Skip to content

دوسری ناہید

عالمی افسانہ میلہ 2015
افسانہ نمبر 18
حمید قیصر
اسلام آباد پاکستان
دوسری ناہید
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
مجھے فلمی دُنیا کے گورکھ دھندوں میں بھٹکتے ہوئے ایک عرصہ ہو چلا تھا اور اس جنون کو کسی بھی پل قرار نہ ملتا تھا ۔صبح دیر سے بیدار ہونا اور رات کو جلد لُوٹنا فلمی دُنیا کے نصاب میں نہ تھا لہذا اس مدرسے اور اس کے نصاب نے اب تک شادی جیسی کل وقتی مشقت سے دُور رکھا تھا ۔ جو لوگ فلمی دُنیا کے اِسرار و رموز سے آگاہ ہیں وُہ یہ بھی جانتے ہوں گے کہ اس دُنیا میں فلم ڈائریکٹر اور آرٹسٹ سے لے کر ٹی بوائے تک سب کے سب روزآنہ اپنے حصے کی کمائی جیب میں ڈال کر گھر جاتے ہیں یا پھراُدھار کھاتے چلاتے ہیں۔ میں کالج کے بعد اپنی ابتدائی عملی زندگی کا بیشتر حصہ فلمی دُنیا کی نظر کر چکا تھا اور مجھے اس میدان میں بُہت سے اچھے، بُرے لوگ ملے تھے لیکن جب تجمل سے دوستانہ ہوا تو ہم اس دُنیا میں ایک سے گیارہ ہو گئے اور شہر کے ممتاز فلم اسٹوڈیوز میں پہلی بار باضابطہ دفتر بنا کر ہوائی روزی کمانے لگے۔ یہ پاکستان فلم انڈسٹری کے عروج کا وُہ زمانہ ہے جب موبائل فون ابھی نہیں آئے تھے اور کمپیوٹر ابھی عام نہیں ہوئے تھے ۔ ہمارا کام اسٹوڈیو میں زیر تکمیل فلموں کے لئے لگائے گئے سیٹوں پر فلمی یونٹس کو انواع اقسام کی تکنیکی سہولتیں فراہم کرنا تھا۔ کام کی زیادتی کے دنوں میں ہمیں اکثر رات بھر بھی کام کرنا پڑتا تھا ۔ میرا تو آگے پیچھے کوئی تھا نہیں مگر تجمل کی ہمیشہ شامت آئی رہتی ۔ جب بھی فون کی گھنٹی بجتی ، میں تجمل کو چھیڑتا ۔ ’’ لو آگئی تمہاری سختی‘‘۔۔۔ اور وُہ جب بھی فون اُٹھاتا تو دوسری طرف بیوی اس کی خبر گیری شروع کر دیتی۔
اب تجمل کے بارے میں ۔، میں آپ کو کیا بتاؤں۔یوں تو اس کی عمر بیالیس سال تھی مگر اس نے اپنے بانکپن کو بڑھاپے جیسی بیماری سے اب تک بچا رکھا تھا۔ یہ شادی بھی اس کی دوسری تھی اور تھی بھی محبت کی۔ جبھی تو تجمل کو گھر سے باہر رات گزارنا مشکل ہو جاتا تھا۔ پرلے درجے کا عاشق مزاج اور دل پھینک قسم کا انسان واقع ہوا تھا، جس کا خمیازہ اکثر مجھ کو ہی بُھگتنا پڑتا تھا ۔۔۔ فلم انڈسٹری میں اُس کی آمد کے پیچھے بھی کچھ ایسے ہی عوامل کار فرما تھے ۔ تھوڑے ہی عرصے میں مجھے اندازہ ہو گیا کہ تجمل کے پاس ضرور کوئی’’ گیدڑ سنگی‘‘ ہے۔ جس نے اسے بہت ہی ’’چالو‘‘ بنا ڈالا ہے یا پھر اس کی شخصیت میں ایسی مقناطیست ہے کہ جسے چاہے اپنی طرف کھینچ لے ۔ پوری فلم انڈسٹری میں شیطان کی مانند مشہور تھا۔ آدمی تھا بڑے کام کا مگر چکما دینے پر آتا تو اس کا کوئی ثانی بھی نہ تھا اور تو اور اکثر مجھے بھی گولی کرا جاتا ۔ یوں انتہائی مصروفیت کے دنوں میں ، مَیں بیٹھا ایمرجنسی کالیں بُھگتتا اور تجمل میاں مزے سے گلچڑے اُڑاتے پھرتے۔ اگلے روز ایسی زور دار کہانی اُگلتے کہ فلمی کہانی کار کیا لکھے گا؟۔۔۔ اس کے ساتھ ساتھ، اس جی دار انسان میں اس قدر خوبیاں تھیں کہ ہر شے پر بھاری تھیں۔ ’’کام کرو مگر زندگی بھی انجوائے کرو۔‘‘ یہ اس کی زندگی کا بنیادی ماٹو تھا۔
تجمل کی دوسری بیوی سے شاید میں ایک آدھ بار ہی ملا تھا ۔ پہلی بار اُس وقت جب ابتدائی دنوں میں تجمل نے مجھے کھانے پر بُلایا تھا۔ اُس کی بیوی ناہید نہایت خوش شکل ، سگھڑ اور تعلیم یافتہ تھی اور تجمل سے عمر میں پورے دس سال چھوٹی تھی۔ اُس روز کھانا اِس قدر اچھا بنایا تھا کہ نا چاہتے ہوئے بھی تعریف کرنا پڑی اور دوسری بار کسی ایمرجنسی میں تجمل کو لینے آئی تھی۔۔۔ اس کے علاوہ اُن سے جب بھی کبھی بات ہوئی ، ٹیلی فون پر ہی ہوئی ، پہلے پہل ناہید صرف تجمل کا ہی پوچھتی اور فون رکھ دیتی۔ پھر کبھی کبھی کوئی پیغام بھی دے دیتی کہ آئیں تو کہیں گھر فون کر لیں وغیرہ ۔۔۔وغیرہ‘‘یہاں تک کہ ناہید کی معمول کی گفتگو سے مجھے یہ اندازہ ہونے لگا جیسے اسے تجمل پر شک سا ہو گیا ہے ۔ اکثر یوں لگا جیسے کچھ کہنا ہو، کچھ پوچھنا چاہتی ہو مگر ہمت نہ کر پاتی ہو اور سچی بات تو یہ ہے کہ میں دونوں میاں بیوی کے معاملے میں خواہ مخواہ اُلجھنا نہیں چاہتا تھا ۔ یوں بھی ایسی زندگی کا میرا تجربہ تو بالکل ہی صفر تھا۔
ایسے ہی مصروفیات کے دنوں میں ایک دوپہر ناہید کا فون آیا ، پہلے پوچھا ’’تجمل ہیں؟‘‘۔۔۔ میں نے کہا ’’ حسبِ معمول کام پر ہیں ، ساتھ والے اسٹوڈیو میں ٹیم کے ساتھ لائٹنگ کروا رہے ہیں ،۔۔۔ خیریت؟‘‘۔۔۔ تھوڑی دیر خاموشی رہی ، پھر غیر متوقع طور پر کہنے لگیں۔’’نوید صاحب! آپ اُن کے دوست ہیں اور کام بھی اکٹھے کرتے ہیں۔۔۔ مگر آپ انہیں سمجھاتے کیوں نہیں؟‘‘۔۔۔ میں نے پوچھا ’’ کیا ہوا ؟۔۔۔ خیریت؟