Skip to content

بی کے بلوچ

افسانہ:نمبر 40
بی کے بلوچ

تحریر: محمد وسیم شاہد کوئٹہ

آپ کو دیکھ کر دیکھتا رہ گیا…. کیا کہوں …. کیا کہوں اور کہنے کو کیا… رہ گیا.. آپ کو.. دیکھ کر… دیکھتا رہ گیا.

کوئٹہ پر سرمی بادل چھائے ہوئے ہیں .. ہوا کسی محبوب کی سانسوں کی طرح مجھے مدہوش کیے جا رہی ہے. آج برسوں بعد جگجیت سنگھ کی غزل نے ایسا سماں باندھا کہ میں خود سے بیگانا, مدہوش ہوکر, بے سبب اور بے وجہ… غزل میں ایسا کھویا کہ آفس جانے کے بجائے ڈرائیونگ کرتے ہوئے کوئٹہ شہر سے کافی دور نکل آیا.. یہ غزل مجھے دنیا جہان سے بیگانہ کیوں نہ کرتی؟ یہ غزل میرا دوست بی کے بلوچ کیا خوب گایا کرتا تھا..

اچانک کراچی کی طرف سے آتی ایک برق رفتار کالے کلر کیV8 تیز رفتاری سے میرے قریب سے گزری.

“ارے ایسی گاڑی تو بی کے بلوچ کے پاس تھی.. مجھے گمان ہوا کہ ڈرائیو بھی وہی رہا تھا.. کیونکہ میں جانتا ہوں وہ کراچی میں گرمیاں نہیں گزارتا.

میں نے اگلے موڑ سے گاڑی واپس کوئٹہ کی جانب موڑی اور تیزی سے اُس کے پیچھے لپکا.. مگر باوجود کوشش کے میں اُس کی گرد بھی نہ پاسکا.

میں نے گاڑی بروری کے پہاڑوں کے قریب پارک کی اور وہیں چٹان پر جا بیٹھا جہاں میں اور بی کے بلوچ اکثر راتوں کو بیٹھا کرتے تھے.

بی کے بلوچ بھی کیا ہنس مکھ اور زندہ دل انسان تھا. اُسے دیکھتے ہی ہونٹوں پر بے ساختہ مسکراہٹ آ جاتی. ابھی پچھلے سال ہی کوئٹہ کینٹ میں واک کے دوران اُس سے ملاقات ہوئی تھی .اُس نے چند لمحے مجھے گورنے کے بعد سینے سے لگا لیا تھا..

“ارے شریف انسان ,خود ساختہ ادیب کہاں گھوم رہا ہے?” اُس نے گرمجوشی سے پوچھا.

” ارے !! بی کے بلوچ یہ تو ہے؟ کمال ہو گیا یار.. کیسا رنگ روپ نکالا ہے تُو نے…ویسے جاہل آدمی یہاں واک ہی کی جاتی ہے, تو وہی کر رہا ہوں” میں نے مسکراتے ہوئے جواب دیا.

” واک کو مار گولی.. چل اُسی پہاڑ پر بیٹھ کر پرانی یادیں تازہ کرتے ہیں جہاں جوانی میں بیٹھا کرتے تھے”

اُس نے میرا جواب سنے بنا ہی مجھے پارکنگ کی طرف کھیچنا شروع کیا..

“یار میری گاڑی گراونڈ کی دوسرے طرف پارک ہے..” میں نے اشارہ کرتے ہوئے کہا..

“ارے یہ کینٹ ہے یہاں بے شک ساری رات گاڑی پارک رہے کوئی چوری چکاری کا خدشہ نہیں. ہماری ملاقات شاید اٹھارہ بیس برسوں بعد ہوئی ہے.. کیا پتا پھر زندگی میں موقع ملے یا نہیں اس لیے چپ چاپ میرے ساتھ چل…”

اُس کے ہونٹوں پر ایک تلخ سی مسکراہٹ دیکھ کر مجھے یوں محسوس ہوا جیسے کسی نے میرا دل اپنی مٹھی میں لے کر مسل دیا ہو.. قہقہے بکھیرنے والے بی کے بلوچ کے ہونٹوں پر اِس سے قبل میں نے ایسی تلخ, نزا کے عالم میں تھرتھراتی مسکراہٹ نہیں دیکھی تھی… “میرا دوست پریشان ہے.. یہ سوچ کر میرے قدم خود بخود پارکنگ کی اوڑھ بڑھنے لگے..

وہ مجھے کسی قیدی کی طرح کھنچتا ایک کالی V8 کی طرف بڑھا, ریمورٹ سے گاڑی ان لاک کر کے مجھے اندر دکھیلتے ہوئے بھاگ کر دوسری جانب سے ڈرائیونگ سیٹ پر آ بیٹھا..

میں حیران پریشان اندر سے گاڑی دیکھ ہی رہا تھا کہ اُس نے پوچھا..

“کیا دیکھ رہے ہو یار..؟ “

” تمہارے اندر کا فنکار اب بھی زندہ ہے. چند لمحوں پہلے کیسی یتیمانہ مسکراہٹ تھی تمہارے چہرے پر… میں آ ہی رہا تھا, پھر ایسا منحوس چہرہ بنانے کی کیا ضرورت تھی؟” میں نے پیچھے منہ کرکے گاڑی کا انٹیریل دیکھتے ہوئے پوچھا.

“تم ذرا بھی نہیں بدلے.. واہ واہ .. کیا ادبی جملہ بولا ہے.. یتیمانہ مسکراہٹ.. منحوس چہرہ.. واہ واہ آداب عرض ہے جناب..” اُس نےحسبِ عادت ایک فلک شگاف قہقہہ لگاتے ہوئے گاڑی آگے بڑھا دی.

اتنا خالی خالی, پھیکا اور بناوٹی قہقہہ… میں نےکن اکھیوں سے اُس کے چہرے کی طرف دیکھا.. بروری کے پہاڑوں کی اوٹ میں منہ چھپاتے سورج کی دم توڑتی کرن اک لمحے کو اُس کے چہرے پر چمکی. اُس نے چہرے پر پھیلتے آنسو پونچھے . گاڑی چیتے کی طرح چست بھرتی بروری کے پہاڑوں کی طرف بھاگی جا رہی تھی..

