Skip to content

بھنور

عالمی افسانہ میلہ 2015
افسانہ نمبر 55
بھنور
جیم عباسی، حیدرآباد، سندھ ، پاکستان
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

نہر کے اوپر بنے پل سے چند گز پہلے بڑے شہر جانے والے روڈ سے مشرقی جانب ایک چھوٹا روڈ نکلتا تھا جو ہرے بھرے کھیتوں کے درمیان کروٹیں لیتا گوٹھ کوٹھی کلہوڑو جا پہنچتا تھا۔ سوا کلو میٹر کی مسافت کا یہ روڈ پکائی گئی سرخ رنگت والی اینٹوں سے بنایا گیا تھا جن کی اوپری سطح مرور زمانہ کے ساتھ بھر بھری ہوتی چلی گئی تھی۔ ان اینٹوں کے بھربھرے ہوتے برادے نے مٹی سے مل کر روڈ کو ایسے ڈھانپ دیا تھا کہ اینٹوں کا وجود دکھنے سے ہی قاصر ہو گیا تھا۔ اس ٹیڑھے میڑھے سرخ راستے کے دونوں طرف آم اور لیموں کے باغات بھی تھے جو بہار کے آتے ہی لیموں کے بور والے چھوٹے چھوٹے سفید پھولوں سے ڈھک جاتے اور پھر ان سے نکلنے والی کھٹی مہک سرخ راستے پر سرسراتی رہتی۔ راستے کا چھوڑ اس وسیع میدان میں تھا جو ایک طرح گاؤں کا صحن تھا۔ ایکڑ سوا کے گھیرے میں درختوں کے دوجھنڈوں کے علاوہ میدان میں اکا دکا درخت بھی بکھرے ہوئے تھے۔ درختوں میں نیم، شیشم، شرینہں، کیکر اور لسوڑی کی کثرت تھی۔ ان دوجھنڈوں میں سے ایک کی چھاؤں میں گاؤں کے باسیوں کا مال مویشی بندھا ہوتا تھا اور دونوں جھنڈوں کے بیچ گاؤں کو پشت کئے مخروطی چھت والی اوطاق تھی جو تین اطراف سے چھاؤں کی لکڑیوں سے بنی تھی۔ اوطاق کے مٹی کے فرش پر دو چارپائیاں ہمیشہ پڑی رہتی تھیں۔ یہ آباد صرف مہمانوں کے آنے سے ہی ہوتی تھیں اورمہمان بھی ایسے جو کسی گاوٗں والے کی رشتہ داری میں نہ ہو۔ کوئی دوست یار یا آموں لیموں کا ٹھیکیدار یا کوئی آس پاس کے گاؤں سے اپنی بھینس لے کر علی اصغر کے سانڈ سے لگ کروانے آیا ہو، تو اس کو فورا اوطاق میں پڑی چارپائیوں پر رلیاں ڈال کر بٹھا دیا جاتا اور لسی پانی سے خاطر تواضع کی جاتی۔ یہ ہر اس شخص کی زمینداری ہوتی جو میدان کے جنوبی جانب جھنڈ کے نیچے موجود ہوتا۔ گاؤں والے اسی جھنڈ کو آستان بنائے ہوئے تھے۔ جھنڈ کے نیچے آٹھ دس آڑی ترچھی بان کی چارپائیاں بچھی ہوتیں جس پر ہمہ وقت چھے آٹھ لوگ دھرے رہتے۔ جنوبی جھنڈ کے درختوں کی چھاؤں بہت گھنیری تھی اور ساتھ ہی باغات شروع ہو جاتے تھے اس لیے بھری دھوپ میں بھی وہاں نیم ٹھنڈک کا احساس پھیلا رہتا۔ جوں جوں گرمی کی حدت بڑھتی جاتی لوگ کھیتوں گھروں کو چھوڑ کر وہیں کا رخ کرتے پھر شام کے آتے آتے جب سورج سائیں اپنی تپش کم کرتا لوگ اپنی اونگھ اور باتوں سے علیحٰدہ ہو کر کھیتوں میں اتر جاتے اور مال مویشی کے چارے پانی کا فکر کرتے، تب چارپائیاں اور میدان ان بچوں کے ہاتھ لگ جاتا جو بڑوں کے ڈر سے دبکے چارپائیوں کی پائنتیوں پر بگلوں کی سی معصومیت سے بیٹھے رہتے۔ غروب شفق تک میدان ان کی بھاگم دوڑ سے بھرا رہتا۔ مٹی کے مرغولے چڑھتے اور تیز آوازیں، چیخیں اور گالیاں ابھرتی رہتیں۔
اس روز ابھی دھوپ نے غضبناک ہو کر دھرتی میں پنجے نہ گاڑے تھے اور آسمان میں مئی کے ماہ کا معمول گرد و غبار کے آئے ہوئے طوفان کے مٹیالے اثرات فضا میں باقی تھے اور ماما ملوک اپنی میلی صدری پہنے جھنڈ کے ساتھ کھیتوں کو پانی دینے والی مٹی سے بنی نالی سے بالٹیاں بھر بھر کے چارپائیوں کے نیچے چھڑکاؤ کر رہا تھا کہ بڑے روڈ سے آتے راستے سے ٹاپوں کی آواز سنائی دینے لگی۔ ماما ملوک نالی سے بالٹی بھرتے بھرتے رک گیا۔ ہتھیلی کا چھجہ بنا کر اس نے چندھیا کو گھورا، ایک تانگہ راستے سے اتر کر میدان میں داخل ہو رہا تھا۔ سامنے کوچوان کے ساتھ کوئی نئی صورت سی نظر آرہی تھی۔ گھوڑا دلکی چال میں جھنڈ کا رخ کیے دوڑتا رہا۔
