Skip to content

جہانِ نو کی جانب

عالمی افسانہ میلہ 2018
افسانہ نمبر80
جہانِ نو کی جانب
علی نثار ، کینڈا

وہ قصبہ شہر کے مضافات میں دیہی علاقے میں تھا ۔ پہلی نظر میں دیکھنے پرغیر محسوس سی نحوست برستی محسوس ہوتی ۔زیادہ تر مکانات بدرنگ اور قدیم تھے ۔ مکانات کی دیواروں پہ کائی جمی ہوئی تھی اور چھجوں پہ جنگلی گھاس اگی ہوئی تھی ۔اکا دکا انسان ادھر ادھرآتے جاتے دکھائی دے رہے تھے ۔محلے کے نکڑ پہ ایک پان کی دوکان تھی جس پہ چند نوجوان کھڑے سیگریٹ پی رہے تھے۔ ایک ٹوٹی پھوٹی سی سڑک تھی جو بل کھاتی ہوئی سرکاری اسکول کے احاطے کے سامنے سے گزرتی تھی ۔ میرے شوہر کا تبادلہ اسی اسکول میں کر دیا گیا تھا ۔ میں ہچکولے کھاتے ہوئے تانگے پہ بیٹھی پرتجسس نگاہوں سے چاروں طرف دیکھ رہی تھی ۔
’’وہ دیکھو آ گئی ہماری منزل ‘‘۔میرے شوہر حامدنے احاطے میں بنی ایک قدیم کھپریل عمارت کی طرف میری ٹھوڑی پکڑ کر محبت بھرے لہجے میں اشارہ کیا اور تانگے والے کو احاطے میں داخل ہونے کا اشارہ کیا ۔ہماری شادی کو چند ہی مہینے ہوئے تھے اور حامد کا تبادلہ اس دور دراز کے قصبے میں کر دیا گیا تھا میں اندر سے ناخوش تھی اور حامد کو میری ناراضگی کا شدید احساس تھا مگر وہ بھی مجبور تھے۔ میں حامد کے ہاتھ کا سہارا لے کر تانگے سے اتر آئی اور چاروں طرف نگاہ دوڑائی۔احاطے کے ایک کونے میں ایک بدرنگ ساویران کواٹر اپنی بوسیدگی کو سنبھالے کھڑا تھا ۔ میں آہستہ قدموں سے کواٹر کی سیڑھیاں چڑھنے لگی ۔
ہمیں اس بوسیدہ کواٹر کی صاف صفائی کروانے اور سامان جمانے میں تین چار روز لگ گئے ۔ حیرت ناک بات یہ تھی کہ ہمیں صاف صفائی کے لئے محلے سے ایک بھی مزدور نہیں ملا ۔ حامد جسے بھی بلاتے وہ ہاتھ جوڑ کر انکار کر دیتا ۔ کواٹر کے بارے میں یہ مشتہر تھا کہ یہ کواٹر آسیب زدہ ہے ۔اسی لئے اس اسکول میں کوئی بھی ہیڈ ماسٹر زیادہ دن نہیں ٹھہرتا تھا ۔ حامد سائنسی فکر رکھنے والے ایک منطقی انسان تھے اور جنوں بھوتوں کو ذہنی خرافات سمجھتے تھے ۔ اور کسی حد تک میں بھی انکی ہم خیال تھی ۔دو چار دنوں کے بعد زندگی معمول پہ آ گئی ۔
یہ ایک بڑا کشادہ کواٹر تھا ۔ اس میں چار بڑے کمرے ایک بڑا دالان اور کھلا ہوا آنگن تھا ۔آنگن سے ملا ہوا دائیں طرف ایک بڑا باورچی خانہ تھا ۔آنگن کی دوسری طرف ایک حمام اور دو بیت الخلاء تھے۔ آنگن میں ایک پرانا آم کا درخت تھا ۔ بیت الخلاء یا حمام میں آم کے درخت کے نیچے سے گزر کر جانا پڑتا تھا ۔آنگن میں ایک دروازہ تھا جو پچھلی گلی میں کھلتا تھا ۔ گلی کی دوسری طرف سامنے والا گھر ایک دھوبی کا تھا جس کے دروازے پہ دو گدھے بندھے رہتے تھے ۔ یوں تو اس محلے میں اکثریت مسلم خاندانوں کی تھی مگر میرے آنگن کی پچھلی طرف والی گلی میں چند گھر ہندووں کے تھے ۔ جن میں چمار دھوبی اور گوالے تھے ۔اسکول کے احاطے سے چند فرلانگ دورایک مسجد بنی ہوئی تھی اسی سے متصل ایک قبرستان بھی تھا ۔اس سے ذرا آگے ایک اور قبرستان تھا جسے بڑا قبرستان کہا جاتا تھا اس کے گیٹ پر ایک بہت پرانا چھوٹا سا مندر تھا جس کی سیڑھیوں پہ ایک سادھو چرس پی کر بیٹھا اونگھتارہتا۔گھروں کے درمیان فاصلے تھے اور پورے محلے میں بیشمار قدیم درخت تھے ۔ یہ اس زمانے کی بات ہے جب اکثر گھروں میں لائٹ نہیں ہوا کرتی تھی ۔اور شام ہوتے ہی گھروں کے اندرچراغ اور قندیلیں روشن کر دیے جاتے ۔پورا محلہ ایک طرح سے تاریکی میں ڈوب جاتا۔مغرب کے بعد گھروں سے باہر نکلنے میں لوگ خوف کھاتے ۔لوگوں کا خیال تھا کہ اس محلے میں آسیب اور جنوں کی بہتات ہے اور رات میں جن بھوت پورے محلے میں گھومتے ہیں ۔ میرے کواٹر کے بارے میں طرح طرح کی کہانیاں مشہور تھیں جنہیں سن کر ہم دونوں میاں بیوی ہنس پڑتے تھے ۔
میں اتنے بڑے گھر کی صاف صفائی اور کام کاج کرنے میں تھک جاتی مگر کوئی بھی نوکر کام کرنے کو تیار نہ ہوتا۔ دھوبی کی عورت بڑی منت سماجت کے بعد ہمارے گھر آکر کپڑے دھونے کو تیار ہوئی ۔جتنی دیر تک آنگن کے کونے میں بنے نلکے پہ کپڑے دھوتی رہتی اتنی دیر تک میں آم کے درخت کے نیچے کرسی ڈالے بیٹھی رہتی ۔ میرے ہٹتے ہی وہ خوف سے چلانے لگتی اور مجھے بے تحاشہ ہنسی آ جاتی ۔ ہزاروں بار سمجھا چکی تھی کہ یہ بھوت پریت کچھ نہیں ہوتا ۔ بس وہم ہے مگر اسکے دل سے خوف نکلتا ہی نہیں تھا ۔
مگر چند دنوں سے کچھ ایسے واقعات ہونے لگے تھے جن سے مجھے بھی یہ احساس ہونے لگا تھا کہ ہمارے علاوہ بھی یہ گھر کسی اور کا مسکن ہے ۔ وہ ایک چھٹی کا دن تھاحامد گھر پہ تھے اورہم دونوں بیٹھے ادھر ادھرکی باتیں کر رہے تھے۔اچانک اشتہا انگیز کھانوں سے پورا گھر مہکنے لگا میں نے بے اختیار لمبی سانس کھینچی ۔
’’ آہا کس قدر لذیذ کھانوں کی خوشبو آ رہی ہے ‘‘۔میں نے کہا تو حامد ہنسنے لگے
’’کھانوں کی خوشبو تو نہیں آ رہی ہے ہاں تمہارے جسم سے لہسن پیاز کی خوشبو ضرور آ رہی ہے ‘‘۔انہوں نے شرارتی لہجے میں کہا میں انہیں گھورتی ہوئی کچن میں گھس گئی ۔ مگر اگلے ہی لمحے الٹے پیروں بھاگ آئی ۔
’’حامد وہ وہ ‘‘۔۔۔۔ میں نے ہاتھ سے کچن کی طرف اشارہ کیا میرے ہونٹوں سے الفاظ نہیں نکل رہے تھے ۔حامد دوڑتے ہوئے کچن میں گئے اور وہ بھی حیرت زدہ رہ گئے ۔ کچن میں انواع اقسام کے کھانے بہت سلیقے سے تھال میں سجے ہوئے تھے ۔حامد نے فوراََ ہی خود پہ قابو کیا اور میری طرف مسکرا کر بولے ۔
’’ لیجئے بیگم صاحبہ آپکی شاہی دعوت کا انتظام ہو گیا ہے ‘‘۔وہ مسکرائے تو خوف کے باوجود میں بھی مسکرانے لگی ۔پھر یوں ہوا کہ چھوٹے چھوٹے واقعات آئے دن ہونے لگے ۔کبھی دھمک کی آواز ، کبھی کسی کے ہنسنے اور گنگنانے کی ۔کبھی ایسا لگتا کوئی پرچھائیں سی گزری ہے ۔ شروع شروع میں میں خوفزدہ رہتی تھی مگر حامدکے سمجھانے پہ رفتہ رفتہ مانوس ہونے لگی ۔اور مجھے بھی احساس ہونے لگا کہ یہ جو بھی مخلوق ہے ہماری دشمن ہر گز نہیں ہے ۔
وہ گرمی کی ایک سنسان دوپہر تھی ۔ میں اپنے کمرے میں بستر پر لیٹی ایک ناول پڑھ رہی تھی ۔اچانک مجھے اپنے کانوں میں بانسری کی خوبصورت دھن سنائی پڑی ۔میں بے اختیار ناول پڑھنا چھوڑ کر اٹھ بیٹھی ۔پیروں میں چپل ڈالی اور کمرے کا دروازہ کھول کر چپکے سے آنگن میں جھانکا ۔ ایک یونانی دیوتاؤں سا حسن رکھنے والا نوجوان آم کی نچلی موٹی شاخ پہ بیٹھا آنکھیں بند کئے سرور کے عالم میں بانسری بجا رہا تھا ۔ میں ایک ٹک اسے دیکھنے لگی ایک ان دیکھی کشش سے آنگن میں کھینچی چلی آئی۔آم کے درخت کے قریب آکر اسے دیکھنے لگی ۔اس نے میریآہٹ پہ اپنی ساحر آنکھیں کھولیں مجھے دیکھ کر مسکرایا اور لمحے بھر میں غائب ہو گیا ۔
