Skip to content

تائی اماں

”تائی اماں ”٭٭٭٭٭٭٭٭٭ سارہ خان

آج بازار جاتے ہوئے میرے قدم گلی کے اس موڑ پہ خود بخود رک گئے جہاں کبھی ہم رہا کرتے تھے ۔ پرانی یادوں نے دل کے دروازے پر دستک دی تو ان درودیوار کو دیکھنے کی خواہش نے بے تاب کر دیا ۔ سارے کام بھول کر میں اپنے پرانے گھر کی دیوار پر ہاتھ پھیر کر ان تمام رشتوں کے لمس کو محسوس کر رہی تھی۔ جو جگہ جگہ بکھرچکے تھے ۔ بہت سکون مل رہاتھا ۔ وہ کونے والا گھر جس پر میری اچانک نظر پڑی تائی اماں کا تھا ۔ جو اب کھنڈر میں تبدیل ہوچکا تھا ۔ آہ ۔! تائی اماں ۔ ۔
وہ سب کی تائی اماں تھیں ۔ بھرا ہوا جسم مسکراتا ہوا پرکشش چہرہ دو بچوں کے ساتھ زندگی کے نشیب و فراز میں بڑے پروقار طریقے سے رہتی تھیں ۔ خاوند کی وفات کے بعد اداسی اور تنہائی سے کچھ دوستانہ بڑھ گیا تھا ۔ مگر محلے والوں کے ساتھ اسی محبت اور مسکراتے چہرے سے ملتی تھیں ۔ ہاں اتنا ضرور ہوا کہ بچوں کو قرآن مجید پڑھانا شروع کر دیا ۔
مالی لحاظ سے کوئی فکر و پریشانی نہیں تھی ۔ اپنی زمین اور دکان سے اچھی خاصی رقم مل جاتی تھی ۔ تائی اماں اکثر ہی ہمارے گھر آتی رہتی تھیں ۔ امی سے کافی دوستی تھی ۔
میں بھی اکثر ان کے گھر جایا کرتی تھی ۔ قرآن مجید بھی پڑھ آتی اور ان کی بیٹی جو مجھ سے دوسال بڑی اور فائین آرٹ کی طالبہ تھی کچھ سیکھ بھی لیتی تھی ۔
ایک دن کالج سے گھر آئی تو تائی اماں کے گھر کافی لوگ جمع تھے ۔ میں جلدی سے اندر گئی کہ امی سے پوچھوں کیا ہوا ۔ مگر امی بھی ادھر ہی گئی ہوئیں تھیں ۔ بیگ رکھ کر میں بھی چلی گئی ۔ تو پتہ چلا کہ تائی اماں کی بیٹی کی طبیعت اچانک خراب ہوئی اور وہ فوت ہوگئی ۔
افف مجھے اپنے کانوں پر یقین نہ آیا ۔ ۔ میرے لئے اس ماحول میں رہنا مشکل ہورہاتھا ۔ گھر آکر خوب روئی ۔
تائی اماں بھی ٹوٹ چکی تھیں ۔ پہلے سے بھی کمزور ہوگئیں ۔ بیٹی کی جدائی کا زخم اتنی جلدی نہیں بھرتا ۔ بیٹی کے خلا ء کو پر کرنے کے لئے سب نے بیٹے کی شادی کا مشورہ دیا ۔ امی نے بھی تائی اماں کو کئی رشتے بتائے ۔ آخر ایک رشتہ پسند آگیا ۔ اور شادی ہوگئی ۔
تائی اماں اب کچھ بہتر لگنے لگیں ۔ اور جب پوتا ہوا تو عرصے بعد انھیں کھل کر ہنستے ہوئے دیکھا ۔
وقت گزرتا گیا ۔ پوتے کی شرارتوں میں تائی اماں کا غم کچھ ہلکا ہوگیا تھا ۔ وہ بچپن سے لڑکپن اور پھر جوانی میں قدم رکھ چکا تھا ۔ میں بھی اپنے گھرکی ہوکر اپنے بچوں میں مصروف ہوگئی ۔ ایک دن امی کا فون آیا وہ بے حد پریشان لگیں ۔ پوچھنے پر بتایا کہ تائی اماں کے بیٹے کا کل ایکسیڈنٹ ہوا ہے ۔ اور آج زخموں کی تاب نہ لاکر چل بسا ۔ امی روپڑیں اور میرے بھی آنسو نہ رک سکے ۔
