Skip to content

بڑھتی ہوئی کہانی

بڑھتی ہوئی کہانی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فرحان دل

” رگھو! گاڑی روڈ کے کنارے اتار لو ‘ اُن پیڑوں کی طرف ” اچانک رِشمی ٹھاکر نے اپنا موبائل بیگ میں رکھتے ہوئے کہا ـ رگھو نے چونک کر بیک ویو مرر میں جھجھکتے ہوئے رشمی کو دیکھا ـ کیونکہ اسے اجازت نہیں تھی کہ وہ اپنی مالکن کو بیک ویو مرر میں دیکھے ـ ایک مرتبہ اس کی نظر سرسری طور پر بیک ویو مرر پر اٹھ گئی تھی ـ جب وہ اکیس سال کا تھا نیا نیا ڈرائیور کی نوکری پر لگا تھا ـ حویلی پہونچ کر رشمی نے اپنے باپ رنجیت ٹھاکر سے اس بات کی شکایت کی تھی اور نتیجتاً ٹھاکر کے آدمیوں نے رگھو کو توڑ پھوڑ کر رکھ دیا تھا ـ رگھو کو دو ہفتے اسپتال میں گذارنے پڑے تھے ـ تب بِرجو کاکا نے اسے بتایا تھا کہ اپنی چالیس سالہ نوکری میں انہوں نے ٹھاکروں کی کسی عورت کی طرف آنکھ اٹھا کر بھی نہیں دیکھا ـ اور اسے بھی یہی کرنا ہے ـ آنکھ بند رکھنی ہے اور کان کھلے رکھنے ہیں ـ اور کان بھی صرف اور صرف حکم سننے کے لیے کھولنے ہیں ـ کار میں بیٹھنے والے آپس میں یا فون پر کیا گفتگو کرتے ہیں وہ بھی نہیں سننی ہے ـ “ہزاروں راز اس سینے میں دفن ہیں بیٹا جن کا ذکر میں نے اپنے آپ سے بھی کبھی نہیں کیا ” بِرجو کاکا نے اپنے کمزور سینے پر ہاتھ رکھتے ہوئے کہا تھا ـ ” گاؤں میں تمھارے سوا اور کوئی ڈرائیور نہیں ہے جس کے پاس ڈرایئونگ لائسنس ہو ـ وہ تمہیں نوکری سے نہیں نکالیں گے اور نہ ہی تمہیں نوکری چھوڑنے دیں گے ـ تم ہی ان کے کام کے ہو ـ آئے دن شہر جانا پڑتا ہے اور شہر کے قائدے قانون ان ٹھاکروں کو بھی نبھانے پڑتے ہیں ـ بس آنکھیں کان اور منہ بند رکھو اور حُکُم کے غلام بن جاؤ ـ پیسہ کماؤ ـ پیسہ ہی سب کچھ ہے ہم گریبوں کے لیے ” بِرجو کاکا کی زبان سے ان کا تجربہ اور ٹھاکروں کی دھمکی دونوں بول رہے تھے ـ اس دن سے رگھو نے آنکھیں بند کرلی تھیں ـ بس جو جتنا کہتا اتنا وہ کرتا جاتا ـ پانچ سال ہوگئے تھے ـ وہ کار میں روبوٹ کی مانند بیٹھا رہتا ـ جہاں کہا جاتا وہ گاڑی اسٹارٹ کر دیتا اور جہاں کہا جاتا روک دیتا ـ مگر آج پہلی بار گاؤں سے چھ سات کلو میٹر دور سنسان علاقے میں رات کے آٹھ نو بجے اچانک رشمی ٹھاکر نے ایک عجیب حکم دے دیا تھا ـ وہ کچھ نہ سمجھتے ہوئے بھی کار کو سڑک کے کنارے اتارنے پر مجبور تھا ـ
رشمی ٹھاکر پانچ سال پہلے جب رگھو کے ساتھ پہلی بار اسکول گئی تھی تب اس کی عمر چودہ سال تھی ـ بِرجو کاکا بوڑھے ہوچکے تھے اسلیے یہ نیا ڈرائیور آیا تھا ـ اسے تھوڑا عجیب لگا تھا اس ڈرائیور کے ساتھ اسکول جانا اور پھر رگھو نے بیک مرر میں اسے دیکھا تو وہ برداشت نہیں کرسکی اور اس نے اپنے باپ سے شکایت کردی تھی ـ اس کا خیال تھا کہ بِرجو کاکا کو دوبارہ نوکری پر رکھ لیا جائے گا ـ مگر رگھو کو اسقدر بے دردی سے پٹتا دیکھ کر وہ بہت پچھتائی تھی ـ تب سے وہ خاموش ہوگئی تھی ـ نہ رگھو نے اس کی طرف کبھی دیکھا اور نہ اس نے کبھی کوئی بات کی ـ زندگی معمول پر آگئی تھی ـ وہ روزآنہ کار میں اسکول جاتی اور شام میں واپس آجاتی ـ سینیئر کالج کا پہلا سال جاری تھا ـ وہ انیس کی ہوچلی تھی ـ کالج میں بھی اس کے باپ کا رعب و دبدبہ تھا ـ ٹھاکروں اور زمینداروں کے گھروں کی بیٹیاں اس کی دوست تھیں ـ حویلی میں اس کی ایک ہی سہیلی تھی ‘پارو’ ـ
