Skip to content

بُکل

عالمی افسانہ میلہ 2020

افسانہ نمبر 51

“بُکل “

سیدہ آیت گیلانی ۔ ساہیوال ۔پاکستان

عجیب بے چینی ہے ۔

پچھلے بارہ گھنٹوں میں کئی ناکام کوششیں مجھ سے سرزد ہو چکی ہیں۔۔۔جانتی ہوں سرزد گناہ ہوتا ہے کوششں نہیں مگر کیا یہ کسی گناہ سے کم ہے کہ وہ ہاتھ جو قلم کی دہلیز کے معتبر سجدہ گزار ہوں اور بارگاہِ عطا کے سرفراز ہر بار دربارِ لفظ سے دھتکار دیے جائیں۔۔ بڑے لوگ اسے Writters block کہتے ہیں ۔ لیکن میں اسے خانۂ خراب کہوں گی ۔

صدیوں سے میں ایک زاویے پر منجمند ہوں فقط گرم سانسوں کی حدت اس خیال کو رد کرتی ہے ۔کتنے دنوں سے میری خالی نظریں درودیوار پہ جمی ہیں یہ پھڑپھڑاتے ورق میرا منہ چڑا رہے ہیں ۔۔نہیں ۔۔مجھ پہ قہقہے لگا رہے ہیں۔۔۔ہر شے آواز کے ارتعاش سے لرز رہی ہے ،مگر سکوتِ جاں میں کوئی لہر نہیں ابھرتی ۔

میں نے اس بستر کی سلوٹوں میں ، تکیے کے نیچے ، کھڑکی سے باہر آسمان میں اڑتے پرندوں کے پروں میں ہر جگہ کہانی کو تلاش کیا لیکن یہ کہانی بھی نا روٹھے ہوئے بچے کی مانند ہے۔ روٹھ جائے تو جلدی مانتی ہی نہیں۔ کبھی کبھی مجھے لگتا ہے میں ایک پتھر ہوں بے جان پتھر ۔

بھئی جو سوچ ہی نہ سکے وہی تو پتھر ہوتا ہے ۔ ہے کہ نہیں؟ کیا سوچیں بھی پتھر ہو جایا کرتی ہیں ؟

آنکھ خالی ، ٰدل خالی، دماغ خالی ۔۔۔میرے چاروں طرف ایک خلا ہے اور مَیں اِس میں ڈولتا وجود ہوں۔۔۔میری سَمت بدل چکی ہے۔۔۔۔میری چوٹی جو عرش کو چھوتی تھی کھوپڑی سمیت الٹ چکی ہے ۔

خناس ناک کے رستے بہہ رہا ہے۔خوف سے الٹی وحشت زدہ آنکھیں تحیرزدہ مٹی کے تیور دیکھ رہی ہیں۔۔۔میری بے جان مٹی بھی مجھ پر قہقہے لگا رہی ہے۔۔

کیا یہ قہقہقوں کا کوئی عالمی دن ہے؟ عورتوں کا ، مردوں کا ، ماؤں کا ، باپوں کا، بچوں کا، مزدوروں کا، پھولوں کا،محبتوں کا۔۔ نجانے ہم کتنے ہی عالمی دن مناتے ہیں۔۔۔کیا ہی اچھا ہوتا ہم بے بسی کا عالمی دن بھی مناتے ۔۔ قہقہے کان پھاڑ رہے ہیں ۔۔۔میں نے کانوں کو لپیٹ کر سر گھٹنوں میں دے لیا ہے۔۔اور آنکھیں بند کر لیں ۔۔

استغفراللہ! کیا اول فول خیال دماغ میں آنے لگے ہیں حد ہے یہ شیطان بھی نا؟ میں اتنا برا تھا نہیں جتنا جنت کے لالچیوں نے مجھے بنا دیا ہے ۔۔ کک کک کون ۔۔۔۔ککککون ہے؟؟ “وہی جسے کوسنوں کے لیے سنبھال رکھا ہے اولادِ آدمؑ نے ۔۔تمھارے کالے کرموں کا چمکتا لفافہ۔۔۔جس میں اپنے کالے کرتوت ڈال کر سمجھتے ہو رحمنﷻ تمھاری کھوٹی اٹھک بیٹھک سے بہل جائے گا۔۔۔۔” یہاں کیا کر رہے ہو ۔۔؟ “

