Skip to content

تیزابی

عالمی افسانہ میلہ 2015
افسانہ نمبر 122

حیام قیوم اسلام آباد, پاکستان

تیزابی

‘ وہ باکرہ نہیں ‘ اسد کے الفاظ کریم کے دماغ میں سوراخ کر تے جارہے تھے، وہ خود کو بہلانے کے لیئے اُلفت کے برف جیسے پاؤں سوچنے لگا،متوازن انگلیاں،پیازی ایڑھیاں،درمیاں سے کمان بناتا پاؤں، دِل میں دور تک راستہ بنا چکے تھے۔ ‘ الفت جیسی بھی ہے میری ہے اور میں نے اسے اپنانے کا عہد باندھ لیا ہے۔’ یہ سوچتے ہی معدہ میں ٹیس اٹھی اور معدہ سے حلق تک تیزاب بھر گیا،کریم تیزابی جلن کو اپنی تھوک سے الکلی میں بدلنے کی سعی کرتے ہوئے کہنے لگا؛ ‘ میں فیصلہ کر چکا ہوں ، اب تم دونوں بھی یقین کر لو ۔’ اسد کی تقریری نصیحت جاری ر ہی ، ‘تم نے رشتہ پوچھااور انہوں نے کو ئی حیل نہیں کیا۔ ہاں جی ،جس کا بال بال گناہگار ہو اُس کے سوال کی کیا بساط ! اُلفت کی پھپُھی تاک لگائے بیٹھی تھی کیا ؟ تم اپنی زندگی کیوں تباہ کر رہے ہو، وہ تم سے بارہ تیرہ برس چھوٹی بھی ہے، یہ ضد چھوڑ دو، واہ رے دنیا ! اب عیب دار بھی سہاگن ہو چلی۔’ صادق نے لقمہ دیا، ‘وہ کہتے ہیں ناں ، جِن کے بھاگ اُن کے سہاگ! کریم تمہیں الفت سے بہت بہتر لڑکی مل سکتی ہے۔رَنڈی پر کیوں نظر ٹھہر گئی تمہاری؟ ‘ ‘ بس کردو تہمت تراشنا صادق۔ سر پر مرد نہ ہو تو لوگ اپنے گھروں کی کھڑکیاں اُس گھر میں کھول دیتے ہیں تا کہ سسکیوں کا تماشا بنا سکیں، تمہیں کڑا جواب ہوگیا اس لیئے تم یہ سب کر رہے ہو۔ ‘ کریم نے اسد کی آنکھوں کا چور پکڑتے ہوئے کہا، ‘تہمت تھوک کی طرح ہوتی ہے۔ اس میں سچ کا بلغم شامل ہو یا نہ ہوجس کا جہاں دل کیا ، تھوک د یا۔’ اسد نے بات بدل دی ، ‘کریم تم میرے بچپن کے دوست ہو اس لیئے سمجھانے چلا آتا ہوں ،ورنہ مجھے کیا پڑی کہ کج کردار کے بارے بات کروں،ویسے تمہاری چھاتی سراہنے کو دل کرتا ہے۔’ ‘ اچھا بس کر دو ‘ کریم کرخت لہجے میں کہہ کر سگرٹ سلگانے میں مگن ہو گیا اور تینوں ہوا میں دھواں کے دائرے بنانے میں مصروف ہوگئے ۔ اسد اور کریم روزانہ شام ڈھلے صادق کے جنرل سٹور پر ملاقات کرتے ۔صادق پیٹ کا ہلکا، پرائمری پاس ، تاجر ذہن ،شادی شدہ لیکن گدرائی چھاتیوں میں دلچسبی رکھتا۔اسد واجبی سی شکل وصورت درمیانہ قد کاٹھ ،اُلفت کے محلے میں رہتا ۔چار بھائیوں سے چھوٹا ،لاڈلا ، دشمن اناج کا، اُلفت کی محبت میں والہ و شیدا اور غرض کا ایسا باؤلا کہ تھوکا بھی چاٹ لے ۔اسد کی بوڑھی ماں جلد از جلد بیٹے کے سر پر سہرا بندھا دیکھنا چاہتی تھی۔ بیٹے کی ضد پوری کرنے کے لیئے اُلفت کی بات کرنے چلی گئی لیکن پُھپھی پروین نے اسد کی بیروزگاری دیکھتے ہوئے کہا کہ ‘ ایم اے تو کر لے دو چار سال انتظار کرنا پڑے گا۔’ انتظار محال تھا اس لیئے چند ماہ بعدبھانجی سے بیاہ کر اسد کے فرض سے فارغ ہو گئی ،او ر اُلفت ، کانٹا بن کر چبھنے لگی۔

