Skip to content

برف کا ڈھیر

عالمی افسانہ میلہ 2018
افسانہ نمبر 50
برف کا ڈھیر
رضیہ حیدر خان ذاکر نگر ۔نئی دہلی۔

ارسلان اور ناذنین کی شادی کو ایک ماہ گذر چکا تھا اور اب ارسلان کی چھٹیاں بھی ختم ہونے کو تھیں، ارسلان کی پوسٹنگ آجکل ایک پہاڑی علاقے میں تھی ،یوں تو سردیوں میں وادی کے ہر خطے میں خاصی سردی ہوتی ہے لیکن پہاڑی علاقوں میں بہت زیادہ ہوتی ہے اور سردی کے ساتھ ساتھ برفانی طوفان وغیرہ بھی آتے رہتے ہیں جسکے چلتے خاصی احتیاط کرنا پڑتی ہے ۔اکثر خشک ہوائیں ، تیز آندھی طوفان کی شکل اختیار کر لیتی ہیں ۔ان سب سے بچاؤ کے لئے گورنمنٹ کی جانب سے محکمے ہوتے ہیں جو وقت بے وقت آنے والے موسمی اُتار چڑھاؤکے حساب سے ڈیوٹی پر آفیسر رکھے جاتے ہیں اور مزدور بھی اور زندگی روٹین سے چلتی رہتی ہے روزمرّہ کا کام بند نہیں ہوتا۔
ارسلان کے خاندان میں کبھی کوئی شادی کے بعد اپنی فیملی کو اپنے ہمراہ لے کر نہیں گیا ۔ سب ایک ساتھ رہتے تھے joint family کی روایت تھی ، کشمیر کے زیادہ تر خاندان اسی روایت کو آج بھی اپنائے ہوئے ہیں ۔ارسلان چاہتا تھا کہ وہ اپنی شریک حیات کو ہمرا ہ لے جائے حالانکہ یہ روایت سے ہٹ کر تھا ۔لیکن پھر بھی اُسکی یہ خواہش تھی کہ وہ ناذنین کو اپنے ہمرا ہ ہی رکھے ۔اکلوتا بیٹا تھا اس لئے بہت زیادہ کہنے کی نوبت نہیں آئی اور ارسلان کے ساتھ ساتھ ناذنین کے جانے کی بھی تیاریاں ہو گئیں۔
ناذنین ارسلان کی شریکِ حیات ہی نہیں اُسکی ماموزاد بھی تھی ۔ ناذنین کو سب گھر میں پیار سے ناذہ پکارتے تھے ، ناذہ بیحد خوبصورت تھی ،بہت سنجیدہ اور دیندار لڑکی تھی ۔ حالانکہ شادی سے پہلے وہ بہت چنچل اور شوخ تھی لیکن شادی کے بعد بالکل کم گو ہو گئی تھی ۔کھِلکھِلا کے ہنسنا تو دور وہ تو مسکراتی بھی بہت کفایت شاری سے تھی،ناذہ کے لئے وہ گھر کوئی غیر نہیں تھا اس لئے وہاں اُسکے اکیلا پن قطعی محسوس نہیں ہوتا تھا۔
سارا دن یا تو گھر سے باہر کا کوئی یا گھر کے افراد اسکے آگے پیچھے لگے رہتے ۔لیکن آج جب اُس نے اپنے جانے کی بات سنی تو اُسے ذرا سی دیر کے لئے کچھ اٹپٹا سا لگا اور اُسے کچھ دیر کے لئے بُرا بھی لگا لیکن وہ خاموش ہی رہی۔
ارسلان ناذہ کو لیکر اپنی قیام گاہ پہنچا ۔خوشی اُسکے چہرے سے جھلک رہی تھی ۔وہ بار بار ناذہ کی طرف دیکھتا اور پھولا نہیں سماتا کیونکہ اُس نے جو خواب دیکھا تھا ناذہ کو اپنے ساتھ لیکر آنے کا وہ پورا ہو گیا تھا ۔ یہ بہت بڑی بات تھی شادی کے بعد اگر کوئی اپنی فیملی کو لیکر بھی جاتا تھا تو مہمان بطور ۔ہفتہ دس دن کے بعد پھر واپس اپنی فیملی کے ساتھ….