میں بے چین سی اپنے کمرے میں واپس آ گئی ۔ ناول دوبارہ پڑھنے کی کوشش کی مگر ذہن بار بار بھٹک کر ان ساحر آنکھوں اور بانسری کی مدھر دھن کی جانب چلا جاتا ۔ میں نے جھنجھلا کر کتاب تکئے پر پٹخی اور ریڈیو کھول کر نغمہ سننے لگی ۔ دو تین دنوں کے بعد میں نے اسے چھت سے اترتے دیکھا ۔ وہ جمعہ کا دن تھا سفید کرتا پائجامہ پہنے چھت سے اترا اور سیدھے باہر کی طرف نکل گیا ۔مجھے محسوس ہوا وہ جمعہ کی نماز پڑھنے مسجد گیا ہے ۔ ایک مسحور کن سی خوشبو اسکے پیچھے چھوٹ گئی اور پورے گھر میں پھیل گئی ۔ میں گہری گہری سانسیں لے کر خوشبو اپنے اندر اتارنے لگی ۔وہ اکثر مجھے گھر میں ادھر ادھر چلتے پھرتے یا کہیں خاموش چپ چاپ کسی سوچ میں گم نظر آتا ۔ مجھ پہ نظر پڑتی تو اسکی آنکھیں روشن ہو جاتیں اور لب مسکرا پڑتے ۔پتہ نہیں وہ کون سی طاقت تھی جو مجھے اسکی طرف کھینچ رہی تھی ۔ میری نگاہیں بار بار آم کے درخت اور چھت کی سیڑھیوں کی جانب اٹھتی رہتیں ادھر ادھر اسے تلاش کرتی رہتیں ۔ معمولی سی آہٹ پر بھی میں چونک جاتی ۔ہم ایک دوسرے کو دیکھتےلیکن بات نہیں کرتے تھے پھر بھی شناسائی کا ایک مضبوط رشتہ ہمارے درمیان قائم ہو چکا تھا ۔ ایک ان دیکھی ان جانی سی کشش تھی جو مجھے اسکی جانب کھینچ رہی تھی ۔ایک نیا سا انوکھا احساس تھا جو مجھے اپنے گھیرے میں لئے ہوا تھا ۔ جب کہ یہ میں اچھی طرح جانتی تھی کہ وہ کوئی انسان نہیں ہے۔ ہواؤں کو اپنے آنچل میں نہیں باندھا جا سکتا ۔
پھر تقریباََ مہینہ دن گزر گئے نہ وہ دکھا نہ آہٹ ملی نہ ہی اسکی خوشبو محسوس ہوئی ۔میں مضطرب سی گھر کے اندر پھرتی رہتی ۔ کئی بار چھت پہ بھی گئی مگر اجاڑ ویران چھت کو دیکھ کر لوٹ آتی ۔ چھت پہ جنگلی گھاس اگی ہوئی تھی اور جگہ جگہ کاٹھ کباڑ کا ڈھیر تھا ۔میں مایوس سی ہونے لگی پتہ نہیں وہ کہاں چلا گیا پھر وہ خود میرے پاس آیا میں کچن میں کھانا پکا رہی تھی تو اسکی مخصوص خوشبو محسوس ہوئی میرا دل دھڑک اٹھا میں پلٹی تو مجھے وہ دروازے سے ٹیک لگائے کھڑا نظر آیا ۔میں بے اختیار اسکے قریب جا کھڑی ہوئی اور شکایتی نگاہوں سے دیکھنے لگی ۔اس نے خاموشی سے اپنی نگاہیں جھکا لیں ایک افسردگی سی اسکے چہرے پر پھیل گئی ۔میں نے دھیرے سے اسکا ہاتھ تھام لیا ۔ مجھے ایسا محسوس ہوا کہ اسکے ہاتھوں میں ہڈیاں نہیں ہیں اور میرے ہاتھوں میں نرم روئی کا کوئی گالاہے۔ میں اسے کھینچتی ہوئی اپنی خوابگاہ میں لے کر آئی اور اسے کرسی پر بیٹھنے کا اشارہ کیا ۔ وہ چپ چاپ خاموش سا کرسی پہ سر جھکا کر بیٹھ گیا ۔
’’ کیا تم مجھے اپنا نام بتاؤ گے ‘‘ ۔ میں نے اسکی طرف غور سے دیکھتے ہوئے کہا
’’زیب شاہ‘‘ ۔ اس نے مدھم سی آواز میں جواب دیا
’’میں کلثوم ہوں ‘‘
’’جی ہاں مجھے معلوم ہے آپکا نام‘‘۔
’’ زیب کیا ہم دوست نہیں ہیں ۔ ہم نے آج تک بات نہیں کی مگر ہم میں ایک ان کہی دوستی کا رشتہ استوار ہو چکا ہے ۔ ہے ناں ‘‘؟ میں نے اسکی آنکھوں میں جھانکا ۔اس نے آہستہ سے اثبات میں سر ہلا دیا ۔
’’اب بتاؤ تم اتنے دن کہاں تھے ،اور اس قدر خاموش اور اداس کیوں ہو ‘‘۔ میں نے پوچھا تو اسکی آنکھیں ڈبڈبا آئیں ۔
