Skip to content

تصویر ذات کا شہر

افسانہ ۔۔۔۔۔۔۔۔تصویر ذات کا شہر

تحریر۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔مونا شہزاد، کیلگری،کینیڈا ۔

سردیوں کی تنہا رات تھی،آج تو چاند بھی لگتا تھا تھک کر سو گیا تھا۔برف کا عکس آسمان پر پڑ رہا تھا اس لیے حدنظر تک سفیدی نظر آرہی تھی، ایسا لگتا تھا جیسے زمین نے بیوگی کی سفید چادر اوڑھ لی تھی۔رشنا نایاب آتشدان میں جلتی لکڑیوں کو خالی خالی نظروں سے تک رہی تھی،لکڑیاں جل جل کر سرخ کوئلے میں بدل گئی تھیں ۔بعض دفعہ نیلی سی چنگاریاں اٹھتیں اور سرخ چنگاریوں سے بے تابی سے گلے ملتیں۔اچانک رشنا کی توجہ اپنے ہاتھوں پر مبذول ہوگئی۔اس نے بے یقینی سے اپنے ہاتھوں کو گھورا:
“کیا یہ واقعی اس کے ہاتھ تھے؟”
اس کے ہاتھوں پر تہہ در تہہ سلوٹیں تھیں ،اس نے اپنے چہرے پر ہاتھ پھیرا تو بے شمار سلوٹوں نے اس کے روح کو جھلسا دیا، وہ خود کلامی کے انداز میں بڑبڑائی :
“یہ میں رشنا نایاب نہیں ہوسکتی ۔میری جوانی کیسے مجھے چھوڑ کر رخصت ہوسکتی ہے؟”
وہ آہستہ آہستہ چلتی کمرے میں پڑی ڈریسنگ ٹیبل کے سامنے آکر کھڑی ہوگئی۔ڈریسنگ ٹیبل کے آئینے پر چادر بچھی ہوئی تھی۔اس نے لرزتے ہاتھوں سے چادر کھینچی،وہ خوفزدہ ہو کر دو قدم پیچھے ہوگئی ،ڈریسنگ ٹیبل کے شیشے میں اسے ماہ وش رشنا نایاب کے بجائے ایک تھکی ہاری،شکستہ حال بڑھیا نظر آئی،اس عورت کے چہرے پر سلوٹوں کے جال در جال بچھے ہوئے تھے ۔اس کی آنکھوں میں بجھتی ہوئی شمع کی سی ٹمٹماہٹ تھی۔اس بڑھیا کا ایک ایک نقش چیخ چیخ کر کہہ رہا تھا۔
“دیکھو مجھے غور سے ، میں سامان عبرت ہوں، میں وہ خاکی ہوں جو خاک سے رشتہ توڑ دیتا ہے فخر کی انگلی تھام کر، غرور کی پوشاک پہن کر ،خود پسندی کا چشمہ لگا کر آسمان کی بلندی کو اپنا مسکن سمجھ لیتا ہوں ،سارے رشتے ،ناطے پیروں میں روند کر آخر میں بے وزن ہو کر ہوا میں کٹی ہوئی پتنگ کی طرح ڈولتا رہتا ہوں “
رشنا نایاب نے بے ساختہ اپنے لبوں پر ہاتھ رکھ لیا ،کیونکہ اسے خدشہ تھا کہیں وہ دیوانہ وار چیخنے نہ لگے۔اس کا آئینے میں قید عکس چلایا:
“رشنا نایاب کچھ یاد آیا، تم نے کس کس کی محبت کو پیروں تلے مسلا تھا؟”
رشنا نے تیزی سے آئینے کو ڈھک دیا اور خود کلامی کے انداز میں بڑبڑائی :
“مجھے نہیں دیکھنا اپنا عکس، مجھے کچھ یاد نہیں ہے کہ میں نے ماضی میں کیا بویا تھا؟”
کمرے میں لگے قد آدم فریم میں مقید اس کی تصویر چیخی:
“جھوٹی! فریبی بڑھیا!”
