Skip to content

تصویر

عالمی افسانہ میلہ۔2018
افسانہ نمبر 146

“تصویر”
نعمان ہاشمی-گوجرانوالہ پاکستان
وہ تیزی سے اٹھا، پنسل اور برش سنبھالے، کینوس درست کیا اور اسکے سامنے جا کھڑا ہؤا ۔ اور تصوراتی عکس کو کینوس پر منعکس کرنے لگا۔۔۔۔ آڑھی ترچھی لکیروں سے ایک خوبصورت تصور کو تصویر میں بدلنے کا یہ سفر اسے لمحہ بہ لمحہ سکون سے نواز رہا تھا۔۔ اسکے اندر خوشی رقص کرنے لگی۔۔ اسے مگن ہوئے گھنٹوں گزر چکے تھے۔۔ اجالا اندھیرے میں کب تبدیل ہوا اسے کچھ خبر نہیں، کینوس پہ لگا ایک بلب کی روشنی اسکے دل و دماغ پہ بنی تصویر کو نقش کرنے کے لئے کافی تھی۔
آج ایک سال بعد اسکے ہاتھوں کو برش سے کینوس چھونے کی اجازت ملی تھی ۔ اور یہ ایک سال اس پہ کتنا بھاری اور اذیت ناک تھا۔۔۔ اسکی ایک ایک رات کس کرب میں گزری تھی، وہ صرف محسوس کی جا سکتی تھی اسے بیان کرنا ناممکن تھا۔ دو بار خود کشی کی ناکام کوشش کرنے اور ہر دوسرے دن شراب و افیون کے لمبے دور چلنے کے باوجود سکون نا پید ہونا کس قدر تکلیف دہ تھا، وہ صرف خود محسوس کر سکتا تھا۔
کیون اوبرائن۔۔۔۔، اپنے دور کا بہترین آرٹسٹ اور آرٹ کا استاد۔۔۔۔ذاتی زندگی میں کس اذیّت سے دوچار تھا، کوئی نہیں جانتا تھا۔۔۔ دنیا کے سامنے اسکی بنائی پینٹنگز تھیں جن کا اچھوتا اسلوب اور رنگ ،احساس کے طلبگاروں میں بے حد مقبول تھا۔
وہ ایک مقامی یونیورسٹی میں اساتذہ کی فہرست میں شعبہ آرٹس کا ایک معتبر نام سمجھا جاتا تھا اور اس شعبہ میں قدم رکھنے والے نئے دیوانوں کے فن کو بامِ عروج تک پہنچانے میں کمال مہارت رکھتا تھا۔ اسکے شاگردوں کی تعداد سینکڑوں میں تھی، جن میں سے اکثر اب آرٹ کی دنیا کا معتبر حوالہ سمجھے جاتے تھے اور اپنے استاد کا نام روشن کر رہے تھے۔
جامعہ کی آرٹ گیلری میں اوبرائن آرٹس کے نام سے ایک حصہ مختص تھا جس میں صرف اسکی بنائی پینٹنگز سجائی گئی تھیں جو اسکے بڑے فنکار ہونے کا جیتا جاگتا ثبوت تھیں۔
ان سب باتوں کے باوجود ایک سال کی مسلسل کوشش اور بیس سال کا تجربہ اس سے ایک تصویر بنوانے سے قاصر رہا، صرف ایک تصویر۔۔۔ اور اس تصویر کے لئے کی گئی کو ششوں میں ایک کمرے میں شراب کی بوتلوں کا ڈھیر تھا تو دوسرے کمرے میں افیون کی بدبو رچ چکی تھی۔۔۔ آج بھی وہ حسبِ معمول اپنی اذیت کی تلافی شراب سے کرنے کی ناکام کوششوں میں مصروف ایک دیوار سے ٹیک لگائے بےحال بیٹھا تھا کہ اچانک اسکے ذہن کے کینوس پر ایک منظر نمودار ہوا اور دیکھتے ہی دیکھتے اس کا چہرہ کھل اٹھا۔۔ وہ کچھ وقت ا اس منظر پر غور کرتا رہا اور تصوراتی دنیا میں، اس منظر میں رنگ بھرنے کے بعد صبح تک وہ اور کینوس ایک دوسرے کو تسکین بخشتے رہے۔ اسکے ہاتھ بڑی مہارت اور نفاست سے کینوس پر چل رہے تھے۔ ساری رات کی ریاضت کے بعد ابھی تصویر کا صرف خاکہ مکمل ہو سکا تھا۔
“تصویر بنانا کوئی آسان کام تھوڑی ہے۔۔۔تصور تخیل کی بھٹی میں جل کر مختلف شکلیں بناتا ہے۔۔۔ جس سے خاکہ تشکیل پاتا ہے۔۔۔ خاکے میں ۔۔۔ کئی راتوں کا لہو برش سے رنگ بھرتا ہے تو کینوس پہ نقش ابھرتے ہیں۔۔۔ مصور کا رنگ جب اس میں دکھائی دینے لگتا ہے تو تصویردیکھنے والی آنکھوں کے حوالے کر دی جاتی ہے۔۔۔ چاہے تو داد دیں ۔یا ۔۔دیکھ کر ان دیکھا کر دیں”۔۔۔۔
خاکہ مکمل کرنے کے بعد وہ کچھ دیر کے لئے رکا۔۔۔ گھڑی پر نظر دوڑائی، وہ پچھلے چودہ گھنٹے سے اس کام میں مگن تھا۔۔۔ وہ کینوس کے سامنے کھڑا ہوا اور خاکے کو غور سے دیکھنے لگا۔۔۔ پھر وہ قدرے دور جا کھڑا ہوا۔۔۔ کچھ لمحوں بعد اس نے الگ زاویے سے خاکے کا مشاہدہ کیا۔۔۔ اسے کچھ کمی محسوس ہو رہی تھی۔۔۔ وہ دائیں سے بائیں جانب گیا اور خاکے کو جانچنے لگا۔۔۔۔ اور پٌھر تصور میں اس خاکے میں رنگ بھرے۔۔۔ اسکی عادت تھی وہ رنگ بھرنے سے پہلے پینٹنگ کو ہر زاویے سے پرکھتا تھا۔۔۔ کچھ دیر یونہی کھڑا رہنے کے بعد وہ دوبارہ کینوس کے سامنے آ کھڑا ہوا،۔۔۔۔ کچھ دیر یونہی کھڑے رہا اور شیو کھجاتے ہوئے ہر حصے کا بغور جائزہ لیتا رہا۔۔۔ جیسے جیسے وقت گزرتا گیا، اسکے چہرے کی رنگت تبدیل ہونے لگی۔۔۔
” یہ وہ نہیں ہے جو میں نے سوچی تھی”۔۔ اسکے ذہن میں ایک جھماکا ہوا۔۔۔ اس نے پینٹ پلیٹ ہاتھ میں پکڑی، برش تھاما اور سرخ رنگ سے تصویر پر حقارت سے کراس لگا دیا۔۔۔ اور پھر چند ہی لمحوں میں کینوس بورڈ کے ٹکڑے زمین پر پڑے تھے اور وہ غصے میں بڑبڑاتا ہوا فریج کے پاس گیا۔، شراب کی بوتل نکالی اور ایک ہی سانس میں پی گیا۔۔۔
” یہ میری پینٹنگ نہیں ہو سکتی تھی۔۔۔ میں ایسی عام اور گھٹیا پینٹنگ کیسے بنا سکتا ہوں۔۔۔ اس نے اپنے ہاتھوں کو حقارت سے گھورا۔۔۔ اسکے تصور میں ایک شاندار پینٹنگ جلوہ نما تھی۔۔۔ جبکہ اسکے ہاتھوں نے جو خاکہ بنایا تھا وہ بالکل الگ تھا۔۔۔ اس نے ایک غصے بھری نظر اپنے ہاتھوں پہ ڈالی،شراب کی خالی بوتل پاس دیوار پہ ماری اور پھر اسکی کرچیوں سے اپنے ہاتھ کاٹنے لگا۔۔۔
“یہ ناکارہ ہو چکے ہیں ۔۔۔۔ یہ اگر ویسے نہیں چل سکتے جیسے میں چاہتا ہوں تو پھر یہ چلتے ہی کیوں ہیں؟۔۔ یہ میرے جسم کا حصہ ہی کیوں ہیں؟”
کچھ ہی لمحوں میں خون کے قطرے اسکے کپڑوں کو رنگ رہے تھے۔۔۔ وہ کِرچی مٹھی میں رکھے، مٹھی جتنی زور سے بند کرتا اسے اتنا سکون محسوس ہوتا۔۔۔اور اتنا خون بہتا۔۔۔
