Skip to content

بددعا کرنے والے

عالمی افسانہ میلہ 2015

افسانہ نمبر 28

بددعا کرنے والے

سلیم سرفراز، آسنسول، مغربی بنگال، انڈیا

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

میں یہ انتہائی قدم نہ اٹھاتا لیکن ناگہانی طور پرپیش آنے والے واقعات کے بعد میں بہت دل برداشتہ ہو گیا تھا۔ مجھ میں اتنی سکت نہیں تھی کہ میں ان سے انتقام لے سکتا اورنہ ہی قانون کے ذریعہ انہیں سزا دلوا سکتا تھا۔ انصاف کی طرف جو راستے جاتے تھے ان کے ہر موڑ پر ایسے راہزن بیٹھے ہوئے تھے جو مال ومتاع بھی لوٹ لیتے اور وہاں تک پہنچنے بھی نہیں دیتے۔ یہ بڑی اذیت ناک صورت حال تھی۔ ایک آزاد اور جمہوری ملک میں ظلم و ناانصافی کے ایسے مناظر اس کے خدوخال کو مسخ کرتے تھے۔ اس چھوٹے سے شہر کے ایک چھوٹے سے گھر میں میری رہائش تھی۔ گھر پر میری دائمی مریضہ بیوی اور ایک سن بلوغ کو پہنچ چکی بیٹی تھی۔ میں ایک نجی کمپنی میں ملازم تھا۔ دن بھر کی محنت شاقہ کے عوض مہینے کے آخر میں تنخواہ کے نام پرجو رقم ملتی تھی وہ ہم تینون کی کفالت کے لیے ناکافی تھی۔ اس پر میری بیوی کی دواؤں کاخرچ ایک اضافی بار تھا۔ وہ تو میری بیٹی بے حدحساس اور سمجھدارتھی کہ اس نے کالج میں داخلے کے بعد ہی کچھ ٹیوشن پکڑ لیے تھے جن سے نہ صرف اس کے تعلیمی اخراجات پورے ہو جاتے بلکہ گھر کی دیگر ضروریات کی مد میں بھی تھوڑی مدد ہو جاتی تھی۔ کالج سے آنے کے بعد وہ کھانا کھا کر تھوڑی دیر آرام کرتی اورپ ھر بچوں کو پڑھانے نکل جاتی۔ رات نو بجے تک اس کی واپسی ہوتی تو وہ بیحد تھکی ہوئی ہونے کے باوجود کھانا پکانے میں اپنی بیمار ماں کی مدد کرتی۔ رات دس ساڑھے دس بجے کے قریب میں گھر آتا اور کھا پی کر سو جاتا۔ عجب بے رس اور تیرگی زدہ زندگی تھی۔

امید کی بس ایک ننھی سی کرن تھی کہ میری بیٹی تعلیم مکمل کرکے کسی معقول ملازمت سے لگ جائے گی تو شاید ہمارے خزاں رسیدہ شب و روز میں تھوڑی سی بہار آ جائے لیکن یہ امید کی کرن بھی ۔۔۔۔۔۔۔ ایک رات میری بیٹی نے قدرے جھجھکتےہوئے بتایا کہ جب وہ کالج جاتی ہے تو راستے میں دو تین آوارہ لڑکے اسے چھیڑتے ہیں، تعاقب کرتے ہیں اور آوازے کستے ہیں۔ ان میں سب سے پیش پیش اپنے ہی علاقے کے چودھری جی کا بیٹا ہوتا ہے۔ چودھری صاحب کو میں پہچانتاتھا۔ خاصے شریف اورعبادت گذارشخص تھے۔ جب کبھی علاقے کی مسجد میں جاناہوتا،ان سے ملاقات ہو جاتی۔ ہمیشہ سلام میں پہل کرتے۔ بے حد نرمی اور شفقت سے پیش آتے تھے۔ مجھے دکھ ہوا کہ ان کا لڑکا ان شورہ پشتوں کاسرغنہ ہے۔ دوسرے روز میں ان سے ملا اورانہیں ان کے لڑکے کی نازیبا حرکت سے آگاہ کیا۔ انہوں نے خاموشی سے میری شکایت سنی اور پھرسنجیدگی سے کہا؛

“میں اسے تنبیہ کروں گا کہ آئندہ ایسی بدتمیزی نہ کرے۔” قدرے توقف کے بعدوہ پھر بولے؛

