Skip to content

دل تو بچہ ہے جی

عالمی افسانہ میلہ 2015

افسانہ نمبر 30

دل تو بچہ ہے جی

فاطمہ عمران، لاہور، پاکستان

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

وہ چینخنا چاہتا تھا۔۔۔۔ زور زور سے۔۔۔۔ اس طرح وہ اپنی پوری قوت لگا کر اپنے اندر کا سارا درد باہر اگل دینا چاہتا تھا۔ اس نے اپنا مُکا دیوار پر دے مارا اور ہسٹریائی انداز میں چیختے ہوئے زمین پر ڈھیر ہو گیا۔ کچھ دھندلے دھندلے سے چہرے اسے پکڑنے کی کوشش کر رہے تھے۔

رات 11:00 بجےاچانک گبھرا کر اسکی آنکھ کھل گئی۔ اسے کمرے میں کسی کی موجودگی کا احساس ہوا اور ایک سرد لہر اسکی ریڑھ کی ہڈی میں دوڑ گئی۔ اٹھ کر دیکھنے کی کوشش میں لیمپ اس کے ہاتھ سے گر گیا۔ اندھیرے میں کسی بچے کی طرح گبھرا کر اس کا دل اتنی زور سے دھڑکا گویا کسی بم کی طرح پھٹ کر چیتھڑے چیتھڑے ہو جائے گا۔۔۔ ایک ایک سانس کے ساتھ پتھر بندھے ہونے کے احساس کے ساتھ اس کے حلق سے بمشکل اتنا ہی نکلا؛ ” ک ک کون ہے؟” گردن پر ایک سانس سی محسوس ہوئی اور اچانک کسی نے ماچس جلائی۔۔۔ اس میں اتنی ہمت بھی نہ تھی کہ مڑ کر چہرہ دیکھ لے۔ اچانک ماچس جلانے والا سامنے آ گیا اور چہرہ دیکھ کر حیرت سے اس کے منہ سے نکلا؛ ” تم م م م “

رات 8:00 مریضوں کی ایک لمبی قطار دروازے کے باہر انتظار کر رہی تھی۔ جب کسی مریض کی باری آتی تو وہ اٹھ کر اندر چلا جاتا اورباقی کے لوگ دل ہی دل میں بچے ہوئے لوگوں کی گنتی کر کے اپنی باری کا حساب کرنے لگتے۔ ایک خاتون کو شاید بہت جلدی تھی۔ بار بار اٹھ کر بے چینی سے ٹہلنے لگتی اور ڈاکٹر کا دروازہ کھٹکھٹاتی۔۔۔ اندر سے ملائمت سے جواب آتا۔ ۔ “محترمہ اپنی باری کا انتظار کیجئے” اور وہ پھر سے بےچینی کے ساتھ جا کر بیٹھ جاتی۔ آخر خاتون کے صبر کا پیمانہ لبریز ہو گیا اور اس نے اٹھ کر دروازہ کھول دیا۔ اندر ایک نوجوان بیٹھا زار و قطار بچوں کی طرح رو رہا تھا۔ اور ڈاکٹر اسے دلاسہ دے رہا تھا۔۔۔ “ارے ابھی تو لمبی عمر پڑی ہے آپ کے سامنے ۔کہاں دل پر لگا کربیٹھ گئے آپ۔ اس کو بھول جانے میں ہی آپ کی بھلائی ہے۔ اپنی زندگی پھر سے شروع کیجیے اور مثبت انداز میں سوچئے۔” واہ رے محبت کبھی کبھی تو نفس پر اتنا چھا جاتی ہے کہ اچھے اچھوں کو نفسیاتی بنا کر بھی نہیں چھوڑتی۔