’’
زمیندار تم اسے پہچانتے ہو؟‘‘ ماما ملوک نے بالٹی چھوڑ کر جھنڈ کے قریب آتے، اپنے گیلے ہاتھ دھوتی سے پونچھتے ہوئے محمد حسن سے پوچھا جو کچھ دیر پہلے اپنے آموں کے باغ سے نکل کر چارپائی پر آ بیٹھا تھا۔ محمد حسن کی کوئی اتنی زیادہ زمین نہیں تھی مگر وہ اور اس کے بیٹے اپنے باغ پر جان توڑ مشقت کرتے تھے اس لئے وہ خوب کمائی پاتے تھے اور دیگر مالکوں کی طرح وہ اپنا باغ ٹھیکیداروں کو دینے کی بجائے خود چلاتا تھا اس لیے آمدنی کی وجہ سے گاؤں بھر میں خوشحال تھا۔ اسی وجہ اسے نام کے بجائے زمیندار کہا جاتا تھا۔
’’
نہیں یار مجھے دیکھا ہوا نہیں لگتا۔‘‘ زمیندار کے جواب تک تانگہ جھنڈ کے قریب آ رکا۔
’’
بسم اللہ بابا۔۔۔۔ بھلی کرے آئیں۔‘‘ زمیندار نے ہاتھ ملانے سے پہلے دونوں ہاتھ جوڑتے ہوئے اس شلوار قمیص والے نوجوان سے پوچھا جو ترشی ہوئی مونچھوں اور چہرے مہرے سے پڑھا لکھا محسوس ہو رہا تھا۔
’’
خوش رہو گے بابا.. بسم اﷲ ،بسم اﷲ ..آؤ بیٹھو بابا بیٹھو۔ ‘‘ماما ملوک بھی پائنتی پر پڑا ،بغل سے ادھڑا پہران پہنتے نووارد سے ملنے لگا۔
’’
ایوب تو اٹھ ،چل اوطاق میں رلی بچھا۔‘‘ ماما ملوک نے ایوب کو مخاطب ہوتے کہا جو کچھ دیر پہلے منڈی سے کاموری بکری لے آیا تھا اور اسے اپنی چارپائی کے پائے سے باندھےاس پر ہاتھ پھیرے جا رہا تھا۔ خوشی اس کے ہونٹوں کے کناروں پر پھیلی ہوئی تھی۔ چوبیس پچیس انچ لمبے کانوں والی کاموری بکری کا نسل ایک صدی سے سندھ میں بکریوں کی حکمرانی سنبھالے ہوئے ہے۔ ایوب اپنی من پسند بکری آدھی قیمت پر حاصل کر کے آیا تھا اس لیے گھر کا رخ کرنے کے بجائے یہیں آ بیٹھا تھا۔ ابھی شام تک اس نے اپنی کاموری کے گن گانے اور گنوانے تھے مگر فی الوقت مہمان کی آمد زیادہ اہم تھی اور ویسے بھی ابھی اس کا زہریلا مخالف غلام رسول بھی نہ آیا تھا جسے کاموری دِکھا دِکھا کراس نے جلاپے سے اسے مار ڈالنا تھا۔ زمیندار نے اپنے بیٹے محسن کو دوڑ کر گھر سے لسی لے آنے کا کہا جو ایک کھیت دور آموں کے درختوں کے نیچے کل لگنے والی ہواؤں کے زور سے گر جانے والی کیریاں جمع کر رہا تھا۔ پانی لسی آنے تک زمیندار اور ماما ملوک اس نوجوان کا آگا پیچھا پوچھ چکے تھے۔ غلام علی نامی یہ نوجوان ماسٹر سلیمان میمن کا بیٹا تھا جو چھ سات میل دور ٹنڈو شاہ محمد، جو ایک قصباتی شہر تھا، سے آیا تھا۔ وہ حیدرآباد میں وکالت کی تعلیم حاصل کر رہا تھا۔
’’
ہا بابا۔ کوئی خیر خبر؟‘‘ لسی پانی اور باقی لوازمات پورے کرکے ماما ملوک نے غلام علی سے سوال کیا۔
’’
چاپا حال احوال سب خیر ہے۔ میں حیدرآباد میں پڑھتا ہوں تو شہر میں اور کالج میں کافی لوگوں سے میل ملاقات ہوتی ہے، وہاں جو پروگرام وغیرہ ہوتے ہیں تو ان میں بھی شریک ہوجاتا ہوں۔ بات یہ ہے کہ جب بھی لوگوں سے ملنا ملانا ہوتا اور انہیں میرے شہر کا معلوم ہوتا تو ڈاکٹر شمس الدین صاحب کا پوچھنے لگتے۔‘‘
’’
ابا یہ اپنا شمس الدین جو خاوند بخش کا بیٹا ہے؟‘‘ ماما ملوک نے اس کی بات کاٹ کر پوچھا۔
’’
ہاں چاچا ..پہلے تو مجھے بھی زیادہ علم نہیں تھا پھر جب ڈاکٹر صاحب کی کتابیں پڑھیں اور ان کے بارے میں معلومات حاصل ہوئی تو ان کی سماج سدھارک حیثیت کا اندازہ ہوا۔ ڈاکٹر صاحب ہماری پسماندگی کی وجوہات اور حل کے بارے میں جو فکر اور نظریات رکھتے ہیں اس نے مجھے ان کا گرویدہ بناڈالا۔ مجھے ان کی کتابیں پڑھ کراندازہ ہوا کہ ہمارا معاشرہ سیاسی اور سماجی شعور سے بے بہرہ کیوں ہے۔‘‘ غلام علی بولے جا رہا تھا اور زمیندار، ماماملوک، ایوب اور ہاشم منہ کھولے اس کی باتیں سمجھنے کی کوشش کیے جا رہے تھے۔