’’مجھے عراق بھیج دیا گیا تھا ‘‘۔
’’عراق‘‘؟میں حیران ہو گئی ۔ اتنی دور کیوں بھیجا گیا تمہیں ؟
’’قبرستان کے دروازے پہ جو مندر ہے اس کی سیڑھوں پہ ایک سادھو بیٹھتا ہے ۔ آپ نے اسے دیکھا ہے ‘‘؟
’’ ہاں میں جب بھی بازار جاتی ہوں اس گنجیڑی کو سیڑھی پہ بیٹھے دیکھتی ہوں ۔تمہارے عراق بھیجے جانے سے اسکا کیاتعلق‘ ‘؟
’’ وہ ایک اوگھڑ ہے ۔ اور تمام گندے کام وہ رات کی تاریکی میں کرتا ہے ۔وہ مجھے اپنے قابو میں کرنے کے لئے ایک سخت عمل کر رہا تھا ۔ وہ تو بروقت بابا جانی کو خبر ہوگئی اور انہوں نے مجھے عراق دادا جان کے پاس بھیج دیا ‘‘۔
’’اوہ ‘‘۔ میں نے طویل سانس بھری ۔ اب تو وہ سادھو کچھ نہیں کر سکتا ہے ناں ۔
اس نے آہستہ سے نفی میں سر ہلایا۔
’’ وہ معاملہ تو حل ہو چکا ہے تم بن باس کاٹ کر واپس بھی آ چکے ہو ۔پھر یہ اداسی کیوں ‘‘۔
’’ وہ ۔۔وہ ‘‘ اسکی حلق میں آوازیں اٹکنے لگیں ۔ ’’ بابا جانی نے مجھے کسی بھی انسان سے دور رہنے کو کہا ہے ۔ اگر میں کسی کے قریب ہوا تو وہ سادھو مجھے اپنے قبضے میں بہت آسانی سے کر لے گا ‘‘۔
’’اوہ ‘‘ میں نے طویل سانس کھینچی اور اسکے سر پہ ہلکی سی تھپکی دی
’’ آپ ۔آپ مجھے بہت اچھی لگتی ہیں ‘‘۔ اس نے اٹک اٹک کر کہا اور شرما کر نگاہیں جھکا لیں ۔ میں کھلکھلا کر زور سے ہنس پڑی ۔
پھر وہ دوپہر میں ہر روز میرے پاس آنے لگا ۔ ہم گھنٹوں ادھر ادھر کی باتیں کرتے ۔اسکی سادہ سی معصوم باتیں میں بغور سنتی ۔میں نے اسے ریڈیو پہ گانا سننا اور لڈو کھیلنا سکھا دیا تھا ۔اسکی آواز بہت اچھی تھی ۔وہ کبھی کبھی بہت پرسوز آواز میں قرآن کی تلاوت کیا کرتا ۔اسے بانسری بجانا بہت پسند تھا مجھے حیرت ہوتی کہ اس نے اتنی اچھی بانسری بجانی کہاں سے سیکھی ۔ زیب نے مجھے بتایا تھا کہ وہ انسان بن کر ایک استاد سے بانسری سیکھنے جاتا تھا ۔ اس نے قرآن کی تعلیم بھی محلے کے حافظ صاحب سے لی تھی ۔ مجھے بتایا کرتا تھا کہ اسکے کئی کزن ملک کی بڑی یونیورسیٹیوں میں اعلیٰ تعلیم حاصل کر رہے ہیں ۔اور وہ بھی فارسی زبان میں ماسٹر کر رہا ہے۔ مجھے حیرت ہوتی یہ سب سن کر ۔ ایک نئی دنیا میرے سامنے تھی ۔ وہ انسانی دنیا سے قطعی منفرد تھی ۔
مجھے نہیں پتہ کب اور کیسے میں رفتہ رفتہ اسکے عشق میں گرفتار ہو گئی ۔کسی دن آنے میں اسے دیر ہو جاتی میں بولائی بولائی پھرا کرتی ۔وہ بہت سادہ اور معصوم تھا کسی بچے کی طرح ۔ میں اس پہ اپنے دل کا راز عیاں نہیں کرنا چاہتی تھی کہیں وہ ڈر نہ جائے اور میرے پاس آنا نہ چھوڑ دے ۔ اس نے مجھے خود کو چھونے سے منع کر رکھا تھا اسے خوف تھا انسانی لمس سے اسکی روحانی قوت کمزور ہو سکتی ہے اور اوگھڑ سادھو اسے اپنے قابو میں کر لے گا ۔میں اسے کیا بتاتی کہ وہ اب میرا جنون بن چکا ہے ۔ میری زندگی کا مقصد ۔میرے شریانوں میں اسکی محبت خون بن کر دوڑرہی ہے ۔ وہی تو ہے جس کا خواب میں نے جوانی کی دہلیز پر قدم رکھتے ہی دیکھنا شروع کر دیا تھا ۔ یہی آنکھیں یہی چہرہ تو مجھے خوابوں میں دکھائی دیتا رہا ہے ۔ بانسری کی آواز بچپن سے ہی میرے لاشعور میں رچی بسی ہے ۔میری آنکھیں اسکے چہرے کا طواف کرتی رہتیں مگر میرے ہونٹ خاموش رہتے ۔
