Skip to content

دو منظر ، ایک کہانی

عالمی افسانہ میلہ 2018
افسانہ نمبر 141
دو منظر ، ایک کہانی
نیلوفر پروین ، ارریہ بہار ۔انڈیا
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
پہلا منظر
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ایک روح فرسا خبر کئ دنوں سے شہر میں گردش کرہی تھی لیکن لوگوں کو اندازہ نہ تھا کہ وہ اچانک راتوں رات شہر کو اپنے نرغے میں لے لے گی ۔ وہ سب گزشتہ رات بھی نیند کی آغوش میں بےخبری کے عالم میں تھے ۔ صبح ہوئ تو شہر کا منظر کچھ اور ہی تھا ۔ لوگ باگ افراتفری کے عالم میں تھے اور پانی کا ریلا تیز رفتار ی سے آگے بڑھتاچلا آرہا تھا ۔ انتظامیہ نے پہلے سے کچھ آگاہ نہیں کیا تھا لہذا ہر شہری غم و غصّے کا استعارہ نظر آرہا تھا ۔ سب یہی کہہ رہے تھے کہ سیلاب کے آنے کا پہلے سے علم ہوتا تو وہ مستعد رہتے ۔ مگر اب کیا کیا جاسکتا تھا سوا اس کے کہ سب اپنی اپنی جان و مال کی حفاظت کے لےء حتی الا مکان کوشش کرتے ۔ محلے کے لوگ بھی اب یہی کر رہے تھے ۔ راتوں رات پانی کا ریلا انکے گھروں میں داخل ہوگیا تھا ۔ سیلاب کا خدشہ تو تھا مگر یہ اچانک آ جاےء گا’ اس بارے میں کسی نے سوچا نہ تھا ۔ خبر ملی کہ کوسی ندی کا باندھ اچانک ٹوٹ گیا تھا اور پانی کا دباوُ اس شہر کی طرف بڑھ گیا تھا۔
محلے کے زیادہ تر گھروں میں تین سے پانچ فٹ کے قریب پانی داخل ہو چکا تھا ۔ گھروں میں رکھے ہوےء روزمرہ کے استعمال میں آنے والی چیزیں سطح آب پر تیرتی ہوئ نظر آرہی تھیں ۔ محنت کش طبقہ جن کے مکانات کچے اور بوسیدہ حالت میں تھے ، انکی زندگی پر بھی خطرہ منڈرانے لگا تھا ۔ ایسے تمام لوگوں نے اپنے گھر خالی کردیےء
اور جو کچھ بھی اسباب وہ اپنے ساتھ لے جا سکتے تھے ، وہ سب لے کر محلے کے ان مکانوں میں منتقل ہو چکے تھے جو اونچائ پر تھے اور جہاں پانی صحن تک ہی پہنچ پاےءتھے ۔ اس محلے میں کچھ دو منزلہ اور سہ منزلہ مکان بھی تھے ۔ نکڑ کی موڑ میں ایک بڑا سا حویلی نما مکان پنکج بابو کا تھا
