Skip to content

بھگتن

عالمی افسانہ میلہ 2020

افسانہ نمبر 57

بھگتن

ایم۔اے۔فاروقی

آنند، گجرات، انڈیا

ڈولی دروازے پر آگئی، عورتیں پہلے ہی سے دروازے پر بھیڑ لگائے ہوئے تھیں، رام کھلاون بڑکی اور چھٹکی دونوں بھابھیوں کو آواز دینے لگا کہ جلدی سے دلھن کو اندر لے جاؤ بڑی گرمی ہے، دونوں جی بھیا کہہ کر آگے بڑھیں، ڈولی کا پردہ ہٹایا، دولھن لمبا سا گھونگھٹ نکالے سر جھکائے بیٹھی تھی۔

جوں ہی بڑکی کا ہاتھ آگے بڑھا، دلھن نے بھابھی کی طرف اپنا چہرہ گھمایا اور پھسپھساتی ہوئی آواز میں بولی:

” میں بھگتن ہوں، آپ لوگوں نے زندگی میں اگر کوئی پاپ نہیں کیا ہے تو ضرور مجھے ہاتھ لگائیں،”

بڑکی کا بڑھتا ہوا ہاتھ رک گیا، اس کے چہرےکی رنگت بدل گئی، ٹیس کی ایک لہر اٹھی، جواس کے پورے جسم میں پھیل گئی ،وہ نریش کو کیسے بھلا سکتی تھی، اس وقت وہ دسویں کلاس میں تھی،نریش اس کے ساتھ ہی پڑھتا تھا،اس کا گھر ندی کے پار تھا، چھٹی کے بعد دونوں ندی کے پاس ایک ٹیلے کی آڑ میں چلے جاتے اور ڈھیروں باتیں کرتے، گھنٹہ آدھا گھنٹہ کے بعد دونوں اپنے گھرکی راہ لیتے، زیادہ دیر کرتے تو گھر والے چوری پکڑ لیتے، ایک دن بڑکی کے گھر والے کسی تقریب میں گئے تھے، چھٹی بعد اس نے نریش کو بتا دیا کہ آج وہ دیر تک باتیں کرسکتے ہیں، وہ سورج ڈھلنے تک پیار بھری باتیں کرتے رہے، کسی جانور کے بولنے کی آواز آئی تو وہ ڈرکر نریش کی باہوں میں آگئی، گدرائے ہوۓ بدن کی لذت اور گرمی نے اسے بے تاب کردیا، اس کے ہاتھ بہکنے لگے، بڑکی نے کوئ مدافعت نہیں کی اور پھر دونوں لذت کی ایسی دنیا میں کھوگئے، جس کے بارے میں کبھی انھوں نے تصور ہی نہیں کیا تھا،وہ ابھی ہواؤں میں جھولے جھول رہے تھے کہ پھواریں پڑنے لگیں،

اندھیرا چھا چکا تھا، بڑکی کے لئے تو کوئی دقّت نہیں تھی، اسکول اس کے گاؤں کے کنارے تھا، لیکن نریش کو گھر پہنچنے کے لئے ندی پار جانا تھا۔ بڑکی نے نریش سے پوچھا:

” کیسے جاؤگے،ڈر تو نہیں لگے گا؟”

“ڈر لگے یا نہ لگے، جانا تو ہے ہی”

لیکن وہ کبھی گھر نہیں پہنچ سکا، دوسرے دن بڑکی کو یہ خبر ملی کہ پڑوس کے گاؤں کے ایک لڑکے کو بھیڑیا کھا گیا، بڑکی کا جو حال ہوا وہ کسی کو نہیں بتا سکتی تھی، وہ دن بدن گھلتی جارہی تھی، خود کو نریش کی موت کا قصوروار سمجھتی ،اگر وہ نریش کو نہ روکتی تو وہ زندہ رہتا اور شائد اس کا جیون ساتھی بنتا۔

جلد ہی اس کی شادی ہو گئی، وہ سب کچھ بھول گئی، لیکن اس کم بخت نئی دلھن نےاس کے زخموں کو تازہ کردیا۔

اس نے اپنا ہاتھ کھینچ لیا اور چھٹکی سے لجا جت سے کہا: بہنا تم دلھن کو ڈولی سے اتار کر لاؤ میں تب تک چارپائی پر دری بچھا دوں،