ارسلان نے hut کا دروازہ کھولا اور یکے بعد دیگرے ناذہ کو گھر کا ساز و سامان دکھانے لگا……ناذہ جانتی ہو یہ صوفہ میں تب لایا تھا جب ہمارا رشتہ ہوا تھا ، یہ بیڈ اور یہ ڈائننگ ٹیبل جب ہماری منگنی ہوئی تھی ۔اسی طرح ارسلان نے ناذہ کو سارا مکان دکھایا۔اس درمیان ناذہ آہستہ سے جی کہہ دیتی یا ہلکے سے مسکرا دیتی۔ ’’ ناذہ ‘‘تم یہاں میرے ساتھ آ کر خوش ہو نا ‘‘ ارسلان نے ناذہ کو مخاطب کیا ….’’جی…‘‘ ناذہ نے کہا اور ارسلان کے قریب جا کر اُسکا ہاتھ اپنے ہاتھ ں میں لیکر مُسکرا دی۔ ارسلان نے بڑی محبت سے اُسکی پیشانی کو چوم لیا۔
ایک پہاڑی کے دامن میں قریب 15 یا 20 Hut بنی ہو ئی تھیں ایک کالونی کی طرح سامنے سے ایک سڑک گذرتی تھی جو اتنی چوڑی تو تھی کہ بیک وقت بلڈوزر اور ایک گاڑی گذر جائے ۔ایک کچا راستہ بھی تھا جو کئی جانب مُڑ رہا تھا …..ارسلان کی hut اُس کالونی کی سب سے پہلی hut تھی جس کا ایک دروازہ بیڈ روم میں کھُلتا تھا دوسرا living place میں اور ایک دروازہ پیچھے کی جانب کچن میں سے کھُلتا تھا۔hut کیا تھی اچھا خاصہ فلیٹ تھا ۔ دو بیڈ روم ایک living place بیچ میں گیلری اور اسکے بعد کچن دونوں کمروں کے باہر چبوترہ ،واش روم ایک کمرے کے ساتھ اٹیچ تھا اور دوسرا گیلری میں ، اس مکان کو ارسلان نے سجا سنوار کر خوبصورت گھر بنا رکھا تھا۔….
’’
السلام علیکم صاحب ‘‘ ارسلان نے دروازے کی جانب دیکھا شعبان اور اُسکی بیوی حاجرہ کھڑے ہوئے تھے۔ ’’ وعلیکم السلام ‘‘ آؤ شعبان ….ارسلان نے کہا ۔ ناذہ یہ شعبان اور یہ اسکی بیوی ہے یوں سمجھو کہ اس گھر کے ہی کار مختار ہیں۔‘‘ شعبان چوکیدار تھا اور اُسکی بیوی گھر کی صاف صفائی کا کام کرتی تھی اور کھانا بناتی تھی ۔ یہ سہولت بھی ارسلان کو محکمے کی جانب سے میسّر تی ۔ہاں تو میں کہہ رہا تھا یہ دونوں اور انکے پیارے پیارے دو بچّے یہ ہماری فیملی ممبر کی طرح ہیں ۔حاجرہ بہت لزیز کھانا بناتی ہے مجھے یقین ہے کہ تمہیں یہاں بھی ایک بھری فیملی کی طرح ہی محسوس ہوگا ۔‘‘ جی ناذہ نے مُسکرا کر اُن دونوں کو دیکھا۔ حاجرہ میرے لئے ایک کانگڑی لا دواگر تیار ہے تو ۔
جی بی بی جی …..ابھی لاتی ہوں ۔‘‘ اور حاجرہ بہت جلدی سے برابر والی ہٹ میں گئی جہاں سے بچوں کے کھیلنے اور بولنے کی آوازیں آ رہی تھیں اور پانچ منٹ میں حاجرہ کانگڑی لے آئی۔ناذہ نے کانگڑی کو اپنی شال میں چھپایا اور حاجرہ کی طرف دیکھ کر مسکرا دی….اب آپ شام کے کھانے کی تیاری کریں ۔لیکن اس سے پہلے جلدی سے چائے ہو جائے۔‘‘ارسلان نے کہااور ارسلان اور ناذہ اندر چلے گئے ۔ارسلان نے بیڈ روم کا دروازہ کھولا جو چبوترے پہ کھلتا تھا ۔