جو محلے کے وارڈ کاوُ نسلر بھی تھے ۔ محلے کے بیشتر غریبوں اور محنت کش لوگوں نے انکے یہاں پناہ لے لیا تھا ۔ پنکج بابو نے بھی انکا حوصلہ بڑھایا اور اس مصیبت کی گھڑی میں ان کی بنیادی ضرورتوں کا خیال رکھا اور ہر طرح سے مدد کی۔ عمارت کی چھت پر انہوں نے ایک شامیانہ بھی لگوادیا تاکہ زیادہ سے زیادہ لو گوں کو جاےء پناہ مل سکے ۔
دن بھر لوگ اپنی ضرورتوں کا سامان گھروں سے نکالکر کسی طرح پانی کے ریلے کو پار کرتے ہوےء اس محفوظ مقام تک آتے رہے ۔ لکین رات کا منظر زیادہ خوفناک ہوا کرتا تھا ۔ بجلی کا کنکشن ٹوٹ جانے کے سبب اندھیرے کی چادر میں لپٹے ہوےءلوگ اس ناگہانی قہر سے سہمے ہوےء رات گزار رہے تھے ۔
محلے کے کتوّں نے گلی میں رکھے ہوےء بڑے سےڈسٹ بن کے ڈھکن پر اپنا مسکن بنا رکھا تھا ۔
رات کے اندھیرے میں یہ کتےّ رونے کی آواز بلند کرتے تو ماحول پر عجیب سی منحوسیت چھا جاتی ۔ ان کتّوں کی آوازیں سنکر کچھ لوگ روٹی کے چند ٹکرے انکی طرف بھی اچھال دیتے تو یہ کتّے تھوڑی دیر کے لےء خاموش ہو جاتے ۔
فخرالدین بھی اسی محلے کا ایک فرد تھا جو اپنی بیوی بچوّں کے ہمراہ پنکج بابو کے مکان میں پناہ گزیں تھا ۔ اس محلے میں وہ فخرو رکشہ والا کے نام سے مشہور تھا ۔ اس کی عمر تقریباً پچاس برس کی ہوگی مگر جسمانی ساخت کے اعتبار سے وہ پنتیس کی عمر کا لگتا تھا ۔ محلے کا شاید ہی کوئ ایسا فرد ہو جسنے فخرو کے رکشے کی سواری نہ کی ہو ۔ وہ بڑا ہی نیک دل انسان تھا ا ور آڑے وقت پر سب کے کام آتا تھا ۔ عجلت میں بس اڈا جانا ہو یا ایمرجنسی میں اسپتال ، فخرو کبھی انکار نہیں کرتا تھا ۔رات کا کوئ بھی پہر ہو ، مصیبت کی گھڑی میں وہ ہمیشہ خدمت کیلےء تیار ملتا تھا ۔ اسکی اسی خوش اخلاقی نے اسے محلے بھر کا ہر دل عزیز بنا رکھا
تھا ۔
تین دنوں کے بعد پانی کا گراف آہستہ آہستہ گھٹنے لگا اور زندگی معمول پر آنے لگی ۔۔ پنکج بابو کے وسیع عمارت پر پناہ گزیں دیگر لوگوں کی طرح فخرالدین اور اسکے اہل و عیال نے انکا شکریہ ادا کیا اور پانچویں دن وہ سب وہاں سے اپنے اپنے گھروں کو رخصت ہوےء ۔

