Skip to content

جڑو ں سے جو اُکھڑے

عالمی افسانہ میلہ 2018
افسانہ نمبر 150
جڑو ں سے جو اُکھڑے
سید احمد قادری۔اورنگ آباد ۔بہار ۔انڈیا

مرزا صفیرالدین ہجرت درہجرت کے کرب کوجھیلتے ہوئے،اب سے دس سال قبل جب وہ یہاں آئے تھے،تو انہیں ایسالگاتھا ’جیسے بہت سخت دھوپ کی تیز نو کیلی تمازت اورلوکے تھپیڑوں میں مسلسل چلتے ہوئے اچانک ایک پُر فضا اور پُربہارباغ میں آگئے۔ جہاں ہرطرف ہرے بھرے پیڑوں کی ٹھنڈی چھاؤں،طرح طرح کے خوشنما پھول اور ان پھولوں کی خوشبو سے معطر فضا تھی۔ جسم کے رگ وپئے میں اترتی ہواسرد ہوائیں تھیں۔وہ کئی دنوں تک اس ٹھندی چھاؤں میں کھڑے ہوکر سردہوا ؤں کواپنے جسم کے پورپورمیں اتارتے رہے۔مسلسل خاردار اوراندھے راستوں پر چلتے چلتے ان کاجسم لہولہان تھا ,اورپاؤں چھالے سے بھرے تھے۔لیکن یہاں آنے کے بعد چنددنوں میں ہی بیٹا،بہو اوران کے دونوں بچوں کی بے پناہ محبت اورپیارنے ان کی ساری تکان اور پریشانیوں کودور کردیاتھا۔
امریکہ، انھیں جنت ارضی محسوس ہوا۔ ہرطرح کی آسائش اورآرام میسرتھا۔ بیٹا،بہواور دونوں بچے ہروقت ان کی دلجوئی کرتے رہتے۔ گرچہ صبح سویرے ہی بیٹا،بہواپنے اپنے جاب پرنکل جاتے اوربچے اسکول کے لئے روانہ ہوجاتے۔اس کے بعداچھا خاصہ وسیع و عریض سجا سجایا گھر،فریز میں طرح طرح کے کھانے پینے کی چیزیں،جوچاہوکھاؤ پیو،ٹی۔وی دیکھو، انٹر نِٹ پردوستوں،عزیزوں سے باتیں کرو،فیس بک پر سینکڑوں دوستوں کی بھیڑ تھی،لیکن تنہائی کاعفریت پورے گھرمیں قبضہ جمائے رہتا۔ شروع کے دنوں میں مرزا صاحب نے ا س تنہائی کے عفریت سے بھی دوستی کرلی تھی اوروقت گذاری کے لئے ٹیلی ویژن پرخبریں، سیرئیل،انٹرنِٹ پراپنی دلچسپی کے ویب سائٹس،فون پر دوستوں اورعزیزوں سے گھنٹوں گفتگو۔ لیکن دھیرے دھیرے ان سب سے بھی دل اچاٹ ہوگیا اور تنہائی کاعفریت انہیں کاٹ کھانے کو دوڑنے لگا۔ اس سے بچنے کے لئے وہ مختلف کتابوں اور رسالوں میں پناہ لینے کی کوشش کیاکرتے،لیکن ان میں بھی انھیں پناہ نہیں ملتی۔ تھک ہار کروہ نیند کی پناہ میں جاناچاہتے،لیکن نیندبھی کوسوں دورکھڑی ان کے حال پر مسکراتی رہتی۔ کبھی ہلکی سی نیندآتی بھی تو بچپن کی یادیں،جوانی کی پریشانیاں ……..ان کا تعاقب شروع کر دیتیں اور پھر کبھی انہیں ایسا لگتاکہ ان کے سرہانے ان کے ابا،اماں،بھائی جان،باجی سب کے سب کھڑے ہیں اور کہہ رہے ہیں،اٹھو، جاگو صفیر …………کتنا سوووگے…..اور وہ ہڑبڑاکراٹھ کربیٹھ جاتے،چاروں جانب بے چینی کے عالم میں نظریں دوڑاتے…..لیکن یہاں توکوئی نہیں……. وہ ہیں اورتنہائی ہے۔ ہاں ان لوگوں کی یادیں ان کے دل ودماغ کوتڑپانے اورآنکھوں کوسمندر بنانے لگتیں………
اب یہ عیش و آرام کی زندگی بھی انہیں بے کیف لگنے لگی تھی اوریہ محسوس کررہے تھے کہ وہ اب زیادہ دنوں تک زندہ نہیں رہیں گے…..کوئی انہیں بلارہاہے، آجاؤ،صفیر…….زندگی میں تم نے بہت دکھ جھیلاہے،لمحوں کی خطا نے کئی دہائیوں کی سزا دی ہے تمہیں…..ہمیں….ہم سب کو……آؤ…….. اب تم بھی آرام کرو۔زمانے کی گردشوں کے راستے پر چلتے چلتے بہت چل چکے…….اب آرام کرو…….
