Skip to content

دل ہی تو ہے

عالمی افسانہ میلہ 2015

افسانہ نمبر 125 ( آخری افسانہ )

وحید احمد قمر

دل ہی تو ہے ۔

**************
صائمہ جونہی ھاسٹل کے گیٹ میں داخل ھوئی ایک مردانہ آواز نے اس کے قدم روک لیئے ۔

“سنیئے محترمہ “صائمہ اس سمت مڑی ۔ سامنے عابد اعظمی کھڑا تھا ۔صائمہ نے کسی قدر حیرت سے کہا ” اب آپ نے ھوسٹل کے اندر بھی آنا شروع کر دیا ھے” ؟ ” چوکیدار کہاں ھے ” ؟

چوکیدار میرے لیئے چائے لینے گیا ھے .آپ یہ بتائیے کہ کیا آپ نے میرا پیغام محترمہ فرزانہ صاحبہ تک پہنچا دیا تھا “۔. ..عابد اعظمی نے کہا

” پہنچا دیا تھا مگر اسکا جواب وہی ھے پہلے والا “صائمہ نے جواب دیا پھر بولی میں چوکیدار کی وارڈن سے شکایت ضرور کرونگی جو اس نے آپکو ہوسٹل میں آنے دیا “

” یہ غضب نہ کیجیے گا غریب آدمی ہے بیچارہ اسکی نوکری خواہ مخواہ میں جائےگی در اصل میں اسے چند سو روپیہ دے دیا کرتا ہوں اس لیے وہ تھوڑی دیر کے لیے یہاں سے ٹل جاتا ہے “

” اب آپ بھی یہاں سے ٹل جاینے ورنہ …” صائمہ نے جملہ ادھورا چھوڑ دیا

“میرا ایک آخری پیغام ان تک پہچا دیجیے اسکے بعد میں کبھی یہاں نہیں آؤنگا “عابد اعظمی نے منت سے کہا .صائمہ خاموشی سے اسے دیکھتی رہی وہ سراپا شرافت کی تصویر بنے کھڑا تھا چہرے پر وہی معصومیت چھائی تھی جسے دیکھ کر صائمہ ہمیشہ نرم پڑ جایا کرتی تھی چند لمحوں بعد وہ دھیمے لہجے میں بولی

“دیکھیے میں آپکے نصف درجن پیغام اس تک پہنچا چکی ہوں .محض اس وجہ سے کہ آپ شکل و صورت سے نہایت شریف اور معقول نوجوان لگتے ہیں مگر وہ آپ سے نہیں ملنا چاہتی، وہ میری سہیلی ہے اور میں اسے اچھی طرح جانتی ہوں وہ ان لڑکیوں میں سے نہیں جو کالج ، لڑکوں سے دوستی کی پینگیں بڑھانے آتی ہیں “

” آپ مجہے غلط نہ سمجھیے میں کوئی آوارہ آدمی نہیں ہوں نہ ہی میری نیت بری ہے مجھے تو ان سے محبت ہو گئی ھے اگر وہ مجھ سے ایک بار مل لیتیں تو شائد انہیں میری بات کا یقین آ جاتا “

“اچھا لائیے یہ آخری پیغام میں اس تک پہچا دیتی ہوں مگر اسکے بعد آپ کبھی یہاں نہیں آئینگے”
عابد اعظمی نے جیب سے ایک گلابی لفافہ نکل کر صائمہ کو تھما دیا جسے صائمہ نے ہاتھ میں پکڑی کتاب کے اندر رکھا اور تیز تیز قدم اٹھاتی سیڑھیوں کی طرف بڑھ گئی ۔

جب وہ آہستگی سے کمرے میں داخل ہوئی تو فرزانہ رایٹنگ ٹیبل پر جھکی کچھ لکھ رہی تھی صائمہ نے ہاتھ میں پکڑی کتابیں میز پر رکھیں اور اسکے سامنے بیٹھ گئی ۔

اس نے سر کرسی کی پشت سے لگا لیا تھا جبکہ آنکھیں بند تھیں فرزانہ نے سر اٹھا کر اسے دیکھا پھر بولی “کچھ تھکی تھکی سی لگ رہی ہو “

صائمہ نے آنکھیں بند کیے کیے جواب دیا ۔ ” تھکی ہوئی تو نہیں ہوں مگر ایک الجھن میں گرفتار ہوں، “۔

” کیا الجھن ھے؟؟ مجھے بتاؤ شائد میں دور کر سکوں ‘”

“مگر تم وعدہ کرو خفا نہ ہوگی “….صائمہ نے آنکھیں کھول کر کہا اور آگے کو جھک آئی۔

“تمہاری الجھن سے میرے خفا ہونے کا کیا تعلق ؟؟؟”فرزانہ نے کہا

” تعلق ھے اسی لیئے تو کہہ رہی ہوں “

“اچھا میں خفا نہیں ہوتی چلو بتاؤ کیا الجھن ھے ؟؟”