‘‘ ’’کچھ دنوں سے تجمل بالکل بدلے بدلے سے ہیں۔کام سے گھر آکر اکثر باہر چلے جاتے ہیں اور پھر آدھی آدھی رات کو لوٹتے ہیں۔‘‘’’آپ پریشان نہ ہوں ۔ تجمل کی کوئی بھی بات مجھ سے چُھپی ہوئی نہیں پھر بھی میں کسی مناسب وقت پر بات کروں گا۔ آپ تسلی رکھیں۔‘‘ اور فون بند ہو گیا۔ میں نے اس رویے کو غیر اہم اور وقتی جان کر تجمل سے کوئی تذکرہ نہ کیا ۔ ویسے بھی کام کی زیادتی کی وجہ سے ہماری آپس کی گفت گو کم ہی ہوا کرتی تھی ۔ دن کو گرمی کی وجہ سے شام اور رات کو کام زیادہ ہوا کرتا تھا ۔ اسٹوڈیو کی شامیں اور راتیں نسبتاً زیادہ رنگین اور شان دار ہونے لگیں۔۔۔ چہل پہل بڑھ گئی ۔دن قدرے ویران اور سُنسان سے رہنے لگے مگر رابطے اور بُکنگ کے لئے دفتر کھلا رہتا تھا اور کوئی نہ کوئی فون اٹینڈ کرنے کے لئے ضرور ہوتا تھا۔ تقریباً ہفتہ بھر ناہید کا فون نہ آیا ۔ ۔ پھر ایک کڑکتی دوپہر ، میں رَت جگے کی وجہ سے کرسی پر اُونگھ رہا تھا۔ تجمل ابھی نہیں آیا تھا۔ اچانک فون کی گھنٹی نے مجھے جھنجوڑا۔ جلدی سے فون اُٹھا یا تو دوسری طرف ناہید کی پریشان کُن آواز سُنائی دی۔
’’نوید صاحب! وُہ کہاں ہیں؟‘‘۔۔۔
مجھ سے کوئی جواب نہ بن پرا’’ اجی ۔۔۔ وُہ معلوم نہیں۔۔۔ ابھی تک آئے نہیں دفتر‘‘۔۔۔
’’آپ کی تجمل سے کوئی بات ہوئی؟‘‘۔۔۔
ایک تو میں ویسے ہی اس اچانک حملے کے لئے تیار نہ تھا اور ناہید کے اس سوال کا معقول جواب بھی میرے پاس نہ تھا ۔ میں نے کہا ’’ شاید بازار سے دفتر کے لئے سامان خرید کر آتے ہی ہوں گے‘‘۔۔۔
’’ہاں آپ اپنے دوست کی خوب طرف داری کرتے ہیں مگر اسے سمجھاتے نہیں۔‘‘ اب میں خاموش تھا!
’’ اور دیکھیں آپ بھی تو ہیں ۔۔۔ خوش شکل اور جوان ہیں ، شادی بھی نہیں کی ، ہر وقت کام پر رہتے ہیں، تجمل سے چھوٹے ہیں مگر انتہائی ذمہ دار۔آپ کے بارے میں، مَیں نے کبھی کسی سے کوئی ایسی ویسی بات نہیں سُنی! مجھے آپ سے بس یہ شکایت ہے کہ آپ اپنے دوست کو سمجھاتے نہیں‘‘۔۔۔ ناہید دوبارہ بولی۔
’’لیکن آپ اس قدر بے خبر بھی نہیں کہ اپنے دوست کے بارے میں کچھ نہ جانتے ہوں؟‘‘
میں نے کہا’’کیا مطلب میں سمجھا نہیں؟‘‘۔۔۔ جواب آیا
’’آپ کے دوست آج کل سٹوڈیو کی کسی نئی تتلی کے عشق میں مبتلا ہیں اور آپ کو پتا ہی نہیں‘‘۔۔۔ ناہید کے شک نے سچ کا رُوپ دھار لیا مگر میں نے سمجھانے کے انداز میں کہا
