Skip to content

بوجھ

عالمی افسانہ میلہ 2015
افسانہ نمبر 32
بوجھ
سیما غزل
کراچی پاکستان
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

اس روز اماں کو فضلو پر بہت غصہ تھا. اس نے صبح صبح ہزاروں کوسنے دے ڈالے تھے مگر فضلو چپڑ چپڑ نوالے نگلتا رہا ماں کو ایسا لگا جیسے وہ اس کی بوڑھی ہڈیاں چبا رہا ہو. بہن کی جوانی ثابت نگل رہا ہو اور مرنے والے بھائ کے بچوں کی سوکھی بانہیں بھنبھوڑ رہا ہو.
“ارے منحوس تو پیدا ہی کیوں ہوا تھا..بڑے بھائ کی جگہ تو کیوں نہیں مر گیا ..تجھے صبر کر لیتی تو آج سکون سے ہوتی.”
ماں کی لرزتی ہوئ آواز گھر کی نیچی دیواروں سے ٹکرا کر زینو کی بڑی بڑی آنکھوں میں چبھ گئ اور آنسو نکل کر میلی قمیض پر داغ ڈال کے اسے اور میلا کر گئے.
صرف زینو جانتی تھی کہ اماں کو آج صبح سویرے غصہ کیوں آرہا ہے.
زینو کو چھوٹے نے سویرے ہی جگا دیا تھا. وہ پیاسا تھا. زینو پانی لینے آنگن میں آئ تو ملگجا سا اجالا پھیل چکا تھا.تبھی اسے گھڑونچی کے پاس لمبا سا سایا نظر آیا تھا. کٹورا اس کے ہاتھ سے گر پڑا . اس نے گھبرا کے پلٹ کے دیکھا تو مولوی صاحب کا بیٹا غفار اپنے آنگن میں کھڑا اسے ہی دیکھ رہا تھا. کٹورا گرنے کی آواز سے اماں کی بھی آمکھ کھل گئ تھی اس نے بھی غفار کو دیکھ لیا تھا اس سے پہلے کہ وہ زینو کی طرف پلٹتی زینو گرتی پڑتی کمرے میں آچھپی.
زینو چھوٹے کے پاس اوندھی لیٹی سسکیاں بھر رہی تھی کہ اماں کی آواز نے اسے چونکا دیا
“زینو.. گھبرا مت..کل ہی دیواریں اونچی کرادوں گی . لے پانی پی لے”
اور زینو نے جلدی سے کٹورا لے کر چھوٹے کے منہ سے لگا دیا.. چھوٹا سارا پانی پی گیا..تب وہ بلک بلک کے رو دی..پیاس تو اسے بھی بہت تھی..اس کا جی چاہا کہ وہ اماں سے پوچھے “تو دیواریں کتنی اونچی کرے گی ؟؟جوانوں کے قد بڑھتے ہیں تو آسمانوں کو چھو لیتے ہیں..ایک بار اس کے خاوند نے کہا تھا “زینو تو میرے لئے آسمان جیسی ہے..”پتا نہیں اس نے ایسا کیوں کہا تھا..
“بس کہا نا.. فکر نہ کر”
اماں کی آواز نے پھر چونکا دیا..پہلی بار تھی کہ اماں اس کے آنسو پونچھے بنا ہی چلی گئ. زینو کچھ نہ کہہ سکی .
اماں جو منہ اندھیرے سے کڑھ رہی تھی فضلو کو یوں چپڑ چپڑ کھاتے دیکھ کر پھٹ پڑی تھی..اور فضلو ایس بیٹھا کھا رہا تھا جیسے کچھ سنائ ہی نہ دیا ہو..اسے اگر ذرا سا بھی احساس ہوتا تو دیواریں کب کی اونچی ہو چکی ہوتیں. فضلو نے تو بھائ کے مرنے کے بعد بھابی کو نظر بھر کر دیکھا تک نہیں تھا بھلا یہ کیسے جان پاتا کہ اسے کیا کرنا چاہیئے اور کیا نہیں..
