Skip to content

حصار

عالمی افسانہ میلہ 2020

افسانہ نمبر 1

حصار

حسن امام

کراچی ، پاکستان ۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

چارپائی پر لیٹے لیٹے میں نے کھڑکی سے باہر دیکھا ۔۔۔دودھیا چاندنی میں دُھلے ہوئے نیلے آسمان کے نیچے جنگل کے درختوں کے پتے ہولے ہولے جھول رہے تھے اور ان سے ایسی سرسراہٹ پیدا ہورہی تھی جیسے بہت دور کہیں ساز بج رہا ہو ۔ پتے جہاں جہاں خم ہوگئے تھے وہاں وہاں چاند کی عمودی کرنوں نے ایک لو سی روشن کر دی تھی ۔ یہ لویں کہیں بڑی تھیں اور کہیں چھوٹی ، اور کہیں ایک قطار میں آ کر جھالر سی بن گئی تھیں ۔ ان پر نظر ڈالتے ہوئے ایسا محسوس ہو رہا تھا جیسے ٹھنڈی ٹھنڈی چاندنی آنکھوں کے راستے دل میں اُتر رہی ہو جس سے اضطراب اور بڑھ رہا تھا ۔

رابی نے میرے دل میں ایک عجیب سی خلش پیدا کردی تھی اور میں نہایت سنجیدگی سے اس کے متعلق سوچنے پر مجبور ہو گیا تھا ۔ اس سے پہلے میں لڑکیوں کے معاملے میں کبھی اتنا سنجیدہ نہیں ہوا ۔ ان کے متعلق میں صرف تفریح کی حد تک سوچنے کا قائل تھا ، وہ بھی اس وقت جب وہ سامنے موجود ہوں ورنہ نہیں ۔ یہی وجہ تھی کہ یونیورسٹی میں آج تک ثریا اور فرزانہ میرے نام پر بیوگی کا روپ دھارے پھرا کرتی تھیں ، لیکن مجھے کبھی ان کی پروا نہ ہوئی ۔ جب تک وہ خود مجھ سے ملتی رہیں میں اپنا دل بہلاتا رہا اور جب انہوں نے یہ چاہا کہ میں ان کے پیچھے بھاگوں ، ان کے نخرے اٹھاؤں تو میں نے ان کی طرف دیکھنا بھی چھوڑ دیا ۔ اس کا انہیں بے حد غم تھا ۔لیکن مجھ پر اس کا کچھ اثر نہیں ہوا ۔ میں نے بارہا اس کا اعلان کیا تھا کہ میرے سینے میں دل کی بجائے پتھر ہے اور کوئی لڑکی اپنے آپ کو مٹا کر بھی اس پتھر کو موم نہیں کر سکتی ۔ میری مردانہ وجاہت کو دیکھتے ہوئے میرے دوست کہا کرتے تھے کہ میرے ارد گرد لڑکیاں اس طرح جمع ہوتی ہیں جیسے میٹھے پر مکھیاں ۔ لیکن آج نہ جانے اس پتھر کو کیا ہو گیا تھا ۔ کیا رابی میں کوئی خاص بات تھی ؟ کیا عدنان مجھے کسی خاص مقصد سے یہاں لایا تھا ؟

یونیورسٹی کی چھٹیوں سے ایک دن پہلے عدنان نے مجھ سے کہا تھا “ تم شہر کے رہنے والے ہو ، کبھی کوئی گاؤں تو دیکھا ہی نہیں ۔ میرے ساتھ میرے گاؤں چلو ۔ تم قدرت کا حسن بھی دیکھ لوگے اور میرے ماں باپ اور چھوٹی بہن تم سے مل کر بہت خوش ہوں گے اور تمہارا بہت خیال رکھیں گے ۔ “ اس کا آخری جملہ میرے لیے بڑا غیر معمولی تھا کیونکہ وہ میری فطرت سے اچھی طرح واقف تھا ۔ یونیورسٹی میں میرے اسکینڈل اس کے علم میں تھے پھر بھی وہ اپنی بہن سے ملانے کی جراُءت کر رہا تھا ۔ میں نے غور سے اسکے چہرے کا جائزہ لیا لیکن وہاں کسی بھی اشتباہ انگیز جذبے کی بجائے پُر خلوص سی معصومیت طاری تھی ۔ پتہ نہیں اسے میری دوستی پر بھروسہ تھا یا اپنی بہن کے کردار پر ۔