’’ناہید آپ فکر نہ کریں ، اگر ایسی ویسی کوئی بات ہے بھی تو آج اس کا فیصلہ ہو جائے گا۔ ذرا آ لینے دیں۔۔۔ تجمل کو میں پوچھتا ہوں اُس سے۔ آپ خواہ مخواہ جھگڑا کر کے اپنے گھر کا ماحول خراب نہ کریں۔ ‘‘ پھر بولی
’’نہیں میں اُسے رنگے ہاتھوں پکڑوں گی۔ بس ذرا موقع کی تلاش میں ہوں۔‘‘ یہ کہتے ہوئے غصے میں فون بند کر دیا گیا۔ اس روز تجمل دیر سے آیا ۔ گاڑی سامان سے لدی پھندی تھی اور تجمل سارے کا سارا پسینے میں شرابور ، مجھے پہلی بار اس کی حالت پر بہت پیار آیا کہ بے چارا کتنا محنتی اور ذمہ دار ہے لیکن ناہید اس کے بارے میں جانے کیا کیا گمان کرتی ہے ؟ یہ سوچتے ہوئے میں بھی گاڑی سے سامان اُتارنے لگا کیونکہ اس کے فوراً بعد برابر کے اسٹوڈیو میں نئی فلم کے سیٹ پر کام شروع ہونا تھا۔ میں نے کینٹین کے چھوٹے کو بُلایا اور چائے بسکٹ کا آرڈر دے کر تجمل سے گپ شپ شروع کر دی ۔
’’ یار تم نے اچھا کیا ایڈوانس میں سامان لے آئے ورنہ اگلے دو دنوں میں خاصی مشکل ہوتی ‘‘۔۔۔میں نے کرسی سے ٹیک لگاتے ہوئے کہا ’’ہوں ۔۔۔ میں نے کل رات ہی لسٹ بنا لی تھی ، مجھے پتہ تھا دونوں فلموں کے سیٹ لگنے ہیں ۔‘‘ تجمل نے پانی کا گلاس حلق میں اُنڈیلتے ہوئے جواب دیا ۔
’’یار وُہ گھر سے ناہید کا فون آیا تھا ، تمہارے بارے میں آج کل خاصی پریشان ہے ، گھر پر وقت نہیں دے رہے کیا ؟‘‘۔۔۔ میں نے یونہی بات چھیڑ دی۔
’’تمہیں کیا معلوم یہ بیویاں کس قدر شکی مزاج ہوتی ہیں ، اگر تمہاری بھی کوئی ہوتی تو پوچھتا ‘‘۔۔۔ وُہ ہنستے ہوئے بولا
’’بھئی! میں تو ابھی تک اس نعمت سے محروم ہوں‘‘۔۔۔ میں نے قہقہ لگایا۔

’’کہو تو شادی کے لئے دُعا کر دوں؟‘‘۔۔۔تجمل نے چھیڑ کے انداز میں کہا ’’ نا بھئی ! میرے لئے یہ بدعا تم رہنے ہی دو ‘‘۔۔۔ ہم دونوں ہنسنے لگے ۔ ہوٹل والا منا چائے بسکٹ کی ٹرے رکھ کر جانے کے لئے مڑا تو تجمل نے اسے پانی لانے کے لئے جگ پکڑا دیا ۔’’ یار ویسے یہ چکر کیا ہے ؟۔۔۔ ناہید کیوں شک و شبہ میں مبتلا نظر آتی ہے؟‘‘ میں نے کریدا ۔۔۔
’’ کچھ نہیں یار ! تم نے سُنا نہیں ؟۔۔۔ بد سے بدنام بُرا ، ذرا کوئی خوب صورت لڑکی پاس سے گزرجائے تو ناہید کو جیسے دورہ سا پڑ جاتا ہے ۔۔۔ آسمان سر پر اُٹھا لیتی ہے ‘‘۔۔۔ تجمل صفائی پیش کرنے لگا۔
’’پھر بھی کچھ تو ہو گا نا جس پر ناہید اتنی سیخ پا ہے ‘‘۔۔۔ میں نے چائے کا گھونٹ لیتے ہوئے پوچھا۔