میں نے مزید کچھ پوچھنا مناسب نہ سمجھا اور طویل خاموشی کے بعد اُس نے پہاڑ کے پھیلتے سائے میں گاڑی پارک کی, دو عدر منرل واٹر کی بوتلیں اٹھائیں اور تیزی سے اتر کر اُس چٹان کی طرف بڑھ گیا جہاں ہم جوانی میں گھنٹوں بیٹھ کر ایسے قہقہے لگاتے کہ موٹر بائیکز پر جاتے لوگ حیرت سے اندھیری چٹان کی طرف دیکھتے اور پھر اُن کی رفتار مزید بڑھ جاتی .

میں بھی تیزی سے اُس چٹان کی طرف لپکا. وہ مجھے وہیں بیٹھا ملا جہاں ہم ہمیشہ بیٹھ کر کوئٹہ کی ٹمٹماتی روشیناں دیکھ کر مستقبل کے منصوبے بنایا کرتے تھے.

میں بہ مشکل چٹان پر چڑھ کر خاموشی سے اپنی مخصوص آ بیٹھا…

ہم دونوں خاموش بیٹھے,اندھیرے میں اپنے کھوئے قہقہے اور وہ خواب تلاش کر رہے تھے جو یہیں کہیں بکھرے ہوں گے. ہم نے کیوں ایسے خواب دیکھے جن کا شرمندہِ تعبیرہونا نا ممکن تھا.. وہ ادھوری خواہشات اور وہ کسی کو یاد کرتے ہونٹوں پر آئی شریر مسکراہٹیں یہیں کہیں آوارہ بگولوں کی مانند اپنے تخلیق کاروں کی سوچ پر بین کر رہی ہوں گی.

” کیسے ہو جمال خان؟” اندھیرے میں اُس کی

آواز سنتے ہی خیالوں کے سمندر نے مجھے ماضی سے حال کی طرف اچھال دیا..

“ہاں اللہ پاک کا کرم ہے .. پہلے سے بہت اچھی گزر رہی ہے .. مگر یار ایسا محسوس ہوتا ہے تم نے اپنے ہر خواب کی تعبیر پا لی ہے.. ” میں نے اندھیرے میں کسی فیل کی طرح استادہ اُسکی قیمتی لینڈ کروزر کی جانب دیکھنے ہوئے پوچھا..

ہاں!! میرا ہر خواب پورا ہوا بلکہ وہ کچھ بھی حاصل ہوا جس کا میں نے کبھی سوچا بھی نہ تھا.

اچھا! لیکن ہم سب دوستوں کو تم سے ہمیشہ ایک شکوہ رہا کہ تم اپنے بارے پوچھے گئے ہر سوال پر کمال خوبصورتی سے گفتگو کا موضوع بدل دیتے یا ہر سوال مذاق میں اڑا دیتے.. تم ایک طلسماتی کردار ہی رہے ہمارے لیے.. ” میرے اندر کے ادیب نے ایک پوشیدہ کردار کی پھرتیں کھولنے کی کوشش کی.

” میں اکثر رسائل اور اخبارات میں تمہارے لکھے افسانے پڑھتا رہتا ہوں.. میں کئی ماہ سے سوچ رہا تھا کہ تم سے ملاقات کر کے اپنی زندگی کی کہانی سناوں گا.. شاید تم اُسے افسانوی رنگ میں ڈھال کر تحریر کر دو تاکہ نوجوان نسل کو رہنمائی ملے اور وہ بھی میری طرح زندگی سے اپنا حق چھیننا سیکھیں .. یہ کہہ کر وہ چند لمحے خاموش رہا.. میرے جواب کا انتظار کیا … مگر میں کوئی جواب دے کر اُسے اس کیفیت سے باہر نہیں نکالنا چاہتا تھا..

” تم واحد دوست ہو جو میرے دل کے بہت قریب رہے میں اپنا ہر مسلہ ہر معاشقہ تم سے یہی بیٹھ کر ڈسکس کیا کرتا تھا .. مگر شاید ہی میں نے تمہیں کبھی اپنے ماضی کے بارے ایک لفظ بھی بتایا ہو…زندگی بہت تیزی سے گزر رہی ہے.. خدا جانے ہماری اگلی ملاقات ہو یا نہ ہو.. ہوبھی تو کن حالات میں ہو.. رب کی بنائی دنیا اور لکھی تقدیر میں انسان اِک خس وخاشاک کی طرح اڑتا کہیں سے کہیں پہنچ جاتا ہے.. شاید پھر مجھے زندگی موقع نہ دے کہ میں اپنی کہانی کسی کو سنا پاؤں..

تم نے اِس مختصر ملاقات میں میری مالی حیثیت بارے کیا اندازہ لگایا ہے.?

“تم… تم کروڑ پتی تو ہو..”میں نےاچانک پوچھے سوال پر ہکلاتے ہوئے جواب دیا..

“ہاہاہا.. میرے دوست تم نے درست اندازہ لگایا. تم حیران ہوگے کہ اِس واجبی سی تعلیم اور شکل صورت کے باوجود میں کیسے کروڑ پتی بن گیا؟میں نے معاشرے میں عزت دولت اور مقام پانے کو بہت بڑی قربانی دی ہے. یہ سب پاتے پاتے میں خود کہیں کھو گیا ہوں..

یہ بی کے بلوچ جو اپنا ماضی چھپائے عیش عشرت کی زندگی جی رہا ہے مرنے سے قبل اپنی شاخت واپس پانا چاہتا ہے…

” میں بلوچ ہوں. اصل, خالص اور شُد بلوچ.. شاہد ہی کوئی بلوچ ہمارے قبیلے جیسا رییل بلڈ ہو کیونکہ تقریبا تمام بلوچ قبائل آپس میں رشتہ داریاں کرتے ہیں.. کسی کی ماں رخشانی تو باپ سنجرانی, ماں رند تو باپ بگٹی, یعنی کوئی بھی بلوچ مرد کسی بھی دوسرے بلوچ قبیلے کی عورت سے شادی کر سکتا ہے.. مگر ہم نہیں کر سکتے…صدیوں سے ہمارا باپ بھی لوڑی اور ماں بھی لوڑی.

