Skip to content

جھوٹے آدمی کے اعترافات

عالمی افسانہ میلہ 2015

افسانہ نمبر 12
لیاقت علی
جھوٹے آدمی کے اعترافات

لیاقت علی، پہاولپور، پاکستان

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

پروفیسر حماد نے گھر کی بالائی منزل پر موجود اپنے کمرے پر اچٹتی سی نگاہ ڈالی۔ ہر شے مناسب ترتیب میں دکھائی دے رہی تھی۔ اُس نے میز پر کیک سجایا اور کاٹنے کے بعد ایک ٹکڑا اُٹھائے آئینے کے سامنے آن کھڑا ہوا۔ سالگرہ مبارک! اس نے آئینے میں مسکراتے اپنے ہی عکس کو مخاطب کرتے ہوئے کہا۔ پھر وہ پلٹا اور کرسی پر آ کر بیٹھ گیا۔ کچھ دیر سستانے کے بعد سوچنے لگا کہ اُسے اَب ریٹائرڈ ہوئے کافی وقت بیت چکا ہے تو کیوں نہ اپنی یادداشتوں کو ترتیب دیا جائے۔ یہ خیال اسے از خود اس الماری تک لے آیا جس میں رکھی سبھی ڈائریوں اور کچھ بے ترتیب صفحات میں اُس کی زندگی کے ساٹھ سے کچھہ اوپر برس سمٹے ہوئے تھے۔

کسی بھی انسان کے لیے زندگی جینے کے کیا اسباب ہو سکتے ہیں؟ یا یوں کہیے کہ وہ کیا کیا ہے جو کسی کو زندہ رہنے کا جواز دے سکتا ہے؟ بس یہی ایک بنیادی کلیہ تھا جسے سامنے رکھتے ہوئے اُس نے اپنی یادداشتوں کو مرتب کرنا شروع کیا تھا۔ زندگی اُس کے سامنے اُلجھی ہوئی ڈور کی مانند پڑی تھی کہ جسے جہاں تک ممکن ہوا اُس نے سلجھایا مگر اَب بھی نجانے کتنی گرہیں تھیں جنہیں کھولنے کا ہُنر اُس کے پاس نہیں تھا۔ زندہ رہنے کا پہلا جواز اُس کے نزدیک کیا تھا؟ ان یادداشتوں کا پہلا صفحہ یہیں سے شروع ہونا تھا۔ اُس نے ماضی کے دھندلکوں میں گرد پڑی یادوں کو جھاڑ پونجھ کر دیکھنا شروع کیا تو اُسے دکھائی دیا کہ وہ اَبا کی اُنگلی پکڑے سکول جا رہا تھا۔ اَبا کے دھیرے دھیرے اُٹھتے قدموں سے قدم ملانے کی خواہش میں وہ لمبے لمبے ڈگ بھرتا مگر پھر کچھ ہی دیر میں اَبا کے ہاتھ میں دی اُس کی اُنگلی کی گرفت میں تناؤ سا آنے لگتا جسے محسوس کرتے ہوئے کبھی ابا کے قدم اور سست ہو جاتے تو کبھی اُس کے لمبے ڈگ کم و بیش دوڑ میں بدل جاتے۔

“ایک دن تم بھی اَبا کی طرح بڑے ہو جاؤ گے۔”

اماں ہر رات اُسے یہی آس دلا کر دودھ کا گلاس پکڑاتیں اور وہ آخری گھونٹ کے بعد اسی اعتماد سے سو جاتا کہ صبح وہ اَبا کے برابر کا ہو گا۔ اگلی صبح خود کو پہلے جتنا ہی پا کر وہ بہت بد دِل ہوتا۔ پھر سوچتا اماں نے مجھ سے جھوٹ کیوں بولا؟ اَب میں اُن پر کبھی اعتبار نہیں کروں گا۔ وہ تہیہ کرتا مگر اگلی رات پھر اَماں کی باتوں میں اُسے وہ تاثیر دکھائی دیتی کہ اعتبار کے سوا کوئی چارہ نہ رہتا۔ وہ غٹاغٹ دودھ کا گلاس پیتا اور اَماں کے ہاتھ پر ہاتھ دھر کر کہتا :