” ابھی تھوڑی در پہلے وہ ملا تھا ” صائمہ بولی

“کون ” فرزانہ بولی

“عابد اعظمی .اس نے تمہارے لیے ایک خط دیا ھے “صائمہ نے جواب دیا

” اور تم نے وہ خط لے لیا ؟؟’فرزانہ کے لہجہ میں ترشی آ گئی ” صائمہ میں نے تم کو کتنی بار منع کیا ھے تم اس سے بات نہ کیا کرو مگر تم نے تو با قاعدہ نامہ بری شروع کر دی ھے “

“اسی لیے میں تمہیں نہیں بتا رہی تھی کہ تم خفا ہوگی اب اس خط کا کیا کروں …؟؟صائمہ نے کتاب سے لفافہ نکالتے ہوئے کہا

‘اسے پھاڑ کر آتش دان میں پھینک دو “فرزانہ کا لہجہ مزید سخت ہو گیا

“پڑھوگی نہیں “

“قطعی نہیں جانتی ہوں اس میں وہی بکواس لکھی ہوگی “

تم محبت کے اظہار کو بکواس سمجھتی ہو ..میں نے قریب سے اسے دیکھا ھے اسکی انکھوں میں سچائی نظر آتی ھے شائد وہ واقعی تم سے محبت کرنے لگا ھے “

“صائمہ تم اچھی طرح جانتی ہو مجھے ان خرافات سے کوئی دلچسپی نہیں “

لیکن خط پڑھنے میں کیا حرج ھے مجھے تو اسکا انداز تحریر بڑا پسند ھے ادبی چاشنی کوٹ کوٹ کر بھری ہوتی ھے بیچارہ اتنی محنت سے خط لکھتا ہوگا اور تم ہمیشہ پھاڑ دیتی ہو “

“اگر تمیں اسکا انداز تحریر اچھا لگتا ھے تو تم یہ خط پڑھ سکتی ہو میری طرف سے اجازت ھے اور اب مجھے بور نہ کرنا میں ضروری نوٹس بنا رہی ہوں “فرزانہ رائیٹنگ ٹیبل پر جھکتی ہوی بولی

صائمہ نے لفافہ چاک کیا اور اندرونی کاغذ نکال کر پڑھنے لگی پھر بولی “اس بار تو موصوف نے اپنی ایک عدد غزل بھیجی ھے اور کچھ بھی نہیں ھے خط میں واہ کیا کمال کی شاعری ھے غزل کا ہر شعر حسب حال ھے چلو میں تمہیں سناتی ہوں “

فرزانہ نے غصہ میں اسے دیکھا اور خط پکڑنے کے لیے اس پر جھپٹی .صائمہ شائد اسی رد عمل کی توقع لگائے بیٹھی تھی وہ تیزی سے اٹھی اور کھڑکی کی طرف بھاگتی چلی گئی

فرزانہ کمر پر ہاتھ رکھے اسے گھورتی ہوی بولی “پلیز صائمہ مجھے تنگ نہ کرو مجھے نہ اس شخص سے دلچسپی ھے نہ اسکے کلام سے میں تو اب خود کو کوس رہی ہوں جو اس روز مشاعرے میں اسکے کلام سے متاثر ہو کر آٹو گراف لے بیٹھی اور وہ خواہ مخواہ غلط فہمی میں مبتلا ہو گیا اب کسی طرح پیچھا ہی نہیں چھوڑتا “

صائمہ نے ٹھنڈی آہ بھری ‘کاش کہ وہ اس طرح میرے پیچھے پڑا ہوتا تو میں اسے سر آنکھوں پر بٹھاتی آخر تم اس سے دور کیوں بھاگتی ہو ، وہ وجیہہ ھے ، پڑھا لکھا ھے اور بہت اچھا شاعر بھی ھے ایسے نوجوان کے سپنے تو ہر لڑکی دیکھتی ھے “

“صائمہ ہمارے والدین نے ہم پر اعتماد کر کے اس درس گاہ میں حصول تعلیم کے لیے بھیجا ھے عشق لڑانے کے لئے نہیں اگر ان تک کوئی ایسی ویسی بات پہنچی تو انہیں کتنا دکھ ہوگا “فرزانہ نے سنجیدگی سے کہا

صائمہ خاموش ہو گئی اور کھڑکی سے باہر دیکھنے لگی ۔ پھر تھوڑی دیر بعد بولی “ارے وہ عابد اعظمی ہی ھے شائد ہاسٹل کی دیوار سے ٹیک لگائے بیٹھا ھے بالکل اپنی اس غزل کے ایک شعر کی طرح ، اب تو میں تمہیں یہ غزل ضرور سناونگی “صائمہ نے ہاتھ میں پکڑے کاغذ کو اپنے چہرے کے سامنے کیا اور با آواز بلند پڑھنے لگی

اب کے نہ کچھ کہیں گے جو اپنی زباں سے ہم

گھبرا کے مر ہی جائیں گے وہم و گماں سے ہم

جانے سے اپنے تجھ کو اگر واسطہ نہیں

اتنا تو پوچھ لے کہ ہیں آئے کہاں سے ہم

فرزانہ کانوں میں انگلیاں ٹھونسے بستر پر بیٹھ گئی صائمہ کہہ رہی تھی اور یہ شعر تو موجودہ صورت حال کا مکمل عکاس ھے واہ واہ

