Skip to content

درد

افسانہ برائے عالمی افسانہ میلہ 2015
افسانہ نمبر 111
”درد ”

صبایا دانیہ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ کراچی پاکستان

. وہ محبت سے بیٹے کا ہاتھ تھامے ہسپتال سے باہر نکل آئیں. ان لمحات کی خوشی نے ان کے نحیف تھکن ذدہ وجود میں توانائی سی بھر دی تھی زندگی خوشیوں کی سیج معلوم ہو رہی تھی جیسے یہ ان کے شعور کا پہلا قدم ہو. اور جو وقت وہ گزار آئیں تھیں وہ کسی بھیانک خواب کی مانند بھلا دینا چاہتی تھیں. بلکہ ذہن سے وہ تلخ یادیں کھرچ ڈالنا چاہتی تھیں جنہیں سوچ کر ہی وہ لرز جاتیں.
”اماں سخت پیاس محسوس ہو رہی ہے۔ ”ان کے بیٹے نے مخاطب کیا تو وہ چمکار کے بولیں،” ماں صدقے میرا بچہ میں ابھی جوس لے کر آتی ہوں.”تو وہ جلدی سے بولا ”اماں کیسی باتیں کرتیں ہیں آپ یہاں ٹھہریں سایہ میں دھوپ بہت ہے میں خود لے آتا ہوں، دیں پیسے….”
”پیسے……؟ ”سوالیہ نظروں سے بیٹے کی جانب دیکھتے ہوئے وہ بری طرح پریشان ہو گئی تھیں کیونکہ بیٹے کو ڈسچارج کرتے وقت ڈاکٹر نے جو احتیاط بتائی اور تنبیہ کی تھی وہ ان کو ازبر تھی.” بی بی زیادہ سے زیادہ بیٹے کی نگرانی کرو گھر میں اس کے آنے جانے کا حساب رکھو اور خاص کر کچھ عرصہ روپیہ پیسہ دینے سے گریز کرنا ورنہ….”
” اماں کیا ہوا کیا سوچنے لگیں؟ ”اس نے ماں کی فق ہوتی رنگت دیکھ کر سوال کیا تو ان کی نظریں اس پر مرکوز ہوگئیں اور غائب دماغی سے بیٹے کا سادہ سا نارمل نقوش والا چہرہ تکنے لگی اس محویت پر وہ پہلے حیران پھر کچھ پریشان سا دوبارہ اپنا سوال دہرانے لگا” اماں کچھ تو بتائیں ہوا کیا…”
وہ کیا بتاتیں اپنے انیس سالہ اکلوتے بیٹے کو جو بیوگی کی چادر اوڑھنے کے بعد ان کا واحد سہارا اور متاع جاں تھا ان کے لئے، پھر کچھ پراگندہ خیالات کے زیر اثر انھوں نے بیٹے کو سہم کر دیکھا تھا…
”چلو بیٹا گھر چلتے ہیں ۔” یہ کہہ کر وہ رکیں نہیں اور اس کے آگے ہولیں وہ بھی خاموشی سے ان کے پیچھے ہولیا اور اب گھر میں داخل ہوتے ہی اسے غیر معمولی تبدیلی کا احساس ہوگیا تھا اور یہ تبدیلی اس کے اوسان خطا کرنے کے لئے کافی تھی.
”اماں یہ… یہ سب کیا…”
مارے ہکلاہٹ کے الفاظ اس کا ساتھ نہیں دے پاۓ تھے.
”یہ سب چھوڑو پہلے یہ پیو۔ ”انھوں نے ٹھنڈا ٹھار روح افزاء کا گلاس اس کے ہاتھوں میں تھماتے ملائمت سے کہا ”اب میرا بیٹا آگیا ہے ناں تو سب کچھ پہلے کی طرح ہوجاۓ گا ۔”ساتھ ہی فرط محبت سے بیٹے کے ہاتھ اپنی آنکھوں کو لگا لیے. اور ان بھیگی پلکوں کی نمی اس کو بے چین کر گئی. نرمی سے ان کے ہاتھ اپنے ہاتھوں میں لئے دھیمے لب و لہجے میں ماں کو یقین دہانی کرا رہا تھا ”اماں میری پیاری اماں وہ سب بھول جائیں ہم نئے سرے سے زندگی شروع کریں گے آپ کے سب خواب سچ کر دکھاؤں گا پر شرط کہ آپ کی آنکھوں میں دوبارہ آنسو نہ دیکھوں. ”تو وہ اثبات میں سر ہلاتے مسکرا دیں تھیں