تم نے نام لیا میں آگیا۔۔” لاحول ولا۔۔ کمینے میں نے کب تمھیں بلایا ہے؟ “زیادہ بک بک مت کرو انسان کی بچی۔۔میں نے کبھی تمھیں گالی نہیں دی ۔۔۔شرافت سے بات کرو مجھ سے اور مت بھولو کہ تم معلم المکوت سے بات کر رہی ہو ۔۔کسی انسان سے نہیں۔۔گالی انسانوں کا چلن ہے ۔۔۔سمجھی۔۔” یہاں کیوں آئے ہو؟ “تنگ آگیا ہوں میں تم انسانوں سے اس لیے خبردار کرنے آیا ہوں ۔۔سمجھانے آیا ہوں کہ “مَیں” ہُوں لاحول والا اور” تُم” ٹھہرے بسم اللہ والے۔۔۔اتنا دم ہے نا تو اپنا کیا اپنے نام سے نشر بھی کیا کرو ۔۔۔”

“جاؤ جاؤ بہکاتے، لڑاتے اور مرواتے تو تم ہی ہو ۔۔” ارے ۔۔۔۔انصاف نام کی کوئی چیز ہے بھی یا نہیں تم انسانوں میں ؟۔۔۔کبھی میں نے اپنے کسی کام پر تمھارے نام کا دھبہ لگایا ہے ؟ بتاؤ۔۔۔؟؟ نہیں نا۔۔۔تم بھی اپنے کرم اپنے نام سے محفوظ کیا کرو ۔۔ورنہ یاد رکھنا میرا نام بھی شیطان ہے۔” کریہہ آواز بہت قریب سے آئی تھی۔۔

میں اچھل پڑی ۔۔میں نے بغور دیکھا کمرے میں کوئی نہ تھا۔۔۔ میں نے سر جھٹک کر جلدی سے لاحول ولا قوة الا باللہ کا ورد شروع کر دیا۔۔۔۔ توبہ ، توبہ انسانوں سے میری توبہ۔۔انسانوں کے شر سے میری توبہ۔۔۔۔ کم ہوتے ہوتے آواز آخر معدوم ہو گئی تو میں نے شکر کا کلمہ پڑھا۔۔ ٹن ۔۔ٹن۔۔ٹن۔۔۔۔گھڑیال نے تین تالیاں بجائیں۔۔سوئیاں لمحوں کو انگلیوں پہ نچا رہی تھیں اور لمحوں کی بُکل میں ،مَیں ناچ رہی تھی۔ وقت تماش بین تھا ۔۔۔ یا خدا!! صبح ہونے کو ہے ۔۔میں کیا کروں ؟؟ کل تک مجھے ہر حال میں افسانہ لکھنا ہے۔ لیکن ۔۔۔۔۔۔۔میں کیالکھوں؟؟؟

آہا!! خیال مجھ پر مہربان ہو رہا ہے ۔۔ایسا کرتی ہوں پانیوں کی مالکہ کا افسانہ لکھتی ہوں۔۔۔پانیوں کی مالکہ کا افسانہ عنوان بھی خوب رہے گا ۔ پاگل ہوئی ہو ؟ دماغ نے فورا سرزنش کی “حقیقت کو افسانہ نہیں لکھا جا سکتا ۔۔۔” اچھا تو پھر میں پیاسوں کی کہانی لکھتی ہوں۔ “پیاس خود کہانی ہے۔۔۔ قدیم کہانی ۔۔۔جو آج تک رقم نہیں ہو سکی۔۔” تو پھر میں گلچیں کا افسانہ لکھ لیتی ہوں۔ “مہکتے لفظوں سے خوشبو اڑ جائے گی۔” ٹھیک ہے میں سائبان تلے جلنے والی معصوم کلکاریوں کی کہانی لکھتی ہوں ان کا بھی تذکرہ ہو گا جنھیں چھاؤں نے نگل لیا ۔۔؟ “سچ لکھا نہ جائے گا اور جھوٹ کے انبار پہلے ہی بہت لگے ہیں۔۔” محبت کا افسانہ کیسا رہے گا؟ “پامال موضوع ۔۔”