جلوے کی بھیک دے دے وگر نہ تمام عمر

بیٹھے رہیں گے لگ کے یوں تیرے مکاں سے ہم

اسی وقت فرزانہ نے کھینچ کر تکیہ مارا جو صائمہ کے سر پر لگا وہ کھڑکی پر جھکی ہوی تھی جھٹکا لگنے سے ہاتھ میں پکڑا ہوا کاغذ چھوٹ گیا اور دوسری منزل کی اس کھڑکی سے آہستہ آہستہ نیچے جانے لگا صائمہ جھک کر اس کاغذ کو دیکھنے لگی جو کچھ دیر بعد نیچے بیٹھے عابد اعظمی کی گود میں جا گرا .اس نے سر اٹھا کر اوپر دیکھا صائمہ سے اسکی نظریں ملیں وہ اسے دیکھ کر دھیرے سے مسکرائی مگر اگلے ہی لمحے اسکے پیچھے فرزانہ نظر آئی جس نے صائمہ کو پیچھے کھیچااور زور دار آواز کے ساتھ کھڑکی بند کر دی ۔

وہ چھٹی کا دن تھا فرزانہ بازار جانے کے لئے ہوسٹل سے نکلی آج بہت دنوں بعد مطلع صاف ہوا تھا اور سورج پوری آب و تاب سے چمک رہا تھا پوری وادی سورج کی چمکیلی کرنوں سے نہا سی گئی تھی یہ شہر در اصل ایک ہل اسٹیشن تھا جہاں لوگ سر و تفریح کے لیے آتے تھے ان دنوں چونکہ سردیوں کا موسم تھا اس لیے سیاحوں کی تعداد کم تھی لہذا سڑکیں زیادہ تر سنسان ہی رہتی تھیں بازار میں بہت کم لوگ خریداری کرتے نظر آتے تھے ان میں بھی زیادہ تر ان درسگاہوں کے طلباء ہوتے تھے جو ان اطراف میں قائم تھیں اندرون ملک کے آسودہ حال لوگ اپنے بچوں کو ان درسگاہوں میں تعلیم کے لئے بھیجتے تھے تاکہ بچوں کو ایک پرسکون اور پر فضا ماحول ملے ۔

فرزانہ پہاڑ پر بل کھاتی سڑک پر چلی جا رہی تھی اچانک ایک درخت کے پیچھے سے عابد اعظمی نکل کر سامنے آ گیا

” تم یہاں ” فرزانہ چلائی

“جی میں آج آپ سے بات کر کے ہی رہونگا “

“میں تمہاری کوئی بات نہیں سننا چاہتی تم میرا راستہ چھوڑ دو “

وہ ایک طرف ہٹ گیا فرزانہ نے قدم آگے بڑھا دِیے وہ پیچھے پیچھے چلتا ہوا بولا ” آپ شائد مجھے کوئی لوفر قسم کا آدمی سمجھتی ہیں “

“تم نے اپنی اب تک کی حرکتوں سے تو یہی ثابت کیا ھے “

“ااور میں کیا کرتا ۔ آپ اگر مجھ سے شروع میں ہی مل لی ہوتیں تو بات یہاں تک نہ پہنچتی “

“اور تم میں اگر ذرا بھی شرم ہوتی تو تم میرے انکار کے بعد اپنی صورت کبھی نہ دکھاتے “

” میں دل کے ہاتھوں مجبور ہوں اگر واقعی مقصد آپکو تنگ کرنا ہوتا تو اب تک آپکے رویہ سے مایوس ہو کر یہاں سے چلا گیا ہوتا “

تم اس وقت میرے راستے میں کیوں آئے ہو ، کیا چاہتے ہو ؟؟؟”

“ذرا دیر بیٹھ کر باتیں کرنا چاہتا ہوں “

“قطعی نہیں میں ایسا نہیں کر سکتی “

آخر اس میں حرج ہی کیا ھے چلئے اس طرف بنچ پر جا کر بیٹھتے ہیں پھر تسلی سے بات ہوگی “

میں نے زندگی میں بڑے بڑے بےشرم دیکھے ہیں .مگر تم جیسا بے حیا اور ڈھیٹ آدمی نہیں دیکھا میں کہے جا رہی ہوں کہ مجھے تم سے کچھ کہنا سننا نہیں ھے اور تم پھر بھی اصرار کے جا رہے ہو ؟؟”

“آپکا دل بہت سخت ھے ” عابد اعظمی بولا

“اور میرے جوتے کا تلا بھی بہت سخت ھے سر پر پڑا تو دن میں تارے نظر آ جائیں گے سارا عشق ہوا ہو جائے گا “

یہ سن کر عابد اعظمی بجھ سا گیا .اور ذرا توقف کے بعد بولا ” آپ واقعی مجھے کوئی آوارہ آدمی سمجھتی ہیں ” ؟

