Skip to content

دیوارِ ہجر کے سائے

عالمی افسانہ میلہ “2020”

افسانہ نمبر ۔ 20

“دیوارِ ہجر کے سائے”

عشرت معین سیما۔ برلن ۔ جرمنی

تمہیں کیا خبر کہ اس دیوار کے سائے میں میرے ارمانوں کی کتنی لاشیں دفن ہیں، میری بے بسی نے اس دیوار پر کیا کچھ تحریر کر دیا ہے لیکن تم کیسے دیکھ سکتے ہو یہ سب کچھ۔۔۔ تمہاری آنکھوں پر تومحبت کی وہ پٹی بندھی ہے جس نے میرے خوابوں کا خون کر دیا ہے۔۔۔۔ سمجھ نہیں آتی کہ تمہیں قصوروار کہوں یا اس دیوار کو جو ہم دونوں کے بیچ راتوں رات تعمیر کر دی گئی۔

مارٹینا نے ڈائری لکھتے لکھتے اپنے بہتے آنسوؤں کو ٹیشو پیپر سے اپنے سرخ سفید گالوں پر سے بہت بے دردی سے ہٹایا اور وہیں میز کے پاس لگی کھڑکی سے باہر کی جانب دیکھنے لگی۔ اُس کی آنکھیں کھڑکی سے پار بے کیف منظر دیکھ کر تھک چکی تھیں۔ تاحدِ نگاہ ایک کھلا میدان تھا جس کی حدیں بتا رہی تھیں کہ شاید کسی زمانے میں وہاں کوئی جنگل ہوگا کیونکہ کچھ اکھڑے ہوئے درخت کے ارد گرد سوکھی ٹہنیوں پر برگ نے اور اس سے لپٹا کائی نما سبزہ موسمِ بہار کے آتے ہی یہاں کسی آزاد جذبے و خواہش کی طرح سر اٹھانا شروع کر دیتے تھے اور موسم سرما کی بارشیں اور برفباری ختم ہوتے ہی کچھ پیلے، اودے اور سفید پھول اس میدان کی زمین پر جمی سخت تہہ کو چیر کر باہر نکل آتے تھے۔ شاید ان پھولوں کی ہمت دیکھ کر کچھ پرانے کٹے ہوئے درختوں کے تنے بھی اپنے جسم پر سبزہ سجانے کی خواہش لیے بیدار ہونے لگتے تھے اور اپنی شاخوں کی برہنگی ڈھانپنے کے لیے آسمان سے مدد مانگتے ہوئے اپنی شاخیں پھیلائے دکھائی دیتے ۔ لیکن موسم کی اس سختی میں بھی علاقے کی انتظامیہ اس سبزے کو کچل کر وہاں ریت بچھا دیا کرتی تھی تاکہ یہ اس علاقے کی مشہور اشپرے ندی کو لگنے والا یہ میدان نگاہ کی اس حد تک نظر آتا رہے جہاں وہ خاکی سنگلاخ دیوار یں اپنے سر پر آہنی خار دار باڑھ اٹھائے اسے پار کرنے والوں کو موت کا پیغام دے رہی ہوتی ہیں۔

