Skip to content

جام نماز

عالمی افسانہ میلہ 2015
افسانہ نمبر 82
جام نماز
مصاعد قدوائی، علی گڑھ، انڈیا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
’’یہ تمہارا کون سا طریقہ ہے کہ جیسے ہی میں نماز پڑھنے کھڑی ہوتی ہوں تم جام میں شراب انڈیلتے ہو۔‘‘ زرناب نے غصّے سے کہا۔ شرجیل نے ایک نظر اُسے دیکھا اور حسبِ دستور قدیم خاموشی سے جام کا ایک گھونٹ لے کر اپنا کام کرنے لگا۔
تیس سال سے یہ روزکا معمول تھا۔ حالانکہ شرجیل نے شادی کے پہلے ہی دن زرناب کو بتا دیا تھا کہ وہ شراب پیتا ہے۔ مگر اس وقت زرناب نے زیادہ دھیان نہیں دیا شاید یہ سوچا ہو گا کہ غیر ملک میں اکیلے رہنے سے عادت پڑ گئی ہے اور میں اسے چُھٹا دوں گی۔ جیسا کہ عام طور پر بیویاں سوچتی ہیں کہ شوہر کی عادتوں کو بدلنا ان کا اہم فریضہ ہے اور بعد میں بڑے فخر سے بیان کرتی ہیں کہ شادی سے پہلے ان کی یہ عادتیں تھیں جو میرے پیار میں انہوں نے چھوڑ دیں۔ مگر شراب شرجیل کی عادت نہیں بلکہ اس کی سوچ و فکر کا ایندھن تھی حالانکہ شروعات میں زرناب نے بھی وہی تیر آزمایا جو ہر عورت آزماتی ہے اور شرجیل سے کہا۔
’’تمہیں مجھ میں اور شراب میں سے ایک کو چننا ہو گا۔‘‘
مگر شرجیل نے خلاف توقع جواب دیا۔
’’میں تمہیں اور شراب دونوں میں سے کسی کو نہیں چھوڑ سکتا اور آئندہ اس موضوع پر کوئی بات نہ کرنا۔‘‘
اور زرناب نے واقعی اس دن کے بعد سے اس موضوع پر کوئی بات نہیں کی، ہاں وہ یہ ضرور سوچتی کہ شاید بیرون ملک رہنے سے یہ عادت ہے اپنے ملک واپس جائیں گے تو خود بخود ختم ہو جائے گی۔ دیسے بھی عورتیں امید کا دامن نہیں چھوڑتیں مگر یہ اس کی خام خیالی تھی۔ شرجیل کے معمولات میں کہیں کوئی فرق نہیں آیا یہ ہی نہیں بلکہ وہ بچّوں سے بھی کبھی نہیں چھپاتا تھا اور ان کے پوچھنے پر اس نے دوسروں کی طرح کبھی یہ نہیں کہا کہ یہ ’دوا‘ ہے بلکہ وہ بہت سنجیدگی سے انہیں بتاتا تھا کہ یہ اسکاچ ہے، یہ وہسکی ہے، یہ واڈکا ہے، یہ برانڈی ہے او ر یہ وائن یا شئمپین۔ اس کے بچّے دکانداروں سے زیادہ شراب کی اقسام جانتے تھے۔ زرناب اکثر ناراض ہوتی تھی کہ بچوں کو یہ کیا تعلیم دے رہے ہو مگر وہ ہمیشہ یہ کہتا کہ انہیں بھی تو معلوم ہونا چاہئے کہ یہ کیا ہے تاکہ زندگی میں کوئی دھوکے سے انہیں کچھ اور بتا کر شراب نہ پلا دے۔ شرجیل کی اپنی سوچ اور نظریہ تھا اور زرناب کا اپنا مگر دونوں ایک دوسرے سے بے پناہ پیار کرتے تھے۔ دونوں میں ایک قدر مشترک بھی تھی، دونوں کا مزاج ادبی اور شاعرانہ تھا۔ شرجیل ایک بہت اچھا شاعر بھی تھا لہٰذا جب بھی وہ کچھ کہتا سب سے پہلے زرناب کو سناتا اور وہ نہ صرف ایک سنجیدہ سامع کی طرح دھیان سے سنتی بلکہ داد کے ساتھ تبصرہ بھی کرتی اور اکثر اس کے تبصرے بڑے جان دار ہوتے۔ گو شرجیل اور زرناب دونوں تعلیم یافتہ اور دین دار گھرانے سے تعلق رکھتے تھے مگر یہ اور بات ہے کہ زرناب آج بھی پوری طرح دین دار تھی مگر شرجیل نہیں۔
وطن میں بس جانے کے بعد بھی مصلّے اور جام کا ساتھ نہیں چھوٹا حالانکہ زرناب روز نماز پڑھنے سے پہلے ناراض ہوتی تھی مگر سلام پھیر کر مصلّہ رکھ کر اس کا پہلا کام یہ ہوتا تھا کہ شرجیل کی میز پر نمکین لا کر رکھ دینا۔ اُسے یہ بھی معلوم تھا کہ شرجیل کو کیا نمکین پسند ہے اور کبھی ایسا نہ ہوا کر گھر میں نمکین نہ ہو۔
زرناب کو شرجیل سے کوئی شکایت نہیں تھی سوائے اس کے کہ وہ جب مغرب کی نماز کے لئے مصلّہ بچھاتی شرجیل اُس وقت بوتل اٹھا کر اپنا پہلا جام بھرتا۔ شرجیل کا کہنا تھا کہ ’’میں سورج نکلنے کے بعد پیتا نہیں اور سورج ڈوبنے کے بعد چھوڑتا نہیں۔‘‘ اب اس کا کیا کیا جائے کہ زرناب کے مصلّہ بچھانے پر ہی شرجیل کو پتہ چلتا تھا کہ سورج ڈوب گیا۔ بھلا بند کمرے میں بجلی کی روشنی میں کوئی کیسے جانے گا۔ جب باہر تھے تو برف باری اور بارش میں پتہ نہیں چلتا تھا کہ مغرب کب ہوئی۔ وہ تو شکر تھا کہ زرناب کے پاس ساری نمازوں کا ٹائم ٹیبل رہتا تھا۔ جب وطن واپس آئے تو جاڑے میں کمرہ ہیٹر کی وجہ سے اور گرمی میں اے۔ سی کی وجہ سے بند رہتا تھا ایسے میں شرجیل کے پاس سورج ڈوبنے کی ایک ہی گھڑی تھی اور وہ تھا زرناب کا مصلّہ۔
جب اس نے ہال میں اپنا بار بنایا تھا تو زرناب سخت ناراض ہوئی تھی اس کا کہنا تھا کہ یہاں ہر طرح کے لوگ آتے ہیں۔ کیا یہ اچھا لگے گا؟ شرجیل گو زرناب کی ہر بات نہیں مانتا تھا مگر یہ بات مان گیا اور اس نے اپنے سونے کے کمرے میں میز پر اپنا چھوٹا سا بار بنا لیا۔ شرجیل کا معمول تھا کہ وہ سہ پہر آفس سے واپس آنے کے بعد اپنے کمرے میں لیب ٹاپ پر رات تک کام کرتا رہتا۔
مختلف ملکوں میں بڑے گھروں میں رہنے کے باوجود زرناب نماز سونے کے کمرے میں ہی پڑھتی تھی اور وہ بھی ڈریسنگ ٹیبل کے پاس۔ اس کا مصلّہ اور تسبیح ڈریسنگ ٹیبل پر رہتا تھا اور ہر جگہ وہ ڈریسنگ ٹیبل ایسے لگاتی تھی کہ نماز پڑھنے میں وہ سامنے نہ ہو، سائڈ میں یا پیچھے رہے۔
اچانک ایک دن شرجیل کی طبیعت خراب ہو گئی۔ زرناب اُسے تھام کر ہسپتال لے گئی۔ ڈاکٹر نے فوراً ایڈمٹ کیا ابھی شرجیل بستر پر بیٹھ ہی رہا تھا کہ اس پر گر گیا۔ ا س سے پہلے کہ ڈاکٹر کچھ کرتا نبض اس کا ساتھ چھوڑ چکی تھی۔ ڈاکٹر جانتا تھا کہ یہ دل کا دورہ ہے مگر جان لیوا ثابت ہو گا یہ شاید اُسے بھی نہیں پتہ تھا۔
زرناب پھٹی پھٹی آنکھوں سے شرجیل کے بے جان جسم کو دیکھتی رہی۔ نہ تو اس نے چوڑیاں توڑیں نہ چیخی ہاں نرس نے جب چادر ڈال دی تو اس نے موبائل نکال کر سب سے پہلے بچّوں کو فون کیا جو بیرونِ ملک تھے پھر چند رشتہ داروں کو اطلاع دی۔