“لیکن تمہیں بھی خیال رکھنا چاہیئے کہ جوان لڑکی کو تنہا باہرنہ بھیجا جائے، سخت ممانعت ہے۔”

“وہ تعلیم حاصل کرنے کالج جاتی ہے۔ اب کیا اس کا کالج جانا بند کروا دوں۔” میں نے حیرت سے کہا تو وہ مبلغانہ انداز میں بولے؛

“لگتا ہے تم دین و مذہب سے بالکل بیگانے ہو۔ دین میں سختی سے تاکید کی گئی ہے کہ بالغ لڑکی بغیر کسی محرم کے گھر سے باہر قدم نہ نکالے اور پھر کالج کا علم تو شیطانی علم ہےجسے حاصل کرنا گناہ ہے۔ میری مانو تو اس کی پڑھائی بند کروا کے گھر بٹھاؤ اور جلد سے جلد اس کا کہیں نکاح کروا دو۔”

میں حیرت زدہ سا ان کے باریش چہرے کو دیکھتا رہا۔ مجھے قطعی اندازہ نہ تھا کہ بظاہر معقول سے نظر آنے والے چودھری صاحب اس قدر دقیانوسی اور فرسودہ خیالات کے حامل ہوں گے۔ یہ تو نیم جاہل قصباتی ملاؤں والے خیال تھے جبکہ میں انہیں ایک جہاندیدہ اور روشن خیال فرد تصور کرتا تھا۔ میں جانے کے لیے اٹھ کھڑا ہوا تو انہوں نے پھر کہا؛

“میرے مشورے پر عمل کرنا۔ فلاح پاؤ گے۔”

اب میں سوچتا ہوں کہ کاش میں نے ان کے احمقانہ مشورے پر عمل کیا ہوتا تو یہ دن دیکھنے نہ پڑتے۔ اس رات میں حسب معمول کام سے واپس آیا تو میری بیوی متفکر اورپ ریشان سی میری منتظر تھی۔ اس نے بتایا کہ میری بیٹی اب تک گھر نہیں لوٹی ہے تو میں بھی فکرمند ہو گیا۔ وہ نو بجے سے قبل ہی گھر آ جاتی تھی جبکہ اس وقت ساڑھے دس بج رہے تھے۔ اگر اسے کہیں رکنا ہوتا تو یقیناً اپنی ماں سے کہہ کر جاتی۔ میں دل میں ڈھیر سارے خدشات لئے الٹے پیروں باہرنکل آیا۔ مجھے معلوم تھا کہ وہ آخری ٹیوشن کہاں کرتی ہے۔ وہاں پہنچ کر میں نے دروازے پر دستک دی۔ تھوڑی دیر میں دروازے پر ایک بوڑھا شخص نظر آیا۔ میں نے اپنی بیٹی کے بارے میں دریافت کیا تو اس نے تعجب سےکہا؛

“وہ تو میری پوتیوں کو پڑھا کر کب کی چلی گئی۔ شایدآٹھ ساڑھے آٹھ بجے ہوں گے۔ کیا وہ اب تک گھر نہیں پہنچی؟”

میں نے اپنی پریشانی اس سے چھپاتے ہوئے کہا؛

“نہیں۔۔۔۔! شاید اپنی کسی سہیلی کے یہاں رک گئی ہو۔”

میں دھڑکتے دل کے ساتھ پھر گھر آیا کہ شاید وہ آ گئی ہو۔ لیکن وہاں میری بیوی تنہا ہلکان ہو رہی تھی۔ اس نے پرامید نگاہوں سے مجھے دیکھا اور پوچھا؛

“کچھ پتہ چلا. ؟”

میں نے نفی میں سرہلایا تو اس کی آنکھیں بھر آئیں۔ میں نے اسے دلاسا دیتے ہوئے کہا؛

“گھبرانے کی ضرورت نہیں۔ وہ سمجھدار اور باہمت لڑکی ہے۔ کسی وجہ سےکہیں ٹھہرگئی ہوگی۔ جلد ہی آ جائے گی۔”