پارو مالی کی بیٹی تھی ـ بچپن سے اپنی ماں کے ساتھ حویلی آتی اور گھر کے کام کاج کرتی ـ ٹھکرائن نے کبھی رشمی اور پارو کی دوستی کو پسند نہ کیا مگر رشمی کے اکیلے پن سے ہار کر وہ بھی کچھ نہ کہتی ـ بس اتنا تھا کہ بات بات میں پارو کو اس کی حیثیت یاد دلاتی رہتی ـ پارو کی ماں بھی اسے اپنے دائرے سے نکلنے نہیں دیتی تھی ـ اپنے ساتھ لاتی اور اپنے ساتھ گھر لے جاتی ـ اگر رشمی پارو کو روکنا چاہتی تو پارو کی ماں حویلی کے باہر بیٹھی رہتی ـ جب بھی پارو رشمی سے فرصت پاتی وہ اسے اپنے ساتھ ہی گھر لے جاتی ـ
گاڑی سڑک کے کنارے کچھ درختوں کے نیچے جاکر رک گئی ـ رگھو خاموشی سے اپنی سیٹ پر بیٹھا اگلے حکم کا انتظار کررہا تھا ـ رشمی نے سیٹ سے ٹیک لگا کر آنکھیں بند کر لی تھیں ـ بظاہر وہ پر سکون تھی مگر اس کا اوپر نیچے ہوتا ہوا سینہ یہ بتا رہا تھا کہ اس میں بہت بڑا طوفان چھپا ہوا ہے ـ کوئی اتھل پتھل تھی جو اس کے اندر ہورہی تھی اور وہ اتھل پتھل پچھلے تین مہینوں پہلے سے شروع ہوئی تھی ـ وہ پارو کے ساتھ اپنے کمرے میں تھی ـ رات کے دس بج رہے تھے ـ پارو اس کی الماری کے پاس رکھے ہوئے اسٹول پر کھڑی تھی اور رشمی اسے اپنے کچھ سامان دیتی جارہی تھی جو پارو الماری کے اوپر سجاتی جارہی تھی کہ اچانک دروازے پر دستک ہوئی ـ اس نے دروازہ کھولا ـ باہر ٹھاکر رنجیت سنگھ کھڑا تھا ـ ” اوہ پاپا آپ؟” رشمی نے اپنے باپ کو دیکھ کر دروازہ کھول دیا ـ ” ہاں وہ میں یہ کہنے کے لیے آیا تھا کہ کل تم میرے ساتھ شہر چلنا ـ مجھے تمھارے…………………..” اور رشمی نے دیکھا کہ اس کے پاپا کی نظر پارو پر ٹک گئی ہے ـ ان نگاہوں میں جانے کیا تھا کہ رشمی خود بھی ڈر گئی تھی ـ بے اختیار رشمی کا ہاتھ اپنے دوپٹے پر چلا گیا اور اس نے اپنا سینہ ڈھانک لیا جبکہ ٹھاکر کی نگاہ پارو پر تھی جس کا دوپٹا کمر پر کسا ہوا تھا اور سر اور سینہ کھلا ہوا تھا ـ پارو خود میں سمٹی کھڑی تھی ـ مگر جوانی سمٹنے کا نام نہیں لے رہی تھی ـ اب بھلا جوانی کو کیا پتا کہ امیری غریبی کیا ہوتی ہے ـ جوانی تو جب آتی ہے تو بدن کے ایک ایک حصّے سے چھلک جاتی ہے ـ پارو کا بدن بھی سراپا چھلکتا ہوا پیمانہ بنا ہوا تھا ـ اسٹول زمین سے تین یا چار ہاتھ اونچا تھا اور اترنے کے لیے پارو کو زمین پر کودنا پڑتا ـ ” پاپا آپ کچھ کہہ رہے تھے؟ ” رشمی نے فوراً اپنے باپ کو اپنی طرف متوجّہ کیا ـ