لیکن ساتھ ہی ہر روز اشپرے ندی کے اُس پار اونچی اور لمبی عمارتیں مشرق سے نکلنے والے سورج کی کرنوں کو گلے لگانے کے لیے اس دیوار کو ڈھانے کا سہارا تلاش کرتی تھیں اور سارا دن پرندوں اور ہواؤں کو اس دیوار کو گرا دینے کا پیغام دے کر تھک جاتیں تو وہ دیوار کے اس پار ڈوبنے والے سورج کے ساتھ ایک سایہ بن کر کہیں دور اندھیرے میں گم ہوجاتی تھیں۔ دیوار کے اُس پار کرسٹیان بھی درد کی اس لہر کو اپنے سینے میں اترتا محسوس کرتا تھا لیکن اس درد کو برداشت کرنے کے سوا اس کے پاس اور کوئی چارہ نہ تھا ۔ وہ مجبور تھا ۔۔۔۔ اپنی محبت کے ہاتھوں ۔۔۔ اور یہ محبت عجیب چیز ہے بھیس بدل بدل کر انسان کو آزماتی ہے۔ کبھی محبوبہ کی بھولی بھالی شکل نگاہوں میں بھر دیتی ہے اور کبھی ماں کی مدد کی آواز کو کانوں میں قید کر دیتی ہے اور کبھی ایک بچے کی پکار میں دل چیر کر رکھ دیتی ہے۔ اُس روز بھی ایسا ہی ہوا تھا جب شہر برلن کے حالات خراب تھے۔ یوں تو اس وقت پورے یورپ کیا پوری دنیا کے سیاسی اور سماجی حالات کروٹ بدل کر زمانے کو ایک نئی تاریخ سے رنگنے کو تیار تھے ۔ اس بدلنے والےرنگوں میں سب سے اہم رنگ سرخ تھا جو قربانیوں اور اتحاد کا ہی نشان نہیں بنا تھا بلکہ ایک قوم و جذبے کی سرفروشی کا بھی سامان لیے گلی گلی متحرک تھا۔

کرسٹیان اور مارٹینا بچپن کے دوست تھے۔ یہ دوستی ناساز گار حالات اور وقت کی بے رحمی کے باوجود ان دونوں کے دلوں میں ذرہ برابر بھی کوئی دوری یا بدگمانی کا سبب نہیں بنی تھی، تب ہی ان دونوں نے فیصلہ کیا کہ ان نامساعد حالات میں بھی وہ اپنی زندگی میں خوشی کا احساس بیدار کریں گے اور ایک دوسرے کو قانونی طور پر بھی اپنی محبت کا جلد گواہ بنالیں گے۔ وہ دونوں جلد از جلد شادی کی سماجی رسم کو اپنی محبت کا نشان بنا کر ایک دوسرے کی پہچان بن جانا چاہتے تھے۔ لیکن کرسٹیان کی ماں اس وقت شادی کے حق میں بالکل نہیں تھی ۔ اس کا کہنا تھا کہ ملک کے سیاسی حالات اس وقت اتنے ابتر ہیں کہ خوشی کا احساس بھی خوف اور انتشار کی فضا کو ختم نہیں کر پائے گا۔ کرسٹیان اپنی ماں کی یہ بات کئی بار مارٹینا کو بتا چکا تھا ۔ جس پر مارٹینا کے دل میں کرسٹیان کی ماں کے لیے ایک کدورت رفتہ رفتہ پنجے گاڑ رہی تھی ۔ کرسٹیان کی ماں بار بار اپنے بیٹے سے کہتی کہ

“ کرسٹیان ! کیا تمہیں وقت کی نزاکت کا کچھ احساس نہیں ۔۔۔۔ ہمارے ارد گرد کتنے لوگ راتوں رات غائب ہو رہے ہیں اور کہیں خاموشی سے لقمہ اجل بن رہے ہیں ۔۔۔ ملک کے حالات اس وقت بہت ناساز بلکہ بد ترین ہوگئے ہیں ، تم کچھ ماہ بعد جب حالات بہتر ہوجائیں تب شادی کرنا ۔۔۔ تم مارٹینا کو فی الوقت شادی کے لیے ٹال دو ، اُسے سمجھاؤ ۔۔۔۔ یقین مانو تمہیں یہ خوشی کچھ دنوں بعد زیادہ لطف دے گی “