دوسرے دن صبح کی ٹرین سے میں اس کے ساتھ امانت پور جا رہا تھا ۔ ٹرین فراٹے بھرتی کھیتوں کے بیچوں بیچ چلی جارہی تھی ۔ دونوں طرف حد نظر تک نرم اور سنہری دھوپ میں دھان کی آخری فصل کھڑی ہولے ہولے جھوم رہی تھی ۔ آبادیوں کے قریب درخت بھی کثرت سے دکھائی دیتے تھے ۔ درختوں کے جھنڈ میں آباد چھوٹی چھوٹی بستیاں کھیتوں کے سر سبز بیکراں سمندر میں دور افتادہ جزیروں کا منظر پیش کرتی تھیں ۔ عدنان کے چہرے پر مسکراہٹ صبح کی نرم اور روشن دھوپ کی طرح پھیلی ہوئی تھی اور وہ بات بات پر قہقہے لگا رہا تھا ۔ اسے بے حد خوشی تھی کہ میں نے اس کی دعوت قبول کر لی اور میں اپنے دل میں بڑھتے ہوئے اشتیاق سے مغلوب ہو کر سوچ رہا تھا ، اس گاؤں میں ایک لڑکی ہوگی جو میرا بہت خیال رکھے گی ، شاید اس کی زبان ، اس کی آنکھوں اور اس کی زلفوں سے جادو جاگتا ہو ۔شاید عدنان مجھے اسی جادو کے بھروسے پر لیے جا رہا ہو ۔ شاید میں تمام تر آوارگی کے باوجود اسے پسند آگیا ہوں یا شاید امیر باپ کی اکلوتی اولاد ہونا اس کی دلچسپی کا باعث ہو ۔ میں جو سینے میں دل کی بجائے پتھر رکھتا تھا ۔۔۔۔۔میں جو ہر منزل پر رکتا تھا اور کسی منزل پر نہیں رکتا تھا ۔

دوپہر کو گاڑی ایک چھوٹے سے دیہاتی اسٹیشن پر رکی ۔ ہمیں یہیں اترنا تھا ۔ وہاں سے ہم تانگے پر سوار ہوئے اور تانگہ سست رفتاری سے امانت پور کی طرف چل پڑا ۔ جوں جوں وقت گزرتا جا رہا تھا دھوپ کی حدت بڑھتی جا رہی تھی ۔ ہم دونوں بے تحاشہ باتیں کر کر کے تھک چکے تھے پھر بھی راستے کی طوالت کا احساس مٹانے کو کچھ نہ کچھ بولے ہی جا رہے تھے ۔ لمبی مسافت طے کرنے کے بعد مجھے ایک بہت بڑا جنگل نظر آیا ۔راستہ جنگل کے قریب سے ہو کر یوں گزر گیا تھا جیسے دور دراز گاؤں کو جانے والا مسافر راستے میں ملنے والوں کی خیر خبر پوچھتا جائے ۔ جب ہم کچھ قریب پہنچے تو اکا دکا کوّوں اور کتّوں کی آوازیں سنائی دینے لگیں ۔ جب کچھ اور قریب پہنچے تو میری آنکھیں کھلی کی کھلی رہ گئیں ۔ جنگل کے آگے اچھی خاصی بستی آباد تھی ۔ عدنان نے بتایا کہ یہی امانت پور ہے ۔تانگہ بڑا راستہ چھوڑ کر ایک چھوٹے سے راستے پر ہوتا ہوا آہستہ آہستہ بستی کے اندر داخل ہو گیا ۔ اب ہم درختوں کی سبز چھاؤں میں سے گزر رہے تھے ۔ گرد و غبار میں اٹے کچھ ننگ دھڑنگ بچے حیران حیران سے تانگے کے ساتھ ہو لیے ۔ تانگہ سیدھا جا کر ایک درخت کے سائے میں رُک گیا ۔ قریب سے گزرتے ہوئے ایک بوڑھے شخص نے عدنان کو دیکھتے ہی آواز لگائی “ بیٹا عدنان ، کیسا ہے رے تو “ اس کے بوڑھے چہرے پر بڑی جوان مسکراہٹ تھی ۔