شام 5:00 بجے”میری حیثیت تمہارے لیے کیا ہے؟” زرد پتوں والے اس باغ میں بیٹھی اس کومل سی لڑکی کے منہ سے یہ الفاظ نکلتے کوئی بھی اور سن لیتا تو اسی وقت اس کی ایک خاص حیثیت متعین کر کے اسے وہ جواب دیتا جو اندر تک اسے مطمئن اور سرشار کر جاتا لیکن جس پتھر دل کے سامنے وہ اپنا سر ٹکرا رہی تھی وہ انتہائی سنگدلی سے بولا؛ ” ہم اچھے دوست ہیں اور ہمیشہ رہیں گے۔ “۔” بس صرف اچھے دوست ؟ آخر اس خون آشام چڑیل میں ایسا کیا ہے جو مجھ میں نہیں؟ ” اس کے نفرت، بے اعتنائی کے احساس اور غصے سے لال ہوتے چہرے کو اطمینان سے دیکھتے ہوئے وہ پھر آرام سے بولا ” تم وہ نہیں ہو۔۔۔ کوئی بھی لڑکی وہ نہیں ہے۔۔۔ تم حور ہو سکتی ہو۔۔۔ ملکہ ۔۔۔ پری۔۔۔ اس دنیا کی سب سے اچھی لڑکی ہو سکتی ہو مگر تم وہ نہیں بن سکتیں اور مجھے بس وہ چاہیے۔” کومل سی لڑکی کے بہتے ہوئے آنسو ان زرد پتوں پر گرے تو منظر کچھ اور بھی اداس ہو گیا لیکن پتھر کا وہ دیوتا چپ چاپ اس کی سسکیاں سنتا رہا۔

دوپہر 3:00 بجے”میں آ گئی۔۔۔ ” اسکی کھنکتی ہوئی آواز کانوں میں پڑی تو دوڑ کر اس نے بستر سے چھلانگ لگائی اور راہداری میں ہی اسے جا لیا۔ ” ارے تمہاری جانِ من آئی ہے اور تم دروازے تک نہیں آ سکتے۔۔۔” اتنی بےباکی سے کہے گئے الفاظ اسے مردانگی کا فائدہ ہونے کے باوجود اندر تک سرخ کر گئے۔ وہ اتنی ہی بےباک تھی۔۔۔ اس کے نڈر الفاظ اس کی کیفیت یوں کر دیتے جیسے کسی دوشیزہ کی پہلی محبت کی چوری پکڑی گئی ہو۔ “اوہ مائی ڈارلنگ اندر آنے کو نہیں کہو گے۔؟ اتنا عرصہ تمہاری منگیتر ہونے کا شرف حاصل کیا ہے اور تم حال پوچھنے کے روادار نہیں دِکھ رہے۔” یہ کہہ کر وہ خود ہی راستہ کاٹ کر اس کے کمرے کی جانب چل دی۔۔۔۔ وہ اسکے پیچھے بھاگا۔ اندر صوفے پر بیٹھتے ہوئے وہ بولی۔۔۔ “امید ہے میری صبح والی حرکت کا برا نہیں منایا تم نے؟ ” ۔ “کون سی حرکت؟ اچھا وہ والی۔۔ ارے نہیں، نہیں اچھا ہے جو میں خود کبھی نہیں کہہ پاتا وہ تم خود بخود میرے اندر سے ڈھونڈ کر نکال لاتی ہو۔۔۔ ” یہ سن کر اس کے چہرے پر اطمینان کی لہر دوڑ گئی اور وہ شوخی سے بولی۔۔۔ “تم بھی نہ پاگل ہی ہو۔۔۔ مجھے تو ڈرا ہی دیا تھا تم نے۔۔۔ میں تو سچ میں ڈر گئی تھی لیکن پھر خیال آیا کہ میرا ڈارلنگ اب بچہ نہیں ہے۔ ایک گبھرو جوان ہے۔ اس کی نادانی کو معاف کر دینے میں ہی ان کئی لڑکیوں کی بھلائی ہے جو میرے جانِ من میں اپنا من پھنسائے بیٹھی ہیں۔ ۔ ” ۔ “کیا؟ نادانی؟ نہیں نہیں وہ سب نادانی نہیں میری زندگی کا ہوش و حواس میں گزارا گیا ایک ایک پل تھا جو میں نے تمہارے نام جیا۔۔۔ ” ۔ ” واٹ؟ تم پاگل تو نہیں ہو گئے۔۔۔ میں نے تمہیں بچہ سمجھ کر معاف کر دیا تھا اور تم یہ بکواس کیا سمجھ کر دل سے لگائے بیٹھے ہو؟ ” وہ پاؤں پٹخ کر باہر چل دی اور اس کے گالوں سے آنسو کا قطرہ گر کر اسکی شرٹ میں جذب ہو گیا۔۔۔ کرچی کرچی سا بکھر گیا کچھ۔ ۔ جھانک کر دیکھا تو دل سا محسوس ہوا۔