صرف دو سیڑھیاں چڑھ کر یہ چبوترہ تھا اوراسکے آگے چھوٹا سا صحن اور صحن کے سامنے لکڑی کا چھوٹا سا گیٹ ، صحن میں کیاریاں بھی بنی ہوئی تھیں بہار کے موسم میں پھول بھی کھِلتے ہونگے لیکن اب تو وہ سب سفید چادر اوڑھے ہوئے تھے۔ہلکی سی برف کی چادر ۔چبوترے پر کھڑے ہو کر ارسلان نے ناذہ کو مخاطب کر کے کہا ’’ دیکھو ناذہ وہ غروب ہوتا ہوا سورج کتنا خوبصورت لگ رہا ہے اور جاتے جاتے ایک پیغام بھی دے رہا ہے ۔
’’
کیا …ناذہ نے کہا..‘‘
ہم دونوں ہمیشہ ایک دوسرے کے ساتھ رہیں گے اور یہ کہکر ارسلان نے ناذہ کا ہاتھ اپنے ہاتھوں میں لیکر کہا ’’ میرا ساتھ نبھاؤ گی نا۔‘‘
جانے کیوں ناذہ کی آنکھیں بھر آئیں ۔آنسوؤں کے دو موتی اسکے خوبصورت رخصاروں پر اُتر آئے ’’ ارے یہ کیا تم اُداس ہو گئیں ۔میں جانتا ہوں ناذہ تم اُداس ہو۔‘‘ ناذہ نے کچھ حیرت سے ارسلان کی طرف دیکھا تو ارسلان نے وضاحت بھی کر دی۔
’’
ارے بھئی پہلی بار اتنی بڑی فیملی سے الگ ہوئی ہو نا اس لئے ایسا ہو رہا ہے ۔انشاء اللہ بہت جلدی یہاں تمہارا دل لگ جائے گا۔ میں ہوں نہ تمہارے ساتھ ‘‘ اور ارسلان نے ناذہ کے رخساروں پہ اُترے موتیوں کو بڑی حفاظت سے اپنے رومال میں سمیٹ لیا۔…….
ان دونوں کو یہاں آئے ہوئے پندرہ دن کے قریب ہو گئے تھے ۔ ارسلان آجکل بیحد مصروف تھا ۔اکثر رات کو بھی کئی کئی گھنٹے ڈیوٹی پر گذارنے پڑتے اور کئی بار ناذہ ارسلان کا انتظار کرتے کرتے سو جاتی اور پھر دیر رات وہ لوگ کھانا کھاتے ۔کبھی کبھی پورا دن بھی ارسلان ڈیوٹی پر ہی ہوتا ….ناذہ ہمیشہ کوشش کرتی کہ جتنی دیر ارسلان گھر میں رہے وہ اُسکی دل جوئی کرے اور اُسے خوش رکھے اور ارسلان بھی ہر لحاظ سے ناذہ کا بہت اچھا شوہر بننے کی کوشش میں لگا رہتا۔
ناذہ اکثر اپنے ہاتھ سے کھانا بناتی ، شعبان کو بازار بھیج کر ضرورت کا سامان منگاتی اور کئی طرح کے لذیز کھانے بناتی ، سارا دن جب اکیلی ہوتی تو شعبان کے بیوی بچوں کے ساتھ ہنستے کھیلتے وقت گذارنے کی کوشش کرتی۔
آج ناذہ نے کئی طرح کے کھانے بنائے تھے ارسلان ڈیوٹی سے لوٹا تو اُس نے آتے ہی ناذہ کو یہ خبر دی کہ آج افسکی نائٹ ڈیوٹی ہوگی ، محکمہ موسمیات کی پیشین گوئی ہے کہ آج رات کو کسی بھی وقت برف باری شروع ہو سکتی ہے ، بھاری برف باری کی توقع ہے اور برفانی طوفان کے آنے کا بھی خطرہ ہے ۔شام کے چار بجے تھے ارسلان چائے سے فارغ ہوا اور فوراً ہی تیار ہو گیا ۔کھانے تک تو رُک جاتے میں نے آپکی پسند کا کھانا بنایا ہے ۔‘‘ ناذہ نے ارسلان کو مخاطب کیا ‘‘ ’’ حضور آپکی محبت سر آنکھوں پر لیکن کیا کریں ڈیوٹی تو ڈیوٹی ہے ، جانا پڑے گا۔‘‘