دن پر دن گزرتے گئے وقت کچھ اور آگے سرکا زندگی کافی حد تک معمول پر آگئی تھی.پہلے کی طرح اماں لوگوں کےکپڑے سلائی کرنے لگیں اور وہ بھی کوچنگ جانے لگا تھا ایک بار پھر انٹری ٹیسٹ کی تیاری کے لئے. چھوٹی موٹی جیسی بھی مزدوری ملتی وہ کر لیتا مستقل کام نہیں مل پا رہا تھا کوئی . اب بس اسے انتظار تھا اور تلاش تھی گذارے لائق نوکری کی
اسی تسلسل میں وہ آج بھی جب گھر سے نکلنے لگا تو ماں نے دعائیں پڑھ کر پھونکی اور ہمیشہ کی طرح نصیحت کی” بیٹا اپنا خاص خیال رکھنا ۔”اور اللہ حافظ کہہ کر بیرونی دروازے کے پاس بچھی چارپائی پر بیٹھ گئیں نا چاہتے ہوئے بھی گزرے سال یعنی ماضی کے اوراق ان کے سامنے پھڑ پھڑانے لگے تھے اور ان اذیت ناک گھڑیوں کا دورانیہ لگ بھگ ایک سال تک محیط تھا مگر غم و الم کرب و دکھ جو انہوں نے جھیلا وہ وقت انہیں صدیوں کیطرح لگ رہا تھا. غریب ماں کے کے ذہین و فطین بیٹے کا شاندار رذلٹ آیا تھا دونوں کی خوشی کا ٹھکانا نہیں تھا مگر ساتھ ہی پریشان کن مرحلہ یہ تھا کہ اعلی تعلیم کے حصول کے لئے رکاوٹیں ہی رکاوٹیں تھیں مالی حیثیت یہ کہ اماں سلائی کرتی تھیں آٹھویں جماعت تک جیسے تیسے ہوا کیا پھر نویں جماعت سے اس نے بچوں کو ٹیوشن دینی شروع کر دی تھی جس سے چار سال سہولت سے گزر گئے مگر اب…..
پھر مسئلے کا حل یہ نکلا کہ اسے بمشکل تمام کسی جاننے والے کے توسط سے ایک جگہ رات کی نوکری مل گئی اماں تذبذب کا شکار ہوئیں پر اور کوئی چارہ بھی تو نہیں تھا. دن کو انٹری ٹیسٹ کی تیاری کے لئے جاتا اور رات میں کام پر.
کچھ دنوں سے اماں اسے سست اور کھویا کھویا سا اور کبھی کبھار عجیب و غریب حرکتیں کرتا الجھا ہوا سا محسوس کر رہی تھیں پھر سر جھٹک جاتیں کہ شاید وہم ہے ان کا.
اور پھر ایک دن بے رحم وقت نے پوری قوت سے پنجے گاڑ دیے تھے اور ماں بیٹا اس ظالم وقت کے شکنجے میں تھے. ہاۓ وہ صبح کیسی تھی بیٹا رات کی ڈیوٹی کر کہ لڑکھڑاتا ہوا اول فول بکتا جھکتا گھر میں داخل ہوا تھا اور یہ حالت دیکھ کر ماں کا کلیجہ شق اور حوصلے پست ہوگئے تھے دنیا اندھیر ہوجانا اور بوقت ضرورت سرمایۂ حیات کا برباد ہوجانا، قرار لٹ جانا کسے کہتے ہیں یہ آج انہیں پتا چلا تھا انہیں سمجھ نہیں آرہا تھا اسے سنبھالیں یا خود کو کہ سینے کا درد جو کبھی کبھا عرصئہ دراز سے انہیں ستا رہا تھا اس میں اتنی شدت کیسے آگئی
کہ چاہ کر بھی وہ بیٹے تک پہچنے سے قاصر تھیں دل نوحہ کناں تھا کہ ان کی تربیت کیسے ہار گئی اتنا یقین تھا اپنے خون پر کے اپنے آپ کو جھٹلا کر واہموں کا نام دے دیا تھا مگر یہ یہ کیا ہوگیا میرے بیٹے تونے اپنے ساتھ کیا کر ڈالا ایک بار کاش ایک بار اپنی ماں کے بارے میں سوچا ہوتا