دوپہر 12:00 بجے”اسلام علیکم آنٹی۔۔۔ ” ۔ “وعلیکم اسلام بیٹا ۔۔۔ آؤ بیٹھو ۔۔۔ تمہارے انکل گھر پر نہیں ہیں۔۔ تم بیٹھو میں پاس سے ہی کچھ سامان لے کر آئی۔۔۔ ” آنٹی کے چلے جانے کے بعد بوریت دور کرنے کے لیے اس نے میگزین اٹھا کر پڑھنا شروع کر دیا۔ پھر رکھ دیا۔۔۔ میگزینز کی الماری الٹتے پلٹتے ایک ڈائری اس کے ہاتھ لگ گئی۔۔۔ اس نے بلا سوچے سمجھے اسے کھول کر پڑھنا شروع کر دیا۔ صفحہ 1: اوہ میری زندگی کس موڑ پر لے آئی تم۔۔۔ محبت کا جذبہ مجھے کہاں لا کھڑا کرے گا کبھی سوچا بھی نہ تھا۔۔۔ محبت محبت محبت۔۔۔۔ اوہ میری پیاری محبت۔۔۔ تم میں اور زندگی کتنا پرفیکٹ کومبینیشن ہیں نا؟ صفحہ 2: تمہیں یاد بھی نہیں ہو گا کہ تم پہلی دفعہ مجھے کہاں ملی؟ تمہیں ابصار انکل کی شادی تو یاد ہو گی۔۔۔ میں نے تم سے راستہ مانگا تھا اور تم باتوں میں اتنی مشغول راستہ روکے کھڑی تھیں کہ مجھے دیکھے بغیر “سوری” کہہ کر راستہ دے دیا۔۔۔ تمہارے جھمکے کا ستارہ میری نگاہوں میں اٹک کر رہ گیا۔

اس نے تجسس اور اشتیاق سے ڈائری کے صفحے پلٹنا شروع کر دیے۔۔۔ صحفہ 13: تمہیں یاد ہے جب سارا خاندان رات کو کھانے پر بیٹھا ہنسی مذاق کر رہا تھا تو میں جھٹ سے آ کر تمہاری ساتھ والی کرسی پر بیٹھ گیا کہ کوئی اور تمہارے ساتھ نہ بیٹھ جائے اور تم بےخبر ہنستی چلی جا رہی رہی تھیں۔۔۔ میں ایک ٹک تمہیں دیکھ رہا تھا اور مجھ سے مذاق میں کسی نے پوچھا کہ میں بڑا ہو کر کس سے شادی کروں گا تو میں نے تمہاری طرف اشارہ کر دیا اور تم نے ہنس کر کہا تھا “ٹھیک ہے۔۔۔ ” چونک کر اس نے مزید صحفات پلٹے۔۔۔ صحفہ 21:خالہ کے گھر دعوت پر جب میں نے اپنی امی سے کہا میں تمہیں انگوٹھی پہنانا چاہتا ہوں تو انہوں نے جھٹ سے اپنی انگوٹھی اتار کر مجھے دے دی اور پھر سب کی موجودگی میں ، میں نے وہ انگوٹھی تمہیں پہنا دی۔۔۔ سب کتنا خوش ہو رہے تھے۔ تم بھی کتنا ہنس رہی تھی۔۔۔ اس دن میرے دل کو یقین ہو گیا کہ تم صرف میری ہو۔۔۔ صحفہ 14: اوہ میں اتنا خوش کبھی نہیں ہوا تھا جتنا اس احساس سے کہ سب تمہیں میرے نام سے بلاتے ہیں اور جب مجھے کوئی تمہارے نام سے بلاتا تھا تو میں اِترا جاتا تھا جیسے کوئی خزانہ صرف میرے ہاتھ لگ گیا ہو۔ ۔ صحفہ در صحفہ پلٹتے ہوئے زندگی کے کئی باب پڑھتی گئ۔ ۔ وہ باب جو اس اور باقی خاندان کے لوگوں کے لیے صرف ایک بچے کی معصوم سی خواہش اور اسکا دل رکھنے کے لیے کئے گئے ایک مذاق سے زیادہ کچھ نہ تھے لیکن ایک ایک صحفہ کچھ اور کہانی بتا رہا تھا۔۔۔ اتنی شدت اور اتنی محبت۔ بچپن میں ایک بچے کے ساتھ کیا گیا مذاق اس قدر سنجیدہ ہو گیا تھا اس بچے کی نظر میں۔۔۔ اسے کبھی احساس ہی نہ ہوا۔۔۔ اس کی بے باکی کو وہ کس نظر سے دیکھتا تھا؟۔۔۔ کافی دیر وہ سن کھڑی اس ڈائری کو دیکھتی رہی۔ اچانک کھنکارنے کی آواز سن کر ڈائری اسکے ہاتھ سے نیچے گر گئی۔۔۔