ارسلان نے اور کوٹ اور دستانے پہنے اور گاڑی کی چابی لیکر باہر نکل گیا دو منٹ بعد ہی واپس لوٹ آیا ۔’’ بیگم دھیان سے سنو میں شعبان اور اُسکی بیوی سے کہتا ہوا جاؤں گا رات کے کھانے کے بعد حاجرہ تمہارے پاس آ جائے گی اور شعبان دونوں جگہ کی نگرانی رکھے گا ۔تم پریشان مت ہونا ، کھانا کھا لینا میرا انتظار مت کرنا کیونکہ آج میرا آنا مشکل ہے ۔انشاء اللہ صبح بہت سویرے آ کر ملاقات ہوگی اور ہاں شعبان کو کہیں باہر مت بھیجنا نہ ہی اُسے جانے دینا ….اللہ حافظ۔‘‘
ارسلان کے جانے کے بعد ناذہ کافی دیر چبنوترے پر کھڑی ہوئی دور تک اُسکی گاڑی کو جاتے ہوئے دیکھتی رہی ۔آجکل حالات قدرے بہتر تھے ۔ کئی دن سے کہیں سے بھی کسی نا خوشگوار واقعے کی اطلاع نہیں تھی اس لئے ناذہ کہیں نہ کہیں تسلّی سے تھی….
کافی دیر تک ٹی وی دیکھنے کے بعد اور ساری خبریں سُن لینے کے بعد ناذہ وضو کے لیے اُٹھی تبھی حاجرہ نے دروازۃ بجایا ۔کھانا لگا دیں بی بی ‘‘ ارے نہیں بھئی ابھی وقت ہی کیا ہوا ہے ، ابھی نہیں۔ وقت کتنا ہوا ہے بی بی مجھے تو وقت کا پتہ ہی نہیں رہتا ۔ مجھے شعبان بھی اس بات پہ کئی بار ڈانٹ دیتا ہے ‘‘ کوئی بات نہیں ایک گھنٹہ بعد کھانا لگا لینا ناذہ نے کہا اور ناذہ نماز پڑھنے لگی ۔نماز اور دعائیں پڑھ کر فراغ ہوئی تو حاجرہ نے کھانا لگالیا۔ ناذہ نے ایک دو نوالے کھائے تھے کہ رُک گئی…..’’ حاجرہ شعبان کہاں ہے ‘‘ جی ابھی بلاتی ہوں اور حاجرہ شعبان کو بُلا لائی ۔ جی بی بی سب خیریت ..؟‘‘ ہاں سب خیریت ہے شعبان تم صاحب کے آفس کا راستہ جانتے ہو ۔‘‘ ناذہ نے کہا ۔
جی بی بی جی ….
کتنا وقت لگتا ہے پیدل آنے جانے میں ۔‘‘ ناذہ نے کہا ۔
جی کوئی بیس منٹ آنے میں اور بیس منٹ جانے میں ۔‘‘ تو ٹھیک ہے تم کھانا پیک کرو ٹِفن میں اور صاحب کو دے آ:و۔‘‘ شعبان حیرت سے ناذہ کو دیکھ رہا تھا ۔
بی بی صاحب نے سختی سے منع کیا ہے کہ آپ کو چھوڑ کر کہیں نہ جائے ۔رات کا وقت ہے کسی وقت بھی برف باری شروع ہو سکتی ہے اور آدھا گھنٹے سے ہلکی ہلکی بارش بھی ہو رہی ہے ۔
اوفو شعبان تمہارے لیے کون سا انجانا راستہ ہے ۔ابھی ساڑھے سات بجے ہیں انشاء اللہ ساڑھے آٹھ تک تم واپس بھی آ جاؤ گے کون سی دیر لگنی ہے۔‘‘