…..بہت ہمت کر کے وہ اٹھی تھیں فرش پہ نشے میں دھت انکا جگر گوشہ دنیا و مافیہ سے بے خبر بے سدھ پڑا تھا. اسے وہیں چھوڑ کر قریب ہی رہتی اپنی ہمدرد دوست اور ان کے شوہر کو بلا لائیں میاں بیوی نے انھیں بہت تسلی دی اور فورا” نفسیاتی ہسپتال داخل کرانے کا مشورہ دیا کہ ابھی کچھ نہیں بگڑا بس آپ کے بیٹے کے تعاون کی ضرورت ہوگئی. انھہیں کچھ ڈھارس ملی تھی. پھر وہ کہنے لگے کہ بہن بچہ کم عمر ہے زمانہ خطرناک ضرور بچے کو کسی نے ورغلایا ہوگا. بعد میں حقیقت کھلنے پر تصدیق بھی ہوگئی بیٹے نے بتایا فیکٹری میں کام کرنے والے دو معمر اشخاص اسے اور اس جیسے اور کم عمر لڑکوں کو زبردستی ڈرا دھمکا کے پہلے سیگریٹ پھر شراب اور ساتھ ہی ڈرگز کا عادی بنا رہے ہیں
وہ ماں کے سامنے نادم بیٹھا تھا علاج معالجے کے سلسلے میں بھی اسے کوئی اعتراض نہ تھا. علاج ہوا صحتیاب ہو کر وہ گھر بھی آگیا اماں نے سر جھٹکا اور جھر جھری لی کہ وہ کیا اور کیوں سوچنے لگیں جبکہ تلخیوں کو فراموش کرنے میں ہی سکون ہے. اوہ کافی وقت ہوگیا بلکہ بیٹا آتا ہی ہوگا یہ خیال آتے ہی ان کی آنکھیں چمکنے لگیں تھیں اور دلآویز مسکراہٹ نے ممتا کے چہرے کا احاطہ کیا تھا وہ اس سمے بیرونی دروازے کے پاس ہی کھڑی تھیں کہ بند دروازے کے باہر بیٹے اور کچھ اور لوگوں کی آوازیں آنے لگیں تو غیر ارادی طور پر انھوں نے درزوں سے جھانکا اور جو دیکھا سنا وہ ان سے زندگی کی رمق چھیننے میں کامیاب ہوگیا. ایک شخص زور دے کے کہہ تھا شہزادے رات کو ضرور آنا بڑی مشکل سے تیرے تک پہچے ہیں تو یاروں کا یار جو ہوا اور زبردستی سگریٹ کی ڈبیہ اس کی جیب میں دھکیل دی اور اسے اندر کی طرف دھکا دیا دروازہ کھولنے کے بعد ساتھ لگی اماں گر گئیں اور سینے پہ ہاتھ رکھے تڑپ رہی تھیں ہسپتال لے جانے تک وہ انہیں یقین دلاتا رہا
”اماں ایسا کچھ نہیں ہوگا جو آپ سمجھ رہی ہیں ایسے لوگوں سے تو مجھے اب بخوبی نمٹنا آتا ہے اماں میری پیاری اماں ایک بار آنکھیں تو کھولیں مجھے دیکھیں میں آپ کے ساتھ دھوکہ کرسکتا ہوں بھلا کیا میں بار بار خطا کھاؤں گا….” پھر دیر تلک روتا رہا دعائیں کرتا رہا. چند گھنٹوں بعد جب اماں کو ہوش آیا اور اسے ملوانے کے لئے بلوایا گیا ماں کو دیکھ کر دل کٹ کے رہ گیا اتنی کمزور اور لاغر ہوگئی تھیں کچھ ہی دیر میں.. اماں اس نے بے آواز پکارا تھا… تو اماں نے اس کا ہاتھ تھام کر اپنے پاس بٹھایا آہستگی سے سینے سے لگایا اور اٹک اٹک کے بولنے لگیں ”بیٹے میرا دل کمزور ہوچکا یہ سب خوف کی وجہ سے ہوا. تمہارا قصور نہیں .،،مجھے تم پر اپنی ذات سے بھی بڑھکر بھروسہ ہے،،”ماں کے یقین نے اور ان الفاظ نے اس کے ارد گرد پھول کھلا دیئے تھے وہ شانت ہوگیا تھا. اماں پھر گویا ہوئیں ”میرے بیٹے ! کچھ بن کے دکھانا کسی مقام پر پہنچ کر میرا فخر بننا میری آرزو پوری کرنا،” اس سے آگے ان سے بولا نہ گیا درد ایک بار پھر حملہ آور ہوچکا تھا ڈاکٹرز کے آنے تک اماں اس درد کے ساتھ ابدی نیند سو چکی تھیں…
اور آج بفضل تعالی اماں کی خواہش کے مطابق کٹھن مجاہدے اور بڑی دقتوں سے میں کسی مقام پر پہنچا ہوں ایک کامیاب ڈاکٹر کی صورت میں. تو میرے پاس اپنے ،درد، ممتا کی جدائی کا کوئی درمان نہیں…!!!

Published inصباہا دانیہعالمی افسانہ فورم