لیکن کرسٹیان ان ہی دنوں کی کڑواہٹ کو اپنی زندگی میں محبت کی چاشنی بنا کر گھولنا چاہتا تھا۔اُس نے پوٹسڈامر اسٹریٹ نمبر ننانوے مغربی اور مشرقی برلن کے قریب ہی ایک نئی آباد ہونے والی بلڈنگ میں دو کمروں کا ایک چھوٹا سا فلیٹ کرائے پر لے کر اسے سجانا شروع کر دیا تھا۔ جہاں وہ مارٹینا کے ساتھ اپنی اذدواجی زندگی کی ابتدا کرنا چاہتا تھا۔ ادھر مارٹینا اپنے ایک عمر کے دیرینہ خواب کی تعبیر پانے کی تیاری کر رہی تھی۔ اس زمانے میں دلہن کا لباس عروسی تیار کرنے کے لیے لڑکیاں نو عمری سے ہی پینی اور سینٹ بچا کر ایک غلے میں محفوظ کرنا شروع کر دیا کرتی تھیں تاکہ وہ اپنی زندگی کے اس یادگار دن کے لیے ایک حسین اور قیمتی لباس عروسی بنوا سکیں ۔ لیکن یہ وہ دور تھا جب جرمنی میں اس وقت عوام کی جانب سے بچایا ہوا کوئی بھی سکہ اس کے اپنے ذاتی استعمال کے بجائے فوج کے جنگی سامان کا ایندھن بنانے کے لیے وقف کر دیا گیا تھا۔ مارٹینا اور اس کی ماں اس شادی کی خبر سے بہت خوش تھیں ۔ گھر کے تمام ساز و سامان کی مارٹینا نے فہرست بنا لی تھی کہ اُن کو شادی کے اخراجات کس طرح اٹھانے ہیں اور گھر کےسامان میں کس چیز کی ضرورت بہت اہم ہے ۔ شادی کی رسم میں لباس عروسی ،کیک اور انگوٹھی کے لیے کتنی رقم درکار ہے۔ مارٹینا کی ماں بہت اچھی سلائی جانتی تھی اُس نے مارٹینا سے وعدہ کیا تھا کہ وہ اپنا لباس عروسی نئے ستاروں اور موتیوں سے سجا کر مارٹینا کے ناپ کا بنا دے گی اور جس اسلحہ فیکٹری میں وہ کام کرتی ہے وہاں سے کچھ رقم ایڈوانس لے کر شادی کی انگوٹھی کا انتظام کرنے میں کرسٹیان کی مدد کرئے گی۔ مارٹینا کا بڑھئی باپ جنگل سے اچھی لکڑیاں اور درخت کے تنے کاٹ کر مارٹینا کے لیے نیا فرنیچر تیار کرنا چاہتا تھا لیکن اپنی سانس کی بیماری کے ہاتھوں مجبور ہوکر یہ کام اپنے ایک ساتھی کو سونپ دیا تھا۔

کرسٹیان نے بھی اپنے علاقے کے چرچ میں اس بات کا اعلان کیا تھا کہ وہ اپنی شادی کے لیے چرچ اور اس کی انتظامیہ کا تعاون چاہتا ہے۔چرچ کے پادری نے کرسٹیان سے وعدہ کیا تھا کہ اگست کی تیسری اتوار کو وہ شادی کی رسم ادا کرنے کے لیے بذات خود چرچ کے دیگر انتظامات کا جائزہ لے گا ۔

جرمنی اگرچہ اس وقت مشرق اور مغرب میں بانٹا جا چکا تھا لیکن ایک سرحدی لکیر نہ اس قوم کو بانٹنے کو تیار تھی اور نہ ہی لسانی و سماجی رابطے اس خطے کو مشرق اور مغرب کی جانب کھینچ سکتے تھے۔ لیکن سیاسی سطح پر جرمنی کے مشرق و مغرب میں ایک سرد جنگ جاری تھی۔