اور شعبان بہت ہی پریشانی کے عالم میں اٹھا ،کھانا پیک کیا اور باہر نکل گیا…..شعبان …. میں نے صاحب کی پسند کا کھانا بنایا ہے ۔ میں کھا نہیں پاتی انکے بغیر ۔ناذہ نے شعبان کو دروازے پر رخصت کرتے وقت کہا…..کھانے سے فارغ ہو کر ناذہ کمرے میں داخل ہوئی تھی کہ ارسلان کا فون آ گیا ۔ ’’ کمال کرتی ہو یار …..حد کر دی تم نے ایک کھانے کو لیکر تم نے اتنا بڑارسک لے لیا ۔یہاں کھانے کا سارا انتظام ہوتا ہے ، نائٹ شفٹ والوں کے لئے باقاعدہ کھانا بنوایا جاتا ہے ….یہ کیا بے وقوفی ہے باہر دیکھو کتنی زوردار برف باری ہو رہی ہے اور تیز ہوائیں بھی۔ میں ایسے موسم میں شعبان کو واپس نہیں بھیج سکتا ، یہ بھی انسان ہے اور میں تو گاڑی سے بھی نہیں چھوڑ سکتا ۔اتنی تیز برف باری میں گاڑی نہیں چل پائے گی ۔خیر اب جو ہونا تھا ہو گیا اب کیا ہو سکتا ہے ۔اپنا خیال رکھنا ، کھڑکی اور دروازے اندر سے بند رکھنا ۔اگر حاجرہ بچوں کے ساتھ ابھی وہیں ہو تو اُسے روک لو، میں آنے سے پہلے فون کروں گا اور رابطے میں رہنے کی کوشش کروں گا۔ اللہ حافظ اور ارسلان نے فون کاٹ دیا ۔ ناذہ بہت پریشان تھی اُس نے ایک نظر کھڑکی سے باہر جھانکا اور ٹھٹھک کر رہ گئی …..اُف میرے خدا ….! یہ میں نے کیا کر دیا ۔شعبان کو تو بھیج ہی دیا حاجر ہ کو بھی یہ کہکر رخصت کر دیا کہ جب شعبان آ جائے گا تو وہ اُس کے پاس آ جائے گی۔ ناذہ ڈری سہمی ہوئی بستر میں منہ ڈھانپے پڑی تھی ….ہوائیں بہت تیز تھیں بار بار کھڑکی کھڑکیاں کھڑک رہی تھیں ۔ناذہ آنکھیں بند کر کے نیند کو زبر دستی بلانے کی کوشش کر رہی تھی لیکن نیند کا دور دور تک کہیں پتہ نہیں تھا …..پھر ایسا لگا جیسے ناذہ کسی دوسری دنیا میں چلی گئی……یہاں اُسکے میکے کی دنیا ،اُس کا کالج اُسکی سہیلیاں اور ….یاصر ….جسے وہ کافی پہلے سے جانتی تھی اور بے انتہا محبت کرتی تھی ….یونیورسٹی میں دونوں ساتھ پڑھتے تھے ….یاصر ایک خوبصورت نوجوان تھا …نہایت ذہین اور ناذہ کی طرح اُسکی گنتی بھی کالج کے ہونہار طالب علموں میں ہوتی تھی ۔دونوں ایک دوسرے کو جان پہچان سے کچھ آگے تک جانتے تھے۔ ناذہ دل ہی دل میں یاصر کو بہت چاہتی تھی لیکن کبھی کسی سے یا خود یاصر سے بھی کہلوانے یا کہنے کی جسارت نہیں کی…..بس دل ہی دل میں ہمدردی تھی اور شاید محبت بھی………‘‘
’’
اُف میرے اللہ ..! یہ سب کیا ہو رہا ہے ، یہ مجھے کس قسم کے خیال آ رہے ہیں ….میرے خدا رحم کر میرے نزدیک یاصر کا خیال بھی نہ ہو کر گذرا، میرے لیے اب ارسلان سے بڑھ کر کوئی نہیں ..‘‘ ناذہ کے چہرے پہ اتنی سخت سردی کے باوجود پسینے آ گئے ….ناذہ نے کروٹ بدل کر آنکھیں بند کر لیں …..لیکن خیالوں کا سلسلہ تھا کہ ٹوٹتا ہی نہیں تھا ….ناذہ کے لاکھ چاہنے پر بھی ۔ اور ناذہ پھر سے ایک بار اُسی دنیا میں لوٹ گئی ….