ہاں میں” لوڑی”ہوں جسے لوگ مراثی اور ڈوم کہہ کر بھی پکارتے ہیں.میں بلوچ ہوں مگر ایک کمزور سماجی حیثیت کا مالک.. مانندِ خاک بے قیمت اور بے ثمر..

ہمارا خاندانی پیشہ آہن گری اور سُر سنگیت بجانا اور گانا ہے.

میں ابھی نو دس سال کا ہی تھا کہ مجھے سُرنہ اور ڈھول بجانے پر عبور حاصل ہو گیا. میں روز ڈھول اٹھا کر ساحل پر نکل جاتا اور جوں ہی ڈھول پر ضرب لگاتا سمندر کی بے چین لہریں ساحل کی طرف دوڑی آتیں.. میں ڈھول بجاتا رہتا اور لہریں لچکتیں, تھرتیں قدم سے قدم ملائے مستی اور مدہوشی سے میری ہر تال کے ساتھ کبھی بڑھتیں کبھی گھٹتیں ,کبھی تیزی سے اور کبھی دھیمی ہو کر دھیرے دھیرے قدم سے قدم ملائے رقص کرتیں..

میں ڈھول بجا بجا کر اور لہریں ناچ ناچ کر تھک جاتیں, بھوک و پیاس سےحلق میں کانٹے اُگ آتے اور پیٹ میں آگ کا الاؤ دہکنے لگتا تب ہی میں اپنی جھونپڑی کی راہ لیتا.

میرے قبیل کے دیگر بچے ڈھول اٹھائے بازار نکل جاتے , شوخ بلوچ نوجوان اُن کی تال پر لیوا کرتے, پھر چند سکے اُن کے پھیلے ہاتھوں پر رکھ کر حقارت سے اُنھیں آگے دھکیل دیتے.. وہ یوں ہی بازار در بازار, گلی در گلی اور محلہ در محلہ دھکے کھاتے پھرتے مگر شام کو سو دو سو کما کر ہی گھر واپس لوٹتے.

میرے والد صاحب میرے یوں خالی ہاتھ گھر لوٹنے پر بہت سمجھاتے مگر نہ جانے کیوں میں ڈھول کی تھاپ, سرنے کا سرور اور آواز کا جادو ذلت سے ملی بخشش کے عوض بیچنے کو تیار نہ تھا..

ایک روز میں نے اپنے والد اور والدہ کے درمیاں اپنے بارے ہوتا مکالمہ سنا….

” خدا نے بنگل کے ہاتھ اور آواز میں لاجواب جادو رکھنا ہے.. کمال کا خوش گلو اور مست ڈھولچی ہے میرا بیٹا…. اِسکی مست آواز سن کر سمندر پر اڑتے پرندے سارا سارا دن ساحل پر بھوکے پیاسے بیٹھے رہتے ہیں. سمندر کا بس نہیں چلتا کہ اپنے اندر چھپے خزانے داد دینے کو اُس کے قدموں میں لا نچھاور کرے.. خدا جھوٹ نہ بلوائے بزرگوں سے سنا ہے کہ صدیوں پہلے ہمارے قبیلے کا بنگل نامی ایک اور نوجوان ہوا کرتا تھا.. وہ بھی ایسا ہی باکمال ڈھولچی, خوش گلو, خوش گفتار شاعر اور گوّیا تھا . وہ بھی ساحل پر سمندر کو ناچتا اور محبتوں کے گیت سناتا تھا. وہ سمندر کی لہروں سے قدم ملا کر ناچتا اور جھومتا رہتا .. پھر ایک روز سمندر نے سونے چاندی سے بھرا ایک صندوق اُس کے قدموں میں لا پھینکا. اُس نے صندوق کھولا تو چیخ چیخ کر روتا جاتا اور کہتا ..

“اے میرے یار… اے ساحل مکران تُو تو میرا دوست ہے.. میں تو تیری محبت, تیرے پیار میں سرنہ و ڈھول بجاتا, رقص کرتا اور گنگناتا ہوں. میں بخشش میں ملا یہ سونا و چاندی کیا کروں گا؟ میرے لیے تیری دوستی سونے چاندی سے کیا دولتِ ہفت اقلیم سے زیادہ قیمتی ہے..

یہ کہہ کر اُس نے ڈھول و سرنہ ساحل کی ریت پر پھینکا اور بھاگتا ہوا گہرے سمندر میں اترنے لگا . دور ساحل پر کھڑے ماہی گیروں نے اُسے روکنے کو آوازیں دیں,چند ایک نوجوان اُس کی جانب لپکے بھی. مگر اُن کے پہنچنے سے قبل ہی اُس کے دوست.. اُس کے یار.. اُس کے محبوب سمندر نے آگے بڑھ کر اُسے اپنے سینے میں سمو لیا… آج بھی ناخدا بتاتے ہیں کہ ساحل سے کئی سو کلو میٹر اندر سمندر میں اُنھیں اکثر اُس بنگل کے ڈھول, سرنے اور گیتوں کی آواز سنائی دیتی ہے.. مکران کے ساحلوں پر بستے قبائل اِس بات پر پختہ گمان رکھتے ہیں کہ بنگل اب بھی زندہ ہے .. وہ اکثر چاندنی راتوں میں سمندر کی لہروں کو رقص کرواتا دیکھا گیا ہے..

بنگل کی ماں تو اِسے سمجھا, ہم بہت غریب لوگ ہیں .یہ میرا اکلوتا بیٹا ہے ..تین بیٹیوں کا ساتھ ہے.. خدا نہ کرے اگر اِس نے بھی اُس بنگل کی روش اپنا لی تو میرا کیا بنے گا؟”

“وہ ایک مست بے چین روح ہے.. وہ کبھی نہیں مانے گا .. تم ایسا کرو اُس کے کاندھے سے ڈھول اتار کر کتابوں کا بوجھ لاد دو.. میں نے پڑھے لکھے لوگوں کو پیار و محبت ساحل و سمندر اور قوم قبیلوں سے بغاوت کرتے دیکھا ہے.. اگر یہ پڑھ گیا تو دنیا دار ہو جائے گا .. روحانیت اور سچائی کا راستہ چھوڑ دے گا.. تم اِسے سکول داخل کروا دو. ماں نے اپنے دل میں لگی آتش کی طرح چولہے میں دو چار لکڑیاں اور ڈال کر مزید آگ بھڑکائی اور چہرے پر پھیلے آنسو پونچھتے ہوئے والد کو اپنی مشورہ دیا..

