Skip to content

دکھ پردیس کے

عالمی افسانہ میلہ 2015
افسانہ نمبر 90
دکھ پردیس کے
ڈاکٹر خورشید نسرین، دوحہ، قطر
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

۔۔ بیٹی یہ اپنی پسند کا حلوہ چکھ لو
۔۔ باجی، یہ فراک مجھ پرکیسا لگ رہا ہے؟
۔۔ باجی، یہ میرا رزلٹ کارڈ دیکھیں، کتنی اچھی پوزیشن لی ہے میں نے۔۔۔۔!!
۔۔ اسے پتہ ہی نہیں چلا کتنی دیر وہ اپنے خیالوں میں اور گھر کی یادوں میں
گم رہی۔ پھر سسرال والے یاد آگئے، جنہوں نے اسے آنسووں کے درمیان اسے الوداع کہا تھا، اور خدا سے دعائیں مانگی تھی کہ وہ جلد ہی اپنے شوہر کے ساتھ واپس پاکستان کا چکر لگائے۔
آخر کار ساجدہ آہستہ آہستہ بستر سے اٹھی، کب تک فارغ بیٹھی یادوں میں گھری رہے گی؟ اب اسے گھر کے روز مرہ کے کام بھی دیکھنے چاہئیں، لنچ سے پہلے پہلے فارغ ہو جانا چاہئیے، جو اس کے شوہر کے آفس سے آنے کا وقت تھا، جو پٹرول کی ایک کمپنی میں کام کرتا تھا، یہ پٹرول بھی کتنی اچھی چیز ہے، اللہ کی ایک عظیم نعمت ہے لوگوں پر، جس کی برکت سے ان کو کام کے مواقع مل گئے، ورنہ تو اپنے وطن میں بے روزگاری سے تنگ آگئے تھے وہ، جہاں ڈگری کا کاغذ اتنی ہی اہمیت رکھتا تھا، جتنی کہ ایک ردی کا کاغذ، جس میں سموسے بیچنے والا اپنے سموسے ڈال کر گاہکوں کو دیتا ہے ۔جہاں بھی نوکری کے لئے جاتے، نو ویکنسی کا بورڈ ان کا منہ چڑاتا اور خالی ہاتھ واپس گھر کو واپس آتے، جہاں بھوک کے مارے گھر والے ان کے انتطار میں ہوتے، اللہ کا لاکھ لاکھ شکر ہے جس نے انہیں یہاں پہ کام کا چانس دیا، اگرچہ انہیں ایسے لوگوں میں پردیس میں آنا پڑا، جن کی زبان ہی سمجھ نہیں آتی تھی، نہ ہی وہ ان کی زبان سمجھتے تھے، یہ بھی اللہ کی رحمت ہے کہ انگلش زبان عالمی حیثیت رکھتی ہے۔ ہر ملک کے لوگ اس میں آپس میں بات کر سکتے ہیں، اور اپنی ڈیوٹی دے سکتے ہیں۔ وہ گھر کے کمروں میں چکر لگانے لگی، ہر چیز اپنے ٹھکانے پر تھی، بھلا کس نے چیزیں بے ترتیب کرنی تحیں ، جب کہ گھر میں بچے ہی نہیں تھے۔ ابھی ان کی شادی کو ایک سال بھی مکمل نہیں ہوا تھا۔ تو آج صفائی کی ضرورت نہیں ہے، بس برتن دھو کر کچن کی ترتیب ٹھیک کرنی ہوگی اور دوپہر کا کھانا بنانا ہوگا، اس ملک میں زندگی کتنی بور ہے۔ یہاں جذبات کا فقدان ہے بات کرنے کو کوئی بندہ بشرہی نہیں ہے سوائے اس کے کہ کبھی کسی ہموطن فیملی کے گھر جانا ہو۔ سڑکوں اور گلیوں میں چلتے پھرتے اشخاص تو اسے مقامی ٹی وی پرلگنے والے متحرک کارٹون لگتے جن کی زبان ہی سمجھ نہیں آتی تھی۔ شاید وہ بھی اس کے بارے میں ایسا ہی سوچتے ہوں، نہ ہی پڑھنے کے لئے کتابیں تھیں اس نے تو بی اے کر رکھا تھا اور شادی سے پہلے دو سال کے لئے بچوں کے اسکول میں پڑھایا بھی تھا۔ وہ تو مطالعے کی عادی تھی اور بچوں کے درمیان خوش رہنے والی خاتون تھی پھر یہاں اپنے شوہر کے پاس آگئی، پہلی بار ہوائی جہاز کا سفر کیا، شروع میں تو ڈر رہی تھی، پھر اسے بادلوں کو جہاز کے نیچے دیکھنے میں مزہ آنے لگا، یہاں تک کہ جہاز ایسے علاقے پر آگیا جہاں کوئی بادل نہیں تھا۔ جب جہاز نے لینڈ کیا تو سمندر کی نمی والی سخت گرمی نے اس کا استقبال کیا۔ یہاں ایسی گرمی ہوتی ہے؟ نہ بارش نہ خنک ہوا؟ وسیم اس کی باتوں پہ ہنس پڑا، اور کہنے لگا رفتہ رفتہ تم یہاں کی عادی ہو جاوگی۔
یہ وہ زمانہ تھا جب پٹرول دریافت ہوئے ابھی تھوڑے ہی سال ہوئے تھے اور ترقیاتی منصوبوں کا آغاز ہی تھا، وہ اس گھر میں وسیم کے ساتھ رہنے لگی جسے وسیم نے کرائے پر لیا تھا۔ یہ ائیر پورٹ روڈ پر الگ تھلگ ہی واقع تھا، اب وہ صبح سے دوپہر تک، اور پھر سہ پہر سے شام تک اکیلی ہوتی، سوائے جمعرات کے جب وسیم کی ڈیوٹی صرف صبح کی ہوتی، اور جمعہ کے دن چھٹی ہوتی۔ پہلے پہلے تو تنہائی میں اس کا دم گھٹتا تھا، مگر چند ماہ میں وہ عادی ہو گئی، اسے خوشی محسوس ہوتی جب اس کے سسرال والے باقاعدہ ہر ماہ خرچہ وصول کرتے۔ وہ سوچتی وہ بھی خوش ہوں گے۔ کبھی کبھی اس جگہ جس کو لوگ یہاں مارکیٹ کہتے تھے، جا کر ان کے لئے اور دیگر رشتے داروں کے لئے تحائف خریدتی۔ جب ان کی خیریت کے خط آتے تو پردیس کے دکھ کچھ کم ہو جاتے ، وہ دونوں کئی کئی دن خوشی سے سرشار رہتے، اور مقدس کتاب کی طرح بار بار ان خطوط کو پڑھتے اور پھر نئے خطوط کا انتظار شروع ہوجاتا۔ انہی سوچوں میں گم وہ کچن میں آگئی پھر اس نے باہر کا موسم دیکھنے کے لئے کھڑکی کھول دی۔ ائیر کنڈیشنڈ گھر کے اندر تو پتہ ہی نہیں چلتا کہ موسم کیسا ہے باہر سے گرم گرم لو نے اندر آکر اسے جھلسا کر رکھ دیا۔ تو یہ ہے خط استوا کا علاقہ جس کے بارے میں جغرافیہ میں پڑھا کرتے تھے اسے اچانک یاد آیا کہ ان چوڑیوں اور انگوٹھیوں کو پہنے ہوئے تو وہ گھر کے کام نہیں کر سکتی اسے عادت نہیں تھی رات کو ایک فیملی کے گھر جاتے وقت اس نے پہنے تھے اور واپس آکر ایسے ہی سو گئی تھی، واپس بیڈ روم میں آکر اس نے زیور اتارا اور باہر نکلی اسے شک ہوا، بیرونی دروازے پر دستک ہورہی تھی۔ جو اب زیادہ زور سے ہونے لگی تھی عجیب بات ہے کیا آج وسیم جلدی آگیا ہے اور چابی گھر میں بھول گیا ہے؟ خدا خیر کرے اس کی صحت ٹھیک ہو، ابھی اس نے قدم اٹھایا ہی تھا کہ وہ رک گئی ایک اور سرپرائز تھا، مگر یہ دوسری طرف تھا۔ کچن کی کھڑکی کو کوئی بجا رہا تھا اب کیا کرے؟ کس طرف پہلے جائے ایک سیکنڈ میں اس نے فیصلہ کیا دروازے والا تو کہیں نہیں جانے والا، مگر کھڑکی والا مایوس ہوکر واپس جا سکتا ہے وہ کچن میں گئی اور جو کچھ دیکھا اس سے ڈر گئی اس کی چیخ نکلنے والی تھی کہ اس اجنبی مفلوک الحال مرد نے اسے ہونٹ بند رکھنے کا اشارہ کیا، وہ خاموش ہوگئی، اس کا حلیہ، اس کا لباس، اور نین نقش بتا رہے تھے کہ وہ اس کا ہموطن ہے، اس نے نظروں ہی نظروں میں درخواست کی، اور کھڑکی میں سے اپنا ہاتھ اس کی طرف بڑھایا جس میں کاغذ کی ایک پڑیا تھی وہ سمجھی نہیں کہ اس میں کیا تھا، بس اس نے لے کر سنک کی سائیڈ پہ دھونے والے برتنوں کے درمیان رکھ دی وہ اجنبی تو فورا بھاگ گیا۔ اب دروازے پر دستک زور شور سے ہو رہی تھی۔ اس نے جاکر دروازے میں لگی خورد بیں کے ذریعے دیکھا اور دم بخود رہ گئی یہ کیا؟ یہ تو پولیس انسپکٹرتھا دروازہ تو اب کھولنا ہی پڑنا تھا سو اس نے کھول دیا اس کے ساتھ دو ملازم اور تھے ۔ انسپکٹر اندر آگیا جبکہ وہ دونوں باہر ہی کھڑے رہے اس نے گھر میں ایک چکر لگایااور ساجدہ سے مقامی زبان میں بات کی، مگر اسے کہاں سمجھ آنی تھی اس نے انگلش میں بات کی تو وہ سمجھ گیا گو کہ اسے اچھی انگریزی نہیں آتی تھی مگر گزارہ چل گیا۔ ساجدہ کی سمجھ میں آیا کہ وہ ایک مفرور مجرم کی تلاش میں ہے جو کہ نشے کا کاروبار کرتا ہے انسپکٹر نے پوچھا آپ نے اسے کہیں دیکھا ہے؟ اس نے کہا بھلا میں نے چاردیواری کے اندر کہاں سے دیکھنا تھا ؟ اس نے تنبیہ کہ کہ ذرا دھیان سے رہے، وہ اگر آیا تو کسی کو نقصان بھی پہنچا سکتا ہے۔ اس نے اثبات میں سر ہلا دیا ۔ پولیس چلی گئی تو اس نے سکون کا سانس لیا۔ اب وہ سمجھی کہ وہ اجنبی کون تھا وہ پولیس کو واپس بلانے والی تھی کہ اس کی نظروں میں اس غریب پردیسی کے گھر کا نقشہ گھوم گیا، جہاں ایک اپاہج باپ، کالج میں پڑھتا ہوا بھائی، اور جہیز کی متقاضی بہن، ایک بیوی، ایک چھوٹا بچہ رہتے تھے۔ یقینی بات ہے کہ ان لوگوں کو اس کی مشکلوں کا پتہ تھا اور وہ اس کا ضمیر خریدنے میں کامیاب ہو گئے تھے۔
وہ واپس آگئی اور دروازہ اچھی طرح سے بند کیا پھر کچن کی کھڑکی کو اچھی طرح بند کیا، اور اس پڑیا کو کھولا، اس میں نشے کا پاوڈر تھا ۔ اس نے اسے سنک میں بہا دیا اور پڑیا کے کاغذ کو ڈسٹ بن میں ڈال دیا۔

Published inڈاکٹر خورشید نسرینعالمی افسانہ فورم