Skip to content

خالی کھیتی

عنوان : خالی کھیتی
تحریر : صبیحہ گیلانی
پُو پھوٹے گی ، سرسوں مہکے گی , ہریالی میں پیلاہٹ چمکیں مارے گی تو نظریں اٹھیں گی ضرور ۔
کھیتی مٹی کی ڈھیری ہوتی ، توجہ اسے رنگوں سے بھر دیتی ۔ بھاگاں توجہ سے خالی کھیتی تھی ۔ اکیلے چلے جا رہی تھی۔ اکیلے پن سے وقت کٹتا نہ عمر !
اس کی مانگ کے بیچوں بیچ سفیدی کی پہلی کرن پھوٹی تو ماں کا دل دھڑکا ۔ ایک ، دو ، تین دل کی دھڑکن سمجھوتے کے کسی لمحے میں معمول پر آ گئی مگر سفیدی تھی کہ پھیلے ہی چلے جا رہی تھی ۔ دھیرے دھیرے بھاگاں کی آنکھیں سر کی سفیدی سے چندھیانے لگیں۔ بے رنگ آنکھیں اسے اداسی کے گھر ہانک لائیں جہاں کوئی راستہ ہوتا تو ہی کوئی پار کراتا۔
قرآن پڑھتے سوچوں کی بھر مار ، قرآن اتارنے والے سے الجھنے لگتی ،کبھی حقیقت سے بھاگ کر وہ خیالوں کی اُڑان بھرتی کسی اَن دیکھے گھاٹ سے پانی کا لمس چرا لاتی تو کچھ مطمئن،  وقتی تشکر کے ساتھ قرآن کے حرفوں پہ انگلی پھیرنے لگتی۔
جب جذبوں کے سرکش گھوڑوں کی لگامیں کستے تھکن سے بدن ٹوٹنے لگتا تو نماز کے رکوع و سجود میں وحشت زدہ کرنے والی باہر کی چیزیں اسے پاگل کرنے لگتیں۔
گرم سیاہ راتوں میں وہ بے صبری سے غٹا غٹ پانی پی کر آدھا گھڑا سر پہ اُلٹ دیتی تو صبح تک گھڑونجی تلے پڑی کچی مٹی کھلکھلاتی رہتی۔۔۔
گاؤں میں ویزے کے پیسوں کیلئے کسی نے زمین کو اُونے پونے بیچنا چاہا تو بھاگاں کی ماں نے گھر رکھی بھینسوں کا بیوپار کرایا تاکہ سونا اگلتی زمین کے ٹکڑے کو سستے داموں خریدا جا سکے۔
بیوپاری نے بھوری کم عمر اتھری بھینس کے منہ بولے دام دینے کی ہامی بھری۔ ٹوٹے سینگ والی بھلی مانس بھینس اپنے دام نہ لے سکی۔
بیوپاری ایک بعد ایک عیب گنوا رہا تھا او اماں ,,مج,, تیری وڈیری عمر کی ہے,مان لے,مان لے اب لگے گی بھی تو قصائی کے ہاتھ وہ بھی منت ترلوں سے ۔ پلے کیا ہے اس وچاری کے۔
بھاگاں نے کنکھیوں سے بیوپاری کو دیکھا۔
وکھی ہے نہ چڈا اب تو قصائی بھی لے گا تو بوٹیاں کھانے والوں کے لامے ہی (شکایتیں)سنتا رہے گا۔چل ہزار اور بڑھا دیتا  ہوں,کیا پتہ ’’نویکلی ‘‘ ہو کر پھل دے جائے تو کلے پہ بندھی برداشت ہو جائے.
بھاگاں نے دھویں سے بھرے کوٹھے میں پاؤں رکھتے بیوپاری کا آخری جملہ سنا۔
بیوپاری دھوتی مسلتا کھنگورہ مار کر اُٹھ کھڑا ہوا تو بھاگاں کی ماں کے ہاتھ پاؤں ایک دم پھول گئے. اسے لگا سودا گھاٹے کا نہیں ۔ سو ہامی بھرتے ہی بنی۔
گل سن اماں ہزار کم ہے ,یوں کر میرے گھر جا اور صغریٰ سے لے آ . فیر میں بھینس کلے سے کھولوں گا. اپنڑاں یہ اصول نہیں کہ پائی بھی کم ادا ہوئی ہو اور مال لے جائیں۔
جانتی  ہوںتیرے بیوپار کو تو گھاٹے کا سودا ہرگز نہیں کرتا!
نوٹوں کے لمس سے, بھاگاں کی ماں کا لہجہ آپ ہی آپ تیکھا ہو گیا.
بھینس کا منہ کھولنے کی کوشش میں بیوپاری نے اس کی بات سنی اَن سنی کر دی۔
دوپٹے کے پلو کو بل دے کر پیسوں کو گرہ لگاتے بھاگاں کی ماں خوشی سے چلائی, بھاگاں!! نی او بھاگاں!!
تو چاء (چائے ) پلا اسے,جب تک میں آئی.
کچے کوٹھے سے سیاہ دھوئیں کی لپیٹیں باہر آ رہی تھیں۔ گویاپورا گاؤں سلگ رہا ہو…
بھاگاں کی ماں کے جانے کے کچھ لمحوں بعد دھوتی کی ڈھابیں کستے بیوپاری کی مسکراہٹ بیوی کی مہمان نوازی کی عادت کو سوچ کر مزید گہری ہو گئی..اس کے گھاگ قدم تیزی سے دھوئیں میں گم ہو ئے۔…
باہر سر سراتی ہوا سرگوشیاں کرنے لگی , پُو پھوٹے گی، سرسوں مہکے گی ، ہریالی میں پیلاہٹ چمکیں مارے گی تو آنکھیں اٹھیں گی ضرور۔۔۔

Published inصبیحہ گیلانی