Skip to content

درندگی

عالمی افسانہ میلہ 2015
افسانہ نمبر 119
درندگی
ثرّیا بابر ،میر پور خاص پاکستان

وہ میرے ساتھ پڑھتا تھا،جماعت پنجم میں۔کیا تم نے اس کی آنکھیں دیکھی تھیں۔بھوری بھوری چمکدار آنکھیں،ایک طرف سے دیکھو تو مانو جیسے اس کی پتلیوں پر بلور چڑھا ہو اورلشکارے مار رہا ہو،رنگت سرخ و سفید،گلاب کی کلیوں سے ہونٹ اور ان کے بیچ میں کھلتے ہوئے موتیوں سے دانت۔اپنے سیاہ ریشمی بالوں کو جب وہ جھنجھلاتے ہوئے پیچھے ہٹاتا تو ایسا لگتا جیسے کالے بادلوں کے بیچ میں سے چا ند نکل آیا ہو یا اندھیری رات کی چادر سے اچانک سورج نے جھانک لیا ہو۔اس کا اخلاق بھی اچھا تھا اور وہ ایک عدد سائیکل کا مالک بھی تھا۔اپنے چھریرے بدن کے ساتھ وہ سائیکل بھگاتا تو مجھے اپنے اس دوست پر ٹوٹ کر پیار آتا۔میرے گھر سے وہ اگلی گلی میں رہتا تھا اور ایک اچھے سکول میں پڑھتا تھا۔میں ٹہرا پیدل چلنے کا چور۔ میرے پاس سائیکل بھی نہیں تھی۔ میں وقت کا اندازہ لگاتا اور اس کے گھر سے نکلنے سے دو منٹ پہلے اس کے گھر کے سامنے پہنچ جاتا۔وہ اپنے گھر سے وقت پر نکلتا اور میں اس کی سائیکل پر لد جاتا۔میرا اسکول اس کے اسکول کے راستے میں ہی تھا یوں اسکول جانے میں میرے دو تین منٹ بچ جاتے تھے۔واپسی میں بھی میری کوشش ہوتی تھی کہ اس کی سائیکل ہی میرا بھاری بھرکم بوجھ اٹھائے مگر یہ کوشش کبھی کام یاب ہوتی تھی اور کبھی ناکام۔البتہ ایک گھنٹے بعد ہم دونوں مدرسے میں اکٹھے ہو جاتے تھے۔اس دن بھی ہم مدرسے سے اکٹھے ہی نکلے تھے۔اپنے اپنے گھر والوں کو بتا کر ہم سامنے میدان میں کھیلنے چلے گئے۔اندھیرا ہونے لگا تو میں اپنے گھر آگیا۔اس کے والد صاحب اسے وہیں کھیل کے میدان سے لینے آگئے تھے۔وہ دونوں مغرب کی نماز پڑھنے چلے گئے۔ میں گھر گیا تو فرزانہ آپی کے رشتے کے لیے کچھ لوگ آئے ہوئے تھے۔امّی نے مجھ سے کچھ کھانے پینے کی چیزیں منگوائیں۔میں وہ چیزیں لے کر گھر جا رہا تھا کہ ”وہ“مل گیا۔کہنے لگا ”آؤ عاقب گیم کی دکان پر چلتے ہیں“میں۔نہیں بھئی۔۔!! مہمان آئے ہوئے ہیں فرزانہ آپی کے رشتے والے۔۔ مجھے تو منٹ منٹ پہ دوڑلگانی پڑ رہی ہے۔وہ۔اچھا۔۔!! میں گیم کھیلنے جا رہا ہوں۔“(یہ کہتے ہوئے اس کی آنکھیں ہیروں کی طرح جگمگا رہی تھیں)تمہیں پتہ ہے ’سٹریٹ فائٹر‘ میں تو میں ماسٹر ہو گیا ہوں کوئی مجھے ہرا نہیں سکتا۔میں۔ اچھا یار۔۔!! ابھی تو جانے دے دیر ہو رہی ہے امّی ماریں گی۔وہ۔اچھا ٹھیک ہے پھر ملتے ہیں۔۔۔۔اور وہ چلا گیا اور میں گھر آگیا۔خاندانی مسائل پر بحث جاری تھی۔میرے والد صاحب کا تو انتقال ہو چکا تھا مگر تینوں بڑے بھائی گھر کے معاملات بہت اچھے طریقے سے چلا رہے تھے بہر حال فرزانہ آپی کے رشتے کے لیے ہاں ہو گئی اور مجھے گھر سے نکلنے کا موقع نہیں ملا۔