خاموش ۔۔۔۔۔۔پامال موضوع نہیں زیرِموضوع ہوتا ہے۔دکھ کی دھار سے ذبح کر کے اسے پامال کر دیا جاتا ہے۔سودوزیاں کی ڈور میں اُلجھے حسابی کتابی درستی کر لو۔میں درد لکھوں گی۔جُدا جُدا سینوں میں پلتا مشترک درد جس کی رنگت بھی ایک ہوتی اور حاصل بھی ایک۔وہ درد جو کہیں بھی کوئل کُوکے تو بنا پو چھے میری بائیں آنکھ کے کونے سے ٹپک جاتا ہے۔

مجھے افسانہ لکھنا ہے۔۔۔۔ ہاں افسانہ تو میں لکھ ہی لوں گی ۔ لیکن پہلے مجھے سوچنا ہے افسانے لکھ کر نام کمانے والے کتنے ہیں؟اندر سے جواب آیا ۔۔

منٹو ہے۔ عصمت ہے ۔ ہاں یہ دو نام تو واقعی اہم ہیں ۔۔

میں نے اس خیال سے سر جھٹک دیا ۔۔۔

اور کوئی نام ۔۔۔؟؟؟ اور نام بھی ہیں لیکن یہ وہ دو نام ہیں جو اردو سے تعلق رکھنے والا تو جانتا ہی ہے ۔۔ لیکن آج معاملہ ذرا مختلف ہے ۔وہ کسی حد تک کتاب کا دور تھا ۔ اب چکاچوند کا دور ہے ۔ زمانہ بدل گیا ہے لکھنے پڑھنے سے زیادہ دکھانا اہم ہو گیا ہے ۔ جب کسی سے یہ سوال پوچھا جائے آپ لکھتے کیوں ہیں تو اکثر کسرِ نفسی میں گندھا ہوا کانپتا سا جواب ملتا ہے ۔ تسکینِ روح یا تسکینِ قلب کے لیے ۔۔۔۔ آسودگی کے لیے ۔۔۔ “چلو مان لیتے ہیں یہ بھی ایک جزو ہے ۔۔۔” “لیکن کیا اس سے شہرت ناموری کا حصول ممنوع ہے ۔”

“کیا سبھی نام وری کی چاہ میں افسانے/کہانیاں نہیں لکھتے۔۔؟” میں خود سے سوال و جواب کے لامتناہی سلسلے میں الجھ کر رہ گئی ۔۔ میرے ساتھ کوئی موجود ہے جو مجھے میرے تسلی بخش جواب دے رہا ہے ۔ اور ہم سب اس” ناموجود ” “وجود ” میں الجھے رہتے ہیں۔ یہ بھی ایک مختصر کہانی ہے ۔ اس سطر نے تو مجھے مسکرانے پر مجبور کر دیا ہے ۔ (سمائلی )

کیا میری یہی کہانی ہے کہ میں سوال و جواب کی “چاہ “میں الٹی لٹکی رہوں ؟ ارے ہاں ۔۔۔تو کیا بات ہو رہی تھی ۔۔۔ ہاں یاد آیا ۔۔ “کیا سبھی نام وری کی چاہ میں افسانے/کہانیاں نہیں لکھتے۔۔؟”

دیکھو بھئی صاحبانِ قلم اس کو کتھارسس کہتے ہیں تو اس کتھارسس کو لکھنے کے بعد سنبھال کر کیوں نہیں رکھتے ۔ ارے جب ہو گئی روح کی تسکین تو اب اسے کسی دراز کے سپرد کیوں نہیں کر دیتے کیوں دربدر لیے پھرتے ہو ۔ ایک فورم پھر دوسرا فورم پھر لائک کمنٹس کا خمار پھر کسی ادبی جریدے میں یا آن لائن ویب سائٹ پر چھپنے کی چاہ ۔ اپنا کتھارسس اٹھائے ہر در کی خاک چھاننا کہاں کا قلبی سکون ہے بھئی؟ “شاید یہ انسانی جبلت ہے ؟ کہ وہ پہچانا جائے ۔ آخر بندہ کس کا ہے ؟ اسی کا نا جسے پہچانے جانے کی چاہ تھی؟ انسان تو انسان ہے ؟؟ بھلا اُسے پہچانے جانے کی چاہ کیوں ہوئی ؟ یہ سمجھ سے بالاتر ہے۔ نوری نے خاکی کو اپنی پہچان کے لیے چنا؟ سبھی کے پاس اس کا جواب ہوتا ہے ۔ اس کی مرضی جو چاہے کرے ۔ وہ قادر ہے۔ وہ مالک ہے۔ یہ سب ٹھیک ۔۔۔لیکن ایک ادنیٰ ایک ارفع کی پہچان کیسے کرائے گا ۔ ” “جس کی پہچان کرانی ہو پہلے اسے جاننا لازم ہے۔ اس نے پہلے ایک بت بنایا پھر اس میں جان ڈالی پھر کہا اب تو میرا نائب ہے ۔ جا اب تو میری پہچان کرا ۔ کمال ہو گیا ۔۔۔۔۔ ہاہاہاہا

