Skip to content

تاریخ کا جنم

”تاریخ کا جنم”

منزہ احتشام
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

سنو! آج کیا تاریخ ہے؟ میں نے جھکی ہوئی کمر اور سفید بالوں والے بوڑھے سے آخری بار التجا کی۔۔۔تاریخ۔۔۔۔۔تاریخ کا لفظ سنتے ہی اس نے دوسری طرف دوڑ لگا دی۔شہر کے چوراہے میں کھڑی کھڑی میں عاجز آگئی۔کوئی بھی تاریخ نہیں جانتا تھا یا پھر تاریخ بتانے کو تیار نہیں تھا۔یا تاریخ سے خوفزدہ تھا۔پھر میں نے ساگ کی گندلیں بیچنے بوڑھی عورت کو سنا ،وہ کہ رہی تھی۔”وہ پھر حاملہ ہے”
میں چونکی۔یہ بوڑھی ساٹھ سال کی ہے یہ کس طرح حاملہ ہو سکتی ہے؟؟؟میری حیرت کو اس نے سن لیا اور اپنے پوپلے منہ کو میرے کان کے قریب لے آئی اور سرگوشی میں بولی۔۔”میں تاریخ کی بات کر رہی ہوں۔تاریخ پھر سے حاملہ ہے”کیا تم نہیں جانتیں؟؟؟
اب کی بار اس کی کوکھ میں کیا ہے؟میں نے ایک پر تجسس سرگوشی کی،اس پر وہ برہم ہوگئی اور ساگ کی گندلیں اٹھا کر چل پڑی
تاریخ پھر کچھ جنم دینے والی تھی۔شہر کے لوگ خوفزدہ تھے۔خوف تمام شہر کے درودیوار پر اگ آیا تھا۔کسی کو بھی تاریخ یاد نہ تھی مگر سب کے ذہن و حواس پہ چھائی ہوئی تھی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔میں نے خود کو ٹٹولا۔۔۔۔میں ہر طرح سے سلامت تھی۔۔۔گویا تاریخ سے لاعلمی پر میرا کچھ نہیں بگڑا تھا۔سب کچھ ویسے کا ویسا تھا کہ پھر اچانک شہر پر اندھیرا چھا گیا۔۔بینائی کو اندھیرے نے دبوچ لیا۔لوگ اندھیرے میں دبک گئے تھے۔ایک سناٹا تھا۔۔میں نے اپنے ہاتھوں کو جنبش دی اور اندھیرے کے سیاہ قرطاس پر کچھ رقم کرنے کی کوشش کی مگر بے سود
رقم تو تاریخ کرنے والی تھی۔۔۔۔۔۔
تاریخ گم ہو جائے تو کیا ہوتا ہے؟
کچھ بھی نہیں ہوتا۔۔۔۔۔۔۔
کیا یہاں کوئی تخریب ہونے والی ہے؟میرے دماغ کے ایک حصے نے سوال کیا
ہاں تخریب ہونے والی ہے۔۔تخریب بہت ضروری ہے ۔۔دوسرے حصے نے جواب دیا۔میں نے دماغ کے دوسرے حصے کا منہ نوچ لینا چاہا مگر اندھیرا آڑے آ گیا۔تم دہشت گرد ہو،تخریب کار ہو،تم پر لعنت ہونی چاہیے۔دماغ کا پہلا حصہ پھنکارا
نہیں تو،تخریب ضروری ہے۔تعمیر کے لیے ضروری ہے۔۔۔دوسرا آرام سے بولا
دیکھو!درخت کو کاٹو گے،کاٹنے کے بعد چیر کر اس کے پکھر اور بالے نہیں نکالو گے تو چھت کیسے جڑے گی؟مٹی کو کھود کے،گوت کر اس کو سانچے میں ڈال کے پھر بھٹے کے اندر پکا کر اینٹ نہیں بناو گے تو مکان کیسے تعمیر ہوگا۔۔۔۔۔دوسرا حصہ اپنا فلسفہ جھاڑنے میں لگا رہا
مگر درخت کی کٹنے،بالے پکھر بننے سے پہلے کی جو حالت ہے وہ بھی تو تعمیر ہے۔اس سے بعد کی حالت ہی تعمیر کیوں ہے؟اینٹ بننے سے قبل جو مٹی کی حالت ہے وہ بھی تو تعمیر ہے اس سے بعد کی حالت ہی تعمیر کیوں ہے؟اور پھر جب بنے بنائے مکان بم دھماکوں سے،زلزلوں سے ،آگ اور سیلاب سے اڑ جاتے،تباہ ہو جاتے ہیں تو کیا یہ پھر سے تخریب نہیں ہے؟؟تو کیا تعمیر بھی تخریب کے لیے کی جاتی ہے؟