اس نے مڑ کر دیکھا۔۔۔ وہ اسے ہی دیکھ رہا تھا۔۔۔ گڑبڑا کر بس وہ اتنا ہی بولی ” م م میں تھوڑی دیر میں آتی ہوں”۔ اور باہر بھاگ گئی۔۔۔ وہ حیرت سے کچھ نہ سمجھ سکا کہ آخر اسے اچانک کیا ہوا؟ اس کی نظر زمین پر گری ڈائری پر پڑی تو چونک کر وہ اس کی جانب جھکا۔

شام 4:00 بیٹا علی کہاں تھے تم؟ تمہاری دلاری نینی باجی آئی تھیں۔۔۔ مٹھائی دینے۔۔۔ ان کی بات پکی ہو گئی ہے۔ بہت اچھا سسرال ملا ہے۔۔۔ جلد ہی تاریخ طے کر دی جائے گی۔۔۔ اور آسمان ٹوٹ کر اس پر گرنے لگا۔۔۔۔

رات11:30 تم م م م۔۔۔۔” ۔ “ہاں میں۔ ۔ کیوں یقین نہیں آ رہا؟ میں تمہیں سب سے چھین لینے آیا ہوں۔۔۔ تم میری نہیں تو کسی کی بھی نہیں۔۔۔ “۔ “کیا بکواس ہے یہ سب ؟”۔ “بکواس؟ میری زندگی تمہیں بکواس لگتی ہے؟ میری سچائی تمہیں بکواس لگتی ہے؟ میری محبت تمہیں بکواس لگتی ہے؟ اور تمہیں یہ حق کس نے دیا کہ تم میرے جذبات کو ہمیشہ مثبت جواب دے کر بکواس کہو؟” ۔ “کیا کہا ؟ مثبت جواب؟ فار گاڈ سیک۔۔۔ تم ایک بچے تھے جس نے کہا مجھ سے شادی کرو گے اور میں نے تمہارا دل رکھنے کے لیے ہاں کہہ دیا۔ تم خوش ہو گئے۔ بس۔۔۔ آگے ہر بات مذاق تھی ۔ تم ہمیشہ میرے لیے ایک بچے تھے۔۔۔ اور رہو گے۔۔۔” ۔ “اچھا۔۔۔ یعنی میں صرف ایک بچہ تھا۔۔۔ ہاں لیکن میرا دل بھی بچہ تھا۔۔۔ جس نے تمہارا مذاق سمجھے بغیر تمہیں اسی دن اپنا قبول کر لیا اور پھر کبھی کسی اور کی طرف نہیں دیکھا۔۔۔ ” ۔ ” لیکن فاری اور تم کیا ایک ساتھ نہیں؟ میں تم دونوں کے لیے خوش ہوں۔۔۔ اور مجھے نہیں معلوم تھا کہ تم اس مذاق سے کبھی باہر نہیں نکلے” ۔ ” فاری اور میں صرف اچھے دوست ہیں۔۔۔ بس۔۔۔ اس سے زیادہ کچھ نہیں کیونکہ میرا دل صرف ایک ہی نام سے جڑ چکا تھا۔۔۔ ” ۔ ” پلیز۔۔۔ چپ کر جاؤ اور آرام سے یہاں سے چلے جاؤ۔۔۔ اور یہ سب بکواس بھول جاؤ تو ہی بہتر ہو گا۔ میں وعدہ کرتی ہوں کسی کو کچھ نہیں بتاؤں گی۔۔۔ ” ۔ “ہاں بتانے لائق رہو گی تب بتاؤ گی نا۔۔۔ میری نہیں تو کسی کی بھی نہیں” یہ کر اس نے ہاتھ اوپر کیا۔۔۔ اس کے ہاتھ میں چاقو تھا۔

رات 12:00 سب خاندان والے جمع تھے۔۔۔ پولیس آ چکی تھی۔۔۔ علی ہسٹریائی انداز میں چیخ رہا تھا۔۔ نینی زمین پر بے سدھ پڑی تھی۔۔۔ فاری دور کھڑی آنسو بہا رہی تھی۔۔۔۔ اور آج ایک اور خوفناک دن اختتام پذیر ہو چلا تھا

Published inعالمی افسانہ فورمفاطمہ عمران