’’یار وُہ نہیں شنو ڈانسر جسے بھٹی نے نئی فلم کے لئے انگیج کیا ہے ؟۔۔۔ گھر پر اس کا فون کیا آ گیا کہ ناہید نے تو ہٹلر کا رُوپ دھار لیا۔‘‘ تجمل نے دانت پیستے ہوئے کہانی سُنا ڈالی ۔
’’ارے واہ شنو کو بھی پٹا لیا؟۔۔۔ مان گئے اُستاد ، چاروں اور یونہی تو نہیں چرچے تمہاری گیدڑ سنگی کے ؟؟‘‘۔۔۔ میں نے اس کو رشک بھری نظروں سے دیکھتے ہوئے کہا ۔
’’ارے یار! پرسوں لیٹ نائٹ شوٹنگ کے بعد گھر تک لفٹ کیا دے دی کہ شنو تو پیچھے ہی پڑ گئی۔۔۔۔۔۔ پتہ نہیں گھر کا نمبر کہاں سے ہاتھ آ گیا کم بخت کے ۔۔۔ ضرور گمی نے دیا ہو گا، اپنے نمبر ٹانکنے کے لئے آ لینے دو سالے کو ابھی پوچھتا ہوں!‘‘ تجمل نے دانت پیستے ہوئے کہا۔
’’مگر اُستاد ۔۔۔ تم تو ’نو لفٹ وِد آؤٹ گفٹ ‘کے قائل ہو ۔۔۔ پھر لفٹ؟؟‘‘۔۔۔ میں نے استفہامیہ نظروں سے گھورا۔
’’یار ۔۔۔ سمجھا کرو ناں!!‘‘۔۔۔ تجمل نے کچھ ایسے انداز میں کہا کہ میری ہنسی چھوٹ گئی۔
آئندہ چند روز ہماری ٹیم کے لئے بے حد مصروف تھے ۔ لگاتار کام بُک تھا ۔ اِن ڈور شوٹنگ کے سیٹ لگنے تھے اس لئے رات دن لگا تار کام تھا۔ اس روز بھی حسبِ معمول آفس میں ٹیلی فون ڈیوٹی پر ڈائجسٹ کی کسی مہماتی میں الجھا تھا کہ فوں کی گھنٹی نے چوکنا کر دیا ۔ فون اُٹھا یا تو دوسری جانب ناہید تھی۔
’’دیکھا میں نا کہتی تھی کہ ایک دن آپ کے دوست کو رنگے ہاتھوں پکڑ لوں گی ۔۔۔ آج آپ بھی دیکھیں گے میں اس کے ساتھ کیا سلوک کرتی ہوں۔۔۔ میں دس منٹ میں ٹیکسی لے کر پہنچ رہی ہوں تیار رہیے گا‘‘۔۔۔ اور ٹھک سے فون بند ۔
میں اس عجیب و غریب صورت حال سے سخت پریشان ، جانے آج تجمل کی شامتِ اعمال کیا گل کھلاتی ہے؟ لگتا ہے تجمل کے ساتھ ساتھ آج بے چاری شنو کی بھی خیر نہیں ۔۔۔ اب اگر میں جاؤں تب مصیبت ، نا جاؤں تب بھی عذاب ، کیا کروں؟۔۔۔ ابھی میں اسی تذبذب میں تھا کہ باہر ٹیکسی کا ہارن بجا ۔ میں نہ چاہتے ہوئے بھی اُٹھ کھڑا ہوا اور آفس بند کر کے ناہید کے ساتھ ہو لیا ۔