تینوں دوستوں کی ٹرائیکا ،سگرٹ پربڑھتے ہوئے ٹیکس ، مہنگائی کے بوجھ اور اُلفت کے پردۂ بکارت پر بات کرتی اور نتیجہ دھواں میں اڑا کر برخاست ہوجاتی۔

اُلفت یتیم یسیر بچی ، جِسے جوان بیوہ پھُپھی پروین نے اپنی دو بچیوں سمیت پالا پوسا۔اُلفت کے باپ نے مرنے سے پہلے گھر بہن کے حوالے کردیا،تب سے وہ سب اِسی گھر میں رہنے لگے۔پھُپا نے وراثت میں چھوٹی سی دکان چھوڑی جس کا معمولی سا کرایہ آجاتا اور گھر کی دال روٹی چلنے لگی۔لیکن بدلتے ہوئے حالات، بچیوں کے تعلیمی اخراجات ، اور مہنگائی نے کمر توڑ ڈالی،پھُپھی نے اپنی خواہشوں اور ارمانوں کے پہاڑ اکیلے سر کر تے ہوئے مستقل مزاجی سے محنت مزدوری کی،سلائی کڑھائی سے لیکر لوگوں کے برتن مانجھنے تک سب کام کیئے لیکن عصمت نہ بیچی ،خود دسویں جماعت تک تعلیم حاصل کی، اُس کے ذہن میں یہ بات ٹھن گئی تھی کہ وہ تینوں بچیوں کو بی اے تک تعلیم دلا کر مناسب گھرانوں میں بیاہ دے گی، اس لیئے محبت اور سختی کی آمیزش سے تربیت کی ۔تینوں کو پَروں تلے رکھتی کہ کوئی نقب نہ لگا سکے۔ لیکن ایک جیسی اونچی لمبی ،دبلی پتلی گھر میں اٹھتی بیٹھتی ،کھاتی پیتی پروین کی راتوں کے نیند چاٹنے لگیں۔ اُدھر اسد ،صادق جنرل سٹور پر بیٹھا ہر آتے جاتے گاہک سے کہتا ، ‘عجب عالم ہے ، کچھ نہ پوچھو ،اُلفت اپنی سہیلی کے بھائی کے ساتھ آتی جاتی تھی،آج کے دور میں کس کے پاس اتنا وقت ہے کہ وہ بہن کی سہیلیوں کو اُن کے گھر،گاڑی پر چھوڑتا پھرے ،حا لانکہ دو کلومیٹر کے فاصلے پر کالج ہے،پھُپھی پروین محلے والوں کے ساتھ مل کر کوئی بندوبست کردیتی، ضرور کوئی کہانی چل رہی تھی۔’ صادق بھی لگتی لگاتی بات کرتا ، ‘لو گ کہتے ہیں ، اب یونیورسٹی جائیں گی تینوں ،پھُپھی کے پاس حرام کی بہت کمائی ہے،اب چکلا کھولے گی نائیکہ ،دیکھتے جاؤ کیا ہوتا ہے،ویسے سب سے چھوٹی ہے چِکنی، ہر کوئی پھسلے گا،بڑا مال بنائے گی۔’ اسد نے نمک مرچ لگا ئی ، ‘میں نے خود دیکھا ہے اُلفت کو،گاڑی سے دن دیہاڑے اتر رہی تھی،پہلے سہیلی کا بھائی پھانس لائی ،اب اُدھر ہی اُدھر پورا کر آتی ہے،چھوٹیاں بھی خصموں والی ہو تی جارہی ہیں،چسکا دَس دن کا پرایا خصم کس کا! اچھا ہوا میری شادی وہاں نہیں ہوئی ۔ورنہ پھُپھی بھتیجی ہمارا گھر کھوٹا کردیتیں۔’ بھائیوں کے پیسے پر عیش کرنے والا اسد رد ہونے کا بدلہ لیتا رہا، ‘ ارے اِس چھِنال کے ساتھ کس نے رشتہ جوڑنا ہے۔’ اور لوگوں نے بھی یہ بات گلے سے اتار لی ؛ ‘اب تو یہی حال ہے جی ،آج چاندنی کون نہایا ہے ؟ نہ مرد نہ عورت ! لیکن مرد کا کیا، لوگ جب لڑکی بیاہ کر لاتے ہیں تو اپنا پردہ رکھنے کے لئیے خاموش ہو جاتے ہیں۔کیا کریں ایسا ہنگامہ گرم ہے کہ رنڈیاں گھر بساتی پھرتی ہیں۔’ ‘ گلیاں محلے، زون اور سیکٹر بن گئے۔ نت نئی سہولتیں، کالج ، ٹیکنالوجی اور پلازہ ،یہاں کا نقشہ بدل رہے ہیں، ساری دنیا ایک کِلک میں سمٹ آئی ہے،لیکن ہماری سوچ حیوانی پرت میں لپٹی ہے ،سہیلی اورسہیلی کا بھا ئی دونوں گاڑی میں بیٹھے ہو تے تھے، پُھپھی پروین بھی تھی ، میں نے خود دیکھا ،ڈرائیور گاڑی چلا رہا تھا۔ یہ بھی ممکن ہے کہ پُھپھی پروین اُلفت کو کسی خوُش معاش سے بیاہنا چاہتی ہو،اِس غرض سے اُلفت کے ساتھ آتی جاتی رہی ہو،لیکن ایسا نہیں ہوا ،میں آذاد خیال نہیں ہوں لیکن میں دقیانوسی بھی نہیں ہوں، جہاں تک رشتہ دینے کی بات ہے میں بتیس سال کا ہوں ۔بی اے پاس ہوں۔جوس کی بوتلیں بنانیوالے کارخانہ میں کام کرتا تھا،محنت کی،والد کاترکہ بیچا اور آج اپنا کارخانہ ہے،گاڑی بھی ہے،گھر بھی پکا بنا لیا اور ضرورت کی تمام اشیاء گھر میں موجود ہیں۔ عورت کتنی ہی آذاد خیال کیوں نہ ہو جائے، اسے دو وقت کی روٹی اور تھوڑی سی عزت چا ہئیے ہوتی ہے زندگی گزارنے کے لیئے اور میر ے پاس ان دونوں کی کمی نہیں۔ تم یہ سوچو کہ اُس گھر کا ہر فرد بدنامی کی وجہ سے کِسقدر تکلیف سے گزر رہا ہے، لیکن کسی نے اپنی صفائی میں ایک لفظ نہیں کہا۔چُپ آدمی اور بندھے پانی سے ڈرنا چاہیئے ۔صادق ،ہم اگر آج کسی کا پردہ رکھیں گے تو کل قدرت ہمارا پردہ رکھے گی۔’