میں سونے کی تیاری کرر ہا تھا کہ اچانک اس کے ابّو آگئے۔انہوں نے آتے ہی پوچھا ”عاقب بیٹا۔۔!! ساجد کو کہیں دیکھا ہے؟؟؟میں۔نہیں تو۔۔!! ابھی تو نہیں۔۔ اگر مغرب کے وقت مجھے ملا تھا کہہ رہا تھا گیم کھیلنے چلو میں تو سامان لا رہا تھا نہیں جا سکا۔ساجد کے ابّو۔بیٹا رات کے ساڑھے دس ہونے والے ہیں وہ ابھی تک گھر نہیں آیا، اسلم کے گھر تو نہیں گیا؟ اس کے پاس کمپیوٹر ہے۔میں۔ شاید چلا گیا ہو۔۔۔۔ساجد کے ابّو۔ تو بیٹا تم ذرا دیکھ کر آجاؤ شاید اسلم کے گھر ہی ہو۔۔اسلم کا گھر تھوڑا دور تھا اور ساجد کے ابّو کو جوڑوں کا درد بھی تھا۔اور آج کل جیسی سردی پڑ رہی تھی ان کی تکلیف بہت بڑھ گئی تھی۔میں ساجد کی ہی سائیکل لے کراسلم کے گھر چلا گیا۔وہ مجھے اتنی رات کو دیکھ کر حیران ہو گئے۔میں نے اسلم کے بڑے بھائی سے پوچھا۔”راشد بھائی۔۔!!آج ساجد اسلم کے پاس آیا تھا کیا؟؟راشد بھائی۔ہاں آ تو جاتا ہے،مگر آج تو نہیں آیا۔میرا دل اچانک پریشان ہو گیا۔مجھے لگا جیسے کوئی میرا دل مسل رہا ہے،جیسے ساجد مجھے کہیں قریب ہی سے پکار رہا ہے۔عاقب۔!!۔۔عاقب۔۔!! مجھے بچا لو۔ میں مر جاؤں گا۔ عاقب مجھے بچا لو۔۔تم تو میرے دوست ہو۔۔نہ۔۔۔مجھے بچالو۔۔ میری سائیکل کا احسان ہے تم پر۔۔ مجھے بچا لو۔۔ مجھے بچا لو۔میں بے تحاشا اسے ڈھونڈنے لگا۔ہر دوست کا دروازہ بجایا۔ٹھٹھراتی سرد ہواؤں کے درمیان بغیر کسی اونی کپڑے کے،میں آنسوؤں سے دھندلائی آنکھوں کے ساتھ اپنے دوست کو ڈھونڈ رہا تھا۔ساجد تو نہ ملا مگر مین روڈ پر مجھے بھائی جان مل گئے جو مجھے ڈھونڈ رہے تھے۔وہ زبر دستی مجھے پکڑ کر گھر لے آئے۔ساجد کے ابّو جا چکے تھے وہ نہ جانے کہاں اپنے بیٹے کو ڈھونڈ رہے تھے۔نیند تو سولی پر بھی آجاتی ہے اور میں تو گیارہ سال کا ایک بچّہ تھا۔جب امّی نے مجھے زبردستی پکڑ کر بستر پر لٹایا تو مجھے نیند آہی گئی۔صبح اذان کے وقت ہی میری آنکھ کھل گئی۔میں فورا اٹھ بیٹھا۔امّی کو بتا کر گھر سے نکلااور اپنے دوست کو ڈھونڈنے نکل کھڑا ہوا۔میرے ساتھ میرے اور بہت سارے دوست بھی آگئے تھے۔میں ناشتے کا بہت شوقین تھا مگر اس وقت آنسو میرے حلق میں پھنس رہے تھے اور مجھے صرف اپنے دوست کی تلاش تھی۔ساجد کو ڈھونڈتے ڈھونڈتے دس بج گئے۔اچانک شور ہوا کہ ساجد مل گیا،ساجد مل گیا۔۔ میرے آنسو خوشی کے مارے چمکنے لگے۔اب میں دوبارہ اس کے ساتھ سائیکل پر جا سکوں گا،اس سے باتیں کر سکوں گا اس کے ان احسانوں کا بدلہ دے سکوں گا جو اس کے گم ہونے کی خبر سن کر میرے دل میں پھانس کی طرح چبھ رہے تھے۔بچّوں نے بتایا تھا کہ ساجد شہر کے قریب ایک باغ سے ملا ہے ہم سارے دوست دوڑتے بھاگتے اس باغ میں پہنچے مگر یہ کیا۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟باغ میں تو اس کی لاش پڑی ہوئی تھی۔