میں نے محسوس کیا کہ میری آواز میں یقین کم اندیشے زیادہ ہیں۔ اب میں اسے تلاش کرنے کہاں جاتا۔ جاڑے کاموسم تھا۔ لوگ اپنے گھروں میں بند ہو چکے تھے۔ میں کس کے گھرجاتا۔ میری تو یہاں کسی سے ایسی شناسائی بھی نہیں تھی کہ اس سردی میں میری مدد کو آتا۔ میں اور میری بیوی رات بھر جاگتے رہے اور ہر آہٹ پر چونکتے رہے۔ فجرکی اذان ہوئی تو میری بیوی مصلے پر جا بیٹھی۔ نماز پڑھ لینے کے بعد وہ دیر تک دعا مانگتی رہی۔ مجھے معلوم تھا کہ وہ اپنی بیٹی کی خیر و عافیت سے گھر لوٹنے کی ہی دعا مانگ رہی ہو گی۔ میں اداس آنکھوں سے اس کے نحیف و ناتواں سراپےکو دیکھتا رہا۔ معاً دروازے پر دستک ہوئی تو میں ہڑبڑا کر اٹھا۔ میری بیوی بھی دعائیں بھول کردروازے کی طرف دیکھنے لگی جو اب زور زور سےکھٹکھٹایا جانے لگا تھا۔ میں نے چٹخنی گرائی اور پٹ کھول دیئے۔ سامنے خاکی وردی میں ملبوس پولیس والوں کو دیکھ کر میرے اوسان خطا ہو گئے۔ بڑی مشکل سےمیرے لبوں کو جنبش ہوئی۔

“کیابات ہے ؟”

سامنے کھڑے پولیس انسپکٹر نے کہا؛

“اس علاقے کے قبرستان کے پاس درخت سے لٹکی ہوئی ایک جوان لڑکی کی لاش ملی ہے۔ کچھ لوگوں کا کہنا ہے کہ وہ تمہاری بیٹی ہے۔ چل کرشناخت کرو۔”

میں گنگ سا کھڑا رہ گیا۔ میری بیوی تڑپ کر چیخی اور غش کھا کر مصلے پر گر پڑی۔ مجھ میں اتنی بھی سکت نہیں تھی کہ آگے بڑھتا اور اسے دیکھتا کہ جیتی ہے یا مرگئی۔ پولیس انسپکٹر نے بےحس لہجے میں کہا؛

“دیر ہو رہی ہے۔ آگے کی قانونی کارروائی بھی کرنی ہے۔ تم لاش شناخت کرکے اپنا بیان درج کرواؤ۔” اس نے ایک کانسٹبل کو اشارہ کیا تو اس نے آگے بڑھ کر میرے کاندھے پر ہاتھ رکھا اور کہا؛

“چلو!”

میں کسی معمول کی طرح اس کے ساتھ چل پڑا۔ قبرستان کے قریب پہنچا تو وہاں بھیڑجمع تھی۔ وہ پیپل کا درخت تھا جس کی ایک موٹی شاخ سے میری بیٹی ۔۔۔۔۔۔ ہاں میری ہی بیٹی کی نیم برہنہ لاش جھول رہی تھی۔ اس کے کپڑے تار تار تھے اور جسم پر تشدد کے نشانات تھے۔ میں نے اسے شناخت کیا اور پھر مجھے کچھ یاد نہ رہا۔ حواس واپس آئے تو دیکھا کہ کوئی مجھے سنبھالے ہوئے گھر کی طرف لا رہا ہے۔ گھر میں میری بیوی اسی طرح مصلےپر پڑی ہوئی تھی۔ میرے ساتھ آنے والا شخص اس کے قریب پہنچا۔ نبض دیکھی اور چہرے پرپانی کے چھینٹے مارے۔ کچھ دیر بعد اس نے آنکھیں کھولیں اور وحشت زدہ سی خود پر جھکے چہرے کو تکتی رہی۔ اچانک اس کی نگاہ مجھ پر پڑی اور جیسے اسے سب کچھ یاد آ گیا۔ وہ بڑبڑائی؛

“میری بیٹی…..کیا وہ لاش میری بیٹی کی ہے؟”

میں نےاثبات میں سرکو جنبش دی تو وہ ڈہاریں مارکر رو پڑی۔ مجھے چکر سے آ رہے تھے۔ میں سر پکڑ کربستر پر بیٹھ گیا۔ میری بیوی کی گریہ وزاری کی آواز سن کر پڑوس کی کچھ عورتیں گھر میں آ گئیں اور میری بیوی کو سنبھالنے کی کوشش کرنے لگیں۔ میرے ساتھ آنے والے شخص نے مجھے مخاطب کیا۔