یعنی کمال ہی ہو گیا۔ پہلے اولاد پیدا کر پھر اس کو میری پہچان کرا ۔۔۔ کون کون ہے جو اس کو پہچان پایا ہے ؟ ہر دوسرا انسان اٹھ کر اسے رد کر دیتا ہے ۔ مذہبی اور سائنسی مفکر آج تک دست و گریباں ہیں ۔بگ بینگ تھیوری ، ڈارون کا نظریہ ۔ اور اس کے متاثرین آج بھی پوری طرح رد کرتے ہوئے نظر آتے ہیں ۔ سمجھ نہیں آتا کیا لکھوں ۔

اللہ والے ۔ بھگوان والے ۔ یسوع والے ۔ بدھا والے سبھی ایک طرح ایک کے ہی جَنے ہوئے ہیں ۔۔۔ لیکن خدا اپنی پہچان میں کھو کر رہ گیا۔ حیرت!! لفظوں کی کھلاڑی کے نام سے مشہور ہونےوالی ایک لفظ لکھنے سے قاصر ہے۔ بے سبب زلزلہ عالم میں نہیں آتا ہے

کوئی بے تاب تہِ خاک تڑپتا ہو گا

ذہن کی دیواروں سے زمانوں پہلے پڑھا امیر مینائی کا شعر ٹکرایا ۔۔

۔سانحہ سبب میں ہی تو چھپا ہوتا ہے ۔مجھے نہ لکھ سکنے کی وجہ تلاش کرنی چاہئیے۔۔

بےاختیار میں نے ہاتھ میں پکڑے قلم کو دیکھا تو مجھے شدید جھٹکا لگا۔۔۔ رات بھراوہام، وسواس اور ٹوٹتے بکھرتے خیالات سے آنکھ مچولی کھیلتے ہوئے کسی پل شدید دباؤ کی زد میں آکر قلم کا نب دوہرا ہو گیا تھا۔۔

کیا یہ ادب کے زوال کا اشارہ ہے ؟ ادب جو زندگی ہے۔۔۔ کیا زندگی کو سزاۓ موت سنائی جا چکی ہے؟ ایمبولینس کی آوازجُھٹ پٹے کو اور لاؤنج سے آتی نیوز کاسٹر کی آواز میرے دل کو چیرنے لگی۔۔۔

” ایک اندازے کے مطابق یہ عفریت اب تک دنیا بھر میں تقریباً دو لاکھ لوگوں کو نگل چکا ہے۔۔اعدادوشمار کے مطابق اگر صورتحال یونہی قابو سے باہر رہی تو مزید لاکھوں اموات ممکن ہیں” ۔۔۔

مجھے یوں لگ رہا ہے کہ میں کسی کٹہرے میں کھڑی ہوں لاکھوں روحیں مجھے ٹکٹکی باندھے گھور رہی ہیں۔۔ قلم کسی نادیدہ مختار کے پاس ہے ۔۔ کاغذ پر گھسٹتے الفاظ کی چیخ و پکار سے زمین ہل رہی ہے۔۔ HANG TILL DEATH…..

زودار آواز کے ساتھ ہتھوڑا بجایا گیا ۔۔ لفظ قہقہے لگا رہے ہیں۔۔ کاغذ خالی پڑا ہے۔۔۔ افسانہ پھر سہی……

Published inخواتین افسانہ نگارسیدہ آیت گیلانیعالمی افسانہ فورم