تو بھئی مان گئے دلوں کے حال اللہ بہتر جانتا ہے ۔‘‘ نیلوفر نے چھیڑنے کے انداز میں کہا…..یاصر کا خط ہے جواب بھی مانگا ہے ….پہلی اور آخری بار جواب دے دو اور خط بھی پڑھ لو کیونکہ آگے آگے تو موبائل زندہ باد ’’ ہائے اللہ خاموش ہو جا نیلوفر …کسی نے سُن لیا تو کیا ہوگا ….ناذہ نے نیلوفر کے منہ پہ ہاتھ رکھ کر کہا ناذہ اوریاصر کی محبت پروان چڑھنے لگی …..پاک محبت ایک دوسرے کو دل و جان سے چاہنے والے ….ایک وعدہ دونوں نے ایک دوسرے سے کیا ہوا تھا کہ اپنے بارے میں وہ کبھی کسی کو نہیں بتائے گی ….اور نہ ہی کبھی ایسا کچھ کریں گے کہ کسی کو شک بھی ہو جائے۔
نیلوفر کی بات اور تھی وہ ناذہ کی ہی نہیں بلکہ اب یاصر کی بھی بہت اچھی دوست تھی بہت اچھی بہن تھی اور اُس نے بھی وعدہ کیا تھا کہ ہمیشہ راز رکھے گی جب تک صحیح وقت نہ آ جائے…..‘‘
ہمیشہ کی طرح جب ایک دن یاصر کا فون آیا تو ناذہ نے صرف دو ہی جُملے کہکر فون کاٹ دیا ….آیندہ مجھے فون مت کرنا ، میری شادی ہو رہی ہے ۔اس کے بعد یاصر نے جانے کتنے ہی فون کیے لیکن ناذہ نے کبھی فون نہیں اُٹھایا ….نیلوفر نے جب سُنا تو غصّے سے لال پیلی ہونے لگی ’’ یہ اچانک تمہاری شادی کیسے ہونے لگی ناذہ..‘‘ مجھے بھی ابھی پتہ چلا کہ میری شادی ہو رہی ہے ۔رشتہ ہو چکا ہے اور اِس ہفتے منگنی بھی ہو رہی ہے ۔‘‘ تم نے احتجاج نہیں کیا‘‘ کیسا احتجاج نیلوکیا احتجاج مجھے یہ بتایا گیا کہ پھوپی کی طبیعت خراب چل رہی ہے وہ چاہتی ہیں کہ جلد انکے اکلوتے بیٹے کی شادی ہو جائے اور ہاں یہ بھی کہ اُن کا بیٹا بھی مجھے ہمیشہ سے پسند کرتا ہے ۔ سب بہت خوش ہیں ۔میرے لئے ابو کا حکم اور اُس سے بھی بڑھ کر اُن کا بھروسہ مجھ پر ….میں کیا کہتی کب کہتی اور ناذۃ نیلوفر کے کاندھے پر سر رکھ کر پھوٹ پھوٹ کر رونے لگی …‘‘
ہم لڑکیوں سے پوچھا ہی کب جاتا ہے کہ ہماری پسند نا پسند بھی کچھ ہے یا نہیں ….بس حکم سنایا جاتا ہے جس کی تعمیل کرنا ہر لڑکی اپنے مقدر میں لکھوا کر لاتی ہے میں نے سوچا تھا اس بار امتحان کے بعد میں امّی کو سب بتا دونگی …..لیکن…‘‘ ہاں ناذہ یاصر بھی یہی کہہ رہا تھا کے امتحان کے بعد ہماری شادی کی بات ہوگی وہ بھی اپنے گھر والوں کو رشتے کے لئے بھیجنے کو کہہ رہا تھا۔‘‘
اب سب ختم ہو گیا ….نیلو .! سب ختم ہو گیا۔ میں خود نہیں جانتی کہ میں یہ رشتہ کیسے نبھا پاؤں گی ۔اللہ میری مشکل آسان کرے ۔ زندگی کے کسی موڑ پر شادی کے بعد اگر یاصر سے آمنا سامنا ہوا تو کیا ہوگا…؟ نیلو ..! میں کیا کروں اور ناذہ کئی گھنٹے سسکتی رہی۔
کئی مہینے تک نیلوفر ناذہ کو یاصر کی خیریت دیتی رہی لیکن ایک دن ناذہ نے نیلوفر کو قسم رکھ کر یہ سلسلہ بند کروا دیا….
