Skip to content

دھندلکے اور روشنی

عالمی افسانہ میلہ2015
افسانہ نمبر 66
دھندلکے اور روشنی
رضیہ کاظمی، نیو جرسی، امریکہ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

پہلے ناشتہ، پھر کھانا بنانا، بچّوں کو نہلانا، بے بی کی فراک سلنا، شام کا ناشتہ اور پھر رات کا کھانا”۔۔۔۔۔ بستر سے اٹھتے ہی رعنا نے آج کا روزنامچہ من ہی من میں بنا ڈالا۔ کام کچھ زیادہ نہیں تھا بشرطیکہ کوئی اور ہاتھ بٹانے والا ہوتا۔ وہ مستعدی سےابھی ناشتہ کے برتن سمیٹنے ہی میں مصروف تھی کہ بھیّا کی آواز نے اسے چونکا دیا۔
رعنا! ذرا میری پینٹ میں آئرن تو کردو۔ موکّل جمع ہو رہے ہیں۔ باہر جانا ہے.”
اسے بادل ناخواستہ اٹھنا پڑا کیونکہ اس نے آج تک بھیّا کی کسی بات کو ٹالا نہ تھا۔ سبزی چولہے پر رکھ آئی تھی اور ڈر تھا کہ اگر وہ جل گئی تو بھابھی پھوہڑ ہونےکا طعنہ دینے سے نہیں چوکیں گی اور بھیّا الگ شور مچائیں گے۔ ادھر کھانا پکنے میں دیر ہونےکی وجہ بچّوں کو اسکول اور بھیّا کو کچہری بھوکے ہی جانا پڑے گا۔ اس نے انکار تو نہیں کیا لیکن نگاہ اٹھا کے بھابھی کی طرف ضرور دیکھا جو اخبار پڑھتےہوۓ کنکھیوں سے ٹیوی بھی دیکھ رہی تھیں اور شاید ان دونوں سے بے نیاز منّے کی میٹھی میٹھی باتوں سے تفریح لے رہی تھیں۔ رعنا خود بھی اخباربینی کی بےحد شوقین تھی۔ دوران امتحان بھی اس نے اخبار پڑھنے میں ناغہ نہیں کیا تھا یا اب اس کا یہ عالم تھا کا کہ جیسےایسے دور دراز گاؤں میں رہ رہی ہو جہاں کوئی ریڈیو تک نہ ہو۔
اب وہ دنیا کے حالات کے بارے بالکل اندھی، بہری اور گونگی بن چکی تھی۔ البتّہ وہ یہ ضرور بتا سکتی تھی کہ مُنےکے پاس کتنی نئ شرٹوں کا اضافہ ہو چکا ہے یا بے بی کی وارڈروب میں کتنی اور کس کس طرح کی فراکیں موجود ہیں۔ اس کے علوم کا دائرہ اب سمٹ کر بھیّا کے گھر کی چار دیواری تک محدود ہو چکا تھا۔ آج وہ دن کے کھانے سے جلد فارغ ہونا چاہتی تھی تاکہ بے بی کی فراک کےلئے کوئی نیا اور خوبصورت ڈیزائن اطمنان سےاختراع کرسکے۔ بچّوں کے کام میں اسے بے انتہا خوشی ہوتی تھی۔ بچّےاس سے بہت مانوس تھے۔ وہ کسی کام کے لئے اس سے ضدیں بھی کرتے تو اسے برا نہ لگتا مگر بھیّا اور بھابھی کسی کام کے لئے کہتے تو اس کا دل جل جاتا کیونکہ ان کا لہجہ تحکّمانہ ہوتا تھا۔ لگ بھگ گیارہ بجے بھابھی نے حکم سنایا کہ فراک جلد از جلد سِل جانا چاہئے کیونکہ ساڑھے بارہ کے شو کے لئےسنیما ہال پہنچنا ہے۔ رعنا خوشی سے سرشار ہو اٹھی اوراور فوراً جلدی جلدی ہاتھ چلانے لگی۔ اس نے سوچا آج کتنے دنوں کے بعد وہ گھر والوں کےساتھ ہال میں مووی دیکھے گی لیکن جلد ہی اس کی یہ خوشی ہوا ہوگئی جب مُنے کو اس کے سر پٹک کر شام کے ناشتے کا حکم نامہ سناتے ہوۓ رفوچکّر ہو لیں۔ رعنا کا دل چاہا کاش وہ پھر بے بی کے برابر ہو جاۓ۔ جب وہ اس کے برابر تھی تو بھیّا اس کا کتنا دلار کرتے تھے۔ ہر رو ز اسے نئی نئی ٹافیاں لا کر دیتے۔ سائیکل پر بٹھا کر محلّہ کی سیر کراتے۔ کوئی ایسا سرکس نہ ہوا ہو گا کہ شہر میں آ کر رعنا کے بغیر دیکھے گیا ہو۔ رعنا کو وہ دن بے تحاشا یاد آنے لگےجب بھیّا کو فرسٹ ڈیویزن میں پاس ہونے پر ماموں نے ایک رسٹ واچ بطور انعام دی تھی۔ بھیّا اسے بدل کرایک خوبصورت سی لیڈیز رسٹ واچ لے آئے تھے اور پیار سے اس کی کلائی میں باندھ دی تھی حالانکہ اس وقت انہیں اس کی ضرورت تھی۔ امّی اکثر گھر کے کاموں میں ہاتھ نہ بٹانے کی وجہ سے تنبیہ کرتیں تو وہ رونے لگتی تھی۔ بھیّا ہی ماں کو سمجھایا کرتے کہ ماں میں اسے اتنا پڑھاؤں گا کہ یہ نوکری کرکے بھی چار نوکر رکھ سکتی ہے۔
