Skip to content

دوپٹے میں بندھی مٹی

عالمی افسانہ میلہ 2015
افسانہ نمبر 83
دوپٹے میں بندهی مٹی
سلیم ہارون، دوبئی، یو اے ای
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
آج بهی گاوٗں کے پرانے لوگ بابو احمد یار کے انتظار میں ہیں۔ حویلی شاہ کهتری اور منگل شاہ کهتری کی دریا دلی کے قصے دور دور کے دیہاتوں تک مشہور تهے۔ ہاڑ کے مہینے میں ہمارے گاوں کا میلہ لگتا۔ بڑے بڑے کڑاہوں میں گڑ اور شکر کا شربت بنایا جاتا۔ یہ سارا انتظام ٹهنڈے پانی کی دو کهوہیوں کے پاس کیا جاتا کہ وہاں سے گزرتے لوگ ٹهنڈا میٹها پانی پی کر ہمیشہ یاد رکهیں کہ حویلی شاہ اور منگل شاہ کے گاوٗں گئے تهے۔ بڑے بڑے زمیندار بهی کهتریوں سے ادهار لیتے اور زمین اور قیمتی اشیاء گروی رکهتے۔
گاوٗں میں ہندو امیر زادیوں کا ستر تها۔ وہ کسی غیر مرد کے سامنے نہیں آتی تهیں۔ لمبے بالوں والی ان خوب صورت لڑکیوں کو گاوٗں کی چند عورتوں کے علاوہ شاید ہی کسی نے دیکها ہو مگر بابو احمد یار ایسی شخصیت تهے جن کا ہر گهر میں آنا جانا تها۔ گاوٗں میں وہی ایک پڑهے لکهے شخص تهے اور تمام لوگوں کے خط پڑهنے اور لکهنے کا ذمہ انہی کا تها۔ حویلی شاہ کی بیٹیاں گنگا، جمنا اور منگل شاہ کی بہو شاردا گهر میں ہی بابو جی سے تعلیم حاصل کرتی تهیں۔ بڑے لالہ یعنی حویلی شاہ نے بابو جی کا وظیفہ مقرر کر رکها تها۔ اس کے علاوہ ہاڑی سونی بهی بابو جی کے گهر پہنچ جاتی تهی۔ بعض اوقات کهتری انہیں اپنے ساتھ لاہور اور امرتسر لے جاتے جہاں سے ان کی دکان کے لیے سامان خرید کر لایا جاتا۔ امرتسر میں ان کی لمبی چوڑی رشتہ داری تهی سو ہمیشہ دوچار دن اضافی لگ جاتے اور بابو جی کی آوٗ بهگت بهی ایک رشتہ دار کی طرح ہی کی جاتی۔ خنیفا داروگر دو اور کمیوں کے ساتهہ کهتریوں کے طویلے میں گهوڑوں اور دیگر مال ڈنگر کی دیکهہ بهال کرتا اور کوچوان کے فرائض بهی انجام دیتا گو کہ مویشیوں کی دیکهہ بهال کے لیے دو اور ملازم بهی موجود تهے مگر خنیفے کی ڈیوٹی زیادہ اہم تهی کہ وقت بہ وقت اس کو بڑے اور چهوٹے لالہ کے ساتهہ کہیں نہ کہیں جانا پڑتا تها۔ اس کے ساتھ ساتھ نائی میراثی اور موچی اپنی اپنی سیپ کا صلہ ہر چھ مہینے بعد پاتے۔ ان کمیوں کی بیویاں صفائی ستهرائی، چهٹن پهٹکن، لیپائی، پسوائی، طویلے باڑے کی صفائی اور اپلے بنانے کا کام کرتیں مگر کهانا پکانے اور دودهہ بلونے جیسے کام گهر کی عورتیں خود کرتیں۔ پسار اور دیگر کمروں تک صرف جیراں نین کی رسائی تهی۔ گهر کے مرد سارا دن باہر کاروبار میں مشغول رہتے۔ ان کے لیے دوپہر کا کهانا وہیں پہنچ جاتا۔ بڑی کهترائین بہت رحمدل تهیں۔ وہ ہمیشہ ضرورت مندوں کی مدد کے لیے تیار رہتیں۔ مایا لگی آٹھ دس پگیں دکان میں ٹنگی رہتیں اور جب کسی زمیندار کو کہیں جانا ہوتا تو وہ کهتریوں سے پگ عاریتاً اور پیسہ فصل کٹنے تک ادهار لے جاتا۔ کهتریوں کی بڑی دکان ایک گاوٗں کے لیے ہی نہیں تهی بلکہ آس پاس کے دیہاتوں سے بهی لوگ راشن لینے آتے۔ غلام قادر باٹھ سمیت کئی دیہاتوں کے زمیندار ان کے قرض دار تهے۔ دکان کے پچهواڑے ایک بڑا گودام تها جہاں اناج سے بهری بوریاں اور دیگر سودا سلف سٹاک کیا جاتا۔ ہر پندرہ بیس دن بعد دو تین بیل گاڑیاں سامان لاد کر لایا جاتا۔ دکان پر سارا دن بهیڑ لگی رہتی۔ حویلی شاہ اور منگل شاہ سارا دن چارپائی پہ بیٹهے حقہ پیتے اور اردگرد سے آئے زمینداروں کے ساتھ گپ لگاتے۔ اس دوران لسی پانی کا دور چلتا رہتا جبکہ منگل شاہ کا بیٹا گوپی دو ملازموں کے ساتهہ دکان کا سارا کام سنبهالتا۔ روز کی گفتگو میں ملکی سیاست بهی زیر بحث آنے لگی تهی۔ لوگ تقسیم کی باتیں کرنے لگے تهے مگر سادہ لوح لوگوں کو یہی محسوس ہوتا کہ ایسا کبهی نہیں ہوگا۔
خیر وہ دن بهی آپہنچا۔ بٹورارے کا عذاب ان سادہ لوح لوگوں کے لیے بهاری ثابت ہوا۔ آس پاس کے دیہاتوں سے لوٹ مار کی خبریں تیزی سے آنے لگی تهیں۔ کہیں مسلمان کٹ مرے تو کہیں ہندو مارے گئے۔ اس تقسیم کہانی میں ہمارے گاوں کی باری آئی تو کئی حفاظتی تدابیر کی گئیں مگر ملکی سطح پر جاری سیاست اور ایک دوسرے لیے دلوں میں پلتے ناسور نے اپنا اثر دکهایا۔ صدیوں سے چلی آتی شرم و حیا کی ثقافت میں بٹوارے کا ناسور در آیا تها۔ عورتیں، جو اپنے سر سے دوپٹہ نہیں اترنے دیتی تهیں، سر راہ لٹتی رہیں۔ دو قومی نظریہ کی حامل تقسیم نے دونوں قوموں کو خون اور جدائی کا تحفہ دے کر تقسیم کیا۔ اتنی بڑی ہجرت دیکھ کر آسمان بهی پریشان ہو گیا ہو گا۔ قافلے تهے کہ کٹنے مرنے اور سب کچهہ لٹ جانے کے باوجود رکتے ہی نہیں تهے۔ یہ ہجرت ایک طویل سفر تهی۔ عزتوں کا ایسا نیلام شاید ہی کبهی لگا ہو۔ ایک وہ بهی دور تها کہ رام چند کی بیٹی کیا اور محمد علی کی بیٹی کیا ایک ہی بات تهی مگر عزت اور غیرت کے انہی دعوےاروٗں نے ایک دوسرے کی بہو بیٹی کو ننگا کرنے میں کوئی عار نہیں سمجهی۔ نجے تیلی نے چالیس سال کی بدمعاشی کے بعد اچانک مذہب کی خدمت کا ٹهیکہ لے لیا تها۔ گاوٗں میں لوٹ مار اور قتل و غارت گری کے لیے بڑا جتھہ بنایا گیا جس میں ہمارے گاوٗں کے علاوہ آس پاس کے لوگ بهی شامل تهے۔ یہ جتهہ شروع کی کاروائیوں میں آس پاس کے دیہاتوں اور چهوٹے شہروں میں متحرک نظر آیا۔ ہندو اور سکھ ان لوگوں کا نشانہ تهے۔ ایسی ہی خبریں دوسری طرف سے بهی آتیں کہ اتنے مسلمان مار دیے گئے اور اتنی عزتیں نیلام ہوئیں۔ جان کی امان پانے کے لیے ہجرت کرنے اور اپنے نئے ملک کی طرف جانے والے دهڑا دهڑ کٹ مر رہے تهے۔ پچهمی گاوٗں کے مشہور زمانہ پہلوان اور رئیس دلیر سنگھ کا پہلوان بیٹا مان سنگھ سیالکوٹ کے علاقے کے قریب وارھ کے قابو آیا تو کسی میں اتنی ہمت نہیں ہو رہی تهی کہ برچهی سے مسلح مان سنگھ پہ وار کرے۔ اپنے علاقے کا سورما تقسیم کی سزا پانے کے لیے تیار کهڑا تها۔ کافی وقت گزر چکنے کے بعد اور ہزاروں تماشائیوں کے جمع ہو چکنے کے بعد بهی گهیرا تنگ نہ ہوا اور لوگ دور کهڑے ہی دیکهتے رہے تو اس نے للکار کر کہا؛
” اگر میں اپنی برچهی کی انی سیدهی کر کے اس ہجوم کی طرف بهاگوں تو یہ سارا ہجوم کیڑے مکوڑوں کی طرح سیالکوٹ کی تنگ و تاریک گلیوں میں جا چهپے۔” یہ کہہ کر اس نے برچهی کی انی پوری طاقت سے سیالکوٹ کی زرخیز زمین میں گهونپ دی اور ساتھ ہی اپنی تنی ہوئی گردن کو گهماتے ہوئے وارھ کے سرکردہ گامے لوہار پہلوان کو آواز دی ؛
” لوہارا! بس اکو وار!اور پهر . . . بڑی سی پگ کا بهار سہارنے سے قاصر ایک سر زمیں ہلا گیا۔ مان سنگھ کا قصہ تمام ہوا۔ گرمی بازار اپنے عروج پر تهی۔ جن لوگوں نے اپنے مسلمان دوستوں کے گهروں میں پناہ لی رکهی تهی وہ بهی زیادہ عرصہ نہ ٹک سکے۔ حالات بد سے بد تر ہوتے چلے گئے۔ حویلی شاہ اور منگل شاہ نے کافی دن تک حالات بہتر ہونے اور کسی بیرونی مدد کے آ پہنچنے کا انتظار کیا مگر کچهہ فائدہ نہ ہوا۔ خیر، تب تک جو بهی وارھ لوٹ مار کے لیے ہمارے گاوں کی طرف آتی، گاوٗں کے پہرے پہ موجود لوگ اسے روک دیتے۔ کهتریوں کے دیرینہ نمک خوار بابو احمد یار اور زمیندار غلام قادر باٹھ نے اپنے گاوٗں کے ہندووں سکهوں کی حفاظت کے لیے ایک حفاظتی دستہ بنایا۔ یہ لوگ ساری رات پہرہ دیتے اور ذرا سی ہلچل پہ سارے گاوٗں کو خبردار کر دیتے۔ جتهے آتے اور گزر جاتے۔ گاوٗں میں نہ داخل ہونے دینے پر معمولی جهڑپیں بهی ہوتیں مگر اصل خطرہ تو نجے تیلی کے جتهے سے تها جو آس پاس کے علاقوں میں لوٹ مار کے بعد گاوٗں سے ذرا پرے نجے کے ڈیرے پہ لوٹتا تها۔ ان لوگوں کی ہی شرارت تهی کہ کبهی کبهار جلتے ہوئے کهدو پهینکے جاتے اور پتهراوٗ بهی کیا جاتا۔ دن چڑهے یہ لوگ صاف مکر جاتے۔ بہرحال ہر گهر کی علیحٰدہ علیحٰدہ حفاظت کرنا مشکل نظر آیا تو دوسرے محلوں کے ہندووں اور سکهوں کو کهتریوں کی حویلی میں منتقل کر دیا گیا۔ حویلی شاہ کے گهر میں روزانہ لنگر پکتا اور پوجا کی جاتی۔ حملے کا خطرہ دن کے وقت بهی محسوس ہونے لگا تها۔ غلام قادر باٹھ کے کامے نے خبر دی کہ نجے کا جتهہ کسی وقت بهی حملہ کر سکتا تها۔ اس نے گاوٗں میں سے بهی بہت سے ہم خیال لوگوں کو اپنے ساتھ ملا لیا تها۔ اس خطرے کے پیش نظر کهتری خاندان اور ان کی حویلی میں پناہ گزین لوگوں کو ایک رات روانہ کر دیا گیا۔ پنچائیت میں گهن گرج سے بولنے والے حویلی شاہ اور منگل شاہ کو جیسے چپ لگ گئی تهی۔ وہ خاموشی سے حفاظتی دستے کی ہدایات پہ عمل کرتے چلے جا رہے تهے۔ حفاظتی دستے میں ریل کی پٹڑی پہ اجرت کے بدلے گشت کرنے والے نوجوانوں کو بهی ساتھ لیا گیا تها۔ مرد گهوڑوں پہ سوار تهے اور عورتیں بچے بیل گاڑیوں پہ۔ بڑی کهترائین نے بہو بیٹیوں کے کچھ زیورات ساتھ باندھ لیے تهے اور کچھ حویلی میں دفنا دیے۔ وزیرآباد سے منگل شاہ کو گهر کی جوان عورتوں کے ساتھ ریل گاڑی میں سوار ہونا تها اور حویلی شاہ کو باقی کے تمام لوگوں اور سامان کے ساتهہ رات کی تاریکی میں سالکوٹ کے راستے ہندوستان میں داخل ہونا تها۔ کچهہ گهڑ سوار سیالکوٹ تک ان کے ساتهہ ہو لیے اور باقی دستہ گاوٗں کے قریب سے گزرنے والی ریل کی پٹڑی پہ اپنی باری کے حساب سے پہرہ دینے کے لیے چلا گیا۔ علاقے کے تهانیدار نے غلام قادر باٹھ کی سرکردگی میں یہ گشت پارٹی بنائی تهی جو لاٹ صاحب یا اہم سرکاری افسروں کو لے کر جانے والی ریل گاڑیوں کی حفاظت کے لیے پٹڑی کے ساتهہ ساتهہ گشت کرتے تهے اور گاوٗں واپس آنے کے بجائے غلام قادر کے ڈیرے پہ سو جاتے تهے۔ وہ تو رخصت ہو گئے مگر سٹیشن والے ریل گاڑی کے انتظار میں رہے۔
دن چڑهنے سے پہلے نجے تیلی کی وارھ سٹیشن پہ آ پہنچی۔ دو تین سنتری اتنی بڑی وارھ کا مقابلہ کیسے کرتے۔