چھٹکی نے بڑی بھوجی کی طرف ایسی نظروں سے دیکھا کہ وہ سب کچھ سمجھ گئی ،دونوں کی زبان سے بیک وقت نکلا:

” اماں جلدی آئیں ،نئی بہو کو ڈولی سے اتارنا ہے،”

ساس بچاری ہانپتے کانپتے آئی اور فورا ڈولی پر جھک کر کہنے لگی:

“ آجا بیٹی ، میری بوڑھی ہڈیوں میں اتنی جان کہاں کہ تجھے گود میں اٹھا کر لے چلوں، مرا ہاتھ پکڑلے اور خود ہی اتر جا،”

نئی دلھن نے کہا:

“ ساسو ماں ! میں آپ کا ہاتھ پکڑنے سے پہلے بتادوں کہ میں بھگتن ہوں، مجھے وہی عورت اسپرش کر سکتی ہے، جس نے کبھی پاپ نہ کیا ہو،”

بڑھیا چالاک تھی فورا بول اٹھی:

” اے بوڑھ پُرَنْیا کی ہڈیوں میں اتنا کہاں دم کہ تجھے اٹھاؤں، میں تو صرف تیری بلیّا لینا چاہتی تھی، اے چھٹکی، بڑکی دونوں کہاں مر گئیں؟ذرا دلھن کو کسی طرح اندر لے جاؤ، میں بہت تھک گئی ہوں تھوڑا آرام کرلوں “

وہ لیٹ کر اپنے رنگین دنوں کے بارے میں سوچنے لگی، اس کا بیاہ تو ہوگیا تھا، لیکن گونا نہیں گیا تھا، مائی اور باپو دونوں کو زمین دار نے اپنے گھر کے پیچھے ایک جھونپڑی دے دی تھی، رات کو اکثر باپو کھیتوں میں پانی لگانے چلا جاتا،مائی کو مالک پیر دبانے کے لئے بلا لیتے، ایک دن ماں کو واپس آنے میں دیر ہوئی تو وہ خود مالک کے کمرے میں چلی گئی، وہاں دیکھا کہ مالک اس کی مائی کا جسم داب رہے ہیں، اسے بےچارے مالک پر بڑی دیا آئی کہ وہ اس کی ماں کو کتنا چاہتے ہیں، وہ چپکے سے واپس چلی گئی،

تین دن بعد مالک کا لونڈا چھٹیاں منانے آگیا، دن بھر نہ جانے کیا کرتا، رات گئے گھر واپس آتا، زمین دار نے بتایا تھا کہ میرے بیٹے کو شکار کا بہت شوق ہے، ایک دن وہ رات کو آیا تو باپ سے کہا:

” باپو، آج میں پیدل بہت چلاہوں، میرے پاؤں میں شدید درد ہے،کیا کروں؟”

“تو کمرے میں جا، میں روپا کو بھیج دیتا ہوں وہ مالش کر دے گی ،درد غائب ہو جائے گا،”

اس نے روپا کو آواز دی، جواب میں اس کی بیٹی انارا آئی اور کہا کہ مائی کھیت پر باپو کو کھانا دینے گئی ہے، اس نے کہا ہے کہ رات کو باپو کے پاس ہی رہے گی، کوئی کام ہو تو مالک ہم کو بتادیں؟

“کچھ نہیں بیٹی وہ وکاس کے پیروں میں بہت درد ہے، ذرا تو جاکے تیل مالش کردے۔”

“میں ابھی جاتی ہوں مالک، باپو کے پیروں میں درد ہو تا ہے تو میں ہی مالش کرتی ہوں، سارا درد چٹکیوں میں کافور ہوجاتا ہے۔”

“اچھا جلدی جا، تو باتیں بہت کرتی ہے، “

وہ ہنستی ہوئی تیل کی کٹوری تلاش کی اور وکاس کے کمرے میں چلی گئی، وکاس کو آواز دی :

“چھوٹے مالک! بڑے مالک نے آپ کے پیروں میں مالش کرنے کو کہا ہے۔”

وکاس کو پہلے شرم آئی ،لیکن ایک جوان لڑکی کےقرب نے اس کے دل میں گد گدی پیدا کر دی، وہ اپنے نرم نرم ہاتھوں سے اچھل اچھل کر پیر دبانے لگی، اس کے جسم کا بالائی حصہ ہلتا تو وکاس کے جسم میں چیونٹیاں رینگنے لگتیں ، اچانک ہوا سے دیا بجھ گیا،