“اماں اگر کل بھی میں اَبا جتنا نہ ہوا تو بس تمہاری میری ہمیشہ کی کُٹی۔۔۔!۔ “

تو بس یوں سمجھیے اُس کے لیے جینے کی پہلی بڑی وجہ ابا جتنا بڑا ہونا تھا۔۔۔! لیکن یہ کیا ہوا کہ ہر صبح اُس کی یہ خواہش ناکامی سے دو چار ہوتی رہی۔ پھر اماں نے اُسے عجب وسوسے میں ڈال دیا:

“تم اچھی نیت سے دودھ نہیں پیتے۔ جن کی نیت ٹھیک نہ ہو وہ کبھی بڑے نہیں ہوتے۔”

یہ نیت کا مخمصہ کیا ہے؟ وہ سوچتا رہا۔ ہر رات اچھی نیت کے تعاقب میں نجانے کتنے فتور اُس کے ذہن میں آن بیٹھے جن سے لڑتے جھگڑتے وہ سو جاتا اور اگلی صبح اُسے اپنی شکست کا احساس اُس وقت ہوتا جب وہ دوڑ کر اَبا کا سلیپر پہنتا تو وہ اُسے اتنا ہی کھلا ملتا جتنا رات سونے سے پہلے تھا۔ پھر پلٹ کر اپنے جوتے میں پاؤں ڈالتا جو اب تک اُسے تنگ پڑ جانا چاہیے تھا مگر وہ بھی اُسے پورا ہی ملتا۔ وہ مایوس ہو جاتا۔ لیکن اَماں پھر کسی نئے ڈھنگ سے اُس کی اُمیدوں کو جگا دیتیں اور وہ آس کی ڈور تھا تھامے پھر سے اُمیدوں کی نئی منزلوں کو نکل جاتا۔

کچھ عرصہ بیتا، اور جب اُسے سکول کی اُستانی نے یہ احساس دلوایا کہ اُس کے لیے جینے کا بڑا مقصد اپنی جماعت میں اوّل آنا ہے۔ آغاز میں بظاہر اجنبی بچوں کے بیچ اب یہ نیا رشتہ پروان پانے لگا۔ مقابلے کا رشتہ۔ نہ چاہتے ہوئے بھی اُس نے خود کو اِس دوڑ میں شامل دیکھا جو اوّل آنے کے لیے جاری تھی۔ پھر اُستانی ہی کیا اماں، ابا اور رشتے داروں نے بھی اُسے احساس دلایا کہ اُس کی تکریم اُسی پوزیشن سے جڑی ہوئی ہے۔ اُس نے بہت کوشش کی مگر یہ پوزیشن اُس سے ہمیشہ گریزاں ہی رہی۔ اَبا جتنا ہونا اَب اس کے لیے ثانوی ہی نہیں غیر اہم مسئلہ بن گیا مگر اوّل آنا ایسا خواب جس کی تعبیر میں وہ دن رات جُت گیا۔ بھاگتے دوڑتے، ہانپتے، گرتے پڑتے وہ اس پوزیشن کے قریب قریب تو آیا مگر اُس اعلان کو سننے کا ہمیشہ متمنی رہا جو سکول کے سالانہ فنکشن میں ہوتا اور جب ہال کسی نام کی پکار پر تالیوں سے گونج اُٹھتا، تو وہ سوچتا کبھی اُس کا نام بھی پکارا جائے گا؟ لیکن ہر بار اُس کا یہ خواب خواب ہی رہ جاتا اور وہ سب سے نظریں چرائے خاموش سا ہال سے نکل جاتا۔ وہ اوّل کیوں نہیں آتا؟ سوائے اُس کے ہر شخص کے پاس اِس سوال کا جواب تھا مگر اُسے کوئی جواب مطمئن نہ کرتا۔ پھر اَماں کی وہی بات کہیں سے عود کر ذہن میں آن بیٹھتی۔ نیت کا فتور! وہ خود سے اُلجھنے لگتا۔ زندہ رہنے کے لیے ضروری یہ مسئلہ بھی آہستہ آہستہ اُس کے نزدیک اہم نہ رہا۔