اسکی نظریں سامنے دیوار پہ لگی تصویر پہ تھیں، جو بیلا نے اسکے لئے بنائی تھی،آہستہ آہستہ اسکی آنکھوں کے سامنے اندھیرا چھانے لگا اور وہ نڈھال ہو کر گر پڑا۔۔۔ کانچ اسکے ہاتھوں میں اپنے نقش اتنے گہرے چھوڑ چکا تھا کہ وہ چاہ کر بھی اگلے کچھ ہفتے ان سے کوئی کام نہیں لے سکتا تھا۔۔۔ خون بہتا رہا اور پھر آہستہ آہستہ خون رسنا بند ہو گیا۔۔ اسکے بدن میں خون تھا ہی کتنا۔۔۔۔۔
دیوار پہ لگی اسکی تصویر میں تھکن صاف ظاہر تھی۔۔۔ جو کل شام سے نئی بننے والی تصویر پہ نظریں جمائے اس امید پہ تھی کہ آج ایک عرصے بعد ایک نئی تصویر اس کمرے کی زینت بنے گی۔ پھر جیسے جیسے باہر روشنی پھیلتی گئی، اسکی آنکھوں کے سامنے اندھیرا بڑھتا گیا۔۔۔ دھیرے دھیرے منظر خاموش اور پر سکون ہو گیا۔۔ مکمل خاموش۔۔۔ سامنے لگی تصویر نے اسے دلاسہ دیا، اسکے کندھے تھپکائے۔۔۔۔ اور اس نے آنکھیں موندھ لیں۔۔۔

جب اس نے آنکھیں کھولیں تو وہ بیڈ پر دراز تھا ، اسکے ہاتھوں پہ پٹیاں بندھی تھیں۔۔۔۔ اور اسکے سر میں درد کی ٹیسیں اٹھ رہی تھیں۔ اسکی نظر دائیں جانب نیم دراز بیلا پہ پڑی جو اسکے ذرا سے کراہنے پرفوراً اٹھ بیٹھی۔۔ شکر ہے تمہیں ہوش آئی ہے،۔۔اس کے لہجے میں درد تھا۔۔
جانے کیوں کرتے ہو اپنے ساتھ ایسا۔۔۔۔ اتنا جنون کہاں سے آ جاتا ہے تم میں؟ دیکھو کتنے گہرے زخم آئے ہیں۔۔۔۔ خبردار جو اب بیڈ سے ہلے بھی تو۔۔۔میں یونیورسٹی خود بتا دوں گی۔۔۔۔
تم آرام کرو میں تمہارے لئے کچھ کھانے کے لئےلاتی ہوں۔۔۔
وہ یہ کہتے ہوئے اٹھی۔۔۔۔ ایک نظر اسے دیکھااور کچن میں چلی گئی۔
” وہ ایسی ہی تھی۔۔۔ ہمیشہ عین اس وقت اسکے گھر آ پہنچتی جب وہ خود کو اذیّت دے رہا ہوتا ۔۔۔ وہ اگر نہ ہوتی تو اسکی دونوں میں سے کم از کم ایک خودکشی کی کوشش کامیاب ہو چکی ہوتی۔۔۔ یا کم از کم وہ اپنے جسم کا کوئی حصہ کھو چکا ہوتا۔۔۔
اسے کیسے خبر ہو جاتی ہے؟ اس نے سوچا اور نظر کمرے پہ دوڑائی۔۔۔ ہر شے بڑے سلیقے اور ترتیب سے اپنی جگہ موجود تھی۔۔۔ کیلنڈر کی بدلی ہوئی تاریخ اس سوال کا جواب تھی کہ بیلا کی آنکھوں میں شب بیداری کیوں جھلک رہی تھی۔۔۔ اس نے سوچا مگر پھر جلد ہی اسے بیلا کی نصیحتیں یاد آئیں اور ان پہ عمل کرنے کی غرض سے آنکھیں بند کر کے لیٹ گیا۔۔۔

ایرن بیلا۔۔۔۔ اوبرائن آرٹس کے بڑے مداحوں اور قریبی دوستوں میں سے ایک۔۔۔ خود کو اوبرائن کی شاگردہ سمجھنے والی بیلا ، خود بھی ایک باکمال مصورہ تھی۔۔۔ بیلا پچھلے دس سالوں سے پچیسویں بہار میں تھی۔۔۔ اسکی جوانی لا زوال تھی۔۔۔
اسکے شوق اور جنونِ مصوری نے اسے اوبرائن کے قریب آنے کا موقع دیا، اور اسی شوق کو دیکھتے ہوئے وہ اکیلی تھی جو اوبرائن کے گھر بلا جھجھک اور اجازت آ سکتی تھی۔۔۔
“تیکھے نین نقش، خوبصورت گال، سرخ ہونٹ۔۔۔ لمبے گھنگریالے بالوں سے ڈھکی لمبی گردن اور انگوری آنکھوں کا مصورِ کائنات کا یہ لا جواب شاہکار اگر کبھی خود کو تصویر کرے تو چھا جائے، مگر ابھی تک یہ خیال اس کے تخیل کو نہیں چھوا تھا۔۔۔”

اوبرائن کچھ دنوں سے نارمل زندگی گزار رہا تھا ، قریباً ایک ہفتے کی بیڈ ریسٹ کے بعد وہ روزانہ وقت پر یونیورسٹی جاتا اور پھر بعد میں دیر تک وہاں بیٹھا طلبا کو پریکٹس کرتے دیکھتا اور ضرورت پڑنے پر رہنمائی بھی کرتا رہتا۔۔۔
ہاتھوں کے زخم ابھی مکمل طور پر بھرے نہیں تھے اس لئے اوبرائن آرٹس کے سامنے سے گزرتے ہوئے بے قراری پر قابو پانے کے لئے بیلا کی نصیحتیں یاد کرنا پڑتی۔۔۔
وہ دونوں کافی دنوں سے نہیں ملے تھے۔۔ اور نہ ہی بیلا نے رابطہ کیا تھا۔۔ اس کی اتنی لمبی غیر حاظری اسے اب پریشان کرنے لگی تھی۔۔۔
ایک دن وہ یونہی لائبریری میں بیٹھا لیکچر تیار کر رہا تھا کہ اسے دور سے بیلا دکھائی دی۔۔ اوبرائن پہ اسکی نظر پڑتے ہی وہ سیدھا اس کی طرف لپکی۔۔ آتے ہی اس کی طبیعت پوچھنے کے بعد اس کا ہاتھ پکڑا اور غور سے دیکھنے کے بعد زخموں کی تسلی بخش حالت پر وہ خاصی مطمئن نظر آئی۔۔۔
اس سے پہلے کہ اوبرائن کچھ بولتا یا پوچھتا۔۔۔۔ بیلا نے خود ہی بات شروع کر دی۔۔۔
“تمہیں پتا ہے کہ آرٹس کونسل میں مصوری کا سالانہ مقابلہ ہو رہا ہے۔۔۔ اور مجھے اس بار یہ مقابلہ جیتنا ہے۔۔ پچھلی بار کی طرح۔۔ مگر مجھے سمجھ نہیں آ رہی کہ کیا بناؤں۔۔۔ بہت مشکل کام ہے یہ بھی۔۔”
اوبرائن ہمیشہ کی طرح اسکے ہلتے لبوں اور پھیلتی سکڑتی آنکھوں کو خاموشی سے دیکھنے لگااور اس کے خاموش ہونے پر سب سے پہلے اتنے دن غائب رہنے کی وجہ پوچھی۔۔۔
” بس ایسے ہی گھر بیٹھی مقابلے کی تیاری میں مصروف تھی۔۔ تمہیں تو پتا ہے کہ مجھے اس مقابلے کا کتنی شدّت سے انتظار تھا مگر اب جب وقت آیا ہے تو جانے مجھے کیا ہو گیا ہے۔ جو بنانے لگتی ہوں بنتا ہی نہیں ہے۔۔ پہلے تو سمجھ ہی نہیں آتی کہ بنانا کیا ہے اور پھر اگر شروع کر لوں تو تصویر خود کہنے لگتی ہے مجھے ایسا بناؤ، مجھے ایسا نہیں بننا۔۔۔ کبھی جو اسکی مان لوں تو ذہن سے جنگ چھڑ جاتی ہے کہ یہ کیا بنا رہی ہو۔۔۔ اور کچھ بن جائے تو ایسا بنتا ہے کہ خود محسوس ہوتا ہے اسے بننا ہی نہیں چاہئے تھا۔۔۔ ذہن پہ نئے نقش ابھرتے ہیں، اس سے پہلے کہ پینٹ کرنا شروع کروں غائب ہو جاتے ہیں۔ ۔۔ ۔۔۔ مجھے کبھی کچھ نہیں بھولتا تھا۔ مگر اب یاد ہی نہیں رہتا کہ کیا بنانا تھا ۔ اور اگر کچھ شروع کر ہی دوں تو ذہن و دل میں جنگ شروع ہو جاتی ہے۔۔ ایک کہتا ہے ایسا بناؤ تو دوسرا کچھ اور مشورہ دیتا ہے، اور پھر بات کینوس کے ٹوٹنے پہ ختم ہوتی ہے۔۔ کبھی کبھی مجھے لگتا ہے میرے ہاتھ میرے بس میں نہیں ہیں۔۔۔ میرا تو دل کرتا ہے کہ اپنے ہاتھ ہی توڑ دوں۔۔”
