Skip to content

توبہ سے زرا پہلے

عالمی افسانہ میلہ 2015
افسانہ نمبر 11
توبہ سے ذرا پہلے
فارحہ ارشد، لاہور، پاکستان
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

” مجھے تم سے نفرت ہے۔” ۔۔۔۔۔۔ ایک کردار نے دوسرے سے کہا اور اس نے یوں اسے مڑ کر دیکھا کہ وہ خود بھی ایک لمحے کو ساکت ہو گیا بالکل اس کی نظر کی طرح ٹھنڈا، یخ، ساکت ۔۔۔۔!
” تو گویا محبت نہ ہوئی کوئی تھیئٹر پلے ہو گیا۔ ”،” چلئے جی یہ سین ختم ۔۔۔ اُٹھائیے کرسی، میز اور دیوار ۔۔۔۔ اور اگلے سین کے لیے ندی کا پُل اور دور تک ویرانی پھیلا دیجیے ۔۔۔۔ ”
تالیوں کے شور میں غریبوں کے امیرانہ سکول میں چلتا سٹیج ڈرامہ ختم ہوا تو بڑے جاگیردار صاحب کا اکلوتا ‘انسا ن دوست’ بیٹا اسٹیج پہ مائیک تھامے کھڑی سنہری پانیوں سے نکلی مچھلی جیسی لڑکی کو دیکھتا رہ گیا۔ و ہ دلچسپ سا مکالمہ بول رہی تھی جس میں خود ہی سوال کرتی اور خود ہی جواب دیتی کھنکتے لہجے میں وہ کہہ رہی تھی:
“کہانی۔۔۔۔ ؟؟ کہانی میں ہوتا کیا ہے وہی لگی بندھی متعین سمتوں میں چلتا قصہ ۔۔۔۔ وہی بڑی بیگم صاحبہ جو ہمیشہ سوشل ورکر بنی ، میڈیا میں گھری تصاویر بنواتی ہیں۔۔۔۔ ؟؟ ”
“ارے نہیں بھئی۔۔۔ کہانی اب اتنی تھوڑا ہی رہ گئی ہے، اس کا کینوس وسیع ہو گیا ہے، بڑے شغل ہوتے ہیں ان بڑی بیگم صاحبان کے ۔۔۔۔۔۔ فیشن بوتیکس، کاسموٹالوجی کے فائدے اٹھاتی بڑھاپے سے خوفزدہ بڑی بیگم صاحبان ۔۔۔۔۔ وہی کہانی مگر ذراسا کینوس وسیع ۔۔۔۔ ”
“اور جوان طبقہ، وہ تو ویسا ہی ہوگا نا جدید تراش خراش کے لباس تک محدود۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟”
” ارے نہیں وہ بھی ذرا وسیع ہوگیا ہے ۔۔۔۔ برینڈڈ لباس کے ساتھ امیج بلڈنگز کی کلاسز لیتی اور ٹیڑھی ناک سیدھی کرواتی لڑکیاں ۔۔۔۔۔ ‘‘
ہال تالیوں سے گونج اٹھا
” اور غریبی امیری کا فرق ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ وہ تو وہی ہے نا ۔۔۔۔؟ ”
” کہاں ؟؟ اب تو غریب لڑکی بھی اپنے اوپر دھیان دینے لگی ہے مانو اس کی کہانی نے بھی اپنا کینوس وسیع کر لیا ۔۔۔۔ اور کیوں نہ دے اپنے اوپر دھیان ۔۔۔۔۔۔۔ وہ غربت سے نکلنا چاہتی ہے۔ شارٹ کٹس لیتی ہے ۔۔۔۔ ‘‘
“دیکھو کہانی اب، اب اپنا رخ بدل چکی ہے۔ لگی بندھی متعین سمتوں کو پھلانگتی، یہاں وہاں، ادھر اُدھر سے رستے نکالتی۔۔۔۔ ”
” کہانی سیانی تو ہمیشہ سے تھی مگر اب ‘چالاک’ ہو گئی ہے۔”
” اوہ ۔۔۔بڑی بڑی باتیں ۔۔۔۔”
” ہاں تو دنیا میں دو ہی چیزیں تو فری ہیں ۔۔۔ بڑی بڑی باتیں اور ۔۔۔۔ اور