پھر کیا ہوا تھا؟ اُس نے یادوں کو ٹٹولنا شروع کیا تو اُس کے ذہن کے کینوس پر ایک دھندلا سا عکس آہستہ آہستہ صاف تصویر کی مانند اُبھرنے لگا۔ اگرچہ وہ اس بات کا تعین پورے وثوق سے آج بھی نہیں کر سکتا تھا کہ اُس کا پہلا پیار کون تھا؟ مگر پھر بھی حافظے میں محفوظ چہروں میں فری کا چہرہ ہی ایسا تھا جو اُس کے لیے جینے کی ایک بڑی وجہ بن سکا تھا۔ بھولے بسرے پرانے محلے کی تنگ و تاریک گلیاں جیسے اُس کے اندر آباد ہونے لگیں اور اُس نے خود کو فری کا منتظر پایا۔ وہ ہر صبح انہی گلیوں سے گزرتی بڑی سڑک پر پہنچتی اور پھر کچھ ہی فاصلہ طے کرنے کے بعد کالج چلی جاتی۔ گھر سے کالج کا یہ سفر اگرچہ وہ اکیلے ہی طے کرتی لیکن اُس کے لیے فری کا یہ سفر کسی معجزے سے کم نہ تھا۔ ہر صبح وہ اپنی دانست میں سب سے اچھے لباس کو منتخب کرتا، اُس کے تعاقب میں کالج تک جاتا اور پھر بوجھل قدموں کے ساتھ اپنے کالج کو چل دیتا۔

بے شمار کلاس لیکچرز، اَن گنت سیمینارز اور کانفرنسز میں اپنے علم اور خطابت کے جوہر منوانے والے پروفیسر حماد کو فری سے کیا جانے والا پہلا اظہار آج بھی یاد آیا تو اُس کا گلہ خشک ہو گیا۔ کئی مہینوں کی ریاضت اور حوصلوں کو مجتمع کرنے کے بعد پہلی بار بڑی سڑک پر مڑنے سے پہلے اُس نے فری کو مخاطب کیا تھا۔۔۔ نجانے وہ کیا کہنا چاہتا تھا اور کیا کہہ رہا تھا۔ اپنی بے ربط، لایعنی اور بے موقع اُس گفتگو پر اُس نے ایک عرصہ تک خود کو ملامت کیا تھا۔ آئینے کے سامنے کھڑے ہو کر بھی خود کو لعن طعن کی تھی۔ بے وجہ اشیاء کو ٹھوکریں ماری تھیں، مٹھیاں بھینچی تھیں اور خود کو غلیظ گالیاں بھی بکی تھیں ۔لیکن پھر بھی فری کے قدموں کی آہٹ اُس کے مجتمع حوصلوں اور لفظوں کی ساری ترتیب پلٹ دیتی تھی۔ اُس کی زبان بل کھا کے تالو سے جا لگتی اور دِل اس زور سے دھڑکنے لگتا تھا کہ اُسے محسوس ہوتا گویا وہ اِس دھڑکن کی آواز سن سکتا ہے۔۔۔ !

ہاں یقیناً زندگی جینے کی ایک بڑی وجہ فری بھی تھی۔ اُس نے خود کو آج بھی انہیں بے ترتیب دھڑکنوں میں تلاش کرنا چاہا جو فری کی آمد پر ہو جایا کرتی تھیں اور وہ خود کو نارمل نہیں رکھ پاتا تھا۔ اُس کا جی چاہتا (اور اَب یہ بات سوچ کر اُسے ہنسی آرہی تھی) کہ فری اُسے کچھ کرنے کو کہے۔ لیکن کیا؟ کچھ بھی۔۔۔ کچھ بھی ایسا جو کوئی اور نہ کر سکے۔ یہاں تک کہ وہ اُسے کوئی پستول تھمائے اور کہے حماد تمہیں مجھ سے محبت کا دعویٰ ہے تو لو اسے کنپٹی پر رکھو اور گولی چلا دو ۔۔۔! اُف موت اس قدر حسین بھی ہو سکتی ہے؟ اس سے پہلے اُسے اس کا احساس کبھی نہیں ہوا تھا۔ ایسا کوئی بھی تصور اُسے سرشار کرنے لگتا اور وہ سوچتا فری آخر ایسا کہتی کیوں نہیں ۔۔۔!