تائی اماں کے دو ہی بچے تھے ۔ اور دونوں ہی ان کی آنکھوں کے سامنے اللہ کو پیارے ہوگئے ۔ شام کو میں افسوس پر گئی تودیوار سے ٹیک لگائے تائی اماں صدیوں کی بیمار لگ رہی تھیں ۔ آنسو شاید بہہ بہہ کر خشک ہوچکے تھے ۔ بیٹے کے جنازے کو وہ ایسے ٹکٹکی باندھے دیکھ رہی تھیں کہ جیسے امید ہوکہ وہ ابھی اٹھ کے بیٹھ جائے گا ۔
تائی اماں کے دکھ کو محسوس کرکے بہت تکلیف ہوئی ۔ میں رات واپس اپنے گھر آگئی ۔ امی سے حال چال پوچھتی رہتی تھی ۔ دن رات گزرتے رہے ۔تائی اماں کا پوتا زمین اور دکان کو سنبھال نہ سکا ۔ امی نے بتایا کہ زمین پر کسی نے قبصہ کر لیا ہے ۔ اور دکان بک گئی ۔ نوبت یہاں تک آگئی ۔ کہ ایک دن تائی اماں امی کے پاس آئیں اور بڑی بے بسی سے التجا کی کہ
” مجھ سے اپنے گھر کے کام کروالو ۔ اور کچھ پیسے دے دیا کرو” ۔
امی نے کہا” کیوں شرمندہ کرتی ہیں ۔ میرا سب کچھ اپنا سمجھیں ۔ ”پھر دونوں گلے لگ کے خوب روئیں ۔۔
امی اب ماہانہ کچھ نہ کچھ دے دیتیں ۔ ۔تائی اماں کا پوتا جوان ہوا تو بہت مشکل سے مارے مارے پھرنے کے بعد کہیں نوکری بھی لگ گئی ۔ سب نے شکر کیا کہ تائی اماں کی پریشانی کچھ کم ہوئی اب بڑھاپا بھی شاید اچھا گزرے ۔
امی دوچار دن بعد ان کا حال پوچھنے ضرور جاتی تھیں ۔ ان کا پوتا اچھا کمار رہا تھا ۔ ایک دن میں شام کو امی کی طرف ملنے گئی ۔ ہم بڑے مزے سے ہنسی مزاق کر رہتے تھے ۔ کہ اچانک گیٹ کھلا اور تائی اماں گھبرائی ہوئی ۔ اندر آئیں ۔ میں نے سلام کیا مگر وہ امی کو دیکھتے ہوئے ان سے مخاطب ہوئیں ۔
”صفیہ ذرا جلدی میرے ساتھ آو ۔”
”کیا بات ہے خیر تو ہے تائی اماں۔” میں نے پوچھا
”بعد میں بتاتی ہوں۔” اور وہ امی کا ہاتھ پکڑ کر کھینچتے ہوئے لے گئیں ۔
میں مختلف وسوسوں میں گھری ان کو جاتا دیکھتی رہی ۔ کئی گھنٹے گزر گئے ۔ تائی اماں کے گھر تالا لگا ہوا تھا ۔ میری پریشانی بڑھتی جارہی تھی ۔
گھر واپس بھی جانا تھا ۔ اسی سوچ میں تھی کہ امی آگئیں ۔ چہرے سے فکرمندی جھلک رہی تھی ۔ میں نے جلدی سے دونوں ہاتھوں سے تھام کر پوچھا ۔
”کیا ہوا امی جی ۔ تائی اماں کیا کہتیں ہیں ۔ کہاں گئیں تھیں ۔ ”ایک ساتھ کئی سوالوں پر امی نے مرجھائے ہوئے چہرے سے صرف اتنا بتایا کہ” تائی اماں کا پوتا اچانک پاگل ہوگیا ہے ۔ اب پاگل خانے میں ہے ۔ ”
میں حیران پریشان امی کا چہرہ دیکھنے لگی ۔ جوکہ اب سجدے میں زارو قطار رو رہی تھیں ۔
گاڑی کے تیز ہارن نے مجھے خیالات کے سمندر سے باہر نکالا میں نے چونک کر ادھر ادھر دیکھا میں اسی پرانے گھر کی دیوار سے ٹیک لگائے ماضی کے یادوں میں گم کھڑی تھی ۔