صادق سراہنے لگا، ‘ بہت بڑا دل ہے تمہارا۔’ ‘میں اُلفت سے نکاح کروں گا،دنیا بھلے کتنا ہی بُراسمجھے،چند دنوں میں اُس کا کالج ختم ہوجائے گا تو پھر وہ میری عزت ،میری پناہ میں ہوگی،نکاح بہت سی برائیاں مٹا دیتا ہے۔’ یہ کہہ کر کریم کے معدہ میں ایسی ٹیس اٹھی کہ دُہرا ہو گیا۔ اسد اُسے لیکر عبداللہ حکیم کے پاس بھاگا۔’معدہ کی تیزابیت بہت تنگ کرتی ہےحکیم صاحب۔’ کریم نے پیٹ پکڑتے ہوئے کہا ؛ ‘ تیزاب حلق تک آتا ہے اور معدہ میں واپس چلا جاتا ہے۔باہر نہیں الٹتا۔کھانا اُگل اُگل کر کھاتا ہوں۔’ حکیم صاحب گویا ہوئے ؛ ‘ میاں تم تیزابی ہو گئے ہو ، تمہارے جسم میں موجود مٹھاس ،نمک اور تیزاب کا توازن بگڑچکا ہے۔ ‘ کریم لمبا قد،سانولی رنگت ،سیاہ بال ، جب صحت پکڑتا تو جسم ایسا مہکتا جیسے صندل گھول کر پی ہو۔ کارخانہ میں دن رات کام چلتا اس لیئے رَت جگوں کی وجہ سے آنکھوں کے گرد سیاہ حلقے بہت نمایاں ہوتے جا رہے تھے۔ معدہ کی جلن بڑھ جاتی تو زبان کڑوی ہوجاتی ، اور ماس کے ساتھ ہڈیاں بھی گلنے سڑنے لگتیں،ہر علاج کرا دیکھا ،ایک رتی آرام نہ آتا، انگریزی دوائیاں تیلی کا کام کرتیں۔اسی لیئے وہ گاہے گاہے حکیم صاحب سے مشورہ کرتا۔ حکیم صاحب نے تاکید کی ؛ ‘ تم بس ہمت باندھو اور باقاعدگی سے علاج کراؤ ، تمہارے ماموں بھی تیزابی تھے ،وہ بھی باقاعدگی سے علاج نہیں کراتے تھے۔’ کریم درد کی شدت میں حکیم صاحب کے پاس آتا ۔معجون،کُشتے ، سفوف ، بُکنی سے دو چار دِن سکون کے گزر جاتے،وہ خود کو خام تسلی دیتا کہ ‘کچھ عرصے کی بات ہے، پھر میں جیسا چاہوں گا ویسا ہی ہو گا۔’