کرسٹیان اور مارٹینا صرف چند گلیوں کے فاصلے سے برلن کے ایک معروف علاقے میں رہائش پزیر تھے۔ وہ اگست کی ایک سنہری دوپہر تھی جب مارٹینا کے باپ کے دوست نے بتایا کہ اُس نے ایک چھپر کھٹ مارٹینا کے حجلہ عروسی کے لیے تیار کیا ہے اور وہ اسے کرسٹیان کے نئے فلیٹ میں پہنچانا چاہتا ہے۔ مارٹینا نے یہ خوشخبری جب کرسٹیان کو سنائی تو وہ فلیٹ کی چابیاں لے کر کام کے بعد مارٹینا کے پاس چلا آیا ۔ دونوں نے مل کر اپنے ایک دوست کی مدد سے وہ چھپر کھٹ اپنے نئے مکان میں پہنچایا۔ دوست کے جانے کے بعد ان دونوں نے اس چھپر کھٹ کا بغور جائزہ لیا ۔ خالص لکڑی اور ہاتھ سے بنا ہوا وہ پلنگ بہت خوبصورت تھا سرہانے اور پلنگ کے پائے گہرے بھورے رنگ کی خوبصورت لکڑی سے مضبوط بنائے گئے تھے اور پلنگ کے چاروں کونوں پر لگا لکڑی کا کھنبہ ہلکے بھورے رنگ کا تھا۔ کرسٹیان نے پلنگ کے درمیان میں تخت پر نیلے رنگ کا کمبل بچھا دیا اور تصور میں ایک سفید اجلے پلنگ پہ نیلے رنگ کی جالی دار چھت کے نیچے اپنی محبوبہ مارٹینا کو لباس شب خوابی میں بازو پھیلائے دیکھا تو اس سے رہا نہ گیا۔ اُس نے چپکے سے کمرے کا جائزہ لیتی مارٹینا کے قریب کا کر اس کی کمر میں ہاتھ ڈال دیئے اور اسے اپنے اتنے قریب کر لیا کہ اس تنہائی میں اُن دونوں کی سانسیں ایک دوسرے میں اُلجھنے لگیں۔ کچھ دیر وہ دونوں مست اس ادھورے بستر پر مکمل زندگی کا لطف لینے لگے۔

کچھ دیر بعد مارٹینا نے پلنگ کے سخت تختے پر بیٹھتے ہوئے اپنے بلاؤز کے بٹن بند کرتے ہوئے کرسٹیان کی جانب دیکھتے کہا

“ تم تو بہت بے صبرے ہو ۔۔۔۔ ایک دم ہی ۔۔۔

کرسٹیان نے پلنگ پہ لیٹے لیٹے ہی اُس کی پیٹھ پر ہاتھ پھیرتے ہوئے مارٹینا کے ادھورے جملے کو سوالیہ بناتے ہوئے پوچھا

“ ایک دم ہی ۔۔۔ کیا ؟

مارٹینا نے شرماتے ہوئے کہا ۔

“ چلو اب دیر ہورہی ہے ۔۔۔ابھی یہاں بجلی کا انتظام بھی نہیں ہے کچھ دیر میں اندھیرا ہوجائے گا تو گھر پہنچنے میں بھی مسئلہ ہوگا۔ آج کل یوں بھی شہر کی ہر چھوٹی بڑی سڑکوں پہ عجیب سراسیمگی چھائی رہتی ہے”

کرسٹیان نے نہ چاہتے ہوئے اپنے کپڑے پلنگ کے تختے سے اٹھائے اور پہن کر وہ دونوں اپنے فلیٹ کو بند کر کے گھر کی جانب چل دئیے۔

“ مارٹینا فلیٹ کی ایک چابی تم اپنے پاس رکھ لو یوں بھی یہ تمہارے گھر سے نذدیک ہے ۔۔۔ تمہیں پلنگ کے لیے گدا تکیہ اور رضائی بھی ناپ سے بنانا ہے تو تم یہ چابی اپنے پاس رکھو”

کرسٹیان نے بس میں بیٹھے بیٹھے اچانک اپنی جیب سے چابی نکال کر مارٹینا کو دیتے ہوئے کہا۔

“ ٹھیک ہے ۔۔۔ میں کل ہی پلنگ کی دیگر چیزیں تیار کرنا شروع کرتی ہوں اب یوں بھی زیادہ دن نہیں ہیں ہماری شادی میں “