رشنا نے اپنے دونوں ہاتھ اپنے کانوں پر رکھ لیے اور زور سے چلائی:
“بکواس مت کرو ! میں کچھ سننا نہیں چاہتی۔”
اچانک تصویر کے فریم میں زندگی کے آثار نمودار ہوئے اور جوان و حسین رشنا نایاب تصویر کے فریم سے باہر نکل آئی۔اس کے جسم پر بھاری سرِخ عروسی جوڑا دہک رہا تھا،اس کا سنگھار مکمل تھا، اس کا نولکھا ہار اس کی پوشاک پر عجب بہار دکھا رہا تھا،اس کے ہاتھوں پر لگی حنا کی خوشبو رشنا دور کھڑی بھی محسوس کرسکتی تھی۔رشنا پھٹی پھٹی نظروں سے اپنے ماضی کے روپہلے روپ کو تک رہی تھی ۔اس نے اپنی آنکھیں مسلیں مگر جوان اور خوبصورت رشنا نایاب ایک زندہ حقیقت بنی اس کے سامنے کھڑی تھی ۔جواں سال رشنا نایاب کی آنکھوں سے نفرت و حقارت کے شرارے نکل رہے تھے ۔اچانک ڈریسنگ ٹیبل سے چادر پھسل کر گر پڑئی۔رشنا کی آنکھیں دہشت سے پھٹ گئیں ،ڈریسنگ ٹیبل کے آئینے سے رشنا نایاب کا بوڑھا تھکا ہارا عکس مجسم ہو کر باہر نکل رہا تھا۔رشنا نایاب کا بوڑھا عکس بھی اس کی طرف بڑھنے لگا،وہ کپکپاتے ہوئے ہونٹوں سے کچھ کہنے کی کوشش کررہا تھا،رشنا نایاب کا دل اچھل کر حلق میں آچکا تھا،اس نے اپنی طرف بے بسی سے دونوں کو بڑھتے دیکھا، نہ جانے کیسے اس میں ہمت آگئی،اس نے بے ساختہ کھڑکی کھولی اور کھڑکی سے باہر چھلانگ لگا دی۔وہ باہر گری تو اسے کافی چوٹ لگی مگر وہ لنگڑاتی ہوئی اٹھ کھڑی ہوئی کیونکہ اس نے اپنے دونوں ہم زادوں کو اپنے پیچھے تعاقب میں آتے دیکھ لیا تھا۔اس کے جسم پر ایک باریک نائٹ گاون تھا،پیر جوتوں سے عاری تھے۔وہ آج ایسے بھاگ رہی تھی جیسے کئی آسیبوں سے پیچھا چھڑوا رہی ہو۔اس نے مڑ کر دیکھا اس کے دونوں ہمزاد ایک مستقل رفتار سے اس کے تعاقب میں مصروف تھے ۔
رشنا نے موڑ مڑا تو اسے لگا کہ اب وہ اکیلی ہے،اچانک ایک تیز روشنی اس کے چہرے پر پڑی اور اس کی آنکھیں چندھیا گئیں اس کو ایسے لگا جیسے اس کے ماضی کا فلیش بیک اس کی نظروں کے سامنے چل پڑا ہو۔

رشنا نایاب کو اللہ تعالی نے بے مثال رنگ و روپ سے نوازا تھا،شروع سے گھر میں، سکول میں وہ ہر جگہ اپنی خوبصورتی کے باعث ممتاز رہتی ،سکول میں ہمیشہ ڈراموں میں اسے شہزادی کا کردار دیا جاتا۔وہ اپنے والدین کی اکلوتی اولاد تھی اس لئے وہ اپنے والدین کی آنکھوں کا بھی تارا تھی۔