فری آج کہاں ہو گی؟ ہو گی بھی یا ۔۔۔؟ ایک لمحے کو اُس نے سوچا مگر بوسیدہ ڈائریوں میں سمٹی زندگی کے بیچ یہ دونوں سوال اُسے بے معنی سے دکھائی دیے۔ پھر اُسے اَبا کی خوفناک متنبہ کرتی وہ آنکھیں یاد آئیں جن سے خون ٹپک رہا تھا اور اُن کے قدم بار بار اُسے مارنے کو اُٹھتے اور اماں آگے ہاتھ باندھے اُس کی ڈھال بن جاتیں۔ مگر کچھ ہی دیر میں اَبا پھر غصے سے اُٹھتے اور کہتے:

”کنیز فاطمہ میرے منہ پر کالک مل دی اِس حرام زادے نے۔ کہیں کا نہیں چھوڑا مجھے۔ رسوا کر دیا محلّے بھر میں مجھے۔ اپنی بہنوں کا خیال بھی نہ آیا اس سوّر کو ۔۔۔ سنو ہم اِسی ہفتے یہ محلّہ چھوڑ رہے ہیں۔۔۔!”

اُس کا دل بیٹھنے لگا تھا۔ اور پھر اَبا کی یہ دھمکی محض دھمکی نہ تھی۔ اگلے روز گھر کا سامان پیک ہونے لگا تھا اور پھر ٹرک ایک نامعلوم سفر پر نکل کھڑا ہوا تھا۔ اُس کی آنکھیں خشک تھیں مگر دل بلک بلک کر رو رہا تھا۔ آخر ایسا کیا کردیا تھا اُس نے؟ کالج کی کاپیوں اور ذمہ کام سے بھرے رجسٹروں میں بے معنی اَن چاہے مسلّط کئے لفظوں کے ساتھ اگر اُس نے کچھ سچے جملوں اور جذبات کا اظہار کچھ صفحوں میں سمیٹ کر فری کو تھما دیا تھا تو کیا برا کیا تھا؟ سچ کی معتبر گواہی لئے ایک ایک لفظ کے مقابلے میں جھوٹ سے بھرے رجسٹرڈ تو سبھی کو عزیز تھے اور خود ٹیچر بھی اس پر شاباش کی مہر ثبت کرتی تھیں مگر یہ چند صفحات ہر ایک کے لیے اتنی بڑی ہزیمت بن گئے تھے؟ اِس کا دل بلک بلک کر رو رہا تھا اور پھر وہ شہر کے ایک دور دراز علاقے میں جا بسے تھے۔ ابّا نے اُس کے سامنے سابقہ محلّے میں جانے کی سزا اپنے لیے یہ تجویز کی کہ وہ پھانسی لے لیں گے۔ اماں نے اپنے سر پر ہاتھ رکھوا کر اُس سے قسمیں لیں کہ وہ کبھی بھولے سے بھی اُس محلّے کا رخ نہیں کرے گا۔ کئی بار اُس کے قدم بنا ارادہ فری کے گھر کے راستوں کی طرف بڑھتے مگر ابّا کی شہتیر سے لٹکتی لاش اُس کے ذہن میں گردش کرنے لگتی اور وہ قدم روک لیتا۔

مجھے مرجانا چاہیے۔۔۔! اس نے فیصلہ کیا۔ اور پھر ایک عرصہ موت اُس کے لیے جینے کی ایک بڑی وجہ بن گئی۔ لیکن کیسے؟ کب؟ اور کہاں؟ یہی سوچتے سوچتے وہ وقت کے اُس حصار سے نکل آیا جو اُسے بخوشی موت کی آغوش میں لیے جا رہا تھا۔