ایک ویک اینڈ میں،جب مرزا صفیرالدین سبھی کے ساتھ مل کر رات کا کھاناکھاکر بیٹھے تھے اورخوش گپیوں میں مشغول تھے، اس دوران ان کے بیٹامرزااسلم نے محسوس کیاکہ، بات کرتے کرتے اباکہیں گم ہوجارہے ہیں، اداس،اداس سی ان کی آنکھیں خلاء میں کچھ ڈھونڈ نے لگتی ہیں۔ مرزااسلم نے فکر مند ہوتے ہوئے پوچھا…..
”کیابات ہے ابّا، آپ کچھ پریشان سے لگ رہے ہیں؟“
مرزاصفیرالدین بیٹے کے اچانک اس سوال پرچونک پڑے اورکہا…….
”پریشان……ہاں بیٹا،میں پریشان توہوں۔ دراصل ان دنوں مجھے اپناملک بہت یادآرہاہے اورمیری دلی خواہش ہورہی ہے کہ کچھ دنوں کے لئے میں اپنے ملک جاؤں اور…………“
مرزاصفیرالدین کی بات مکمل بھی نہیں ہوپائی تھی کہ بیٹامرزااسلم نے چونکتے اورپھرمسکراتے ہوئے پوچھا……..
”کون ساملک ابّا…..“؟
اس سوال پر مرزاصغیرالدین بھی چونک پڑے اورخودہی بڑبڑانے لگے……
”ملک کون ساملک…؟میراکون ساملک…؟، جسے میں اپناکہوں……ہندوستان؟پاکستان؟ بنگلہ دیش……..؟ “
اورپھراپنے بیٹے سے مخاطب ہوئے۔
”ہاں،بیٹا،میں تمہاری بات سمجھ رہاہوں…….میں اس ملک کی بات کررہاہوں،جہاں ہم اپنی جڑوں کوچھوڑ آئے، شاندار مستقبل کے خواب سجانے کے لئے، لیکن شاندار مستقبل تو چھوڑو، وہاں پناہ تک دینے کو کوئی تیار نہیں ہوا کہ ہم لوگوں کی وہاں آمد سے ان لوگوں کا روشن مستقبل، اندھیرے میں ڈوب جانے کا خدشہ تھا اور ایک بارہم اپنی جڑوں سے اکھڑے،تو پھر ہمیں کہیں پناہ نہیں ملی…….دراصل ادھر کئی دنوں سے مسلسل ا بّامیرے خوابوں میں آرہے ہیں،ان کا ہنستامسکراتا چہرہ………مجھے ماضی کے دھندلکے میں لے جاتا ہے……….میں ان کی گود میں طرح طرح کی شرارتیں کرتا……..کبھی وہ میرے گالوں کوچومتے،توجواب میں،میں بھی ان کے گالوں اورپیشانی کوچومتا…….امّاں کی بھی بہت یاد آ رہی ہے۔میں اپنے ابّا کی قبرپرجاکر فاتحہ پڑھنا چاہتاہوں اورقبر کے قریب بیٹھ کر ان سے بہت سی باتیں کرنا چاہتا ہوں…… میرے اباتو مجھے دس سال کی عمر میں ہی روتا بلکتا چھوڑ کرسفرآخرت پرروانہ ہوگئے تھے اوران کے گذرجانے کے دوسال بعدہی اماں اورماموں وغیرہ نے آخری باران کی قبرپر جاکر فاتحہ پڑھنے کی تاکید کی تھی۔ اس وقت، ان کی یہ بات میری سمجھ میں نہیں آئی تھی……..