“ السلامُ علیکم چاچا ! “ عدنان نے بوڑھے کو سلام کیا اور تانگے سے کود گیا ۔ جواب میں بوڑھے نے اسے ٹوکری بھر دعائیں دیں ۔ پھر اس نے میری طرف دیکھا ۔ میں نے بھی جلدی سے سلام کیا تو اس نے قدرے جُھک کر بڑی انکساری سے جواب دیا ۔ اتنے میں ایک تیز نسوانی آواز نے ہمیں اپنی طرف متوجہ کر لیا ۔ “ ماں ، دیکھو کون آیا ہے “ میں نے چونک کر سامنے دیکھا ۔ دروازے پر ایک اٹھارہ انیس سال کی خوبصورت ، تندرست اور سانولی سی لڑکی سرخ اور نیلے کپڑوں میں ملبوس اندر آواز دے رہی تھی ۔ آواز دے کر وہ بھاگتی ہوئی عدنان کے پاس آ کر رکی ۔ اسے دیکھ کر عدنان کے چہرے پر ایک ایسی مسکراہٹ پھیل گئی جس سے بڑی حد تک بزرگانہ رعب کا اظہار ہو رہا تھا ۔ اس نے اس انداز سے اس کی پیٹھ تھپتپھائی جیسے وہ محض چھہ سات سال کی بچی ہو ۔ پھر وہ مجھ سے مخاطب ہوا “ یہ میری بہن رابعہ ہے جسے ہم پیار سے رابی کہتے ہیں “ اس وقت تک شاید رابی نے مجھے نہیں دیکھا تھا ۔ اور اگر دیکھا بھی ہو تو کوئی خاص توجہ نہیں دی تھی ۔ اپنے بھائی کو مجھ سے مخاطب دیکھ کر اس نے میری طرف نظریں کیں اور اس کی مسکراہٹ غائب ہو گئی ۔ اس نے پُر سوال نظروں سے بھائی کی طرف دیکھا ۔ عدنان نے میری طرف ابروؤں سے اشارہ کرتے ہوئے کہا “ یہ میرے دوست ہیں رابی “ اس کے لہجے میں میرے لیے اتنی محبت اور مٹھاس تھی کہ مجھے اپنے سینے کے اندر پتھر میں زندگی کی حرکت کا احساس ہونے لگا ۔ پھر دوسرے ہی لمحے وہ میری طرف دیکھ کر اتنی محبت سے مسکرائی جیسے وہ مجھے کب سے جانتی ہو ، جیسے میں اس کے گھر ہی کا ایک فرد ہوں اور برسوں سے اس کے ساتھ رہتا آیا ہوں ۔ صاف و شفاف ، اجلی اجلی سی مسکراہٹ ۔ ابھی میں اس کی سادہ دلی پر حیران ہی ہو رہا تھا کہ اس نے کہا “ آئیں نا “ اس کی مدھم آواز میں مجھے درختوں کے پتوں جیسی بڑی لطیف سرسراہٹ سنائی دی اور میں جیسے اس کے سحر کے زیر اثر مدہوش سا اس کے پیچھے پیچھے چلنے لگا ۔ میں اور عدنان باتیں کرنے لگے ۔ وہ بتانے لگا کہ اس کے بابا ، اور چاچا جو راستے میں ملے تھے بستی کے معتبر لوگوں میں شمار ہوتے ہیں اور بڑی عزت کی نگاہ سے دیکھے جاتے ہیں ۔ چاچا جوانی میں اس بستی میں سب سے اچھا اکتارا بجانے والے تھے ۔ شادی کے بعد اکتارے سے ان کی دلچسپی کم ہو گئی اور چند سال بعد جب نرگس پیدا ہوئی تو وہ اکتارا بجانا جیسے ایک دم بھول گئے ۔ لیکن نرگس کی پیدائش کے تیسرے ہی سال انہوں نے اسے ایک بار پھر ہاتھ لگایا ، اس دن ان کی بیوی مر گئی تھی ۔ دن بھر وہ بڑے پرسکون رہے لیکن رات ہوتے ہی اکتارا اتنے کرب کے ساتھ رویا کہ تمام بستی والوں نے اس کے ایک ایک آنسو کے ٹپکنے کی آواز سنی ۔ اس دن کے بعد پھر نہ انہوں نے اکتارا بجایا ، نہ شادی کی ۔ میں نے تمام باتیں بڑی بے توجہی سے سنیں کیونکہ میری ساری توجہ آگے جاتی رابی پر تھی ۔ اس نے ہاتھوں میں ہمارا سفری بیگ اُٹھایا ہوا تھا اور چلتے ہوئے ہر ہر قدم پر اس کے سارے جسم کو ہلکے ہلکے جھٹکے لگ رہے تھے اور ہر ہر قدم پر میرے دل میں ایک خواہش ٹیس بن کر ابھر رہی تھی کہ کاش اس وقت میں اسے سامنے سے دیکھ سکتا ۔