پھر مجھے اسکول داخل کروا دیا گیا. چند ماہ کی بے چینی کے بعد میرا دل وہاں لگنے لگا.

اساتذہ چونکہ میری ذات سے واقف تھے تو مجھے اکثر حمد و نعت پڑھنے بلا لیا جاتا .. رفتہ رفتہ میری آواز کا جادر سر چڑھ کر بولنے لگا اور میں اکثر مقابلوں میں اول آنے لگا. مگر میری ہر کامیابی میرے لیے سوہانِ روح بن جاتی, ہر آگے بڑھتا قدم مجھے مزید رسوائی کے دلدل میں گھسیٹ لیتا . ہر مقابلے کے بعد مجھے اول انعام لینے کو بلوانے سے قبل میرا تعارف میرے “لوڑی” ہونے کا بتا کر کیا جاتا.. پھر سب حاضرین سرگوشیاں کرتے کہ “خاندانی مراثی ہے اچھا تو گائے گا ہی ناں”

یوں مجھے اپنی شناخت سے نفرت ہو گئی. میڑک کرتے ہی میں نے مزید تعلیم حاصل نہ کرنے کا فیصلہ کیا اور ساحل پر بیٹھ کر جلد از جلد امیر ہونے اور اِک نئی زندگی شروع کرنے کے خواب دیکھا کرتا. مگر اتنے پیسے اور ہمت نہ تھی کہ کوئی عملی قدم اٹھا پاتا..

پھر اِک روز میں نے بازار میں اپنے والد کو ڈھول بجاتے دیکھا. وہ پیری میں خمیدہ کمر پر بامشکل ڈھول اٹھائے بازار سے گزر رہے تھے. میں سمجھ گیا کہ آج گھر میں دوپہر کی روٹی کو آٹا نہیں جب ہی والد اِس وقت بازار اور محلوں میں گھروں کے سامنے ڈھول بجا رہے ہیں. میں تیز تیز قدموں سے اُن کی جانب لپکا مگر میرے پہنچنے سے قبل ہی ایک گھر کا دروازہ کھلا, ایک شخص باہر نکلا .. والد کو ڈھول بجانے سے روکنے کو ایک گندی گالی دی اور دھکا دے کر اپنے گھر کے سامنے سے جانے کو کہا.. بیمار, بھوکے اور ضعیف والدصاحب اُس کا دھکا برداشت نہ کر پایے اور ڈھول سمیت نالی میں جا گرے. میرے پہنچنے تک وہ شخص گھر میں داخل ہو کر دروازہ بند کر چکا تھا.. میں نے والد کو اٹھایا.. اور اُس شخص کی طبیعت درست کرنے کو دروازے کی جانب بڑھنے لگا.. والد نے نمناک آنکھوں سے مجھے اِس اقدام سے روکنے کی کوشش کی..

” بیٹا یہ کوئی پہلا دھکا نہیں ہے جو مجھے پڑا ہے .. میرے باپ دادا اور بہت ممکن ہے کہ تم اور تمہاری آنے والی نسلیں بھی یوں ہی دھکے کھائیں… تو برداشت کرنا سیکھ لو.. انھوں نے میرا بازو تھام کر کہا.

میں نے شرم سے سر جھکا کر والد کا ہاتھ تھاما, ڈھول اٹھایا اور ذلت کی چادر اوڑھے ہم باپ بیٹا اپنی جھونپڑی چلے آئے . اُس روز واقعی ہمارے گھر میں ایک روٹی کو آٹا نہ تھا.. شاید ہوتا بھی تو وہ روٹی ہمارے حلق سے نیچے نہ اتر پاتی..گرنے سے والد کے ٹخنے پر کافی گہرا زخم آیا تھا.. والدہ بے چاری بار بار اپنے دوپٹے سے رستا لہو صاف کر رہی تھیں.

“سرکاری ہسپتال بھی بند ہو گیا ہوگا ورنہ تم بنگل کے ساتھ وہاں جا کر پٹی کروا لیتے. زخم کافی گہرا ہے…. مگر دیکھنا جلدی ٹھیک ہو جائے گا..تم جب پیشاب کرنے جاؤ تو زخم پر بھی پیشاب کرنا… اِس سے زخم خراب نہ ہوگا اور جلدی ٹھیک ہو جائے گا.. “

کوئٹہ پر چھائے بادلوں کے کلیجے پھٹ گئے.. ہوا بی کے بلوچ کی روداد سن کر بین کرنے لگی.. چٹان کو حیرت سے سکتہ مار گیا .. مگر کسی غریب کے درد و رنج کی طرح عام انسان نہ یہ دیکھ اور نہ ہی محسوس کر سکتا تھا تو بی کے بلوچ تنہا روتا رہا بقیہ دنیا اپنے حال میں مست چلتی رہی.

وہ ہچکیاں لے لے کر رو رہا تھا.. میرا جی چاہا کہ اُسے سینے سےلگا کر مزید کہانی سنانے سے روک دوں, مگر میرے اندر کے ادیب نے ایسا کرنے سے منع کر دیا.. “اُسے آج رو لینے دو.. آج اپنا دکھ بیان کر لینے دو ورنہ یہ شخص گھٹ گھٹ کر مر جائے گا.” میرے اندر چھپے خود غرض ادیب نے اِک اچھی کہانی کے کھو جانے کے ڈر سے مجھے ایک احسن قدم سے روک دیا…

میں خاموش رہا,بالکل خاموش.. کچھ دیر یوں ہی رونے کے بعد وہ بھرائی ہوئی آواز میں پھر گویا ہوا..

” رات کو میں اپنے علاقے کے ممبر بلوچستان اسمبلی کے بھائی سے ملنے اُن کے گھر گیا.. رنگ وسرور کی محفل جاری تھی مجھے دیکھتے ہی اُنھوں نے خوشی سے قریب بلوایا اور اپنے دیگر مہمانوں سے میرا بدنامِ زمانہ تعارف کرواتےہوئے کوئی درد بھری غزل سنانے کی فرمائش کی.. وہ اور اُنکے دوست پہلے ہی سرور میں تھے, آج کے واقعہ کی بدولت میرے اپنے دل و دماغ درد اور ذلت کی پستی میں آہ و فکاں کر رہے تھے.. میں نے استاد غلام علی کی درد بھری غزل چھیڑی… ……….. ..

