاد نے شہلا کی آنکھوں کے دریچے سے جھانک کرکبھی اس کے من کے اندر سلگتے ہوئے الائو کو دیکھنے کی کوشش نہیں کی تھی جو ہر لمحہ اس کے وجود کو موم کی طرح پگھلا رہا تھا۔ وہ تو ایک شکاری تھا جو آکاش میں اڑتی ہوئی ایک سنہری چڑیا کے پیچھے دیوانہ وار بھاگ رہا تھا۔ چڑیا کبھی کبھی آسمان کی بلندیوں سے اس پر ایک نظر ڈالتی اور پھر چوں چوں کرتی ہوئی اپنی اڑان کو کچھ اور تیز کردیتی۔ لیکن اس چڑیا کا من ہرلمحے ڈوبتا چلا جارہا تھا جسے ڈاکٹر سجاد نے اپنے آنگن میں سونے کے ایک پنجڑے میں قید کررکھا تھا…
وقت کی سوئی ہوئی دوشیزہ نے ایک کروٹ لی، حالات نے اس کے سپنے کو ساکار کردیا اور اس کی مانگ میں افشاں بھردی گئی……
اس روز اس کا گھر دلہن کی طرح سجایا گیا تھا، برقی قمقموں کی جگمگاہٹ سے سارا گھر آنگن روشنیوں میں ڈوبا ہوا تھا، اور اس کی تمام سکھی سہیلیاں چاروں طرف سے اسے گھیرے ہوئے تھیں۔ ہر طرف سے اس پر طنز کے تیر برسائے جارہے تھے، ایسے تیر جن میں نشاط و کیف اور سرور کی چبھن بھی پوشیدتھی……
یاسمین کہہ رہی تھی، ’’دیکھو نا آج ہی سے اس نے اپنی نظریں بدل ڈالی ہیں جیسے ہم لوگوں میں سے کسی کو پہچانتی ہی نہیں ہے……‘‘
شائستہ نے بھی ہاں میں ہاں ملائی تھی: ’’ہاں بھئی، ٹھیک ہی تو ہے، ہم لوگوں میں اب چارم ہی کیا رکھا ہے اس کے لئے، اب تو اسے ڈاکٹر صاحب کی مضبوط بانہوں کا سہارا مل چکا ہے……‘‘
گیتا نے بھی ایک چٹکی لی تھی: ’’تم لوگ شاید جلنے لگی ہو میری شہلا سے، اگر ابھی سے ہی بیچاری نے اپنے من مندر کے دیوتا کی پوجا شروع کردی ہے تو اس میں بھلا حرج ہی کیا ہے……؟‘‘
’’واہ یہ بھی کوئی بات ہوئی کہ رشتے ناطے کے تمام بندھنوں کو کوئی ایک ہی جھٹکے میں توڑ ڈالے؟؟‘‘
نگارینہ نے بھی اپنے ترکش سے ایک تیر چلایا تھا۔ لیکن شہلا تو ان تمام باتوں سے بے نیاز، اپنی آنکھیں بند کئے، کچھ شرمائی اور کچھ گھبرائی گھبرائی سی تمام رات یہی سوچتی رہی تھی کہ سجاد اب صرف اس کا ہے، وہ اب اپنی زندگی کی آخری سانس تک اسے پیار کرسکے گی، اسے دل بھر کر دیکھ سکے گی، اس کے جسم کو چھوسکے گی اور اس کی بیوی کہلائے گی۔ لیکن نہ جانے کیوں جیسے یہ ٹھوس حقیقتیں اس کے ہاتھ سے کسی چکنی مچھلی کی طرح پھسل کر بھاگ جانا چاہتی تھیں۔ وہ اپنی مٹھیوں کو کس لیتی، لیکن اس کی تمام انگلیاں تھرتھرانے لگتیں، گرفت کمزور پڑجاتی اور پسینے سے اس کا سارا بدن شرابور ہواٹھتا…… اور واقعی مسرت کے لمحات اس کی زندگی سے بھاگتے رہے، بادلوں کی طرح ہوائوں کے دوش پر سوار ہوکر اور اس کے من کی دھرتی سدا پیاسی ہی رہی، اس سلگتے ہوئے ریگستان کی طرح جس کا دامن پانی کی ایک ایک بوند کے لئے ترستا رہتا ہے……
وقت پنکھ لگاکر ہر لمحے مائل پرواز رہا، حالات بدلتے رہے اور شہلا روز بروز اپنے وجود کے خوفناک اور بھیانک سناٹے کی گہرائیوں میں ڈوبتی اور اترتی ہی چلی گئی……
اس نے سوچا تھا کہ شادی کے بعد وہ اپنی نوکری کو خیر باد کہہ دے دی۔ لیکن اب تو اس کی نوکری ہی اس کے جینے کا واحد سہارا تھی۔ اسی کے سہارے تو وہ اپنے گھر کے اذیت ناک ماحول سے باہر نکل کر فضا میں چند گھنٹوں کی خاطر قدرے سکون و اطمینان کی سانس لے سکتی تھی۔ لیکن گھر لوٹنے کے بعد تو پھر وہی اذیت ناک تنہائی، کرب زدہ ماحول، ریزہ ریزہ احساس اور ٹی وی یا ریڈگرام کی گھن گرج اس کے ذہن و دماغ پر جیسے ہتھوڑے برساتی تھی اور وہ تڑپ تڑپ اٹھی۔