“آپ گھر پر ہی رہیں۔ سارے معاملے ہم لوگ سنبھال لیں گے۔”

میری بیٹی کی لاش ہسپتال لے جائی گئی۔ پوسٹ مارٹم ہوا اور پھر گھر لایا گیا۔ پڑوسیوں نے ہی سارا انتظام کیا اور سہ پہر کو اس کی تدفین کردی گئی۔ لوگوں کی باتوں سے مجھے علم ہو گیا تھا کہ میری بچی کی اجتماعی طور پر عصمت دری کی گئی تھی اور پھر اسے قتل کرکے لاش پیڑ سے لٹکا دی گئی تھی۔ انہوں نے سرگوشیوں میں چودھری جی کے بیٹے اور اس کے دو ساتھیوں کے نام بھی لیے تھے۔ مجھے یقین تھا کہ یہ درندگی انہوں نے ہی کی ہو گی۔ رات گئے پولیس پھر آئی۔ مجھ سے پوچھ تاچھ کی گئی تو میں نے ان لڑکوں پر شبہے کا اظہار کیا؛

“تمہارے پاس کوئی ثبوت یا گواہ ہے؟ “

پولیس افسر نے سخت لہجے میں پوچھا تو میں نے بےچارگی سے پڑوسیوں کی سمت دیکھا لیکن وہ سب کے سب مہر بہ لب رہے۔ میں نے شکست خوردہ انداز میں سر کو جھکا لیا۔ “

بغیر کسی ثبوت کےکسی پر انگلی نہ اٹھاؤ،” اس نے تنبیہ کی۔ “ہم تحقیقات کر رہے ہیں۔ بہت جلد مجرموں کو حراست میں لے لیا جائے گا۔”

پولیس چلی گئی۔ لوگ بھی چلےگئے۔ میں اپنی غم زدہ اور بیمار بیوی کےپاس چلا آیا۔ میں جانتا تھا کہ پولیس محض خانہ پری کرکے اس کیس کو ٹھنڈے بستے میں ڈال دے گی۔ چودھری صاحب کا بیٹا اور اس کے ساتھی برسراقتدار جماعت کے فعال اور بولڈ کارکن تھے۔ ان کی پشت پر ان بااثر سیاسی رہنماؤں کا ہاتھ تھا جن کے اشاروں پر وہ مخالف جماعت کے افراد کےساتھ محاذ آرائی کرتے رہتے تھے۔ ان رہنماؤں کی حمایت کی وجہ سے پولس افسران بھی ان کےخلاف کارروائی کرنے سے قاصر تھے۔ بیٹی کےغم میں میری بیوی بستر سے لگی تو پھر اٹھ نہ سکی۔ پندہرویں روز میرے گھر سے ایک اور جنازہ اٹھا اور میں بالکل ٹوٹ کررہ گیا۔ میری بیوی بیمار ہی سہی میری غم گسار توت ھی، میرا سہارا تو تھی۔ میں اس کی تکلیف اور لاچاری کو محسوس کرکےاپنےغموں کو فراموش کرنےکی سعی کر رہا تھا۔ وہ نہیں رہی تو مجھےاپنی تنہائی اور شکست خوردگی کا شدیداحساس ہوا۔ میں روشنی کی جن نحیف کرنوں کے سہارے دبیز تیرگی میں کسی طرح سفرِ حیات جاری رکھے ہوئے تھا، جب وہی نہیں رہیں تو اس سفر کا کیا جواز تھا، .اور میں نے اس تکلیف دہ سفر کو یہیں ختم کرنےکا فیصلہ کر لیا۔ رات کے آخری پہر میں گھر سے نکل پڑا۔ ایک طویل فاصلہ طے کرنے کے بعد میں اس پل پر کھڑا تھاجس کے نیچے پرشور دریا بہہ رہا تھا۔ صبح کے آثار نظر آنے لگے تھے۔ میں نے آنکھیں بندکیں، اپنی معصوم بیٹی اور بیماربیوی کو یاد کیا، اپنی غربت اور ناتوانی پر لعنت بھیجی اور پھر دریا میں چھلانگ لگا دی۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ مکھیوں کی بھنبھناہٹ کی طرح کچھ آوازیں میری سماعتوں سے ٹکرائیں تو میری آنکھیں کھل گئیں۔ اوپر بوسیدہ سی چھت دکھائی دی تو مجھے حیرانی ہوئی۔ کیا مجھےدریا کی موجوں سے بچا لیا گیا۔ میں نے نگاہوں کا زاویہ تبدیل کیا۔ بڑا سا ہال نما کمرہ تھا جس میں بیسوں افراد موجودت ھے.دو یا تین افراد کچھ کچھ فاصلے پرب یٹھے سرگوشیوں میں محو گفتگو تھے۔ میرے بسترکے سامنے ایک باریش بزرگ ایک جون العمر شخص کو جانے کیا سمجھا رہا تھا۔ معاً ان کادھیان مجھ پر گیا اور دونوں میری طرف لپکے۔ میں نے اٹھنے کی کوشش کی تو بزرگ نے میرے شانے پر ہاتھ رکھااور بےحدنرمی سے کہا؛