آاااااااااہاں میں ……. یہ …..کہہ ………. رہا …… تھا ” ٹھاکر نے نہ چاہتے ہوئے پارو سے نظر ہٹائی اور رشمی سے مخاطب ہوا ـ ” کل مجھے تمھارے ………. پرنسپل سے ملنا ہے ……….. اسلیے تم …….. میرے ساتھ کالج چلنا ” بار بار ٹھاکر کی نظر پارو پر جارہی تھی ـ جو کہ سنبھل سنبھل کر اسٹول سے نیچے اتری اور فوراً اپنا دوپٹا کمر سے کھول کر سر پر ڈالنے میں مصروف تھی ـ مگر ٹھاکر تو وہ سب دیکھ چکا تھا جو اسے نظر نہیں آنا چاہیے تھا ـ اب سر یا بدن ڈھانپنے کا کوئی فائدہ نہیں تھا ـ کوئی بھی راز جب کسی پر ظاہر ہوجائے تو اسے اسی شخص سے چھپانا کہاں ممکن ہوتا ہے ” تو شنکر کی چھوری ہے ناں ؟” ٹھاکر نے پارو سے پوچھا ـ ” جی ٹھاکر صاحب” پارو نے جھجھکتے ہوئے جواب دیا ـ ” ہمممممم” ٹھاکر نے ہنکاری بھری اور کمرے کے باہر نکل گیا ـ
” کار بند کردو ” رشمی نے آنکھیں کھول کر رگھو کو حکم دیا ـ رگھو نے کار کا انجن بند کردیا ـ ” لائٹ جلی رہنے دو اور مجھے دیکھو” رشمی کی سانسیں معمول سے تھوڑی بڑھ گئیں ـ
“جی؟ ” رگھو نے کچھ نہ سمجھتے ہوئے آہستہ سے پوچھا ـ
“مجھے دیکھو ‘ میرے چہرے کی طرف دیکھو ” رشمی نے کہا ـ رگھو نے جھجھکتے جھجھکتے مڑ کر رشمی کو دیکھا ـ رشمی رگھو کی نگاہوں میں دیکھ رہی تھی ـ
” ایسے کیا دیکھ رہے ہو؟” رشمی نے چڑ کر کہا ـ اور رگھو نے فوراً گردن کے ساتھ نگاہیں نیچیں کر لیں ـ
” میں نے کہا مجھے دیکھو اور غور سے دیکھو ” رشمی نے پھر کہا ـ رگھو نے دھیرے دھیرے نگاہیں اٹھائیں اور رشمی کے چہرے پر جمانے کی کوشش کرنے لگا ـ
” مجھے ایسے دیکھو جیسے ایک مرد عورت کو دیکھتا ہے ” رشمی نے رگھو کی آنکھوں میں کچھ تلاش کرتے ہوئے کہا ـ وہ اپنے باپ کی نگاہوں میں ابھرنے والی چمک ڈھوںڈ رہی تھی جو رگھو کی آنکھوں میں نظر نہیں آرہی تھی ـ وہ کیا تھا اس کے باپ کی آنکھوں میں نظر نہیں آرہا تھا ـ وہ بے چین ہوگئی ـ
” مجھے ایسے دیکھو جیسے ایک شیر ہرن کو دیکھتا ہے ‘ یا ایسے جیسے ایک قصائی بکری کو دیکھتا ہے ‘ لالچ سے دیکھو ” کہتے کہتے رشمی نے اپنا دوپٹا کاندھے سے ہٹا دیا ـ ” یہاں دیکھو ” اس نے اپنا گورا ہاتھ اپنے کاندھے کے کھلے حصّے پر پھیرا ـ ………. “یہاں ” اس نے اپنا دوپٹا اتار کر سیٹ پر ڈال دیا اور اس کا ہاتھ نیچے اترتے اترتے ایک جگہ خود بہ خود رک گیا ـ رگھو کی شریانوں میں لہو کی گردش تیز ہورہی تھی مگر ماتھے پر پسینے کی ننھی ننھی بوندیں نمودار ہونے لگیں ـ اس نے نظریں جھکا لیں ـ
” میں کسی سے کچھ نہیں کہوں گی ‘ بس وہ کرو جو میں کہہ رہی ہوں ” اس نے رگھو کی جھکی ہوئی گردن کو دیکھ کر کہا ـ
” مجھے ایسے دیکھو جیسے جیسے ایک ٹھاکر کسی غریب کی جوان بیٹی کو دیکھتا ہے ‘پورے حق سے’ جیسے وہ اس کی ملکیت ہو ‘ جیسے جسے وہ جب چاہے استعمال کر سکتا ہے ” اس کی سانسیں بے ترتیب ہورہی تھیں ـ رگھو نے دوبارہ نظر اٹھائی اور رشمی کے بدن کا اتار چڑھاؤ دیکھنے لگا ـ اس کی سانسیں بھی تیز ہورہی تھیں ـ رشمی کی نگاہیں لگاتار رگھو کی آنکھوں پر ٹکی تھیں ـ اب اسے اس چیز کا تھوڑا بہت احساس ہورہا تھا جو اس کے باپ کی آنکھوں میں نظر آئی تھی ـ اس نے سینے کا ایک بٹن کھول دیا ـ رگھو کی کنپٹیوں میں دھماکے ہورہے تھے ـ ایسا لگ رہا تھا کہ دل اس کی کنپٹیوں میں دھڑک رہا ہے ـ ایک سرسری نظر دیکھنے کی پاداش میں ہاتھ پیر تڑوانے والا رگھو آج رشمی کے پورے وجود کو آنکھوں سے پی رہا تھا ـ ……………..