”متلاشی ‘

”میں نے اپنے ارد گرد جنگیں دیکھیں ہیں ۔ کبھی کبھی ارد گرد بکھرا خون مجھے اپنا سا لگنے لگتا ہے ۔ چند دنوں سے اس جاری جنگ کے احساس نے مجھ میں اتنے خون کر دیے ہیں کہ یوں لگتا ہے باہر کی دنیا شفاف ہے اور اس پر بکھرا خون میرا ہے اور اسکو میرے من نے جذب کرلیا ہے ”

”یہ جنگ کس کے درمیان ہوتی ہے؟ ”میرے قریب بیٹھے سفید پروں والی عجیب الخلقت مخلوق نے سوال کیا ۔

”پتھروں کے درمیان ۔۔۔! ”میں نے اس کے سوال سے بھی مختصر جواب اس کو دیا ۔

” پتھروں کی لڑائی تم نے کہاں دیکھی ہے ؟ اور کیا پتھروں کا خون تمہارے من نے جذب کر لیا ہے ؟ ” اس نے دھیمے لہجے میں شائستگی سے پوچھا ۔

ہاں ! آج کل پتھروں کی لڑائی ہی ہوتی ہے ۔ کبھی تم نے شفاف ، نیلے، سبز ، سرخ ، ست رنگی پتھر دیکھے ہیں ؟

”کل دو پتھر ایک دوسرے سے تلوار اٹھائے لڑ رہے تھے ۔ ان میں سے ایک زخمی ہو کر زمین کے نیچے چلا گیا اور دسرا زمین کے اوپر ۔۔۔!!
اور پھر جب میں بھی اس کے پیچھے زمین کے نیچے گئی تو وہاں مجھے یاقوت چمکتا ہوا ملا ۔ ”

سفید پروں سے نور کے دھارے میرے چہرے سے ٹکرا کر روشنی بکھیرنے لگے جس نے مجھے مزید کچھ کہنے سے روک دیا اور اس نے پوچھا :

”گویا تم کان کن ہو ۔۔؟

” نہیں ” !!!
” میرا نام متلاشی ہے ، مقدر میں سفر لکھا ہے۔۔۔!! ایک دم میری دست شہادت سے سرخ روشنی نکلنے لگی اور اس کی سفیدی سے مل ہلکا نارنجی بنانے لگی ۔

”وہ عجیب الخلقت مخلوق مجھ سے دور ہوگئ اور کہا یہ پتھر تم نے پہن کر سوراخ بھر دیا ۔ سوراخ کو پتھروں سے بھرنے کا ہنر اچھا ہے ، کسی خاکی نے یہ کیا عجب تماشہ کیا ہے مگر چھید بھرنے کا طریقہ اور ہوتا ہے ”

مجھے اس کی باتوں میں پراسراریت محسوس ہوئی اور میں خود بھی اس سے دور ہٹ گئ ۔

” تم نے یاقوت کو پہن کر اچھا نہیں کیا ، کیا اچھا ہوتا ہے کہ اس کو پگھلا کر چھید بھرتی ۔ پہننے سے صرف روشنی منعکس ہوتی ہے جبکہ اس کو حصہ بنانے سے روشنی وجود سے نکل کر چار سو بکھرتی ہے اور جہاں کے مظاہر اس کو منعکس کرتے ہیں ”

”گھاٹے یا منافع کا سودا کیا ؟
اے نیک صفت !
مجھے تو سوراخ سے مطلب !