یہ کہتے ہوئے اس نے اوبرائن کے ہاتھوں کی طرف دیکھا اور خاموش ہو گئی۔۔۔ اسے ان زخموں کہ وجہ اب سمجھ آئی تھی۔۔
تم ہی بتاؤ میں کیا کروں۔۔۔؟
اس سے پہلے کہ بیلا رو پڑتی۔۔ اوبرائن نے اسکے ہاتھ اپنے ہاتھوں میں لئے اور مسکرا دیا۔۔۔
” اتنی پریشان رہی ہو اور مجھے بتایا ہی نہیں؟ میرے پاس چلی آتی؟”
تمہارے پاس کیسے آ جاتی؟ تم تو خود اسی اذیّت میں ہو۔۔ اور خود کو ٹارچر کرتے رہتے ہو۔۔ میری وجہ سے یونہی مزید پریشان ہو جاتے۔۔۔ اور اگر تمہارے پاس اسکا حل ہوتا تو ابھی تک خود اس عذاب سے چھٹکارا نہ پا لیتے۔
بیلا کی باتوں کو وہ تحمل سے سنتا رہا۔۔۔ وہ اس کے مسئلوں کو حل کرنے میں کمال مہارت رکھتا تھا۔۔۔ لیکن یہاں مسئلے کی نوعیت اور تھی۔۔۔
” اب یہ تمہارا یا میرا مسئلہ نہیں، ہمارا مسئلہ ہے۔۔ اب اسکا حل نکل آئے گا۔۔۔”
بیلا کی بے قرار ہوتی آنکھوں میں قدرے اطمینان اتر آیا۔۔۔
“تمہارے پاس آ کر میرے پیچیدہ مسئلے بھی آسان لگنے لگتے ہیں۔۔”اس کے لہجے میں تشکر تھا۔۔
تو پھر اتنی دیر کیوں کر دی آنے میں؟ اس نے برجستہ سوال کیا۔۔۔
” تمہیں پتا ہے کیوین؟ اذیّت بھی بڑی قیمتی شے ہے۔ یہ ہمیں سکون کی اہمیت کا احساس دلاتی ہے۔ یہ ہمیں خود سے ملاتی ہے اور اس شخص کی قدر کرنا سکھاتی ہے جسکی وجہ سے ہمیں اس سے نجات ملتی ہے،ہمیں سکون لتا ہے۔۔۔ میں اگر فوراً تمہارے پاس چلی آتی تو اس وقت تمہارے ہاتھ تھامنے یا مسئلے کے حل کرنے پر تمہیں اس قدر کی نگاہ سے نہ دیکھ رہی ہوتی جتنی اب تمہاری قدرمحسوس کر رہی ہوں۔۔۔
“تم ہمیشہ ٹھیک کہتی ہو۔۔” اوبرائن نے اس کی ہاں میں ہاں ملائی۔۔۔
“تو پھر اب کیا کرنا ہے” بیلا نے پوچھا
“دیکھتے ہیں، سوچتے ہیں، حل تلاش کرتے ہیں، کھوج لگاتے ہیں۔۔ کچھ نہ کچھ تو مل جائے گا۔۔۔ تلاش کرنے سے کچھ نہ کچھ تو مل ہی جاتا ہے۔۔۔” اس کے لہجے میں گہرائی تھی۔
بیلا جانتی تھی کہ اب جو بھی حل نکلے گاوہ ان دونوں کے لئے کار آمد ہو گا۔۔۔
کچھ دیر ادھر ادھر کی باتیں کرنے کے بعد وہ اٹھ کر چلی گئی جبکہ اوبرائن وہیں بیٹھا اس کا حل سوچنے لگا۔۔ واپس گھر آ کر بھی بیڈ پر لیٹے وہ یہی سوچتا رہا۔۔۔ جب کچھ سمجھ نہ آیا تو سامنے لگی تصویر نے اسے سونے کا اشارہ کیا، حکم عدولی کی گنجائش نہیں تھی۔۔۔ اس نے آنکھیں بند کیں اور سو گیا۔۔

ایک رات یونہی چھت پر چہل قدمی کرتے اور سگریٹ سلگاتے اسکے ذہن میں کشمکش نے ڈیرے ڈالے اور مصوری کا نشہ اسکے جسم میں کانٹے چبھونے لگا۔۔۔ اس نے بے بسی سے چہل قدمی تیز کی۔ وہ ابھی اس طرف دھیان نہیں کرنا چاہتا تھا اور نہ ہی پینٹ کرنے کے بارے میں سوچنا چاہتا تھا۔۔ سگریٹ کے لمبے کش لئے۔۔۔ ایک کے بعد دوسرا اور پھر تیسرا سگریٹ بھی جل کر دھواں ہو گیا۔۔۔ اس الجھن سے نکلنے کی ساری کوشش جب ناکام رہی تو اسے پھر سے شراب کا سہارا لینا پڑا مگر بے سود رہا۔۔۔ چبھن بڑھتی گئی۔۔۔ قریب تھا کہ وہ یا تو پھر سے خود کو اذیّت دینے لگتا یا چھت سے چھلانگ لگا کر خود کشی کی تیسری کوشش کر ڈالتا۔اس دوران ۔۔ افیون ناک سے دماغ تک تو پہنچی لیکن اثر کرنے سے پہلے ہی زائل ہو گئی۔۔۔ اس کے اندر بڑھتی الجھن اور چبھن نے اسے باقاعدہ اضطراب میں مبتلا کر دیا تھا۔۔۔ بے چینی نے جب سارے وجود کو لپیٹ میں لے لیا اور ساری کوششیں بے کار ثابت ہوئیں تو اس نے ایک بار آخری کوشش کے طور پر دوبارہ منظر تخلیق کرنے کا سوچا۔۔۔ گو کہ وہ جانتا تھا کہ یہ سعی بے کار جائے گی مگر اور کوئی حل نہیں تھا۔۔۔
کسی درندے کے شکار کا منظر۔۔۔۔ نہیں۔۔۔ اس کے ذہن میں پہلا خیال آیا جسے اس نے رد کر دیا۔۔
سمندری لہریں اور ان پر تیرتی بچے کی لاش، ہاں ہاں۔۔۔۔ اور ساتھ اگر اسکے لباس اور بدن کو پسماندہ بنا دوں تو کسی بھی مہاجر بچے سے تشبیہ دی جا سکتی ہے۔۔۔ چہرے پہ اگر خون کے دھبے بھی ہوں تو ۔۔۔ اور اسکی لاش کو پانی سے نکالنے کی بجائے اسکی تصویر کھینچتا ایک بے حس فوٹوگرافر۔۔۔ اس نے سوچا۔۔مگر یہ تصویر تو اینڈے وارہول پہلے ہی بنا چکا ہے۔۔۔۔ اس کے چہرے پہ آئی تازگی رفع ہو گئی۔۔۔(Andy Warhol (
وہ چھت کے ایک کونے میں ایک اور سگریٹ سلگا کہ بیٹھ گیا اور مزید غورو فکر کرنے لگا۔۔
بظاہرمسکراتا ، گنگاتا شخص اور اسکے دماغ میں خاموش بیٹھا اسکا اپنا وجود۔۔۔۔ یہ کمال رہے گا۔۔۔ اور ہاں اگر کسی پارٹی کا منظر ساتھ شامل ہو جائے تو۔۔۔ اور ایک کے بجائے زیادہ لوگ۔۔۔ اور ان کے اندر چھنگاڑتے۔۔۔ روتے۔۔۔ ہنستے۔۔۔ ڈرے سہمے خاموش بیٹھے انکے وجود۔۔۔ ہر چہرے کا چھپا ہوا ایک اور چہرہ۔۔۔ دہری اشکال والے ایک جیسے لوگ۔ان کے درمیان جام تقسیم کرتی حسینائیں۔ ۔۔۔ رنگ برنگی روشنیوں میں چھپے کالے چہرے۔۔۔ اور اس سارے منظر کو ذہن میں نقش کرتا۔۔۔۔ ایک طرف خاموش بیٹھا ایک نوجوان۔۔۔ اسکے ہاتھوں میں جلتا سگریٹ۔۔۔۔ باہر و اندر سے ایک جیسا بے حال و بے خبر۔۔۔اور اس سارے منظر سے تصویر کشید کرتا اوبرائن۔۔۔۔