ہم تیرے شہر میں آئے ہیں.. مسافر کی طرح… “

سارندے موجود تھے.. ساز و سر کے سب لوازمات اور سرور کو ساقی کے پاس ہر قسم کے جام بھی تھے… غزل نے ایسا سماں باندھا کہ لوگ عش عش کر اٹھے.. مہمانوں نے مجھ پر نوٹوں کی بارش کر دی.. صبح ایک نوالے کو دھکے کھانے والے کی جھولی رات کو نوٹوں سے بھر گئی..

میں نے قالین پر بکھرے نوٹ اپنی جھولی میں سمیٹے اور سردار صاحب کے قریب جا کر اُن کے پیروں کو ہاتھ لگاتے ہوئے اُن کے سامنے انڈیل دی..

“سردار صاحب میں اپنا بلوچی ساز وسرنہ, ڈھول چنگ و رباب, اور اپنے دل کا درد وسوز نہیں بیچ سکتا.آپ کے میرے خاندان پر بہت احسانات ہیں ایک اور احسان کریں مجھے سرکاری نوکری کا حکم نامہ دلوا دیں..”

سردار صاحب نے کچھ دیر سوچا پھر پینٹ کوٹ پہنے شخص ہمکلام ہوئے.

“تم اِسے کسٹم میں نوکری دلوا سکتے ہو؟”

“کیا تعلیم ہے تمہاری؟ اُس نے مجھ سے سوال کیا.

“سر! میڑک کیا ہے. ایف اے بھی کرنا چاہتا ہوں مگر مالی حالات اجازت نہیں دیتے..” میں نے جواب دیا..

“یہ میرا کارڈ رکھو اور دو چار روز بعد مجھ سے کوئٹہ آ کر ملو.. لیکن ایک شرط ہے.. میں تمہیں غزل سنانے اپنے بنگلے پر بلواتا رہوں گا ” اُنھوں نے پرس سے اپنا کارڈ نکال کر دیتے ہوئے محبت سے کہا.

“کیوں نہیں سر!! جب حکم کریں گے میں سر کے بل حاضر ہو جاؤں گا..

“کرایے اور خرچے کے لیے کچھ پیسے اٹھا لو..” اُنھوں نے قالین پر بکھرے نوٹوں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا..

” اگر نواب سردار اپنے ساحل و سمندر کا سودا کرنا پسند نہیں کرتے تو ایک بلوچ مراثی کیسے اپنا ساز و سر بیچ سکتا ہے؟ میں نے جواب دیا اور الٹے قدموں واپس جانے لگا..

” اڑے اے تو کامریڈ بھی است ء” سب مہمانوں نے بے ساختہ کہا..

“رکو !! یہ رکھو .. یہ خیرات یا بخشش نہیں.. تمہارا انعام ہے..” سردار صاحب نے اپنے پرس سے ہزار ہزار کے آٹھ دس نوٹ نکال کر میری جانب بڑھاتے ہوئے کہا..

میں واپس پلٹا نوٹ لیے, سلام کیا اور گھر واپس چلا آیا.. اگلی صبح والد کی مرہم پٹی کروائی گھر کے راشن کو چند ہزار ماں کو دیے, جوان ہوتی بہنوں کے دوپٹے اِس قدر بوسیدہ ہو چکے تھے کہ اب تن ڈھانپے سے گریزاں تھے تو اُن کے لیے چند جوڑے کپڑے و چادریں خریدیں اور اگلے دن کوئٹہ روانہ ہو گیا..

” تم تو ادیب ہو جھوٹ سچ قلم گھسیٹ کرکچھ بھی لکھ مارتے ہو… کبھی سچ بولو .. کسی کردار کی طرح زندگی گزارو تو پتا چلے کہ سچ بولتے ہوئے حلق میں کانٹے کیونکر اُگتے ہیں” یہ کہہ کر اُس نے ساتھ رکھی منرل واٹر کی آدھی بوتل اپنے اندر انڈیلی اور رومال نکال کر آنسووں سے بھیگا چہرہ صاف کرنے لگا .. پھر کچھ دیر خاموش رہا. یوں محسوس ہو رہا تھا جیسے ہر سو پھیلی تاریکی, آسمان پر گزرتے بادل .. سرسراتی ہوا اور شور مچاتے جھینگر سب خاموشی سے اُس کی کہانی کا انجام سننے کو ہمارے قریب چلے آئے ہو…

“کوئٹہ آنا, رہائش کے مسائل, انجانا شہر, بے مروت لوگ, اگر یہ بتانے بیٹھا تو تم افسانے کے بجائے ناولٹ یا پھر مسالہ ڈال , چونا کتھا لگا کر ضخیم ناول لکھ لو گے.. سب سے خود غرض تاجر تو تم لوگ ہو, جو لوگوں کے جذبات اوراحساسات بیچتے ہو…. گو کہ میری کہانی بڑی دردناک ہے ایک اچھا ناول بن سکتا ہے مگر اب ناول کون پڑھتا ہے؟ تو افسانہ ہی لکھنا کہ پڑھ کر لوگ عبرت پائیں یا حظ اٹھائیں .. اُس نے ہونٹوں پراِیک تلخ مسکراہٹ تھی..

ادب سے دور ہوتے اس بے ادب معاشرے کی جانب وہ اپنی طنزیہ مسکراہٹ اچھالتے ہوے دوبارہ گویا ہوا..

کوئٹہ پہنچ کر دو روز بعد کلکٹر کسٹم کے آفس جا کر صاحب کا کاڑد دکھایا تو فورا اندر بلوا لیا گیا. صاحب سے ملاقات کی,اُنھوں نے میرے سپاہی کے آرڈرز کرتے ہوئے مجھے اپنے بنگلہِ خاص پر جا کر مہمانوں کی خدمت داری سیکھنے کا حکم دیا..