عدنان زیادہ تر اپنے بابا کے ساتھ کھیت اور زمین کے مسائل میں الجھا رہتا ، وہ مجھے بھی ساتھ رکھنے کی کوشش کرتا لیکن میں آرام کے بہانے معذرت کر لیتا ۔ اس سے میری بڑی مختصر ملاقات رہتی ۔ البتہ رابی کا وقت گھر کے کاموں میں ماں کا ہاتھ بٹانے کے باوجود زیادہ تر میرے آس پاس ہی گزرتا ۔ وہ میرے کھانے پینے اور دیگر ضروریات کا خیال رکھنے کے ساتھ ساتھ مجھے طرح طرح کی سیدھی سادی چھیڑ چھاڑ سے ہنساتی رہتی اور خود بھی ہنستی رہتی ۔ زندگی ایک بالکل ہموار راستے پر چل پڑی تھی ۔ نا کہیں کوئی بلندی تھی نا کہیں کوئی پستی ۔ ہر صبح پچھلی صبح کی طرح طلوع ہوتی ۔ ہر دن پچھلے دن کی طرح ہنستا مسکراتا اور ہر شام پچھلی شام کی طرح چاند تاروں کی چادر اوڑھ کر سو جاتی ۔ اسی طرح ایک ہفتہ گزر گیا ۔ پھر ایک دن رابی اپنے ساتھ اپنے ہی قد و قامت کی ایک خوبصورت لڑکی کو لے کر آئی ، لیکن دیکھنے میں وہ کچھ بیمار سی لگتی تھی ۔ چہرہ اداس اداس اور آنکھیں بھیگی بھیگی سی تھیں ۔ رابی نے اسے بتایا کہ میں اس کے بھائی کا دوست ہوں اور شہر سے آیا ہوں ۔ لیکن اس بات سے اس کے چہرے پر کوئی تاثر نہ آیا جیسے اس نے سنا ہی نا ہو اور تب رابی نے مجھے بتایا کہ یہ نرگس ہے ۔ اس کا بیل بیمار تھا اور اس کی فکر میں اس نے اپنے آپ کو بھی بیمار کر لیا تھا کیونکہ وہ اسے اپنا بھائی سمجھتی تھی ۔ اس نے یہ بھی بتایا کہ وہ اس کی بہت ہی گہری سہیلی ہے اور ان دنوں اپنے بیل کی دیکھ بھال کرنے کے سبب یہاں نہیں آ سکی تھی ۔ اس دن کے بعد ایک دن اور نرگس آئی لیکن اس کے بعد پھر میں نے اسے نہیں دیکھا ۔