اور ہاں اس تخریب کے بعد پھر تعمیر کہاں ہوتی ہے؟ ہوتی بھی ہے یا نہیں؟اور اگر ہوتی ہے تو کیا ہو بہو انہی عناصر سے تشکیل پاتی ہے جو پہلے اس کے جزو بدن تھے۔یا بالکل نئے عناصر سے ترکیب پاتی ہے۔اور اگر دوسری تخریب کے بعد نئے عناصر سے ترکیب پاتی ہے تو کیا اس کو تعمیر کہنا روا ہے؟۔وہ چپ ہو گیا
تمہارے سارے سوال قابل جواب ہیں۔تم نے مجھے الجھانے کی سعی بیکار کی۔دوسرے حصے نے قدرے تضحیک آمیز انداز اختیار کرتے ہوئے وضآحت کا آغاز کیا۔
پہلے تخریب اس کے بعد تعمیر ،تعمیرکے بعد تشہید،تشہید کے بعد تقلیب اور تقلیب کے بعد تنشیر کا مرحلہ آتا ہے۔کسان بیلچہ یا کدال ہاتھ میں لیتا ہے۔زمین کو کھود ڈالتا ہے یہ پہلا مرحلہ ہے یعنی تخریب،اس کے بعد وہ مٹی کے اندر بیچ ڈالتا ہے۔پانی دیتا ہے۔پودا اگ آتا ہے۔اسکی پرداخت سے وہ درخت بن جاتا ہے۔یہ دوسرا درجہ ہے یعنی تعمیر ۔۔۔۔اب درخت کی لکڑی کی ضرورت پڑتی ہے۔وہ اس کو کاٹ ڈالتا ہے۔اس کے حصے بخرے کر دیتا ہے ۔یہ تیسرا درجہ ہے یعنی تشہید۔اب لکڑی کے مختلف قطع شدہ ٹکڑے دھوپ میں سوکھتے ہیں اور سکھانے کے بعد کسان ان کو آگ میں ڈال کر ان پہ کھانا بناتا ہے۔لکڑی جل کر کوئلہ بن جاتی ہے۔۔تو لکڑی سے کوئلے کی حالت اختیار کرنا چوتھا مرحلہ ہے تقلیب کا۔۔۔اور جب یہ کوئلہ راکھ بن کر اڑ جاتا ہے یا دوبارہ پیوند خاک ہو جاتا ہے تو یہ تنشیر ہے۔۔آخری درجہ۔۔۔۔یہاں دائرہ مکمل ہو جاتا ہے۔۔دوسرے حصے نے لب بھینچ لیے
پورا شہر اندھیرے میں ہے۔اندھیرے میں تاریخ دردزہ سے گزر رہی ہے۔تاریخ کے گم ہو جانے پر کوئی نقصان بھی نہیں ہوتا تو لوگ کیوں خوفزدہ ہیں؟میرے دماغ کے دونوں حصے خاموش ہیں۔جھگڑا نمٹ چکا ہے۔وقت اور تاریخ کا ہر پر واقعہ ہر ہر زاویہ مستدیر ہے۔ارتقاء اوپر سے نیچے کی طرف نہیں نیچے سے اوپر کی طرف سفر کرتا ہے۔بینائی نے اندھیرے کے ساتھ مفاہمت کر لی ہے۔گندلیں بیچنے والی بوڑھی جانے کہاں ہوگی؟میری سوچ بے ترتیب ہے۔۔میں سوچ کی اذیت سے نکلنے کے یے سوچتی جا رہی ہوں۔نیچے سے اوپر کی طرف ارتقا ہے اوپر سے نیچے کی طرف زوال ہے۔۔۔دائیں سے بائیں اور بائیں سے دائیں کیا ہے؟؟؟سفر ہے شاید خالی سفر ہے۔۔چاروں سمتوں کا بیک وقت سفر مستدیر ہے۔ارتقا،زوال،سفر در سفر۔۔۔۔یہ چکر ہے چکر۔۔۔یہ گولائی بھی مکمل ہوگئی۔۔۔میری سوچ آوارہ ہو چکی ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
کیا تم نے کچھ نئے لفظ سیکھے ہیں؟میرے قریب سے ایک آواز آتی ہے۔آواز کا آواز اور سماعت سے رشتہ بحال ہو جاتا ہےبینائی کے بعد دو مذید حسوں کی بیداری نے میرے اندر سرخوشی بھر دی ہے۔۔