“بالکل ، شریف آدمی اس طرح راہ چلتی لڑکیوں کو تنگ نہیں کرتے ” ‘فرزانہ کے لہجے کی سختی برقرار تھی

اف خدایا میں آپکو کیسے سمجھاؤں میں آپکو تنگ نہیں کر رہا بلکہ میں واقعی اپ سے بے انتہا محبت کرنے لگا ہوں مجھے اپنے اپ پر اختیار نہیں رہا ھے ورنہ آپکی اتنی سخت باتیں کبھی نہ سہتا “

فزانہ نے دیکھا اسکی آنکھیں نم ہو گئی تھیں چہرے پر ایسے تاثرات تھے جیسے وہ آنسو روکنے کی کوشش کر رہا ھو مگر پھر بھی چند ایک آنسو اسکے گالوں پر ڈھلک ہی آئے

“ارے ارے” فرزانہ بوکھلا کر بولی ” یہ آپ نے کیا شروع کر دیا ” ‘

عابد اعظمی چند لمحے تو خاموش رہا پھر پر سوز آواز میں گویا ہوا

دل ہی تو ھے نہ سنگ و خشت درد سے بھر نہ آئے کیوں

روئیں گے ہم ہزار بار کوئی ہمیں ستائے کیوں

” دیکھو “فرزانہ ہاتھ اٹھا کر بولی “یہ مانا کہ تم بہت اچھے شاعر ہو اور شعروں کا انتخاب اور بر محل استعمال بھی خوب کرتے ہو مگر میں ان باتوں سے متاثر ہونے والی نہیں “

عابد اعظمی اسی طرح جذباتی لہجے میں بولا “میں نے بہت کوشش کی کہ آپکا خیال دل سے نکال دوں مگر کیا کروں آخر دل ہی تو ھے ،نہیں مانتا اور آپ اس قدر سخت کلامی کر رہی ہیں ‘

“ابھی تو میں نے صرف سخت کلامی ہی کی ھے اگر مزید تم یہاں رکے تو شائد میں تمہیں مار بیٹھوں “

“کیا میری شکل ایسی ھے کہ کوئی مجھے طمانچہ مارنے کا سوچ سکے “اس نے معصوم صورت بنائی فرزانہ نے پہلی بار نظر بھر کر اسے دیکھا ، اسکی مسمسی صورت دیکھ کر وہ مسکرا دی

“شکر ہے خدا کا آپ مسکرائیں تو “

“زیادہ خوش ہونے کی ضرورت نہیں چلو اس طرف جا کر بیٹھتے ہیں جو کچھ کہنا ھے جلدی کہہ لینا میں تمہیں صرف دس منٹ دے سکتی ہوں “

وہ دونو ں وہاں آئے جہاں بنچ پڑا تھا فرزانہ بیٹھ گئی جبکہ عابد اسکے پاس کھڑا تھا فرزانہ اسکی طرف دیکھنے لگی جیسے کہہ رہی ہو اب کہہ بھی چکو ۔

“میں نے سب سے پہلے آپکو کالج کے ایک مقابلے میں تقریر کرتے دیکھا تھا آپ مجھے بہت اچھی لگی تھیں ، میرے دوست نے جو آپکے کالج میں ہی پڑھتا ھے آپکی سخت طبیعت کے بارے میں بتا دیا تھا کہ آپ لڑکوں سے بے تکلف نہیں ہوتیں بڑی با اصول اور الگ تھلگ رہنے والی لڑکی ہیں مگر پھر بھی میں نے فیصلہ کیا کہ آپ تک اپنے احساسات ضرور پہچاونگا چنانچہ میں آپکے کالج کی تقریبات میں جانے لگا اس شام مشاعرے میں ، میں بطور شاعر شامل تھا قدرت کی عنایت ھے کہ اچھا کہہ لیتا ہوں اس مشاعرے میں میرا کلام بہت پسند کیا گیا آپ نے بھی مشاعرے کے بعد میرے قریب آ کر مجھے داد دی جس سے میرا حوصلہ بڑھا اور میں نے آپکو خط لکھ بھیجا اور ملنے کی خواہش کا اظہار کیا مگر آپ نے انکار کر دیا اسکے بعد میرے بار بار اصرار کے باوجود آپ انکار ھی کرتی رہیں چنانچہ میں نے یہی فیصلہ کیا کہ آپ سے سر راہ ملنا نا گریز ھے اس لیئے مجبور ھو کر یہاں آیا ہوں اچھی طرح جانتا ہوں آپکو میرا اس طرح راہ میں ملنا اچھا نہیں لگا مگر دوسری کوئی صورت بھی تو نہ تھی ” وہ خاموش ہو گیا

‘”اور کچھ کہنا ھے تو کہہ لو دو منٹ رہ گئے ہیں'” فرزانہ گھڑی دیکھتے ہوے بولی

” یہی کہنا تھا آپ مجھے بہت اچھی لگتیں ہیں آپ میں وہ تمام خوبیاں ہیں جو میں نے اپنے آئیڈیل کے بارے میں سوچی تھیں میں آپ سے محبت کرنے لگا ہوں ، آپکے بغیر نہیں رہ سکتا آپکو ہمیشہ کے لیے اپنانا چاہتا ہوں “