OLX۔۔۔‘‘ ھاھاھاھا ۔۔۔۔۔ ایک بھرپور قہقہہ اس طرف سے اٹھا جہاں بڑے جاگیردار صاحب کا اکلوتا ‘انسان دوست بیٹا’ اپنے ہی طبقے کے بڑے بوڑھوں کے ساتھ قیمتی لباس پہنے اگلی نشستوں پہ براجمان تھا ۔۔۔۔ نئی کہانی کے راگ الاپتی لڑکی نہ شرمائی، نہ لجائی ۔۔۔۔ کچھ اور بھی اعتماد سے بڑے جاگیردار صاحب کے ‘انسان دوست’ بیٹے کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر دیکھنے لگی۔ یہ کہانی کی شروعات تھی ۔۔۔۔۔۔۔ وہ کہانی جس کا ایک کردار بڑے جاگیردار صاحب کا بگڑا ہوا۔۔۔ ارے نہیں نہیں ۔۔۔ انسان دوست بیٹا ، بہت پڑھا لکھا ، بہت سنجیدہ ۔۔۔۔۔۔ جس کے اسی طبقے کے دوست جب بھی اکٹھے ہوتے تو انسانیت کے بھاشن چلتے، انٹرنیشنل این جی اوز کے دوست اس کے توسط سے اردگرد اور خود اس کے گاؤں میں ترقی کے پراجیکٹ چلاتے، ہاسپٹل، سڑکیں اور سکول ۔۔۔۔ بڑے جاگیردار صاحب کا یہ انسان دوست اکلوتا بیٹا غریب، امیر ہر ایک کا پسندیدہ تھا۔ چناب کے کنارے محفلیں سجتیں اور ترقی پسند گروپس کو ان جیسے کچھ لوگوں کی آشیرباد نہ ہوتی تو کتنا کچھ جو بآسانی ممکن ہو جاتا تھا کبھی نہ ہو پاتا۔ اور وہ جو ابھی کہانی کی کہانی سنا رہی تھی وہ ایک غریب عورت مائی بلقیسی کی اکلوتی جوان اور خوبصورت بیٹی اس کہانی کا دوسرا کردار ۔۔۔۔ شارٹ کٹس مارتی بڑے جاگیردار صاحب کے اکلوتے بیٹے کے دل کے سنگھاسن پہ جا براجمان ہوئی ۔۔۔۔ کہانی یہیں مکمل ہو جاتی اگر اس میں تیسرا کردار نہ ہوتا ۔۔۔۔ تیسرا کردار یعنی مائی بلقیسی ۔۔۔۔ جو دو عشرے پہلے سیلاب زدگان کے ساتھ بڑے جاگیردار صاحب کی پناہ میں آئی تھی۔ علاقے والے صرف اتنا بتاتے ہیں کہ مائی بلقیسی جوانی میں اپنی بیٹی سے بھی زیادہ حسین تھی کبھی کبھار وہ باپ کے ساتھ بڑے جاگیردار صاحب کے ڈیرے پہ آتی جاتی نظر آتی تھی۔ کوئی اس کے متعلق اس سے زیادہ کچھ نہ بتاتا۔ بس بڑے بوڑھوں کو اتنا یاد تھا کہ ایک اس کی بیٹی ہے جو یہاں آنے کے بعد پیدا ہوئی۔
مائی بلقیسی کا خاوند شاید سیلاب میں گائے بھینسیں بچاتا ان کے ساتھ ہی ڈوب گیا ہو گا۔ وہ بلقیسی جو بڑے جاگیردار صاحب کی زندگی میں درختوں کے جھنڈ میں گھری سفید حویلی جانے کے خواب دیکھتی تھی ۔۔۔۔۔ مگر اس کے سیمنٹ سے بنے دو کمروں سے حویلی تک کے فاصلے کے درمیان وہ پگڈنڈی حائل رہی جو بڑے جاگیردار صاحب کے ڈیرے کی طرف جاتی تھی جاگیردار صاحب وعدے قسمیں اس کے پلو میں باندھتے باندھتے مٹی میں جا سوئے۔ بیٹی ابھی چھوٹی تھی، بلقیسی کا بوڑھا باپ بڑی بیگم صاحب کی خدمت کے لیے ہر روز بیٹی اور نواسی کو چھوڑ آتا۔ جوں جوں وقت گذرتا رہا بلقیسی کی محرومیوں نے غصے کی شکل اختیار کر لی اور اس نے اپنے تصور میں ایک نئی کہانی بُن لی ۔۔۔۔ وہ بڑی بیگم کی طرح اس گھر پہ خیالوں ہی خیالوں میں سارا دن راج کرتی مگر جونہی خواب کا ناطہ حقیقت سے جڑتا وہ اپنی ذات کی کِرچیاں سمیٹتی بیٹی کی انگلی تھامے واپسی کی راہ لیتی اور دو کمروں کے مکان میں ساری ساری رات روتی رہتی۔