مارٹینا نے مسکرا کر چابی کرسٹیان کے ہاتھ سے لے کر اپنے ہینڈ بیگ میں احتیاط سے رکھتے ہوئے کہا۔ کچھ ہی دیر میں مارٹینا اپنے گھر کے قریبی بس اسٹاپ پر اترنے لگی تو کرسٹیان نے اُس کو بانہوں میں بھر کر ایک الوداعی بوسہ دیا اور مارٹینا بس سے اترنے کے بعد دیر تک اس کو خدا حافظ کہتے ہوئے ہاتھ ہلاتی رہی۔

اپنے مکان کے قریب لائپزیگر اسٹریٹ پہ بس کے پہنچتے ہی کرسٹیان نے دور ہی سے دیکھ لیا تھا کہ ایک ایمبولینس اس کے مکان کے دروازے سے کسی کو لے کر جانے کو تیار ہے۔

کرسٹیان دھڑکتے دل کے ساتھ بھاگتا ہوا اپنے مکان کے دروازے کے قریب پہنچ کر آواز لگائی

ٹھہرئیے ! براہ کرم ٹھہرئیے !

ایمبولینس کے قریب جاکر اس نے ہانپتے ہوئے ایک آدمی سے کہا جو شاید اس ایمبولینس کا ڈرائیور تھا

“ کیا میں جان سکتا ہوں کہ کیا واقعہ ہوا ہے اور آپ کس کو ساتھ لے کر جا رہے ہیں؟

ایمبولینس کے قریب کھڑے شخص نے بتایا کہ اس مکان کے پڑوس سے کسی نے فون کیا تھا کہ اس مکان میں رہنے والی خاتون مسز مارکریٹ شولز کی طبیعت بگڑ گئی ہے شاید ہارٹ اٹیک ہے ۔۔۔ ہم انہیں سرکاری ہسپتال لے جارہے ہیں”

“میں کرسٹیان شولز ہوں ان کا اکلوتا بیٹا۔۔۔ کیا میں اپنی ماں کو دیکھ سکتا ہوں ؟ ۔۔۔ کیا آپ کے ساتھ چل سکتا ہوں”

کرسٹیان نے بے چینی سے ایمبولنس کے اندر نگاہ ڈالتے ہوئے کہا اور فوری اپنا شناختی کارڈ نکال کر ایمبولنس والے شخص کو دکھایا ۔

“ ہاں ! بالکل ۔۔۔ تم چلو ہمارے ساتھ

اپنے کھلے مکان سے بے پرواہ ہوکر کرسٹیان ایمبولنس میں ساتھ ہی سوار ہوکر ہسپتال پہنچ گیا۔ تین دن تک اس کی ماں کی حالت خطرے میں رہی کرسٹیان کا اس دنیا میں اس کی ماں کے سوا کوئی رشتہ دار نہ تھا ۔ وہ دنیا اور اس کے دھندوں سے بے پرواہ تین دن اور راتیں ماں کے لیے ہسپتال میں رہا۔

جب کرسٹیان کی ماں کی حالت خطرے سے باہر ہوئی تو کرسٹیان نے اپنے ایک کولیگ کو فون کرکے کام پہ اطلاع دی کہ وہ اپنی ماں کی علالت کی وجہ سے کچھ دن اور کام پہ نہیں آئے گا تو اس کے کولیگ نے اُسے یہ خبر دے کر حیران کر دیا کہ مشرقی اور مغربی برلن کے درمیان جاری سرد جنگ اب بد ترین صورت اختیار کرنے کو ہے۔ مشرقی جرمنی کی جانب سے مشرقی برلن کے گرد دیوار اٹھنا شروع ہوچکی ہے جو کہ دونوں ممالک کو جلد ہی دولخت کر دے گی۔ کرسٹیان نے ایک لمحہ مارٹینا کے متعلق سوچا پھر ہسپتال کے کاؤنٹر پہ فون کے قریب رکھے ٹیبل کلینڈر پہ نگاہ ڈالی ۔ آج سے سات دن کے بعد اس کی شادی مغربی برلن کے حصے میں ایک چرچ میں ہے ۔ اُس نے کاؤنٹر پر بیٹھی لڑکی سے ایک اور فون کرنے کی اجازت مانگی اور مارٹینا کو فون کرنے لگا۔