میں تمہں ایک ایسے غار میں لے چلتا ہوں جہاں پر تمہاری طلب کی حد ختم ہوجائے گی اور تم شاید اور کی تمنا نہیں کروگی ۔ اس کے ساتھ میں اس غار میں چل دی ۔ غار کا دہانہ کرسٹل کی شکل میں آسمانی رنگ کی شعاعیں بکھیر رہا تھا۔ اندر داخل ہوتے ہی میں نے وہاں ڈھیر سارے نیلے سیفائرز کو پایا جن کی آب وتاب سے تاریک غار روشن تھا ۔ تب عجیب الخلقت مخلوق آگے بڑھی جس کے پروں سے وہی نیلے رنگ کا انعکاس ہونے لگا تھا۔ ان میں سے ایک بڑا پتھر اٹھایا اور اس کو ہاتھ میں پکڑا ۔ جیسے ہی اس نے پتھر پکڑا ، وہ پتھر ریزہ ریزہ ہوگیا ۔پھر میری طرف متوجہ ہوا

” یہ لو ”
” ان ٹوٹے ریزہ ریزہ پتھروں کا میں کیا کروں گی ؟ اگر دینا تھا تو آب و تاب سے بھرپور مکمل پتھر دیتے ۔۔!!!”

پہلی بار اس کے چہرے پر مسکراہٹ آئی اور مجھے عجیب سی نظروں سے دیکھنے لگا جیسے میرے اندر جھانک رہا ہوں اور پھر بولا۔

” لال جو باہر انگشت شہادت میں پہنا ہوا ہے اس کا اصل تو انگشہت شہادت کے زیریں ہے ۔اس نے ” گرد” کو خود میں جمع کر لیا ہے اور
تمام کثافتوں کو اپنے اندر مدغم کرلیا ہے ۔۔۔۔ ”

اس نے اشارہ کیا اور اس کے ہاتھ سے نکلے پتھر کے نیلے ریزے جیلی کی شکل اختیار کرتے گئے اور وہ جیلی ایک ہی جھماکے سے اندر کہیں جم گئی ۔”

میرے اندر طمانیت کی لہر اتر گئی اور مجھے محسوس ہوا کہ خاکی ارض پر وجودیت نے نیا روپ دھار لیا ہے مگر کس طرح ہوا ، اس کا اسرار جاننا مشکل تر کام ہے۔

” تمہارے اندر ” یاقوت ” ہے اور تمہارے خون میں ” سیفائر ” ہے ۔ ہاں ایک بات یاد رکھنا : تمھیں ‘زمرد ‘ کے قابل بن کر ”ہیرے ” کا متلاشی بننا ہے اور ۔۔۔ اگر تم نے ” سونا” ڈھونڈنا شروع کردیا پھر کچھ بعید نہیں کہ دھوکہ میں رہو اور دھوکہ دو۔ ایک ایسا پتھر ‘ ہیرا’ جس کو ” خالص ہونے کے لیے کڑوڑوں سال کی سورج جیسی تپش اور کشش کے دباؤ نے بنایا اس کو تلاش کرچکنے کے بعد تمہیں میری ضرورت نہیں رہے گی ۔ کڑوڑوں سال کا فاصلہ تم سالوں میں طے کرنا کا موقع مل رہا ہے ۔

میں سوچ رہی تھی کہ ” ست رنگی ” ہوگا تو شفاف بھی ہوگا ۔میں اپنے سفر پر نکلی تھی اور یہ عجیب راہیں بتا رہیں ہیں ۔

اُس نے میری سوچ شاید بھانپ لی : ”ست رنگی تمھی ”زیفرقستان” میں ملے گا اور امید تیقن کے ساتھ ” ہیرا” انہی خاردار راہوں میں چھپا ہے ۔انسان کی اصل پہچان ست رنگی سے ہوتی یک رنگی ہوجاتی ہے ”

” میری سمجھ سے سرخ ، سبز ، نیلا ، ست رنگی اور یک رنگی باہر ہے ، بالکل ایسے جیسے کوئی دوسری زبان ہو ”

” سفر شروع کرنے سے پہلے سوال کرتے نہیں ، کہ یہ سفر بذات خود ایک ‘سوال’ ہے اور سوال کے اوپر سوال جچتا نہیں ۔ سفر کے دوران سارے سوال ایک ہی سوال میں ختم ہوجائیں گے بس اس سوال کا جواب منزل تک پہنچا دے گا ۔

اس کے بعد میں نے سوال کرنا چاہا مگر وہ غائب ہوگیا ۔ اس نے ہونا ہی تھا کیونکہ سحر کی آمد آمد تھی ،مرغ بانگ دے رہے تھے ۔ میں نے آسمان پر ستاروں کو دیکھا اور وضو شروع کردیا۔

Published inسارہ خانعالمی افسانہ فورم