ہاں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔میں جواب دیتی ہوں
کیا تم نے دور دیسوں کے سفر کیے؟آواز پھر آتی ہے
نہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔میں جواب دیتی ہوں
تو پھر تم نے نئے لفظ کیسے سیکھ لیے؟؟آواز میں حیرت ہے۔وہ پھر بولتی ہے
تم نے پہاڑوں پر وقت گذارا؟سمندروں کے سفر کیے؟صحراوں کی خاک چھانی؟اجاڑ ویرانوں اور آباد شہروں کی طرف جانا ہوا؟طرح طرح کے لوگوں سے ملی؟ قسم قسم کی تہزیبوں کو برتا؟ ہر طرح کے مزاہب کو پڑھا؟تواریخ کے اوراق الٹے؟؟؟؟؟؟
نہیں ۔۔۔۔نہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔میں کانوں پہ ہاتھ رکھ کے چیخ پڑتی ہوں۔۔بس کر دو
تو پھر یہ دعوی کیونکر کیا تم نے کہ تم نے نئے لفظ سیکھے؟؟؟
میں سوال کرنے والی ہوں تمہاری طرح۔۔سوالوں کے جواب نہیں دیتی۔۔۔میں وضاحت کرتی ہوں
آواز قہقہہ لگاتی ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔اور چپ ہو جاتی ہے
سوال کرنے والے سوچتے ہیں اور جب وہ سوچتے ہیں تو نئے لفظ بھی سیکھ جاتے ہیں۔۔نیا تو کچھ بھی نہیں ۔۔سارے الفاظ،سبھی اعداد،سبھی آوازیں،لہجے،تحریریں وجود میں آ چکی ہیں۔۔تاریخ اور وقت کے غاروں،گھپاوں،بلندیوں،رازوں اور مظہروں کے اندر موجود ہیں۔۔بس انہیں دریافت کرنا پڑتا ہے اور سوال کرنے والے دریافت کر لیتے ہیں۔مگر جواب دینے والوں کی جان پر بن آتی ہے۔۔
ہر سوال کرنے والا جواب دینے والے پر فائق ہے۔کیونکہ سوال کے پیچھے طویل غورو غوص ہوتا ہے اور جواب اچانک دینا پڑتا ہے۔۔ابھی کچھ دیر پہلے تم سوال کرنے والی تھیں اور میں جواب دینے والی۔۔جب مجھے لگا کہ میں بے بسی کی دیوار بننے والی ہوں تو میں نے اپنی حالت تبدیل کر لی اور سائل بن گئی۔۔۔۔
جواب دینے والے کی جان پر بن آتی ہے تو وہ لاچار ہوکر حملہ آور ہوتا ہے۔اور سوال کرنے والے کی جان پر بنا کر رکھ دیتا ہے۔
دلیل سے شکست کھانے والے تشدد پر اتر آتے ہیں۔دماغ اور پھیپھڑوں کی جنگ میں آدمی مارے جاتے ہیں۔سوال کرنے والا دماغ لڑاتا ہے جواب دینے والا پھیپھڑے۔اونچی آواز،گالیاں اس کے بعد بازوؤں کا مرحلہ آتا ہے اور پھر۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔اندھیرا چھٹ گیا ہے۔تاریخ کی زچگی مکمل ہو گئی ہے۔ہر طرف لہو ہی لہو ہے۔میرے چاروں اور گرم گرم لہو ہے۔اوپر،نیچے،دائیں ،بائیں ،آگے،پیچھے ہر سمت تاریخ کی کوکھ سے نکلا لہو پھیلا ہوا ہے۔۔۔سوال کرنے والوں اور جواب دینے والوں کی تاریخ نے ایک بار پھر خود کو جنم دیا ہے۔۔
میری آنکھوں میں،کانوں میں،ناک میں،حلق اور سینے میں ہر طرف لہو ہے۔۔۔۔تاریخ سے لاعلمی پہ میرا کچھ بھی نہیں بگڑا تھا۔اور اب جب کہ تاریخ نے خود کو زندہ کیا ہے تو سب کچھ ہی بگڑ چکا ہے۔

Published inعالمی افسانہ فورممنزہ احتشام گوندل