“اٹھو نہیں۔ تمہیں نقاہت محسوس ہو گی۔ تم پر بہت دیرغشی طاری رہی ہے۔”

“لیکن میں یہاں کیسے پہنچا؟” میں تو اپنی جان دینے کے لئےدریا میں کود گیا تھا۔”

“ہم میں سے کچھ لوگ تمہیں موجوں سےمحفوظ نکال لائے۔”

“لیکن آپ لوگ کون ہیں؟” میرے استفسار پر بزرگ نے کمرے میں موجود لوگوں پر نگاہ ڈالی اورقدرے توقف کے بعد گویا ہوئے؛

“ہم لوگ مختلف جگہوں کے رہنے والےہیں۔ اکثر یہاں آتےہیں، مل بیٹھتے ہیں کیونکہ ہم لوگ مشترکہ طورپر ایک ہی کام کرتے ہیں۔”

“کون ساکام؟”

بزرگ نےلمحے بھر کو کچھ سوچا اور پھر کہا؛

“ہم لوگ بددعا کرتے ہیں۔”

“کیامطلب؟”

“بہت سے ایسےناتواں لوگ ہیں جو کسی شہ زور کےظلم اور زیادتی کے شکار ہوتے ہیں۔ وہ ظالموں کےخلاف کچھ کرنے کی قدرت نہیں رکھتے۔ ہم لوگ ایسے مظلوموں کی خاطر ظالموں کےخلاف بددعائیں کرتے ہیں۔”

میں گہرےتعجب سے بزرگ کے سنجیدہ چہرے کو دیکھتےہوئے بولا؛

“کیا آپ لوگ پہنچے ہوئے ہیں؟ آپ لوگوں کی بددعاؤں سےکیا ظالموں کا کچھ بگڑتا ہے؟”

“نہیں. ہم لوگ تمہاری طرح ہی عام آدمی ہیں۔ بس ہم میں ایک قدر مشترک ہے کہ ہم بھی ظلم و ناانصافی کےشکارہوئے ہیں۔ ہم نہیں جانتے کہ ہماری بددعاؤں سے ظالموں کو کوئی ضرر پہنچتاہے یا نہیں لیکن ہمیں اطمینانِ قلب ہوجاتا ہے کہ ہم نے اپنافرض پوراکیا”

“کیا بددعائیں کرنے کا کوئی معاوضہ لیا جاتا ہے؟” میں حیرتوں کےحصار میں تھا۔

“نہیں، ہم لوگ رضاکارانہ طور پر یہ خدمت انجام دیتے ہیں۔ بس مظلوم کی رضامندی درکار ہوتی ہے۔”

“لیکن مظلوم کی شناخت کیسے کی جاتی ہے؟”

“مظلوموں کی شناخت کون سا مشکل مسئلہ ہے۔ ان کی مظلومیت تو چہرے پر تحریر ہوتی ہے بس اسے پڑھنے کی ضرورت ہے۔”

عجیب وغریب لوگوں سےسابقہ پڑا تھا۔ جی چاہا کہ انہیں اپنی رودادِ غم سناؤں لیکن اس سےقبل ہی وہ بولے؛

“ہمیں یقین ہے کہ تم بھی ہم میں سے ہو۔ اگرتم چاہو تو ہماری خدمات حاصل کر سکتے ہو۔ ہم تم پر ظلم کرنے والوں کے خلاف بددعائیں کریں گے۔”

میں نے ان کی پیشکش فوراً قبول کرلی۔ انہوں نے تفصیل سےمیری دلدوز کہانی سنی۔ گہری ہمدردی ظاہر کی اور پھر کہا؛