میں اسے اوگھڑکے خوف سے باہر نکالنا چاہتی تھی ۔ذہن میں یہ خیال جڑ پکڑ چکا تھا کہ میں ہی کچھ کر سکتی ہوں ۔مگر کوئی راستہ سمجھ میں نہیں آ رہا تھا ۔آخر مجھے ایک ترکیب سوجھ ہی گئی ۔دوسرے دن میں بازار جانے کے بہانے سے نکلی اور اوگھڑ کے پاس پہنچ گئی حسب معمول سیڑھی پر بیٹھا چلم کے کش لگا رہا تھا ۔ چاروں طرف ہولناکی پھیلی ہوئی تھی ۔ مندر کی سیڑھوں پہ جا بجا کائی جمی تھی اور سوکھے پتے بکھرے ہوئے تھے ۔قبرستان کے اندر ہوائیں درختوں سے ڈرواؤنی آواز میں سیٹیاں بجاتی گزر رہی تھی میں اس کے سامنے ہاتھ جوڑ کر کھڑی ہو گئی ۔
اس نے اپنا خوفناک بھاری چہرہ اٹھایا اور سرخ آنکھوں سے مجھے گھورا ۔۔’’کیا ہے ‘‘؟ اسکے لہجے کی کرختگی اور سرخ آنکھوں سے لمحہ بھر کو میرا دل کانپا مگر میں نے دل کڑا کیا ۔
’’بابا میں ایک دکھیاری عورت ہوں ۔ آپکی شرن میں آنا چاہتی ہوں ۔‘‘
’’کیا چاہئے ‘‘؟ ۔
’’بابا آپکا آشیرواد اور آپ کی شاگردی ‘‘۔
’’بہت کٹھن تپسیا کرنی پڑے گی تجھے ۔ کر سکے گی ‘‘۔
’’جی بابا ۔ جو آپ کہیں گے سب کروں گی ‘‘۔
میں روزانہ دوپہر میں اوگھڑ کے پاس جانے لگی ۔اسکے لئے کبھی کھیر، کبھی حلوہ ، مٹھائی یا کوئی دوسری میٹھی ڈش پکا کر لے جاتی ۔اوگھڑ بہت شوق سے میری پکائی چیزیں کھاتا ۔ پھر اس نے مجھے شوہر اور سسرال والوں کو قابو میں کرنے کا عمل سکھانے کا وعدہ کر لیا اور دوسرے دن سورج ڈھلنے کے بعد قبرستان میں آنے کو کہا ۔
میں اوگھڑ کے چکر میں زیب کو وقت نہیں دے پا رہی تھی ۔ وہ کئی بار مجھ سے شکایت کر چکا تھا کہ میں اسے جلدی واپس جانے کے لئے کیوں کہتی ہوں اور روز روز بازار کیوں جاتی ہو ں ۔میں بس مسکرا کر رہ جاتی ۔
دوسرے دن اسکول کی چھٹی ہونے کے بعدمیں نے کچھ ضروری چیزوں کی لسٹ بنا کر حامد کو شہر بھیج دیا ۔مجھے پتہ تھا وہ رات گئے ہی واپس آ سکیں گے ۔ میں مغرب بعد خاموشی سے ہاتھ میں گاجر کے حلوہ کی ٹفن لے کر پچھلے دروازے سے نکل گئی ۔ اوگھڑ قبرستان کے دروازے پہ میرا انتظار کر رہا تھا ۔ مجھے دیکھ کرا س کی آنکھوں کی حیوانی چمک بڑھ گئی ۔
’’بابا پہلے یہ کھا لیجئے اس کے بعد ہم عمل سیکھنے سکھانے کی کاروائی شروع کریں گے ‘‘۔میں نے ٹفن اسکی طرف بڑھا دیا ۔
اس نے ندیدے پن سے ٹفن میرے پاتھ سے کھینچا اور حلوہ مزے لے لے کر کھانے لگا ۔ میں چند منٹ بیٹھی رہی اور پھر خاموشی سے ٹفن اٹھا کر گھر واپس آ گئی ۔دوسرے دن قصبے میں یہ خبر گشت کرنے لگی کہ اوگھڑ کو کسی نے زہر دے دیا ہے ۔ اس دن دوپہر میں زیب میرے پاس آیا تو خوشی سے اسکا چہرہ تمتما رہا تھا ۔اسے خوش دیکھ کر میرے اندر طمانت کی لہر دوڑ گئی ۔میں نے اسکا چہرہ دونوں ہاتھوں میں لے لیا ۔
’’اب تو کوئی خوف نہیں ہے ناں تمہیں ؟ میں تمہیں چھو سکتی ہوں ناں ؟‘‘ اس نے اثبات میں سر ہلا دیا ۔
میں نے اسکی طرف گہری نگاہوں سے دیکھا ۔مجھے لگا یہی وقت ہے جب میں اسے اپنے جذبات سے آگاہ کروں ۔
’’زیب تمہیں پتہ ہے اوگھڑ کو کس نے زہر دیا ہے ‘‘؟ اس نے نفی میں سر ہلایا تو میں نے اسے پوری بات بتائی وہ سن کر حیران نگاہوں سے مجھے دیکھنے لگا ۔
’’آپ نے میرے لئے اتنا بڑا رسک کیوں لیا ۔کوئی آپکو دیکھ لیتا تو یا اوگھڑ ہی آپکو کوئی نقصان پہنچا دیتا تو ‘‘؟ اس نے ایک جھرجھری بھری اور میرا ہاتھ تھام لیا ۔