کمرے میں کولر کی تیز ہوا کی سائیں سائیں تو جیسے اس کے دل میں سوئے ہوئے کئی درد جگادیتی ہے، اس کا زخم ہرا ہوجاتا ہے، اور وہ اپنے اندر ایک ٹیس محسوس کرتی ہے جیسے کوئی ناگ ہر لمحہ اس کے احساس کے بدن کو ڈس رہا ہو۔___اور ان ہی کیفیتوں کے درمیان بڑی خاموشی اور صبر و ضبط کے ساتھ شہلا اپنی زندگی کے شب و روز گذاررہی تھی۔ درحقیقت اس کی زندگی چپ چاپ بہتی ہوئی اس ندی کی طرح تھی جس میں اچانک کسی نے ایک پتھر دے مارا تھا۔ لہریں تھیں کہ پھیلتی جارہی تھیں۔ ایک کے بعد دوسری، پھر تیسری…… یہ رک جاتیں تو وہ اپنے آپ کو سمیٹ لیتی، لیکن نہ پتھر پانی میں ڈوب رہا تھا اور نہ لہروں کا پھیلائو تھم رہا تھا۔ وہ اکثر ساری ساری رات درد کے بستر پر کروٹیں بدلتے ہوئے گذار دیتی، رات گئے سجاد اپنی کلینک سے لوٹتا تو وہ اس کی قدم بوسی کے لئے اپنی نگاہیں بچھادیتی، اپنی بانہوں کا ہار اس کے گلے میں ارپت کرتی، اپنے کپکپاتے ہوئے لبوں کا تحفہ پیش کرتی۔ لیکن سجاد تو جیسے اپنے جسم میں ملتا ہی نہیں تھا وہ تو پتھر تھا، پتھر اور نرا پتھر کہ جسے تراش خراش کر خوب صورت اور دیدہ زیب تو بنایا جاسکتا ہے مگر اس میں جان نہیں پیدا کی جاسکتی___اور اس طرح شہلا کی سینکڑوں تمنائیں اور آرزوئیں روزانہ اس کے اپنے وجود کے اندر ہی سسک سسک کر دم توڑتی رہیں اور ان ہی سینکڑوں تمنائوں اور آرزوئوں کے ساتھ اس کی زندگی کی ایک یہ معمولی آرزو بھی ہمیشہ تشنہ بہ لب ہی رہی تھی کہ کاش کبھی سجاد جسم کی طلب کے بغیر بھی، پیار سے اسے اپنی بانہوں میں جکڑ لیتا یا اس کے کاندھے پر ہاتھ ہی رکھ دیتا۔ لیکن ایسا کبھی نہیں ہوا اور شہلا تڑپتی ہی رہی……
لیکن شہلا آخر کب تک ان باتوں کو برداشت کرسکے گی؟ زہر کے اور کتنے گھونٹ اسے پینے ہوں گے؟ وفا کی راہ میں اور کتنی دور تک اسے انگاروں پر چلنا ہوگا؟ اب تو اس کے پائوں لہو لہان ہوچکے ہیں، زہر کے اثرات نے اس کے جسم کو نیلگوں کردیا ہے اور دکھ کا کانٹا اس کے حلق میں بہت دور تک گڑتا چلا جارہا ہے۔……
کیا خبر کب کمزور لمحے اس کا مقدر بن جائیں اور شہلا کسی گہری اور بہت گہری نیند میں کہیں ڈوب جائے…… لیکن نہیں۔ میں ایسا ہرگز نہیں ہونے دوں گا۔ میں شہلا کو اپنی جان دے کر بھی بچائوں گا، اسے ایک نئی زندگی دوں گا، زندگی کے جس آبدار موتی کی تلاش و جستجو میں وہ دربدر بھٹک رہی ہے۔ میں وہ موتی اس کے قدموں میں رکھ دوں گا……
اور تب میں فیصلہ کرلیتا ہوں کہ کل ہی شہلا سے ملاقات کرکے اس سے بالکل فیصلہ کن باتیں کروں گا۔ شہلا نے میری زندگی میں مرکزی حیثیت حاصل کرلی ہے، میں اسے ٹوٹ کر چاہتا ہوں اور شہلا بھی تو……
پھر اس ڈاکٹر سجاد کو کیا حق پہنچتا ہے کہ وہ ہماری محبتوں کا خون کرے! ہمارے بیچ میں دیوار بنارہے؟……
میں ہر دیوار کو مسمار کردینے کا پختہ عزم کرلیتا ہوں، لیکن اسی پل مجھے محسوس ہوتا ہے کہ میرے اندر جیسے کوئی شئے ایک جھناک کی آواز کے ساتھ ٹوٹ کر رزہ ریزہ ہوجاتی ہے، اس کی کرچیوں کو میں اپنے دل میں چبھتا ہوا محسوس کرتا ہوں۔ ساتھ ہی مجھے ایسا محسوس ہوتا ہے کہ جیسے میرے دل کے اندر سینکڑوں، ہزاروں کرچیاں ایک ساتھ چیخ چیخ کر مجھ سے ایک ہی سوال کررہی ہوں کہ:
دیوار کون ہے……؟
دیوار کون ہے……؟؟
دیوار کون ہے……؟؟؟
کہیں ایسا تو نہیں ہے کہ ڈاکٹر سجاد اور شہلا کے مقدس رشتے کے درمیان سب سے بڑی دیوار خود تمہاری شخصیت ہو؟
’’نہیں یہ جھوٹ ہے، یہ سراسر جھوٹ ہے……‘‘
میں اپنی پوری طاقت کے ساتھ چیخ پڑتا ہوں۔ لیکن میری آواز جیسے میرے حلق میں ہی کہیں اٹک کر رہ جاتی ہے۔

Published inعالمی افسانہ فورمفخرالدین عارفی