پھر نہ جانے کتنے دن گزر گئے فضلو یونہی واہی تباہی پھرتا رہا اماں چیختی رہی کہ دیوار اونچی کر دے..اور فضلو کی سمجھ میں نہ آیا اس کی آوارہ گردی چھوڑ کے اماں دیواروں کے پیچھے کیوں پڑ گئ..
اس دن اماں ماموں کے گھر گئ ہوئ تھی . فضلو گھر پر کم ہی رہتا تھا مگر آج صبح ہی سے ہلکا سا بخار تھا اسی لئے وہ دیر تک آنگن میں چادر تانے لیٹا رہا..یہاں تک کہ رینگتی ہوئ اس کی منجھی تک آگئ..پر وہ ٹس سے مس نہ ہوا ..
“فضلو. ! اٹھ جا..آدھا دن گزر گیا”زینو نے اسے آواز دی
حالانکہ اس نے سوچا بھی کہ گزر گیا تو گزر گیا .. فضلو کون سا دن کی لگامیں تھام کے چلتا ہے .
“جاگ رہا ہوں..بخار ہے اور جسم کا درد نہیں اٹھنے دے رہا”
چادر الٹ کر وہ اٹھ بیٹھا اور زینو نے کن انکھیوں سے اس کے فولادی بدن کو دیکھ کر سوچا .. اس بدن میں بھی درد ہو سکتا ہے ؟
اس نے اپنی موٹی موٹی لال آنکھوں سے اسے دیکھ کر کہا “چائے ہے ؟ ”
“ہاں..تو کلی کرلے ”
فضلو نے وہیں بیٹھے بیٹھے چھوٹے کو گود میں بھر لیا جو قریب بھی بیٹھا مٹی کھا رہا تھا
“اس کو مٹی نہ کھانے دیا کر”
زینو بے اختیار بول اٹھی
“مٹی بھی نہ کھائے گا تو زندہ کیسے رہے گا”
زینو کا جملہ بھالے کی طرح اس کے دل میں پیوست ہو گیا.اس نے نظر اٹھا کر زینو کو دیکھا تو آنکھوں میں کانٹے سے چبھ گئے جیسے اس نے خار دار جھاڑیوں کو چھو لیا.
“چائے” زینو نے پیالہ بڑھایا تو اس کی کلائ کا سارا سونا پن فضلو کی آنکھوں میں بھر گیا. فضلو نے ہاتھ بڑھا کر چائے تو لے لی مگر دیر تک پیالے میں ایسے گھورتا رہا جیسے اس میں چائے نہ ہو بلکہ پچکے ہوئے پیٹ لیئے آنگن میں کلبلاتے بچوں کا لہو ہو.
“چھوٹے مے ناشتا کر لیا..” اس نے بھاری آواز سے پوچھا.
زینو نے لکڑیوں کی راکھ چولھے میں جھاڑتے ہوئے دھویں میں لپٹی اواز میں کہا “چائے پی لی ہے”
“اور میدہ نے ؟ عبدل نے ” فضلو نے گردن موڑ کر بچوں کی طرف دیکھا جو ٹھیکرو سے کھیل رہے تھے
زینو جھلا گئ”چائے پی ہے سب نے..اماں آٹا لائے گی تو روٹی پہ گھی چپیڑ کے دے دوں گی..دن کا بھی نمٹ جائے گا” زینو نے آنکھوں سے بہتے پانی کو دوپٹے سے رگڑ کر صاف کیا.. گاڑھا دھواں اب اس کے وجود سے لپٹ گیا تھا.. لکڑی گیلی تھی.
فضلو نے پیالہ منہ سے لگایا تبھی میدہ کی آواز سے چونک گیا جو عبدل کے سامنے ٹھیکرا رکھ کے کہہ رہی تھی “لے..روٹی کھا اور کام پہ جا ”
“فضول باتیں نہ کر …مجھ سے نئ ہوتا یہ کام وام ” عبدل نے فضلو کے سے انداز میں کہا اور پھر دونوں میں لڑائ ہونے لگی.. فضلو آگے کچھ سنے بغیر پیالہ منجھی کے نیچے سرکا کر درد سے ٹوٹتا بدن لئے باہر چلا گیا.
وہ سیدھا جبار کے پاس گیا.