ناہید نے راستے بھر مجھ سے کوئی بات نہ کی مگر جب ٹیکسی ڈرائیور کو اِدھر اُدھر مڑنے کا کہتی تو یوں محسوس ہوتا کہ اگر اس نے ذرا سی بھی غلطی کی تو جان سے مار دے گی ۔ میں سخت اُلجھن میں تھا ۔ طے شُدہ پروگرام کے مطابق اس وقت تجمل کو اپنی ٹیم کے ساتھ باری سٹوڈیو کے سیٹ پر ہونا چاہئے تھا۔ جب کہ ہماری ٹیکسی کا رُخ اُلٹی سمت میں تھا ۔۔۔ میرا چہرہ سُرخ ہو رہا تھا ۔ دل کی دھڑکن لمحہ بہ لمحہ بڑھتی جارہی تھی ۔کوئی آدھ گھنٹہ نیو ٹاؤن کی سڑکوں اور گلیوں میں بھٹکنے کے بعد ناہید نے ٹیکسی ایک نسبتاً ویران گلی میں رکوائی ۔ نیچے اُتر کر ٹیکسی کو فارغ کر دیا گیا ۔ہم ایک نو تعمیر شُدہ بنگلے کی بغل میں تھے۔
’’بنگلے کا مین گیٹ اندر سے بند ہے۔ آپ نے کمپاؤنڈ وال پھلانگ کر اندر سے گیٹ کھولنا ہے اور میں اندر آجاؤں گی۔۔۔ اور دیکھئے شور شرابہ نہ ہونے پائے ورنہ وُہ ہوشیار ہو جائیں گے‘‘۔۔۔ ناہید کسی ماہر سُراخ رساں کی طرح اپنا پلان بتا رہی تھی ۔ اِدھر ڈر اور تجسّس کے ملے جلُے اثرات سے میرا وجود لرزنے لگا ۔ میں نہیں جانتا تھا کہ آنے والے لمحات میں کیا ہونے جا رہا ہے ۔
’’چلئے نا جلدی کیجئے۔۔۔ سوچتے کیا ہیں؟‘‘۔۔۔ ناہید بولی ۔ اللہ جانے اُس لمحے مجھ میں کہاں سے طاقت عود کر آئی میں ایک ہی جست میں کود کر اندر ۔۔۔ میں نے جاگرز پہنے ہوئے تھا ، کوئی شور نہ ہوا اور نئے رنگ و روغن کی وجہ سے آہنی گیٹ بھی چوں چراں کے بغیر ہی کھل گیا ۔ ناہید آہستگی سے اندر آگئی اور گیٹ بند کر دیا ۔ صحن اور برآمدہ پھلانگنے کے بعد سامنے کمروں کے دو دروازے تھے ۔ ناہید نے پہلے بائیں جانب کا دروازہ کھولنا چاھا تو وُہ اندر سے بند تھا پھر جب دوسرے دروازے کی طرف بڑھی تو مجھے بھی قریب آنے کا اشارہ کیا ۔ اس نے دروازے پر آہستگی سے دباؤ ڈالا تو وُہ کھل گیا اور ہم دونوں اندر پھر میں نے دروازے کی چٹخنی لگنے کی آواز سُنی ، کمرے میں گہری تاریکی تھی۔۔۔ میں سوچ ہی رہا تھا کہ سامنے بیڈ پر ابھی تجمل اور شنو بے خبر غلطاں وپیچاں پڑے ہوں گے اور ناہید سینڈل اُتار کر ، اُن پر برس پڑے گی ۔۔۔ مگر دوسرے ہی لمحے میں نے اپنے آپ کو ناہید کی بانہوں کے معطر حصار میں سحر زدہ سا محسوس کیا ۔ تھوڑی دیر بعد دو جسم آپس میں بیڈ پر تادیر اُلجھتے رہے اور پھر ایسے بے خبر کے وقت کے گزرنے کا احساس بھی نہ ہوا ۔۔۔ پھر جب ناہید باتھ روم سے بالوں میں برش کرتی باہر آئی تو وُہ پہلے والی نہیں بلکہ مجھے کوئی دوسری ناہید نظر آنے لگی تھی اور میں ۔۔۔ میں بھی شاید پہلے والا نوید نہیں رہا تھا ۔ شرم سے میری نگاہیں فرش میں گڑی جارہی تھیں

Published inحمید قیصرعالمی افسانہ فورم