شرجیل کے بھائی نے تہجیز و تکفین کا سارا انتظام کیا۔ بچے پہلی فلائٹ پکڑ کر آ گئے۔ عجیب بات یہ تھی کہ سب زرناب سے لپٹ لپٹ کر رو رہے تھے اور وہ انہیں تسلّی دے رہی تھی۔ بچّوں کو لگا شاید ان کی ماں کا دماغ بہک گیا ہے۔ رشتہ داروں نے بتایا کہ زرناب کی آنکھ سے ایک آنسو بھی نہیں ٹپکا۔ وہ بچّوں سے اطمینان سے باتیں کر رہی تھی اچانک مغرب کی اذان ہو گئی۔ زرناب نے دوپٹہ سر پر ڈالا اور اپنے سونے کے کمرے میں آ گئی۔
نماز پڑھ کر سلام پھیرا اور کہنے لگی۔
’’کیا ہوا آج تم نے اپنا جام نہیں بھرا۔‘‘
اس نے مڑ کر میز کی طرف دیکھا۔ کرسی خالی تھی۔
پھر اس کی نگاہ میز پر رکھّے خالی جام پر پڑی اور اچانک وہ مصّلے پر بیٹھے بیٹھے زار و قطار رونے لگی۔

Published inعالمی افسانہ فورممصاعد قدوائی