وہ سوچنےلگی کہ آخر ان لوگوں کا خون یکایک کیوں سفید ہو گیا ہے۔ بھابھی بھی کچھ اتنی بری نہ تھیں۔ اوروں کے ساتھ اب بھی ان کا رویّہ کتنا ہمدردانہ ہے۔ دن بیتتےگۓ۔ بھیّا کے لہجہ میں سختی، بھابھی کی شان میں اضافہ اور رعنا کی حیثیت میں تنزّلی آتی گئی۔ ایک دن شہرکے ایک مشہور کنٹریکٹرکی فیملی آنے والی تھی۔ ٹھکیدار صاحب کا شمار شہر کے دولت مندوں میں ہوتا تھا۔ وہ کسی باندھ میں مال کے سپلائر تھے۔ سرکار کے لاکھوں روپئے ان کے نام سےسرکاری خزانوں میں جمع ہو چکےتھے۔ وہ ابھی کام سے فارغ بھی نہ ہو پا ئی تھی کہ وہ لوگ آ دھمکے۔ مرتا کیا نہ کرتا۔ اسے ان کے سامنے میلے کپڑوں ہی میں جانا پڑا۔ میز پر ناشتہ لگاتے ہوۓ اس نے سنا۔
یہ میری نئی نوکرانی ہے۔ کھانا اچّھا بناتی ہے۔” بھابھی مہمانوں سے کہہ رہی تھیں۔ رعنا کا چہرہ غصہ سے تمتما اٹھا۔ وہ غم و غصّہ کے عالم میں نیم پاگل ہو اٹھی۔ سیدھے اپنے کمرے جا کر پہلے خوب جی کھول کر روئی پھر فیصلہ کن انداز میں ایک جھٹکے سے اٹھی۔ دوسرے لمحے اس کا قلم کاغذ یوں رواں ہوا۔
میرے سرتاج! سلامت رہیں، آپ کی یہ گنہگار آپ سے اب معافی کی خواستگار ہے۔ میرے گھر والوں نے مجھے اتنا پیار دیا کہ اب اس سے دل اوب چکا ہے۔ میں پھر دوبارہ آپ کے سایہ میں زندگی گزارنا چاہتی ہوں۔ مجھے آپ لوگوں سے صرف یہ ہی شکایت تھی مجھے ایک مشین سمجھ کر میرے کچھ کل پرزوں کی مرمّت کرانا چاہتے تھے۔ اب میں نے سوچا ہے کہ میں غلطی پر تھی۔ کون خاندان یہ پسند کرے گا کہ اس کی نسل میں اندھیرا رہے۔ جلدی میں ہوں خدا حافظ۔
ابھی وہ خط کو دوبارہ پڑھ رہی تھی کہیں ایسا تو نہیں کہ اس میں اس وقت کی فوری دلی کیفیات تو اجاگر نہیں ہو گئیں ہوں کہ اچانک بھابھی کی آواز نے سلسلہ منقطع کردیا۔ وہ نیچے کسی کام کے لئے بلا رہی تھیں۔ اس واقعہ کو ایک ہفتہ گزرچکا تھا۔ رعنا حسب معمول باورچی خانہ کے کاموں میں مصروف تھی۔ صبح کے دس بجے تھے۔ اتوار ہونے کی وجہ سےسب گھر پر ہی تھے۔ اچانک صدر دروازہ پر دستک ہوئی اور دوسرے لمحے پروفیسر شہاب کھڑے مسکرا رہے تھے۔ بھابھی ناشتہ کے خاص اہتمام مصروف ہو گئیں۔ رعنا نے سوچا کتنے مکّار اور بناوٹی ہیں یہ لوگ۔ رعنا اوپر اپنے کمرے میں چلی گئی تھی اور اس سوچ میں تھی کہ دیکھیں اب پردۂ غیب سے کیا ظاہر ہوتا ہےکہ بھابھی آ کرناشتہ کے لئے پکڑ لے گئیں۔ سب آپس میں ہنسی مذاق میں مصروف تھے۔
آپ دونوں کا میں بے حد شکر گزار ہوں۔” پروفیسر صاحب بولے۔ رعنا نے پھر سوچا کہ یہ بھی کتنے سیدھے سادے ہیں۔ ابھی انہیں ان لوگوں کے کرتوتوں کا علم نہیں ہے اگر معلوم ہو جاۓ تو خدا معلوم کیا ہو۔
اداکاری دیر اثر تو ضرور تھی مگر کامیاب رہی۔” پروفیسر صاحب نے کہا۔ اور سب ہنس پڑے.پہلے تو رعنا حیران ہوئی لیکن اس کی سمجھ میں پھر سب کچھ آ گیا۔ وہ آج تقریبا چھ ماہ کے بعد اپنے گھر واپس جا رہی تھی جہاں ابھی کچھ دنوں پہلے تک لاکھ سمجھانے کے باوجود بھی وہ جانے کو تیّار نہ تھی۔
شام ہو رہی تھی۔ آسمان پرشفق کی سرخی سیاہی میں تبدیل ہو رہی تھی۔ زمین پر دھندلکے میں گھر کے باہر کھڑے ہوۓ یہ چند افراد اسے ایسے فرشتے معلوم ہو رہے تھے جن کے دلوں کی روشنی آج اس کے سارے وجود کو منوّر کررہی تھی

Published inرضیہ کاظمیعالمی افسانہ فورم