Skip to content

درندہ

عالمی افسانہ میلہ 2018
افسانہ 148
“درندہ”
افسانہ نگار۔۔ عبدالرحمن اختر
مالیگاؤں مہاراشٹر انڈیا
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
سورج اپنی دن بھر کی تھکی ماندی کرنوں کو سمیٹ کر غروب ہو رہا تھا.پرندے اپنے آشیانوں کو لوٹ رہے تھے. نیلے آسمان پر شام کا سرمئی رنگ پھیلتا جا رہا تھا.گھروں میں موجود برقی قمقمے روشن ہونے لگے تھے. مگر رام داس کا مکان ویران پڑا تھا.
رام داس… عجیب آدمی تھا، سماج کا ستایا ہوا آدمی، اس کے چڑچڑے پن کی وجہ سے اس کے پڑوسی اس سے کٹے کٹے سے رہتے تھے اور اس کی کند ذہنی نے تو اسے کہیں کا نہ رکھا تھا.اسے کوئی اپنے یہاں کام پر نہیں رکھتا تھا اور یہی اسباب تھے کہ اس کی بیوی اکثر اس سے لڑا کرتی تھی، اسی حجت بک بک سے زندگی کی گاڑی چلتی رہی. جوں توں کچھ سال گزر گئے مگر آخر کار اسکی بیوی روز روز کی تک تک سے تنگ آکر اپنے اوپر کروسین ڈال کر خود خوشی کرلی تھی تب تو تقریباً تمام لوگوں نے ہی اس کا بائیکاٹ کردیا تھا. صرف ایک ڈیسوزا ہی تھا جو اس سے کبھی کبھی بات چیت کر لیا کرتا تھا.
ڈیسوزا، رام داس کا پڑوسی ایک ہنس مکھ ملنسار شخصیت کا مالک تھا.
اس شام رام داس اپنے دروازے سے دایاں کاندھا لگائے آنکھوں میں وحشت لئے کھڑا ہوا ڈیسوزا کے گھر کی طرف ٹک ٹکی باندھے دیکھ رہا تھا. اس کے ڈاڑھی کے بال بڑھے ہوئے تھے لباس بے ترتیب گرد آلود اور سَر کے بال بکھرے ہوئے تھے.
ڈیسوزا کے گھر کے لان میں اس کا پیارا کتّا ٹامی ایک بڑی سی گیند سے کھیل رہا تھا اور ڈیسوزا اسے بڑے انہماک سے مسکراتے ہوئے دیکھ رہا تھا. اچانک ہی رام داس نےاپنے دروازے پر کھڑے کھڑے ٹامی کو آواز دی.
”کم ہیئر…..ہے ….. ٹامی…. کم ہیئر.“
اسکی آواز سن کر ڈیسوزا نے کھڑکی سے باہر دیکھا کہ ٹامی گیند کو چھوڑ کر رام داس کی طرف جا رہا ہے. اسے اس وقت بڑی حیرت ہو رہی تھی وہ سوچ رہا تھا.؛ رام داس تو ٹامی سے بہت نفرت کرتا ہے تو پھر اس نے ٹامی کو کیوں بلایا.؟ رامداس کی اس حرکت سے ڈیسوزا کو ایک ماہ قبل کا واقعہ یاد آگیا.
وہ شام کا خوشگوار ماحول تھا. فرحت بخش ہَوائیں چل رہی تھیں. ڈیسوزا اپنے گھر کے صحن میں بیٹھا ہوا اخبار پڑھ رہا تھا پاس ہی رام داس کی تین سالہ بیٹی شالنی اور ٹامی کھیل رہے تھے. ٹامی شالنی کے فراک کو منہ میں دابے اسے کھینچ رہا تھا اور شالنی کھلکھلا کر ہنس رہی تھی تب اچانک ہی رام داس چیختا ہوا آیا اور پاس پڑی ہوئی لکڑی اٹھا کر ٹامی کے پیٹ میں زور سے مار دی ٹامی دبی دبی سی آواز میں کیاؤں کیاؤں چیختا ہوا ایک طرف بھاگ گیا. رام داس نے اپنی بیٹی کو گود میں اٹھایا اور ڈیسوزا کے پاس پہنچ کر غرّاتے ہوئے بولا.
”ڈیسوزا تم اپنے وحشی جانور کو باندھ رکھا کرو.ورنہ کسی دن میں سے گولی مار دونگا.“
ڈیسوزا اس کی طرف حیرت سے دیکھتا رہا پھر اس کے خاموش ہوتے ہی نرمی سے کہا.