کسی درد دل رکھنے والے نے اس کی لاش کو سفید چادر سے ڈھک دیا تھا۔نہ جانے لوگ لاشوں پر سفید چادر ہی کیوں ڈالتے ہبں؟ سفید کپڑے پر ساجد کے زخمی جسم کا لہوگلاب کے پھولوں کی طرح کھلا ہوا تھا ”نہیں اس طرح نہیں ہو سکتا،میرا دوست نہیں مر سکتا،ابھی تو مجھے اس کے احسانوں کا بدلہ دینا ہے،نہیں وہ صرف زخمی ہو گا، وہ آنکھیں کھول کر مجھے ضرور دیکھے گا، اس کا علاج ہو جائے گا۔وہ ٹھیک ہو جائے گا،امّی کہتی ہیں ”بچوں کی حفاظت فرشتے کرتے ہیں“فرشتوں سے غلطی نہیں ہو سکتی،ساجد زندہ ہو گا۔مجھے خود پر قابو نہ رہا اور میں نے آگے بڑھ کر ساجد کے جسم سے سفید چادر کھینچ لی۔۔اف میرے خدا۔۔۔۔!! ساجد کے جسم پر ایک کپڑا بھی نہیں تھا۔اس کا جسم ہر کھلنے والی جگہ سے بری طرح پھٹا ہو تھا۔زیادتی کی ہر انتہا کے بعد اس کی گردن آدھی کاٹ دی گئی تھی۔جب اس کے والد نے اسے گود میں اٹھایا تو اس کی گردن ایسے لٹک رہی تھی جیسے ذبح کیا ہو ا مرغا۔۔۔میں چیختا ہوا بے ہوش ہو گیا تھا۔مجھے نہ جانے کون اٹھا کر میرے گھر لایا۔ہوش میں آتے ہی میں پھر اپنے دوست کے گھر بھاگا۔پتہ چلا کہ وہ گیم کی دکان پر گیم کھیلنے گیا تھا وہیں سے اسے کوئی پھسلا کر لے گیا۔تمام گیم کی دکانیں اس وقت بند ہو چکی تھیں۔میں بھی میّت کے پاس بیٹھنے والوں میں بیٹھ گیا اور اپنے دوست کا سفید چہرہ دیکھتا رہا۔ سوچتا رہا۔معلوم نہیں وہ کون سے پتھر دل لوگ تھے جنہیں اس کی دہشت زدہ بلوری آنکھوں پر ترس نہ آیا۔اس کے گلاب سے کھلتے ہونٹ جب تکلیف کی شدّت سے پھیلے ہوں گے،جب اس کے سرخ و سفید ہاتھوں نے ان درندوں کو روکنے کی کوشش کی ہو گی اس وقت بھی ان درندوں میں انسانیت کی کوئی حس نہ جاگی۔یہ لوگ کہاں سے آئے تھے؟؟ کیا یہ لوگ شیطان نے براہ راست پیدا کیے تھے؟؟ اگر ان کے اپنے بچّے نہیں تھے تو کیا ان کے خاندان میں کوئی ایسا چھوٹا سا گلاب نہیں تھا جس کی معصوم کلکاریاں ان کو اس وقت یاد آکر اس درندگی سے روک دیتیں؟؟میرے دوست نے تو انسانوں کی درندگی کا یہ روپ پہلی مرتبہ دیکھا ہو گا اس کے ذہن میں اپنے سے بڑوں کے احترام کے سارے بت ٹوٹ گئے ہوں گے مرنے سے پہلے ان ظالموں نے اسے کتنی بار مارا ہو گا۔۔۔۔بانو خالہ کے بین دلوں کو چیرے ڈال رہے تھے۔ہائے میرا بچّہ۔۔۔آنکھیں کھول میرے بچّے۔۔ابھی تونے دنیا میں دیکھا کیا تھا۔۔ ہائے یہ میرا کلیجہ کون نکال کر لے گیا۔۔ ارے منع کرتی تھی میں ان گیم کی دکانوں پر مت جایا کر۔۔ مگر تجھے کب سمجھ آتی تھی کہتا تھا۔۔امّاں گیم کھیلوں گا تو کمپیوٹر جلدی سیکھ لوں گا۔۔ارے یہ میرا کلیجہ کون نکال کر لے گیا۔۔خداکی مار پڑے ان ظالموں پر۔۔میرا سہارا چھین لیا۔۔ میرا بازو توڑ دیا۔۔