فرزانہ مسلسل گھڑی دیکھتی رہی تھی تھوڑی دیر بعد وہ اٹھتی ہوی بولی ” دس منٹ پورے ہوئے میں اب چلتی ہوں اور اب اگر تم میرے پیچھے آئے تو مجھ سے برا کوئی نہ ہوگا “

” مگر یہ تو کچھ بھی نہ ہوا آپ کچھ جواب تو دیتی جائیے”. اعابد اعظمی روہانسا ہو گیا

فرزانہ رکی اور اسکی طرف مڑ کر بولی ” میں یہان تعلیم حاصل کرنے آئی ہوں شادی کے لئے اپنا دولہا ڈھونڈنے نہیں اور جہاں تک تمہارے دعویٰ محبت کا تعلق ھے تو آج تک نہ جانے کتنی ہی لڑکیوں کے سامنے تم نے یہی دعوے کیئے ہونگے میری مانو تو تم کسی اور جگہ قسمت آزمائی کرو تم خوش شکل ہو ،خوش گفتار ہو خوش لباس بھی ہو کئی لڑکیاں تمہاری راہ میں آنکھیں بچھانے کے لئے تیار ہو جائیں گی تم میرا خیال اپنے دل سے نکال دو میرا انتخاب ایک شریف النفس اور با وقار مرد ہوگا جسے میرے والدین منتخب کریں گے ایک روایتی لڑکی کی طرح میری محبت صرف اور صرف اسکے لئے وقف ہوگی تمہیں میرا مخلصانہ مشورہ ھے کہ جلد از جلد تم یہ شہر چھوڑ دو تاکہ تمہاری توجہ بٹ سکے “

“یہ آپکا آخری فیصلہ ھے “

“قطعی ‘فرزانہ نے کہا اور تیز تیز قدم اٹھاتی وہاں سے چل دی

اگلی صبح فرزانہ سیر سے واپس آ رہی تھی صبح کی سیر اسکا روز کا معمول تھا وہ سورج نکلنے سے ذرا پہلے پہاڑ کی طرف چلی جاتی تھی اور ایک اونچی چٹان پر بیٹھ کر سورج نکلنے کا نظارہ کیا کرتی تھی اور پھر واپس ہاسٹل آ جاتی تھی واپسی کے لئے جو راستہ استعمال کرتی تھی وہ کم وقت میں نیچے وادی میں پہنچا دیتا تھا یہ راستہ پتھریلی چٹانوں میں سے ہو کر گزرتا تھا فرزانہ چٹانوں پر ہاتھ جماتی احتیاط سے نیچے اترتی اس جگہ جا پہنچی جہاں یہ راستہ ایک بڑی چٹان پر پہنچ کر ختم ہو جاتا تھا یھاں سے سڑک قریب ہی تھی اور ایک چھوٹی سی چھلانگ اسے سڑک تک پہنچا دیتی تھی فرزانہ کا چونکہ یہ روز کا معمول تھا اس لئے اسے زیادہ دشواری نہ ہوتی تھی لیکن آج شائد ستارے ہی گردش میں تھے جو چھلانگ لگانے کے بعد اسکے پاؤں ایک گول پتھر پر پڑ کر پھسل گئے وہ سنبھل نہ سکی اور سڑک پر لڑھکتی چلی گئی اور اس وقت رکی جب اسکا سر ایک ابھری ہوی نوکیلی چٹان پڑ جا لگا آنکھوں میں ستارے ناچ گئے اور ذہن پر اندھیروں نے یلغار کر دی اگلے ہی لمحے وہ بیہوش ہو چکی تھی

ہوش آنے پر اس نے خود کو ایک آرام دہ بستر پر پایا چند لمحے خالی الذہنی کی کیفیت میں چھت کو تکتی رہی پھر تیزی سے اٹھنے کی کوشش کی تو سر میں ٹیس سی اٹھی ، بے اختیار ہاتھ سر کی طرف گیا جہاں پٹی بندھی ہوئی تھی کہنیوں پر بھی معمولی خراشیں آئی تھیں جہاں دوا لگی ہوئی تھی اس نے ٹانگوں کو ہلا جلا کر دیکھا ٹانگیں صحیح سلامت تھیں تو گویا سر پر لگنے والی چوٹ کی وجہ سے وہ بے ہوش ہو گئی تھی اس نے سوچا اور آہستگی سے بستر سے نیچے اتر آئی وہ سوچ رہی تھی یقینا” کوئی اسے اٹھا کر یہاں لے آیا ہے اور شائد اسی نے مرہم پٹی بھی کی ہے دھوپ کھڑکی کے راستے اندر آ رہی تھی اس نے باہر نگاہ دوڑائی سورج سامنے کی پہاڑیوں پر چمک رہا تھا کلائی کی گھڑی پر وقت دیکھا پھر بستر کی طرف پلٹ آئی اسی وقت دروازہ کھلا اور کمرے کے اندر آنے والے شخص کو دیکھ کر وہ اچھل پڑی عابد اعظمی ہاتھوں میں تھرماس اور ٹرے لئے کھڑا تھا چند لمحے دونوں ایک دوسرے کی طرف دیکھتے رہے پھر عابد اعظمی نے ٹرے میز پر رکھتے ہوے کہا “آپ شائد پھسل کر گر پڑی تھیں میں صبح سیر سے واپس آ رہا تھا غنیمت ہوا کہ میری نگاہ آپ پر پڑ گئی پہلے تو میں نے کوشش کی کہ اپ کو وہیں ہوش آ جائے مگر چوٹ شدید تھی آپ کسی طرح ہوش میں نہیں آرھی تھیں مجبورا” آپکو یہاں لانا پڑا میں یہیں مقیم ہوں آپکے سر کی مرہم پٹی کر دی ھے سر کا زخم زیادہ گہرا نہیں ھے میں کافی دیر سے آپکے ہوش میں آنے کا انتظار کر رہا تھا لیجئے گرما گرم چائے اور ناشتہ پیش خدمت ھے اسکے بعد آپ اپنے ہو سٹل جا سکتی ہیں “