اس کے اندر خوشی کی لہر دور اٹھی۔۔۔
” واہ واہ کیا مزا آئے گا” اس نے خود کلامی کی۔۔
اس نے منظر فائنل کیا اسے اپنی میموری میں محفوظ کیااور پھر اس کو مختلف زاویوں سے تصور میں ہی ٹٹولتا رہا اور تبدیلیاں کرتا رہا۔۔

ایک دن لیکچر کے بعد پریکٹس سیشن میں اسکی نظر ایک ہلکی عمر کے نوجوان پہ پڑی۔۔ جو بڑے انہماک سے چارکول پنسل سے کسی درخت اور اسکے نیچے کسی ندی آؤٹ لائن بنا رہا تھا۔۔۔ اس کے ہاتھ بڑے تواتر سے چل رہے تھے۔۔۔ وہ اس قدر مگن تھا کہ ارد گرد کی بالکل خبر نہیں تھی۔۔ اوبرائن کچھ دیر کھڑا اسےدیکھتا رہا۔۔۔ وہ کبھی اسے، کبھی چارٹ اور کبھی اسکے ہاتھوں کو دیکھتا۔۔۔ اس دوران ایک بار اس نے ایک افسردہ نگاہ اپنے ہاتھوں پہ بھی ڈالی۔۔۔
وہ چل کر اس کے قریب گیا۔۔۔ اور خاکے کا بغور مشاہدہ کیا۔۔۔ پھر اس نوجوان کو مخاطب کر کے بولا۔۔۔ درخت کو تھوڑا گہرا بنانا اور سایہ رف کر دینا۔۔۔ سائے کا رنگ بھی گہرا ہی ہو گا۔۔
“جی سر، ضرور”اس نے اثبات میں سر ہلایا۔۔
اسے نہیں معلوم تھا کہ اسکے خاکے کا اوبرائن اس گہرائی سے مشاہدہ کر رہا تھا۔۔۔
تمہیں ایک نصیحت کروں؟ قدرے توقف کے بعد اوبرائن نے اسے دوبارہ متوجہ کیا۔۔۔
” جی ضرور سر۔۔۔!” وہ پینٹنگ روک کر اسکی جانب متوجہ ہؤا۔۔
” اپنی آرٹ گیلری کے ساتھ ایک اور گیلری ضرور بنانا۔۔۔ آزمائش و تکلیف کی گیلری۔۔۔ ان اذیّتوں اور مسرتوں کی گیلری جو مصوری کے دوران تم محسوس کرو، یہ گیلری جتنی بڑی اور پر کشش ہو گی آرٹ گیلری اتنی ہی بڑی، دیدہ زیب اور جاذبِ نظر ہو گی۔۔۔
تمہیں پتا ہے ایک تصویر میں کونسا رنگ بھرنا سب سے مشکل ہے؟ ۔۔
احساس کا رنگ۔۔۔ اس نے اپنی بات جاری رکھی۔۔
جو تم محسوس کر رہے ہو اسے تصویرمیں منتقل کرنا اور اس قابل بنانا کہ دیکھنے والا اسے اتنی ہی شدت سے محسوس کرے جتنی شدت تمہارے جذبے میں تھی۔۔ چاہے وہ احساس مسرت کا ہو یا کرب کا۔۔۔ اسے رنگ دینا ہی اصل مہارت ہے۔۔اور اس فن میں ماہر وہی سمجھا جاتا ہے جس کے پاس بیک وقت دو گیلریاں ہوتی ہیں، ۔۔۔۔ تا کہ ایک گیلری سے رنگ چنے اور دوسری گیلری میں آویزاں کرے۔۔۔”
اوبرائن نے بات مکمل کی اور اسکی طرف دیکھا۔۔۔ جو بڑے دھیان سے سر جھکائے اس کی بات سن رہا تھا۔۔۔ اس نے چہرا اوپر اُٹھایا۔۔ اوبرائن کی جانب ادب و تشکر کی نگاہ ڈالی۔۔۔
” سمجھ گیا سر۔۔۔ میں آپکی بات بخوبی سمجھ گیا ہوں، اور آج سے ہی اس پر عمل کروں گا۔۔۔”
“جیتے رہو۔۔۔ پینٹ کرتے رہو۔۔ اور سدا خوش رہو۔۔۔۔۔۔۔”
اوبرائن نے اسکا کندھا تھپکایا اور آگے بڑھ دیا۔۔۔
“سر۔۔۔۔۔! سدا خوش رہا تو دونوں گیلریاں آدھی رہ جائیں گی۔۔ اس لئے یہ دعا رہنے دیں۔۔”
اوبرائن نے مڑ کر دیکھا۔۔۔ اس کے چہرے پر ایک مطمئن مسکراہٹ نے جنم لیا ۔۔ اور آگے بڑھ گیا۔۔۔ نوجوان بات سمجھ گیا تھا۔۔۔

نوجوان سے گفتگو کے دوران اسے اپنے اور بیلا کے مسئلے کا حل مل گیا تھا۔۔۔ وہ گھر پہنچ کر اس کے آنے کا انتظار کرنے لگا۔۔۔ سہ پہر کے قریب بیلا اداس چہرہ لئے اسکے سامنے بیٹھی تھی۔۔۔ اداسی کی وجہ وہ بخوبی جانتا تھا۔۔۔
“تمہیں پتا ہے ہم تصویر کیوں نہیں بنا پا رہے۔۔۔”اس نے بیلا سے سوال کیا۔۔۔
“کیوں”
“ہم کچھ محسوس نہیں کر رہے۔۔۔ اور جب تک محسوس نہیں کریں گے کینوس پہ منتقل کیسے کریں گے؟”
بیلاکی آنکھوں میں جاگنے والی چمک نے اس بات کی تصدیق کر دی تھی کہ اوبرائن کی بات میں وزن ہے۔۔
“ہمیں کیا کرنا چاہئے؟” بیلا نے پوچھا۔
” ہمیں چیزوں کو محسوس کرنا چاہئے،، مجھے نہیں یاد پڑتا کہ آخری بار مجھے کوئی چیز محسوس ہوئی ہو،، یہی حال تمہارا بھی ہے۔۔ ہم اپنی سوچوں، مسئلوں میں اس قدر الجھ چکے ہیں کہ ہمیں اب موسم محسوس ہوتے ہیں اور نہ ایک دوسرے کا ساتھ۔۔۔ جذبہ خوشی کا ہو یا اداسی کا۔۔۔ یہ ہمیں اپنے ہونے کا احساس نہیں دلا پاتا۔۔۔ کھانے کا ذائقہ ہو، شراب کی لذت یا نشہ ہو یا نیند کا سکون۔۔۔ ہمیں کچھ بھی تو محسوس نہیں ہوتا۔۔۔”
آج بیلا اسے خاموشی سے سن رہی تھی۔۔۔ اس نے درمیان میں کسی جگہ اسے نہیں ٹوکا۔۔۔ جبکہ اوبرائن کے لہجے میں جوش تھا۔۔۔
” سنو ہمیں سب سے پہلے اپنا احساس زندہ کرنا ہو گا ۔۔اپنی پانچوں حِسّوں کو کام میں لانا ہے جو ہماری چھٹی حِس بیدار کرے گی جس سے ہمیں تخلیق میں مدد ملتی ہے۔۔۔ تب جا کر کہیں ساتویں حس دوبارہ عطا ہو گی جس سے ہم خوشبو دیکھ سکیں گے۔۔۔ہمیں رنگ سنائی دیں گے اور پرندوں کی آوازیں ہماری تصویروں سے آنے لگیں گی۔۔ حسن جاذبِ نظر لگے گا اور منظر پر کشش بنیں گے۔۔ ہمارے ہاتھ ذہن سے الجھنے کی بجائے کینوس پہ نقش بنائیں گے۔۔۔ ہمیں اپنی حس بیدار کرنا ہو گی۔۔۔”
وہ بات کرتے کرتے اٹھا ، بیلا کا بازو پکڑا اور گھر سے باہر آگیا۔۔۔
بیلا نے بھی خود کو اس کے حوالے کر دیا۔۔۔