اس کے حسن کی خاندان بھر میں دھوم تھی ،اس کا تایا زاد رضا میر بچپن سے اس پر فدا تھا،جیسے جیسے بچپن کا ساتھ چھٹا تو دونوں کو ایک دوسرے کی محبت کا اندازہ ہوا، مگر رشنا صرف اپنی زات اور اپنے روپ سے محبت کرتی تھی، رشنا نایاب کے لئے اس کی خوبصورتی ہی دنیا کی سب سے بڑی زندہ حقیقت تھی۔جوان ہوکر اس میں فلم ایکٹرس بننے کی آرزو جاگ اٹھی،اس نے گھر والوں اور رضا میر کی مخالفت کے باوجود فلم کا آڈیشن دیا،حسب توقع وہ کامیاب ہوگئی۔اس کی پہلی فلم ہی باکس آفس پر ہٹ تھی، اس کے بعد وہ ایک مشہور زمانہ فلم ایکٹرس بن گئی۔اس کے والدین نے اس کی منت و سماجت کر کے اس کی شادی رضا میر سے کردی،اس نے شادی کے لئے” ہاں” اس شرط پر کی کہ شادی خفیہ رہے گی۔اس کے والدین اور رضا میر اپنی محبت سے ہار گئے اور اس کی خواہش کے آگے جھک گئے۔شادی کے کچھ عرصے بعد جب اسے ماں بننے کی خوش خبری ملی ،تو وہ بجائے خوش ہونے کے رضا میر سے بہت لڑئی،اس نے پوری کوشش کی کہ وہ اس بچے کو ضائع کردے،مگر بچے کی خوش قسمتی تھی کہ جب تک اسے ہوش آیا حمل کے تین ماہ گزر چکے تھے،اب ہر ڈاکٹر اسقاط حمل میں اس کی جان کو خطرہ بتاتا مجبورا رشنا نے اپنے جھوٹے ایکسیڈینٹ کی افواہ پھیلائی اور علاج کے بہانے رضا میر کے ساتھ نیویارک آگئی۔انجان ملک میں اس کا وقت بہت مشکل سے رو دھو کر وقت گزرا ،فلمی حلقے میں اس کے سیکرٹری نے اس کے ایکسڈینٹ کی جھوٹی خبر پھیلا دی اس طرح وہ پروڈیوسرز اور ڈائریکٹرز کی جھوٹی ہمدردیاں حاصل کرنے میں کامیاب ہوگئی تھی۔ آخرکار وہ دن بھی آگیا کہ اللہ تعالی نے اسے جڑواں بیٹی ،بیٹے سے نوازا مگر اس کا دل بچوں کو جنم دے کر بھی نہ پسیجا۔اس نے پیدائش کے فورا بعد ان بچوں کی صورت دیکھنے سے بھی انکار کردیا،اس نے رضا میر سے طلاق کا مطالبہ کردیا۔رضا میر اس کے سامنے بہت گڑگڑایا مگر رشنا نایاب نے آئینے میں اپنے فگر کا جائزہ لیتے ہوئے نفرت سے کہا:
“بے وقوف آدمی تمھارے ان بچوں نے میرا فگر تباہ کردیا ہے۔میں رشنا نایاب ہوں ،تمھارے بچوں کی آیا نہیں ۔”
اگلے روز کی فلائیٹ سے وہ واپس آگئی،واپس آکر وہ اپنی مصنوعی فلمی دنیا میں کھو گئی،ایک دن رجسٹرڈ ڈاک سے اسے طلاق نامہ ملا اس کی ماں اسی غم میں دل پکڑ کر بیٹھ گئیں اور جہان فانی سے کوچ کر گئیں ۔رشنا نایاب ریس میں تیز بھاگنے میں اتنی مصروف تھی کہ اس حقیقت سے مکمل بے بہرہ تھی کہ وہ اس سفر میں کیا کیا کھو چکی ہے؟۔