کریم کی ماں اندر ہی اندر گھلتی جا رہی تھی ۔اکلوتا بیٹا تھا اس لیئے کچھ نہ کہتی۔ کریم اسد کی بات پر یقین کرتا تھا اسلیئے حقیقت جاننے کی کوشش نہ کی۔ جب لوگ کہتے تو وہ سب کو یہ کہہ کر خاموش کرادیتا کہ ‘جو بھی ہے میں اُسے اپنانے کے لیئے تیار ہوں۔’

اُلفت نازک سی،درمیانہ قد ،موتیا رنگ روپ رکھتی تھی۔اُس نے الفت کو کبھی جی بھر کے نہ دیکھا تھا بس ایک بار کالج سے گھر جاتے ہوئے اُس کی نظر پاؤں پر پڑگئی،جو بند جوتوں سے کبھی کبھی آذاد ہوتے تھے۔

اُلفت بدنام ہوتی جارہی تھی اور کریم ہر زبان کا موضوع بنتا جارہا تھا۔ ‘تیرا بہت جگر ہے’ اُس کے دوست کہتے ،اورکچھ سمجھتے کہ وہیں آتا جاتا ہے۔شادی کا کہتا ہے ۔کیا پتا وہ پیٹ سے ہو ! ‘اب تو کارخانہ دار ہے،پیسہ ہاتھ کا میل بن جائے تو سب عیب دُھل جاتے ہیں ۔ویسے کام تو نیک کر رہا ہے۔’

آج ٹرائیکا میں اسد دِل ہلکا کرنا چاہ رہا تھا کیونکہ دو دِن بعد اُلفت کریم کے نکاح میں ہوگی پھر یہ بیٹھک ہو نہ ہو۔’یار ایک دفعہ پھر سوچ لے،وہ اِس قابل نہیں ہے ۔ ‘ کریم نے اسد کو تنبیہ کی، ‘آج کے بعد تم نے اگر اُلفت کے بارے میں ایک لفظ بھی کہا تودوستی ختم۔’ اسد دوستی ختم نہیں کرنا چاہتا تھا ۔وہ تو اِس انتظار میں تھا کہ اُلفت مرتی یا جیتی،باکرہ ،منکوحہ یا داشتہ ، جس حال میں بھی ہو، اُسے ایک ہی گھونٹ میں ہوس کے حلق سے اتارکر اپنی شکست کا شورہ تحلیل کر لے۔ وہ گھات لگائے بیٹھا تھا ۔ اِس لیئے منمنانے لگا، ‘ٹھیک ہے تمہاری مرضی ،جیسا تمہارا دِل کرتا ہے ویسا کرو میں تمہارے ساتھ ہوں۔’ صادق نے ہاں میں ہاں ملائی۔ ‘میں تو سمجھتا ہوں کہ تو جنت میں جائے گا ،نیکی جو کر رہا ہے۔چل اِسی بہانے چھوٹی تو ہاتھ آئے گی،ہم بھی جنت کی سیر کر لیں گے۔’ جنت چھوڑو اِس وقت میں حکیم صاحب کے پاس جا رہا ہوں۔ حکیم صاحب نے بہی کا مربا ، دار چینی کا سفوف ،ماش کی دال میں شہد ملا کر دیا ،اور تاکید کی کہ باقاعدگی سے علاج کراؤ۔ لیکن حکیمی علاج سے بھی خاطر خواہ افاقہ نہ ہورہا تھا۔ وہ بارہا سوال کرتا، ‘یہ جلن کب ختم ہوگی؟ ‘ اور حکیم صاحب کہتے،جنابِ من، جب بندہ ختم ہوگا،اور زمین تیزاب چوس لے گی! شادی میں ایک دِن باقی تھا ۔معدہ کا تیزاب منہ میں بھر جاتا اور بدبو سے گبھرا کر وہ سگرٹ کے کش پر کش لگاتا لیکن ذائقہ نہ بدلتا۔وہ حکیم صاحب سے ملنے چلا گیا ۔لیکن حکیم صاحب کا بیٹا مسعود مل گیا ۔ ‘ابو تھوڑی دیر میں آجائیں گے، آپ تشریف رکھیئے ۔’