ناذہ کے خیالوں کا سلسلہ ٹوٹا ۔اچانک دروازے پر کسی نے دستک دی ۔کوئی لگاتار دروازہ بجائے جا رہا تھا ….ناذہ بے تحاشہ کانپ رہی تھی ۔حالات کو دیکھتے ہوئے وہ دروازۃ کھولنے کی ہمت نہیں جُٹا پا رہی تھی ۔ ہوائیں ابھی بھی بہت تیز چل رہی تھیں بار بار کھڑکی اور دروازْ ہل جاتے اور اس بیچ یہ دستک….ناذہ نے لحاف سے منہ ڈھانپ لیا ، بُری طرح لرز رہی تھی ……اور پھر آہستہ آہستے دستک کی آواز مدھم ہوتی چلی گئی۔ لیکن اچانک ایک آواز آئی دھاڑ سے جیسے کوئی بھاری بھرکم چیز دروازے سے آ کر ٹکرائی ہو …..اور اس کے بعد سنّاٹا ہو گیا ۔ رات کے دو بجے تھے
ہوائیں ابھی تک اسی رفتار سے چل رہی تھیں اور برف باری بھی ابھی تک ہلکی نہیں ہوئی تھی ۔کافی دیر تک ناذہ کانوں پر ہاتھ دھرے بستر میں دبکی ہوئی پڑی کانپتی رہی اور پھر اُسے نیند آ گئی۔ ۔اچانک ناذہ کی آنکھ کھلی باہر سے کچھ لوگوں کے آہستہ آہستہ بولنے کی آوازیں آ رہی تھیں اور پھر ایک آواز سُن کر وہ لرز کر بیٹھ گئی ۔ ناذہ ….نازہ یہ آواز ارسلان کی تھی ۔ارسلان کے پاس دوسری چابی تھی اس نے Living place کا دروازہ کھولا اور زور زور سے چلانے لگا ۔ ناذہ کہاں ہو تم ایسی بھی کیا غفلت ‘ایسا بھی کیا ڈر اور خوف کہ ایک آدمی کی جان چلی گئی لیکن تم نے دروازہ نہیں کھولا …..کوئی مسافر تمہارے در پہ دستک دے رہا تھا ،کیا پتہ کوئی بیمار تھا ، زخمی تھا یا تھکا ہوا تھا ۔اس برفانی طوفان میں جانے کون مصیبت کا مارا دروازے پر آیا ہوگا ۔ ایک بار کھڑکی سے جھانک ہی لیا ہوتا…..کیا پتہ اس غریب کی جان ہی بچ جاتی ۔ارسلان بہت غصّے سے ناذہ کو کھری کھوٹی سُنا رہا تھا ۔ ناذہ روئے جا رہی تھی ساری رات کی جاگی ہوئی تھی آنکھیں سوج گئی تھیں ….وہ کیا کہتی کہ رات بھر اُس کے ساتھ کیا گذری …..ارسلان کے بیڈ روم کا دروازۃ کھُل نہیں سکتا تھا کیونکہ اس دروازے پر ہی وہ لاش پڑی تھی …..ارسلان نے ناذہ کا ہاتھ پکڑا اور اُسے کھینچتا ہوا living place کے دروازے پر لے آیا ۔
’’
وہ دیکھو کہیں نہ کہیں اس شخص کی موت کی تم ذمہ دار ہو ….ناذہ ارسلان کو حیرت سے دیکھ رہی تھی اُس نے ارسلان کو پہلے کبھی اتنی اونچی آواز میں بولتے نہیں سُنا تھا ۔دوپٹّے سے بار بار آنسو پوچھ رہی تھی ….کچھ حالات اور کچھ ٹھنڈ سے وہ بُری طرح کانپ رہی تھی
کچھ لوگ شعبان اور ارسلان کے ساتھ اس لاش سے برف ہٹا رہے تھے ۔جیسے ہی لاش کے چہرے سے برف ہٹی تو چہرہ سامنے آیا…..
ناذہ کی پتلیاں پھیل گئیں ، ہاتھ پیر نیلے پڑ گئے ، دانت بجنے لگے ۔سامنے برف کے ڈھیر میں یاصر کی لاش دیکھ کر وہ برف کا ڈھیر ہو گئی۔

Published inرضیہ حیدر خانعالمی افسانہ فورم