اور پھر رشمی کو وہ چیز پورے شباب کے ساتھ رگھو کی آنکھوں میں نظر آہی گئی جسے وہ محسوس کرنا چاہتی تھی ـ ایک ہیجان رگھو کے چہرے پر تھا ـ اس کی آنکھیں رشمی کو اپنے پورے وجود پر محسوس ہورہی تھیں ـ اب وہ سمٹنا چاہ رہی تھی ــ مگر نہیں اسے سمٹنا نہیں تھا ـ اس نے ہوش سنبھالنے سے لے کر تین مہینوں پہلے تک کبھی کسی کی آنکھوں میں وہ چمک نہیں دیکھی تھی جو اسے اپنے باپ کی آنکھوں میں نظر آئی تھی ـ حالانکہ اس کے باپ کی نظر پارو پر تھی مگر رشمی کے لیے وہ عجیب تجربہ تھا ـ اور آج وہ ایسی ہی ایک نظر کے حصار میں تھی ـ اس نے ایک عجیب سا سکون خود میں اترتا ہوا محسوس کیا ـ عجیب سی لذّت تھی ـ اس نے بٹن لگا لیا ـ دوپٹا سیٹ سے اٹھا کر کاندھے پر ڈال لیا مگر رگھو کو وہ سب اب بھی دکھائی دے رہا تھا جو وہ دیکھ چکا تھا ـ راز کھل چکا تھا اور اب چھپانے سے کوئی فائدہ نہ تھا ـ
پارو بھی اپنا بدن چھپا کر گھر چلی گئی تھی ـ اس رات رشمی کو نیند نہیں آئی تھی اور وہ تمام رات اپنے باپ کی نگاہوں کی تپش اپنے بدن پر محسوس کرتی رہی تھی ـ
دو ہفتوں بعد جب ایک رات پارو اس کے کمرے سے نکلی تو اسے اپنے باپ کی آواز آئی اور وہ چونک گئی ـ ٹھاکر نے شائد آواز دے کر پارو کو روکا تھا ـ رشمی نے اپنے کمرے کا دروازہ ذرا سا کھول کر باہر جھانکا ـ ملگجے اندھیرے میں اس نے دیکھا کہ پارو سہمی ہوئی کھڑی تھی اور ٹھاکر رنجیت سنگھ اس کے روبرو کھڑا تھا ـ
تُو تو بہت بڑی ہوگئی رے” کہتے کہتے ٹھاکر نے پارو کے کاندھے پر ہاتھ رکھا ـ پارو خود میں سمٹ رہی تھی ـ مگر وہ صرف سمٹ ہی سکتی تھی ـ جب تک ٹھاکر نہ کہتا وہ اپنی جگہ سے ہل بھی نہیں سکتی تھی ـ “اتّی سی تھی تُو ‘ اور آج دیکھو کیسی جوان ہوگئی ہے ” ٹھاکر کا ہاتھ پارو کے کاندھے سے پھسلا ـ پارو کسمسائی اور ہٹنے کو ہوئی مگر ٹھاکر کا ہاتھ اس کی کمر تک پہونچ گیا …….. پارو نے پورا زور لگایا مگر کہاں ٹھاکر کے مضبوط بازو اور کہاں پارو کی پتلی کمر ـ ٹھاکر نے اسے اپنی سمت کھینچا ـ پارو کے منہ سے بھنچی بھنچی آواز نکلی ـ ٹھاکر اس پر جھک گیا اب پارو چینخنا چاہتی بھی تو نہیں چینخ سکتی تھی ـ ایک گھٹی گھٹی سی آواز حویلی کے سناٹے میں ابھر کر معدوم ہوگئی ـ پارو مچھلی کی طرح تڑپ رہی تھی ـ اس کی زندگی حویلی میں گذری تھی ـ اس نے دیکھا تھا کہ یہاں مضبوط سے مضبوط حوصلے اور بدن کیسے توڑے جاتے ہیں ـ اور حویلی کی مضبوط دیواریں تماشائی بنی دیکھتی رہتی ہیں ـ حویلی کے ملازمین اور ٹھاکر کے آدمی بھی ان دیواروں کی طرح بےجان بنے تماشہ ہی دیکھتے تھے ـ جو گردن اٹھنا چاہتی تھی وہ کاٹ دی جاتی تھی ـ جو سر اونچا ہونا