ایک دن پھر یوں ہوا کہ بڑے جاگیردار صاحب کا انسان دوست بیٹا اُس کی چوکھٹ پہ اُس کی بیٹی کا ہاتھ مانگنے آیا تو ہاتھ میں پکڑا کچے چاولوں سے بھرا تھال اس کے ہاتھ سے گر کر شور مچانے لگا۔ وہ گم صُم سی ایک ایک چاول اٹھانے لگی۔ ساری رات پہلو بدلتے گزری، مائی بلقیسی کی بھی اور اس کی بیٹی کی بھی ۔۔۔۔ اگلے روز وہ پھر آیا۔ ” میں اس کو اپنا نام دوں گا، باقاعدہ دھوم دھام سے بیاہ کر لے جاؤں گا۔ بڑی اماں بھی مان گئی ہے، اس کی بھی فکر نہ کریں۔ ”
وہ اس کی سناٹے سے بھری نگاہوں کے ہر ممکنہ سوال کا جواب دے رہا تھا بنا پوچھے، بنا جانے کہ وہ اتنی گہری قبر جیسی خاموشی میں خود کو گم کیوں کئے جاتی ہے مگر وہ سوالی تھا بڑے جاگیردار صاحب کا انسان دوست بیٹا اور مائی بلقیسی کو سمجھ نہ آتی تھی کہ کیا کرے کیا نہ کرے ۔ بڑے جاگیردار صاحب اور بلقیسی کا باپ مٹی کا ڈھیر بن چکے تھے بس ایک راز تھا جس کو صرف ایک کردار جانتا تھا اور وہ کردار مائی بلقیسی تھی۔
تب پھر سب نے دیکھا۔ ہاں کہنے سے لے کر بیٹی کی ڈولی اٹھ جانے تک مائی بلقیسی کچھ نہ بولی اور بیٹی کو رخصت کر کے وہ تیز تیز قدموں سے قبرستان کی طرف بھاگی ۔۔۔۔ مائی بلقیسی ۔۔۔۔ کی کہانی راز تھی وہ راز جو بڑے جاگیردار صاحب ، بلقیسی کا بوڑھا باپ اور خود بلقیسی کے علاوہ کون جانتا تھا ایک کسی دور دراز کے شہر کا نکاح خواں اور دو بالغ گواہان جو نکاح خوان ہی بڑے جاگیردار صاحب سے زیادہ پیسے بٹورنے کے لیے اپنے مدرسے سے ہی ساتھ لے آیا تھا یا پھر بڑے جاگیردار صاحب کا وہ ڈرائیور جو سانپ کے ڈس لینے سے اس واقعہ کے چند روز بعد ہی مر گیا تھا۔ بوڑھا باپ اور بڑے جاگیردار صاحب رزقِ خاک ہوئے اور یوں وہ راز بھی ان کے ساتھ ہی دفن ہو گیا تھا ۔۔۔۔۔۔۔ اب وہ مائی بلقیسی کی بیٹی تھی جس کی جنم پرچی پہ کوئی فرضی نام لکھا تھا ایک قبر، ایک دل اور ایک راز جو مائی بلقیسی کی محرومیوں کے ساتھ ہی مٹی ہو جانا تھا۔
”مجھے معاف کر دیں صاحب ۔۔۔۔۔۔۔۔ مجھے معاف کر دیں۔ ”
وہ ہاتھ ملتی جاتی تھی اور کانوں کو ہاتھ لگاتی بڑے جاگیردار صاحب کی قبر پہ کھڑی مجرموں کی طرح سر جھکائے توبہ کئے جاتی تھی مگر ہر طرف ایک سناٹا تھا ۔۔۔۔ کہانی اپنے رستے خود تلاشتی اسے توبہ کے در پہ بٹھا کے کہیں اور نکل چکی تھی۔
” تو گویا محبت نہ ہوئی کوئی تھیئٹر پلے ہو گیا۔ چلئے جی یہ سین ختم ۔۔۔ اُٹھائیے کرسی، میز اور دیوار ۔۔۔۔ اور اگلے سین کے لیے ندی کا پُل اور دور تک ویرانی پھیلا دیجیے ۔۔۔۔ ” #

Published inعالمی افسانہ فورمفارحہ ارشد