اورمیں جس دن فاتحہ پڑھ کر گھرآیاتھا،اس کے دوسرے ہی دن تووہاں سے ہم لوگ ایک نئے اوراندھے سفرپر اپناسب کچھ چھوڑ کرنئی اورشاندار دنیابسانے کے لئے اس ٹرین سے روانہ ہوئے تھے،جس ٹرین میں لوگ بھیڑبکریوں کی طرح سوار تھے۔ ہر شخص کے چہرے سے پریشانیاں جھلک رہی تھیں،لیکن آنکھوں میں سنہری خواب بسے تھے…….لگاتارکئی دنوں تک رُک رُک کر مسافت طئے کرنے کے بعد جب ہم بظاہر منزل پرپہنچے……..تومنزل کاکہیں پتہ نہیں تھا………آس پاس ہر چہار جانب اداسیاں اور ما یوسیاں چھائی ہوئی تھیں۔ سارے سنہری خواب کوبے دردوقت اورحالات اور ایک غلط فیصلے نے چکناچور کر دیا تھا۔بے پناہی جیسے ہمارامقدر بن گیاتھا……برسہابرس تک ہم منزل کے متلاشی رہے…..میں نے بچپن سے جوانی کی دہلیز پرقدم رکھ دیاتھا، اور اس وقت تک وہاں ہماری اپنی کوئی پہچان نہیں بن پائی تھی…….اجنبیوں کی طرح ادھر سے ادھر بھٹکتے رہے،منزل کی تلاش میں……..بالکل بنجارہ بن گئے تھے ہم لوگ، کبھی یہاں خیمہ،کبھی وہاں خیمہ…….جسم زخموں سے چور اورروح لہولہان…….ایسے میں اپنی جڑیں بہت یادآتی تھیں……..وہ کشادہ ساگھر……گھرکے اند بڑا سا آنگن……گھرکے باہر وسیع و عریض دالان……اوراس دالان کے آگے دانہ چگتی ہوئی مرغیاں،چن چن،چن چن کرتی ہوئی چینامرغیاں…….گھرکے سامنے کاتالاب،تالاب میں طرح طرح کی اچھلتی تیرتی مچھلیاں، اٹھکھیلیاں کرتے ہنس بطخ اورچھوٹی بطخیں……مچھلی کے شکار کے لئے تالاب کے کنارے اترتے ہوئے بگلوں کے غول،تالاب کے اردگرد جھومتے گاتے طرح طرح کے پرندے……..اورتالاب کے ارد گرد لہلہاتے کھیت……کھیتوں سے باسمتی چاول کی پھوٹتی بالیوں سے معطر کرنے والی خوشبو…….اورپھرچند قدم کے فاصلے پر میرامکتب…….جہاں مولوی خیرالدین صاحب کے ہاتھ سے کھجورکی چھڑی شائد ہی الگ ہوتی اورہرایک معمولی غلطی پر بھی ایک چھڑی،سڑاپ سے پیٹھ پر لگتی۔ اس وقت کی،اس چھڑی کی وہ مار اوربعدمیں ماسٹر بدری نرائن جی کے خلوص ومحبت کے ساتھ دی گئی تعلیم نے زندگی کے بوجھ کوڈھونے میں بہت مدد کی….ان دونوں استادوں کی بھی بہت یادآتی ہے…….ماسٹر بدری نرائن جی کا بیٹا کشور میرابہت اچھا دوست تھا……..جب کبھی میں اس کے گھرجاتاتو اس کی ماں بڑے پیارسے مجھے کبھی ٹھیکوا، کبھی بتاشہ اورکبھی اصل گھی کامیتھی کالڈوکھانے کودیتی تھیں۔