چاہتا وہ حویلی سے باہر درخت پر لٹکا دیا جاتا تھا ـ اور وہ تو ایک کمزور لڑکی تھی ـ جس کے ماں باپ کے بدن میں بھی ٹھاکروں ڈر خون بن کر دوڑتا تھا ـ وہ کیا کرتی ـ رشمی نے سوچا کہ وہ دروازہ کھول کر باہر نکل جائے ـ مگر وہ بھی ایک لڑکی تھی اور بہر حال اپنے باپ سے ڈرتی تھی ـ اچانک دروازہ کھلنے کی آواز آئی اور ٹھاکر نے پارو کی کمر چھوڑ دی ـ پارو بھاگتی ہوئی حویلی سے باہر نکل گئی ـ ٹھکرائن ملگجے اندھیرے میں اپنے کمرے سے نکلی تھی ـ
” آپ یہاں کیا کررہے ہیں؟ کون تھا یہاں ؟” ٹھکرائن نے پوچھا ـ
” جاؤ اپنا کام کرو” ٹھاکر گرجا ـ ٹھکرائن پلٹی اور اپنے کمرے میں گھس گئی ـ ٹھاکر باہر کی طرف گیا مگر پارو اپنی ماں کے ساتھ حویلی سے نکل چکی تھی ـ
” دروازہ کھولو ” رشمی نے رگھو سے کہا ـ ” باہر نکلو ”
اور وہ خود بھی باہر نکل گئی ـ رگھو سیٹ پر ہی بیٹھا رہا ـ ” میں نے کہا ناں باہر نکلو اور ہاں کار کی لائٹ بجھا دو ” رشمی نے دوبارہ کہا ـ رگھو کار سے باہر آگیا ـ
” ادھر آؤ ‘ یہاں ‘ میرے پاس ” چاند کی مدھم روشنی میں رشمی کا سرخ سفید بدن اور بھی حسین نظر آرہا تھا ـ رگھو ہچکچاتا ہوا وہیں کھڑا رہا ـ
” اگر میں اپنے پاپا سے کہہ دوں کہ تم نے مجھے ہاتھ لگایا ہے تو وہ تمہارے ٹکڑے ٹکڑے کر کے کتّوں کو کھلا دیں گے ” رشمی نے دھمکی آمیز لہجے میں ٹھہر ٹھہر کر کہا ـ
” مگر … کچھ تو ..میں نے تو …. کیا کیا ہے؟ … کچھ ….. کیا ہی نہیں ….. چھوٹی مالکن ” رگھو کے منہ سے بے ربط جملہ نکلا ـ
وہ گھبرا گیا ـ
” میں جو کہہ رہی ہوں اتنا کرو میرے پاس آؤ” رشمی نے اپنا دوپٹا پھر اتار دیا اور زمین پر گرا دیا ـ عجیب مشکل میں گھرا تھا رگھو ـ آگے کنواں پیچھے کھائی شاید اسی کو کہتے ہیں ـ دل ہی دل میں برجو کاکا کو گالی دیتا ہوا وہ دھیرے دھیرے آگے بڑھا ـ اب وہ اس لمحے کو کوس رہا تھا جب اس نے برجو کاکا سے کہا تھا کہ کاکا مجھے کار چلانا سکھا دو ـ اس سے کہیں اچھا ہوتا کہ وہ کسی کھیت میں ہل چلا رہا ہوتا ـ
رشمی کے سامنے جا کر وہ کھڑا ہوگیا ـ رشمی اس کے بالکل سامنے اس سے بالکل لگ کر کھڑی ہوگئی ـ اور رگھو کے دونوں ہاتھ اپنے کاندھوں پر رکھ لیے ـ رگھو کے بدن میں بجلی کوند گئی ـ بجلی تو رشمی کے بدن میں بھی دوڑی تھی مگر وہ صرف اس منظر میں کھوئی تھی جس میں اس کا باپ پارو کے سامنے کھڑا تھا ـ اس رات بھی رشمی سو نہیں پائی تھی ـ رہ رہ کر اسے وہ منظر دکھائی دے رہا تھا ـ اس کے باپ کا ہاتھ پارو کے کاندھوں پر تھا ـ اور پارو کسمسارہی تھی ـ اسے معلوم تھا کہ پارو کو کوئی لذّت نہیں مل رہی تھی ـ مگر دروازے کے پیچھے کھڑی رشمی ان ہاتھوں کے لمس کو محسوس کر رہی تھی ـ اور آج وہ وہی لمس چاہ رہی تھی مگر رگھو کے ہاتھوں میں وہ مضبوطی اور وہ استحقاق نہیں تھا ـ