’’جانتے ہو میں نے یہ سب کیوں کیا ‘‘۔ وہ سوالیہ نگاہوں سے مجھے دیکھنے لگا
’’ میں تم سے عشق کرتی ہوں ‘‘ ۔میری بات سن کر وہ خاموش سا ہو گیا
’’کیا ہوا ۔ کیا تمہیں اچھا نہیں لگا ‘‘۔ میں نے اسکا کاندھا ہلایا
اس نے افسردہ سی نگاہ مجھ پہ ڈالی ۔ ’’مجھے آپکے جذبات کے بارے میں کافی عرصے سے اندازہ ہے ۔مگر میں آپکی حوصلہ افزائی نہیں کر سکتا ۔ یہ ایک غلط بات ہے آپ شادی شدہ ہیں آپکی زندگی تباہ ہو سکتی ہے ‘‘۔وہ کرسی سے اٹھا اور دو قدم چل کر غائب ہو گیا ۔ میں مردہ سی بستر پہ گر کر سسکیاں لینے لگی ۔نہ جانے کب تک بستر پہ پڑی روتی رہی ۔ سر پہ ہاتھوں کا جانا پہچانا لمس محسوس ہوا تو میں نے اپنی سوجی ہوئی آنکھیں کھولیں ۔حامد اسکول سے آکر مجھے تشویش بھری نگاہوں سے دیکھ رہے تھے ۔ میں انہیں کیا بتاتی کہ میں کیوں رو رہی تھی ۔ بہانہ بنا دیا کہ اماں مرحوم کو خواب میں دیکھا ہے انہی کی یاد آ گئی تھی۔اس دن کے بعد سے زیب نے میرے پاس آنا چھوڑ دیا ۔کسی کسی وقت وہ مجھے گھر میں نظر آ جاتا ۔ مجھ پہ نگاہ پڑتے ہی فوراََ غائب ہو جاتا ۔میں آہ بھر کر رہ جاتی ۔میں راتوں کو اٹھ اٹھ کر آنگن میں آم کے نیچے جاکر بیٹھی رہتی یا پوری پوری رات ٹہلتی رہتی ۔ میرا کھانا پینا تقریباََ چھوٹ چکا تھا ۔دن بھر منہ لپیٹے بستر پہ پڑی سسکیاں لیتی رہتی ۔ مجھے زیب کی یہ بے رخی برداشت نہیں ہو رہی تھی ۔حامد بہت پریشان تھے ۔ مجھے شہر لے جاکر کئی ڈاکٹروں کو دکھا چکے تھے ۔یہاں تک کہ انہوں نے خلاف مزاج ایک عامل سے بھی رجوع کیا کہ اگر مجھ پہ کسی قسم کا کوئی اثرات ہے تو دعا تعویذ سے زائل ہو جائے ۔مہینہ دن گزرتے گزرتے میں بیحدکمزور ہو گئی ۔ ان دنوں جاڑے کا موسم تھا ۔ جاڑے کی نرم سنہری دھوپ چاروں طرف پھیلی ہوئی تھی ۔دھوبن آنگن کے نلکے کے پاس بیٹھی کپڑا دھو رہی تھی میں اپنے کمرے میں بستر پہ لیٹی خالی نگاہوں سے چھت کو گھور رہی تھی ۔ اچانک وہ چینخ مار کر میرے کمرے میں آکر مجھ سے لپٹ گئی ۔
’’بی بی ایک بہت لمبا ہاتھ آم کے پیڑ سے لٹک رہا ہے ۔ میں اب نہیں رہوں گی مجھے گھر پہنچا دیجئے ‘‘۔ میں اسے ساتھ لے کر آنگن کے پچھلے دروازے تک گئی اور اسے گھر بھیج کر دروازہ بند کرکے اپنے کمرے میں آئی ۔ دیکھا کہ زیب میرے بسترپہ ٹیک لگائے بیٹھا ہےاورمسکراتی نگاہوں سے مجھے دیکھ رہا ہے ۔
’’ناراض ہو ‘‘۔ اس نے میرا ہاتھ تھام لیا ۔میں نے ایک خفگی بھری نگاہ اس پہ ڈالی اور تکیہ سیدھا کرنے لگی ۔
’’تم نے دھوبن کو کیوں بھگا دیا ۔ اب میرا کام کون کرے گا ‘‘۔
’’ اسے نہ بھگاتا تو تم سے بات کیسے کرتا ۔ ویسے اب تمہیں کام کرنے کی ضرورت نہیں ہے ۔ سارے کام خود بخود ہو جایا کریں گے ۔میں جنوں کا شہزادہ ہوں اور تم میری محبوبہ ہو یہ کوئی معمولی بات تھوڑے ہے ‘‘۔ اس کا لہجہ آج بدلا ہوا تھا میری آنکھوں سے آنسوں کے قطرے پھسلنے لگے ۔ اس نے نرمی سے میرے آنسوں پونچھے اور میرا چہرہ تھام کر پیشانی پہ محبت بھرا بوسہ دیا ۔
’’ میں تمہاری سچی محبت پہ ایمان لے آیا ‘‘۔اس کے الفاظ امرت بن کرمیری روح میں اترنے لگے ۔پھر میں رفتہ رفتہ صحت یاب ہونے لگی اور زندگی نارمل ہونے لگی ۔ حامد نے خدا کا شکر ادا کیا ۔ وہ میرا اب پہلے سے زیادہ خیال رکھنے لگے تھے ۔