باپ خاموشی سے ایک طرف کھڑا ہے اور میں سوچ رہا ہوں اتنا بڑا سانحہ ہو گیا مگرآسمان ٹوٹ کر نہیں گرا اور زمین اپنی جگہ قائم ہے۔پھر وہ چلا گیا۔بڑی شان سے کاندھوں پر سوار ہو کر۔۔۔ ہم سارے دوست اس اے جنازے میں شریک ہوئے۔آنکھیں برستی رہیں۔ دل بلکتے رہے۔دنیا والے غم بھی تو نہیں منانے دیتے۔امّی مسلسل مجھے کھانا کھلانے کی فکر میں تھیں اور مجھ سے منہ پر کچھ نہیں رکھا جا رہا تھا۔مگر جب وہ بے تحاشا رونے لگیں تو ان کے بولنے سے مجھے پتہ چلا کہ میں نے دودن سے پانی کا گھونٹ تک حلق سے نہیں اتارا تھا۔امّی کے آنسوؤں کی خاطر میں نے ان کے ہاتھوں سے نوالہ لے لیا۔پہلا لقمہ لیتے ہی مجھے یوں لگا جیسے میں اس ظالم دنیا میں واپس آگیا ہوں اور میرا دوست اب مجھ سے الگ ہو کر کسی دوسری دنیا میں ہے
آنسو میرے دل پر گرتے رہے۔مگر زندگی بہت ظالم ہے۔کسی کے دکھ درد کا کچھ خیال نہیں کرتی۔امّی بھی بہت ظالم ہیں مجھے اپنے دوست کے لیے رونے بھی نہیں دیتیں۔خود رونے لگتی ہیں۔ان کے آنسو دیکھ کر مجھے چپ ہونا پڑتا ہے۔میری طبیعت کے کچھ سنبھلتے ہی امّی نے مجھے اسکول اور مدرسے دونوں بھیجنا شروع کر دیا۔میرااسکول تو قدرے بہتر تھا۔یہاں پٹائی کی کوئی وجہ تو ہوتی تھی مگر مدرسے کے مولوی صاحبان تو بچّوں کو جی بھر کر مارتے ہبں اور اب مجھے بچوّں کو میلی آنکھ سے دیکھنے والا ہر شخص زہر لگنے لگا تھامگر پھر اس اندھیرے میں اچانک ایک روشنی کی کرن پھوٹ آئی۔بڑے مولوی صاحب کے ساتھ کوئی صاحب آئے ہوئے تھے،سادہ اور پروقار۔۔ مولوی صاحب بچوّں کا سبق سن رہے تھے۔جب انہوں نے دو بچوّں کی سبق یاد نہ ہونے پر بری طرح پھینٹی لگائی تو مجھے اچانک ساجدکی تکلیف یاد آگئی۔میری آنکھوں میں آنسو آنے لگے مجھے ہر طرف ساجد ہی ساجد نظر آنے لگا میرے کانوں میں اس کی چیخیں گونجنے لگیں مجھے خود پر قابو نہ رہا میں بہت زور سے چلّایا ۔ساجد۔۔ساجد۔اور چیخیں مار مار کر رونے لگا۔سارے بچّے سنّاٹے میں رہ گئے۔مولوی صاحب فورا ڈنڈا لے کر آگئے۔آواز بند کر۔۔ اواز بند کر۔۔لگا دوں گا ابھی کس کس کے۔۔مگر اسی وقت وہ صاحب ایک فرشتے کی طرح آگے بڑھے اور مجھے اپنی پناہ میں لے لیا۔مجھے ایسا لگا جیسے میرے دل کی جلتی آگ پر کسی نے پانی کے چھینٹے مارے ہوں۔انہوں نے اپنے ہاتھ میرے کندھے پر رکھے اور پوچھا ”کیا بات ہے کیوں رو رہے ہو؟میں ہچکیاں لے کر رونے لگا۔”میرے دوست ساجد کو مار دیا اس کا کیا قصور تھا؟ کیا ہر خوبصورتی کچل دینے کے لیے ہوتی ہے؟ کیا ہر اچھی چیز حاصل کرنے کے لیے ہوتی ہے؟اب چپ کر۔۔۔ مولوی صاحب نے بڑے زور سے ڈانٹا ”زبیر صاحب یہ بہت فلسفہ بولتا ہے۔۔۔ نفسیاتی ہے نفسیاتی۔۔ابھی کمر سے تھوڑا نیچے دو ڈنڈے پڑیں گے تو طبیعت سیٹ ہو جائے گی“ مولوی صاحب ابھی اور بھی کچھ بولتے کہ زبیر صاحب نے مولوی صاحب کو ہاتھ کے اشارے سے منع کر دیا۔