ہاوٗ ابا؟ ‘‘ ماماملوک کے نہ سمجھنے والا انداز سب کا ترجمان تھا۔
’’
بالکل چاچا۔ ‘‘ غلام علی نے بالکل کی ب پر زور دے کر کہا۔ ’’اور آپ کو پتا ہو گا کہ بڑے بڑے شہروں میں شمس الدین صاحب کے لیکچرز ہوتے ہیں اور کئی سو لوگ ان کی باتیں سنتے ہیں اور کتابیں خریدتے ہیں۔ آج کل ان کا ایک ڈرامہ بھی ٹی وی پر چل رہا ہے جس میں انہوں نے مزدوروں کے استحصال کو موضوع بنایا ہے۔ اس سے پہلے انہوں نے غریب کی حالت زار اور معاشرے کی بے حسی پر بھی ڈرامہ لکھا تھا۔‘‘
’’
ابا ہمارے ہاں تو لائیٹ ہے نہیں کہ ٹی وی آ سکے اور ہم صفا اَن پڑھ۔۔۔۔ سو ہم نے شمس الدین کی کتابیں بھی نہیں دیکھیں پر تمہاری باتوں سے لگتا ہے کہ شمس الدین بہت بڑا آدمی بن گیا ہے؟” زمیندار نے غلام علی سے حیرانی بھرے لہجے میں پوچھا۔
’’
ہاں چاچا بہت بڑا آدمی۔۔۔۔ ان کی ملک میں بہت بڑی عزت اور شان ہے۔۔۔۔ بڑے بڑے لوگ بھی ڈاکٹر شمس الدین صاحب سے جھک کر ملتے ہیں۔۔۔۔ میں اس بار گاؤں آنے لگا تو ارادہ کرکے آیا تھا کہ ان سے ملوں گا۔ عید پر تو وہ گاؤں آئیں گے نا؟‘‘
’’
ابا پندرہ بیس سال سے وہ شہر میں ہی رہتا ہے۔ گاؤں نہیں آیا۔ کافی عرصہ ہوگیا ہے۔۔۔۔ ہے نا ماما؟‘‘‘ زمیندار نے ماما ملوک سے پوچھا جن کے پاس گاؤں اور علاقے کی خبریں سب سے پہلے پہنچتی تھیں۔
’’
ہاں یار ۔ مجھے بھی یاد پڑتا ہے کہ کوئی پانچ چھ سال پہلے آیا تھا۔‘‘ ماما ملوک نے زمیندار کو جواب دیا اور پھر غلام محمد کی طرف منہ کرکے اسے تفصیل سے بتانے لگا۔
’’
ابا خاوند بخش کے چار بیٹے تھے۔ خود خاوند بخش زراعت میں فائنل پاس اور اسکول ماسٹر تھا۔ اس کی بڑی خواہش تھی اپنے بچوں کو پڑھانے کی۔ اس کی تین بیٹے بہت پڑھ گئے، باقی رب ڈنو وہ گھر کا کام کاج اور مویشی سنبھالتا تھا اور باپ کے ساتھ یہیں رہتا تھا۔ باقی تینوں پڑھنے شہر گئے تو واپس نہیں ہوئے۔ آفیسر بنے، شادیاں بھی کیں۔ باقی رب ڈنو۔۔۔۔ سو پڑھا تو اس نے بھی تھا مگر زیادہ نہیں پڑھا بابا۔ پھر خاوند بخش نے اسے ماسٹری لے کر دی۔ رب ڈنو گاؤں میں ہی پڑھاتا ہے اور ماں کی چاکری بھی کرتا ہے۔‘‘
’’
چاچا پھر میں ان سے ہی مل لیتا ہوں۔‘‘ غلام علی بولا۔
’’
ہاؤ ابا ہاؤ ۔ جا ایوب سائیں ماسٹر کو بُلا کے لا۔‘‘ ماما ملوک نے ایوب کو گاؤں کی طرف روانہ کیا۔
’’
پر بابا غلام علی یہ اپنا سائیں ماسٹر رب ڈنو بھی بڑا آدمی ہے۔ گاؤں میں کوئی بیمار پڑ جائے تو سائیں ماسٹر سے دوائی لیتا ہے یا بڑے شہر ہسپتال بھی ساتھ جاتا ہے۔ کسی کی زمین کے آبیانے کا کوئی مسئلہ ہو، کورٹ کچہری کا کام ہو، پولیس تھانے کا، تو سائیں ماسٹر ہی ہر جگہ کام آتا ہے اور تو اور کسی کا جانور بھی بیمار ہوجائے تو سائیں ماسٹر آدھی رات بھی اٹھ کر آجاتا ہے۔‘‘ہاشم جو اب تک پائنتی کی جانب سے چپ کیے بیٹھا ہوا تھا، بول پڑا۔
’’
بلکل بابا بلکل۔۔۔۔ میاں غلام علی یوں سمجھو سائیں ماسٹر رب ڈنو پورے گاؤں کے لئے چھایا کا چھپر ہے۔‘‘ زمیندار نے لقمہ دیا۔ ماما ملوک اور ہاشم بھی تائید میں سر ہلانے لگے تب دراز قد اور صاف پیشانی والا ماسٹر رب ڈنو جھک کر اوطاق میں داخل ہوا۔ سفید رنگ کے میلے میلے سے کپڑے پہنے ہوئے ماسٹر رب ڈنو کو غلام علی نے دیکھا تو ان کی شلوار کے پائنچوں پر گوبر کے سوکھے نشانات تھے۔ ایک بار پھر غلام علی سے محبت اور وضعداری کے ساتھ خیریت پوچھی گئی۔ حال احوال ہوا۔ پہلے ماما ملوک نے تفصیل سے ماسٹر رب ڈنو کو غلام علی کا تعارف، اس کے آنے کا مقصد اور شمس الدین کی عزت و شان کو کماحقہ بیان کیا اور پھر غلام علی بولنے لگا۔