بنگلے پر ہر رات جام و سرور کی محفل سجتیں, میرے علاوہ بھی درجن بھر ملازمین وہاں مالی ,چوکیدار, کک, ویٹر اور منیجر جیسے فرائض سرکاری تنخواہ پر انجام دے رہے تھے.. مجھے منیجر کے ساتھ رکھا گیا تا کہ میں جلد تمام معاملات اپنی دسترس میں کر لوں اور ایسا ہی ہوا میں نے چند ماہ میں ہی تمام امور سنبھال لیے.

جام و سرور کی محافل میں صوبائی اور وفاقی حکومت کے بڑے بڑے آفیسرز تشریف لاتے.ان محافل کے بعد اکثر مجھ سے کسی درد بھری غزل کی فرمائش کی جاتی.. ماحول ساز گار ہوتا کیونکہ سچ سنا اور بولا ساقی خانوں میں ہی جاتا ہے.. تو ہر آفیسر یہ سمجھتا کہ یہ غزل لکھی ہی اُس کے لیے گئی ہے. سب آفیسر اپنا دکھ , محبت میں ناکامی,چاہنے والے کے بچھڑنے اور ماں باپ کو یاد کرتے ہوئے جام پر جام چڑھائے جاتے. ایسے میں میری درد بھری آواز میں گائی غزل اُن کے دکھوں کی ترجمانی کرتی. یوں سال دو سال بعد صوبائی اور وفاقی حکومت کا ہر بڑا آفیسر میری جیب میں تھا. اب جہاں بڑے بڑے سمگلر بجائے اسسٹنٹ کلکٹر , کمیشن ایجیٹس یا انسپکٹر کسٹمز کے, مجھ سے روابط رکھتے, وہیں سرکاری و سیاسی لوگ بھی وفاقی و صوبائی اداروں میں رکے قانونی و غیر قانونی کاموں کی انجام دہی کے لیے مجھ سے تعلقات استوار کرنے کو نقد رقوم, قیمتی تحائف, پلاٹ اور مکانات تک گفٹ کرتے اور میں اُن کے پیچیدہ سے پیچیدہ مسائل چٹکیوں میں حل کروا دیتا..

پانچ سو کلومیٹر سڑک کا ٹینڈر ایک کنسٹرکشن کمپنی کو دلوانے کے عوض جیل چورنگی پر ہزار گز کا ایک بنگلہ میرے نام ہوا تو گھر والوں کو بھی کوئٹہ بلوا لیا..

والدین میرے ٹھاٹ باٹ دیکھ کر پریشان رہتے اور اکثر بنگلے گاڑیوں اور دیگر اشیاء کے بارے استفسار کرتے…میں نے اُنھیں یہ بتا کر مطمن کر دیا کہ یہ سب کچھ میرے صاحب کا ہے چند سرکاری مسائل کی وجہ سے وہ یہ سب اپنے نام نہیں رکھ سکتے اِس لیے میرے نام کروا رکھا ہے … اُنھیں میری بات پر شک تو تھا, مگر اظہار نہ کیا اور یوں میری اور اُن کی زندگی آرام و سکون سے گزرنے لگی..

“جمال خان ! پیسہ ہو تو لوگ ذات پات, قوم قبیلہ بھی نہیں دیکھتے, تو جلد ہی بہنوں کی دھوم دھام سے شادیاں کر دیں.

یار! یہ زندگی بھی عجب چیز ہے.. جب کچھ نہ تھا تو پریشان تھا اب جب دنیا جہان کی ہر آسائش حاصل ہوئی, گھر کے تہ خانے میں موجود الماریاں نوٹوں سے بھر گئے اوراِس دولت میں دن رات بڑہوتری ہو رہی تھی.. مگر سکون نہیں تھا, ہر سمے مجھے ایک نادیدہ خوف اپنے پنچوں میں جکڑے رکھتا.عجب وسوسے, خدشات اِک پل چین سے سونے نہ دیتے. مگر میں آگے بڑھتا رہا…سانپ کے ڈسے کا علاج زہر سے کرتا رہا.. دن رات دونوں ہاتھوں سے مزید دولت سمیٹھتا رہا….

بلوچستان کے تمام اسمگلر مجھ سے رابطے میں رہتے, ایرانی پیڑول, نان کسٹم پیڈ گاڑیاں, جاپانی الیکڑونکس کا سامان, چالیہ, کپڑا, ٹائر اور ولایتی شراب.. میں ہر چیز پاکستان لانے کی منٹوں میں اجازت دلوا دیا کرتا,مگر میں نے کبھی منشیات کے بیوپاریوں سے تعاون نہیں کیا..

چند ماہ قبل افغانستان سے پاکستان میں داخل ہونے والی ہیروین کی ایک بڑی کھیپ ضبط کی گئی, دوبئی میں بیٹھے منشیات کے سمگلروں کے کنگ “رستم خان” نے اپنا پورا زور ہر محکمے پر لگا لیا مگر مسلہ حل نہ کروا سکا ,تو مجھ سے رابطہ کیا کہ میں اپنے مہربانوں سے کہلوا کر اُسکا مال چھڑوا دوں تو وہ مجھے سونے میں تول دے گا مگر یہ کام میری دسترس سے باہر تھا. ویسے بھی میں منشیات والے چپٹر سے دور ہی رہنا پسند کرتا تھا..

” صد شکر!! کے تم نے کچھ تو اچھا کیا, ورنہ میں یہ سوچ رہا تھا کہ کیسا برا انسان میرا دوست رہا..” میں نے سرگوشی کی.

“برا یا بھلا یہ تو میری کہانی کا انجام بتائے گا.. اب درمیان میں بول کر کہانی کا تسلسل خراب نہ کرنا پلیز..”اُس نے ایک سانس میں پانی کی دوسری بوتل آدھی کی اور بولنے لگا..

“یہ سمگلر اپنا کام کروانے کو کس حد تک جا سکتے ہیں تمہیں یا عام لوگوں کو اِس کا ادراک نہیں ہو سکتا .. پہلے رشوت کی آفر, دوئبی میں فلیٹ پھر کینیڈا کا ویزا… اگر بات نہ بنی توپھر موت.. تمہاری, تمہارے بال بچوں کی, ماں باپ کی یا کسی بھی پیارے کی..