“دیکھو بیلا اور محسوس کرو۔۔ یہاں ہر چیز تمہیں اپنی جانب پکار رہی ہے۔۔ تمہاری توجہ چاہ رہی ہے۔۔۔ کہ اسکی تصویر بنائی جائے۔۔۔ اس کے بنائے جانے پہ غور کیا جائے۔۔۔ مصورِ کائنات کی تخلیق کا انداز سمجھا جائے۔۔۔ وہ اس کا ہاتھ تھامے تقریباً بھاگ رہا تھا۔۔۔ اور چلا چلا کر اسے کہہ رہا تھا۔۔۔ یہ دیکھو گھونسلا۔۔۔ اس سے کتنے مصوروں نے رزق کمایا ہو گا۔۔۔ یہاں سے گزرنے والے چہرے دیکھے۔۔۔ انکے چہرے پڑھو،،، وہ آسمان پہ پرندوں کے غول تمہیں بلا رہے ہیں۔۔۔ جو اپنے گھر کی جانب رواں ہیں۔۔۔ اب ان لوگوں کا سوچو جن کے گھر نہیں ہیں۔۔۔ وہ شام ہوتےہی کہاں جاتے ہوں گے؟ ادھر دیکھو یہ سڑک کنارے بیٹھے تصویر بنانے والوں کی بھی تصویر بنائی جا سکتی ہے۔۔ سڑک پہ ہونے والے حادثے سے لیکر ہوا میں بلند ہوتے غباروں میں چھپی بچوں کی خوشی۔۔۔ یہ سب تمہارے کینوس پہ نقش ہو سکتے ہیں۔۔۔
وہ دونوں بچوں کی طرح سڑک پہ بھاگ رہے تھے۔۔۔۔ بیلا نے ایک مدت بعد اسے اتنا زندہ دیکھا ۔۔۔ بھاگتے بھاگتے وہ سمندر کنارے جا پہنچے جو انکے گھر سے چند فرلانگ کی دوری پہ تھا۔۔۔
بیلا یہ دیکھو۔۔۔۔ اوبرائن نے رک کر اس کے کانوں میں سرگوشی کی۔۔۔
یہ سمندر ہے۔۔۔ جسکی آنکھیں یہاں سب سے قدیم ہیں، یہ صدیوں سے ہر روز ساحل پہ آنے والوں کو دیکھ رہا ہے۔۔۔ آج اس سے اسکی آنکھیں ادھار لو اور مناظر کو سمندر کی نگاہ سے دیکھو۔سارا دن آگ برسانے والا شام کو اس کے قدموں میں غروب ہو کر چاند کا تحفہ دینے والا سورج، سمندر میں کیسے غروب ہوتا ہے۔۔۔ اور پھر پورا چاند اسکی لہروں کو جب اپنی جانب کھینچتا ہے تو سمندر کیا محسوس کرتا ہے۔۔۔ اماوس کی راتوں میں اس پہ کیا بیتتی ہے۔۔
بیلا خاموش کھڑی اوبرائن کی باتوں پہ من و عن عمل کر تے ہوئے بغیر حرکت کئے اسکے باتوں پہ لفظ بہ لفظ عمل کرتی رہی۔۔۔ یہ بالکل ایسے تھا کہ اوبرائن نے اس پہ کوئی طلسم پھونکا ہو اور اسکے دماغ کو اپنے قبضہ میں کر لیاہو۔۔ وہ جیسا جیسا کہہ رہا تھا، بیلا ویسا ویسا کر رہی تھی۔۔
وہ دیکھو بیلا ایک پرندےنے سمندر کے ساتھ شرارت کی ہے۔۔۔ تم اس پتھر کو محسوس کرو جو اس باہر کھڑے لڑکے نے اس میں پھینکا ہے۔۔۔ لیکن ۔۔۔۔۔۔۔۔تم یہاں باہر کھڑی سمندر کی طرح کیسے دیکھ اور محسوس کر سکتی ہے۔۔۔ اس کے لئے تمہیں اس کے اندر اترنا ہو گا۔۔۔ اسکا حصہ بنو۔۔ خود سمندر بنو۔۔ اور وہاں سے ساحل پہ کھڑے لوگ دیکھو، اس پتھر کو اپنے اندر محسوس کرو۔۔۔ اپنے قدموں میں سورج کو غروب ہوتا دیکھو اسے اپنے دل میں جگہ دو اور ذہن میں نقش کر لو۔۔۔ جاؤ بیلا۔۔۔ جاؤ۔۔۔
اس کے بعد اوبرائن خاموش ہو گیا اور بیلا سمندر کی جانب بڑھنے لگی۔۔۔۔ اوبرائن نے اسے جاتا دیکھا تو خود اس زاویے پہ آ کھڑا ہوا کہ سورج عین بیلا کے چہرے کے سامنے تھا۔۔۔ پھرکچھ لمحوں بعد وہ زمین پر بیٹھ گیا۔۔۔ وہ اپنی سب سے قیمتی تصویر حاصل کرنے والا تھا۔۔۔
بیلا سمندر کے کنارے پہنچی تو لہروں نے اسے خوش آمدید کہا اور ساتھ لئے سمندر میں اترنے لگیں۔۔۔ اس سے کچھ فاصلے پر سرفنگ کرتے ایک نوجوان نے قلابازی کا مظاہرہ پیش کیا تو پانی کی دھار نے سورج کے گرد ایک دلکش لکیر کھینچی جسے بیلا نے دل میں محفوظ کر لیا۔۔۔ سورج غروب کی طرف تیزی سے بڑھ رہا تھا جبکہ بیلا آہستگی سے اسکے قریب جا رہی تھی۔۔۔ اور پیچھے بیٹھا اوبرائن اپنی مصوری نگاہ سے منظر کشید کر کے اسے محفوظ کر رہا تھا۔۔۔
کمر تک پانی میں ڈوبی ایک حسین لڑکی۔۔۔ لہروں پہ تیرتے اسکے بال، سمندر ی لہریں اور ڈوبتا سورج اور یہ سب دیکھنے جمع ہوئے کنارے پہ کھڑے تماشائی۔۔۔
آج تک کی قیمتی ترین تصویر اسے مل رہی تھی جس کے لئے وہ بیلا کو خطرے میں ڈال چکا تھا۔۔۔ پانی بیلا کو اپنے اندر جگہ دے رہا تھا جبکہ سورج کی شعائیں بیلا کو ایک نئی دنیا اور اس کی رنگینیون سے متعارف کروا رہی تھی۔۔۔ وہ مسلسل چلتی جا رہی تھی۔۔۔ جیسے ہی اسکا دل سمندر میں ڈوبا اس پر منظر کھلنا شروع ہو گئے۔۔ “سمندر کی نگاہ سے دیکھو کہ ساحل پہ کھڑے لوگ کیا دیکھ رہے ہیں۔۔” اس نے نے ساحل کی جانب نظر دوڑائی۔۔۔ سب خوش گپیوں میں مشغول تھے جبکہ ایک طرف ایک شخص خاموش بیٹھایہ سب بڑے انہماک سے دیکھ رہا تھا۔۔۔
اوبرائن بیلا کےجسم کی ہر حرکت اور ہر عضو کو ڈوبتا دیکھنا چاہتا تھا۔۔۔ جب پانی اس کے کندھوں تک پہنچا تو سورج غروب کو پہنچ چکا تھا۔۔۔ بیلا نے ایک نظر اوبرائن پہ ڈالی۔۔۔اس نے اسکی آنکھوں کو بغور دیکھا۔۔۔ سمندر کی نگاہ سے۔۔۔ وہ اس وقت اوبرائن اور سورج کے درمیان پرِزم کا کام کر رہی تھی۔۔۔ ابھی وہ اپنی گردن پھیرنے ہی والی تھی کہ ساحل سے کچھ لوگوں کو اپنی جانب بھاگتے پایا۔۔اس نے اوبرائن کو دیکھا، اپنی جانب بھاگتے لوگوں کو دیکھا ، سورج کو اور پھر اپنی طرف بڑھتی ایک بڑی لہر دیکھی۔۔۔ اس نے آنکھیں بند کیں۔۔ سارے منظر کو محفوظ کیا۔۔۔ اور پانی اسکے اوپر سے گزر گیا۔۔۔ لیکن لوگوں نے بروقت پہنچ کر اسے ڈوبنے سے بچا لیا مگر اسکی حالت کافی خراب تھی ، اسے فوراً ہسپتال لایا گیا جہاں ابتدائی طبی امداد کے بعد اسکی حالت خطرے سے باہر تھی۔۔۔ کچھ ہی دیر میں اسے گھر شفٹ کر دیا گیا۔۔۔ ڈاکٹر نے اوبرائن کو بیلا کے مکمل آرام کی نصیحت کی۔۔۔ اور کچھ دوائیں لکھ کر دیں۔۔۔
بیلا بستر پر بے خبرسو رہی تھی۔۔۔اوبرائن نے بستر پہ دراز بیلا کو دیکھا۔۔۔ اس کے بالوں میں انگلیاں پھیریں، ماتھے پہ بوسہ دیا اور دروازہ بند کر کے اپنے کمرے میں آ گیا۔۔۔