” ڈرو مت رگھو ” اس نے لذت آمیز سرگوشی کی ـ ” میں کسی سے کچھ نہیں کہوں گی” بس وہ کر دو جو میں چاہتی ہوں ـ مجھے ایسے سمجھو جیسے میں تمہاری دسترس میں ہوں اور بھاگنا چاہوں بھی تو بھاگ نہیں سکتی ” اس نے رگھو کی انگلیوں پر ہاتھ رکھ کر پوری قوّت سے انہیں دبایا ـ رگھو کی انگلیوں کی گرفت خود بہ خود اس کے کاندھوں پر بڑھ گئی ـ وہ تھوڑا اور قریب ہوئی اور چہرہ اٹھا کر رگھو کی آنکھوں میں ابھرتی ہوئی اس چمک کی لذّت سے آشنا ہونے لگی جو اس کے باپ کی آنکھوں میں نظر آئی تھی ـ سانسوں کا ٹکراؤ ہونے لگا ـ اور رگھو کے ہاتھ خود بہ خود اس کے کاندھوں سے نیچے کی جانب پھسلنے لگے ـ وہ کسمسائی مگر رگھو کے ہاتھ اس کی کمر تک پیونچ چکے تھے ـ اور ان کی گرفت کافی طاقتور تھی ـ اچانک رگھو نے اسے اپنی طرف کھینچا ـ وہ تلملائی اور اس نے رگھو کی گرفت سے باہر نکلنا چاہا ـ گھٹی گھٹی سی چینخ اس کے منہ سے نکلی ـ رگھو اس پر جھک گیا اور اس کے منہ سے نکلنے والی چینخ منہ میں ہی رہ گئی ـ اس نے زور کا جھٹکا دیا ـ مگر بے سود ـ پسلیاں چٹکنے لگیں ـ وہ حیران رہ گئی ـ سانس سینے میں اٹک رہی تھی ـ رگھو پر شیطان سوار ہوچکا تھا ـ رشمی جس لذّت سے آشنائی چاہتی تھی وہ کرب میں تبدیل ہوچکی تھی ـ اب اسے احساس ہوا کہ پارو کی کیفیت کیا رہی ہوگی ـ وہ تو ٹھاکر کی اولاد تھی اسے تو لذت ہی چاہیے تھی ـ مگر شاید تقدیر اس کے حصّے میں پارو کا کرب لکھ چکی تھی ـ رگھو نے اسے زمین پر گرا دیا ـ اور اس پر حاوی ہوگیا ـ وہ بری طرح تڑپ رہی تھی ـ اس نے گلہ پھاڑ کر چلانا چاہا مگر رگھو نے اس کا دوپٹہ اٹھا کر اس کے منہ پر لپیٹ دیا ـ ………. بازی ہاتھ سے نکل چکی تھی اور وہ بری طرح رو رہی تھی ـ یہ تو اس نے نہیں سوچا تھا ـ یہ تو نہیں ہونا تھا ـ یہ کیسے ہوسکتا ہے ـ یہ ناممکن ہے ـ وہ روتی جارہی تھی ـ وہ پھر ماضی میں چلی گئی ـ اس دن جب پارو ٹھاکر سے بچ کر بھاگی تو پورے دو ہفتوں کے بعد حویلی میں داخل ہوئی ـ وہ بھی رشمی کے لاکھ بلانے پر ـ
پارو اس کے کمرے میں آئی تھی ـ اس کے باپو کو ٹھاکر کے آدمیوں نے مارا تھا ـ وجہ نہیں معلوم ہوئی کہ اس کے باپو کا کیا قصور تھا ـ وہ بہت رو رہی تھی ـ رشمی سب جان کر بھی انجان تھی ـ نہ اس نے پوچھا اور نہ پارو نے بتایا کہ اس رات اس کے پاپا نے اس کے ساتھ کیا حرکت کی تھی ـ تب رشمی نے پارو کو دس ہزار روپیے دیے اور کہا کہ وہ اپنے باپو کا علاج کروائے اور ان پیسوں کا ذکر کسی سے نہ کرے ـ کچھ ہی دنوں بعد ٹھاکر نے پارو کے باپو کو دوبارہ کام پر رکھ لیا اور حالت پہلے جیسے ہوگئے ـ پارو اب کم کم ہی آتی اور رات میں جلد ہی اپنی ماں کے ساتھ واپس چلی جاتی ـ آج ہی تو دوپہر میں رشمی نے پارو کو بلوایا تھا ـ