فری کا چہرہ ماضی کی دھند میں کہیں گم ہو گیا اور زندگی جینے کے کئی اور اسباب اُس کے سامنے آن کھڑے ہوئے۔ انہی اسباب میں ایک بڑا سبب اُس کے کالج دور کے اُستاد پروفیسر مکرم بھی تھے۔ پروفیسر حماد نے ڈائری کے صفحات پلٹے اور پروفیسر مکرم کا چہرہ اُبھرنے لگا۔ کتنا مان تھا اُسے اپنے اُستاد پر۔۔۔ وہ اُن کے لفظوں کے سحر میں کہیں گم ہونے لگا تھا۔ زندگی جینے کا ہر قرینہ اُسے انہی کی گفتگو میں دکھائی دینے لگا تھا۔ وہ اُس کے ناپسندیدہ اور ناخوشگوار تجربات کو بھی پسندیدگی کی سند عطا کر دیتے تو وہ تجربات اُس کے لیے زندگی کا انمول اثاثہ بن جاتے اور اگر وہ اُس کے بظاہر پسندیدہ عمل میں بھی کوئی بھی نقص تلاش کر لیتے تو وہ سوچتا وہ کتنی بڑی گمراہی کا شکار تھا۔ اپنے عصر کی زندہ شخصیات سے تاریخ کے صفحات میں گم چہروں تک کا اعتبار اُسے مکرم صاحب کی توجیہہ میں پوشیدہ ملتا۔ وہ کوئی لفظ بولتا یا لکھتا تو سوچتا اس کی قدر و منزلت کا معیار کیا ہو سکتا ہے؟ پھر اُسے محسوس ہوتا اگر یہ مکرم صاحب کو پسند آگیا تو گویا مستند ٹھہرا۔ لیکن پھر وقت کی سفّاکی نے دھیرے دھیرے اُس کے اندر موجود مکرم صاحب کے بُت کو ہدف بنانا شروع کیا اور ایک وقت آیا کہ جب یہ بت بھی ٹوٹ کر پاش پاش ہو گیا۔ اس انہدام پر وہ بہت رویا مگر افسوس کہ وہ اسے بچا نہ پایا۔ اُن کا بت کیسے پاش پاش ہو سکتا تھا؟ وہ سوچتا مگر پھر اُسے جواز ملتے تو وہ اُن سے دانستہ طور پر نظریں چرا کر بھی نہ چرا سکتا تھا۔ پھر اماں کی بات یاد آتی۔۔جن کی نیت میں فتور ہو وہ کبھی بڑے نہیں ہوتے۔ تو کیا یہ بھی سارا اُس کی نیت کا فتور تھا جو مکرم صاحب کے مضبوط بُت کو پاش پاش کر رہا تھا؟ وہ مخمصے میں پڑ جاتا تھا۔ پھر ایک عرصہ اُسے اس کرب کو بھی بھلانے میں لگا۔

اس اثناء میں اُس نے تعلیم مکمل کی۔ تعلیم مکمل کرنے اور ملازمت ملنے کے بیچ کے دو برس کا اضطراب بھی اُس کے لیے نہایت اہم تھا۔ ابا کی آنکھوں سے چھلکتے وہ سوال کہ جن کا جواب اُس کے پاس نہیں تھا ۔۔۔ دفتروں کے دھکے ۔۔۔ اُمیدوں اور وعدوں کے جھوٹے دلاسے ۔۔۔!

کتنا کٹھن تھا یہ سفر اور جب وہ تھک کے بیٹھ گیا تو ایک روز ڈاکیے نے نوید سنائی کہ اُسے ایک کالج میں بطور اُستاد ملازمت مل گئی ہے۔ اُسے جینے کی ایک اور بڑی وجہ مل گئی۔کالج میں ہر برس نت نئے طالب علموں کے بیچ وہ کسی بڑے آدرش کا مبلغ بن گیا۔ زندگی، انسان، وقت اور کائنات جیسے مشکل اور پیچیدہ موضوعات پر وہ بے شمار سوالات اپنے طالب علموں میں بانٹتا رہا۔ کچھ کے جواب اُسے ملے اور کچھ تاحال حل طلب ہی رہے۔ ان میں سے بعض سوالات تو وہ تھے جنہیں خود سے پوچھتے ہوئے بھی اُسے خوف محسوس ہوتا۔ اور پھر جینے کا ایک مقصد ان سوالوں کے جواب تلاش کرنا بھی تو تھا۔ لیکن اُسے جتنے جواب ملتے وہ اپنے دلائل اور اُس کی تائید کے باوجود اندر سے کھوکھلے دکھائی دیتے۔ اُس کا دل مطمئن نہ ہوتا۔ اماں کی بات پھر سے کہیں عود کر آتی:

’’جن کی نیت ٹھیک نہ ہو وہ کبھی بڑے نہیں ہوتے۔‘‘ وہ پلٹ کر اپنے اندر کا سفر اختیار کرتا جہاں قدم قدم پر نیت کا فتور کسی اژدہے کی مانند اُس کا راستہ روکے کھڑا ملتا۔ اُسے اپنا قد چھوٹا اور وجود سمٹتا ہوا محسوس ہوتا۔ ہینگرز پر لٹکے اُس کے اپنے کپڑے بہت بڑے لگنے لگتے اور اُسے محسوس ہوتا وہ آج بھی ابّا کے کھلے جوتوں میں اپنے چھوٹے چھوٹے پاؤں ڈالے دیکھ رہا ہے کہ نجانے یہ اُسے کب پورے آئیں گے۔۔۔؟