“ تم کہاں ہو کرسٹیان ! میں نے کل تمہیں تمہارے کام پہ فون کیا اور گھر پہ ۔۔۔ تم دونوں جگہ نہیں تھے ۔۔۔۔ کیسے ہو تم ؟ ۔۔۔ تمہیں پتہ ہے میں نے فلیٹ تقریباً مکمل سجا دیا ہے آج میں رضائی ، گدا اور تکیے بھی وہاں پہنچا دونگی ۔۔۔ اور ہاں ماں نے میرا جوڑا بھی بہت خوبصورت تیار کر دیا ہے ۔۔۔۔ تم نے ہیلمن بیکرز کو کیک کا آڈر دے دیا تھا ؟ میری خواہش تھی کہ ویڈنگ کیک تمہاری ماں بناتی ۔۔۔ مگر وہ تو ہماری شادی کے لیے ابھی تک صحیح سے تیار نہیں ہے شاید ۔۔۔

“مارٹینا ! میری بات سنو ۔۔

کرسٹیان نے مارٹینا کی ان سنی کرتے ہوئے دھیرے لہجے میں کہا

“ ہم اگلے ہفتے شادی نہیں کر سکتے ۔۔۔۔ میری ماں ہسپتال میں ہے ۔۔۔ اُس کو ہارٹ اٹیک ہوا ہے ۔۔۔ تم چرچ جاکر پادری کو منع کردو ۔۔۔ اور دیگر انتظامات بھی دیکھ لو ۔۔۔ ابھی شادی نہیں ہوسکتی “

کرسٹیان یہ کیا کہہ رہے ہو تم ؟ کہیں تمہاری ماں نے تو شادی کے لیے صاف منع تو نہیں کر دیا ؟ کیا واقعی وہ اچانک اتنی بیمار ہوگئی ہے ؟ سارے انتظامات ہوچکے ہیں ۔۔۔۔ پھر شہر کے حالات بھی دن بہ دن بگڑ رہے ہیں ۔۔۔ تمہیں معلوم ہے کہ برلن کو بھی مشرقی اور مغربی حصوں میں بانٹا جارہا ہے اور ۔۔۔

مارٹینا نے مشکوک اور متفکرانہ لہجے میں سوال پوچھنا شروع کئے تو کرسٹیان نے اس کی بات کاٹ کر کہا

“ مارٹینا ! میں ابھی شادی نہیں کر سکتا۔۔۔۔ مجھے تم سے بہت محبت ہے لیکن اس وقت میری ماں کو میری اور میری محبت و توجہ کی ضرورت ہے ۔۔۔۔ کچھ دنوں میں جب حالات بہتر ہوجائیں گے تو میں تم سے ملوں گا ۔۔۔ پھر ہم شادی کریں گے لیکن اگلے ہفتے نہیں ۔۔۔ تم سمجھو میری بات”

وہ ابھی گفتگو ختم نہیں کرنا چاہتا تھا لیکن دوسری جانب سے مارٹینا نے غصے میں روتے ہوئے فون بند کر دیا۔ کرسٹیان کو مارٹینا کا یہ جوابی ردعمل بالکل پسند نہیں آیا اور وہ فون بند کر کے واپس اپنی ماں کے پاس ہسپتال کے کمرے میں آگیا۔