” پارو آج میں شہر جارہی ہوں شام تک لوٹوں گی ‘ تم شام میں آنا میں شہر سے تمہارے لیے کچھ چیزیں لاؤں گی ـ تمہارا بیاہ قریب ہے ناں ‘ کیا کیا چاہیے تمہیں؟ ” اس نے پارو سے پوچھا تھا ـ
” جو تمہیں پسند ہو لے آنا رشمی دیدی ‘ اب میں کیا بولوں ” پارو نے شرماتے ہوئے کہا تھا ـ اور پھر کچھ باتیں کر کے پارو شام میں آنے کا کہہ کر چلی گئی تھی ـ اور اس نے پارو کے لیے بہت سی چیزیں بھی خرید لیں تھیں ـ تین مہینوں سے جو اتھل پتھل دل میں تھی اس سے بے چین ہوکر اس نے رگھو سے گاڑی رکوا دی تھی اور وہ سب کرنا چاہتی تھی جو اس نے اپنے باپ کو کرتے ہوئے دیکھا تھا ـ مگر اب بات اس کی سوچ سے آگے بڑھ چکی تھی اور وہ بے بس تھی ـ اب اسے احساس ہورہا تھا کہ جب اس کے باپ کو لذّت مل رہی تھی تو پارو کتنی بے بس تھی ـ اب اسے احساس ہوچکا تھا کہ عورت صرف عورت ہوتی ہے چاہے وہ کسی غریب کی بیٹی ہو یا کسی ٹھاکر کی ـ جب تقدیر پیش پیش ہوتی ہے تو یہی ہوتا ہے ـ واقعات کچھ اس طرح پیش آئے تھے کہ جو رگھو پانچ برسوں سے زیر تھا وہ زبر ہوچکا تھا ـ اور وہ رشمی جو زبر تھی اچانک زیر ہوچکی تھی ـ ساری دنیا ایک پل میں زیر و زبر ہوچکی تھی ـ جذبات میں اس نے رگھو سے یہ تو کہہ دیا کہ ” یوں سمجھو میں تمہاری دسترس میں ہوں اور اگر میں بھاگنا چاہوں بھی تو نہیں بھاگ سکتی ” مگر اس نے یہ نہیں بتایا کہ معاملہ کہاں جاکر رکنا چاہیے ـ کاش وہ رگھو کو بتا دیتی کہ اسے کہاں رکنا ہے ـ اب تو نہ وہ چینخ سکتی تھی اور نہ اپنے آپ کو چھڑا سکتی تھی ـ
رگھو کی نگاہوں میں پانچ سال پہلے کا منظر اتر آیا تھا جب ایک نئی نئی سی لڑکی کو کار میں دیکھ کر اس نے اس لڑکی پر ایک تجسس بھری سرسری نظر ڈال دی تھی جس میں نہ ہوس تھی اور نہ کوئی اور جذبہ ـ اور آج وہ اسی لڑکی پر اسی کی مرضی سے حاوی تھا ـ نہ چاہتے ہوئے بھی اس نے یہ کام کیا تھا مگر اب معاملہ چاہنے اور نہ چاہنے کی حد سے آگے بڑھ چکا تھا ـ اب رگھو کو یاد آرہا تھا کہ ٹھاکر کے آدمیوں نے اس کے بدن پر کہاں کہاں ضرب لگائی تھی ـ وہ یاد کر کر کے رشمی کے بدن کے اس سبھی حصّوں پر اپنی مہر لگاتا جارہا تھا ـ
رگھو کے بدن کے جس جس حصّے پر ٹھاکر نے اپنے ظلم کے نشان بنائے تھے رشمی کے جسم کے ہر اس حصّے پر رگھو اپنی فتح کا جھنڈا گاڑتا جارہا تھا ـ اور جب جسم کے پورے علاقے پر رگھو کی حکومت قائم ہوگئی تو خود بہ خود امن چھا گیا ـ …………..