“ہم میں سے کچھ لوگ آج ہی رات تمہارےگھر چلیں گے۔ تم کچھ کھا پی کر آرام کرو۔” ان کے اشارے پر ایک شخص کھانے کا سامان لے آیا۔ انہوں نےاصرارکیا تو میں نےبڑی مشکل سے چند لقمے زہرمار کئے اور بستر پر لیٹ گیا۔ جانے کب مجھے نیند آ گئی۔ کسی کے اٹھانے پر میں بیدار ہوا تو دیکھاکہ وہی بزرگ تھے۔

“رات ہو گئی۔ اپنے گھر چلنے کے لیے تیار ہو جاؤ۔”

میں انہیں ساتھ لے کراپنے گھر روانہ ہوا۔ بزرگ کے ساتھ چار دیگر افراد تھے۔ گھر پہنچ کر میں نے دروازہ کھولا اور ہم سب اندر داخل ہوئے۔ وہ پانچوں کمرے کےدرمیان حلقہ باندھ کربیٹھ گئے۔ بزرگ نےظالموں کےنام دریافت کیے۔ میں نے چودھری جی کےبیٹے اوراس کےدونوں ساتھیوں کےنام بتا دیئے۔ بددعا کی شروعات بزرگ نے ہی کی تھی اور پھر چاروں اس عمل میں شریک ہو گئے۔ عجب رقت آمیز اور کربناک آواز میں وہ لوگ نام لے کر ان ظالموں کے خلاف بددعائیں کرنے لگے تھے۔ بتدریج ان کی آوازیں رفتار پکڑتی گئیں اور پھر ان پر وجد کی کیفیت طاری ہوگ ئی۔ میرے رونگٹے کھڑے ہو گئے۔ مجھےلگا کہ کمرے کےدرودیوار کےب ھی لب وا ہو گئے ہیں اور ان سے بددعائیں نکلنے لگی ہیں اور پھر یہ بددعائیں کمرے کے حدود سے نکل کرباہر پھیل گئی ہیں اور زمین و آسمان کی ساری مخلوقات اس عمل میں شریک ہو گئی ہیں۔ معاً مجھے محسوس ہوا کہ میرے رگ وپےمیں ایک طمانیت کی لہر دوڑتی جا رہی ہے اور میرا مضطرب وجود پرسکون ہوتاجا رہا ہے۔ رات کےآخری پہر تک ان بددعاؤں کا سلسلہ چلتا رہا اور میری روح سرشار ہوتی رہی۔ آخرکار یہ سلسلہ بند ہوا اور وہ لوگ سجدے میں گر گئے۔ دیر تک سجدے کی حالت میں رہنے کے بعد انہوں نے ایک ساتھ اپنےسر اٹھائے اور اٹھ کھڑے ہوئے۔ وہ لوگ میرے قریب آئے۔ بزرگ نےمیرےشانے پرہاتھ رکھ کر نرمی سے دبایا اور دھیرے سے کہا؛

“اب ہم لوگ چلتےہیں۔ آئندہ خودکشی کاخیال بھی دل میں نہ لانا۔ مظلوموں کی حمایت میں ظالموں کو بددعائیں دینے میں دل کو عجب سی راحت ملتی ہے، جینےکاحوصلہ ملتاہے۔ کبھی ہمارےساتھ بددعا کرنے کی کسی مجلس میں شامل ہو کر دیکھنا۔”