کتنے ماہ و سال بیت گئے کرسٹیان نے اپنی ماں کی خدمت میں کوئی کمی نہ چھوڑی لیکن اُس کی ماں چند سالوں کے بعد دوسرے ہارٹ اٹیک میں یہ دنیا چھوڑ کر چلی گئی۔ کرسٹیان اب خود کو بالکل اکیلا محسوس کرتا تھا۔ برلن کو مشرق و مغرب میں بانٹنے والی وہ دیوار رفتہ رفتہ ایک ایسی آہنی دیوار بن گئی تھی جس میں وہ خود قید محسوس کرتا تھا ۔ کبھی کبھی جب یادیں ستاتیں تو اُسے محسوس ہوتا کہ یہ فصیل اس کے سینے کو دونوں اطراف سے دباتی ہوئی تنگ ہوتی جارہی ہے اور اس کا دم گھٹنے کو ہے۔ ایک عجیب نظامِ زندگی فطرت کے اصولوں سے ٹکرا کر ان فصیلوں کے بیچ قید ہوگیا تھا۔ دیوار بننے کے بعد وہ مغربی جرمنی یا مغربی برلن نہیں جاسکتا تھا جبکہ مارٹینا اگر چاہتی تو اس سے ملنے کے لیے گذشتہ پچیس سالوں میں کم از کم کچھ بار تو آ ہی سکتی تھی لیکن اُس نے بھی یہ زحمت نہیں کی اور پلٹ کر کرسٹیان کا حال نہ پوچھا۔

وہ کرسٹیان سے ناراض تھی شدید ناراض ۔۔۔کیونکہ کرسٹیان اس کی اس کیفیت سے آگاہ نہیں تھا جو اُسے مغربی جرمنی کے آزاد اور کھلے ماحول میں بھی ایک گھٹن کی طرف لے گئی تھی۔ عین شادی سے کچھ دن پہلے شادی کینسل کرنے کی خفت، اپنی فخریہ محبت کی ناکامی پہ شرمندگی ، اپنے غریب والدین کی انتھک محنت سے جوڑا اور جمع کیا گیا شادی کا منہ چڑاتاسامان دیکھ کر افسوس ۔۔۔۔ یہی اس کی زندگی کا چراغ بجھانے اور اسے خود کشی پہ آمادہ کرنے والے عناصر تھے ۔ لیکن موت کیسے اُسے گلے لگاتی قدرت نے تو اُس کو زندگی عطا کرنے کا فیصلہ کر لیا تھا تب ہی اٹھائیس سال کا عرصہ گزرنے کے بعد وہ آج پر سکون پوٹسڈامر اسٹریٹ نمبر ننانوے کے فلیٹ میں آسودہ حال زندگی گزار رہی تھی۔ بس گزرے دنوں کی یاد کبھی کبھی ایک کسک بن کر دل میں چبھتی اور آنکھوں سے بہہ نکلتی تھی ۔ وہ بھی خزاں کا جاتا اور موسم سرما کی نوید لاتا ہوا انتیس نومبر ۱۹۸۹ کا دن تھا ۔ مارٹینا دن بھر کے کام کی فراغت کے بعد اون سلائی لے کر حسب معمول ٹی وی کے سامنے اپنے پسندیدہ پروگرام سے قبل خبریں دیکھنے بیٹھی تھی۔ ٹی وی کی پہلی خبر سن کر اُس کے ہاتھ سوئٹر بننے کا میکانیکی عمل بھول کر رک گئے تھے، سانس چل رہی تھی لیکن ایسا محسوس ہورہا تھا کہ اس کے لیے وقت اور اس کا دل چلتے چلتے رُک گئے ہیں۔ ٹی وی پہ خبر ہی ایسی چل رہی تھی

“ مشرقی اور مغربی برلن کے مابین حائل ہونے والی دیوار مغربی جرمنی کی جانب سے گرائی جارہی ہے مشرقی برلن سے لوگ جوق درجوق مغربی برلن میں داخل ہورہے ہیں جہاں اُن کا والہانہ استقبال کیا جارہا ہے”