عابد کپ میں چائے انڈیلنے لگا فرزانہ خاموش تھی اسے اس بات پر حیا آ رہی تھی کہ وہ اسے اپنے ہاتھوں پر اٹھا کر لایااور پھر مرہم پٹی بھی کی مگر دوسرے لمحے اس نے یہ خیال جھٹک دیا اور سوچنے لگی کہ یہ تو عابد اعظمی کا مجھ پر احسان ھے وہ چاہتا تو مجھے سڑک کے کنارے ہی پڑا رہنے دیتا ابھی کل ہی تو میں نے اسکی بہت بےعزتی کی تھی اسے لوفر اور آوارہ کہا تھا مگر آفریں ھے اس شخص پر اس نے پھر بھی میرے ساتھ احسان کا سلوک کیا فرزانہ اپنے سابقہ رویہ پر اتنی نادم تھی کہ اسے عابد اعظمی کا شکریہ ادا کرنے کے لئے مناسب الفاظ نہیں مل رہے تھے عابد اعظمی کہہ رہا تھا ‘” چائے ٹھنڈی ہو رہی ھے آپ ناشتہ کر لیتیں تو بہتر تھا جسم میں توانائی آ جائے گی “

وہ اٹھ کر میز کے قریب کرسی پر جا بیٹھی اور سر جھکا کر ناشتہ کرنے لگی پراٹھوں کے ساتھ انڈے فرائی کے گئے تھے عابد اعظمی کھڑکی کے قریب کرسی پر جا بیٹھا ۔ ناشتہ ختم ہوا تو فرزانہ پھر بستر پر آ بیٹھی اور دزدیدہ نگاہوں سے اسے دیکھنے لگی وہ کھڑکی سے باہر دیکھ رہا تھا فرزانہ کی سمجھ میں نہیں آ رہا تھا کہ وہ اس سے کیا بات کرے ، کس طرح شکریہ ادا کرے تھوڑی دیر بعد وہ بولی

“یہ پراٹھے آپ نے خود بنائے تھے ؟؟”

” جی ہاں !!! کیا پسند نہیں آئے؟ “

“جی نہیں بہت اچھے بنے ہوئے تھے جس طرح گھروں میں عورتیں بناتی ہیں “

“در اصل میری کوئی بہن نہیں ھے اس لئے والدہ محترمہ بہن کے حصے کا پیار بھی مجھ پر نچھاور کرتی ہیں انہوں نے مجھے خانہ داری کے بہت سے کام سکھائے ہیں ۔ مثلاً کھانا پکانا ، کڑھائی کرنا ، سویٹر بننا وغیرہ ” فرزانہ کھلکھلا کر ہنس پڑی ” آپ سوئیٹر بھی بن لیتے ہیں ؟؟”اس کے لہجے میں حیرانی تھی

” میں نے کہا نا میری والدہ مجھے اپنی بیٹی بھی سمجھتی ہیں اس لئے کبھی کبھی پیار سے وہ مجھے عابدہ بھی کہہ کر پکار تی ہیں “

” بہت دلچسپ بلکہ حیرت انگیز “فرزانہ کے منہ سے بے اختیار نکلا ،عابد اعظمی کچھ نہیں بولا وہ تھوڑی دیر تک اسے خاموشی سے دیکھتی رہی پھر بولی “

“مجھے اپنے سابقہ رویہ پر بے حد افسوس ھے جو میں آپکو غلط آدمی سمجھتی رہی میری معذ رت قبول کیجئے

ارے اس میں معذرت کرنے کی کیا بات ھے آپ بہت اچھے اور مضبوط کردار کی مالک ہیں آپ نے جو کچھ کیا درست کیا شائد میں ہی غلط تھا “