کینوس سیٹ کر کے سارے برش، پنسل ، پینٹ کلر اور باقی ضروری سامان ساتھ پڑی میز پر رکھا اور خود آنکھیں بند کر کے صوفے پر بیٹھ گیا۔۔۔ کچھ دیر بعد “بہترین۔۔۔ ” کی آواز کمرے میں گونجی، شائد وہ منظر یاد کر رہا تھا۔۔۔عین اس وقت کی جب وہ آنکھیں کھولنے کے قریب تھا۔۔۔ اس کے اندر ایک جملے نے گردش کی اور وہ آنکھیں بند کئے رکھنے پر مجبور کر دیا۔۔۔
” تم خود غرض ہو اوبرائن۔۔۔۔”
کیا؟۔۔۔ اس نے خود سے سوال کیا
“تم نے آج خود غرضی کی انتہا کر دی ہے”۔۔۔اس جواب ملا۔۔۔
اس کے اندر اس جملےنےاودھم مچا دیا۔۔۔ ذہن و دل آپس میں جنگ چھیڑ چکے تھے۔۔۔
میں نے کیا کیا ہے؟
” تم نے ایک تصویر کی خاطر بیلا کو داؤ پہ لگا دیا۔۔۔؟”
“میں نے ایسا کچھ نہیں کیا۔۔”
تم نے ہی کیا ہے۔۔اس دوران وہ اگر مر جاتی تو۔۔۔
میں نے یہ سب اسی کے لئے کیا ہے۔۔
اسی کو داؤ پہ لگا کہ؟
اسے کچھ ہو جاتا تو کیا ہوتا؟ جان تو اسکی جانی تھی۔۔۔ تمہارا کیا تھا، تمہیں تو اپنی تصویر مل گئی ہے۔۔۔
میرا کچھ کیوں نہیں جانا تھا؟ میرا بھی تو سب کچھ کھو جانا تھا۔۔۔ اور تصویر تو اسے بھی ملی ہے۔۔
تمہیں کیا پتا اسے ملی ہے کہ نہیں؟
اسکی آنکھوں میں تصویر موجود تھی، میں نے خود دیکھا تھا۔۔
ہاں۔۔۔۔ اور وہی تصویر تم یہاں بنانے والے ہو؟ اسکی سوچی تصویر تم خود بناؤ گے۔۔ اس قدر گھٹیا کب سے ہو گئے ہو؟ کہاں گئی تمہاری انا اور تمہارا معیار؟
میں نے ایسا کچھ نہیں کیا۔۔ اور ویسے بھی وہ مقابلے سے پہلے اسے نہیں بنا سکتی۔۔۔ یہ ایک ” ٹائم ٹیکنگ” پینٹنگ ہے۔۔۔
تمہیں اس سے کیا و ہ بنا سکتی ہے یا نہیں؟ او رتم یہ بھی جانتے ہو کہ اگر اس نے بنا لی تو وہ مقابلہ با آسانی جیت جائے گی۔۔۔
لیکن یہ تصویر میری ہے۔۔۔ میں نے اپنی آنکھوں سے کھینچی ہے۔۔ کوئی اور اسے اسی طرح دیکھتا ہے تو یہ اسکا قصور ہے۔۔۔ مجھے اس سے کیا؟
کوئی اور؟ بیلا کوئی اور کیسے ہو گئی؟ یہ اسکا حق ہے۔۔ تم ایسا کچھ نہیں کرو گے۔۔۔
اس کے دل نے اپنا فیصلہ سنایا۔۔۔
میں ایسا کروں گا۔۔۔ دماغ نے اپنا فیصلہ سنایا۔۔
وہ جانتا تھا کہ اگر وہ یہ پینٹنگ بنانے میں کامیاب ہو جاتا ہے تو اوبرائن آرٹس میں ایک لا جواب اضافہ ہو گا اور مصوری کی دنیا میں اس کا قد مزید بڑھ جائے گا۔۔۔ اور اگر اس میں ذرا سی بے حسی بھی شامل کر لوں تو نیلامی میں سب سے زیادہ بولی بھی اسی کی لگے گی۔۔۔
وہ اٹھا۔۔۔ پنسل سنبھالی۔۔ اور سکیچ پہ کام شروع کر دیا۔۔۔ اسے اپنے ہاتھ چلانے کے لئے قوت صرف کرنا پڑھ رہی تھی۔۔ پنسل اسکے ہاتھوں سے کئی بار گری۔۔ اسے بار بار اپنا سر جھٹکنا پڑ ا۔۔ اسکے اندر خود غرض اور بے وفا کی صدائیں گونجیں۔۔۔ مگر وہ خود کو نہیں روک سکا۔۔۔
اسے دو مثلثیں حل کرنی تھیں۔۔۔
” ایک اپنے، بیلا اور لوگوں کے درمیان اور دوسری لوگوں،سےبیلا اور سورج تک کا بیلا کی آنکھوں سے دیکھا منظر۔۔ اور اسی منظر میں بیلا اور سورج کے درمیان وہ دھار جو سرفنگ کرتے نوجوان نے بنائی تھی۔۔۔
یہ ایک مشکل تصویر تھی۔۔ جس میں پرفیکشن درکار تھی۔۔ اور ابھی سوچنا تھا کہ بے حسی کا تاثر کن آنکھوں میں دینا ہے۔۔۔
صبح پھوٹنے تک وہ بمشکل ایک تکون حل کر سکا۔۔۔ مگر وہ ویسی بنی تھی جیسی وہ چاہتا تھا۔۔۔ اور یہ اس کے لئے بڑی اہم خبر تھی۔۔۔ ذہن پر مسلسل بوجھ ڈالنے اور اسے زبردستی استعمال کرنے کی وجہ سے وہ انتہائی تھکاوٹ محسوس کر رہا تھا۔۔۔ اس کی روح مسلسل شکست کھانے کی وجہ سے رہانسی ہو کر گر پڑی۔۔۔ کچھ دیر آرام کی غرض سے پنسل میز پر رکھی اور خود کرسی پر ٹیک لگا کر بیٹھ گیا۔۔۔
” تمہیں ایسا نہیں کرنا چاہئے تھا۔۔۔ اس کے اندر اعلان ہوا۔۔۔ یہ سرا سر ناانصافی ہے جو تم نے دونوں کے ساتھ کی ہے۔۔۔ تم جب جب اس پینٹنگ کو دیکھو گے تمہارے اندر شرمندگی جنم لیتی رہے گی۔۔۔”
تمہارے پاس پارٹی والی تصویر بھی توموجود تھی، اس پہ تو ساری ورکنگ بھی کر چکے تھے۔۔۔ وہ بنا لی ہوتی؟”
یہ میری تصویر ہے اور اسے میں ہی بناؤں گا۔۔۔ وہ غصے میں بڑبڑایا۔۔۔ لیکن اس کے اندر ملامت جاری رہی۔۔۔ سامنے لگی بیلا کی بنائی تصویر نے اس سے آنکھیں پھیر لیں۔۔۔ بلا شبہ آج وہ اس سے ناراض تھی۔۔ اگر بیلا بھی ناراض ہو گئی تو۔۔۔؟
اس سوال کے آگے سارے جواب دم توڑ گئے۔۔۔ اس نے خود کو کوئی جواب نہ دیا اور کچھ دیر کے لئے اپنے اعصاب آزاد چھوڑ دیے

یہ ایک لمبی نیند تھی۔۔۔ اسے کم ہی لمبی، گہری اور پر سکون نیند میسر آتی تھی۔۔۔ وہ جب بیدار ہوا تو اپنے آپ کو تازہ پایا۔۔۔ رات کی بھرپور مشقت کے بعد ایسی نیند کسی نعمت سے کم نہ تھا۔۔۔ گیارہ گھنٹے۔۔۔ اس نے گھڑی دیکھتے ہوئے حساب لگایا۔۔۔۔ اس نے اٹھ کر ہاتھ منہ دھویا ، فریج سے سیب نکالا اور کھاتا ہوا بیلا کا حال پوچھنے اسکے کمرے میں گیا۔۔۔دروازہ کھولتے ہی بیلا کو سامنے نہ پا کر اسکے اندر تشویش کی لہر دوڑی۔۔۔ کمرے سے باہر آ کراس نے دو تین آوازیں دیں مگرجواب نہ آیا۔۔۔ واپس کمرے میں آ کر اس نے کینوس پر ایک نظر ڈالی۔۔۔۔ زمین۔۔ اس کے قدموں تلے سے سرکنے لگی۔۔۔ دل نے دھڑکنا بند کر دیا۔۔۔ اسکا کلیجہ منہ کو آنے کو تھا۔۔۔ وہ بمشکل قریب جا کر پینٹنگ دیکھ سکا۔۔۔
خاکے کی دوسری تکون بھی مکمل تھی اور پہلی کی نسبت زیادہ واضح اور منفرد تھی۔۔۔ وہ ہکا بکا کھڑا خاکے کو دیکھ رہا تھا کہ اس کی نظر کینوس ایک ایک کونے پہ لکھے جملے پر پڑی۔۔۔۔
“you are the most selfish person O’brien…! I hate you.”