ایک دن وہ بہت خوبصورت لباس پہنے میرے پاس آیا۔ وہ اس دن واقعی کسی شہزادے کی مانند دکھائی دے رہا تھا ۔اس نے بتایا کہ آج اس کی بہن کا نکاح ہے ۔ میں یہ سن کر مچل گئی ۔
’’ اس خوشی کے موقع پہ مجھے اپنے خاندان والوں سے ملواؤ۔میں بھی شادی میں جاؤں گی‘‘۔ میری ضد دیکھ کر اس نے حامی بھر لی ۔ میں جلدی جلدی شادی میں جانے کے لئے تیار ہونے لگی ۔ خوبصورت کامدار غرارہ سنبھال کر جب میں اسکے سامنے آئی تو وہ یک ٹک مجھے دیکھنے لگا ۔ بے اختیار اس نے ہولے سے میرے ماتھے پہ جھولتے ٹیکے کو اپنی شہادت کی انگلی سے چھوا ۔اور میرے ہونٹوں پہ اپنے ہونٹ رکھ دئے میں نے شرما کر اپنا چہرہ ہاتھوں میں چھپا لیا ۔
وہ مجھے لے کر اجڑے ویران چھت کی سیڑھیاں چڑھنے لگا ۔ جب میں چھت پہ پہنچی تو دنگ رہ گئی میں اپنے ویران چھت پہ نہیں تھی ایک شاندار محل کے دروازے پہ کھڑی تھی ۔اس نے ایک ہاتھ سے میرا ہاتھ تھاما اور دوسرے ہاتھ سے بڑے سے سنہرے دروازے کو ہلکا سا دھکا دیا اور مجھے لے کر اندر داخل ہو گیا ۔ میں نرم سرخ قالین پہ کسی مہارانی کی مانند قدم دھرتی ہوئی آگے بڑھنے لگی ۔ زیب مجھے ایک بڑے سے ہال میں لے کر پہنچا ۔ ہمیں دیکھتے ہی بے شمار خواتین نے مجھے گھیر لیا ۔مجھے ایک سنہرے رنگ کی ایک نہایت خوبصورت کرسی پہ بیٹھایا گیا ۔مجھے حیرت ہوئی کہ وہاں تمام خواتین مجھ سے واقف تھیں اور بہت احترام کے ساتھ پیش آ رہی تھیں ۔ زیب ایک نہایت خوبصورت،پروقار مہارانی سی وضع قطع کی معمر عورت کا ہاتھ تھام کر میرے پاس لایا ۔
’’کلثوم ان سے ملو یہ میری والدہ ہیں ‘‘۔ میں نے اٹھ کر احترام سے انہیں سلام کیا ۔ انہوں نے بڑی محبت سے میرے سلام کا جواب دیا اور مجھے کرسی پہ بیٹھنے کا اشارہ کیا ۔پھر ایک کنیز ایک سنہری چھوٹی سی تھال لے کر آئی اس میں سرخ مخمل کے رومال کے اوپر دو انتہائی خوبصورت ہیرے جڑے کنگن رکھے تھے ۔ انہوں نے کنگن اٹھائے اور میرے ہاتھوں میں پہنانے لگیں ۔ میں جھجھک کر انکار کرنے لگی ۔
’بیٹی تم ہمارے گھر پہلی دفعہ آئی ہو ۔ یہ ہمارے یہاں کا رواج ہے اسے قبول کرو ۔ ویسے بھی تم ہماری محسن ہو تم نے ہی اس بد بخت سادھو سے میرے بیٹے کو نجات دلائی ہے ‘‘۔ انہوں نے پیار سے میری پیشانی چومی ۔ زیب کی بہنیں ، بھابھیاں ،کزن،خالہ ، پھوپھی بے شمار
خواتین تھیں جو باری باری اپنا تعارف کرانے لگیں۔ مجھے لمحے بھر کے لئے یہ خیال نہیں گزرا کہ میں کسی دوسری مخلوق کے نرغے میں ہوں ۔ اجنبیت کا کوئی احساس نہیں تھا ۔سب مجھے لے کردلہن کے کمرے میں پہنچیں ۔ ایک سجی سجائی مسہری پہ اپنی سہیلیوں کی جھرمٹ میں شرمائی لجائی انتہائی حسین دلہن نے اپنا حنائی ہاتھ اٹھا کر مجھے سلام کیا ۔
’’چلو میں تمہیں بابا جانی سے ملواتا ہوں ۔ وہ تم سے ملنا چاہتے ہیں ‘‘۔ زیب مجھے لے کر اوپری منزل کی طرف بڑھا طویل راہ داریاں طئے کرنے کے بعد میں ایک بہت بڑے انتہائی نفاست سے سجے کمرے میں پہنچی ۔ ایک سرخ و سفید بزرگ گاؤ تکئے سے ٹیک لگائے سفید چاندنی پہ بیٹھے ہوئے تھے ۔ میرے سلام کا جواب انہوں نے سر کے اشارے سے دیا ۔میں اور زیب با ادب ہوکر ان کے قریب بیٹھ گئے ۔