چاند درختوں کے پتّوں کی آڑ میں ہونے والے اس حادثے پر نوحہ پڑھ رہا تھا اور ستارے اس کی نوحہ خوانی میں برابر کے شریک تھے ـ رات کے کاغذ پر ایک افسانہ ترتیب پاچکا تھا جس میں ایک بےنام سی خواہش ہوس اور انتقام کے ہاتھوں سولی پر چڑھادی گئی ـ رگھو کا جوش جب سرد پڑا تو وہ اٹھ کھڑا ہوا اور کار کے پاس جا کھڑا ہوا ـ رشمی نے اپنا بکھرا وجود سمیٹا اور کار میں بیٹھ گئی ـ وہ بہت کچھ کہنا چاہتی تھی ـ رگھو کو گولی مار دینا چاہتی تھی مگر رگھو کی آواز نے اس کے تمام ارادوں کو مسمار کردیا ـ
“چھوٹی مالکن آپ کے من میں کیا تھا بھگوان جانے مگر مجھ غریب کی جان پر کوئی آفت نہ آئے بس ـ کرپیا کرنا مالکن آپکی خواہش میں نے پوری کردی ……. نہ کرتا تو میرے ہاتھ پاؤں توڑے جاتے ………. کیا تو بھی ڈر لگا ہے ……….. بھگوان نے مجھے کس دُوِدھا میں ڈال دیا ہے ……….. مالک لوگ جو چاہے کروالیں بھگوان نے سب اخیتار ان کو ہی دے رکھا ہے ………. ”
کار سڑک پر آگئی ـ رگھو کی بات جاری تھی
“چاہیں تو دیکھنے پر بھی پابندی اور چاہیں تو ………..
بھگوان اس زندگی سے اچھی آوارہ کتّے کی زندگی دے دے …….. کم از کم جب چاہے کہیں بھی جا تو سکتا ہے …… نہ کسی کے حکم پر بھونکنا پڑتا ہے اور نہ کسی کے حکم پر کاٹنا پڑتا ہے ………”
آج وہ بول رہا تھا اور رشمی سن رہی تھی ـ وہ کر بھی کیا سکتی تھی ـ وہ تو حیران اس بات پر تھی کہ قدرت نے اس کے ساتھ عجیب کھیل کھیل ڈالا تھا ـ جس کی اسے توقع بھی نہیں تھی ـ اس نے سوچ لیا تھا کہ ابھی کچھ نہیں کہے گی ـ حویلی جانے کے بعد ہی کوئی فیصلہ کرے گی ـ
” تمہیں کچھ نہیں ہوگا رگھو ‘ جو ہوا اسے بھول جاؤ اور سب جیسا تھا سمجھو ویسا ہی ہے اور آگے سے ویسے ہی رہنا جیسے پانچ سال پہلے تھے ‘ اگر تم نے کچھ بھی الگ کیا تو میں ٹھاکر صاحب کو بتا دوں گی اور وہ دن تمہارا آخری دن ہوگا ” وہ جانتی تھی کہ رگھو کچھ نہیں کرے گا ـ وہ تو کچھ کر بھی کہاں رہا تھا ـ سب کیا دھرا اسی کا تو تھا ـ حویلی کے گیٹ پر کار رکی ـ دربان نے گیٹ کھولا اور کار اندر چلی گئی ـ رشمی کار سے اتری اندر کی جانب بڑھی ـ رات کے دس بج رہے تھے ـ حویلی کے دالان میں جیسے ہی وہ پہونچی اس کی نظر پارو کی ماں پر پڑی جو حویلی کے اندرونی دروازے پر بیٹھی اونگھ رہی تھی ـ رشمی کو سمجھنے میں دیر نہ لگی کہ پارو اندر حویلی میں ہے ـ اسے یاد آگیا کہ آج اس نے پارو کو حویلی میں بلایا تھا ـ وہ پارو کی ماں کو جگائے بنا دبے قدموں سے آگے بڑھی ـ اپنے کمرے میں آکر اس نے دیکھا پارو نہیں تھی ـ وہ حیران پریشان پلنگ پر بیٹھ گئی ـ اچانک اسے ٹھاکر کے کمرے کا دروازہ کھلنے کی آواز آئی اور اس نے دروازہ ذرا سا کھول کر دیکھا ـ پارو ٹھاکر کے کمرے سے باہر نکلی ــ اس کی چال میں لڑکھڑاہٹ تھی ـ وہ نقاہت آمیز چال چلتی ہوئی حویلی کے دروازے کے طرف بڑھ گئی ـ …………. رشمی سمجھ گئی کہ کہانی کیوں آگے بڑھ گئی تھی اور وہ رگھو کو کیوں نہیں روک پائی تھی ……………………………………….

Published inعالمی افسانہ فورمفرحان دل