” تم ایک خود غرض ترین انسان ہو اوبرائن۔۔۔ مجھے تم سے نفرت ہے۔۔۔”
اس کے دماغ پر ہتھوڑے وار کرنے لگے۔۔۔ روح اس قدر زور سے تڑپی کہ جیسے جسم سے نکلنا چاہ رہی ہو۔۔۔ وہ بڑی دیر تک ساکت کھڑا یہ سطریں پڑھتا رہا۔۔۔ اور خود کو کوستا رہا۔۔۔
“اوہ میرے خدایا۔۔۔ یہ میں نے کیا کر دیا۔۔۔۔ یہ تو میں نے سوچا ہی نہیں تھا، سیب اس کے ہاتھ سے کب گرا اسے علم نہیں ہوا۔۔۔ خود غرضی کی انتہا سے ملال کی انتہا تک کا سفر اس نے بڑی جلدی طے کر لیا تھا۔۔ لیکن اب چاہ کر بھی ساری زندگی میں اس ملال کو رفع نہیں کر سکتا تھا۔۔۔
بیلا۔۔۔ وہ کہاں گئی ہو گی۔۔۔ مجھے اس کے پاس جانا چاہئے۔۔۔ اس سے بات کرنی چاہئے۔۔۔
“تمہیں منع کیا تھا ایسا مت کرو” اس کے ضمیر نے ملامت کی۔
اس صدا کو بر وقت سن لینے کی حسرت نے اس کے دل کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔۔۔ اور اس کی آنکھوں سے آنسو جاری ہو گئے۔۔۔
رات کے سائے ہر طرف منڈلانے لگے تھے۔۔۔ اس نے کوٹ پہنا اور بیلا کے اپارٹمنٹ کی طرف چل پڑا۔۔ اس کے تیز قد، اسے جلد وہاں پہنچانا چاہتے تھے۔۔ وہ جلد ہی پہنچ گیا مگر دروازے پہ لگا تالا اسکا منہ چڑا رہا تھا۔۔۔ اس نے کھڑکیوں سے جھانکنے کی کوشش کی۔۔ اندر اندھیرا تھا۔۔۔ اس نے بیلا کو پکارنا چاہا مگر آواز اسکے حلق سے باہر نہ نکلی۔۔۔
کہاں جا سکتی ہے وہ؟ اس نے خود سے سوال کیا۔۔ اس کے پاس تو اور کوئی ٹھکانہ بھی نہیں ہے۔۔ گھر واپس آتے ہوئے سڑک کنارے چلتے اس نے وہ ساری ممکنہ جگہیں سوچیں جہاں وہ جا سکتی تھی۔۔۔
شائد آرٹس کونسل گئی ہو۔۔۔ امید کی ذرا سی کرن جاگتے ہی اسکے قدم آرٹس کونسل کی طرف بڑھنے لگے۔۔۔ پندرہ منٹ میں وہ آرٹس کونسل کے گیٹ پہ کھڑا تھا۔۔۔
بیلا وہاں بھی نہیں تھی۔۔۔ اس نے سارے ھال چھان لئے تھے۔۔۔ وہاں ایک دو جاننے والوں سے اس نے بیلا کے بارے میں پوچھا جنہوں نے انکار میں سر ہلایا۔۔ وہیں بیلا کی ایک دیرینہ دوست لیزا نظر آئی جو ان دونوں کو بخوبی جانتی تھی۔۔۔
اسے اس نے سارا ماجرا بتایا۔۔۔اور بیلا کے بارے میں استفسار کیا۔۔۔
لیزا نے ساری بات اطمینان سے سنی اور پھر اسے گھر واپس جانے کا مشورہ دیا۔۔۔
” وہ جہا ں بھی ہوئی آپکے پاس ہی آئے گی۔۔ وہ جتنی بھی ناراض ہو ، آپ سے دور نہیں رہ سکتی۔۔۔ آپ گھر جائیں، وہ یا تو آپکا انتظار کر رہی ہو گی۔۔۔ یا کچھ ہی دیر میں آ جائے گی۔۔۔”
اوبرائن نے اسکی جانب دیکھا، جیسے پوچھ رہا ہو کہ کیا واقعی ایسا ہو گا؟
لیزا نے اثبات میں سر ہلایا۔۔۔ اسے تسلی دی اور مین گیٹ تک چھوڑ گئی۔۔۔
” اوبرائن۔وہ جہاں بھی ملی ۔۔اسے منا لینا۔۔۔” لیزا کے لہجے میں نصیحت تھی۔۔
وہ بوجھل قدموں سے واپس گھر کی جانب چل دیا۔۔ ہو سکتا ہے وہ گھر بیٹھی انتظار کر رہی ہو۔۔۔ ایسا ہوا تو اسکا سامنا کیسے کروں گا؟ اور اگر وہ نہ آئی تو؟ اسے کہاں تلاش کروں گا؟
اس نے وہ سب باتیں بھی سوچیں جو وہ بیلا سے کرنے والا تھا۔۔۔ راستے میں گل فروش سے سفید گلاب کاایک گلدستہ بھی بیلاکے لئے لیا۔۔۔ بیلا کو سفید گلاب بہت پسند تھے۔۔۔اسے پتا تھا بیلا کو کیسے منانا ہے۔۔۔
اس نے کانپتے ہاتھوں سے گھر کا دروازہ کھولا ، بیلا واقعی گھر میں موجود تھی۔۔۔ ڈائننگ ٹیبل پہ سر ٹکائے خاموش بیٹھی تھی۔۔۔ اس کے ہاتھ میں جلتا سگریٹ چند ہی لمحوں میں اسکی انگلیاں جلا دیتا۔۔
اوبرائن نے جلدی سے آگے بڑھ کر سگریٹ چھینا اور پاؤں تلے مسل دیا۔۔۔
بیلا نے چونک کر سر اوپر اٹھایا۔۔۔ اس کا سارا چہرہ آنسوؤں سے تر تھا۔۔ اوبرائن کو دیکھتے ہی اس نے اپنے آنسو پونچھے ۔۔۔ اس کی جھیل سے آنکھوں سے بہتے آنسو دیکھتے ہی جتنی باتیں اوبرائن نے سوچیں تھیں ساری گم ہو گئیں۔۔۔ ” آئی ایم سوری بیلا۔۔۔ میں بہت شرمندہ ہوں، مجھے معاف کر دو۔۔” پھول پیش کرتے ہوئے وہ بمشکل اتنا ہی کہہ سکا ۔۔۔ بیلا نے گلدستہ قبول نہ کیا تو گلدستہ ٹیبل پر رکھ کر وہ اسکے ہاتھ اپنے ہاتھوں میں تھام کر بیٹھ گیا اور التجائی نظروں سے اسے دیکھنے لگا۔ “پلیز” اس کے لہجے اور چہرے میں التجا تھی۔
” تم مجھے کہہ سکتے تھے کہ یہ تم اپنے لئے کر رہے ہو۔۔۔ بیلا ہنسی خوشی کر جاتی۔۔تم کہتے تو ان لہروں کے ساتھ بہہ جاتی۔ مگر اوبرائن”۔۔۔ آنسوؤں نے ایک بار پھر اس کے چہرے کو حصار میں لے لیا۔۔۔
“میں تو خوش تھی کہ تم میرے لئے ایسا کر رہے ہو۔۔۔ میں خوش تھی کہ تم خوش ہو۔۔۔ مگر تم تو خود غرض نکلے اوبرائن۔۔۔ اپنی خوشی کی خاطر مجھے مزید تکلیف میں ڈال گئے؟”
اوبرائن کے پاس کوئی جواب نہیں تھا۔۔۔اس کا دل چاہا بیلا کی انگوری آنکھوں سے بہنے والے شراب کے قطرے اپنے اندر اتار لے مگر اس میں اتنی سکت نہیں تھی۔۔۔
“اوبرائن ۔۔۔۔! میں تمہاری جگہ ہوتی تو کبھی ایسا نہ کرتی۔۔۔” اس جملے کی چوٹ گہری تھی۔۔۔ اوبرائن کی آنکھوں سے آنسو نکلے اور گال پہ بہنے لگے۔۔۔
” مرد کی کمزوری اگر عورت کے آنسو ہیں تو مرد کے ندامت کے آنسو عورت کی بڑی سے بڑی نارضگی کو منٹوں میں ختم کر سکتے ہیں۔۔۔”
اوبرائن کے آنسو دیکھتے ہی اس کا دل پسیج گیا۔۔۔
“اوبرائن ۔۔اوبرائن۔۔۔ تم رو کیوں رہے ہو؟۔۔۔ میں ایسا نہیں چاہتی تھی۔۔۔ تم کہو تو بیلا تم پہ سب کچھ وار دے۔۔۔ یہ تو پھر ایک پینٹنگ تھی۔۔۔ ایسا کر کہ اب تم مجھے شرمندہ کر رہے ہو۔۔۔ کچھ نہیں ہوا۔۔۔ ادھر دیکھو میری طرف۔۔۔” اوبرائن کی آنکھوں سے پچھلے عرصے کا غبار نکل رہا تھا۔۔۔ ندامت اسکی آنکھوں سے جھلک رہی تھی۔۔۔