مجھے ہاتھ پکڑ کر باہر لے آئے۔ایک بچے کو بلایا اور کہا ”مولوی صاحب سے کہو ہم ذرا چھت پر جا رہے ہیں زبیر صاحب مجھے چھت پر لے آئے۔ایک کونے میں چھوٹا سا شیڈ بنا ہوا تھا۔وہ شیڈ کی طرف بڑھنے لگے مجھے خوف محسوس ہونے لگا کہیں میرے ساتھ بھی تو ساجد والا سلوک نہیں ہوگا؟ مگر یہ خوف ایک دم کم ہو ا جب وہ وہیں پڑی ایک چادر جھاڑ کر،بچھا کر زمین پر بیٹھ گئے اور مجھے بھی وہیں بٹھا لیا۔للہ وہ تھوڑی دیر مجھے غور سے دیکھتے رہے پھر بولے”وہ ساجد تمہارا دوست تھا جسے پچھلے دنوں قتل کیا گیا ہے؟؟“میری آنکھوں سے آنسو بہنے لگے۔پہلی بارکسی نے میری دکھتی رگ پر ہاتھ رکھا تھا۔پہلی بار کوئی میرے احساس کی گہرائی کو سمجھ رہا تھا۔زبیر صاحب آہستہ آہستہ میرے سر کو تھپتھپاتے رہے۔
میں تھوڑا پر سکون ہوا تو میں نے زبیر صاحب کے سامنے اپنا دل کھول کر رکھ دیا۔”زبیر صاحب۔۔!! ساجد کے ساتھ ایسا کیوں ہوا؟ اس کا کیا قصور تھا۔“ جو سوال میرے ذہن میں تھے میں نے سارے کر ڈالے۔زبیر صاحب خاموشی سے میری بات سنتے رہے پھر آہستہ سے بولے۔ ”بیٹا اللہ نے انسان کو بنایا ہے تو اس میں اچھی اور بری خواہشات دونوں رکھی ہیں۔“۔۔”تو کیا یہ سب کچھ اللہ نے کروایا ہے“ بے اختیار میری زبان پھسل گئی مگر میں فورا ہی خوف سے کانپنے لگا کہ ابھی وہ بھی مولوی صاحب کی طرح کفر بکنے پر مجھے الٹا لٹکا کر ماریں گے لیکن وہ تو کھلکھلا کر ہنس پڑے اور میری سانس جو خوف سے رک گئی تھی پھر چلنے لگی۔نہیں بیٹا۔۔!! وہ مسکرا کے بولے ”انسان کو اختیار ہے کہ وہ اچھائی کا راستہ اختیارکرے یا برائی کا۔ اگر وہ اچھائی پر چلے تو فرشتوں سے بڑھ کر ہے اور برائی پر چلنا شروع کر دے تووہ شیطان سے بھی بڑھ کر ہو سکتا ہے۔“”مجھے ساجد کے قتل کا بدلہ لینا ہے“ میرا خون کھولنے لگا تھا زبیر صاحب کی مسکراہٹ گہری ہو گئی۔”کیا تم ان لوگوں کو جانتے ہو؟ کیا تم اتنے طاقتور ہو کہ ان سے بدلہ لے سکو“ زبیر صاحب تو مجھے مشکل میں ڈال رہے تھے۔مجھے ایسا لگا وہ مجھے چڑا رہے ہیں۔”میں ان کو مار دوں گا“ میں شدید غصّے میں تھا۔مرا دل تیز تیز دھڑک رہا تھا۔میری مٹھیاں خود بخود کھل اور بند ہو رہی تھیں۔”یعنی تم بھی وہ ہی کرو گے جو انہوں نے کیا۔۔؟؟ زبیر صاحب کا انداز سوالیہ تھا۔پھر میں کیا کروں۔۔۔۔۔؟؟؟ میں نے اپنا سر پکڑ لیا۔۔بہت آسان ہے۔۔۔ وہ بہت آہستہ سے بات کر رہے تھے۔”انہوں نے برائیوں کو آگے بڑھایا تم اچھائیوں کو آگے بڑھاؤ“۔میرے ذہن میں جھماکا ہوا۔نہ جانے کیسے میں زبیر صا حب کی بات مکمل سمجھ گیا تھا۔میں نے مسکرا کر انہیں دیکھا۔انہوں نے اپنا ہاتھ آگے بڑھا دیا۔میں نے ان سے ہاتھ ملایا اور اجازت لے کر واپس اپنی جماعت میں آبیٹھا۔

Published inثریا بابرعالمی افسانہ فورم