” جبرو.. مجھے بھی کام پہ لگا دے”
جبرو حیران ہو گیا ..” آں. .. تو…؟؟ تو کام کرے گا ؟” یہ کہتے ہی جبار نے بے ڈھنگا سا قہقہہ لگایا پھر بولا”ابے چرس پی گیا ہے کیا ”
“کیوں.. تو نے کام چرس پی کے شروع کیا تھا کیا ” اکھڑے ہوئے لہجے کو سن کے جبار نے خود کو سنبھالا ..
“نئ نئ یہ بات نئ ..مجھے یقین نئ آرہا کہ تو..واقعی کام کرے گا ” جبار نے ہاتھ سے میلا کپڑا رکھا اور سامنے کے اسٹول پہ بیٹھ کر جیب سے سگریٹ کا ٹوٹا نکال کر سلگا لیا اس دوران وہ چبھتی ہوئ کھوجتی ہوئ نگاہوں سے دیکھتا رہا.اسے فضلو کے چہرے پر کچھ نہ دکھائ دیا تو وہ الجھ کر بولا.. “دیکھ فضلو..اگر تو واقعی کام کرنا چاہتا ہے تو یہ تیری ہی دکان ہے.. تو چاہے تو آج ہی سے کام شروع کر دے مگر دوست..میں کام کے معاملے میں ذرا دوسری قسم کا بندہ ہوں .دوستی یاری میں تو دل نکال کے دے دوں مگر کام میں رعایت نہیں کرتا..ایسا نہ ہو کہ تو….”
“بس بس.. میں جانتا ہوں.. تو کام بتا”
اس روز جبار نے اپنے پیسوں سے اسے سگریٹ بھی لے کے دی اورڈبل پتی کا پان بھی کھلایا.
جبار فضل دین کے محلے ہی میں رہتا تھا. فضلو کی اماں کا اس گھر آنا جانا تھا اور جبار فضلو کے گھر کے حالات سے بھی واقف تھا.وہ جانتا تھا کہ فضلو کی بوڑھی ماں کمر جھکائے،گھر گھر کام کرتی پھرتی ہے..اس کی جان کہانی والے دیو کی طرح بیوہ بہو اور اس کے بچوں کے پچکے ہوئے پیٹ میں اٹکی ہوئ ہے اوپر سے ایک جوان بیٹی کے کنوار پنے کا بوجھ..بیٹی کا دھان پان سا وجود تو اسے کسی آسیب کی طرح ڈرایا کرتا تھا.
آج جبار کھانا کھانے گھر گیا تو فضلو کا دروازہ کھٹکھٹا کر زینو بھابی کو یہ خوش خبری سنا گیا کہ فضلو اس کی دکان پر ملازم ہو گیا ہے.
شام کو اماں اور جدیجہ گھر لوٹیں تو زینو خوشی کے مارے اماں سے لپٹ گئ.
“ارے.. ارے..کیا ہو گیا..کیوں آپے سے باہر ہوئ جا رہی ہے”
“اماں .. اماں وہ.. فضلو..”جملے آنسو بن کے زینو کے حلق میں اٹک گئے.
“بھابی کیا ہوا بھائ کو ” خدیجہ گھبرا گئ پر اماں کے چہرے پہ سناٹا چھا گیا..جیسے وہ سب کچھ سننے اور صبر کرنے کو تیار ہو
“اماں فضلو جبار کی دکان پر ملازم ہو گیا”
اماں حیرت سے منہ کھولے یوں سنتی رہی جیسے زینو پاگل ہو گئ ہو پھر آدھا اتارا ہوا برقعہ پھر اوڑھ کر گھر سے نکل گئ. وہ سب کچھ اپنی آنکھوں سے دیکھنا چاہتی تھی.
پھر اسے یقین آگیا. اس رات اماں نے فضلو کے لئے پراٹھا بنا کے رکھا.. اسے معلوم تھا،سائیکل کے پنکچر لگانا بڑی محنت کا کام ہے خاص طور پہ اس کے لئے جو ہل کے پانی بھی نہ پیتا ہو..اس سوچا فضلو آئے گا تو بھوک سے بلبلا رہا ہو گا.