’’
سائیں ڈاکٹر شمس الدین صاحب کی خدمات کے عوض میں ان کے نام سے اپنے شہر ٹنڈوشاہ محمد میں لائبریری قائم کرنا چاہتا ہوں۔ چند دوست بھی اس معاملے میں میرے ساتھ ہیں۔ ہماری خواہش ہے کہ شمس الدین صاحب بذات خود اس لائبریری کا افتتاح کریں۔ اس کا فائدہ یہ ہوگا کہ شہر کے لوگوں کو شعور اور علمیت میں اضافے کے لیے مفت کتابیں میسر ہوں گی اور دوسری طرف شمس الدین صاحب کی عظیم دانائی بھری شخصیت سے ان کے علاقے کے لوگ خبروار ہوں گے۔‘‘
’’
سائیں بات تو برابر پتے کی، کی ہے میاں غلام علی نے۔ ہم تو ان پڑھ ہیں مگر پڑھے لکھوں کو کتابیں پڑھ کر پتا چلے گا نا کہ اپنا شمس الدین کتنا بڑا آدمی بن گیا ہے۔‘‘ماما ملوک متاثر ہو کر سر ہلاتے ہوئے کہنے لگا۔
’’
ہاں بابا۔ بات تو اچھی کی ہے جوان نے۔۔۔۔ میں اَدا شمس الدین کو خط لکھتا ہوں ہو سکتا ہے وہ بڑی عید پر آ جا ئے۔ خط کا جواب ہفتے دس دن میں آئے گا۔ تم ایسا کرو کہ مہینے بعد پوچھو لو۔‘‘ ماسٹر رب ڈنو کی بات کے بعد غلام علی کو جانے کی جلدی لگی مگر ماسٹر رب ڈنو نے اسے کھانے کھلائے بغیر جانے نہیں دیا۔ مہینے کے بعد غلام علی کو آنے کی ضرورت ہی نہیں پیش آئی، ماسٹر رب ڈنو خود خبر پہنچا گیا کہ ڈاکٹر شمس الدین نے بڑی عید پر آنے کا اور لائبریری کے افتتاح کا وعدہ کیا ہے۔ وہ ڈی سی کو بھی اطلاع کروائیں گے۔ بڑی عید سے ایک دن پہلے ٹنڈوشاہ محمد کے روڈ اور گلیاں چمک رہی تھیں۔ چھڑکاؤ کے ساتھ ساتھ چونے سے روڈ پر WELCOME بھی لکھ دیا گیا تھا اور راستے کے دونوں کناروں پر چونے کی سفید لکیریں تقریب کے مقام تک رہنمائی کر رہی تھیں۔ یہ سب یونین کاؤنسل کے سیکریٹری کی فرض شناسی تھی جو ڈی سی صاحب کی آمد پر ان کے لیے واجب ہو گئی تھی ورنہ یونین کاؤنسل کا عملہ صفائی اور چھڑکاؤ سے زیادہ سیکریٹری صاحب کی بھینس کو نہلانے اور چارا وغیرہ لانے میں دلچسپی رکھتا تھا۔ لائبریری کے لیے غلام علی نے اپنی بیٹھک کو خاص کیا تھا جس میں کتابوں سے دوادہ بھری الماریاں اس کی لگن کی گواہی دے رہی تھیں اور لائبریری کے محل وقوع کو نظر میں رکھ کر تقریب کا انعقاد ماسٹر سلیمان میمن کے گھر کے ساتھ اس کشادہ جگہ پر کیا گیا تھا جہاں محلے والوں کے بھینسیں بندھی رہتی تھیں۔ دو اطراف سے مکانوں کے پچھواڑے رکھنے والے اس پلاٹ کے مغربی اور شمالی طرف L کی شکل بناتا راستہ گذرتا تھا۔ مغربی طرف سے یہ راستہ پلاٹ اور مسجد کے درمیان حد فاصل کا کام بھی دیتا تھا حالانکہ محلے والے اپنا گند گوبر وغیرہ بھی اسی پلاٹ میں پھینکا کرتے تھے مگر مسجد کے تقدس کا لحاظ رکھتے ہؤے کوڑا کرکٹ یا گوبر پلاٹ کے مسجد سے دور ترین حصے، جنوب مشرقی کونے میں ڈال دیا کرتے تھے جس وجہ سے تودہ بن گیا تھا اور اس کی جسامت میں روز کی بنیاد پر اضافہ ہوتا رہتا تھا مگر آج پلاٹ میں جانوروں کو باندھے رکھنے والے کلوں یا گوبر کی ڈھیر کا نام و نشان نہ تھا۔ سیکریٹری صاحب بذات خود پلا ٹ کی صفائی اور شامیانوں کی تنصیب اور ہوا کے لئے ڈنڈے والے پنکھے رکھنے میں پیش پیش تھے۔ پنڈال میں دو رویہ ستر اسی کرسیاں رکھی گئی تھیں جن کے سامنے ڈائس کے ساتھ دس بارہ کرسیاں موجود تھیں۔ تقریب کی شروعات شام پانچ بجے ہوئی۔ تلاوت کے بعد سیکریٹری صاحب نے سپاس نامہ پیش کیا جو ڈی سی صاحب کی مدح خوانی کی تفسیر تھا بعد میں غلام علی نے ڈاکٹر شمس الدین صاحب کی قدآور شخصیت، ان کی علمیت اور ان کے قلم کو سماج میں سدھار لانے کا بہترین ذریعہ قرار دینے پر چند منٹ گفتگو کی اور بعد ازاں ڈی سی صاحب نے ڈاکٹر شمس الدین کا اس خطے سے تعلق ہونے پر علاقے والوں کو مبارک دی۔ انہوں نے ڈاکٹر صاحب کو فکر شعور کا منارہ کہتے ہوئے ملک و قوم کا عظیم سرمایہ قرار دیا اور اس لائبریری کے لئے امداد کے اعلان کے ساتھ ساتھ پرائمری اسکول کو ڈاکٹر شمس کا نام دیے جانے کا اعلان کیا۔ آخر میں مہمان خصوصی ڈاکٹر شمس الدین صاحب کو ڈائس پر آنے کی دعوت دی گئی۔ ڈاکٹر صاحب اپنی لکھی تقریر ہاتھ میں پکڑے ڈائس پر آ کھڑے ہوئے۔ انہوں نے اپنی لکھی تقریر کو عینک کے شیشوں کے پیچھے سے دیکھا اور پھر چشمہ اتار کر کرسیوں پر بیٹھے ہوئے لوگوں پر نظر دوڑائی۔ ستر اسی کرسیاں تقریبا بھری ہوئی تھیں۔ اپنے گاؤں کے کچھ چہرے بھی انہیں نظر آئے جن میں سے ماما ملوک مونچھیں مروڑتا پر فخریہ انداز میں انہیں دیکھے جا رہا تھا۔ اسٹیج پر رکھی کرسیوں پر انہیں حاجی شمشاد، سید بھورل شاہ، ماسٹر سلیمان اور اپنے پرائمری کے کچھ استاد نظر آئے۔ ان کا بھائی ماسٹر رب ڈنو بھی میلے سے کپڑے پہنے اپنی ہمیشہ والی پرسکون کیفیت میں بیٹھا نظرآیا۔ ڈاکٹر شمس الدین نے کچھ سوچ کر عینک پہنی اور پھر اتاردی اور لکھی ہوئی تقریر بند کرکے ڈائس کے ایک طرف رکھ کر بولنے کا آغاز کیا؛
’’
میرے بھائیو میں آج خود کو خوش محسوس کر رہا ہوں۔ میری روح اپنے تمام تر حواسوں کے ساتھ اس پُرلطف تقریب کی لذت محسوس کر رہی ہے۔ میری سوچ کے نہاں خانوں میں امید کی کرنیں اپنی روشنی پہنچا رہی ہیں۔ میرے اطمینان کا سورج طلوع ہونے کا آغاز کر چکا ہے مگر میں بتاتا چلوں میری خوشی اور مسرت کا تعلق ذاتیات سے نہیں ہے۔ اس کی وجہ یہ نہیں کہ میرے نام سے آج لائبریری کا افتتاح ہو رہا ہے یا محترم ڈی سی شاہد ملک صاحب نے پرائمری اسکول کو میرا نام دینے جو کا اعلان کیا، اس سے ہے۔ نہیں، نہیں۔ میری خوشی کی وجہ یہ ہے کہ اس علاقے میں فکر اور شعور کا آغاز ہورہا ہے۔ اس پس ماندہ اور ترقی سے پیچھے رہ جانے والے علاقے میں کتابوں سے دوستی کا درس شروع ہو رہا ہے۔ میرے بھائیو کتاب بنیاد ہے، کتاب روشنی ہے۔ علم کی، فکر کی بنیاد کتاب ہے۔ یہاں اسٹیج پر میرے پرائمری کے استاد صوفی بھلے ڈنو بیٹھے ہیں، انہوں نے مجھے تختی پر لکھنا سکھایا، لجپَت رائے صاحب موجود ہیں جنہوں نے مجھے میری اولین کتابیں پڑھائیں۔ پھر انہی کتابوں کو سیڑھی بنا کر میں نے چلنا اور چڑھنا سیکھا اور چڑھتا ہی چلا گیا۔ آج یہ وقت ہے کہ میری لکھی ہوئی کتابیں دوسروں کے لے سیڑھی کا کام دے رہی ہیں۔ وہ کتابیں ذریعہ بن رہی ہیں سماج کے اندر سدھارے لانےکا۔ وہی کتابیں پڑھ کر غلام علی اور اس جیسے نوجوان اپنی دانش اور فہم میں اضافہ کر رہے ہیں۔ یہ کتابیں ان کے لیے لالٹین کی طرح ہیں۔ وہ ان سے اس اندھیرے میں اپنا راستہ، اپنے حقوق تلاش کرنے میں کامیابی حاصل کر رہے ہیں۔
میرے بھائیو اور میں دیکھ رہا ہوں کہ یہاں اس محفل میں پڑھے لکھوں کے ساتھ بہت سارے ہاری اور محنت کش بھی بیٹھے ہوئے ہیں مگر افسوس ہے کہ وہ اَن پڑھ ہیں، وہ کتاب کا ہاتھ تھامنے میں کامیاب نہیں ہو پائے۔ اسی لئے وہ پیچھے رہ گئے۔ اپنے حق پہچان نہیں پائے۔ اے میرے ہاری بھائیو، میرے مزدور بھائیو تم اس دھرتی کے سگے بیٹے ہو۔ تم ہو اس دھرتی کے اصل وارث، تم اس دھرتی کے مالک ہو مگر مجھے یہ کہتے ہوئے افسوس ہوتا ہے کہ اس دھرتی کے سوتیلے بیٹے، جو یہ وڈیرے ہیں، جو جاگیردار ہیں، جو میر ہیں، جو پیر ہیں تمہیں تمہارے حق سے محروم کئے ہوئے ہیں۔ تمہارے حق پر ڈاکے ڈالے جا رہے ہیں مگر تمہیں اس کا ادراک نہیں، چونکہ تم شعور نہیں رکھتے اس لیے تم ان غاصبوں کی پہچان نہیں کر پاتے، تم غاصب اور ظالم صرف چور کو سمجھتے ہو، ڈاکو کو سمجھتے ہو حالانکہ اصل ڈاکو، اصل چور تو یہ لوگ ہیں اور یہ ایسے ماہر بے ضمیراور سفاک ڈاکو ہیں جن کو تم پر، تمہاری اولاد پر، تمہاری حالت پر کبھی رحم نہیں آتا۔ ڈاکو اور چور تو صرف تمہارا مال مویشی لوٹتے ہیں مگر یہ لوگ تمہارے مال و ملکیت کے ساتھ تمہاری عزت نفس ،تمہاری انا اور تمہارا پسینہ بھی لوٹ لیتے ہیں۔۔۔۔ اور ان کی مکاری اور فریب کاری کی انتہا دیکھو۔۔۔۔ وہ تمہارا حصہ، تمہاری کمائی، تمہارا مال و متاع لوٹتے ہیں اور تم پر احسان بھی جتلاتے ہیں یعنی ایک طرف تم لوٹ کا شکار بھی بنتے ہو اور پھر ان کے احسان کے گن بھی گاتے رہتے ہو۔
میرے بھائیو تمہیں اٹھنا ہوگا، تمہیں جاگنا ہو گا، کب تک سوتے رہو گے۔۔۔۔ کیا حشر کے انتظار میں ہو؟؟ اٹھو اور اپنا محشر بپا کرڈالو۔۔۔۔ سوچ کی طرف، اپنے حقوق کے حصول کی طرف تمہیں ہی قدم بڑھانا ہو گا اور میں یقین سے کہتا ہوں کہ کئی قدم اس طرف اٹھائے جارہے ہیں۔۔۔۔۔ غلام علی جیسے کئی نوجوان فکر اور شعور کی شمعین بلند کئے دوسروں کو راستہ دکھانے میں جتے ہوئے ہیں اور بہت جلد سویرا ہو گا اور ہر طرف اجالا ہو گا۔ بس صرف آغاز کرنے کی دیر ہے۔ ہماری منزل ہمارے انتظار میں ہے۔ آؤ آج مل کر یہ عہد کرتے ہیں ہم نہ انصافی کو، ظلم کو، جہالت کو مٹا کر ہی دم لیں گے۔ اپنی لگن اور اپنی انتھک محنت سے ہم اپنی منزل حاصل کر کے ہی رہیں گے۔
بڑھے چلو ساتھیو۔ بڑھے چلو ساتھیو۔ بڑھے چلو۔‘‘
ڈاکٹر شمس الدین اپنی تقریر اٹھائے واپس کرسی پر آ بیٹھے تو تالیوں اور نعروں کی گونج تھی۔ ہر چہرہ عزم کا اعادہ کر رہا تھا سوائے ماسٹر رب ڈنو کے چہرے کے، جس پر ہمیشہ کی طرح سکون کے اثرات تھے۔ اس تقریر کے بعد شہر میں غلام علی کی خوب واہ واہ ہوئی۔ راہ چلتے توصیفی نگاہیں ٹکراتی رہتی تھیں اور محفل کا ذکر بھی دو چار ماہ تک ہر اوطاق ہر بیٹھک کا موضوع گفتگو بنا رہا۔ خبر کی کمی رکھنے والے اس دیہاتی خطے میں لوگ ڈی سی صاحب کی آمد، ڈاکٹر شمس الدین کی عزت و احترام اور لائبریری کے افتتاح کو تمام تر جزئیات سے بار بار دہراتے تھے۔ کوٹھی کلہوڑو گاؤں کا مان و مرتبہ بھی علاقے کے دیگر گوٹھوں سے بلند ہو چلا تھا۔ کوٹھی کلہوڑو کے لوگوں کی جیسے ہی دوسرے گوٹھوں والوں پر نظر پڑتی فورا ہی ان کے سینے احساس تفاخر سے پھولنے اور پچکنے لگتے۔ ماما ملوک توسارا دن کڑک مرغے کی طرح گردن اکڑائے گھومتا رہتا۔ ہر وقت اس کی پوری کوشش ہوتی تھی کہ کسی بھی طرح ڈاکٹر شمس الدین کی مدح سرائی کر نے کا موقعہ حاصل کر سکے۔
غلام علی کا بھی کوٹھی کلہوڑو آنا جانا لگ گیا۔ جب حیدرآباد جانے لگتا تو کوٹھی کلہوڑو سے ہوتا جاتا۔ ماسٹر رب ڈنو یا دیگر گاؤں والے اسی کے ہاتھ ڈاکٹر شمس کے لیے کچھ نہ کچھ بھیجتے رہتے۔ کبھی آموں کی پیٹی، کبھی لیموں کی، کبھی کوئی شہد دیتا تو کبھی کوئی چاولوں کا آٹا ساتھ کر دیتا۔ غلام علی کوٹھی کلہوڑو جانے کی اس لئے بھی فکر کرتا تھا کہ نوجوانوں سے میل ملاقات کرکے ان کو پڑھائی کی طرف توجہ دلا سکے۔ ان میں کتابیں تقسیم کرکے ،ان سے بات چیت کرکے ان میں شعور اور فکر پیدا کر سکے۔ ان دنوں جب لائبریری کے افتتاح کو چھ ماہ گزر چکے تھے اور ڈاکٹر شمس الدین افتتاح کی بعد بھی ایک بار کوٹ شاہ محمد آ کر ایک دعوت میں شرکت کر چکے تھے، غلام علی کی حیدرآباد جانے کی تیاری تھی۔ وہ حسب عادت کوٹھی کلہوڑو آ پہنچا۔ اس بار جھنڈ کے نیچے اسے ماما ملوک نظر نہیں آیا۔ ویسے وہ جب بھی آتا ماما ملوک سے ہی سب سے پہلے ملاقات ہوتی تھی۔ ماما ملوک اس جگہ کا لازم تھا۔ ماما ملوک کے چند ایکڑ زمین کا کام تو اس کے بیٹے سنبھالتے تھے مگر محنت کا عادی ماما ملوک خود کو فارغ نہیں رکھتا تھا۔ صبح شام اپنی دو بھینسوں کو دوہنا اور چارا کھلانا اس نے اپنے ذمہ لے رکھا تھا۔ صبح سویرے اپنے کام ختم کر کے آ کر جھنڈ کے نیچے پانی کا چھڑکاؤ کرتا پھر وہیں ٹک کر بیٹھ جاتا۔ گاؤں آنے والے مہمانوں کے لیے لسی پانی، خیر خبر گیری کرتا پھر شام تک وہیں موجود ہوتا۔ اس مرتبہ غلام علی کو ماما ملوک نظر نہیں آیا تو اسے پوچھنا ہی پڑگیا۔ ماسٹر رب ڈنو نے بتایا کہ ماما آٹھ دس دن سے بیمار اور چارپائی کے حوالے ہے۔ ہلکی پھلکی دوائیوں اور پھر ٹنڈو شاہ محمد کے علاج اور انجیکشن کے باوجود ٹھیک ہونے میں ہی نہیں آرہا۔ غلام علی ماسٹر رب ڈنو کے ساتھ ماما ملوک کے گھر طبع پرسی کے لیے گیا تو ماما ملوک کو جیسے گُھن لگا ہوا تھا۔ نحیف حالت میں باربار کھانستے ہوئے ماما ملوک کی کھانسی بے قابو ہو جاتی اور اس کے چہرے کی رنگت پیلے پن سے سرخ ہو جاتی۔
’’
سائیں ماما ملوک کو حیدرآباد لے چلتے ہیں۔ وہاں بڑے ہاسپیٹل بھی میں اور ڈاکٹر شمس صاحب بھی بلکہ سیدھا ڈاکٹر صاحب کو ہی دکھائیں گے، وہ بڑے ڈاکٹر ہیں، ان کے علاج سے ماما ٹھیک ہو جائے گا۔‘‘ غلام علی نے ماسٹر رب ڈنو سے کہا۔
’’
نہ ابا ..اپنا ماما ملوک یہیں ٹھیک ہو جائے گا۔ اتنا دور اسے کیسے لے جائیں؟؟ چند دن دوائی کھائی گا ٹھیک ہو جائے گا۔‘‘
’’
نہیں سائیں ماما ملوک کی صحت کافی خراب لگتی ہے اور ڈاکٹر شمس صاحب جتنے بڑے ڈاکٹر اپنے گھر کے ہیں تو ان سے فائدہ کیوں نہ لیا جائے؟ اور ڈاکٹر صاحب نے تو دوسروں کی مدد اپنا پیشہ بنا رکھا ہے وہ تو بہت خوش ہوں گے‘‘ غلام علی کی بات اور زور کے بعد دوسرے دن حیدرآباد جانا طے پا گیا۔ حیدرآباد کی بات سن کر زمیندار محمد حسن کو بھی اپنی بیماریاں یاد آنے لگیں۔ اس کے تیار ہونے کے بعد چاچا امام بخش بھی کمر پر ہاتھ ٹکا کر اپنے علاج کی بات کرنے لگا۔ ایوب اور غلام رسول بھی حیدرآباد دیکھنے کی نیت کرکے تیار ہو گئے۔ دوسرے دن صبح صبح سخت سردی میں جب ابھی راستے کے کنارہ پر اگی گھاس پالے سے ٹھٹھر رہی تھی وہ گدھا گاڑی پر ماما ملوک کو لیے ٹنڈو شاہ محمد سے نکلنے والی اکلوتی بس کے ٹائم پر جا پہنچے۔ چھ گھنٹے کا سفر اور ایک بس تبدیل کرکے وہ بارہ بجے دوپہر ڈاکٹر شمس کے کلینک کے دروازے پر تھے۔ ڈاکٹر شمس کے اسسٹنٹ نے انہیں انتظار کرنے کا کہا مگر زمیندار کو اس کی بات سمجھ نہیں آئی۔
’’
ابا ڈاکٹر شمس سے ملنے کے لیے ہمیں پوچھنا پڑے گا کیا؟‘‘ یہ کہتے ہوئے وہ غلام علی کے روکنے کے باوجود ڈاکٹر شمس کے کمرے میں ماما ملوک سمیت گھس گیا۔ چاچا امام بخش ایوب اور غلام رسول بھی اس کے قدموں پر تھے۔ غلام علی ماسٹر رب ڈنو کے پیچھے جب اندر داخل ہوا تو اس نے دیکھا کہ زمیندار ڈاکٹر شمس کے ساتھ گلے مل کر اس کی پیٹھ تھپک رہا تھا اور کوٹ پینٹ میں ملبوس ڈاکٹر شمس جو اس وقت ایک مریضہ کو چیک کر رہا تھا، کے چہرے پر کبیدگی اور بدمزگی کے آثار صاف دکھائی دے رہے تھے۔ زمیندار کے بعد چاچا امام بخش ایوب اور غلام رسول نے بھی اسی جوش و خروش سے مصافحہ اور گلے ملنے میں دلچسپی دکھائی۔ غلام علی اور ماسٹر رب ڈنو ڈاکٹر سے ملے تو انہوں نے سرد اور بھاری آواز میں انہیں اِن دھوتی بند گاؤں والوں کو ساتھ لے کر باہر جا کر انتظار کرنے کو کہا اور ساتھ اپنے اسسٹنٹ کو صحیح فرائض نہ نبھانے پر ان کے سامنے ہی جھاڑ پلادی۔ انتظار گاہ میں بیٹھے انہیں ایک گھنٹہ ہو چلا تھا اور ڈاکٹر کے پاس سے دس یا بارہ مریض رخصت ہو گئے تھے کہ ڈاکٹر شمس اپنے کمرے سے باہر نکلے اور پریشان بیٹھے غلام علی اور خاموش بیٹھے ماسٹر رب ڈنو کو بلایا اور کلینک سے نکل کر روڈ پر آ کھڑے ہوئے۔