کیون۔۔۔ پلیز چپ ہو جاؤ۔۔۔ میری خاطر؟اس نے اوبرائن کی آنکھوں پہ بوسہ دیا اور اپنے ہونٹوں سے اسکے آنسو صاف کئے۔۔۔اس کے جسم کی ساری نزاکت اسکے ہونٹوں سے ہوتی ہوئی اوبرائن کی آنکھوں پہ جا ٹکی۔۔۔ ہونٹوں نے اسکے آنسو ایسے وصول کئے جیسے پنکھڑیاں شبنم کے قطرے اپنے اندر اتارتی ہیں۔۔آنسو پونچھنے کے بعد وہ خاموشی سے اسکے گٹنوںمیں سررکھ کر زمین پہ بیٹھ گئی۔۔۔ وہ کتنی ہی دیر ایسے ہی بیٹھی رہی اور اوبرائن اسکے بالوں میں انگلیاں پھیرتا رہا۔۔۔ وہ بار بار اسکا ہاتھ تھامتی اور ہونٹوں سے لگا لیتی۔۔۔
” اوبرائن ۔۔۔۔ ایک بات پوچھوں؟”
“پوچھو بیلا”۔۔”
جب میں ڈوبنے لگی تھی تو تم وہیں کیوں کھڑے تھے۔۔۔ سب مجھے بچانے کے لئے بھاگے آ رہے تھے۔۔۔ تم کیوں نہیں آئے؟”
جواباً کچھ دیر خاموشی کے بعد ندامت کا ایک اور آنسو اس کے گال پہ ٹپکا جس نے اسے چونکا دیا۔۔۔
” ارے نہیں۔۔۔ نہیں۔۔۔ اوبرائن میرا ایسا مقصد نہیں تھا۔۔۔ میں تمہیں تکلیف نہیں پہنچانا چاہتی تھی۔۔۔ ایسا مت کرو۔ سوری پلیز۔۔۔” اوبرائن کو چپ کروانے کے لئے اسے کافی محنت کرنا پڑی
۔۔ اچھا۔۔۔ ایک شرط پہ میں تمہیں معاف کر سکتی ہوں۔۔۔
” وہ کیا۔۔۔۔” اوبرائن نے بھرائی ہوئی آواز میں استفسار کیا
تم کل مجھے ڈنر پہ لے کہ جاؤ گے۔۔۔
اگر تم اپنا سرخ ٹاپ پہنو گی تو۔۔۔۔اس نے فوراً شرط رکھی
دونوں نے مسکرا کہ ایک دوسرے کو دیکھا۔۔۔ بیلا دوبارہ اس کے گٹنوں پہ سر رکھے بیٹھی گئی۔۔۔

وہ عین وقت پر اسکے گھر پہنچ گیا۔۔ دروازے پہ دستک دی۔۔۔ “اندر آ جاؤ”۔۔ بیلا نے آواز دی۔
بیلا اپنے کمرے ڈریسنگ ٹیبل کے سامنے کھڑی جھمکےپہن رہی تھی۔۔ اس نے اوبرائن کی حسبِ خواہش سرخ ٹاپ پہن رکھی تھی۔۔۔اور توقع سے بڑھ کر خوبصورت اور جاذبِ نظر لگ رہی تھی۔۔ سرخ لباس میں وہ تروتازہ کلی دکھائی دے رہی تھی۔ اسکی سدا بہار انگوری آنکھیں، آدھی کمر کو ڈھانپے اسکے گھنگریالے بال اور کندھوں سے گٹنوں تک کا یکساں جسم اس کی لا زوال خوبصورتی کی گواہی دے رہے تھے۔۔۔
اس نے جھمکے پہنے ، بال کندھوں پہ پھیلائے، آنکھوں کو سکیڑا اور آئی لائنر درست کیا۔۔۔ اور پھر گول گھومتے ہوئے اوبرائن سے پوچھا۔۔۔
” کیسی لگ رہی ہوں؟۔۔۔ جبکہ اوبرائن اسے حیرت زدہ ٹکٹکی باندھے دیکھ رہا تھا۔۔۔ اسے ہوش تب آیا جب بیلا نے اس کے پاس آکر چٹکی بجائی۔۔ ہیلو مسٹر ۔۔۔ کبھی پیاری لڑکی نہیں دیکھی کیا؟
تم دن بدن حسین تر ہوتی جا رہی ہو۔۔۔
“hmmmmm۔۔۔۔۔”
یہ تو ہے۔۔۔ اس نے ہونٹ سکیڑتے ہوئے کہا اور اس کا سارا حسن ہونٹوں میں سمٹ آیا ۔۔۔
اوبرائن کا دل کیا وہ ابھی اسکی سرخی خراب کر دے مگر ڈنر سے لیٹ ہونے کے ڈر سے باز رہا۔۔
“سرخی تو آج خراب ہونی ہی ہے۔۔۔” اس نے سوچا۔
چلیں؟۔۔ اوبرائن نے اپنا بازو آگے کرتے ہوئے کہا۔۔
“ہم کہیں نہیں جا رہے۔۔۔ میں نے اپنے ہاتھوں سے تمہارے لئے کھانا بنایا ہے۔۔۔ ہم پہلے کھانا کھائے گے پھر کافی پیتے ہوئے خوب باتیں کریں گے۔۔۔ آؤ اور میرے ساتھ ڈنر رکھنے میں مدد کرو ” ۔۔بیلا نے اسکے بازو میں بازو ڈالتے ہوئے کہا۔۔۔
اس نے فرمانبرداری سے کہا۔“جیسے آپکا حکم میڈم۔…”
اوبرائن کے چہرے پہ مسکراہٹ نے جنم لیا ،اور وہ اس کے ساتھ ڈنر رکھنے میں مدد کرنے لگا۔۔
دونوں نے مل کر کھانا رکھا ۔عین کھانا شروع کرنے کے وقت بیلا نے تمام بلب بجھا دئیے۔۔ بس ٹیبل پہ رکھی موم بتی جلی رہنےدی۔۔
اوبرائن نے بیلا کی آنکھوں میں دیکھا۔۔۔ جو اس ہلکی روشنی میں بھی خوب چمک رہی تھیں۔۔۔
“یہ ہماری زندگی کی حسین ترین تصویر ہے”۔۔۔ اوبرائن نے کہااور بیلا نے اسکی تصدیق کی۔۔۔
کھانے کے بعد اوبرائن نے ایک ہاتھ میں موم بتی پکڑی اور دوسرا ہاتھ بیلا کی کمر میں ڈالتے ہوئے اسکے کمرے کی جانب چل دیا۔۔۔
” ہم تو کافی پینے لگے تھے۔۔؟ ” بیلا نے شرارتاً سوال کیا۔۔
“ایسے موقعوں پہ کافی کون پیتا ہے؟۔۔” اوبرائن کےجواب پردونوں ہنس دئیے۔۔
کمرے میں داخل ہوتے ہی اوبرائن نے اسے ڈریسنگ ٹیبل کے سامنے بٹھایا ، موم بتی کو اس زاویے پہ رکھا کہ آئینے میں اسکا آدھا چہرہ روشن دکھائی دے رہا تھا۔۔۔ اور خود اس کے پیچھے جا کھڑا ہوا۔۔۔ اسکی اس حرکت نے بیلا کو قدرے حیرت زدہ کیا ۔۔
” کیا کرنے والے ہو؟”
“کرنے سے پہلے بتانا پڑنا ہے کیا؟ ”
ہنسی ابھی انکے لبوں پہ موجود تھی ۔ کہ اوبرائن نے اسے آنکھیں بند کرنے کو کہا۔۔۔ اور اسے آنکھیں بند کئے رہنے کا کہتے ہوئے بیلا نے اوبرائن کے قدموں کو کہیں جاتے ہوئے پایا ۔۔کچھ دیر بعد کمرے میں کچھ آہٹیں محسوس ہوئیں۔۔ ۔۔۔ اس کا تجسس بڑھنے لگا۔۔ مگر چند ہی لمحوں میں اوبرائن دوبارہ اس کے پیچھے موجود تھا۔۔
“آنکھیں مت کھولنا” اس نے سرگوشی کی۔۔۔ ۔۔ اسے شانوں سے پکڑ کر اٹھایا ۔
اور اسکی گردن سے دائیں جانب سے بال ہٹائے۔۔ ایک ہاتھ سے وہ بال ہٹا رہا تھا جبکہ دوسرا ہاتھ ٹاپ کی سامنے کی زپ پہ پہنچا اور زپ نیچے کو سرکاتے دونوں کی سانسیں بے قرار ہونے لگیں۔۔۔ جب اسکی نسوانیت واضح طور پر جھلکنے لگی ۔۔ تو اسنے وہی ہاتھ اسکے پیٹ کے گرد لپیٹ لیا جبکہ دوسرے ہاتھ سے اسکی گرن قدرے بائیں جانب ڈھلکائی۔۔۔ اسکے سانسیں بیلا کے کانوں میں سنائی دینے لگیں۔ بیلا نے بھی چہرہ اوپر کیا اور خود کو اوبرائن کے حوالے کر دیا۔۔۔
اوبرائن کے ہونٹوں اور بیلا کی گردن کے درمیان فاصلہ۔۔۔ ہونٹوں کی دوری پہ تھا۔۔ عین اس وقت جب بیلا کو اپنی گردن پہ اوبرائن کے ہونٹ محسوس ہونے چاہئے تھے۔۔ اوبرائن نے اسے بیٹھنے کو کہا۔۔۔اسے بٹھایا۔۔۔ اور سرگوشی کی کہ ایسے ہی رہنا۔۔۔ کمرے میں دوبارہ آہٹیں سنائی دینے لگیں۔۔۔ اس سے پہلے کہ بیلا کا تجسس مزید بڑھتا۔۔ اوبرائن نے اسے آنکھیں کھولنے کا کہا۔۔۔ اور خود قدرے پیچھے جا کھڑا ہوا۔۔
“اسکے آنکھوں کے سامنے ٹیبل پر ایک ہاتھ موم بتی جل رہی تھی جو اسکے عکس کے درمیان خاص زاویے پر رکھی گئی تھی۔۔ جبکہ دوسرے ہاتھ کینوس سیٹ تھا۔۔۔ کینوس پر نظر پڑتے ہی اس نے سوالیہ نظروں سے اوبرائن کو دیکھا

Published inعالمی افسانہ فورمنعمان ہاشمی