فضلو آیا تو ایک عجیب سی دبکی دبکی مسکراہٹ تھی اس کے چہرے پر آج پہلا دن تھا کہ اس کے آنے پر نہ زینو کے ہاتھ سے کوئ برتن جان بوجھ کے گر کر آنگن میں ناچا نہ اماں زبردستی دیر تک کھانسی اور نہ خدیجہ کمے میں چھپی رہی..
آج تو اماں کو فضلو کے منہ سے نکلتی چپڑ چپڑ کی آوازیں بھی اچھی لگ رہی تھیں.
اگلے دن فضلو گارا اور مٹی اٹھا لایا اور رات گئے تک لالٹین کی بتی اونچی کیئے گھنٹوں دیوار کا قد بڑھاتا رہا..اور کمرے میں چھوٹے کو بغل میں چھپائے زینو نے خواب دیکھا کہ کوئ اس کے چاروں طرف قلعے ایسی مضبوط دیواریں اٹھا رہا ہے..بس ایک دروازہ کھلا رہ گیا جہاں فضلو کھڑا پہرہ دے رہا تھا..
اس رات زینو ایسی ٹوٹ کے سوئ کہ صبح سورج کی کرنوں نے کوٹھڑی میں آکر اسے گدگدایا تو وہ ہڑبڑا کر اٹھ بیٹھی.
فضلو سویرے کام پر جا چکا تھا.اس کی منجھی پر پڑی چادر تہ کرتے ہوئے اسے خیال آیا کہ آج وہ ناشتا کیئے بغیر گیا ہے.. چولھا ٹھنڈا پڑا تھا اماں کام پر جا چکی تھی خدیجہ بھی ساتھ ہی جاتی تھی وہ استانی جی سے کلام_پاک پڑھنے کے علاوہ ان کے گھر کا کام بھی کیا کرتی تھی اور مہینے کے مہینے استانی جی اسے پیسے بھی دیا کرتی تھیں اور اکثر کپڑے لتے بھی..
زینو نے جلدی سے آلو کی بھجیا اور روٹی بنا کر عبدل کے ہاتھ جبار کی دکان پر بھیج دی.
اس رات فضلو دیر تک اماں سے کھسر پھسر کرتا رہا اور زینو بے چینی سے پھرتی رہی.. کبھی کبھی اماں اس پر حسرت بھری نگاہ ڈالتی تو وہ اور بے چین ہو جاتی..
فضلو کے بھائ عبداللہ کو مرے ڈیڈھ سال ہو چکا تھا..اس وقت چھوٹا صرف چھ دن کا تھا. اس نے فضلو کے سوا گھر میں کسی مرد کو دیکھا تک نہیں تھا. زینو نے سال بھر تو نیچی نظریں کیئے گزار دیا مگر اب اس کی نگاہیں اٹھتیں تو فضلو کے پہاڑ جیسے وجود سے ٹکرا کر واپس آجایا کرتیں یوں جیسے اس سے آگے کے سارے منظر کسی نے مٹا ریئے ہوں
یہی وجہ تھی کہ جب اماں نے رات روٹی پکاتے ہوئے اس سے جبار کے بارے میں پوچھا تو وہ ہاتھ جلا بیٹھی.
“جبار اچھا لڑکا ہے زینو..اور تو آخر کب تک اپنے آپ کو یوں چولھے میں جھونکتی رہے گی..کب تک تپتی رہے گی”
میں نے تو کبھی تجھ سے شکایت نہیں کی اماں..میں تو استانی جی کے گھر پر کام کرنے پر بھی تیار تھی مگر تو نے..”
“میں نے چھوٹے کی وجہ سے تجھے کام پر نہیں جانے دیا” اماں نے بات کاٹی
“میں چھوٹے کو لے کر بھی کام پہ جا سکتی ہوں اماں..میں اپنا اور بچوں کا بوجھ تجھ پر نہیں ڈالنا چاہتی مگر اماں…”زینو کی آواز رندھ گئ ” مجھے اسی گھر میں رہنے دے.میں ہاتھ جوڑتی ہوں اماں ” زینو اماں کے گھٹنے پر سر رکھ کر رو دی ..