دیوالی کے روزان کے گھرپرجس طرح روایتی انداز میں چراغاں کیاجاتا تھا، اس سے نہ صرف ان کا گھر بلکہ آس پاس کے گھر بھی روشن ہوجاتے،جس کی خوبصورتی دیکھنے لائق ہوتی اورہم سبھی مل کر پھُل جھڑیاں،گھر نی،اناروغیرہ کی رنگ برنگی روشنی سے لطف اٹھاتے۔کھانے کو دیوالی کی مٹھائیاں بھی ملتیں،خاص طورپر جھرواکالڈو اور لکھ ٹھو کی لذت کومیں آج بھی نہیں بھولاہوں …………، عید بقر عید، شب برات جیسے تہوار پر کشور، اس کی سب بہنیں صبح سویر سے ہی میرے گھر آ جاتیں اور پورا گھر اس دن ایک الگ نظارہ پیش کرتا، وہ سب جب گھر جانے لگتے تو انھیں پربیاں بھی اماں دیتیں، اور وہ سب خوش خوش سبھوں کو سلام کرتے اماں کے پیر عقیدت سے چھوتے ہوئے واپس جاتے…….لیکن سب کچھ ختم ہوگیا، سب بچھڑ گئے،سب کچھ اجڑگیا…..ایک بارجوہم اپنی جڑوں سے اکھڑے توکہیں امان نصیب نہیں ہوئی مسلسل سفر…….لمبے سفر….ہجرت……درہجرت…… اباکی قبر ہندوستان میں تواماں پاکستان میں آرام فرماہیں،باجی اور بھائی جان بنگلہ دیش میں ………… اور………… اور ………… مجھے نہ جانے کہاں کی مٹّی نصیب ہوگی………“
یہ کہتے کہتے مرزاصفیر الدین سسکیاں بھرنے لگے،ان کی آنکھوں سے یادیں آنسوبن کر نکلنے لگیں……..
انھیں اس طرح روتے ہوئے دیکھ کر ان کے بیٹا،بہواور دونوں بچے سب حیران وپریشان ہوگئے …..ان کی رقت آمیز باتیں سنتے سنتے، ان کے بیٹا اوربہوکی آنکھوں میں بھی آنسوتیرنے لگے تھے۔ان کابڑا پوتا امجد بھی بہت تعجب سے اپنے داداکو روتے ہوئے دیکھ رہاتھا اورسوچ رہاتھا کہ آج ددّو اس طرح بچوں کی طرح روکیوں رہے ہیں؟ وہ صوفہ سے اٹھا اوراپنے ددّوکے قریب آکر اپنی چھوٹی چھوٹی انگلیوں سے ان کی آنکھوں سے بہتے ہوئے آنسوؤں کو خاموشی سے پوچھنے لگااورفرط جذبات سے مغلوب ہوتے ہوئے ددّونے اپنے پوتا کواپنے سینے سے لگالیا اورسسکیاں بھرتے ہوئے بولے……..
”بیٹا تم اپنی جڑوں کوکبھی مت چھوڑنا،خواہ کیساہی طوفان آئے،آندھی آئے،اپنی جڑوں پر ہمیشہ قائم رہنا۔ دّدو کی بات سمجھنے سے پوتا قاصر تھا،لیکن اس کے ابّو، امّی کے دل و دماغ میں آندھیاں سی چل رہی تھیں

Published inسید احمد قادریعالمی افسانہ فورم