’’
کس نے تمہیں کہا تھا کہ جاہل گنواروں کو یہاں لے کر آ پہنچو؟ پہلے انہیں تہذیب تو سکھاؤ اور یہ میرا کلینک کوئی خیراتی شفا خانہ ہے جو انہیں بھرتی کرانے آ گئے ہو۔ لے جاؤ انہیں سول ہاسپیٹل اور رب ڈنو دوبارہ ان کے ساتھ یہاں کا رخ مت کرنا۔‘‘ ڈاکٹر شمس کے الفاظ کڑکتی بجلیوں کے طرح تھے جن کی دھمک نے غلام علی کے دماغ میں گونج پیدا کردی۔ اسے معاملات سمجھنے میں دشواری ہو رہی تھی۔ وہ اپنے اخلاص، دیہاتیوں کی چاہ اور محبت اور ڈاکٹر شمس کے غیض و غضب میں ربط ڈھونڈنے کی کوشش کر رہاتھا۔ ماسٹر رب ڈنو نے ماما ملوک کو سول ہاسپٹل میں دکھایا، ٹی بی کی تشخیص ہونے پر دس دن کی دوائی لی، زمیندار کے سردرد کا علاج یہ ہوا کہ اس کی نظر کی کمزوری تشخیص ہوئی اورچشمہ بنوا کر پہنچانے کی ذمہ داری غلام علی کو سونپی گئی۔ بعد ازاں وہ گاؤں واپس جانے کے لیے بس سٹاپ پر آ بیٹھے مگر غلام علی کی سوچ میں ہنوز بے ترتیبی تھی۔ وہ ڈاکٹر شمس سے ملاقات کے بعد سب کے ساتھ ہوتے ہوئے بھی ذہنی طور پر شامل نہ تھا۔ بس کے نکلنے میں تھوڑی دیر باقی تھی کہ خاموش طبع ماسٹر رب ڈنو نے اس کے کندھے پر ہاتھ رکھا اور بولتا چلا گیا۔
’’
میرے والد پر ایک ہی دھن سوار تھی کہ میرے بچے پڑھ جائیں۔ یہ خواہش ان کے ساتھ زندگی بھر رہی۔ جب تینوں بڑے پڑھنے حیدرآباد میں رہنے لگے تو اخراجات بھی بڑھ گئے۔ بابا کی سکول ماسٹری سے ملنے والی رقم ناکافی ہوگئی۔ انہوں نے مقاطعے پر زمیں لی اور کاشت کاری شروع کردی۔ میں چھوٹا تھا اور گاؤں میں رہتا تھا۔ جب میں نے میٹرک کا امتحان دیا تو بابا پر ضعف آ گیا تھا۔ وہ زیادہ کام کاج کے قابل نہیں رہے تھے۔ بابا نے مجھے اپنے ساتھ زمین کی کاشت کاری پر لگا لیا۔ وہ مجھے کہتے تھے تو اور میں دو جسم ایک روح ہیں۔ میری ذمہ داری تیری ذمہ ہے۔ یوں سمجھ کہ خاوند بخش دوبارہ تجھ میں جوان ہو گیا ہے۔ تجھے اپنے بھائیوں کو نہیں بیٹوں کو پڑھانا ہے۔ میں بابا کے ساتھ کام کرتا رہا۔ بھائی پڑھ لکھ گئے۔ ایک ڈاکٹر شمس، دوسرا محکمہ تعلیم میں اور تیسرا ایریگیشن میں افسر ہو گیا۔ افسری کے بعد ان کی رویوں میں فرق آ گیا۔ بابا کے پاس کم آتے جاتے۔ آخری عمر میں بابا نے ان کی بے اعتنائی دیکھ کر مجھے اپنے ایک دوست سے کہہ کر ماسٹری دلا دی اور کاشتکاری کا کام بند کروا دیا۔ مجھے سے مذاق میں کہتے تھے ’’خاوند بخش تیرے بیٹوں نے پڑھ تو لیا ہے مگر کڑھے نہیں۔ ان پر میرا نہیں کسی اور کا اثر آ گیا ہے۔‘‘ خیر بابا کے وصال کے بعد والدہ کی ذمہ داری مجھ پر آ گئی، گھر کے معاملات اسی طرح چلتے رہے۔ اماں نے میری شادی اپنے رشتہ داروں میں طے کروا دی بھائیوں کو کوئی دلچسپی نہیں تھی۔ شادی پر جب بھائی آئے تو ڈاکٹر شمس نے مجھے پندرہ ہزار روپے لفافے میں ڈال کر دیے کہ خرچے زیور میں استعمال کر لینا۔ میری شادی کو دوماہ گزرے تھے کہ اَدا ڈاکٹر گاؤں آیا اور مجھے علیحدگی میں جا کر کہا کہ وہ جو میں نے تمہیں پیسے دیے تھے وہ واپس تو دے دو۔ میں گیا اور کبنٹ سے وہ لفافہ نکال کر اَدا شمس کو دیا اور صرف یہ کہا کہ اَدا لفافہ بھی وہی ہے اور نوٹ بھی۔ ان کے نمبر دیکھ لینا۔‘‘
بس چلنے لگی تو ماسٹر رب ڈنو غلام علی سے رخصت ہو کر بس میں جا بیٹھا۔ بس کے ٹائرز گھومتے گھومتے تیز ہونے لگے۔ غلام علی بے دھیانی میں ان پر نظریں جمائے بس کو دور ہوتا دیکھ رہا تھا۔ اس کی سوچیں بھنور میں بس کے ٹائروں کی طرح گھومی جا رہی تھیں

Published inجیم عباسیعالمی افسانہ فورم