دوسرا منظر۔

بقرعید کا دن تھا ۔ نماز کے بعد دن بھر محلے میں
قربانیوں کی سر گرمی رہی ۔ ہر کوئ اپنے اپنے جانوروں کی قربانی کے فرائض سے جلد از جلد فارغ ہونا چاہتا تھا تاکہ اس کے بعد گوشت کی تقسیم کا مرحلہ بھی پورا کیاجا سکے ، لہذا قر بانی دینے والے حضرات کچھ زیادہ ہی مشغول نظر آرہے تھے ۔ جنہیں قربانی کا جانور نصیب نہیں تھا وہ بھی کچھ کم مصروف نہیں تھے کیوں کہ آج انکے گھروں میں بھی تبرک کا گوشت موجود تھا ۔ محلے کے لوگ باگ خواہ امیر ہوں یا غریب سبھی اس تہوار کی خوشی میں برابر کے شریک تھے اور انکی مصروفتیں بھی کم و بیش یکساں تھیں ۔
سارا دن اسی چہل پہل میں گزرگیا اور لو گوں نے سکون واطمینان کی سانسیں لیں کہ یہ تہوار بھی خیر و خوبی سے گزر گیا لیکن کسی نا خو شگوار واقعہ کے اندیشے بھی ساےء کی طرح ساتھ ساتھ چلتے رہے تھے اور آخر کار اس ساےء نے ایک کریہہ صورت اختیار کر لی تھی ۔
مغرب کی اذان کے بعد جب کہ لوگ مسجد میں نماز سے فارغ ہو کر اپنے گھروں کی طرف روانہ ہونے لگے ایک دل دوز خبر محلے میں گشت کرنے لگی ۔ ہنومنت نگر میں نہر کے کنارے کی بستی میں پولس کا چھا پہ پڑا ہے ۔ وہاں ایک فرقے کے لوگوں نے دوسرے فرقے کے گھر آگ لگادی ہے ۔ وجہ قربانی کے جانور کو لے کر ہے ۔ اس خبرکی تصدیق کے لےء جب لو گوں نے اپنے مو بائل فون پر رابطہ کرنے کی کوشش کی تو ناکامی ہاتھ لگی ۔ شاید نیٹ ورک ٹھپ کر دیا گیا تھا اور مو بائل فون بیکار یو گیا تھا کچھ اثناء گزرے تھے کہ کہیں دور سے کچھ آ وا زیں اور نعرے بلند ہونے لگے ۔ اب لوگ دہشت میں آنے لگے تھے ۔ہر کوئ اپنے اپنے گھروں تک جلد از جلد پہنچ جانے کی تگ ودود میں مبتلا نظر آنے لگا ۔ تھوڑی ہی دیر میں کرفیو نافذ کر دیےء جانے کا اعلان بھی انتظامیہ کی طرف سے ہونے لگا ۔ واقعی شہر میں فساد ہو چکا تھا ۔
فخرالدین رکشہ والا چاندنی چوک سے اپنے گھرکی طرف آرہا تھا ۔ کرفیو کا اعلان اس نے بھی سنا ۔ وہ جلدی جلدی رکشہ کے پیڈل پر پاوُں چلانے لگا ۔
لیکن اسے لگ رہا تھا کہ اس کے پاوُں بہت .ھاری ہو گےء ہیں اور رکشہ بہ مشکل آگے کی طرف کھسک رہا ہے ۔ وہ ابھی اپنے محّلے سے کچھ دوری پر تھا کہ
اسے سڑک پر پولس کی گاڑی گشت کرتی ہوئ نظر آئ ۔ ایک انجانے خوف سے اسکا چہرہ پیلا پڑ گیا اور رکشہ کو اسنے وہیں روک دیا آگے جانے کی ہمّت اسے نہیں ہوئ ۔ وہ جگہ پنکج بابو کے گھر کے بلکل قریب تھی ۔ . اسکا اپنا گھر تیس منٹ کے فا صلے پر تھا مگر اسوقت اسے یہ تیس منٹ صد یوں پر بھاری لگ رہے تھے ۔ اسے سمجھ میں نہیں آرہا تھا کہ وہ اپنے گھر کی طرف رکشہ بڑھاتا رہے یا اسی جگہ رک کر پولس کے واپس جانے کا انتظار کرتا رہے اور اگر پولس اس کے قریب آگئ تو ؟ لیکن اس کا قصور کیا ہے ؟ . رکشہ لیکر وہ چاندنی چوک کی طرف اس خیال سے آگیا تھا کہ قر بانی کا گوشت لےکر آنے جانے والے لو گوں کےلےء سواری مہیّا کراسکے ۔
آج کچھ زیادہ ہی آمدنی کی اُمید تھی ۔ ایسا ہوا بھی مگر اسے کیا پتہ تھا کہ شہر میں فساد برپا ہو جایئگا ۔
ایک لمحے کیلےء اسنے کچھ سو چا اور پھر رکشہ کو کنارے لگا کر وہ پنکج بابو کے گھر کے احاطے میں داخل ہوگیا ۔ اسے لگا ‘ اس مصیبت کی گھڑی میں ایک ایسا گھر ہے . جہاں وہ خود کو محفوظ محسوس کر سکتا ہے . گھر کے دروازے پر پہنچ کر اس نے پنکج بابو کو آواز دی اور دروازے پر دستک بھی دے ڈالا ۔ ایک لمحہ تو قف کے بعد ایک کرخت آواز اندر سے آئ ۔

” کون ہے ” ؟
“میں ہوں فخرو ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ رکشہ والا۔”
” ارے تو یہاں کیوں چلا آیا مجھے مصیبت میں ڈالنے کے لیےء ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ دروازہ نہیں کھلے گا ۔ جا اپنےگھر جا ۔ ”
فخرالدین کو یقین نہیں ہوا ۔ کیا یہ پنکج بابو کی ہی آواز ہے ؟؟_

Published inعالمی افسانہ فورمنیلوفر پروین