’’میں جانتا ہوں تم زیب سے عشق کرتی ہو۔ مگر بیٹی جن اور انسان کے عشق میں انسانی زندگی ہار جاتی ہے ۔ تم ابھی بہت کم سن ہو تمہیں جینا ہے ۔ابھی تم نے دنیا دیکھی بھی نہیں ہے ‘‘۔
’’بابا جانی مجھے زیب چاہیئے اگر زندگی ہار کر زیب کا ساتھ مل سکتا ہے تو میں ایسی ہزار زندگیاں قربان کر سکتی ہوں ۔‘‘وہ میری بات سن کر خاموشی سے تسبیح کے دانے گھمانے لگے
’’ میں نے زیب کو اس تانترک سے نجات دلائی ہے ۔ اگر آپ رتی بھر بھی اس احسان کو مانتے ہیں تو اس کے بدلے مجھے زیب کا ساتھ دے دیجئے ‘‘ ۔ میرا گلا رندھ گیا وہ میرا سر تھپکنے لگے ۔
’’انسانی جسم ٹھوس مادہ ہے اور ہم غیر مرئی ہیں۔ تمہیں زیب کو حاصل کرنے کے لئے یہ مٹی کا ٹھوس لبادہ اتارنا ہوگا ‘‘۔
میں واپس آکر بابا کی باتوں پہ غور کرنے لگی ۔یہ ایک انتہائی کٹھن مرحلہ تھا مگر زیب کو حاصل کرنا ہے تو اس پل صراط سے گزرنا ہوگا ۔حامد ایک بہترین شوہر تھے ۔ مجھے ان سے محبت تھی مگر زیب سے عشق تھا وہ بھی جنونی حد تک ۔شام میں حامد اسکول سے آئے تو میں نے ان کے لئے ان کی پسند کا کھانا بنایا ۔ خوبصورت لباس زیب تن کیا ۔ بستر کو تازہ پھولوں سے سجایا ۔ حامد بہت خوش ہو گئے ۔ مجھے باہوں میں بھر کر سینے سے لگا لیا ۔آدھی رات گزر چکی تھی حامد کی آنکھیں نیند سے بوجھل تھیں مگر میں باتیں کئے جا رہی تھی وہ مجھے محبت سے مجھے دیکھتے ہوئے میری باتیں سن رہے تھے ۔
’’حامد ایک بات کہوں ‘‘۔ میں نے حامد کا چہرہ اپنے دونوں ہاتھوں میں تھام لیا ۔
’’مجھے کچھ ہو جائے تو غم نہ کرنا ۔ نئی زندگی کی شروعات کرنا ۔اور مجھے اسی قصبے کے قبرستان میں دفن کرنا‘‘۔حامد نے میرے ہونٹوں پہ اپنی ہتھیلی رکھ دی ۔
’’ ایسی باتیں دوبارہ کبھی مت کرنا ۔ خدا نہ کرے تمہیں کچھ ہو ‘‘۔ انہوں نے مجھے زور سے سینے میں بھینچ لیا
دوسرے دن حامد کے اسکول جانے کے بعد زیب آیا تو میں نے اپنا فیصلہ اسے سنا دیا ۔ اس نے سر جھکا لیا ۔
’’ تم یہ بہت بڑی قربانی دینے جا رہی ہوں ۔ میں تمہارے فیصلے کا احترام کرتا ہوں‘‘۔
میں نے اپنے ڈوپٹے کی طرف دیکھا پھر آم کی اسی ٹہنی کی طرف دیکھا جس پہ زیب مجھے پہلی دفعہ بیٹھا بانسری بجاتا دکھائی دیا تھا ۔ وہ میریبات سمجھ کر مسکرانے لگا اور میں قہقہہ لگا کر ہنس پڑی ۔
پھر ایک سیاہ سرنگ تھی جس میں میں نہ جانے کب تک پھسلتی رہی ۔ پھر یکایک روشنی سے میری آنکھیں چندھیا گئیں ۔ جب آنکھیں کچھ دیکھنے کے لائق ہوئیں تو دیکھا میں مسجد سے متصل قبرستان کے ایک درخت کے نیچے کھڑی ہوں ۔ اور میرے سامنے ایک جنازہ رکھا ہے ۔ حامد جنازے کے قریب بیٹھے آنسوں بہا رہے ہیں ۔ مجھے اپنے والد ،بھائی ، بہنوئی اور دیگر رشتے دار بھی دکھائی دئے جو خود بھی رو رہے تھے اور حامد کو تسلی دلاسہ دے رہے تھے ۔پھر پیچھے سے کسی نے میرے کاندھے پہ ہاتھ رکھا ۔ میں چونک کر مڑی ۔ زیب میرے کاندھے پہ ہاتھ رکھے میری طرف دیکھ رہا تھا ۔ اس نے میرا ہاتھ تھاما ۔ میں اسکے ساتھ ہوا کی مانند اڑنے لگی اڑ کر ہم درخت کی ایک شاخ پر جا بیٹھے اور وہاں سے لاش دفن ہوتے ہوئے دیکھنے لگے ۔ میں نے اطمینان سے حامد کے کاندھے پہ سر رکھ دیا ۔

Published inعالمی افسانہ فورمعلی نثار