بڑی دیر کےبعد اپنے لباس کو سنبھالتے ہوئے وہ اٹھی تو گل نو شگفتہ کی طرح تروتازہ تھی، پھر تو روز کا یہی معمول بن گیا، ایک دن زمین دار نے رنگے ہاتھوں پکڑلیا، انارا کو تو صرف ڈانٹ ہی کر رہ گیا، لیکن وکاس کی پٹائی ہنٹروں سے کردی اور اسی دن اس کو کالج کے ہاسٹل میں بھیج دیا ، ماں آئی تو زمین دار نے اسے پورا واقعہ بتایا وہ “ہائے رام انرتھ ہوگیا”کہہ کر گر پڑی، زمیندار نے فورا انارا کی سسرال والوں کو بلا کر رخصتی دے دی،زمین دار بڑا دل والا تھا، ایک معمولی سے مزدور کی لڑکی کو جہیز میں دس بیگہ زمین لکھ دی اوراپنی سگی بیٹی کی طرح ساز و سامان کے ساتھ رخصت کیا۔

آٹھ مہینے کے بعد انارا نے ایک تندرست بچے کو جنم دیا، بچہ گورا چٹااور بہت خوب صورت تھا، پھر اس کے یہاں لڑکے لڑکیوں کی لائن لگ گئی ،مگر سب باپ کی طرح کالے کلوٹے بینگن لوٹے تھے۔

اسی درمیان زمیندار نے انارا اور اس کے بال بچوں کو اپنے گھر بلا لیا، ایک وصیت نامے کے ذریعے گھر جائداد سب ان کے نام کر دی،خود کاشی چلا گیا ،بیٹا لوٹ کر آیا ہی نہیں، منشی جی نے بتایا کہ وہ امریکہ چلا گیا، بہرحال زمین دار کی مہر بانی سے اب وہ دلت سے ٹھاکر بن گئے تھے۔

بڑھیا نے بہووں کو اپنی داستان عشق تو نہیں سنائی، لیکن اس کے دل میں یہ پھانس گڑی کی گڑی رہ گئی کہ زمین دار اس پر اتنا کیوں مہربان تھا؟

اس نے اپنے لڑکوں اور لڑکیوں کی شادی دھوم دھام سے کی۔ ، آخری بیٹا رام کھلاون تھا ، جس کے لئے شہری دلھن آئی تھی، ابھی وہ ڈولی ہی میں بیٹھی تھی، ساس اور دونوں بہووں نے مشورہ کیا کہ گاؤں کی پنڈتائن کو بلایا جائے، وہی یہ کام کر سکتی ہے ،بہر حال اس کو بلایا گیااور صورت حال بتادی گئی، پنڈتائن نے پہلے ہی ہاتھ کھڑےکر لئے، اس نے کچھ سوچتے ہوئے کہا:

” میں نے کبھی کوئی پاپ نہیں کیا ہے،لیکن جوانی کا ایک واقعہ یاد آرہا ہے، بارش کا زمانہ تھا، گرمی بھی بہت تھی ،گھر کے سب لوگ باہر سوئے ہوئے تھے، بوندیں پڑنے لگیں تو سب اندر چلے گئے، لیکن میں نہیں گئی، تھوڑی دیر کے بعد بارش رک گئی اور میں سوگئی، بڑا سہانا سپنا دیکھ رہی تھی کہ اسے بتاتے ہوئے شرم آتی ہے، دوبارہ بوندیں پڑیں تو آنکھ کھل گئی، ایک سایے کو چارپائی سے اترتے دیکھا، میں ڈرگئی ،میری ساڑی تتر بتر تھی، ایسا محسوس ہورہا تھا کہ کسی نے مرے جسم کو نچوڑ دیا ہو،میں یقین سے تو نہیں کہہ سکتی مگر کوئی لُنگاڑا میری چارپائی پر ضرور آیا تھا،”

یہ چاروں باتیں کر ہی رہی تھیں کہ نئی دلھن خود چل کر اندر آگئی اور کہنے لگی:

” ساسو ماں پریشان نہ ہوں، کوئی ستی ساوتری نہیں ملے گی، میں بھی بھگتن نہیں ہوں، تین مہینے کا پیٹ لے کر آئی ہوں،”

Published inایم اے فاروقیعالمی افسانہ فورممرد افسانہ نگار