منگل شاہ، اس کے بیٹے گوپی اور دو ملازموں کو پہلی فرصت میں موت کے گهاٹ اتار دیا گیا اور حویلی شاہ کی بیٹیوں گنگا، جمنا اور گوپی کی بیوی شاردا کو گهوڑوں پہ ڈال کر نجے کے ڈیرے کے پہ لایا گیا۔ اتنے بڑے ہجوم نے ان کے جسم پہ ایک کپڑا تک نہیں چهوڑا تها۔ اس تقسیم اور اس میں تب تک مرنے والوں کا بدلہ ان لڑکیوں سے لیا جا رہا تها۔ وہ رونا چاہتی تهیں مگر حیرانی، خوف اور شدت غم نے ان کے اعصاب شل کر دیے تهے۔ وہ کسی غیر مخلوق کی طرح خود پہ بدل جانے والی اپنی دنیا اور اپنے اردگرد نفرت کا نقاب اوڑهے چہروں کو تکے جارہی تهیں۔ جلد ہی ان کے محکوم جسموں پر ایک نئے ملک کا نقشہ ترتیب دیا گیا۔ اسی دوران نقاہت کا شکار جمنا نے نجے تیلی کے منہ پر الٹی کر دی، جس پر، غصے میں بهڑکے نجے نے ڈانگ کے ایک ہی وار سے جمنا کے پسلیاں پیس ڈالیں اور وہ بهی ایک ہی وار سے ہمیشہ کے لیے سو رہی۔ جمنا کی موت کے بعد حنیفا داروگر اور کچھ اور لوگ جو کهتریوں کے نمک خوار رہ چکے تهے، چپکے سے وہاں سے کهسک گئے۔ لوگوں کے یوں غائب ہوجانے کی وجہ سے گاوٗں میں شور مچنے کا ڈر پیدا ہو گیا تها اور حفاظتی دستے سے تصادم اور فوج کا کوئی ٹرک آ پہنچنے کا خطرہ بهی بڑهتا جارہا تها اس لیے انہوں نے جمنا کی لاش کے ساتهہ ساتهہ شاردہ اور گنگا کو بهی نہر برد کر دیا۔ پانی کے بہاوٗ سے باہر آنے کی کوشش کرتی لڑکیوں پہ پتهر برسائے جا رہے تهے کہ کام جلدی ختم ہو جائے۔ ڈوبتی لڑکیاں ہر ممکن بچاوٗ کی کوشش میں رہیں مگر بهاری پتهر جان لے گئے۔ نجے اور اس کے ساتهیوں نے وہی کیا جو بٹوارے کے دنوں میں ہوا۔۔۔۔۔۔ لوٹ مار، قتل و غارت گری۔۔۔۔۔۔ اور عزتوں کا نیلام۔۔۔۔۔۔
گاوٗں میں البتہ سوگ منایا گیا۔۔۔۔۔ عورتوں نے سینہ کوبی کی اور بچے بهوکے سوئے۔۔۔۔۔۔ بابو احمد یار اور ان جیسے کئی مرد شرمندہ نظر آئے۔ غلام قادر باٹھ نے کهتریوں کی حویلی سے نجے تیلی کے لیے گاوٗں میں داخل نہ ہونے کا فرمان جاری کیا اور خنیفے داروگر کو حویلی کی نوکری سے نکال کر طویلہ اپنے کاموں کے حوالے کر دیا۔ چند ماہ بعد حویلی شاہ نے امرتسر سے خط بهیجا؛
“سلام بابو جی! ہمیں سب خبر پہنچ گئی ہے کہ ہمارے خاندان کے مردوں اور ہماری بیٹیوں کے ساتھ کیا ہوا۔ بابو جی! ہمیں یقین نہیں آتا۔ بهگوان کے لیے ہماری بیٹیوں کی باقیات میں سے نشانی کے طور پر، کچهہ تو ہمیں بهیج دیں۔ حویلی شاہ سے جواباً، بابو احمد یار مٹهی بهر مٹی اپنی بیٹی زرینہ کے دوپٹے میں باندھ کر امرتسر کی طرف روانہ ہو گئے اور پهر کبهی نہیں لوٹے۔

Published inسلیم ہارونعالمی افسانہ فورم