ایسے میں اُس کی زندگی نے ایک نئے سفر کا آغاز کیا۔ اپنے اندر کے سفر کا۔ اُس نے چھوٹی چھوٹی سچائیوں کی کھوج ترک کی اور بڑی سچائی کی تلاش میں نکل کھڑا ہوا۔ آغاز میں اُس نے چاہا کہ وہ خدا کو زندگی کے زندہ ہنگاموں اور جیتی جاگتی مخلوق میں تلاش کرے۔ لیکن مرشد نے اُسے اس تلاش کے لیے دنیا کے ہنگاموں سے نکال کر جنگل اور بیابانوں میں روانہ کیا۔ ایک عرصہ وہ ان جنگل و بیابانوں میں اُس کی تلاش میں سرگرداں رہا۔ واپس لوٹا تو مرشد نے اُسے نوید سنائی کہ اُس کا سفر کامیاب ٹھہرا اور وہ اپنی تلاش میں کامیاب رہا۔ اُس نے کامیابی کے سہرے باندھے، مبارک بادیں وصول کیں، مرشد کو نذرانے دیے اور لائق تعظیم ٹہرا لیکن پلٹ کر جب یہی سوال خود سے پوچھا کہ کیا اُس کا سفر کامیاب ٹھہرا؟ تو جواب نفی میں نکلا۔ اُس نے اپنے حوصلوں کو مجتمع کیا اور دھیرے سے مرشد کے کان میں سرگوشی کی:

“مرشد مجھے لگتا ہے میرا سفر ناکام رہا۔”

مرشد کی آنکھوں سے جلال ٹپکنے لگا اور انہوں نے اُسے تنبیہ کی کہ دیکھ ناشکری مت کر۔ وہ اگر دلوں میں گھر کر سکتا ہے تو کچھ بعید نہیں کب دلوں کو ویران بھی کر جائے۔ ایسی ویرانی سے ڈر اور ایسے سوالات سے گریز برت۔ اُس نے چپ سادھ لی۔ اماں کا کہا اسے پھر سے یاد آنے لگا۔جن کی نیت میں فتور ہو وہ کبھی بڑے نہیں ہوتے۔ کیوں زندگی کے ہر سفر میں نیت کا فتور کسی اژدھے کی مانند اُس کا راستہ روک لیتا ہے؟ کیوں ہر بت اس کے لئے کبھی نہ کبھی ریت کی دیوار ثابت ہوتا ہے۔ وہ زندگی میں وہ سب بنا جو اُس نے چاہا مگر یہ بھی عجب نہ تھا کہ اُس کی گواہی اس کے حلقہ احباب نے تو دی مگر وہ خود اپنی تائید حاصل نہ کر سکا۔ مرشدوں، ولیوں، دانش وروں، حکیموں، جوتشیوں اور فن کاروں کی صداقت بھی کیا تائید کنندوں کی محتاج ہوتی ہے؟ کیا خود سے پوچھے گئے سوالوں کے جواب انہیں بھی نہیں ملتے؟ یا شاید نیت کا یہ فتور اُسی کا مقدر ہے جو ڈھلتی شام کے سائے کی مانند اُس کی عمر کے ساتھ ساتھ اور بڑا ہوتا جا رہا ہے؟

اُس نے یادداشتوں کی ڈائری اُٹھائی اور اُس کے آخری صفحے پر لکھا کہ وہ اب تک جو کہتا، سنتا اور لکھتا آیا ہے وہ، وہ نہیں تھا جو وہ کہنا، سننا یا لکھنا چاہتا تھا۔ زندگی کے سچ میں سرگرداں وہ آج یہ اعتراف کرتا ہے کہ جھوٹ دنیا کی سب سے بڑی سچائی ہے اور اُس کی اِن یادداشتوں کو ایک جھوٹے آدمی کے اعترافات سمجھ کر پڑھا جائے۔

Published inعالمی افسانہ فورملیاقت علی