مارٹینا کو یہ شور اپنے فلیٹ کے کمرے میں بھی محسوس ہونے لگا وہ ٹی وی کا ریموٹ اور اون سلائی کا سامان وہیں صوفے پہ رکھ کر تیزی سے اپنے فلیٹ کی بالکونی میں آگئی ۔ فلیٹ کے باہر ایک شور تھا وہ خار دار آہنی دیوار کے ایک بڑے شگاف سے لوگوں کو برلن کے مغربی حصے میں آتا دیکھ رہی تھی ۔ مغربی حصے میں لوگوں کی چہل پہل اور خوشی کے نعروں نے ایک جشن کا سا سماں باندھا ہوا تھا ۔ یہ جشن مارٹینا کو ایک نئی امید اور زندگی کی امنگ بخشنے لگے تھے ۔اچانک اسے گھر میں ٹیلی فون کی گھنٹی سنائی دی۔ وہ تیزی سے اندر گئی اور فون اٹھایا دوسری جانب اُس کی ماں تھی جو مارٹینا کا حال پوچھنے کے لیے ہفتہ وار فون کر رہی تھی۔

“ ماں ! تمہیں پتہ ہے دیوار گر گئی ہے ۔۔۔ مشرقی اور مغربی جرمنی ایک ہوگئے ہیں ۔۔۔ برلن ایک ہوگیا ہے ماں ! وہ خبیث دیوار گرادی گئی ہے جو میری محبت کا بٹوارہ کر گئی تھی۔ مارٹینا کی آنکھوں سے آنسو نکل رہے تھے اور اُس کی ضعیف ماں اس کی فون پر یہ کیفیت سمجھنے سے قاصر تھی وہ مارٹینا سے شادی کی تیاری کی بابت سوال کر رہی تھی اور مارٹینا اس دیوار گرنےکا منظر ماں کو ایک جوش سے بتائے جارہی تھی ۔

کرسٹیان لائپزیگر اسٹریٹ تیرا کے مکان میں اپنی ساری ہمت جمع کر کے شادی کا ایک دعوت نامہ لیے بیٹھا تھا جو اس کو چند روز قبل مارٹینا کی جانب سے ملا تھا۔وہ مغربی برلن میں ہونے والی اس شادی میں بطور خاص مہمان بلایا گیا تھا۔ لیکن اس کے قدم اپنی ذمہ داری کی لا پرواہی کےاحساس ندامت سے جیسے زمین میں گڑ گئے تھے۔

قدرت نے ایک دیوار اٹھا کر عین وقت پر اس کی زندگی میں ازدواجی خوشی پر مہر لگادی تھی لیکن آج اسی دیوار کے گرنے کی خبر نے اسے یہ ہمت دی تھی کہ وہ پہلی دسمبر کو ہونے والی لوئزا اور ڈینیل کی شادی میں شرکت کرے ۔ اس وقت رات کے دس بجنے کو تھے لیکن نوجوانوں عورتوں اور بچوں کا ایک قافلہ تھا جو مغربی برلن کی جانب بڑھ رہا تھا ۔وہ بھی ایک جوش اور جذبے سے اس قافلے میں شامل ہونے کی تیاری کرنے لگا۔

چند سو میٹر کا فاصلہ عمر کے ایک طویل عرصے پر محیط ہوگیا تھا۔ کرسٹیان مارٹینا کو یاد کرکے اپنی گزری جوانی کو دل میں جوش مارتا لہو محسوس کرنے لگا اور اپنی مخصوص ٹوپی اور اورکوٹ پہن کر پوٹسڈامر اسٹریٹ ننانوے کی جانب چل دیا جہاں پس دیوار اس کی محبت کا ایک نیا دور شروع ہونے والا تھا ۔جہاں اس کی اٹھائس سالہ بیٹی دو دن بعد اپنی ازدواجی زندگی شروع کرنے کی تیاری میں مصروف تھی اور مارٹینا نے اُس کو اس شادی میں اپنی بیٹی کا ولی بننے کے لیے دعوت نامہ بھیجا تھا

Published inخواتین افسانہ نگارعالمی افسانہ فورمعشرت معین سیما