دن اسی طرح گزرتے رہے ۔ فرق صرف اتنا تھا کہ پہلے میں رابی سے نظر بچا کر اس کے سراپے کو دیکھا کرتا تھا لیکن اب کافی بے باکی سے گھورا کرتا ، اور اس طرح میں نے اس میں کئی باتیں ایسی دیکھیں جو ابتدائی دنوں میں نظر نہیں آئی تھیں ۔ اس کا جسم کیلے کی پتے کی طرح چکنا تھا جس پر اگر پانی کی بوند پڑے تو بغیر لکیر بنائے پھسل کر نیچے آ رہے ۔ اس کے سانولے پن میں خون کی سرخی کے علاوہ درختوں کی نرم چھاؤں سی رچی ہوئی دکھائی دیتی تھی ۔ جب وہ سنجیدگی سے کچھ سوچ رہی ہوتی تو اس کی آنکھیں ایسی دکھائی دیتیں جیسے ان میں ساون کے تمام بادل آکر جمع ہو گئے ہوں ، اور جب وہ مسکراتی تو ان بادلوں میں کوندا سا لپکتا محسوس ہوتا ۔ میرے گھور کر دیکھنے پر نا کبھی اس نے اعتراض کیا اور نا کبھی اس کے چہرے پر شرم کی سرخی آئی ۔ بعض اوقات مجھے یوں محسوس ہوتا جیسے وہ بھی وہی چاہتی ہے جو میں چاہتا ہوں اور بعض اوقات یوں لگتا جیسے وہ میری نگاہوں کو سمجھ ہی نہیں پاتی ۔ یہی وجہ تھی کہ ہم اب تک مہمان اور میزبان کی بے تکلفی سے آگے نہیں بڑھے تھے ۔ میں سوچتا تھا پہل وہ کرے اور وہ نہ جانے کچھ سوچتی بھی تھی یا نہیں ۔ انتظار ہی انتظار میں دوسرا ہفتہ بھی گزر گیا ۔ اب یونیورسٹی کُھلنے میں صرف ایک ہفتہ باقی رہ گیا تھا اور میں یہ بھی نہیں جان سکا تھا کہ رابی کے دل میں میری حیثیت صرف بھائی کے دوست کی ہے یا کچھ اور بھی ہے ۔ میں نے سوچا کہ پھر جانے یہاں آنے کا اتفاق ہو یا نا ہو ، اور اگر ہو بھی تو پتہ نہیں اس وقت رابی یہاں ہوگی یا نہیں ۔ لہذا میں نے فیصلہ کیا کہ آج ضرور اس کے دل کا حال معلوم کروں گا ۔

صبح سے سوچتا رہا کہ بات کس طرح شروع کروں ۔ ثریا اور فرزانہ تو شہر کی روشن خیال لڑکیاں تھیں ۔ انہوں نے تو خود ہی اپنے آپ کو میرے حوالے کر دیا تھا ۔ مگر یہاں سابقہ ان کے بالکل برعکس رابی سے تھا جو ناریل کے پانی کی طرح تہہ در تہہ مضبوط چھلکوں میں بند تھی ۔ سمجھ میں نہیں آتا تھا کہ کون سا پینترا بدلوں کہ میری باتوں میں رام داؤ کی سی دھار پیدا ہو جائے اور وہ ایک ہی وار میں کُھل جائے ۔ سوچتے سوچتے دوپہر ہو گئی ۔ یکا یک مجھے خیال آیا کہ وہ مجھے کھانا کھلا کر کھیت کو جائے گی ۔ کیوں نہ میں بھی آج اس کے ساتھ جاؤں ؟ ۔ ہو سکتا ہے گھر سے باہر بات کرنے میں اتنی جھجھک محسوس نہ ہو ۔ میں نے اسے بلا کر کہا کہ آج میں بھی اس کے ساتھ کھیت پر جاؤں گا اور وہاں سے آنے کے بعد کھانا کھاؤں گا ۔