کریم سر جھکائے بیٹھا رہا۔مسعود دنیا بھر کی خبریں سنانے لگ گیا ، ‘آپ کو پتا ہے پلازہ بن رہا ہے ،مالک قبرستان کی دیوارتوڑنا چاہ رہا تھا ۔ واویلا کے ڈر سے ایک لاکھ روپیہ میں سودا ہو گیا۔ اللہ سب کا پردہ رکھے،ایک اور خبر جی، ریلوے سٹیشن کے پاس لڑکیوں کا پوسٹ گریجویٹ کالج بھی بن رہا ہے،چھوٹا اہسپتال کے ساتھ کڈنی سنٹرکی عمارت بن رہی ہے،اب گردہ بیچنے کہیں اور نہیں جانا پڑے گا،اب تو چاند پر صرف چار گھنٹوں میں پہنچ جایا کریں گے،اور ۔۔۔’ کریم آج کوئی آواز نہیں سننا چاہ رہا تھا وہ اٹھا اور لمبی سیر کو چل دیا۔ چھوٹا شہر ،بڑے شہر میں بدل رہا تھا۔ جگہ جگہ تعمیر کا کام ، گرد، دُھول ،مٹی ،سیمنٹ، گارا، اور چپس ہر قدم کے نیچے آ رہے تھے،وہ پتھر سے ٹکرایا اوروہیں زمین پر بیٹھ گیا۔ معدہ کا درد شدت اختیار کر تا جا رہا تھا۔وہ سوچنے لگا ،’کل وہ میرے گھر میں ہوگی،کیا میں یہ رشتہ نبھا پاؤں گا ؟ کیا وہ میرا ساتھ دے گی، باوفا بیوی بن سکے گی؟ یہ فیصلہ میرا ہے،تو امتحان بھی میرا ہے،اُلفت کی بدنامی ! جب دو کمزوریاں مل جائیں تو طاقت بن جاتی ہیں۔ میرا فیصلہ درست ہے،میں نبھاؤں گا ، مجھے اپنے لفظوں کا مان رکھنا ہے۔’

درد ٹھہر گیا اورکریم گھر کی طرف چل دیا۔ شادی کے دِن اُلفت کے دوچار رشتہ داروں نے شرکت کی لیکن کریم کے دوست،رشتہ دار،محلے والے سب نے یہ سوچ کر شرکت کی کہ نیک کام میں شمولیت لازم ہے۔ کریم اُلفت کے پاؤں دیکھ کر کہنے لگا ؛ ‘میں تم سے محبت کرتا ہوں،میں نے بہت صبر کیا، میں وعدہ کرتا ہوں کہ تمہاری عزت پر حرف نہیں آنے دوں گا۔’ وہ شرماتے ہوئے کہنے لگی ، ‘جی ‘ ‘ دیکھو، میں جانتا ہوں لوگ تمہارے بارے میں کیا کہتے ہیں ، میں نے تمہیں اپنی پناہ میں رکھنا قبول کیا۔’ اُلفت کی آواز حلق میں اٹک گئی۔ وہ مخاطب ہوا، ‘تمہیں اپنی صفائی میں کچھ کہنے کی ضرورت نہیں،تم باکرہ ہو یا نہیں، مجھے کوئی غرض نہیں، بس اب تم میرے ساتھ زندگی گزارو۔ ‘ اُلفت کی آنکھیں بھیگ گئیں ۔ وہ سر گھٹنوں میں د یئے سسکنے لگی ۔ ‘تمہارا نان نفقہ اور تمام اخراجات میری ذمہ داری ہیں،میں تم سے کبھی کوئی سوال نہیں کروں گا ، اور نہ ہی تم کرنا،ہم دونوں ایک دوسرے کا پردہ ہیں ، اور تم بھی وعدہ کرو تم بھی میرا پردہ رکھو گی۔

اُلفت خود اپنا ماتم کرنے لگی،اپنے اندر چیخنے لگی ؛ ‘میں باکرہ ہوں ،میں باکرہ ہوں۔’ کریم کی آواز دَب چکی تھی ۔ کریم نے معدہ کا ساراتیزاب الٹ دیا،اب جسم میں پھیلتا زہر، بدن کا ماس،بوٹیاں اور ہڈیاں گلنے سڑنے نہیں دے گا ،درد کافور ہوگیا ، شفائے کاملہ مل گئی کیونکہ اب اُسکے بنجر فوطوں پر پردہ ڈالنے والی آ گئی ہے۔

Published inحیام قیومعالمی افسانہ فورم