وہ لوگ پھر ملنے کا وعدہ کرکے چلے گئے۔ میں اپنے بستر پر لیٹ گیا۔ میں خود کو بےحد ہلکا پھلکا اور پرسکون محسوس کر رہا تھا جیسےمیرے وجود سے یکلخت سارےغموں کے لبادے اتر گئے ہوں۔ بہت دنوں کے بعد میں گہری اور مطمئن نیند سویا۔ آنکھیں کھلیں تو دن خاصا چڑھ آیا تھا۔ حیرت انگیز طور پر میری ساری نقاہت دور ہو چکی تھی اور میں بالکل تروتازہ تھا۔ اس وقت میں نے فیصلہ کیا کہ مجھے ازسرنو زندگی کا سفرشروع کرنا ہےاور پوری استقامت سےاسےجاری رکھنا ہے۔ اس فیصلےسے مجھے بڑی تقویت حاصل ہوئی۔ میں اسی روز اپنی کمپنی میں گیا۔ مالک میرےحالات سے آگاہ تھا۔ اس نےدوبارہ مجھےملازمت پر بحال کردیا۔ بہت سارے دن گزرگئے۔ اس دوران کچھ واقعات رونما ہوئے۔ میں نہیں کہہ سکتا کہ یہ ان کی بددعاؤں کے اثر سے ہوئے یا محض اتفاق تھے۔ پہلا واقعہ تو یہ ہوا کہ موجودہ حکومت کی میعاد پوری ہو گئی اور نئےسرے سے انتخابات کرائے گئے۔ اس انتخاب میں برسراقتدار جماعت بری طرح شکست کھا گئی اور حزب مخالف ایوان اقتدار میں داخل ہوا۔ نئی حکومت آئی تو مخالفین کے گڑے مردےاکھاڑےجانےلگے۔ دوسرا واقعہ میرے لیے اس لحاظ سےبے حد اہم تھاکہ میری بیٹی کے مردہ کیس میں بھی جان ڈالی گئی اور تحقیقات کی ذمہ داری خفیہ ادارے کے سپرد کی گئی۔ ابتدائی تفتیش کی بنیاد پر ہی چودھری جی کے بیٹے اور اس کے دونوں مصاحب حراست میں لے لئےگئے۔ مقدمہ سریع الرفتار عدالت میں پہنچا۔ تعجب کی بات کہ ان کےخلاف پختے ثبوت کےساتھ عینی شاہدین بھی مل گئے۔ عدالت نے اس جرم کی دہشتناکی کے مدنظر تینوں ملزموں کو پھانسی کی سزا سنادی۔ چودھری صاحب بیٹےکی گرفتاری سےپہلے ہی بری طرح شکستہ ہو چکے تھے، سزائےموت کےفیصلے سے بالکل ڈھ گئے اور بیٹے کی سزا پر عمل درآمد ہونے سےقبل ہی مرگِ عبرت سے ہمکنار ہوئے۔ کچھ دنوں بعد تینوں گناہ گاروں کوپھانسی دے دی گئی تو میرا کلیجہ ٹھنڈا ہو گیا۔ اس وقت مجھے بددعا کرنے والےلوگ یاد آئے اور میں ان سےملنےکے لئےاس بڑےکمرے والے مکان تک پہنچا لیکن یہ دیکھ کر تعجب ہوا کہ دروازے پر تالے پڑے تھےاور مکان کےاردگرد سناٹا طاری تھا۔ میں بوجھل قدموں سےواپس ہوا۔ راستے کی بھیڑ میں ایک شناسا چہرے پر نگاہ پڑی تو مجھے یاد آیا کہ وہ اس روز بڑے کمرے میں موجود تھا۔ میں نے اسے جا لیا اور پیچھے سے اس کے کاندھے پر ہاتھ رکھ کر اسے روکا۔ اس نے پلٹ کر حیرت سےمیری طرف دیکھا تو میں سرعت سےبولا؛

“تم بددعا کرنے والوں میں سےہو نا؟” اس نے کوئی جواب نہیں دیا بس متجسس نگاہوں سے مجھے گھورتا رہا۔ میں نےاسےیاددلایا۔ “مجھےدریامیں ڈوبنے سےبچا کراس مکان میں لایا گیا تھا جہاں تم بھی موجود تھے۔ میں تم لوگوں سے ملنے آیا تھا لیکن مکان میں تالے پڑے ہیں۔ سب لوگ کہاں گئے؟”

اس نے غور سے مجھے دیکھا تو آنکھوں میں پہچان کا عکس لہرایا۔ قدرےتوقف کے بعداس نےتلخ لہجےمیں کہا؛

“نئی حکومت کو ہم مظلوموں کے بےضرر وجود سےخطرہ محسوس ہوا۔ اس نےہمارے بددعا کرنے کےعمل کو خطرناک قراردیا اوراس پر پابندی عائد کردی۔ مکان پر تالےحکومت کی طرف سے ہی لگائےگئےہیں۔ اب وہ اسی کی تحویل میں ہے۔”

وہ شخص مڑا اور تیزقدموں سے آگے بڑھ گیا۔ میں وہیں گم صم کھڑا گہری افسردگی سے اسے بھیڑ میں گم ہوتے ہوئے دیکھتا رہا۔۔۔

Published inسلیم سرفرازعالمی افسانہ فورم