بستی کی اختتامی حد اور کھیتوں کی ابتدائی حد کے درمیان درختوں کا ایک بڑا جھنڈ تھا ۔ یہ اوپر سے اتنا گنجان تھا کہ آسمان دکھائی نہ دیتا تھا اور نیچے اس ٹیکا ٹیک دوپہر میں بھی سبزی مائل اندھیرا چھایا ہوا تھا ۔ کھیت سے واپسی پر جب ہم یہاں پہنچے تو میرا دل بری طرح دھڑک رہا تھا اور میں غیر معمولی طور پر خاموش تھا کیونکہ یہاں سے گزرتے گزرتے میں اس کا دل کھول کر دیکھ لینا چاہتا تھا ۔ لیکن قبل اس کے کہ میں کچھ کہتا ، اس نے اچانک پوچھ لیا ،

“ اتنے خاموش کیوں ہیں “ جواب میں میں نے اپنا سوچا ہوا جملہ بڑی اداسی سے دہرایا ۔

“ رابی ، کل میں واپس جا رہا ہوں “ اور رابی چلتے چلتے ایک دم رُک گئی ۔ اس نے پھٹی پھٹی آنکھوں سے میری طرف دیکھا ۔ ان آنکھوں میں حیرت سے زیادہ دُکھ تھا ۔

“ اتنی جلدی چلے جائیں گے ؟” جیسے درختوں کے پتے سر سرائے ہوں ، جیسے اچانک آسمان پر بادل چھا گئے ہوں اور برسنے کے لیے آمادہ ہوں ۔

اب مجھے کچھ معلوم کرنے کی ضرورت نہ تھی ۔ میں نے اس کے پرلے شانے پر ہاتھ رکھ کر مسکراتے ہوئے کہا ،

“ نہیں رابی میں کل نہیں جا رہا ، میں تو یہ دیکھ رہا تھا کہ تمہیں میرے جانے کا دُکھ ہوگا یا نہیں ۔”

وہ کچھ نہ بولی ، صرف مسکرا دی ۔ لیکن میں نے محسوس کیا کہ اس کی مسکراہٹ کے پیچھے کوئی خیال ہے جو اس کے دل کو کچوکے لگا رہا ہے ۔

دوپہر کھانے کے بعد میں حسب معمول سو گیا ۔ جب آنکھ کُھلی تو سائے بہت طویل ہو چکے تھے ۔ رابی موجود نہ تھی ۔ اس کی ماں نے بتایا کہ وہ نرگس کے ہاں گئی ہوئی ہے ۔ رات کے کھانے پر بھی وہ موجود نہیں تھی ۔ کھانے کے بعد میں عدنان اور اس کے بابا سے تھوڑی دیر گفتگو کرنے کے بعد سر درد کا بہانہ بنا کر اپنے کمرے میں چلا آیا ۔ وہ ابھی تک نہیں آئی تھی ۔ مجھے بار بار دوپہر کی بات یاد آرہی تھی اور دل طرح طرح سے بدگمان ہو رہا تھا ۔ میں بستر پر لیٹا سوچتا رہا ، سوچتا رہا اور پھر نہ جانے کب آنکھ لگ گئی ۔