جو شخص ڈھول کی تھاپ اور سرنے کا سوز نہ بیچ پایا ہو وہ اِس ملک کے نوجوانوں کو ہیروین کا زہر کیسے بیچ پاتا.. تو میں نے سختی سے نہ صرف انکار کر دیا بلکہ اُس کی دھمکی سے ڈرنے کے بجائے صاحب کو کہہ کر مضبوط سے مضبوط کیس بنوایا اور اپنے مہربانوں سے کہلوا کر اُس روٹ کو بھی مکمل طور پرسیل کروا دیا…

” یہیں مجھ سے غلطی ہو گئی. میں دو ٹکے کا “مراثی” دولت آ جانے سے اپنی اوقات بھول گیا تھا .. مجھے رستم نے فون کر کے برسوں بعد یاد دلوایا کہ میں کون ہوں اور میری اوقات کیا ہے؟

وہ ایک بار پھرخاموش ہو گیا.. سکوت گہرا پراسرار سکوت.. بروری کے پہاڑوں پر چمکتا چودھویں کا چاند چکوروں کو دعوت پرواز دے رہا تھا.. ستاروں کی پوری توجہ بی کے بلوچ کی کہانی سنننے پر مرکوز تھی.. چند گھنٹوں پہلے بہتی ہوا بھی ہمارے پاس چوکڑی مارے بیٹھی تھی.. زمین پرہوتی سرسراہٹ سے ایسا محسوس ہوتا کہ کوئٹہ کے پہاڑوں پر بستے جنات بھی کہانی کا انجام سننے ہمارے سامنے قطار در قطار آ بیٹھے ہوں .. بی کے بلوچ بالکل خاموش, نہ جانے تاریکی میں کیا دیکھنے کی کوشش کر رہا تھا..

“ادیب سو بار سچا اور پر خلوص ہونے کا ڈھونگ رچائے.. مگر ہوتا تو انسان ہی ہے نا .. مال و زر کا لالچی نہ سہی مگر کہانی سننے, کرداروں کےمابین ہوتے مکالمے اور کہانی کا انجام جاننے کی ہوس تو رکھتا ہی ہے .. مجھے خدشہ ہوا کہ وہ اپنی کہانی مکمل کیے بنا اٹھ جائے..

“پھر کیا ہوا .. میں نے بے صبرے پن سے پوچھا.

“رستم مجھ پراپنا سب سے کاری وار کر گیا… میرا سب کچھ چھین لیا اُس ظالم نے .. کاش وہ مال و زر لے لیتا, مجھے نوکری سے نکلوا دیتا مجھے مروا دیتا مگر ایسا ظلم تو نہ کرتا…

“کیا کیا اُس نے؟” میں نے غصے سے پوچھا.

“اُس نے میرے تمام کرتوت میرے والد صاحب کو بتا دیے.. وہ جانتا تھا کہ میں کیسے ٹوٹ سکتا ہوں. اُس نے مجھے والدین کے سامنے رسوا کر دیا..گوادر کے محلے میں دھکا کھا کر نالی میں گرنے اور زخم پر پیشاب کرنے سے بڑھ کر یہ اُن کے لیے باعثِ اذیت تھا ..” والد صاحب شدید غصے میں بول رہے تھے…

“ساری زندگی حرام و چوری کا اِک لقمہ نہ کھایا اور نہ تجھے کھلایا پھر بھی تو حرامی نکل گیا.. میں نے تو کبھی کسی شادی میں بنا اجازت کھانا خود سے شاپر میں نہ ڈالا پھر تُو کس پر چلا گیا؟ اِس بنگلے اِس کار سے تو بہتر ہے کہ ہم دوبارہ گوادر اپنی جھونپڑی میں جا آباد ہو, جہاں نہ کسی سمگلر کا خوف ہے نا کسی پولیس والے کا ڈر.. والد صاحب نے والدہ کو سامان باندھتے ہوئے کہا..

“کاش!! ہم نے تمہارے کاندھے پر ڈھول کا بوجھ ہی رہنے دیا ہوتا.. زیادہ سے زیادہ کیا ہوتا ؟تم سمندر میں ڈوب کر امر ہو جاتے .. مگر یوں ہمیں اورخود رسوا تو نہ کرتے..

سامان کیا باندھنا ہے.. ایک جوڑا اس کی حرام کمائی کا ہم اِس لیے برداشت کر لیتے ہیں کہ تن ننگا بھی نہیں کر سکتے … ہم لوڑی ہیں, گودار کا بچہ بچہ ہمیں جانتا ہے ہم سے کوچ والا کیونکر کرایہ لے گا؟ والد والدہ نے ایک دوسرے کا ہاتھ تھاما اور بنگلے سے نکل گئے.

میں اُنھیں روکنا چاہتا تھا مگر نہ روکا, سوچا ایک بار واپس جا لینے دو .. اِس عمر میں ڈھول اٹھا نہ پائیں گے.. نظر اتنی کمزور ہے کہ رات کو کچھ دیکھ نہیں پاتے. حرام حلال کی کہانیاں سننا اور سنانا بڑا آسان ہے دو چار دن میں ہی پیسے کی اہمیت کا اندازہ ہو جائے گا. پھر جب غصہ ٹھنڈا ہو گا تو واپس بلوا لوں گا.

مگر وہ واپس پلٹ کر کبھی نہ آئے.. بی کے بلوچ سسکیاں بھرتے ہوئے بولا..

“کیا کہا!! واپس نہ آئے؟ توکیا مستقل جھونپڑی میں رہنے اور ڈھول بجانے لگے..”میں نے حیرت سے پوچھا…

جھونپڑی … کیا.. خاک مٹی .. کوئلے.. وہ رومال سے اپنا بھیگا چہرہ اور بہتی ناک صاف کرتے ہوئے سسکا…

“کیا مطلب میں سمجھا نہیں؟”

“کوئٹہ سے گوادر جانے والی کوچ کا ایرانی پیڑول سمگل کرتے ایک ٹینکر سے حادثہ ہو گیا.. سب کچھ جل کر کوئلہ ہو گیا.

کل ہی اُن کی برسی تھی, مگر میں نے ایک روپیہ اُن کے لیے خرچ نہ کیا.. کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ فرشتے ثواب لکھوانے جائیں توالٹا مجھے ڈانٹ اور لعنتیں پڑیں.. اُس نے بوتل میں باقی بچا پانی اپنے سر پر انڈیلا … دو چار بار اپنا سر دیوانوں کی مانند پیٹا اور چٹان سے اتر کر گاڑی کی طرف بڑھنےلگا.