”سنو رام داس….! شالنی میری بیٹی کی طرح ہے…….. وہ دن بھر اکیلے ہی رہتی ہے. ٹامی کے ساتھ تھوڑا وقت رہ کر اس کا دل بہل جاتا ہے. اور تم تو جانتے ہی ہو کہ تمہارے مزاج کی وجہ سے کوئی بھی اس کے ساتھ نہیں کھیلتا.“اسکی بات سنتے ہی رام داس نے منہ بگاڑتے ہوئے کہا.
”تمہیں میری ذات پر حملہ کرنے کا کوئی حق نہیں…. تم پڑوسی ہو پڑوسی کی طرح رہو. میں جیسا بھی ہوں ٹھیک ہوں. بہر حال تم اپنے ٹامی کو قابو میں رکھو اس سے میری شالنی کو نقصان نہیں پہنچنا چاہئے ورنہ… میں بےقابو ہو جاؤنگا سمجھے…….؟“
اس واقعہ کے بعد شالنی ایکبار بھی ٹامی کے ساتھ کھیلنے کے لیئے نہیں آئی تھی. جسکی وجہ سے ڈیسوزا اکثر سوچا کرتا تھا‘ شالنی بن ماں کی بچی ہے پتہ نہیں کس حال میں ہو کہیں رام داس نے اس پر ظلم نہ کیا ہو…. یا ہوسکتا ہے….. وہ بیمار پڑگئی ہو…..،
کتے کے بھونکنے پر اسکے خیالات بکھر گئے اور وہ چونک کر رام داس کے گھر کی طرف دیکھنے لگا.
وہاں پر ٹامی منہ اٹھائے گھر میں دیکھ رہا تھا‘ شاید وہ شالنی کو دیکھ رہا ہے.’ اچانک وہ پھر بھونکنے لگا رام داس کی آنکھیں چمک اٹھیں اور وہ بڑے پیار سے ٹامی کی گردن کو سہلاتا ہوا اندر لے کر چلا گیا.
ڈیسوزا مسکرا کر انہیں دیکھتے ہوئے سوچ رہا تھا. ”آخر کار ٹامی کے تئیں رام داس کا دل نرم ہوہی گیا اسی لیئے تو وہ اسے اندر لے کر گیا ہے تاکہ وہ شالنی کے ساتھ کھیل سکے.“ ڈیسوزا کا دل بھی شالنی کو دیکھنے کے لیئے مچل اُٹھا اور وہ اپنے گھر سے نکل کر رام داس کے دروازہ پر پہنچ گیا.
پائیری پر قدم رکھتے ہی اسکے نتھنوں سے ناگوار بُو ٹکرائی وہ تھوڑا سا ہچکچایا پھر ناک پر ہاتھ رکھتے ہوئے آگے بڑھ گیا.
ڈرائنگ روم کا تمام سامان بکھرا ہوا ہے. فرش بھی گرد آلود ہے جا بجا مکڑی کے جالے لگے ہوئے ہیں.
”بیوی کے گزرنے کے بعد تو رام داس اور بھی لاپرواہ ہو گیا ہے. پتہ نہیں شالنی کا مستقبل سنوار پائے گا یا نہیں…؟“
ڈیسوزا رامداس کو کوستا ہوا بیڈروم کی طرف بڑھ گیا. بیڈروم میں قدم رکھتے ہی اس کا پورا وجود لرز گیا. اس نے دیکھا روم میں ملگجا اجالا پھیلا ہوا ہے پورے کمرے میں ابتری پھیلی ہوئی ہے بدبو کے بھپکے سے دم گھٹتا ہوامحسوس ہو رہا ہے مگر….!! رام داس کمرے کے وسط میں بیٹھا ہوا ہے اور ٹامی کی ایک ٹانگ کو اپنے تیز دانتوں سے نوچ رہا ہے ٹامی پاس ہی پڑا ہوا ہے اسکا سر پھٹا ہے اور منہ کپڑے سے بندھا ہوا ہے. رامداس کے چہرے پر درندگی چھائی ہوئی ہے.اس کے دانت خون آلود ہیں اور ہونٹ کے کناروں سے تازہ تازہ خون بہہ رہا ہے.اس کے عقب میں ایک چھوٹاانسانی پِنجر پڑا ہوا ہے.
یہ سارے مناظر دیکھ کر اس کی آنکھوں کے سامنے اندھیرا سا چھانے لگا اسے پورا کمرہ اپنے گرد گھومتا محسوس ہوا. وہ اپنے سر کو دونوں ہاتوں سے پکڑ کر تھوڑی دیر ڈگمگایا اور پھر زمین پر آرہا……
ڈیسوزا کو فرش پر بےسدھ پڑا ہوا دیکھ کر رام داس نے درندگی سے بھرپور قہقہ لگایا اور ٹامی کی ٹانگ کو چھوڑ کر دھیرے دھیرے اس کی طرف بڑھنے لگاـ

Published inافسانچہعالمی افسانہ فورمعبدالرحمن اختر