” پھر بھی مجھے افسوس ھے کہ میں نے آپ جیسے ہمدرد اور اچھے انسان سے نہایت سختی اور کسی قدر بد تمیزی سے بات کی تھی اگر ہو سکے تو مجھے معاف کر دیجئے گا “

میں آپ سے ناراض ہی نہیں ہوں تو معافی کا کیا سوال آپ اپنے ذہن پر زیادہ زور نہ ڈالیں آپ کو آرام کی ضرورت ھے چاہے تو سہ پہر تک یہیں رہ لیں پھر چلی جائیے گا “

” جی نہیں میں اب بہت بہتر محسوس کر رہی ہوں مجھے ہوسٹل واپس جانا چاہیے صائمہ میری وجہ سے پریشان ہوگی میں ایک بار پھر تہہ دل سے آپکا شکریہ ادا کرتی ہوں “فرزانہ اٹھتے ہوئے بولی

عابد اعظمی بھی اسکے ساتھ باہر نکلا وہ سڑک تک اسکے ساتھ آیا یہاں فرزانہ اکیلی آگے بڑھ گئی عابد اسے اس وقت تک جاتے دیکھتا رہا جب تک وہ ڈھلوان سے اتر کر نظروں سے اوجھل نہیں ہو گئی

اسی شام جب سورج غروب ہونے میں کافی دیر باقی تھی فرزانہ صائمہ کو ساتھ لئے ریسٹ ہاؤس میں جا پہنچی جہاں عابد اعظمی مقیم تھا وہ آج سارا دن اسی کے بارے میں سوچتی رہی تھی در اصل وہ صبح کے واقعہ کے بعد وہ اس سے حقیقت میں بہت متاثر ہوئی تھی بلکہ اسکے دل میں عابد اعظمی کے لئے نرم گوشہ بھی پیدا ہو گیا تھا جسے وہ محبت کا نام دینے سے جھجھک رہی تھی وہ آج سار دن بے قرار رہی تھی دل مجبور کر رہا تھا کہ پھر اس سے ملاقات ہو اسکی قربت میں اسے عجیب قسم کا سکون اور تحفظ محسوس ہوا تھا وہ اپنا اپنا لگنے لگا تھا اور اجنبیت کا احساس جاتا رہا تھا اس نے جب صائمہ کو اپنی اس کیفیت کے بارے میں بتایا تو وہ پہلے تو بہت حیران ہوئی لیکن جب اس نے دیکھا کہ فرزانہ سنجیدہ ھے تو یہی مشوره دیا کہ عابد اعظمی سے ملنا چاہیے چنانچہ وہ دونوں اس وقت عابد اعظمی کے کمرے کے سامنے موجود تھیں ریسٹ ہاوس کے باقی کمرے شائد خالی پڑے تھے ہر طرف خاموشی چھائی ہوئی تھی فرزانہ نے آہستہ سے دستک دی مگر جواب ندارد ،. چند منٹ گزر گئے

اس نے صائمہ کی طرف دیکھا اس بار صائمہ نے ذرا زور سے دستک دینا چاہی تو ہاتھ کے دباؤ سے دروازہ کھل گیا کمرہ خالی پڑا تھا دونوں آہستگی سے اندر داخل ہوئیں صبح جو کمرے میں سامان موجود تھا اب نہیں تھا ایسا محسوس ہو رہا تھا جیسے عابد اعظمی کمرہ چھوڑ کر چلا گیا ہو صائمہ چند منٹ تک کمرے میں چل پھر کر ادھر ادھر دیکھتی رہی پھر بولی

” شائد وہ یہاں سے جا چکا ھے فرزانہ کی آنکھوں میں اضطراب دوڑ گیا اسکے منہ سے نکلا “لیکن اتنی جلدی .آخر کیوں ؟؟

“دیکھو یہ کاغذ کیسا ھے ” صائمہ میز کی طرف بڑھتے ہوے بولی جہاں پیپر ویٹ کے نیچے ایک کاغذ دبا ہوا تھا

“اسی کا خط ھے ” صائمہ نے کاغذ پر لکھی تحریر پڑھتے ہوئے کہا

“کیا لکھا ہوا ھے اس پر ” فرزانہ نے بے اختیار ہو کر کاغذ اس سے لے لیا اور جلدی جلدی پڑھنے لگی لکھا تھا

محترمہ فرزانہ صاحبہ !!