میں بھی نیچے اترا اور دروازہ کھول کر گاڑی میں آ بیٹھا..

“ہاں ! ادیب صاحب بتاو کہانی ختم ہوئی کہ نہیں؟ اُس نے آنسوں سے بھیگے چہرے اور سرخ کوئلوں جیسی دہکتی آنکھیں مجھ پر مرکوز کرتے ہوئے پوچھا.

“اب کیا رہ گیا ہےکہانی میں؟سب کچھ تو ختم ہو گیا.. ایک کردار تم ہے مگر مجھے ایسا نہیں لگتا کہ تم خودکشی کرو گے کیونکہ تمہاری ماں سچی تھی… تم دنیا دار ہو گئے ہو.. “میں نے سامنے دیکھتے ہوئے جواب دیا…

آہ!! دنیا دار.. تم ادبا بھی خود کو بڑا احساس, معاملہ فہم اور دور اندیش سمجھتے ہو.. ٹکے کی عقل نہیں تمہیں. میرے دوست کہانی ابھی ختم نہیں ہوئی..

کل میں کراچی جا رہا ہوں شاید سال دو سال بعد واپس آؤں مگر جب بھی کوئٹہ آیا تو تم مجھ سے ضرور ملنے آنا… جیل چورنگی پر میرا ایک قلعہ نما گھر ہے. دیواروں پر بنے مورچوں میں جدید ہتھیار بند محافظ دن رات حفاظت پر مامور رہتے ہیں. ہرطرف سی سی ٹی وی کیمرے لگے ہیں. ایک ایک جنبش, ایک ایک حرکت کنٹرول روم مونیٹر کرتا ہے. بڑے بڑے گیٹس پر باوردی سیکورٹی گارڈ تعینات رہتے ہیں.. مجھے معلوم ہے رستم مجھ پر آخری وار ضرور کرے گا. میں منشیات کا کاروبار تو اُس کا ختم کروا چکا مگر ابھی وہ درجن بھر دیگر اٹیمز بھی سمگل کررہا ہے میں کل سے اپنے سارے تعلقات اُس کے کاروبار کو زک پہنچانے کو استعمال کروں گا . اُس کا ہر راستہ روکوں گا.. اُسے ٹکے ٹکے کا محتاج کر دوں گا. وہ پاگل کتے کی طرح مجھے کاٹنے کو دوڑے گا.. اب دیکھو اُس کا حرام کا پیسہ اُس کے کام آتا ہے یا اچھائی اور ملک کی بھلائی کو استعمال کیے میرے تعلقات ..

بس سال دو سال بعد جب تمہیں بتا چلے کہ میں کوئٹہ میں ہوں تو ضرور مجھ سے ملنے آنا .. مجھے یقین ہے تم آؤ گے کیونکہ کہانی ابھی ختم نہیں ہوئی….. اور بنا اختتام تم نہ اِسے چھپوا سکو گے اور نہ خود قرار پا سکو گے کیونکہ لذتِ آشنا کے دوران نامکمل ساتھ نبھانا,ساقی کا جام رند کے سامنے لہرانا مگر اِک گھونٹ نہ پلانا اور ادیب کو کہانی سنانا مگر انجام نہ بتانا, بہت اذیت بھرا امر ہے.. تم بے چین ضرور رہو گے مگر میرے دوست, ابھی اختتام مجھے بھی معلوم نہیں.. وقت کا میں بھی انتظار کرتا ہوں تم بھی کرو.. یہ کہہ کر بی کے بلوچ نے مجھے کینٹ ڈراپ کیا اور چلا گیا..

————

“درست کہا تھا تم نے بنگل خان .. میں بنا اختتام جانے یہ کہانی کیسے چھاپ سکتا اور کیسےسکون پا سکتا تھا؟ دوسال سے یہ ادھوری تحریر کسی بے چین بدروح کی طرح میرے کمرے میں منڈلاتی رہتی ہے.. اب اِسے مکتی دے ہی دیتا ہوں..

میں نے گھڑی دیکھی دوپہر کے تین بج رہے ہیں . ابھی بنگل سے ملنے چلتا ہوں. مجھے معلوم ہے وہ کوئٹہ میں ہی ہے چند دن قبل اُس کی نئی رہائش گاہ اور امارت پر پرنٹ اور الیکٹرونک میڈیا بہت کچھ لکھتا اور دکھاتا رہا ہے.. ہاں آج اور ابھی اُس سے ملتا ہوں, زندگی کا کوئی بھروسہ نہیں ہم دونوں میں کوئی ایک بھی مر گیا تو کہانی ادھوری رہ جائے گی پھر ہم دونوں کی ارواح کو چین نہ مل پائے گا اور یہ ادھوری کہانی کسی بدروح کی طرح تا قیامت بھٹکی رہے گی . بس آج رات کہانی مکمل کر کے ہی سکون سے سوؤں گا..”

یہ سوچ کر میں چٹان سے اترا گاڑی اسٹارٹ کی اور جیل چورنگی کی جانب روانہ ہوا. وی آئی پیز بنگلوز کے سامنے ہی مجھے اُس کی قلعہ نما رہائش گاہ نظر آگئی. دیواروں پر جدید اسلحہ سے لیس محافظ مورچہ بند تھے. بلند دیواروں پر لکھی تحریرخار دار تاروں میں دوڑتی برق بارے متنبہ کر رہی تھیں.. سی سی ٹی وی کیمرے دیواروں اور گیٹس کے ہر حصے پر نظر رکھے ہوئے تھے..

“کہانی آج ختم ہو ہی جائے گی آخر…” یہ سوچتے ہوئے میں نے گاڑی پارکنگ کے لیے مخصوص جگہ پارک کی اور ملاقات کی اجازت لینے گیٹ پر کھڑے سپاہی سے کہا..

“مجھے بنگل خان بلوچ سے ملنا ہے.”

وہ پلٹا اور گیٹ میں موجود چھوٹی سی کھڑکی سے منہ لگا کربلند آواز میں پکارا..

“بنگل لوڑی ولد سبزو لوڑی قیدی نمبر 830 کی ملاقات آئی ہے..

Published inعالمی افسانہ فورممحمد وسیم شاہد