“نہ تو،تو ہم پر بقجھ ہے نہ ترے بچے..میں تو دنیا کی نظروں سے ڈرتی ہوں..جبار تجھے سکھی رکھے گا”
اماں تو یہ کہہ کر چلی گئ مگر زینو آدھی رات تک سرد ہوتے چولھے کے پاس بیٹھی راکھ کریدتی رہی. کبھی کبھی کوئ دبی چنگاری لمحہ بھر کو اس کی آنکھوں میں بھڑک اٹھتی مگر اس کے آنسو اسے بجھا دیتے تو دور تک اندھیرا چھا جاتا..
” چل اٹھ.. چھوٹا اکیلا سو رہا ہے” فضلو نے اس کا ہاتھ تھاما اور گھبرا گیا .”تجھے تو تپ ہے..اور تو ساری رات اوس میں بھیگتی رہی”
وہ اسے لیئے کمرے کی طرف آرہا تھا کہ اسی لمحے اس نے دیوار کے پاس دو سائے دیکھے .خدیجہ کا سفید دوپٹا اس کی آنکھوں میں بجلیاں بھر گیا..وہ پل کو لڑکھڑایا پھر زینو کو کمرے میں چھوڑ گیا.
اگلے روز وہ سویرے ہی سے ڈاکٹر کی دکان کے آگے بیٹھا رہا. دس بجے دوا لے کر آیا تو زینو بخار میں بے ہوش پڑی تھی. چھوٹا پاس بیٹھا رو رہا تھا. اماں اور خدیجہ کام پر جا چکی تھیں .انھیں کیا معلوم تھا کہ زینو کو تپ چڑھا ہے.فضلو نے سوچا جا کر اماں کو لے آئے..
اسی لمحے زینو کسمسائ تو وہ اس پر جھک گیا “زینو کیسی ہے تو..تو نے اماں کو روکا کیوں نہیں..”
وہ دھیرے سے مسکرائ. شدید بخار نے اسے تمتما دیا تھا..اس کے ذرد رخسار تپ کر سرخ ہو گئے تھے ..نقاہت سے اس کی پلکیں بوجھل ہو رہی تھیں.
” فضلو..یہ جو تو نے دیواریں اٹھائ ہیں نا.. انھیں گرادے..میں تو سمجھی تھی کہ میں پناہ میں آگئ پر مجھے تو اماں ان دیواروں سے باہر دھکیل رہی ہے”
” کیسی باتیں کرتی ہے تو…پگلی..ہم تو تیرے بھلے کو کر رہے ہیں..جبار اچھا لڑکا ہے” ایسا کہتے ہوئے فضلو کی کنپٹیاں دھمکنے لگیں اور خدیجہ کا سفید دوپٹا نگاہوں میں سرارا گیا..” مجھے اچھا نہیں فضلو.. برا آدمی چاہیئے جو میرے چاروں طرف اونچی دیواریں اٹھا سکے.”
فضلو نے چونک کر اسے دیکھا..
“مجھے کہیں نہیں جانا فضلو ” زینو بلک اٹھی.
تب فضلو نے اسی دن اماں سے کہا..
“اماں.. جبار اچھا لڑکا ہے .. خدیجہ کو خوش رکھے گا”
“خدیجہ کو ؟؟ مگر تو تو کہہ رہا تھا کہ…” فضلو نے بات کاٹی “میں غلط سمجھا تھا اماں..اس نے تو اتنا کہا تھا کہ میں تمھارا بوجھ بٹانا چاہتا ہوں..اور میں سمجھا کہ..زینو ہی میرا بوجھ ہے..مگر…وہ تو خود میرا بوجھ اٹھانے کے قابل ہے اماں..”
اماں نے چونک کر فضلو کو دیکھا جس کی نگاہیں کی کوٹھڑی کی چوکھٹ سے چپک ہوئ تھیں اور دور کھڑی خدیجہ کے چہرے پر دھیمی دھیمی مسکراہٹ تھی.
تب اماں کو یوں لگا جیسے اس کے پاس کرنے کو اب کچھ نہ رہا ہو . سارے کا سارا بوجھ فضلو کے مضبوط کاندھوں نے اٹھا لیا ہو

Published inسیما غزلعالمی افسانہ فورم