رشنا کے ابا بھی اس کے بڑھتے ہوئے قدموں سے خوفزدہ تھے،مگر رشنا کے پاس ان کے لیے وقت نہیں تھا ۔ایک دن وہ بھی رشنا کو چھوڑ کر شہر خموشاں کے باسی بن گئے۔رشنا نایاب کا ساتھ آہستہ آہستہ سب مخلص دوستوں ،رشتہ داروں نے چھوڑ دیا،مگر رشنا اتنا تیز بھاگ رہی تھی کہ اسے کسی کی فکر نہیں تھی،اس کے گرد خوشامدی اور بدقماش لوگوں کا گھیرا تھا،اس کے لئے شراب نوشی ،سگریٹ ،جوا،ریس سب ہائی سوسائٹی میں شامل ہونے کے طریقے تھے ۔ اب رشنا کو کام ملنا کم ہوگیا مگر اس نے اپنی خواب گاہ کے دروازے ہر پروڈیوسر، ڈائریکٹر پر کھول دئے اس طرح کچھ سال اور گزر گئے، مگر اب رشنا نایاب کی عمر بڑھتی نظر آتی تھی ،وہ لاکھ میک اپ کا سہارا لیتی مگر اس کے چہرے کا آئینہ حقیقت کھول دیتا،ایک دن ایسا بھی طلوع ہوا کہ رشنا نایاب کی جگہ ایک اور خوبصورت، نیا ،فریش چہرہ فلم انڈسٹری میں وارد ہوا۔رشنا کے گرد جتنی جلدی مفادپرستوں کی بھیڑ اکٹھی ہوئی تھی، اتنی جلدی وہ بھیڑ چھٹ بھی گئی۔اب رشنا کو بڑی بہن ،ماں ،ہیروئن کی کزن جیسے رول آفر ہونے لگے ،رشنا نایاب ایسے کردار کبھی نہیں کرنا چاہتی تھی ،وہ دیوانہ وار آئینے میں اپنا عکس دیکھتی اور عہد رفتہ کو آواز دیتی ،وہ اب سخت تنہائی کا شکار تھی،اسے ڈپریشن کے دورے پڑھنے لگے ، رشنا نے مجبور ہو کر دوسری شادی کی کوشش کی مگر ایک فلمی اداکارہ سے چند دن دل بہلانے پر تو سب راضی تھے،مگر اسے اپنی عزت بنانے پر کوئی راضی نہیں تھا،خاص طور پر جب سب لوگ اس کے کردار سے بخوبی واقف تھے ۔رشنا نے اپنے کانوں سے اپنے لئے “رنڈی” کا لفظ استعمال ہوتے سنا،اس کو پتا چلا کہ درحقیقت خوبصورت عورت وہ ہے جو عزت و وقار سے اپنی عصمت سنبھال کر اپنے تمام رشتوں کو نبھاتی ہے۔رشنا نایاب تو ایک خوبصورت کٹھ پتلی تھی جو سٹیج تو سجا سکتی تھی،کسی کا گھر نہیں ۔
وہ گلاب کا وہ مسلا ہوا پھول تھی ،جس کی جگہ اب گلدان میں نہیں بلکہ کچرے کے ڈبے میں تھی۔
صبح ٹرین کی پٹری پر بہت رش تھا، ماضی کی ممتاز اداکارہ رشنا نایاب کی کچلی ہوئی لاش پائی گئی تھی۔پولیس،ایمبولینس، میڈیا والوں کا ہجوم تھا۔میڈیا کے رپورٹر دھڑا دھڑ لاش کی تصویریں بنا کر ماضی کی تصاویر کے ساتھ رپورٹ لائیو ٹیلی کاسٹ کررہے تھے۔دور اداس کھڑی رشنا نایاب کی روح نے اپنے آنسو صاف کئے اور دور سے آتی چمکیلی روشنی میں مدغم ہوگئی۔
( ختم شد)

Published inمونا شہزاد