مجھے ایک مبہم سی امید ھے کہ اپ شائد دوبارہ اس کمرے میں آہیں اس لئے یہ خط چھوڑے جا رہا ہوں مجھے علم ھے کہ ماضی میں آپ میرے خطوط پا کر سخت برہمی کا اظہار کرتی رہی ہیں پھر بھی دل کے ہاتھوں مجبور ہو کر یہ آخری خط لکھ رہا ہوں تاکہ آپکو یہ بتا دوں کہ میں یہاں سے بھی اور آپکی زندگی سے بھی ہمیشہ کے لئے جا رہا ہوں کل آپ نے مشوره دیا تھا کہ میں شہر چھوڑ دوں جسے میں حکم سمجھ کر عمل کر رہا ہوں یوں بھی میں اگر مزید یہاں رہتا تو آپ سے سامنا ہوتا رہتا دل مجبور کرتا کہ آپکی راہوں میں آؤں جس سے آپ پریشان ہوتیں .میں آپکے مضبوط کردار سے بہت متاثر ہوا ہوں میں نے زندگی میں آپ جیسی ا علیٰ خیالات رکھنے والی لڑکی نہیں دیکھی واقعی ہر لڑکی کو شادی کے بعد صرف اور صرف اپنے شریک زندگی سے محبت کرنی چاہیے .ایک پاک اور جائز محبت ..میں آپکے لئے دعا گو رہونگا کہ آپکو آپ جیسا ہی خوب سیرت ہم سفر ملے ایک دفعہ پھر اپنی گستاخیوں کی معافی چاہتا ہوں ۔

فقط

عابد اعظمی

“چلو اچھا ہوا جان چھوٹی تمہاری ” صائمہ نے طویل سانس لے کر کہا

“مگر صائمہ وہ اچھا آدمی تھا میں نے خواہ مخواہ اسے ٹھکرا دیا اب اپنے کیے پر افسوس ہو رہا ھے ” فرزانہ نے بھرائی ہوی آواز میں کہا اسکی آنکھوں میں آنسوؤں تیر رہے تھے

“ارے ارے تم اس آدمی کے لئے آنسو بہا رہی ہو جسے ابھی کل تک برے برے خطابات سے نوازتی رہی ہو ” ؟؟؟

صائمہ دکھ اس بات کا ہو رہا ھے کہ میں نے نہ صرف ایک اچھے انسان کا دل توڑا بلکہ ایک ایسے انسان کے ساتھ زندگی گزارنے کا موقع گنوا دیا جو مجھے بے انتہا چاہتا تھا مجھ سے محبت کرتا تھا افسوس میں نے اسے ہمیشہ غلط سمجھا آج کے واقعہ کے بعد احساس ہو رہا ھے کہ وہ خود بھی بہت سلجھا ہوا اور شریف آدمی تھا کاش وہ آج شام تک رک گیا ہوتا ..اے کاش …فرزانہ نے ایک سرد آہ بھری صائمہ نے کوئی جواب نہیں دیا ماحول پر ایک سوگوار سی خاموشی چھاگئی تھی ذرا دیر بعد فرزانہ نے کہا

” کیا ایسا نہیں ہو سکتا کہ کہیں سے اسکا ایڈریس مل جائے “

“یہ تم کہہ رہی ہو مجھے اپنے کانوں پر یقین نہیں آ رہا تم تو بڑی خود دار بنتی ہو اب اسکے پیچھے جاؤگی ” صائمہ حیرت سے بولی

محبت انسان کو بدل کر رکھ دیتی ھے اسکے اندر ایک انقلاب برپا کر دیتی ھے سب اصول اور ضابطےاس انقلاب کے آگے کمزور پڑ جاتے ہیں “

فرزانہ کے گالوں پر آنسو ڈھلک آئے اس نے آنسو پونچھتے ہوئے کہا میں اسکی تلاش میں ضرور جاؤنگی “

“کس منہ سے جاؤگی تم تو عشق کے معاملات کو خرافات سمجھتی ہو “صائمہ بولی

” نہیں آج کے واقعے نے مجھے بدل کر رکھ دیا ھے میرا دل بے اختیار ہو گیا ھے .کیا کیا جائے آخر دل ہی تو ھے “

اسی وقت دروازے کے قریب کھٹکا سا ہوا دونو ں نے ادھر دیکھا عابد اعظمی کھڑا مسکرا رہا تھا فرزانہ کے منہ سے نکلا ” آپ ابھی یہیں ہیں “

“جی ” عابد اعظمی نے سینے پر ہاتھ رکھ کر ذرا سا خم ہو تے ہوئے کہا “میں یہ کیسے برداشت کر سکتا ہوں کہ میری نازک سے محبوبہ میری تلاش میں بھٹکتی پھرے اس لئے میں خود حاضر ہو گیا

فرزانہ کے چہرے پر مسکراہٹیں بکھر گئیں وہ بولی ” تو آپکو یقین تھا کہ میں واپس ضرورآؤنگی آپ نے میرے منہ سے محبت کا اقرار سننے کے لئے یہ ظاہر کیا کہ آپ یہ کمرہ چھوڑ چکے ہیں اور چھپ کر ساری باتیں سن لیں آپ بڑے وہ ہیں “…

عابد اعظمی مسکرا کر بولا ” جنگ اور محبت میں سب جائز ھے اور ….”؛

“جی نہیں ” فرزانہ نے اسکی بات کاٹ دی ” جنگ اور محبت میں جو ہو جائز ہو “

“چلے یوں ہی سہی آپ کہتی ہیں تو پھر ٹھیک ہی کہتی ہونگی ” عابد اعظمی نے سعادت مندانہ انداز میں سر ہلاتے ہوے کہا اور فرزانہ کھلکھلا کر ہنس پڑی

Published inعالمی افسانہ فورموحید احمد قمر