اچانک میری آنکھ کُھل گئی ۔ میں نے لیٹے لیٹے کھڑکی سے باہر دیکھا ۔ دودھیا چاندنی میں دُھلے ہوئے کا تک کے نیلے آسمان کے نیچے درختوں کے پتے ہولے ہولے سرسرا رہے تھے ، جیسے بہت دور کہیں کوئی ساز بج رہا ہو ۔ یہ لمحہ کسی قدر دل میں اتر جانے والا تھا لیکن رابی کے خیال نے اس لمحے میں بھی اضطراب کی آمیزش کر دی تھی ۔ میں نے کمرے کی دیوار کی طرف دیکھا جس کی دوسری طرف رابی کا کمرہ تھا ۔ انجانے میں میرے منہہ سے ایک آہ نکل گئی ۔ اس کے فوراً بعد دوسری طرف سے چار پائی کی چر چرا ہٹ سنائی دی ۔ میرا دل زور زور سے دھڑکنے لگا ، اور اس وقت تو دل اور بھی شدت سے دھڑکا جب بڑی آہستگی سے دروازہ کُھلا اور وہ میرے کمرے میں داخل ہوئی ۔ میں جلدی سے اُٹھ بیٹھا ۔ وہ بالکل میرے پاس آ کر بیٹھ گئی ۔ باہر چاندنی ہونے کے سبب کمرے میں بھی روشنی کا ہلکا ہلکا غبار سا پھیلا ہوا تھا ۔ اس کا چہرہ بے حد اداس تھا ۔ سر کے بال بکھرے ہوئے تھے اور آنکھوں میں ایسی نمی تھی جیسے ابھی ابھی آنسو پونچھ کر آ رہی ہو ۔ وہ چند لمحوں تک براہ راست میری آنکھوں میں دیکھتی رہی اور پھر یکا یک بہت سارے آنسو اس کے گالوں پر ڈھلک آئے ۔ میں نے بے اختیار اسے اپنے بازوؤں میں لے لیا اور وہ بڑی دیر تک میرے کاندھے پر سر رکھے سسکتی رہی ۔ پھر رابی نے مجھے اس المیے کے متعلق بتانا شروع کیا جس نے اس کا دل ٹکڑے ٹکڑے کر کے رکھ دیا تھا ۔ نرگس کا بیل مر گیا تھا اور نرگس اس کے لیے رو رو کر جان دینے پر تلی ہوئی تھی ۔ وہ کہتی تھی آج میرا بھائی مر گیا ہے ۔ لوگ اسے کسی ویرانے میں پھینک دیں گے اور گدھ اسے نوچ کر کھا جائیں گے ۔ اس کے بغیر گھر سونا سونا لگے گا اور تنہائی ہو جائے گی ۔ نرگس کی صحت بہت گر گئی تھی اور رابی کو اندیشہ تھا کہ اگر وہ اسی طرح غم کرتی رہی تو ایک نہ ایک دن ضرور وہ بھی اپنے بھائی سے جا ملے گی ۔ رابی اور چاچا نے اسے بہت سمجھایا لیکن وہ روتی رہی ۔ اور اب رابی آنکھوں میں آنسو لیے اپنے گھر آگئی ۔ اور چاچا دل میں دکھوں کا سمندر چھپائے اکتارہ بجانے بیٹھ گیا تھا ۔

میں نے غور سے سنا اور مجھے پہلی مرتبہ پتوں کی سرسراہٹ میں دبی دبی دور سے آتی ہوئی اکتارے کی آواز سنائی دی ۔ میں سنتا رہا ، سنتا رہا ۔ پھر مجھے چاچا کی آنکھ سے ٹپکتے ہوئے آنسوؤں کی آواز سنائی دی ۔ میں نے باہر درختوں پر نظر ڈالی ۔ اب وہاں چاندنی رابی کے رخساروں پر پھیلے ہوئے آنسوؤں کی طرح چمک رہی تھی ۔ میں دیر تک اس درد انگیز چاندنی کو دیکھتا رہا اور مجھے محسوس ہوا جیسے میرے سینے کے اندر والے پتھر کی کوئی رگ کٹ گئی ہے اور اب اس میں سے کوئی سیال مادہ رس رہا ہے ۔پھر آہستہ آہستہ میری نگاہیں دھندلا نے لگیں ۔ منظر دھندلا نے لگے ۔ اور اسی لمحے کسی خاموش آواز نے میرے کانوں میں کہا ؛

سنو پردیسی ! ۔۔۔۔۔یہ گاؤں ہے ۔ یہاں کے آدمی ، جانور ، درخت ، دھوپ ، چاندنی ، ہوا اور سب کے سب جادو گر ہیں ۔ ان سب نے مل کر اندھیرے اجالے ، بے ریائی اور معصومیت ، درد اور محبت کا ایک ایسا حصار کھینچ رکھا ہے کہ اس میں ایک بار داخل ہو جانے والا شاید اپنے جسم کو تو واپس لے جائے لیکن اپنی روح کو کبھی واپس نہیں لے جا سکتا ۔۔بتاؤ کیا تم اپنی روح کو واپس لے جا سکو گے ؟ ۔

Published inحسن امامعالمی افسانہ فورم